یمن

جمہوریہ یمن یا یمن مغربی ایشیا میں واقع مشرق وسطیٰ کا ایک مسلم ملک ہے۔ اس کے شمال اور مشرق میں سعودی عرب اور عمان، جنوب میں بحیرہ عرب ہے اور مغرب میں بحیرہ احمر واقع ہے۔ یمن کا دار الحکومت صنعاء ہے اور عربی اس کی قومی زبان ہے۔ یمن کی آبادی 2 کروڑ سے زائد ہے، جن میں سے بیشتر عربی بولتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں یمن عربوں کی اصل سرزمین ہے۔ یمن قدیم دور میں تجارت کا ایک اہم مرکز تھا، جو مسالوں کی تجارت کے لیے مشہور تھا۔

یمن
یمن
یمن کا پرچم 
یمن
نشان

Yemen (orthographic projection)
 

شعار
(عربی میں: الله ،الوطن، الثورة، الوحدة)،  و(انگریزی میں: God, Country, Revolution, Unity)،  و(بلغاری میں: Бог, държава, революция, единство
ترانہ:
 الجمہوریہ المتحدہ[1] 
زمین و آبادی
متناسقات 15°30′N 48°00′E / 15.5°N 48°E [2]
بلند مقام جبل نبی شعیب (3666 میٹر) 
پست مقام بحیرہ عرب (0 میٹر) 
رقبہ 555000 مربع کلومیٹر[3][4] 
دارالحکومت صنعاء
عدن 
سرکاری زبان عربی[5] 
آبادی 26183676 (2014)[6] 
حکمران
طرز حکمرانی جمہوریہ،  وصدارتی نظام 
اعلی ترین منصب عبد ربہ منصور ہادی (2012–) 
سربراہ حکومت معین عبد المالک سعید (15 اکتوبر 2018–) 
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 1990 
عمر کی حدبندیاں
شادی کی کم از کم عمر 15 سال 
شرح بے روزگاری 60 فیصد 
دیگر اعداد و شمار
منطقۂ وقت متناسق عالمی وقت+03:00 
ٹریفک سمت دائیں 
ڈومین نیم ye. 
سرکاری ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ 
آیزو 3166-1 الفا-2 YE 
بین الاقوامی فون کوڈ +967 

بیرونی روابط

  • حکومت یمن سرکاری موقع حبالہ
  • "Yemen"۔ کتاب عالمی حقائق۔ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی۔
  • کرلی (ڈی موز پر مبنی) پر یمن
  • ویکیمیڈیا نقشہ نامہ Yemen
  • Wikivoyage-Logo-v3-icon.svg Yemen سفری راہنما منجانب ویکی سفر
ماقبل 
شمالی یمن اور جنوبی یمن
حکومت یمن
1990 تا حال
مابعد 
موجودہ
  1. http://www.yemen-nic.info/contents/laws_ye/detail.php?ID=18865
  2.   "صفحہ یمن في خريطة الشارع المفتوحة"۔ OpenStreetMap۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 نومبر 2019۔
  3. World Atlas of Oil and Gas Basins — صفحہ: 206 — ISBN 1444390058
  4. World Atlas of Oil and Gas Basins — عنوان : Causes of Blindness among Adult Yemenis: A Hospital-based Study. — جلد: 15 — صفحہ: 3-6 — شمارہ: 1 — شائع شدہ از: Middle East African Journal of Ophthalmology — https://dx.doi.org/10.4103/0974-9233.53367https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pubmed/?term=20379421https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC2848797
  5. باب: 2
  6. http://data.worldbank.org/indicator/SP.POP.TOTL
Ye.

ye. یمن کے لیے مخصوص کردہ بلند ترین اسمِ ساحہ (top-level domain name) ہے۔

یمن

جنوبی عرب

جنوبی عرب (South Arabia / Southern Arabia) جزیرہ نما عرب کے جنوبی حصے پر مشتمل ایک تاریخی خطہ ہے۔ موجودہ دور میں اس میں یمن اور سعودی عرب کے نجران علاقہ، جیزان علاقہ اور عسير علاقہ شامل ہیں۔

