1018ء

دسمبر

پیرامیٹر 1=سال درکار ہے!

1000ء کی دہائی

یہ فہرست 1000ء کی دہائی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات بلحاظ سال کی فہرست ہے۔

1010ء کی دہائی

یہ فہرست 1010ء کی دہائی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات بلحاظ سال کی فہرست ہے۔

1020ء کی دہائی

یہ فہرست 1020ء کی دہائی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات بلحاظ سال کی فہرست ہے۔

1030ء کی دہائی

یہ فہرست 1030ء کی دہائی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات بلحاظ سال کی فہرست ہے۔

1040ء کی دہائی

یہ فہرست 1040ء کی دہائی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات بلحاظ سال کی فہرست ہے۔

1050ء کی دہائی

یہ فہرست 1050ء کی دہائی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات بلحاظ سال کی فہرست ہے۔

1060ء کی دہائی

یہ فہرست 1060ء کی دہائی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات بلحاظ سال کی فہرست ہے۔

1070ء کی دہائی

یہ فہرست 1070ء کی دہائی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات بلحاظ سال کی فہرست ہے۔

1080ء کی دہائی

یہ فہرست 1080ء کی دہائی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات بلحاظ سال کی فہرست ہے۔

1090ء کی دہائی

یہ فہرست 1090ء کی دہائی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات بلحاظ سال کی فہرست ہے۔

الجزائر شہر

الجزائر شہر (انگریزی: Algiers، فرانسیسی: Alger) شمالی افریقہ کے ملک الجزائر کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق شہر کی آبادی 15 لاکھ 19 ہزاار 570 ہے جبکہ شہری حدود کی کل آبادی 21 لاکھ 35 ہزار 630 ہے۔ یہ بحیرہ روم کی ایک خلیج کے مغربی کنارے پر واقع ہے۔ شہر کو یہ نام ساحل کی ڈھلوان پر واقع ہونے کی وجہ سے ملا ہے۔

جدید شہر ساحل سمندر پر کھلے میدانوں پر قائم ہے جبکہ قدیم شہر سطح سمندر سے 400 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔

تاریخ سہارن پور

سہارنپور برصغیر کا وہ تاریخی ضلع ہے جس نے ملک کے نشیب وفراز اور تاریخ وتمدن کے کئی دوردیکھے ہیں، جس کی گود میں دیوبند، نانوتہ، گنگوہ، تھانہ بھون، رائے پور، جھنجھانہ، جلال آباد، انبہٹہ، پھلت، باغپت، بڑوت اور شاملی جیسی تاریخی بستیاں واقع ہیں، ان ہی بستیوں سے اسلام کی ہزاروں اولوالعزم ہستیوں کی تاریخ جڑی ہوئی ہی، مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، مولانا مملوک العلی نانوتوی، میانجی نورمحمد جھنجھانوی، مولانا سعادت علی فقیہ سہارنپوری، حاجی امداداللہ مہاجر مکی، گنگوہی، مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانااحمد علی محدث سہارنپوری، شیخ المشائخ شاہ عبد الرحیم رائے پوری، مولانا ذوالفقارعلی دیوبندی اور بھی ہزاروں نامی گرامی ہستیوں نے اسی سہارنپور اور اس کے نواح میں علم و عرفان کے ایسے چشمے جاری وساری فرمائے جومرورایام اور گردش لیل و نہار کے باجود الحمد للہ نہ توخشک ہوئے، نہ ہی وہ شج رہائے سایہ دار پژ مردہ ہوئے، جس آب وتاب کے ساتھ اس کی خشت اول رکھی گئی تھی بحمداللہ اسی شان وشوکت کے ساتھ آج بھی یہ علاقہ، عالم اسلام کواسلامی نور اور قرآنی تعلیمات سے بقعۂ نور بنائے ہوئے ہے۔

فہرست ہائے سال

یہ فہرست انفرادی سالوں کی فہرست ہے۔

نظام الملک طوسی

جس طرح ہارون الرشید کا دور برامکہ کے تذکرے کے بغیر نامکمل ہے اسی طرح سلجوقیوں کا عہد نظام الملک طوسی کے ذکر کے بغیر ادھورا ہے۔ نظام الملک کا اصل نام حسن بن علی اور لقب نظام الملک تھا۔ وہ طوس کے ایک زمیندار علی کا بیٹا تھا۔ 408ھ میں پیدا ہوا اور بچپن سے ہی بہت ذہین اور کئی خوبیوں کا مالک تھا۔ اپنی ذہانت سے انتہائی کم عمری میں کئی علوم پر عبور حاصل کیا۔ سلجوقی عہد میں وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہوا۔ اس عہد کے تمام کارنامے نظام الملک کے تیس سالہ دور وزارت کے مرہون منت ہیں۔ یہ عہد سلجوقیوں کا درخشاں عہد کہلاتا ہے۔

