یہودی ادب

یہودی ادب، یہود کی طرف سے، یہودی موضوعات پر تخلیقات، یہودی زبانوں میں مختلف موضوعات پر ادبی تخلیقات اور یہودی ادیبوں کے لکھے ہوئے کسی بھی زبان میں ادبی کام پر مشتمل ادب ہے۔[1] قدیم یہودی ادب بائبلی ادب اور ربانی ادب پر مشتمل ہے۔ قرون وسطی کا یہودی ادب صرف ربانی ادب پر مشتمل نہیں بل کہ اس دور کے اخلاقی ادب، فلسفیانہ ادب، متصوفانہ ادب، تاریخ اور فکشن سمیت نثر کی مختلف دیگر اقسام، مذہبی اور غیر مذہبی دونوں اقسام کی شاعری کی مختلف شکلبندیوں پر مشتمل ہے۔[1] یہودی ادب نے غیر مذہبی یہودی ثقافت کے ساتھ دور جدید کے عروج میں فروع پایا ہے۔ دور جدید کا یہودی ادب یدیش ادب، لاڈینو ادب، عبرانی ادب، (خاص طور پر اسرائیلی ادب) اور یہودی امریکی ادب پر مشتمل ہے۔

قرون وسطی کا یہودی ادب

فکشن

قرون وسطی کے یہودی فکشن کی ممتاز مثالوں میں، قیروان کے نسیم بن یعقوب بن نسیم ابن یعقوب شاہن کی عربی زبان میں آگادی قصوں کی بنیاد پر ایک حکایات کی کتاب مااسییوت ہے۔ بارہویں صدی کے جوزف زیبرا کی کتاب مسرت جو ظریفانہ، لوک داستان، فلسفے کے اقتباسات اور سائنس سے ترتیب دی گئی کہانی ہے۔ ابراہیم بن سیموئل ہالیوی ابن حسدی نے ہندوستانی کہانی جو گوتم بدھ کی زندگی پر مبنی ہے، اس کو بادشاہ کا بیٹا اور نذری (Ben ha-Melekh ve-ha-Nazir) کے نام سے لکھا۔

شاعری

یہودی عبادتی شاعری (Piyyut) ارض اسرائیل میں ساتویں اور آٹھویں صدی میں یوس بن یوس، یانئی اور الیزر بن کلیر کی تحریروں سے پھیلی۔[1] بعد میں ہسپانوی، پروونکل اور اطالوی شعرا نے مذہبی اور سیکولر دونوں طرز کی شاعری کی۔ خاص طور پر ممتاز شاعر سلیمان بن جبریل اور یہودا لاوی تھے۔

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. ^ ا ب پ "Literature, Jewish"۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جولائی 2015۔
اشکنازی یہود

اشکنازی (Ashkenazi) جنہیں اشکنازی یہود (Ashkenazi Jews)

(عبرانی: אַשְׁכְּנַזִּים‎‎، اشکنازی عبرانی تلفظ: [ˌaʃkəˈnazim]، واحد: [ˌaʃkəˈnazi]، جدید عبرانی: [aʃkenaˈzim, aʃkenaˈzi]; اور יְהוּדֵי אַשְׁכֲּנַז یہودے اشکناز، لفظی معنی ، "جرمنی کے یہود")،

بھی کہا جاتا ہے ایسے یہود ہیں جو رومی عہد میں یورپ اور جرمنی کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ ان علاقوں میں بھی ان لوگوں نے لکھنے پڑھنے اور بودوباش میں عبرانی روایات کو قائم رکھا۔ ان کو مسیحی بادشاہوں کی طرف سے نفرت کا سامنا بھی تھا جو ان کی ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کا سبب بنتا تھا۔ اسی لیے یہ لوگ 18 ء صدی کے آخر تک معاشی طور پر مستحکم نہ ہو سکے۔

