1739ء

جنورى - جون

جولائی - دسمبر

اٹھارویں صدی کی چوتھی دہائی
1731ء | 1732ء | 1733ء | 1734ء | 1735ء | 1736ء | 1737ء | 1738ء | 1739ء | 1740ء

<<< تیسری دہائی <<< چوتھی دہائی >>> پانچویں دہائی >>>

اٹھارہویں صدی

<<<سترہویں صدی <<< اٹھارہویں صدی >>> انیسویں صدی>>>

ایسٹن، پنسلوانیا

ایسٹن، پنسلوانیا (انگریزی: Easton, Pennsylvania) ریاستہائے متحدہ امریکا کا ایک city of Pennsylvania جو Northampton County میں واقع ہے۔

تخت طاؤس

مغل شہنشاہ شاہجہان نے تخت نشینی کے بعد اپنے لیے ایک نہایت قیمتی تخت تیار کرایا جو ’’تخت طاؤس‘‘ کہلاتا تھا۔ اس تخت کا طول تیرہ گز عرض ڈھائی گز اور بلندی پانچ گز تھی۔ یہ چھ پایوں پر قائم تھا۔ جو خالص سونے کے بنے ہوئے تھے۔ تخت تک پہنچنے کے لیے تین چھوٹے چھوٹے زینے بنائے گئے تھے۔ جن میں دور دراز ملکوں کے قیمتی جواہر جڑے تھے۔ دونوں بازؤں پر دو خوبصورت مور چونچ میں موتیوں کی لڑی لیے پروں کو کھولے سایہ کرتے نظر آتے تھے۔ اور دونوں کے سینوں پر سرخ یاقوت جڑے ہوئے تھے۔ پشت کی تختی پر قیمتی ہیرے جڑے ہوئے تھے۔ جن کی مالیت لاکھوں روپے تھی۔ تخت کی تیاری پر ایک کروڑ روپیہ خرچ ہوا تھا۔ جب نادر شاہ نے دہلی پر حملہ کیا تو دہلی کی ساری دولت سمیٹنے کے علاوہ تخت طاؤس بھی اپنے ساتھ ایران لے گیا۔

جنگ کرنال 1739ء

جنگِ کرنال (24 فروری 1739ء) مغل بادشاہ ابو الفتح نصیر الدین روشن اختر محمد شاہ اور شاہ ایران نادر شاہ کے درمیان دہلی سے تقریباً 110 کلومیٹر کم دوری پر کرنال کے مقام پر پیش آئی۔ نادر شاہ نے جنگی حکمت عملی اور جدید ہتھیاروں کی مدد سے محمد شاہ کی کثیر مگر بے نظم فوج کو شکت فاش دی اور دلی میں فاتحانہ داخل ہوا۔ اس جنگ میں مغل سلطنت کو خاصہ نقصان ہوا۔ مغل بادشاہ محمد شاہ کی فوج 100،000 سے اوپر بتائی جاتی ہے جبکہ نادر شاہ کے پاس صرف 55000 لیکن انتہائی منظم و تربیت یافتہ فوج تھی۔ مغل فوج کو اس جنگ میں شکست فاش ہوئی اور محمد شاہ نے ھتیار ڈال دیے۔ نادر شاہ اپنی فوج کے ساتھ دلی میں داخل ہوا۔ اس دوران میں نادرشاہ کی فوج کی لوٹ مار اور کچھ فوجیوں کے قتل کے واقع کی بنا پر نادر شاہ نے قتل عام کا حکم دے دیا۔ اس قتل عام میں کثیر ہلاکتیں ہوئیں اور لوٹ مار اور غارت گری نے دلی کو برباد کر کے رکھ دیا۔ مغل حکومت کی اس شکست اور غارت گری کے بعد نادر شاہ واپس چلا گیا مگر محمد شاہ اور اس کے نااہل امرا حکومت کا نظم و نسق نہ سنبھال سکے بلکہ حالات اور بدتر ہوتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ سکھوں اور مرہٹوں نے پھر سر اٹھانا شروع کر دیا۔ وہ دیہاتوں اور شہروں کو تاراج کرتے رہے لیکن مغل حکمران نادر شاہ کے ہاتھوں شکست کے بعد رہی سہی فوجی قوت بھی کھو چکے تھے لہٰذا وہ ان بغاوتوں کا سددِ باب کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔

