2019ء میں وفیات

یہ 2019ء میں وفیات کی وقائع نگاری ہے۔ نام بلحاظ تاریخ وفات شامل ہیں۔ ہر تاریخ کے نام بلحاظ الف بائی ترتیب ہیں۔

اپریل 2019ء میں وفیات

یہ اپریل 2019ء میں وفیات کی وقائع نگاری ہے۔ نام بلحاظ تاریخ وفات شامل ہیں۔ ہر تاریخ کے نام بلحاظ الف بائی ترتیب ہیں۔

بادشاہی مسجد

بادشاہی مسجد 1673 میں اورنگزیب عالمگیر نے لاہور میں بنوائی۔ یہ عظیم الشان مسجد مغلوں کے دور کی ایک شاندار مثال ہے اور لاہور شہر کی شناخت بن چکی ہے۔ یہ فیصل مسجد اسلام آباد کے بعد پورے پاکستان کی دوسری بڑی مسجد ہے، جس میں بیک وقت 60 ہزار لوگ نماز ادا کرسکتے ہیں۔ اس مسجد کا انداز تعمیر جامع مسجد دلی سے بہت ملتا جلتا ہے جو اورنگزیب کے والد شاہجہان نے 1648 میں تعمیر کروائی تھی۔

جون 2019ء میں وفیات

یہ جون 2019ء میں وفیات کی وقائع نگاری ہے۔ نام بلحاظ تاریخ وفات شامل ہیں۔ ہر تاریخ کے نام بلحاظ الف بائی ترتیب ہیں۔

دسمبر

دسمبر گریگورین سال کا بارہواں اور آخری مہینہ ہے۔ پرانی رومی تقویم میں یہ دسواں مہینہ تھا چنانچہ اسے دسمبر کہا جاتا تھا۔ دسم (decem) کا مطلب لاطینی میں دسویں کے ہوتے ہیں۔ شمالی نصف کرہ میں اس مہینے میں سردی کا موسم ہوتا ہے جبکہ جنوبی نصف کرہ میں گرمیاں ہوتی ہیں۔

دہلی دروازہ

دہلی دروازہ لاہور، پاکستان کے صوبہ پنجاب میں لاہور کے مقام پر واقع ہے۔ دہلی دروازہ مغلیہ دور حکومت میں تعمیر کیا گیا اور یہ اندرون شہر کے راستوں پر تعمیر شدہ تیرہ دروازوں میں سے ایک ہے۔ جس علاقے میں یہ دروازہ واقع ہے وہ تاریخی لحاظ سے انتہائی اہم ہے اور یہاں کئی یادگاریں، حویلیاں اور قدیم بازار واقع ہیں۔ مسجد وزیر خان بھی اسی درواز ے کے قریب واقع ہے۔

شہر

شہر ايک ترقياتی علاقے کو کہتے ہيں۔

فرلانگ

فاصلے کی پیمائش جو ایک میل کے آٹھویں حصے اور220گز اور 201.168 میٹر کے برابر ہوتی ہے۔

لاہور

لاہور (پنجابی: لہور، شاہ مکھی: ਲਹੌਰ؛ عربی: لاهور؛ فارسی: لاهور‎؛ انگریزی: Lahore) صوبہ پنجاب، پاکستان کا دار الحکومت اور دوسرا بڑا شہر ہے۔ اسے پاکستان کا ثقافتی، تعلیمی اور تاریخی مرکز اور پاکستان کا دل اور باغوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہ شہر دریائے راوی کے کنارے واقع ہے۔ اس شہر کی آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے اور یہ ملک کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ لاہور کا شمار دنیا کے قدیم اور اہم ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ زندہ دلان لاہور کے روایتی جوش و جذبے کے باعث اسے بجا طور پر پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کی ملکہ نورجہاں نے لاہور کے بارے میں کہا تھا۔

مئی 2019ء میں وفیات

یہ مئی 2019ء میں وفیات کی وقائع نگاری ہے۔ نام بلحاظ تاریخ وفات شامل ہیں۔ ہر تاریخ کے نام بلحاظ الف بائی ترتیب ہیں۔

