گوریلا جنگ

گوریلا جنگ یا چھاپہ مار جنگ (عربی: حرب العصابات ،فارسی: چریک، انگریزی: Guerrilla warfare) ایسی جنگ ہے جو عموماً ایک چھوٹی مگر متحرک طاقت کسی بڑی مگر کم متحرک روایتی طاقت یا فوج کے خلاف لڑی جاتی ہے۔ اس کا ترجمہ اردو میں گوریلا جنگ ہی کیا جاتا ہے مگر اس جنگ کا گوریلوں سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ یہ ہسپانوی زبان کے لفظ Guerrilla سے نکلا ہے جس کا ترجمہ چھاپہ مار ہے۔ ایسی جنگ میں عام طور پر چھپ چھپ کر حملے کر کے نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ اس میں حتی الوسع کھلی لڑائی نہیں کی جاتی۔ اس لیے اسے ہسپانوی میں چھوٹی جنگ یا Guerrilla کہا جاتا تھا جس سے اس کا نام پڑا۔ یہ اصطلاح پہلی مرتبہ ہسپانوی چھاپہ ماروں اور فرانس کے درمیان 1814ء میں جنگ کے دوران استعمال ہوئی تھی۔ مشہور انقلابی رہنما چی گویرا نے اپنی کتاب میں لکھا کہ گوریلا افواج ایک مرکزہ کی مانند ہوتے ہیں جن کی بنیاد عوام میں ہوتی ہے۔ انہیں اس بڑی فوج کے مقابلے میں صرف کم اسلحہ رکھنے کی بنیاد پر کم تر نہیں سمجھنا چاہیے جس سے وہ جنگ کرتے ہیں۔ یہ جنگ وہ لوگ کرتے ہیں جن کے پاس کم وسائل و اسلحہ مگر اسے عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہو۔[1]

حربے، تدابیر اور تنظیم

گوریلا جنگ بطور ایک مسلسلہ

Chapamar

انقلابی و چھاپہ مار جنگ دراصل ایک مسلسلہ ہے جس میں ایک طرف چھوٹے پیمانے پر حملے، گھاتیں (چھپ کر حملہ) اور دھاوے بولے جاتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں اس مرحلے میں چھاپہ ماروں کو شدت پسند، آزادی پسند یا دہشت گرد بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں اوپر کی سطح پر منظم و مربوط سیاسی و فوجی حربہ کار موجود ہوتے ہیں۔ اور نچلی سطح پر چھوٹی اکائیاں ہوتی ہیں جو حملوں، دھاووں اور گھاتوں میں مصروف ہوتے ہیں اور انتہائی متحرک ہوتے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں جنگ کا دائرہ پھیل جاتا ہے اور ایک مربوط جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے اگرچہ طاقت و وسائل ایک بڑی مقابل فوج کے مقابلے میں کم ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کی مثالیں چین میں ماؤزے تنگ کی جنگ، ویتنام میں امریکی افواج کے خلاف جنگ اور کسی حد تک فلسطینیوں کی 1970 اور 1980ء کی دہائیوں میں اسرائیل کے خلاف چھاپہ مار کاروائیاں اور افغانستان و عراق میں امریکی و اتحادی افواج کے خلاف کاروائیاں شامل ہیں۔ یاد رہے کہ دونوں مرحلوں پر صرف عمومی جنگ نہیں ہوتی بلکہ تشہیر اور نشر و اشاعت کے مختلف ذرائع کی مدد بھی لی جاتی ہے کیونکہ عوام کی حمایت انتہائی ضروری ہوتی ہے۔ اس قسم کی جنگ میں یا تو عام شہری استعمال کیے جاتے ہیں یا باقاعدہ فوجی جن کو فوج سے الگ رکھا جاتا ہے۔ لیکن اس کے لڑنے کے مقاصد اور طریقے یکساں ہوتے ہیں۔