حضرموت

حضرموت (موت حاضر ہو گئی) یمن کا مشہور علاقہ ہے۔

خلیج عدن

خلیج عدن (Gulf of Aden) جزیرہ نما عرب میں یمن کے جنوبی ساحلوں اور افریقا میں صومالیہ کے درمیان ایک خلیج ہے جو بحر ہند کا حصہ ہے۔ شمال مغرب میں یہ آبنائے باب المندب کے ذریعے بحیرہ قلزم سے منسلک ہے۔

خلیج عدن خلیج فارس کے تیل کے ذخائر کی بحری راستے کے ذریعے دنیا کے معاشی مراکز تک رسائی کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ نہر سوئز کے ذریعے ایشیا سے یورپ جانے والے اکثر بحری جہاز یہیں سے گزر کر بحیرہ قلزم میں اور پھر نہر سوئز میں داخل ہوتے ہیں۔

اس خلیج کی اہم ترین بندرگاہ عدن ہے۔

زیاد بن لبید

زیاد بن لبید غزوہ بدر میں شامل فقہا صحابہ میں تھے۔

سریہ بشیر بن سعد انصاری (یمن و جبار)

-

سریہ بشیر بن سعد انصاریشوال 7ھ میں یمن و جبار کی طرف بھیجا گیا یہ غطفان قبیلے کا علاقہ ہے اسے فزارہ اور عزرہ کا علاقہ بھی کہا گیا۔

عینیہ بن حصن فزاری نے قبیلہ غطفان کے بہت سے لوگوں کو یہ کہہ کر مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لیے تیار کر لیا تھا کہ میں بھی تمہارا ساتھ دونگا، حضور اکرم ﷺ کو پتہ چلا تو آپﷺ نے بشیر بن سعد انصاری کو بھیجا،اس میں 300 افراد شامل تھے مسلمان رات کو چلتے دن کو چھپ جاتے یہاں تک کہ یمن و جبار آ گئے جو الجناب کی طرف ہے، الجناب سلاح و خیبر و وادی القریٰ کے سامنے ہے، وہ سلاح میں اترے اور اس قوم کے قریب آئے ،جب انہیں مسلمانوں کی آمد کی اطلاع ملی تو وہ بھاگ گئے۔

مال غنیمت میں کافی اونٹ ہاتھ لگے نیز دو آدمی بھی قیدی بنائے گئے جو مدینہ میں بارگاہ نبوی میں مسلمان ہو گئے۔

سریہ علی ابن ابی طالب (یمن)

-

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علی بن ابی طالب کو بذات خود جھنڈا باندھا، اپنے ہاتھ سے انہیں عمامہ پہنایا اور فرمایا:

علی المرتضی کو 10 رمضان المبارک کی یمن میں علاقہ مذحج (یہ ایک شخص کا نام تھا جو قبیلہ کا مورث اعلیٰ تھا) کی طرف بھیجا انہیں جھنڈا عطا کیا سر پر عمامہ باندھا علی المرتضی سے روایت ہے جب مجھ کو رسول اﷲ ﷺ نے یمن کی طرف قاضی بنا کر بھیجنا چاہا میں نے عرض کی، یارسول اﷲ! ﷺ آپ ﷺ مجھے بھیجتے ہیں اور میں نو عمر شخص ہوں اور مجھے فیصلہ کرنا آتا بھی نہیں یعنی میں نے کبھی اس کام کو نہیں کیاہے ارشاد فرمایا :اﷲ تعالیٰ تمہارے قلب کو رہنمائی کریگا اور تمھاری زبان کو حق پر ثابت رکھے گا۔ جب تمہارے پاس دو شخص معاملہ پیش کریں تو صرف پہلے کی بات سن کر فیصلہ نہ کرنا جب تک دوسرے کی بات سن نہ لو کہ اس صورت میں یہ ہو گا کہ فیصلہ کی نوعیت تمہارے لیے ظاہر ہو جائے گی فرماتے ہیں کہ اس کے بعد کبھی مجھے فیصلہ کرنے میں شک و تر دد نہ ہوا۔

