یوشع بن نون

یشوع یا یوشع بن نون (/ˈɒʃə/) یا جاہیشوا (عبرانی: יְהוֹשֻׁעַ‎‎ یاہوشوآ یا عبرانی: יֵשׁוּעַ‎‎ یشوعوا; آرامی: ܝܫܘܥایشا; یونانی: Ἰησοῦς ،عربی: يوشع بن نون، لاطینی: یوسوے، یوشع ابن نون، ترکی: یوشع)، ایک تورات میں مذکور شخصیت ہے، جسے بطور جاسوس پیش کیا گیا ہے (گنتی 13–14) اور کئی مقامات پر موسی کے مددگار کے طور پر ۔[3] یوشع، اسلام کے مطابق، موسی کے بھانجے اورجانشین تھے[4] اور ایک جنگجو سورما تھے، نڈر مگر دل میں خوف خدا رکھتے تھے۔ کنعان کے حالات دیکھنے کے لیے جانے والوں میں یشوع بھی شامل تھے مگر واپس آ کر جہاد کرنے سے ڈرے نہیں۔ آپ کو موسیٰ نے اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔ اس جانشین مقرر کرنے کا ذکر کتاب استثنا کے کے باب 31 میں ہے۔ اُن کا عہد چودہویں صدی قبل مسیح کا ہے۔ یشوع سے عہد نامہ قدیم کی ایک کتاب یشوع بھی منسوب ہے۔
قرآن کریم میں بغیر نام لیے آپ کا ذکر سورۃ الکہف کی آیت 60 اور 62 میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام اپنے نوجوان یا شاگرد سے مخاطب ہوئے۔ یہ نوجوان اور شاگرد یشوع علیہ السلام ہی تھے۔

یوشع
یشوع
Joshua Renewing the Covenant with Israel (Bible Card)
یوشع عليه السلام.png بنی اسرائیلیوں سے عہد لیتے ہوئے۔
پیغمبر
پیدائش 1350 ق م
جدید مملکت مصر
وفات کنعان
محترم در یہودیت، مسیحیت، اسلام
مزار یشوع کا مزار
تہوار
منسوب خصوصیات کالب بن یفنہ کے ساتھ دیکھا گیا جب اپ دونوں کنعان سے باہر انگور لا رہے تھے۔

اسلام میں

نام میں اختلاف

ان کا نام مسلمانوں کے ہاں یوشع بن نون جبکہ مسیحی ان کا نام یشوع بن نون لکھتے ہیں۔[5] صحیح بخاری صحیح مسلم اور سنن ترمذی میں سورہ الکہف کی آیت 60 کے ضمن یوشع بن نون لکھا ہے وَانْطَلَقَ مَعَهُ بِفَتَاهُ يُوشَعَ بْنِ نُونٍ [6]

نسب یوشع بن نون

يوشع بن نون بن أفراثيم بن يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ وَأَهْلُ الْكِتَابِ يَقُولُونَ يُوشَعُ ابن عَمِّ هُودٍ۔[7]

جانشین موسیٰ

موسیٰ علیہ السلام کی وفات اقدس کے بعد آپ کے خلیفہ اول یوشع بن نون علیہ السلام ہوئے جن کو اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا فرمائی۔كَانَ نَبِيُّهُمُ الَّذِي بَعْدَ مُوسَى يُوشَعُ بْنُ نُونٍ[8]