جدید دور میں جاری گوریلا جنگیں

یورپ

  • شمالی آئرلینڈ میں جاری آزادی کی تحریک: آئری جمہوری فوج (IRA ) اور ہنگامی آئری جمہوری فوج (Provisional IRA )
  • ہسپانیہ میں جاری باسک وطن و آزادی (Euskadi Ta Askatasuna یا ETA )
  • یونان میں مارکسی تحریک: 2002ء میں اسے ممنوع قرار دیا گیا اور لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا
  • فرانس میں جاری کارسیکا کی آزادی کی تحریک: اسے Fronte di Liberazione Naziunale Corsu یا FLNC کہا جاتا ہے۔
  • چچنیا میں جاری مسلمانوں کی آزادی کی تحریک

امریکا

  • میکسیکو میں جاری زاپاتیستا فوج کی جنگ: اسے Ejército Zapatista de Liberación Nacional یا EZLN کہتے ہیں۔ اب متشدد نہیں رہی
  • پیرو میں جاری کمیونسٹ پارٹی کی تحریک
  • کولمبیا میں جاری چھاپہ مار جنگ

حوالہ جات

  1. "چی گویرا: انقلابی اور مقدس", از ابراہام ٹریشازف، 2006,صفحہ 73
آئرش جنگ آزادی

آئرش جنگ آزادی (انگریزی: Irish War of Independence) (آئرش: Cogadh na Saoirse)

یا اینگلو آئرش جنگ (انگریزی: Anglo-Irish War) ایک گوریلا جنگ تھی جو 1919ء سے 1921ء کے دوران میں آئرش ریپبلکن آرمی اور آئرلینڈ میں مملکت متحدہ کی افواج کے درمیان میں لڑی گئی۔

احمد شاہ مسعود

احمد شاہ مسعود (پیدائش: 2 ستمبر 1953ء – وفات: 9 ستمبر 2001ء) افغانستان کے ایک سیاسی و عسکری رہنما تھے، جو 1979ء سے 1989ء کے درمیان سوویت قبضے کے خلاف مزاحمت میں اور بعد ازاں خانہ جنگی کے ایام میں بھی مرکزی حیثیت کے حامل تھے۔ انہیں 11 ستمبر 2001ء کو امریکا پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے دن ایک خودکش حملے میں جاں بحق ہوئے۔

مسعود نسلاً تاجک اور مسلکاً سنی تھے اور آپ کا تعلق شمالی افغانستان کی وادی پنجشیر سے تھا۔ آپ نے 1970ء کی دہائی میں کابل یونیورسٹی سے انجینئری کی تعلیم حاصل کی، جہاں وہ دوران تعلیم کمیونسٹ مخالف تحریک کا حصہ بنے۔ 1979ء میں سوویت اتحاد کے قبضے کے بعد مزاحمتی رہنما کا کردار نبھانے پر آپ کو شیر پنجشیر کا خطاب دیا گیا۔ 1992ء میں معاہدۂ پشاور کے تحت آپ کو افغانستان کا وزیر دفاع مقرر کیا گیا۔ پھر افغان خانہ جنگی کے ایام میں آپ گلبدین حکمتیار اور بعد ازاں طالبان کے خلاف نبرد آزما رہے۔

1996ء میں طالبان کے دار الحکومت پر قبضہ کرنے کے بعد آپ ان کے نظریہ اسلام کے مخالف کے طور پر ابھرے اور ایک مرتبہ پھر ہتھیار اٹھا لیے۔ آپ نے شمالی اتحاد کے رہنما کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور بالآخر 9 ستمبر 2001ء کو ایک خودکش حملے میں مارے گئے۔ اس بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ حملہ القاعدہ نے کروایا تھا جس میں تین حملہ آور صحافیوں کی حیثیت سے آئے اور دوران انٹرویو کیمرے میں نصب بم پھٹنے سے احمد شاہ مسعود چل بسے۔

افغانستان کے موجودہ صدر حامد کرزئی نے آپ کو "قومی ہیرو" کا خطاب دیا۔ ان کی برسی کے دن یعنی 9 ستمبر کو افغانستان میں "یوم مسعود" کی حیثیت سے منایا جاتا ہے۔