اشکنازی یہود تارکین وطن کی آبادی جو یہودیوں کی تارکین وطن کی ایک الگ اور یکجا برادری کے طور پر مقدس رومن سلطنت کے پہلے ہزاریہ کے اختتام کے وقت وقوع پزیر ہوئی۔ ان تارکین وطن اشکنازی یہودیوں کی روایتی زبان یدیش مختلف بولیوں پر مشتمل ہے۔ اشکنازی تمام تر وسطی اور مشرقی یورپ میں پھیلے اور وہاں برادریاں قائم کیں جو قرون وسطی سے لیکر حالیہ دنوں تک ان کے بسنے کے بنیادی علاقے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں ان بے وطنوں کی اپنی ایک علاقائی اور تارک وطن اشکنازی تشخص پروان چرھنے لگی۔ قرون وسطی کے اخیر میں اشکنازی آبادی کا زیادہ تر حصہ مسلسل جرمن علاقوں سے باہر پولستان اور لتھوانیا میں (بشمول موجودہ بیلاروس اور یوکرائن) مشرقی یورپ کی طرف منتقل ہوتاچلا گیا۔ 18ء کے آخر اور 19ء صدی کے اوائل تک جو یہود جرمنی ہی میں رہے یا واپس جرمنی آئے انکی ثقافتی اقدار نے دھارا بدلا- حثکالا (یہودی نشاة ثانیہ) کے زیر اثر ، جدوجہد آزادی ، دانشورانہ اور ثقافتی بدلاؤ کے لیے انہوں نے آہستہ آہستہ یدش زبان کا استعمال ترک کر دیا اور اپنی مذہبی زندگی اور ثقافتی تشخص کی نئی جہتوں کو پروان چڑھانے لگے -" یورپ میں قیام کے دوران میں اشکنازیوں نے یورپی ثقافت میں اپنا اہم حصہ ڈالا اور فلسفہ ، ادب ، آرٹ ، موسیقی اور سائنس کے تمام شعبوں میں قابل ذکر اور غیر متناسب اضافہ کیا " (ایرک ہوبسبام) – ہولوکاسٹ(مرگ انبوہ)،یعنی یہودی نسل کشی اور دوسری عالمی جنگ کے دوران میں اور تقریباً ساٹھ لاکھ یہود کے بڑے پیمانے پر قتل عام نے اشکنازی تارکین وطن کی ثقافت اور تقریباً ہر اشکنازی یہودی خاندان کو متاثر کیا ۔گیارہویں صدی عیسوی تک اشکنازی دنیا کی کل یہودی آبادی کا تقریباً 3فیصد تھے ، جبکہ 1931ء کے اپنے عروج کے دنوں میں دنیا کی کل یہودی آبادی کا 92% شمار کیے گئے ۔ ہولوکاسٹ سے تھوڑا عرصہ قبل تک یہود کی مجموعی تعداد ایک کروڑ ستاسٹھ لاکھ تھی۔ اشکنازیوں کی عصری آبادیاتی شماریات وقت کے ساتھ متغیر ہوتی رہتی ہیں جو کم و بیش ایک کروڑ سے ایک کروڑ بارہ لاکھ کے درمیان میں رہی۔ سرجیو ڈیلا پرگولا نے سپین اور پرتگال کے وہ یہود( سفاردی )جنہیں 1492ء میں بے دخل کیا گیا اور ( مزراہی) صہیونیت پر یقین رکھنے والے یہود کو سرسری حساب میں شمار کرتے ہوئے دعوی کیا کہ اشکنازی دنیا کی کل یہودی آبادی کا 74 فیصد سے کم ہیں -

جننیاتی اشکنازی مطالعہ —اشکنازی مادری اور پدری نسب پر تحقیق کرتے ہوئے ان کے مغربی ایشیائی ماخذ کے اشارے ملتے ہیں - لیکن اشکنازی لوگ اپنی یورپی نسبت کے متعلق ایک مختلف اور بحث طلب سوچ رکھتے ہیں کہ ان میں یورپی جننیات کی ملاوٹ مادری نسبتوں سے ہی آئی ہیں - عام طور پراشکنازی یہود، سفاردی یہود کے بر خلاف ہیں جووبیرین جزیرہ نما کے یہودیوں کی نسل سے ہیں (اگرچہ اس جزیرہ نما میں دوسرے یہودبھی موجود ہیں)۔ان میں کچھ عبرانی حروف کے تلفظ اور مذہبی رسومات کی ادائیگی میں کچھ اختلافات ہیں ۔