سمندر میں گھوڑا ڈالنا

موسیٰ (علیہ السلام) جب سمندر کے کنارے پہنچے تو ان کے اصحاب میں سے یوشع بن نون نے کہا : اے موسیٰ (علیہ السلام) آپ کے رب نے کس طرف سے نکلنے کا حکم دیا تھا؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے سامنے سمندر کی طرف اشارہ کیا۔ یوشع نے اپنا گھوڑا سمندر میں ڈال دیا حتی کہ جب وہ سمندر کی گہرائی میں پہنچا تو پھر لوٹ آئے اور پھر پوچھا کہ آپ کے رب نے کہاں سے نکلنے کا حکم دیا تھا؟ تین مرتبہ اس طرح ہوا‘ پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف یہ وحی کی کہ اپنے عصا کو سمندر پر ماریں‘ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے سمندر پر عصا مارا تو وہ بارہ حصوں میں منقسم ہو کر پھٹ گیا حتی کہ موسیٰ (علیہ السلام) بنواسرائیل کے بارہ گروہوں کے ساتھ اس سے پار گزر گئے۔[9]

سورج کا ٹھہرنا

Joshua's Tomb at Kifl Hares
کفل حارس، فلسطین میں یوشع بن نون کا مقبرہ
Joshua's Tomb in Jordan 01
اردن میں یوشع بن نون کا مقبرہ

بدر الدین عینی عمدۃُ القاری میں فرماتے ہیں :وہ نبی ِ یوشع بن نون تھے۔ ِ سَیِّدُنا موسیٰ کے دنیا سے پردہ فرما نے کے چالیس سال بعد اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُنہیں مبعوث فرمایا ،انہوں نے بنی اسرائیل کو خبر دی کہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نبی ہوں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے قوم جَبَّارِین سے جہاد کرنے کا حکم دیا ہے۔ بنی اسرائیل نے ان کی تصدیق کی اور ان کے ہاتھ پر بیعت بھی کی۔ پھر انہوں نے بنی اسرائیل کے ساتھ اُرَیْحا ( نامی بستی )کا قَصد فرمایا، اُن کے پاس تابوتِ میثاق بھی تھا انہوں نے چھ مہینے تک اس بستی کا احاطہ کیے رکھا، ساتویں مہینے اس بستی کی دیواریں گرانے میں کامیاب ہوئے، توانہوں نے بستی میں داخل ہوکر قومِ جَبَّارِین سے جہاد شروع کر دیا۔ یہ جمعہ کا دن تھا۔ پورے دن جہاد ہوتا رہا لیکن ابھی جہاد مکمل نہ ہوا تھا۔ قریب تھا کہ سورج غروب ہو جاتا اور ہفتے کی رات شروع ہو جاتی ( ان کی شریعت میں ہفتے کو جہاد جائز نہ تھا۔ مرقاۃ، ج7، ص660) چنانچہ، ِ سَیِّدُنا یوشع عَلَیْہِ السَّلَامکو خوف ہوا کہ کہیں اُن کی قوم عاجز نہ آجائے۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا کی :اے اللہ عَزَّوَجَلَّ سورج کو واپس لوٹا دے! انہوں نے سورج سے کہا: تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت پر مامور ہے اور میں بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم کا پابند ہوں، یعنی تو غروب ہونے پر مامور ہے اور میں نماز پڑھنے پر یا غروب سے پہلے قتال کرنے پر مامور ہوں، پس اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے لیے سورج کو ٹھہرادیا اور غروبِ آفتاب سے قبل انہیں فتح نصیب ہو گئی ۔[10]

مسیحیت میں

عبرانیوں 10-4:8 کے کئی تراجم سے یشوع اور یسوع کی مشاہبت ثابت ہوتی ہیں اس میں فرق اتنا ہے یشوع نے انہیں (کنعان) آرام میں داخِل کِیا اور یسوع نے خُدا کی اُمّت کو “خدا کے آرام‘‘‘ میں داخل کیا۔ ابتدائی کلیسیائی آبا کے نزدیک یشوع، یسوع کی ایک قسم ہیں۔[11]