محراب

فن تعمیر میں محراب (arch) نصف یا چوتھائی تقریباً دائرے کے تعمیری سی ساخت کو کہتے ہیں جو دو فاصلوں کے درمیان میں کی دوری کو پورا کرتا ہے اور اپنے اوپر وزن برداشت کرتا ہے۔ جیسے پتھر کی دیوار میں دروازے کے لیے بنایا گیا ڈھانچہ۔ ویسے تو محراب کا استعمال دو ہزار سال سے بھی پرانا ہے لیکن ایسا مانا جاتا ہے کہ اس کا باقاعدہ استعمال قدیم رومیوں کے دور سے شروع ہوا۔

مسجد

مسلمانوں کی عبادت گاہ کو مسجد کہتے ہیں۔ عموماً اسے نماز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے مگر تاریخی طور پر یہ کئی حوالوں سے اہم ہیں مثلاً عبادت کرنے کے لیے، مسلمانوں کے اجتماع کے لیے، تعلیمی مقاصد کے لیے حتیٰ کہ مسلمانوں کے ابتدائی زمانے میں مسجدِ نبوی کو غیر ممالک سے آنے والے وفود سے ملاقات اور تبادلۂ خیال کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ مساجد (مسجد کی جمع) سے مسلمانوں کی اولین جامعات (یونیورسٹیوں) نے بھی جنم لیا ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی طرزِ تعمیر بھی بنیادی طور پر مساجد سے فروغ پایا ہے۔

مسجد وزیر خان

مسجد وزیر خان شہر لاہور میں دہلی دروازہ، چوک رنگ محل اور موچی دروازہ سے تقریباً ایک فرلانگ کی دوری پر واقع ہے۔ یہ مسجد نقش ونگار میں کاریگری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ علم الدین انصاری جو عام طور پر نواب وزیر خان کے نام سے جانے جاتے ہیں سلطنت مغلیہ کے عہد شاہجہانی میں لاہور شہر کے گورنر تھے اور یہ مسجد انہی کے نام سے منسوب ہے۔ مسجد کی بیرونی جانب ایک وسیع سرائے ہے جسے چوک وزیر خان کہا جاتا ہے۔ چوک کے تین محرابی دروازے ہیں۔ اول مشرقی جانب چٹا دروازہ، دوم شمالی جانب راجا دینا ناتھ کی حویلی سے منسلک دروازہ، سوم شمالی زینے کا نزدیکی دروازہ-مسجد کے مینار 107 فٹ اونچے ہیں۔ اس مسجد کی تعمیر دسمبر 1641ء میں سات سال کی طویل مدت کے بعد پایۂ تکمیل کو پہنچی۔ مسجد وزیر خان سلطنت مغلیہ کے عہد میں تعمیر کی جانے والی اب تک کی نفیس کاشی کار و کانسی کار خوبصورت مسجد ہے جو بادشاہی مسجد کی تعمیر سے 32 سال قبل (یعنی 1641ء میں) تکمیل کو پہنچی۔

مغلیہ سلطنت

مغلیہ سلطنت 1526ء سے 1857ء تک برصغیر پر حکومت کرنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کی بنیاد ظہیر الدین بابر نے 1526ء میں پہلی جنگ پانی پت میں دہلی سلطنت کے آخری سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر رکھی تھی۔ مغلیہ سلطنت اپنے عروج میں تقریباً پورے برصغیر پر حکومت کرتی تھی، یعنی موجودہ دور کے افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ممالک پر مشتمل خطے پر انکا دور دورہ تھا۔-

موچی دروازہ

موچی دروازہ پاکستان کے شہر لاہور کا اہم دروازہ ہے۔ شہر قدیم کا موچی دروازہ جنوب کی جانب واقع ہے۔ اس کے دائیں جانب اکبری دروازہ اور بائیں جانب شاہ عالمی دروازہ ہے۔ اس دروازے کی تعمیر بھی اکبر کے دور میں ہوئی۔

وزیر خان

حکیم شیخ علیم الدین انصاری جو عام طور پر نواب وزیر خان کے نام سے جانے جاتے ہیں مغلیہ دور میں لاہور شہر کے گورنر تھے۔ وہ آبائی طور پر چنیوٹ کے رہنے والے تھے۔ ان کا خاندان چنیوٹ سے ہجرت کر کے لاہور آباد ہو گیا تھا۔ وزیر خان کو لاہور میں تعمیر کی گئی مسجد وزیر خان کے لیے جانا جاتا ہے، جو فن کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔

دیگر زبانیں