الپ ارسلان جو ایک مجاہدانہ صفت رکھنے والا بادشاہ تھا نے اپنے کمسن بیٹے ملک شاہ کو نظام الملک کے سپرد کر دیا تا کہ وہ اس کی تربیت کرے اور عصری علوم کی تعلیم کے ساتھ ساتھ حکومت کرنے کے ڈھنگ بھی سکھائے۔ انہی دنوں گرجستان کی مہم پیش آئی جس کے لیے فوج کو نظام الملک کی سربراہی میں بھیجا گیا۔ گرجستان والوں نے ہتھیار پھینک دئے اور مسلم فوج کی شرائط پر صلح کرلی۔ جارجیا کے بادشاہ بقراط کی بھتیجی ہیلینا جو ایک حسین و دلکش دوشیزہ تھی مگر راہبانہ زندگی گزار رہی تھی۔ خواجہ حسن نظام الملک اس سے شادی کرنے کا خواہش مند تھا مگر حالات کے برعکس اس شہزادی ہیلینا کو الپ ارسلان سے نکاح کے لیے مخصوص کر لیا گیا اور شرائط میں اس شرط کو بھی شامل کیا گیا جس پر مسیحی آبادی میں غم و غصہ پایا جانے لگا جبکہ دوسری طرف گرجستان کے اعلیٰ و شاہی خاندان کے نوجوان بھی شہزادی کے طالب تھے مگر اس کی راہبانہ زندگی کے پیش نظر اس سے مدعا بیان نہ کرسکتے تھے۔ شہزادی کوالپ ارسلان کے نکاح میں دے دیا گیا۔ کچھ عرصے بعد ایک گرجستانی شاعر جو الپ ارسلان کے دربار میں آیا ہوا تھا نے ایک قصیدہ موزوں کرکے گوش گزارنے کی اجازت طلب کی۔ الپ ارسلان نے اجازت دے دی تو اس گرجستانی شاعر نے انتہائی واہیات انداز میں شہزادی ہیلینا اور نظام الملک طوسی کی کردار کشی کی جس کے بعد الپ ارسلان نے اس شرط پر شہزادی ہیلینا کو طلاق دے دی کہ نظام الملک اس سے شادی کرے یا شہزادی گرجستان واپس چلی جائے مگر شہازدی نے واپس جانے سے اس بنا پر انکار کیا کہ اب میری وہاں پہلے والی عزت نہیں رہے گی اور یہ کہ وہ خود کو مسلمانوں میں محفوظ و مامون محسوس کرتی ہے لہذا اس نے نظام الملک سے شادی کرلی

سلجوقی سلطان الپ ارسلان نے نظام الملک کی صلاحیتوں کا اندازہ لگاتے ہوئے وزارت کا منصب اس کے سپرد کر دیا۔ اس نے الپ ارسلان کے عہد میں ایسے جوہر دکھائے کہ تہذیب و تمدن اور علوم و فنون کی ہزاروں شمعیں روشن ہوگئیں۔ اس نے ملک کو گوشے گوشے میں مدارس کا جال بچھا دیا اور سب سے بڑا اور اہم مدرسہ بغداد کا مدرسہ نظامیہ تھا جس کی تعمیر پر بے پناہ روپیہ صرف کیا گیا۔ اس کے علمی و ادبی کارناموں کی طویل فہرست کے ساتھ مذہبی اور دینی خدمات بھی بے شمار ہیں اور رفاہ عامہ کے کارنامے تاریخ پر انمٹ نقوش ثبت کرتے ہیں۔ اس کی تحریر کردہ کتاب "سیاست نامہ" کو انتہائی شہرت حاصل ہوئی اور اس سے آج بھی استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ یورپ کی مختلف زبانوں میں ہوچکا ہے۔

عروج کی انتہائی بلندیوں تک پہنچنے کے بعد برامکہ کی طرح اس کی قسمت کا ستارہ بھی زوال میں آگیا اور ملک شاہ اول نے اسے وزارت سے علاحدہ کر دیا۔ زوال کے اسباب بھی برامکہ کے اسباب کی طرح تھے۔ بہرحال اس کے کارنامے سلجوقی حکومت کے لیے لاتعداد ہیں بلکہ اس درخشاں دور کی کامیابیاں سلجوقی سلاطین کے علاوہ اس کی مرہون منت بھی ہیں۔

وہ 1063ء تا 1072ء الپ ارسلان کے دور حکومت اور 1072ء تا 1092ء ملک شاہ اول کے دور حکومت میں وزارت کے عہدے پر فائز رہا۔