بیرونی روابط

یوشع بن نون
قبیلہ افرائیم
ماقبل 
موسیٰ
بنی اسرائیل کے قاضی مابعد 
غتنی ایل

حوالہ جات

  1. (یونانی زبان میں) "Ὁ Ἅγιος Ἰησοῦς ὁ Δίκαιος"۔ Megas Synaxaristis۔
  2. "Righteous Joshua the son of Nun"، Orthodox Church in America
  3. Michael D. Coogan, "A Brief Introduction to the Old Testament" page 166-167, Oxford University Press, 2009
  4. تفسیر الطبری
  5. ar:یوشع بن نون
  6. [null صحيح البخاري] (4725,122,4727) [null صحيح مسلم](2380) [null صحيح الترمذي](3149) [null صحيح الجامع](4357)
  7. البدایہ والنهایہ، مؤلف: أبو الفداء إسماعيل بن كثير، ناشر: دار إحياء التراث العربی
  8. تفسير القرآن العظيم لابن أبي حاتم ،مؤلف: أبو محمد عبد الرحمن الرازي ابن أبي حاتم ،ناشر: مكتبہ نزار مصطفى الباز - المملكۃ العربیہ السعودیہ
  9. جامع البيان فی تأويل القرآن، مؤلف: محمد بن جرير ابو جعفر الطبری، ناشر: مؤسسہ الرسالہ
  10. عمدۃ القاری، کتاب الخمس، باب قول النبی احلت لکم الغنائم، 10/453- 454، تحت الحدیث:3124
  11. Aidan Nichols۔ Lovely, Like Jerusalem: The Fulfillment of the Old Testament in Christ and the Church۔ Ignatius Press۔ صفحہ 195۔ آئی ایس بی این 9781586171681۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
اسرائیلی یہود

اسرائیلی یہود (انگریزی: Israeli Jews، عبرانی: יהודים ישראלים) کا اطلاق ان افراد پر ہوتا ہے جو یہودیت پر ایمان لاتے ہوں اور ان کےپاس ریاست اسرائیل کی شہریت ہو اور وہ اسرائیلی یہودی مہاجرین کی اولاد میں سے ہو۔

اسرائیلی زیادہ تر اسرائیل اور مغربی ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ کچھ دیگر ممالک میں بھی آباد ہیں۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ صرف یہودی علاقوں میں ہی پناہ گزین ہوں۔ زیادہ تر اسرائیلی یہود عبرانی زبان بولتے ہیں۔ اور ان میں اکثر کچھ نہ کچھ یہودی مذہبی تعلیمات کی پاسداری کرتے ہیں۔ موجودہ وقت میں دنیا میں یہود کی آبادی نصف حصہ ریاست اسرائیل میں آباد ہے۔

اسرائیل میں کی تعریف میں یہود کے تمام فرقے شامل ہیں۔ جیسے اشکنازی یہود، سفاردی یہودی، مزراحی یہودی ، [[بيتا ] اسرائیل]]، کوچین یہود، بنے اسرائیل، قرائی یہود اور ان کے علاوہ بہت سارے یہودی فرقے ہیں جو اسرائیل میں آباد ہیں۔ کثیر تعداد میں فرقوں کا وجود اسرائیل میں وسیع یہودی ثقافت اور تہذیب کا ذمہ دار ہے اور بہت سارے مذہبی رسومات اور عبادات احاطہ کرتے ہیں۔ حریدی یہودیت سے لیکر سیکیولر یہودیت سب کے سب یہودی ثقافت کے احاطے میں اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ یہودی آبادی میں تقریباً 25 فیصد اسکولی بچے اور 35 فیصد سے زیادہ نومولود سفاردی یہودی اور مزراحی یہودی کی مخلوط اولادیں ہیں اور ان کی تعداد ہر سال 0۔5 فیصد کی در سے بڑھ رہی ہے۔ 50 فیصد سے زیادہ یہودی آبادی آیا نصف سفاردی ہے یا نصف مزارحی۔

