گیارہویں صدی ق م

گیارہویں صدی ق م یا گیارہویں صدی قبل مسیح (11th century BC) ایک مدت ہے جس میں 1100 ق م سے 1001 ق م تک کے سال ہیں۔

اخیطوب

اخیطوب - مطلب نیکی کرنے والا بھائی = اچھا، بائبل میں یہ نام بہت کم آیا ہے جس میں :

(1.)اخیطوب، فینحاس کا بیٹا، عیلی کا پوتا، ایشابد کا بیٹا۔ عیلی کی وفات کے بعد اسرئیل کا کاہن اخیطوب بنا اور اس کے بعد اخیاہ بنا۔ اور یہ بائبل میں یہ لکھا ہے کہ اخیاہ اخیطوب کا بیٹا تھا۔ (سموئیل 14:3؛ 22:9، 11، 12، 20 اور 1 تواریخ 9:11) اخیاہ ( یا ”احیاہ“) جس کو اخیطوب کا بیٹا کہا گیا ہے اس کا ذکر 1 سموئیل 3-14:2، 18-19 میں ہے۔ یا پھر یہ ابی میلیک ہی ہو سکتا ہے۔ (1 سموئیل 9-22:20) یا پھر ابی میلیک اخیطوب کا دوسرا بیٹا ہو(اگر ایسا ہوا تو ابی میلیک اخیطوب کا بڑا بیٹا ہے)۔

(2.)صدوق کا باپ تھا(2 سموئیل۔ 17-8:15)۔ یہ اخیطوب امریاہ کا بیٹا تھا۔ اور امریاہ، مرایوت کا بیٹا تھا۔ اور مرایوت، زراخیاہ کا بیٹا تھا اور زراخیاہ، عزی کا بیٹا تھا۔ اور عزی، بقی کا بیٹا تھا۔ اور بقی، ابیسوع کا بیٹا تھا اور ابِیسُوع، فینحاس کا بیٹا تھا۔ اور فینحاس، الیعزر کا بیٹا تھا۔ اور الیعزر، ہارون کا بیٹا تھا (1 تواریخ 8-6:3)۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے اس اخیطوب کو کاہن طالوت یا ساؤل نے بنایا ہو اور یہ ابی میلیک کے خاندان کے قتل کے بعد ہوا تھا۔ پر اس بات کا کہیں ذکر نہیں ہے جو اس بات کو ثابت کرسکے۔ اور ساؤل نے اپنے دور میں اس واقعہ کے بعد کوئی سرکاری کاہن نہیں بنایا تھا (دیکھیں یوسیفس کی

یہودیوں کی عہد قدیم کتاب VI، باب XII، پیراگراف 7)۔

(3.)ایک اور اسی نام کا کاہن۔ اس کاہن کا ذکر

1 تواریخ 12-6:11 میں ہے۔ اور یہاں معاملات اور الجھ گئے ہیں کیوں اس اخیطوب کے بیٹے (یا شاید پوتے) کا نام بھی صدوق ہے۔

(4.)اس اخیطوب کا ذکر نحمیاہ 11:11 میں ہے۔ اور یہ شخص شاید مذکورہ بالا تین اخیطوب میں سے ایک ہے۔ اور شاید نہیں بھی۔

اشبوست

اشبوست(אִֽישְׁבֹּ֫שֶׁת; معیاری: Ishbóshet; طبری: ʼΚbṓšeṯ) اور اسے اشبال (אֶשְׁבַּ֫עַל; معیاری: Eshbáʻal; ظبری: ʼEšbáʻal) بھی کہتے ہیں۔ اس نام کا مطلب ”حیاء دار آدمی“ بنتا ہے۔

عبرانی بائبل کے مطابق، اشبال یا عشبال،ساؤل کے چار بیٹوں میں سے ایک بیٹا تھا۔ اشبوت کو ساؤل کی موت کے بعد اسرائیل کا دوسرا بادشاہ چنا گیا تھا۔ اس کو بادشاہ اس کے تین بڑے بھائیوں اور باپ کے جلبوعہ