یہود کے کسمپرسی کے دور کے خاتمے کی بعد منافقین کو روکنے کے لیے کسی کے مذہب بدل کر یہودیت اختیار کرنے کو یہود کی جانب سے باقاعدہ تسلیم نہیں کیا جاتا یا اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی جو ایک تاریخی نظریہ ہے جس پر دوبارہ عمل ہو رہا ہے - اور یہ بحث تو کافی عام ہو چکی ہے کہ یہودی کون ہے اور کون نہیں ،چہ جائیکہ اشکنازی یہودی کا تعین کیا جائے، جس کے لیے مذہبی، لسانی، نسلی اور ثقافتی تعریف کے معیار پر پورا اترنا ضروری ہے اب جبکہ زیادہ تر یہودی آبادی مشرقی یورپ سے امریکا، مغربی اور شمالی یورپ کی جانب ہجرت کر چکے ہیں عہدحاضر سے قبل کی ان کی خود ساختہ تنہائی بھی ختم ہو چکی ہے جس نے انکو ایک الگ ثقافتی مذہبی اور قومی شناخت دی تھی-لفظ اشکنازی اپنی تاریخی ارتقا کے منازل طہ کرنے کیبعد اب دوبارہ اہمیت حاصل کرچکا ہے خاصکر اسرائیل میں جہاں اس لفظ کو اب روایتی معنوں میں نہیں لیا جاتا- دنیا بھر میں اکثر یہودی برادری آج بھی دو کنیساؤں میں منقسم ہے جہاں اشکنازی اور سفاردی روایات کی مطابق عبادت سر انجام دی جاتی ہیں -اگر چہ یہ امتیاز اب رفتہ رفتہ ختم ہوتا جا رہا ہے لیکن غیر اسرائیلی سفاردی یہود کو ایک الگ مذہبی شناخت اور امتیاز حاصل ہے جبکہ اشکنازیوں نے کھیل، ثقافت ، تنوت نور، اداکاری، سیاست، معاشیات اور صیہونیت میں اپنا مقام بنایا ہے -چنانچہ شائد اسی لیے الحاداور سیاسی محرکات کا وقوع پزیر ہونا اشکنازیوں میں کہیں زیادہ ہے -جبکہ دوسری جانب ایک دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ اسرائیلی اشکنازی اور سفاردی یہود کے خصوصیات غیر اسرائیلی یہود سے قطعا جدا ہیں، اسرائیلی اشکنازی یہود میں روایتیقدامت پسند یہودیت اب بھی موجود ہے اور اسرائیل کی بڑی سیاسی قوتوں میں مذہبی سفاردی پارٹی شاس بھی ہے۔

ایک نوعمر لڑکی کی ڈائری

ایک نوعمر لڑکی کی ڈائری جسے این فرینک کی ڈائری کہا جاتا ہے، این فرینک نامی لڑکی کی ولندیزی زبان میں لکھی ہوئی ڈائری کی کتابی شکل ہے۔ اس لڑکی نے نیدرلینڈز (موجودہ ہالینڈ) پر نازی قبضے کے بعد دو سال چھپ کر گزارے تھے اور یہ ڈائری لکھی تھی۔ 1944 میں اس کا پورا خاندان یہودیوں کے ہاتھ لگ گیا اور برجن بیلسن اذیتی کیمپ میں 1945 میں اس بچی کا انتقال ہوا۔ یہ ڈآئری میپ گیئس کے ہاتھ لگی جس نے اسے اس کے باپ اوٹو فرینک کے حوالے کر دیا۔ اس خاندان میں واحد بچنے والا شخص این فرینک کا باپ ہی تھا۔ تب سے اب تک یہ ڈائری 60 مختلف زبانوں میں چھپ چکی ہے۔