باوجود یہ کہ اسرائیلی یہود کے درمیان اب بھی یہ بحث جاری ہے کہ یہودی کون ہے؟، اسرائیل میں یہود ہونا قومی شعار مانا جاتا ہے اور اسرائیلی انتظامیہ اس کی دیکھ ریکھ کرتی ہے۔ ایک مکمل یہود ہونے کے سارے معیار جنہیں یہودی کون ہے؟ کے تحت ترتیب دیاگیا ہے اور اسرائیلی وزارت داخلہ اس فردکو بطور یہود رجسٹر کرتی ہے جو اس معیار پر پورا اترا ہو۔ مرکزی ادارہ شماریات، اسرائیل کے اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2017ء تک اسرائیل میں یہودیوں کی آبادی تقریباً 6,556,000 ہے۔ ( کل آبادی کا 74.6 فیصد ، اگر مشرگی یروشلم اور گولان عرب کی آبادی بھٰ شامل کی جائے)۔اسرائیلی ادارہ جمہوریت کی 2008ء کی رپورٹ کے مطابق 47 فیصد آبادی خود کو پہلے ایک یہودی کے طور پر تسلیم کرتی ہے پھر ایک اسرائیلی کے طور پر۔ صرف 39 فیصد آبادی خود کو پہلے اسرائیلی مانتی ہے۔

اسماعیلی

اسماعیلی اہل تشیع کا ایک فرقہ ہے جس میں حضرت جعفر صادق (پیدائش 702ء) کی امامت تک اثنا عشریہ سے اتفاق پایا جاتا ہے اور یوں ان کے لیے بھی اثنا عشریہ کی طرح جعفری کا لفظ بھی مستعمل ملتا ہے جبکہ ایک قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ اکثر کتب و رسائل میں عام طور پر جعفری کا لفظ اثنا عشریہ اہل تشیع کے لیے بطور متبادل آتا ہے۔ 765ء میں حضرت جعفر صادق کی وفات کے بعد ان کے بڑے فرزند اسماعیل بن جعفر (721ء تا 755ء) کو سلسلۂ امامت میں مسلسل کرنے والے جعفریوں کو اسماعیلی جبکہ موسی بن جعفر (745ء تا 799ء) کی امامت تسلیم کرنے والوں کو اثنا عشریہ کہا جاتا ہے۔ اسماعیلی تفرقے والے حضرت علی، حضرت حسن، حضرت حسین، زین العابدین، محمد باقر اور جعفر صادق علیہم السلام کو اہل تشیع کی طرح اپنے ائمہ مانتے ہیں اور ان کے بعد ساتویں امام اسماعیل بن جعفر صادق اور ان کے بعد محمد بن اسماعیل بن جعفر صادق (746ء تا 809ء) کو اپنے آٹھویں امام کا درجہ دیتے ہیں۔