تھامس لارنس

لیفٹیننٹ کرنل تھامس ایڈورڈ لارنس (16 اگست 1888ء – 19 مئی 1935ء)، جنہیں پیشہ ورانہ طور پر ٹی ای لارنس (T. E. Lawrence) کے طور پر جانا جاتا تھا، برطانوی افواج کے ایک معروف افسر تھے جنہیں پہلی جنگ عظیم کے دوران سلطنت عثمانیہ کے زیر نگیں عرب علاقوں میں بغاوت کو منظم کرنے کے باعث عالمی شہرت ملی۔ اس بغاوت کے نتیجے میں جنگ عظیم کے بعد عرب علاقے سلطنت عثمانیہ کی دسترس سے نکل گئے۔

اسلامی خلافت کے خاتمے کے لیے عربوں میں قوم پرستی کے جذبات جگا کر انہیں ترکوں کے خلاف متحد کرنے کے باعث انہیں لارنس آف عربیہ (Lawrence of Arabia) بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا یہ خطاب 1962ء میں لارنس آف عربیہ کے نام سے جاری ہونے والی فلم کے باعث عالمی شہرت اختیار کر گیا۔

1915 ء کے آخری عشرے میں جب ترک مجاہدوں نے انگریز حملہ آوروں کو ناکوں چنے چبوائے اور مارچ 1916ء کو دریائے دجلہ کے کنارے ترک کرنل خلیل پاشا نے برطانیہ کی دس ہزار سپاہ کو عبرتناک شکست دی، تو انگریزوں کو یہ احساس ہو گیا کہ وہ مسلمانوں کا میدان جنگ میں مقابلہ نہیں کرسکتے ۔لارڈ کرزن نے ہوگرتھ کے ذریعے " تقسیم کرو اور حکومت کرو" کے مشن پر عمل کرنے کی ہدایت کی، لارنس نے عربی لباس بھی پہننا شروع کیا وہ عربی زبان اچھی خاصی جانتا تھا لہٰذا لارنس آف عربیہ کے نام سے مشہور ہوا۔ ستمبر 1911ء میں اس نے بصرہ کے ہوٹل میں جاسوسی کا ادارہ قائم کیا اور دو عرب نوجوانوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا۔ ایک امریکن جاسوس یہودی لڑکی بھی اس کے ساتھ مل گئی جس نے اس کی بڑی مدد کی۔ وہ انتہائی خوبصورت تھی۔ اس نے عربی نوجوانوں پر دام حسن ڈال کر ترکوں کی بیخ کنی شروع کردی۔ انگریزوں نے لارنس کو ہدایت کی کہ وہ برلن سے بغداد جانے والی ریلوے لائن سے متعلق اطلاعات لندن پہنچائے اور ایسے افراد کا انتخاب کرے جو ضمیر فروش ہونے کے ساتھ ساتھ بااثر بھی ہوں۔ ان دنوں عراقی ریلوے لائن دریائے فرات تک پہنچ چکی تھی اور دریا پر پل باندھا جار ہا تھا۔ اس پل کے قریب لارنس نے آثار قدیمہ کے نگران اعلیٰ کا روپ دھار کر کھدائی شروع کروا دی، آثار قدیمہ کی کھدائی محض بہانہ تھی اصل مقصد برلن بغداد، ریلوے لائن کی جاسوسی تھا۔ یہاں سے وہ ہر روز خبریں لکھ کر لندن روانہ کرتا رہتا۔ اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے اس نے مزید غداروں اور ضمیر فروشوں کی تلاش شروع کی۔ کافی تگ و دو کے بعد اس نے ترک پارلیمنٹ کے رکن سلیمان فائزی کا انتخاب کیا اور خطیر رقم کا لالچ دیکر اس کو اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش کی۔ فائزی نے بڑی حقارت سے اس کی پیشکش ٹھکرا دی اور دھکے مار کر لارنس کو نکال دیا۔ لارنس بڑا عقلمند اور جہان دیدہ تھا۔ اس نے سلیمان فائزی سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور کافی غور و فکر کے بعد فیصلہ کیا کہ برطانیہ کے لیے قابل اعتماد آلہ کار اور اپنے ڈھب کا غدار اس کو پڑھے لکھے، دولت مند اور سیاسی لوگوں میں سے نہیں مل سکتا اس لیے مذہب کی آڑ لینا شروع کی۔ وہ بصرہ کی مسجد میں گیا اور مسلمان ہونے کا اعلان کیا۔ عربی لباس پہن کر عرب صحرا نشینوں میں گھل مل گیا۔ لارنس نے بدوؤں میں دو لاکھ پونڈ ہر ماہ تقسیم کرنا شروع کردیے اس نے " پونڈ" پانی کی طرح بہا کر عربوں کو اپنا مداح بنا لیا۔ وہ اس کو اپنا محسن اور مربی سمجھنے لگے اور ان کی مدد سے لارنس نے گورنر مکہ حسین ہاشمی تک رسائی حاصل کر لی اور اپنی چرب زبانی اور مکارانہ چالوں سے حسین ہاشمی کو گمراہ کرنے میں زیادہ دقت پیش نہ آئی۔ پاسبان حرم کو شیشے میں اتارنے کے بعد لارنس نے اپنی پوری توجہ حسین ہاشمی کے بیٹوں عبد اللہ، علی، فیصل اور زید پر مرکوز کی۔ انکو باور کرایا کہ سيد زاده ہو کر دوسروں کی ماتحتی میں زندگی گزارنا ذلت آمیز ہے۔ ابتدا میں تو چاروں نے لارنس کی بات پر زیادہ توجہ نہ دی مگر اپنے باپ کے پیہم اصرار پر اور لارنس کی چکنی چپڑی باتوں کے باعث ان کے دلوں میں آہستہ آہستہ ترکوں کے خلاف نفرت پیدا ہو گئی اور پھر ایک دن انہوں نے اپنے مکان کی کھڑکی سے ترکوں پر گولیاں برسانا شروع کر دیں۔ اس طرح ترکوں کے خلاف عربوں کی بغاوت کا آغاز کروا کر لارنس بڑا خوش ہوا اور لندن اطلاع دی کہ کھیل شروع ہو گیا ہے۔