کی جنگ میں وفات کے بعد بنایا گیا تھا۔

بت سبع

بت سبع یا بتشابع (انگریزی: Bathsheba، عبرانی: בַּת שֶׁ֫בַע‎، بت-شبا‘، "قسم یا عہد کی بیٹی"؛ عربی: بثشبع، "ابنة القسم") عبرانی کتاب مقدس کے مطابق مملکت اسرائیل کے بادشاہ داؤد کی زوجہ اور شاہ سلیمان کی والدہ تھی۔ کتاب سموئیل۔2 میں داؤد اور بت سبع کے بارے میں ایک نامناسب کہانی میں موجود ہے جسے کتاب تواریخ۔1 میں حذف کر دیا گیا ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر بھی اس کہانی کی توثیق نہیں کرتا۔

بائبل کے مطابق یہ الیعام اور عمی ایل کی بیٹی تھی دونوں ناموں کو مطلب عبرانی میں یکساں ہے یہ حتی اوریاہ کی بیوی تھی جو شاہ داؤد کی فوج میں ایک سپاہی تھا داؤد نے اوریاہ کی غیر حاضری میں جب وہ جب وہ جنگی محاذ پر لڑ رہا تھا بت سبع سے زنا کیا اور جب وہ حاملہ ہو گئی تو کوشش کی کہ اُس کا خاوند اُس کا خاوند اس کے پاس آئے جب وہ اس میں ناکام ہوا تو اوریاہ کو گھسمان میں بھجوا کر قتل کروا دیا اس کے بعد داؤد نے بت سبع سے شادی کر لی اور وہ محل میں رہنے لگی۔ اُس کے چار بیٹے سِمعا، سُوباب، ناتن اور سلیمان ہوئے اس نے ناتن نبی کی مدد سے اودنیاہ کے سلطنت چھیننے کی سازش کو ناکام بنا دیا اور اپنے بیٹے سلیمان کو تخت کا جانشین بنانے میں کامیاب ہوئی۔وہ بڑی حاضر دماغ اور باتدبیر خاتون تھی۔ اس نے شاہ داؤد پر اُس کے آخری ایام تک اثر و رسوخ رکھا۔ روایت ہے کہ امثال باب 31 کو بت سبع نے اپنے بیٹے سلیمان کی فرعون کی بیٹی سے شادی کے موقع پر نصیحت کے طور پر لکھا۔ ١ تواریخ میں اسے بت سُوع بھی کہا گیا ہے۔

اس کے کُل چار بیٹے تھے سلیمان کے علاوہ تین بیٹوں کا نام سِمعا، سُوباب اور ناتن تھا۔علمائے اسلام شاہ داؤد کا بت سبع سے زنا کرنے کو مسترد کرتے ہوئے اس کہانی کو من گھڑت تصور کرتے ہیں۔

جاد (نبی)

جاد (عبرانی: גד) ایک پیغمبر ہیں جن کا تذکرہ تنک اور یوسیفس کی تحریروں میں آیا ہے۔ وہ بنی اسرائیل کے مشہور بادشاہ اور پیغمبر داؤد کے ذاتی ابنیاء میں سے ایک تھے۔ تلمود کی روایات کے مطابق ان کے کچھ ملفوظات کتاب سموئیل میں مذکور ہیں۔ سب سے پہلے ان کا تذکرہ سموئیل اول 22: 5 میں آیا ہے جس میں وہ داود کو موآب کی پناہگاہ سے یہودیہ کے جنگلوں کی طرف لوٹنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

جاد کا دوسرا تذکرہ سموئیل دوم 24: 11-13 میں آیا ہے جب داود اسرائیل اور یہودیہ کے لوگوں کی مردم شماری کے تعلق اپنی خطا کا اقرار کرتے ہیں،پھر خدا جاد کو داود کی طرف اپنا پیغام لیکر بھیجتے ہیں کہ تین سزاؤں میں کسی ایک کو اپنے لیے منتخب کر لیں۔