اسیری بابل

بابل کی اسیری یا بابلی جلاوطنی یہودی تاریخ کا وہ دور ہے جس میں ، قدیم مملکت یہوداہ کے یہود کی ایک بڑی تعداد مملکت بابل کے اسیر رہے. کرکمیش کی جنگ کے بعد 605 قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر , نے یروشلم کا محاصرہ کیا جس کے نتیجے میں یہوداہ کے بادشاہ یہویقین نے خراج دیا. یہویقین نے اپنے اوپر غلبہ پائے جانے کے چوتھے سال بخت نصر کو خراج دینے سے انکار کر دیا , جس کی وجہ سے بخت نصر نے تین سال بعد پھر سے ایک اور محاصرہ کیا، جس کا اختتام یہویقین کی موت اور بادشاہ یقونیاہاور اس کے درباریوں کی جلا وطنی پر ہوا ; یقونیاہ کے جانشین صدقیاہ اور دوسروں کو بخت نصر کے اٹھارویں سال میں جلاوطن کیا گیا، بخت نصر کے تیئسویں سال میں ایک اور بادشاہ کی ملک بدری واقع ہوئی . مورخہ جات, ملک بدری کی تعداد , اور جلاوطن کیے گئوں کی تعداد بائبل کے سرگزشتوںمیں مختلف ہیں. یہ ملک بدریاں پہلی مرتبہ 597 قبل مسیح پھر 587/586 قبل مسیح, اور 582/581 قبل مسیح میں واقع ہوئیں.بابل کے سقوط کے بعد فارس کے بادشاہ کورش عظیم 539 قبل مسیح میں جلاوطن یہود کو واپس یہوداہ جانے کی اجازت دی. تورات کی شہادت یہ ہے کہ کورش کا ظہور اور بابل کی فتح نبی اسرائیل کے لیے زندگی اور خوشحالی کا نیا پیام تھا اور یہ ٹھیک اسی طرح ہوا جیسے یسعیاہ نبی نے ایک سو ساٹھ برس قبل وحی الہی سے مطلع ہوکر خبر دے دی تھی اور جب کورش کو کتابوں میں یہ پیشنگوئ دکھلائی گئی تو اس نے دانیال نبی کی نہایت توقیر کی اور یہودیوں کو یروشلم میں بسنے کی اجازت دی – بلکہ اعلان کیا کہ خدا نے مجھے حکم دیا کہ یروشلم میں اس کے لیے ہیکل (ہیکل سلیمانی کی از سر نو تعمیر) بناؤں پس تمام لوگوں کو ہر طرح کا سازوسامان مہیا کرنا چاہیے اس نے تمام ظروف جو (بخت نصر) لوٹ لایا تھا اس میں بددستور قبل واپس رکھ دئے(عزرا-باب اول)[6] بائبل کی کتاب عزرا کے مطابقیروشلم کے ہیکل دوم کی تعمیر 537 قبل مسیح آس پاس شروع کر دیا گیا تھا۔ یہ تمام واقعات یہودی تاریخ اور ثقافت میں بہت اہمیت کے حامل ہیں اور ان کا یہودیت کی ترقی پر دور رس اثر رہا ہے۔

آثار قدیمہ کی مطالعات بتلاتی ہیں کہ تمام تر آبادی کو یہوداہ سے ملک بدر نہیں کیا گیا تھا اور اگرچہ یروشلم بری طرح سے تباہ ہوا ملک بدری کے زمانے میں یہوداہ کے دیگر علاقے یہود سے آباد رہے . یہود کی بابل سے واپسی ایک مرحلہ وار عمل تھا نہ کہ ایک دفعہ کا واقعہ اور یہ امر بھی قابل غور ہے کہ بہت سے ملک بدر کیے گئے یہود واپس نہ لوٹے-

النبی یوشع

النبی یوشع (عربی: النبي يوشع) ایک سابقہ فلسطینی گاؤں تھا۔

امامت (اہل تشیع)

امامت یا عقیدہ امامت تمام شیعہ مکاتب فکر کی اصل بنیاد اور شیعیت کا اصل الاصول ہے۔ اہل تشیع کے عقیدہ امامت سے مراد ہے جس طرح اللہ نے صفت عدل ااور حکمت و رحمت کے لازمی تقاضے سے نبوت و رسالت کا سلسلہ جاری فرمایا اور انبیا و رسل کو لوگوں کی ہدایت رہنمائی اور ان کی قیادت و سربراہی کے لیے بھیجا۔ جن کی بعثت سے بندوں پر اللہ کی حجت قائم ہوئی تھی اور وہ اس اتمام حجت کے بعد ہی آخرت میں ثواب یا عذاب کے مستحق ہیں۔ اسی طرح اللہ نے انبیا و رسل کے بعد بندوں کی ہدایت و رہنمائی اور قیادت و سیادت جاری رکھنے کے لیے اور ان پر حجت قائم رہنے کے لیے امامت کا سلسلہ قائم کر کے قیامت تک کے لیے امام نامزد کر دیے۔ تمام شیعہ مکاتب فکر میں ہر شخص کے لیے اپنے زمانے کے امام کی معرفت اطاعت کو لازمی قرار دیا جاتا ہے۔ ۔