حمید گل

حمید گل معروف ہائی رینکنگ پاکستانی فوجی آفیسر تھے۔ آپ آئی ایس آئی کے سربراہ رہے حمید گل اگست 2015ء میں وفات پا گئے۔

راحیل شریف

راحیل شریف افواج پاکستان کے 15ویں سربراہ تھے۔ 29 نومبر 2016ء پاک فوج کی کمان جنرل قمر جاوید باجوہ کو سونپ کر ریٹائرڈ ہوئے۔

راشدی خاندان

سندھ کے راشدی خاندانکی سیاست اور علم و ادب کے حوالے بہت زیادہ خدمات ہیں۔ جہاں اس خانوادے میں حسام الدین شاہ راشدی اور پیر علی محمد راشدی جیسی بابغۂ روزگار شخصیات پیدا ہوئیں جن کے علم و ادب کے چراغ سے ایک دنیا منور ہے وہیں صبغت اللہ شاہ راشدی جیسے تحریک آزادی کے مجاہد پیدا ہوئے جنہوں نے انگریز حکومت کے خلاف آزادی کے لیے مسلح جنگ کی جسے حُر گوریلا جنگ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

سائمن بولیور

جنوبی امریکا کا ایک محب وطن جسے جنوبی امریکا کا نجات دہندہ کہا جاتا ہے۔ وینزویلا کے دار الحکومت کیرمیکس میں پیدا ہوا۔ میڈرڈ میں تعلیم پائی۔ یورپ اور امریکا کی سیاحت کی۔ 1809ء میں وینزویلا واپس آیا۔ اور ہسپانیہ کے خلاف وینزویلا کی تحریک آزادی کی قیادت کی۔ 1811ء میں وینزویلا نے خود مختاری کا اعلان کر دیا۔ جس سے ہسپانیہ سے جنگ چھڑ گئی جو آٹھ سال جاری رہی۔ اس دوران میں بولیور کو پانچ بار وطن چھوڑنا پڑا۔ لیکن جب بھی واپس آیا، پہلے سے بڑھ چڑھ کر جنگ آزادی میں حصہ لیا۔