یہ کتاب پہلی بار Het Achterhuis. Dagboekbrieven 14 Juni 1942 – 1 Augustus 1944 (The Annex: Diary Notes 14 June 1942 – 1 August 1944) کے نام سے چھپی۔ یہ اشاعت ایمسٹرڈیم میں کانٹیکٹ پبلشنگ میں ہوئی۔ 1952 میں اس کا انگریزی ترجمہ برطانیہ میں شائع ہوا جو کافی پسند کیا گیا۔ 1955 میں اس پر ڈراما بنایا گیا جس کی آگے چل کر 1959 میں فلمی تشکیل بھی بنائی گئی۔ ایک نوعمر لڑکی کی ڈائری 20ویں صدی میں سرِفہرست رہنے والی کتب میں سے ایک ہے۔1947 میں شائع ہونے والی ولندیزی زبان والی کتاب کے ملکیتی حقوق یکم جنوری 2016 کو ختم ہوئے جو مصنفہ کی موت کے ستر سال بعد کی تاریخ ہے۔ یورپی یونین میں ملکیتی حقوق کا یہ عمومی قانون ہے۔ تب سے اس کتاب کا اصلی ولندیزی نمونہ آن لائن دستیاب ہے۔

بائبل

کتابِ مقدس یا بائیبل (یونانی τὰ βιβλία) (انگریزی: Bible) یونانی لفظ۔ بمعنی کتب) مسیحیوں کا ایک مذہبی کتب کا مقدس مجموعہ ہے۔ یہ مجموعۂ صحائف مختلف مقامات پر مختلف اوقات میں مختلف مصنفین نے تحریر کیے۔ یہود اور مسیحی بائبل کی کتابوں کو خدائی الہام یا خدا اور انسان کے درمیان رشتے کا ایک مستند ریکارڈ سمجھتے ہیں۔

تلمود

تلمود (عبرانی תַּלְמוּד) عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ لمد (למד) ہے۔ عبرانی میں لمد کے معنی وہی ہوتے ہیں جو عربی میں لمذ کے ہوتے ہیں، یعنی پڑھنا۔ اسی سے تلمیذ بمعنی شاگرد بھی آتا ہے۔

تلمود یہودیت کا مجموعہ قوانین ہے، جو یہوددیوں کی زندگی میں تقدس کا درجہ رکھتا ہے اور اسے یہودی تقنین میں دوسرا ماخذ قرار دیا گیا ہے۔

تلمود کے دو جزو ہیں:

مشنی۔ (عبرانی משנה) ہالاخا (فقہ یہود) کا سب سے اولین مجموعہ، جو دوسری صدی عیسوی تک زبانی منتقل ہوتا رہا۔

جمارہ۔ (آرامی גמרא) یہودی حاخامات نے مشنی کی جو تشریحات لکھی اس کا مجموعہ جمارہ کہلاتا ہے۔ مشنی کے اختتام کے بعد یہودی مدراش میں یہی رائج تھا۔مشنی اور جمارہ یہ دونوں نام آپس میں ایک دوسرے کی جگہ بھی استعمال ہوتے ہیں۔ یہودی ادب میں مشنی کے مماثل ایک اور کتاب موجود ہے، جس کا نام بریثا (آرامی ברייתא) ہے۔ اسے مشنی کی تدوین کے بعد تناییم (عبرانی תנאים) نے مدون کیا تھا۔

تنک

تنک (عبرانی: תַּנַ"ךְ ؛ انگلش: Tanakh) یا "تناخ" یا "تنخ" اُس مجموعہ کا نام جس کو عبرانی بائبل کہا جاتا ہے اور جو یہودیت کا سب سے مقدس کتابی مجموعہ ہےـ اس کے تین اجزاء ہیں : تورات (درس)، نوییم (انبیا) اور کیتُوویم (کتب) ـ

تورات میں خدا کے احکامات کے علاوہ کائنات، عالم اور انسان کی تخلیق کا قصہ ہےـ اس کے علاوہ اس میں نوح کی نبوت اور سیلاب، ابراہیم کی نبوت اور خدا کے عہد اور دیگر انبیا کے قصص ہیں ـ تورات کا اختتام بنی اسرائیل کے کنعان میں داخلہ اور خدا کے عہد کی تکمیل پہ ہوتا ہےـ