حزقی ایل

حزقی ایل یا حزقیال (عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں خدا کا زور۔/ᵻˈzi:ki.əl/؛ عبرانی: יְחֶזְקֵאל‎‎ Y'ḥez'qel، عبرانی تلفظ: [jəħezˈqel]) کتاب حزقی ایل اور عبرانی بائبل کے حامی مرکزی کردار ہے۔

موسیٰ

موسٰی (انگریزی: Moses) ابراہیمی مذاہب کے ایک پیغمبر تھے۔ عبرانی بائبل کے مطابق، موسیٰ ایک مصری شہزادے تھے جو بعد میں مذہبی رہنما اور شارع رہنما بن گئے۔ جنہوں نے توریت تالیف کی تھی یا جن کو جنت سے توریت کا حصول ہوا۔ ان کو موشی ریبنو (מֹשֶׁה רַבֵּנוּ، لغوی معنی: "موسیٰ ہمارے استاد") بھی کہا جاتا ہے، یہودیت میں ان کو سب سے اہم پیغمبر تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوه ان کو مسیحیت، اسلام اور بہائیت کے ساتھ ساتھ دوسرے ابراہیمی مذاہب میں بھی اہم پیغمبر سمجھا جاتا ہے۔

کتاب خروج کے مطابق، موسیٰ ایک ایسے وقت میں پیدا ہوا تھا جب اس کی قوم بنی اسرائیل کو ایک اقلیتی غلام بنا کر رکھا تھا،جن کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا اور فرعون فکر مند تھا کہ وہ لوگ مصر کے دشمنوں کے ساتھ اتحاد نہ کر لیں۔جب فرعون نے حکم دیا کہ تمام نوزائیدہ عبرانی لڑکوں کو ہلاک کیا جائے تاکہ بنی اسرائیل کی آبادی کم ہو سکے۔ تو عبرانی موسیٰ کی ماں یوکابد نے خفیہ طور پر اُسے چھپا دیا۔ جس لقیط (لاوارث بچہ) کو فرعون کی بیٹی (مدراش میں جس کی نشان دہی ملکہ بتیاہ کے نام سے ہوئی) نے اپنا لیا تھا جو اس کو دریائے نیل سے ملا تھا اور وہ مصری شاہی خاندان کے ساتھ پلے بڑھے۔ موسیٰ بعد میں ایک غلام کے مالک کو قتل کر کے بحیرہ احمر کے پار مدیان فرار ہو گئے تھے (کیونکہ یہ مالک ایک عبرانی شخص کو مار رہا تھا)، مدیان میں ان کو رب کے فرشتے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جس نے حورب پہاڑ میں جلتی ہوئی جھاڑی پر موسیٰ سے بات کی (جس کو انہوں نے خدا کا پہاڑ کہا)۔

خدا نے موسیٰ کو دوبارہ مصر بھیجا تاکہ وہ بنی اسرائیلیوں کو غلامی سے نجات دلا سکے اور ان کی آزادی کا مطالبہ کرے۔ مگر موسیٰ نے کہا کہ وہ صاف صاف بول نہیں سکتا اور رُک رُک کے بولتا ہے اور نہ ہی اچھے الفاظ ادا کر سکتا ہے۔ پھر خدا نے ہارون موسیٰ کے بھائی کو اس کی جگہ بات کرنے کو کہا۔مصری آفتوں کے بعد، موسیٰ نے بنی اسرائیلیوں کے مصر سے خروج اور بحیرہ احمر عبور کرنے میں قیادت کی۔ اس کے بعد وہ لوگ جبل موسیٰ میں آباد ہوئے۔ جہاں موسیٰ کو دس احکام موصول ہوئے۔ 40 سال صحرا میں بھٹکنے کے بعد جبل نیبو میں میدان تیہ پر موسیٰ انتقال کر گئے۔ربیائی یہودیت کے مطابق موسیٰ 1391-1271 قبل مسیح تک زندہ رہے۔ جیروم کے مطابق 1592 قبل مسیح، اور جیمس یوشر کے مطابق 1571 قبل مسیح ان کا پیدائش کا سال تھا۔