جاد کا آخری تذکرہ کتاب سموئیل کے 24: 18 میں ملتا ہے جب داود سزا کے طور پر وبا کا انتخاب کرتے ہیں۔ چنانچہ خد وبا نازل کر دیتا ہے جس میں 70 ہزار جانیں جاتی ہیں۔ اسی دوران جاد داود کے پاس آتے ہیں اور ان کو کہتے ہیں کہ خدا کے لیے ایک قربان گاہ بنائیں۔ قربان گاہ کی جگہ یبوسی اروناہ کی کھلیان خدا خود منتخب کرتا ہے۔ اسی جگہ سے خدا کی عبادت کی جاتی ہے اور پھر سزا وبا کو روک دیتا ہے۔ بعد میں سلیمان اسی جگہ کو اپنے ہیکل سلیمانی کے لیے منتخب کرتے ہیں۔

تواریخ 21: 18 میں مذکور ہے کہ جاد نے خداوند کے فرشتہ کے ساتھ مقابلہ آرائی کی ہے۔

حلحول میں جاد کا مقبرہ موجود ہے۔

جدید آشوری سلطنت

جدید آشوری سلطنت (Neo-Assyrian Empire) بین النہرین میں ایک سلطنت تھی جس کی تاریخ 934 قبل مسیح سے 609 قبل مسیح کے درمیان ہے۔

اس مدت کے دوران اشوریہ زمین پر سب سے زیادہ طاقتور ریاست کے طور قائم ہوئی، جس نے سلطنت بابل، قدیم مصر، اورارتو، آرمینیوں ایلام کی ریاستوں کو گہنا دیا اور مشرق قریب، اناطولیہ، قفقاز، شمالی افریقہ اور بحیرہ روم پر اپنی اجارہ داری قائم کی۔

داؤد (بادشاہ)

داؤد (/ˈdeɪvɪd/; عبرانی: דָּוִד، جدید David ، طبری Dāwîḏ; Dawid; قدیم یونانی: Δαυίδ Davíd; لاطینی: Davidus, David) عبرانی بائبل کے مطابق، داؤد مملکت اسرائیل کا دوسرا بادشاہ تھا۔ مگر دوسرا بادشاہ اشبوست تھا۔ اس میں اختلاف پایا جاتاہے۔ داؤد مملکت اسرائیل کے دوسرے یا تیسرے بادشاہ تھے۔ ان کی حکومت کا دور ت 1010–970 ق-م تھا۔

ساؤل

ساؤل (/sɔːl/; عبرانی: שָׁאוּל، جدید Šāʼûl ، طبری "دعا،کے لیے پوچھا"; لاطینی: Saul; عربی: طالوت، Ṭālūt یا عربی: شاؤل، Sha'ūl)، عبرانی بائبل کے مطابق، ساؤل مملکت اسرائیل اور یہوداہ کا پہلا بادشاہ تھا۔ اس کا دور، راویتی طور پر گیارہویں صدی ق م میں تھا۔ جس نے ایک قبائلی معاشرے کو ریاست بنا دیا۔

سموئیل

ان کو شموئیل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ عہد 1020 سے 1100 قبل مسیح ہے۔ ملک شام قدیم میں ایک کوہستانی علاقہ افرائیم کے نام سے تھا۔ اس کے شہر رامہ میں آپ رہتے تھے۔

شانگ خاندان

شانگ خاندان (Shang dynasty)

(چینی: 商朝; پینین: Shāng cháo) یا ین خاندان (Yin dynasty)

(چینی: 殷代; پینین: Yīn dài) روایتی تاریخ کے مطابق دریائے زرد وادی پر حکومت دوسرے ہزارے قبل مسیح میں حکومت کرنے والا خاندان تھا۔

شمشون

شمشون (عبرانی: שִׁמְשׁוֹן، جدید شِمشون ، طبری {{{3}}}، معنی "سورج والا")، (عربی: شمشون، یونانی: Σαμψών)

بنی اسرائیل کا آخری قاضی تھا جس کو ذکر عبرانی کتاب مقدس کی کتاب قضاۃ کے تیرہویں تا سولہویں باب تک ہے۔