نبییم میں موسیٰ کے کچھ مزید قصص بیان ہیں اور باقی تمام انبیاء کے قصے اور ان کے پیغام درج ہیں ـ یہ انبیا وقتاً فوقتاً خدا کی طرف سے بھیجے گئے تھے تاکہ بنی اسرائیل اپنے عہد پہ پورا اترےـ نیوییم کے اختتام تک بنی اسرائیل ناکام ہوا اور خدا کا عذاب حاصل کر گیا ـ

کتبیم زبور سے شروع ہوتی ہےـ اس میں داؤد اور سلیمان کے علاوہ دیگر پیغمبروں کا ذکر ہےـ اس کے علاوہ اس میں مملکت یہوداہ کی تاریخ اور عروج بھی بیان ہےـ اس کا اختتام بنی اسرائیل کی توبہ اور خدا کے عہد کی بحالی پہ ہوتا ہے۔

جھوٹی تصنیف

جھوٹی تصنیف (انگریزی: Pseudepigrapha) جعلی طور پر منسوب کام، وہ تصنیفیں جن سے منسوب مصنف درحقیقت حقیقی مصنف نہیں ہوتا یا ایک تصنیف جس کو حقیقی مصنف نے ماضی کی ایک شخصیت سے منسوب کر دیا ہو۔

خدا کی بادشاہی

خدا کی بادشاہی (یونانی: Βασιλεία τοῦ Θεοῦ - Basileia tou Theou-، آرامی: ܡܠܟܘܬܐ ܕܐܠܗܐ ملكوثو دالوهو) کا تصور عموماً مشرق قدیم کے تمام مذاہب میں ملتا ہے۔ نیز یہ مسیحیت کے بنیادی تصورات میں سے ایک اور اناجیل میں یوحنا اصطباغی اور یسوع مسیح کے پیغام کا بنیادی محور ہے۔ عہد نامہ جدید میں خدا کی بادشاہی اور آسمانوں کی بادشاہی کے الفاظ سو سے زائد مرتبہ وارد ہوئے ہیں اور یسوع مسیح نے متعدد مرتبہ مثالوں کے ذریعہ ان الفاظ کی تشریح کی ہے۔

مرقس اور لوقا کی انجیلوں میں خدا کی بادشاہی کے الفاظ آئے ہیں، جبکہ متی کی انجیل میں اسی سے ملتا جلتا دوسرا لفظ یعنی آسمانوں کی بادشاہی (Βασιλεία τῶν Οὐρανῶν) استعمال ہوا ہے۔ محققین کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ متی کی انجیل لکھنے والا یہودی تھا اور اپنی انجیل کو یہود کے سامنے پیش کرنا چاہتا تھا، چنانچہ یہودی روایات کے بموجب اس انجیل کے کاتب نے اللہ نام کے استعمال سے گریز کرتے ہوئے آسمانوں کی بادشاہی کے الفاظ استعمال کیے۔

گرچہ قرآن کریم میں خدا کی بادشاہی کے الفاظ نہیں ملتے تاہم اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ ابراہیم کو آسمانوں کی بادشاہی کی سیر کرائی گئی۔ بہائی تحریروں میں بھی خدا کی بادشاہی کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔

سامری تورات

سامری تورات (انگریزی: Samaritan Pentateuch، عبرانی: תורה שומרונית تورہ شوم رونیت) عبرانی بائبل کی پہلی پانچ کتابوں کا ایک مسودہ ہے، جو سامری حروف تہجی میں لکھا گيا اور بطور صحیفہ سامریوں کے یہاں رائج تھا۔

مسوراتی متن اور سامری نسخہ میں چھ ہزار کے قریب اختلافات پائے جاتے ہیں۔ جن میں سے بیشتر الفاظ کے املا یا قواعد کا فرق ہے۔ لیکن کئی اہم لسانی اختلاف بھی ہیں، جیسے سامری نسخہ کے مطابق کوہ گرزیم پر ایک قربان گاہ کے قیام کا حکم۔