یہودی تاریخ

یہودی تاریخ یہودیوں اور یہودیت کی تاریخ ہے۔ اگرچہ یہودیت بطور مذہب یونانی تاریخی حوالوں کے مطابق سب سے پہلے ھلنستی دور (31 ق م – 323 ق م) میں ظاہر ہوا اور اسرائیل کا قدیم ترین ذکر، قطبہ مرنپتاح 1203–1213 ق م پر لکھا ملتا ہے، مذہبی ادب بنی اسرائیلیوں کی کہانی 1500 سال ق م پرانی بتلاتا ہے۔ یہودی جلاوطن برادری اسوری فتح کے ساتھ ہی شروع ہوئی اور بابلی فتح پر شدت اختیار کی۔ یہودی رومی سلطنت میں بھی جابجا پھیلے ہوئے تھے، جس میں بازنطینی حکمرانی دور میں وسطی اور مشرقی بحیرہ روم میں کمی واقع ہوئی ہے۔ 638ء میں بازنطینی سلطنت نے بلاد شام اور مشرقی بحیرہ رومی علاقوں کا قبضہ کھو دیا، عرب اسلامی سلطنت کے تحت خلیفہ عمر نے یروشلم، میسوپوٹامیا، شام، فلسطین اور مصر فتح کیا۔ سپین میں یہودی ثقافت کا سنہری دور مسلم سنہری دور اور یورپ کے قرون وسطی کے تاریک دور ساتھ وقوع پزیر ہوا جب جزیرہ نما آئبیریا کے زیادہ تر علاقوں میں مسلم حکمرانی تھی۔ اس دور میں یہودیوں کو عام طور پر معاشرے میں تسلیم کیا جاتا تھا چنانچہ یہودی مذہبی، ثقافتی اور اقتصادی زندگی نے ترقی کی۔

کلاسیکی عثمانی مدت کے دوران میں 1300ء -1600ء سلطنت کی تمام اقلیتی برادریاں بشمول یہود کسی حد تک خوشحالی و آزادی کا لطف اٹھاتے رہے۔ ،17ویں ء صدی میں مغربی یورپ میں اچھی خاصی یہودی آبادیاں تھیں۔ یورپی نشا‌‌‍ ۃ ثانیہ اور روشن خیالی کی مدت کے دوران میں خود یہودی برادریوں میں بھی اہم تبدیلیاں واقع ہوتی رہیں۔ 18ویں صدی عیسوی میں یہودیوں نے تحدیدی قوانین سے آزادی اور وسیع تر یورپی معاشرے میں انضمام کے لیے مہم شروع کی۔ 1870ء اور 1880ء کی دہائیوں کے دوران یورپی یہود نے زیادہ فعال طور پر ہجرت کرنے اور یہود کو فلسطین اور ارض مقدسہ کے علاقوں میں دوبارہ آبادکاری کے بارے آزادانہ گفتگو اور بحثیں شروع کی۔ صیہونی تحریک باضابطہ طور پر 1897ء میں قائم کی گئی۔ دریں اثنا، یورپ اور امریکا کے یہود نے سائنس، ثقافت اور معیشت کے شعبوں میں میں مہارت حاصل کی جن میں عام طور پر سائنس دان البرٹ آئنسٹائن اور فلسفی لڈوگ وٹگنسٹائن کو سب سے زیادہ مشہور سمجھا جاتا ہے۔ اس دور کے بعد سے یہود نے بڑی تعداد میں نوبل انعام جیتنا شروع کیے۔1933ء میں ایڈولف ہٹلر اور نازیوں کے جرمنی میں اقتدار میں آتے ساتھ یہودیوں کی صورت حال زیادہ کشیدہ ہو گئی۔ اقتصادی بحران، سام مخالف نسلی قوانین اور قریب تر ہوتی آئندہ کی جنگ کے خوف نے بہت سے یہودیوں کو یورپ سے فلسطین، ریاست ہائے متحدہ امریکا اور سوویت یونین فرار ہونے پر مجبور کیا۔ 1939ء میں دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی 1941ء تک ہٹلر نے پولینڈ اور فرانس سمیت تقریباً تمام یورپ جہاں اس وقت لاکھوں یہودی رہ رہے تھے پر قبضہ کر لیا۔ 1941ء میں سوویت یونین پر حملے کے بعد یہودیوں کا حتمی علاج یعنی یہودی لوگوں کا وسیع پیمانے پر بے مثال و منظم قتلِ عام شروع ہوا جس کا مقصد یہودی نسل کی فنا و تعدیم تھا اور جس کے نتیجہ یورپ بشمول شمالی افریقہ (نازی نواز وکی - شمالی افریقہ اور اطالوی لیبیا) میں یہود پر ظلم و ستم اور عقوبت وقوع پزیر ہوا۔ اس نسل کشی جس میں تقریباً ساٹھ لاکھ یہود باضابطہ طریقے سے ہلاک کیے گئے مرگ انبوہ یعنی ہولوکاسٹ یا (عبرانی اصطلاح) شواح کے طور پر جانا جاتا ہے صرف پولینڈ کے حراستی کیمپوں میں تیس لاکھ یہود گیس کی کوٹھڑیوں کے ذریعے قتل ہوئے جبکہ صرف آشوٹز حراستی کیمپ ہی میں دس لاکھ قتل کیے گئے۔