علی المرتضی 300گھڑ سواروں کو لیکر گئے اپنے ساتھیوں کو پھیلا دیا ایک جماعت کو اسلام کی دعوت دی انہوں نے انکار کیا جس پر اس جماعت پر حملہ کیا ان کے 20 آدمی مارے گئے باقی بھاگ گئے یہ یمن کی پہلی فتح تھی جس سے کافی مال غنیمت ہاتھ آیا اس مال غنیمت پر بریدہ بن مصیب کو نگران مقرر فرمایاپھر دعوت اسلام دی جس کے نتیجے میں اس جماعت کے درداروں نے اسلام قبول کیا اس کے بعد علی المرتضی واپس آکر حج کے لیے مکہ پہنچ گئے

سعد بن خولیٰ

سعدبن خولیٰ یمن کے باشندے غزوہ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ میں شامل تھے۔

صحرائے عرب

صحرائے عرب (Arabian Desert) مغربی ایشیا میں واقع ایک وسیع صحرا ہے۔ یہ یمن سے خلیج فارساور سلطنت عمان سے اردن اور عراق تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ تقریبا جزیرہ نما عرب پر پھیلا ہوا ہے اور اس کا رقبہ 2.330.000 مربع کلومیٹر (900،000 مربع میل) ہے۔ اس کا مرکز الربع الخالی ہے جو دنیا کے ریت کے سب سے بڑے زخیروں میں سے ایک ہے۔

صنعاء

صنعاء عرب ملک یمن کا دار الحکومت ہے جو ملک کے وسطی حصے میں واقع ہے یہ شہر کسی یمنی صوبے کا حصہ نہیں بلکہ الامانۃ العاصمہ (وفاقی دار الحکومت) ہے یعنی اسلام آباد اور نئی دلی کے طرح صوبوں سے ایک الگ حیثیت رکھتا ہے

عرب قوم

خطہ عرب کے لیے دیکھیے جزیرہ نمائے عرب ــ

عرب مشرق وسطی اور شمالی افریقا میں رہنے والا نسلی گروہ ہے جس کی زبان عربی ہے۔

قرآن، توریت اور بائبل کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب حضرت نوح علیہ السلام کے صاحبزادے سام کی اولاد میں سے ہیں۔

عربی زبان

عربی (عربی: العربية) سامی زبانوں میں سب سے بڑی زبان ہے اور عبرانی اور آرامی زبانوں سے بہت ملتی ہے۔ جدید عربی کلاسیکی یا فصیح عربی کی تھوڑی سی بدلی ہوئی شکل ہے۔ فصیح عربی قدیم زمانے سے ہی بہت ترقی یافتہ شکل میں تھی اور قرآن کی زبان ہونے کی وجہ سے زندہ ہے۔ فصیح عربی اور بولے جانے والی عربی میں بہت فرق نہیں بلکہ ایسے ہی ہے جیسے بولے جانے والی اردو اور ادبی اردو میں فرق ہے۔ عربی زبان نے اسلام کی ترقی کی وجہ سے مسلمانوں کی دوسری زبانوں مثلاً اردو، فارسی، ترکی وغیرہ پر بڑا اثر ڈالا ہے اور ان زبانوں میں عربی کے بے شمار الفاظ موجود ہیں۔ عربی کو مسلمانوں کی مذہبی زبان کی حیثیت حاصل ہے اور تمام دنیا کے مسلمان قرآن پڑھنے کی وجہ سے عربی حروف اور الفاظ سے مانوس ہیں۔ تاریخ میں عربی زبان کی اہمیّت کے سبب بہت سے مغربی زبانوں میں بھی اِس کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔

عربی کے کئی لہجے آج کل پائے جاتے ہیں مثلاً مصری، شامی، عراقی، حجازی وغیرہ۔ مگر تمام لہجے میں بولنے والے ایک دوسرے کی بات بخوبی سمجھ سکتے ہیں اور لہجے کے علاوہ فرق نسبتاً معمولی ہے۔ یہ دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہے اور اس میں ھمزہ سمیت29 حروف تہجی ہیں جنہیں حروف ابجد کہا جاتا ہے۔