اگرچہ یہودیوں اور سامریوں میں حد درجہ مخاصمت پائی جاتی تھی، سامری صرف تورات کو ہی الہامی مانتے تھے، باقی کسی کتاب پر وہ ایمان نہیں رکھتے اور ان کی مخالفت کرتے۔ سامریوں کا یہ نسخہ تورات نحمیاہ اور عزرا سے بھی بہت پہلے کا تھا۔ سامری کا جو نسخہ نابلس میں ہے وہ قدیم عبرانی زبان میں لکھا گیا ہے۔ ڈھائی ہزار سال تک سامریوں اور یہودیوں کے پاس الگ الگ تورات رہی۔ جس کی وجہ سے تورات کا یہ نسخہ اپنی الگ مذہبی حیثیت منوانے میں کامیاب رہا۔گیارہویں صدی میں صور کے ابو الحسن نے اس کا ترجمہ عربی زبان میں کیا، جس کی ابو سعید نے تیرہویں صدی میں نظر ثانی کی۔

سوسن (دانی ایل کی کتاب)

سوسن (عبرانی: שׁוֹשַׁנָּה، جدید Šošana ، طبری Šôšannâ: "نرگس") یا تذکرۂ سوسن رومی کاتھولک اور راسخ العقیدہ مسیحیوں کے نزدیک کتاب دانی ایل (تیرہویں باب) میں شامل ہے۔ پروٹسٹنٹ مسیحی اسے تتمہ اور اپاکرفا سمجھتے ہیں۔ یہ نہ یہودی تنک میں ہے اور نہ اس کا کہیں یہودی ادب میں ذکر ہے۔ اور نہ ہی اس کا متن حقیقی سپتواجنتا (دوسری صدی ق م) سے میل کھاتا ہے۔

عبرانی ادب

عبرانی ادب (عبرانی: ספרות עברית) میں وہ تمام شعری و نثری تخلیقات و تصانیف شامل ہیں جو کسی بھی دور میں عبرانی زبان میں لکھے گئے۔ عبرانی ادب تاریخ کے مختلف ادوار میں متعارف ہوتا رہا۔ تاہم معاصر عبرانی ادب پر واضح طور پر اسرائیلی ادب کی چھاپ موجود ہے۔ عبرانی ادب کی سب سے اہم کتاب عبرانی و آرامی میں لکھا گیا وہ مجموعہ ہے جسے تنک کہتے ہیں اور یہود نے جسے تقدس کا درجہ دے دیا ہے۔ یہودیت کی بیشتر مذہبی ادبیات عبرانی زبان میں ہیں۔ جیسے تلمود اور بالخصوص اس کا جزو مشنی جو تورات کی شروحات میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے عبرانی زبان میں ہے اور عبرانی ادب کا قابل ذکر حصہ ہے۔

عبرانی بائبل

(لاطینی: Biblia Hebraica) عبرانی بائبل (Hebrew Bible یا Hebrew Scriptures) بائبل کے علما کی جانب سے تنک (عبرانی: תנ"ך‎) کے لیے استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے۔

پانچ طومار

پانچ طومار یا پانچ میگلوتھ (عبرانی: חמש מגילות‎؛ [χaˈmeʃ meɡiˈlot]، ہامش میگلوتھ یا چومیش میگلوس) کتبیم (تحریریں) کا ایک حصہ ہے۔ کتبیم تنک (تناخ) یعنی عبرانی کتاب مقدس کا تیسرا بڑا حصہ ہے۔ اس حصہ میں کتاب غزل الغزلات، روت، نوحہ، واعظ اور کتاب آستر شامل ہیں۔

یہودی تاریخ کا خط زمانی

یہ یہودیوں اور یہودیت کی ترقی کا تقویم ہے ۔ تمام تاریخیں عبرانی تقویم کی بجائے زمانہ عام کے مطابق دی گئی ہیں ۔

یہودیوں کی تاریخ بھی دیکھیں جس میں انفرادی ملک کی یہودی تاریخ کے روابط شامل ہیں ۔ یہودیوں پر عقوبت کی تاریخ کے لیے سام دشمنی، تاریخ سام دشمنی اور ٹائم تقویم سام دشمنی دیکھیں۔

یہودی گروہ
مذہبیتحریکیں
فلسفہ
مذہبی متون
مقامات
رہنما
احکام
ثقافت
مسائل و دیگر
زبانیں
مذہبی مضامین
اور دعاہیں
یہودیت دیگر مذاہب کے ساتھ تعلقات
تاریخ
سیاست
ضد سامیت

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.