سچل سرمست

سچل سرمست (پیدائش: 1152ھ/1739ء– وفات: 14 رمضان 1242ھ/ 11 اپریل 1827ء) سندھی زبان کے مشہور صوفی شاعر تھے۔ عرف عام میں شاعر ہفت زبان کہلاتے ہیں کیوں کہ آپ کا کلام سات زبانوں میں ملتا ہے۔ عربی ،سندھی ،سرائیکی ،پنجابی ،اردو ،فارسی اور بلوچی سچل سرمست کی پیدائش 1739ء میں سابق ریاست خیرپور کے چھوٹے گاؤں درازا میں ایک مذہبی خاندان میں ہوئی۔ ان کا اصل نام تو عبد الوہاب تھا مگر ان کی صاف گوئی کو دیکھ کر لوگ انہیں سچل یعنی سچ بولنے والا کہنے لگے۔ بعد میں ان کی شاعری کے شعلے دیکھ کر انہیں سرمست بھی کہا گیا۔

سچل سرمست کی پیدائش سندھ کے روایتی مذہبی گھرانے میں ہوئی مگر انہوں نے اپنی شاعری میں اپنی خاندانی اور اس وقت کی مذہبی روایات کو توڑ کر اپنی محفلوں میں ہندو مسلم کا فرق مٹا دیا۔ ان کے عقیدت مندوں میں کئی ہندو بھی شامل ہیں۔ سچل سرمست تصوف میں وحدت الوجود کے قائل تھے۔

شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سچل سرمست کی زندگیوں میں ستر برس کا فاصلہ ہے۔ سچل ستر برس بعد جب صوفیانہ شاعری میں آیا تو ان کی وجدانیت بھی منفرد تھی۔ ان کے ساتھ صوفی ازم کی موسیقی نے بھی سرمستی کا سفر کیا اور شاہ بھٹائی کے نسبتاً دھیمے لہجے والے فقیروں سے سچل کے فقیروں کا انداز بیان منفرد اور بیباک تھا۔

سچل سرمست نے سندھ کے کلہوڑا اور تالپور حکمرانوں کے ایسے دور اقتدار میں زندگی بسر کی جب مذہبی انتہا پسندی اپنے عروج پر تھی۔ انہوں نے اپنے آس پاس مذہبی نفرتوں کو دیکھ کر سندھی میں کہا:

جس کا سادہ ترجمہ اس طرح ہے کہ مذہبوں نے ملک میں لوگوں کو مایوس کیا اور شیخی، پیری نے انہیں بھول بھلیوں میں ڈال دیا ہے۔

سچل سرمست نوّے برس کی عمر میں 14 رمضان 1242ھ میں وفات کر گئے۔ وہ شادی شدہ تھے مگر ان کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ انہوں نے بنیادی عربی فارسی کی تعلیم اپنے خاندان کے بزرگ اپنے چچا مرشد اور سسر خواجہ عبدالحق سے حاصل کی۔ سچل سرمست کا کلام سندھی43، اردو، عربی، فارسی اور سرائیکی میں موجود ہے۔ انہیں اور ان کا کلام سنانے والے فقیروں کو سندھ میں ایک منفرد مقام اس لیے بھی حاصل ہے کہ کسی بھی محفل میں جب بھی مذہبی انتہا پسندی کو للکارا جاتا ہے تو آج بھی سہارا سچل کا لیا جاتا ہے۔

صالحہ سلطان

صالحہ سلطان (Saliha Sultan) سلطان سلطنت عثمانیہ مصطفی ثانی کی بیوی اور والدہ سلطان بطور محمود اول کی ماں تھی۔

مورس کاؤنٹی، نیو جرسی

مورس کاؤنٹی، نیو جرسی (انگریزی: Morris County, New Jersey) ریاستہائے متحدہ امریکا کا ایک کاؤنٹی جو نیو جرسی میں واقع ہے۔

والدہ سلطان

والدہ سلطان (عثمانی ترکی: والده سلطان) سلطنت عثمانیہ کے حکمران سلطان کی ملکہ ماں کا خطاب تھا۔ رسمی طور پر یہ خطاب سب سے پہلے میں عائشہ حفصہ سلطان کو دیا گیا جو سلیم اول کی بیوی اور سلیمان اعظم کی ماں تھیں۔

کوہ نور

کوہِ نور دنیا کا مشہور ترین ہیروں میں سے ایک ہے جو اس وقت تاج برطانیہ کی زینت ہے۔ کوہ نور کا مطلب ہے روشنی کا پہاڑ۔ ہیرے کا وزن 105 قیراط (21.6 گرام) ہے۔

ہندوستان میں 1737ء

==حکومتی عہدے دار==* نصیر الدین محمد شاہ — مغل شہنشاہ ہندوستان 27 ستمبر 1719ء تا 26 اپریل 1748ء

نظام الملک آصف جاہ اول — نظام ریاست حیدرآباد دکن 31 جولائی 1724ء تا یکم جون 1748ء

شجاع الدین محمد خان– نواب بنگال اور مرشدآباد یکم جولائی 1727ء تا 26 اگست 1739ء

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.