شیان

شیان (انگریزی: Xi'an) ایک ملین آبادی کا شہر ہے جو چین میں واقع ہے۔ اس کی مجموعی آبادی 8,467,837 افراد پر مشتمل ہے، یہ شانسی میں واقع ہے۔

عیلی

عیلی (عبرانی: עלי، جدید ʻEli ، طبری ʻĒlî، مطلب "چڑھائی" یا "اوپر"; قدیم یونانی: Ἠλί Ēli; لاطینی: ہیلی) کتاب سموئیل۔1 کے مطابق سیلا(عبادت گاہ) کے کاہن اعظم تھے۔ اورعیلی کتاب قضاة کے مطابق بنی اسرائیل کے قاضی تھے۔تلمود اور سامری مذہب ان کو نبی مانتے ہیں۔

فینگہاو

فینگہاو (لاطینی: Fenghao) چین کا ایک آباد مقام و آثاریاتی مقام جو شانسی میں واقع ہے۔

مملکت اسرائیل (متحدہ بادشاہت)

عبرانی کتاب مقدس کے مطابق 1020 قبل مسیح کے ارد گرد غیر ملکی اقوام سے انتہائی خطرات کے تحت اسرائیلی قبائل پھر سے متحد ہو کر متحدہ مملکت اسرائیل و یہودہ کا قیام عمل میں لائے، جب سموئیل نے طالوت کو پہلا بادشاہ مقرر کیا۔

مملکت کوش

مملکت کوش (Kingdom of Kush) یا کوش دریائے عطبرہ، نیل ابیض اور نیل ازرق کے سنگم پر واقع موجودہ جمہوریہ سوڈان میں ایک قدیم افریقی ریاست تھی۔

ناتن

ناتن (عبرانی: נָתַן‎ ؛ سریانی: ܢܬܢ) عبرانی تنک میں مذکور ایک عظیم شخصیت ہیں۔ ان کا زمانہ تقریباً 1000 سال قبل مسیح کا ہے۔

ان کے اقوال و افعال کا تذکرہ کتاب سموئیل، کتاب سلاطین اور کتاب تواریخ میں موجود ہے۔ (خصوصاً 2 سموئیل 7: 2-17، 2 سموئیل 12: 1-25)۔

کتاب سموئیل کی روایات کے مطابق ناتن داؤد کے درباری پیغمبروں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے داؤد بادشاہ کو خدا کے اس عہد کے بارے میں باخبر کیا تھا جو خدا ان کے ساتھ کرنے والے تھے۔ (2 سموئیل 7: 4-17 اس کو ناتن کا معجزہ بھی کہا جاتا ہے۔)خدا نے داؤد کے لیے ایک گھر بنایا (آل داؤد)، یہ داؤد کے لیے خدا کا انعام تھا، چنانچہ داؤد بھی خداکے لیے ایک گھر تابوت سکینہ تعمیر کرنا چاہتے تھے، اس پر ناتن نے ان کو متنبہ کیا کہ ایسا نہ کریں۔ اس کے ایک اور واقعہ ہوا جہاں ناتن داؤد کے لیے فرشتہ بن کر ثابت ہوئے۔ واقعہ یوں ہے کہ اوریا بن حتی کو داؤد نے جنگ میں قتل کر دیا اور اس کی بیوی بت سبع کے ساتھ جماع کرنا چاہا، تب ناتن نے ان کو بتایا کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو وہ زنا کے مرتکب ہوں گے۔ یہ واقعہ کتاب سموئیل میں مذکور ہے۔

کتاب تواریخ میں یہ روایت ہے کہ ناتن نے داؤد کے عہد حکومت اور سلیمان کے عہد حکومت کی تاریخ لکھی ہے۔ اور وہ ہیکل کی موسیقی سے بھی وابستہ تھے۔