1945ء میں فلسطینی یہودی مزاحمتی تنظیمیں متحد ہوئیں اور یہودی مزاحمتی تحریک ہگانا کی باقاعدہ بنیاد ڈالی ،تحریک نے برطانوی تسلط سے لاتعلقی کا برملا اظہار شروع کر دیا حتی کہ برطانوی حکومت کے فلسطینی علاقوں میں لامحدود یہودی آبادکاری سے انکار پر ہگانا دہشت گرد طریقہ مزاحمت اپنایا اور ساتھ ہی ساتھ بحری جہازوں میں غیر قانونی تارکین وطن یہود کو فلسطین میں آباد کرنے لگے۔ ڈیوڈ بن گوریان نے 14 مئی 1948ء کو ارض اسرائیل میں یہودی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا جو اسرائیلی ریاست کے طور پر جانا گیا۔ اس کے بعد فوری طور پر تمام ہمسایہ عرب ریاستوں نے اسرائیل پر حملہ کر دیا، جبکہ نو زائیدہ اسرائیلی فوج برطانیہ اورفرانس کی مدد سے مزاحمت کرتی رہی۔ 1949ء میں جنگ ختم ہوئی تو اسرائیل کی ریاست کی تعمیر شروع ہوئی، ریاست نے بڑے پیمانے پر دنیا بھر سے سینکڑوں ہزاروں یہودی مہاجرین کی لہروں کو جذب کیا۔ آج اسرائیل ایک پارلیمانی جمہوریت ہے جس کی آبادی 80 لاکھ افراد سے زائد ہے، جن میں 60 لاکھ یہودی ہیں۔ سب سے بڑا یہودی طبقہ اسرائیل اور امریکہ میں ہے جبکہ اہم برادریاں فرانس، ارجنٹائن، روس، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور جرمنی میں ہیں۔ اعداد و شمار اور جمعیت شماری کے لیے یہودی آبادی صفحہ ملاحظہ کریں۔

اسلام کے غیر قرآنی انبیاء
قصص الانبياء میں
اسلامی روایت میں
قرآنی تفسیر میں
قرآن میں مذکور افراد و اقوام
افراد
عمومی گروہان
خصوصی گروہان
اقوام
اشکال حیات
قرآن میں اشخاص کے نام

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.