نظام الملک نے اپنی مشہور تصنیف "سیاست نامہ" میں سلطنت کو قانونی شکل دینے کے لیے ایک جدید نظریے کی بنیاد رکھی اور سلطان کو نئے معنی سے مدلل کرنے کی کوشش کی۔ مصنف نے سلطنت کی ابتدا اور سلطان کے معنی پر بحث کی ہے۔

علاوہ ازیں اس نے اپنے بیٹے ابو الفتح فخر الملک کے لیے ایک کتاب "دستور الوزراء" بھی تحریر کی۔

نظام الملک 10 رمضان 485ھ بمطابق 14 اکتوبر 1092ء کو اصفہان سے بغداد جاتے ہوئے حسن بن صباح کے فدائین "حشاشین" کے ہاتھوں شہید ہوا۔

مؤرخوں کے مطابق ملک شاہ اول جو خواجہ حسن نظام الملک کو خواجہ بزرگ اور پدر معنوی جیسے القاب سے نوازتا تھا اور خواجہ حسن کو خاص مقام حاصل تھا کہ وہ بادشاہ کے کمرہء خاص یا آرام کرنے کے کمرے میں بھی آمد و رفت رکھتے تھے۔ چونکہ وہ ایک نابغہ روزگار شخصیت تھے اور انکو علوم خاص و عام میں رسوخ حاصل تھا۔ ملک شاہ اول کی شادی سلجوقی خاندان کی ایک خاتون جن کا نام زبیدہ خاتون تھا سے ہوئی اور ان کے بطن سے ملک شاہ اول کا سب سے بڑا بیٹا تولد ہوا۔ ملک شاہ اول نے ایک شادی خانان قاراخانی یا قاراخانی شہزادی سے بھی کی تھی جس کا نام ترکان خاتون تھا۔ کہتے ہیں کہ ملک شاہ اول کے دو بڑے بیٹوں داوود اور احمد جن کا بالترتیب 1082 اور 1088میں انتقال ہوا۔ ان کے انتقال کے بعد ترکان خاتون اپنے بیٹے محمود جو سب سے کم سن تھا کو ولی عہد نامزد کروانا چاہتی تھی جبکہ خواجہ حسن نظام الملک طوسی نے ترکان خاتون کی مخالفت کی اور زبیدہ خاتون کے بڑے بیٹے برکیارق کو ملک شاہ اول کا جانشین و ولی عہد نامزد کرنے پر اصرار کیا جس پر ترکان خاتون کی نظام الملک کے ساتھ سرد جنگ شروع ہو گئی اور اس نے اپنے معتمد خاص تاج الملک االمعروف بہ المزرزبان کے ساتھ جوڑ توڑ کرکے نظام المک کو ان کے عہدہء وزارت سے ہٹانے کی سازشیں شروع کیں مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکی۔ خواجہ حسن نظام الملک کی وفات کے بارے میں متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔ بہت سوں کا کہنا ہے کہ ایک دن ملک شاہ اول جو پہلے ہی وزیر مملکت کے خلاف ہونے والی محلاتی سازشوں سے دل برداشتہ ہو رہا تھا کو وزارت سے معزول کر دیا اور معزولی کا حکم سننے کے بعد نظام الملک واپس اپنی جاگیر یا بغداد جا رہے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ ملک شاہ اول کے حکم پر ضروری کام سے بغداد جا رہے تھے کہ اچانک ایک درویش نے ان سے دادرسی چاہی، شفیق و مہربان نظام الملک نے دادرسی کرنے کی خاطر اس درویش کو قریب بلایا مگر وہ درویش کے روپ میں قلعہ الموت کی طرف سے بھیجا گیا ایک فدائی تھا اس کا وار خواجہ حسن نظام الملک کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔ خواجہ حسن جانبر نہ ہو سکے اور خالق حقیقی سے جا ملے انکی وفات پر پورا عالم اسلام اور بالخصوص رے غمزدہ و اداس ہو گیا۔ نوحہ گروں نے نوحہ کیا اور مرثیہ لکھنے والوں نے مرثئے لکھے۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ ان دنوں شیعہ سنی مناظرے منعقد ہوا کرتے تھے جن میں ملک شاہ اول اور نظام الملک طوسی بھی بہ نفس نفیس شریک ہوتے تھے خواجہ حسن بزرگ نظام الملک طوسی کا قتل بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا اور جس دن ان پر حملہ ہوا اسی دن ملک شاہ اول کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا مگر ملک شاہ اول پر حملہ کامیاب نہ ہو سکا۔

گیارہویں صدی

<<<دسویں صدی <<< گیارہویں صدی >>> بارہویں صدی>>>

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.