کتاب سلاطین میں مذکور ہے کہ وہ ناتان ہی تھے جنہوں نے صحب فراش داؤد کو ادونیا کے بادشاہ بننےکے بارے میں بتایا، جس کے بعد ادونیا کی بجائے سلیمان کی بادشاہت کا اعلان کر دیا گیا۔ ناتن نے سلیمان بادشاہ کے سر پر مقدس تیل کا مسح کیا تھا اور ان کا نام نظم زدوک دی پریسٹ میں سلیمان کے مسح کرنے والے کو ور پر مذکور ہے۔

24 اکتوبر تقویم برائے مقدسین کو ناتن پیغمبر کے مقدس دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ مشرقی راسخ الاعتقاد کلیسیا اور وہ تمام لوگ جو بازنطینی ریت کی تابع مشرقی راسخ الاعتقاد کلیسیا کو مانتے ہیں، کرسمس کے بڑے میلے سے پہلے اتوار کو ناتن کو بزرگ تسلیم کرتے ہیں۔

نینوا

اسے نینویٰ، نینوہ اور نینواہ (انگریزی: Nineveh) بھی کہتے ہیں ایک بہت پرانی سلطنت جس کی تاریخ غیر متیقن ہے۔ اشوریوں نے اسے گیارہویں صدی ق م دار الحکومت بنایا۔ شاہ سخارب (681 تا 704 ق م) کے عہد میں اس نے بہت شہرت ملی۔ 612 ق م میں اسے بابل اور ماد کی کی متحدہ فوج نے تباہ کیا ایک روایت کے مطابق قوم نوح یہاں آباد تھے اور یونس بن متی بھی اسی نینوا سے تعلق رکھتے تھے اس کی حدود شمال میں ارمنی کے پہاڑی سلسلے تک اور جنوب میں بابل تک دو سو اسی میل طویل اور ڈیڑھ سو میل عریض تھیں۔ یہ علاقہ نہایت زرخیز تھا۔ اور اس کے رہنے والے تہذیب و تمدن کے بڑے علمبردار تھے۔ 606 قبل مسیح میں وہ سلطنت میڈیا کا ایک صوبہ تھا۔ بعد میں فارس کی حکومت کا ایک صوبہ بنا۔ 1638ء سے یہ ترکی کی حکومت میں پہلی جنگ عظیم تک رہا۔ جو 1919 میں ختم ہوئی۔ اس کے بعد سے شام کی حکومت کے نام سے ایک مستقل علاحدہ حکومت یورپی لوگوں کے زیر اثر قائم ہوئی۔ لیکن اب وہ آزاد اور خود مختار ہے۔

فرانسیسی ماہرین نے 1820ء میں دریائے دجلہ کے مشرق میں "تل قویونجیق" کے مقام پر اس کے کھنڈر دریافت کیے۔ یہاں سخارب اور اشور بنی پال کے محلات قابل دید ہیں۔

چو (ریاست)

چو (Chu) (چینی: 楚، قدیم چینی: *s-r̥aʔ) ژؤ خاندان کے دور کی ایک استبدادانہ ریاست تھی۔ اٹھویں صدی ق م کے اوائل میں وقت کے ساتھ ساتھ چو کے حکمرانوں نے ژؤ حکمرانوں کے برابر خود کو بطور بادشاہ کا اعلان کر دیا۔

ژؤ خاندان

ژؤ خاندان (Zhou Dynasty) چین کی ایک قدیم سلطنت جو ایک روایت کے مطابق 1122ء سے 256ء قبل مسیح تک اور جدید تحقیق کے مطابق 1027ء سے 256ء قبل مسیح تک قائم رہی۔ اس خاندان کے لوگ 1027ء میں دریائے زردکی شمال مغربی وادی سے آئے اور شانگ حکومت کا تختہ الٹ کر چو خاندان کی بنیاد رکھی۔ ان کا صدر مقام موجودہ سیان کے قریب تھا اور حکومت شمالی چین کے ان میدانی علاقوں پر مشتمل تھی ۔ جومانچوریا اور نیکیس کی وادی کے درمیان واقع ہیں۔ باوجود سیاسی ابتری کے چو خاندان کا دور کلاسیکی زمانہ سمجھا جاتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جنھوں نے سب سے پہلے بیلوں کے ذریعے ہل چلائے۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.