عربی کی وسعت فصاحت و بلاغت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ حروف تہجی میں سے کوئی سے تین حروف کسی بھی ترتیب سے ملا لئے جائیں تو ایک بامعنی لفظ بن جاتا ہے۔

عربی درج ذیل ممالک میں سرکاری زبان کی حیثیت رکھتی ہے:

الجزائر

بحرین

اتحاد القمری

چاڈ

سانچہ:جیبوتی

مصر

سانچہ:ارتریا

عراق

فلسطین

اردن

لبنان

لیبیا

مراکش

سعودی عرب

متحدہ عرب امارات

کویت

عمان

سوریہ

یمن

سوڈان

تونس

قطر

یہ درج ذیل ممالک کی قومی زبان بھی ہے:

مالی

سانچہ:سینیگال

عظیم وادئ شق

عظیم وادئ شق (انگریزی: Great Rift Valley) ایک گہری گھاٹی ہے جو جنوب مغربی ایشیا اور مشرقی افریقہ میں شمالاً جنوباً پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی لمبائی 6 ہزار کلو میٹر (3700 میل) ہے۔ یہ عظیم گھاٹی جنوب مغربی ایشیا میں لبنان سے شروع ہو کر مشرقی افریقہ میں وسطی موزمبیق پر جا کر ختم ہوتی ہے۔ اس کی چوڑائی 30 سے 100 کلو میٹر تک ہے اور اس کی گہرائی چند میٹر سے ہزاروں میٹر کے درمیان ہے۔ اس کو عظیم وادئ شق (Great Rift Valley) کا نام برطانوی ماہر ارضیات جان والٹر گریگوری نے دیا۔

لبنان میں وادئ بقا سے شروع ہو کر یہ وادی وادئ اردن، بحیرہ مردار، خلیج عقبہ اور بحیرہ احمر تک پہنچتی ہے جس کے بعد یہ مشرقی افریقہ میں داخل ہو کر دو حصوں مغربی وادی شق اور مشرقی وادی شق میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ مغربی وادی شق میں عظیم جھیلیں واقع ہیں جن میں جھیل وکٹوریہ اور ٹانگانیکا قابلِ ذکر ہیں۔ افریقہ کی یہ تمام عظیم جھیلیں اس شق کے باعث وجود میں آئیں۔

یہ عظیم وادی لاکھوں سالوں سے زمین کی دو پرتوں کی حرکت کے باعث وجود میں آئی۔ اگر زمینی پرتوں کی یہ حرکت جاری رہی تو بالاخر قرن افریقہ براعظم کے دیگر علاقوں سے جدا ہو جائے گا۔

فہرست یمن کے شہر

یہ فہرست یمن کے شہر (List of cities in Yemen) ہے۔

فیروز دیلمی

فیروز بن الدیلمی جنہیں صرف الدیلمی بھی کہا جاتا ہے۔

قوم تبع

قوم تبع کا کا تعلق یمن سے تھا قوم تبع سے مراد قوم سبا ہی ہے تبع دراصل قوم تبع کے جد امجد کا نام تھا

محافظات یمن

یمن 20 صوبوں (محافظہ) اور 1 بلدیہ (امانۃ) پرمشتمل ہے۔

یمن کے اضلاع کی فہرست

یمن کے محافظات 333 اضلاع (مديرية) میں تقسیم ہیں۔ اضلاع 2،210 ذیلی اضلاع میں تقسیم ہیں۔ مندرجہ ذیل فہرست یمن کے اضلاع بلحاظ محافظہ ہے۔

جغرافیائی مقام
بین الاقوامی رکنیت
سامی موضوعات
شخصیات
سیاست
حسب نسب
تاریخ
مالک
پرچم اور
قومی علامات
مطالعات
مذاہب
تنظیمیں

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.