1819ء میں وینزویلا اور گرینیڈا نے مل کر جمہوریہ بنائی جس کا نام کولمبیا رکھا گیا۔ بولیور اس کا صدر منتخب ہوا۔ 1821ء میں آئین کااعلان ہوا تو بولیور دوبارہ صدر چنا گیا۔ 1823ء میں اس نے ہسپانیہ کو اکوادور سے بھی باہر کیا۔ وہ جنوبی امریکا کی تمام جمہوریتوں کو متحد کرنا چاہتا تھا۔ مگر اس کی یہ آرزو پوری نہ ہو سکی۔ 1830ء میں دل برداشتہ ہو کر مستعفی ہو گیا اور بقیہ زندگی بڑی عسرت میں گزاری۔ جنوبی امریکا کے متعدد ممالک کے درالحکومتوں میں اس کے مجسمے نصب ہیں۔ بولیویا کا ملک بھی اسی کے نام سے موسوم ہے۔

سلوقی سلطنت

سکندر اعظم کی موت کے بعد یونانیوں کی کونسل نے سلوکس کو بابل کا حکمران منتخب کیا، جو خود کو نکوٹار (Nocoter) کا فاتح کہتا تھا۔ کیوں کہ اس نے مصر کے یونانی حکمران بطلیموس کی مدد سے شام فتح کر لیا بلکہ اس نے ایران کارخ یا اسے فتح کرکے مشرقی علاقوں کو اپنے تسلط میں لے آیا اور نو سال کی جدوجہد کے بعد 302 ؁ ق م میں اس کی حکومت سیر دریا کے کنارے سے پنجاب تک پھلی ہوئی تھی، جس کی مشرقی حدود برصغیر سے ملتی تھی۔سلوکس نے اب ہندوستان پر چڑھائی کرنی چاہی، کیوں کہ قدرتاََ اس کے دل میں خواہش تھی کہ اپنے آقا کی ہندی مقبوضات اپنے قبضہ میں لے لے۔ اس کے لیے اس نے 305 ؁ ق م میں ہندو پاک کی طرف قدم بڑھایا اور سکندر کے مقبوضہ علاقے فتح کرنے کی کوشش کی، مگر اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور پنجاب کی سرزمین پر چندر گپت سے شکست کھانے کے بعد ایک شرمناک معاہدہ کرنے پر مجبور ہوا۔ جس کے تحت وہ نہ صرف ہندی مقبوضات سے بلکہ کابل، قندھار، ہرات اور بلوچستان سے بھی دستبردار ہو گیا۔ نیز تعلقات کو خوشگوار بنانے کے لیے اس نے اپنی بیٹی کی شادی چندر گپت سے کردی۔ اس نے اپنا ایک سفیر میگھستینز (Maghasthenes) کو چندر گپت کے دربار بھیجا۔ چندر گپت نے اس کی بات رکھنے کے لیے محض پانسو ہاتھیوں کا تحفہ بھیجا۔سکندر کے زمانے سے باختر یونانیوں کی نوآبادی تھی۔ سلوکس نے چندر گپت سے شکست کھانے کے بعد جو شرمناک معاہدہ کیا تھا، اس سے بلخ کے یونانیوں کو خدشہ تھا کہ چندر گپت بلخ فتح کرنے کے لیے پیش قدمی کرے گا، اس لیے باختریہ کے یونانیوں نے سلوقیوں کے خلاف بغاوت کردی۔ انطیوکس اعظم (223 تا 187 ق م) نے ایک طویل مقابلے کے بعد باختریہ کی خود مختاری تسلیم کرلی۔پارتھیا ایک سردار اشک نے سلوقی خاندان سے بغاوت کر کے سمر قند سے مرو تک کا علاقہ آزاد کرالیا تھا۔ کچھ عرصہ تک دونوں کی حکومتیں متوازی چلتی رہیں اور دونوں کے درمیان جنگ و پیکار کا سلسلہ جاری رہا۔ سلوکس حکمران انطیوکس اعظم یا انطوکس سوم نے اشکانی فرمانروا ارشک سوم کو شکست دے کر اس کے پایہ تخت پر قبضہ کر لیا، مگر زیادہ دن تک تسلط قائم نہیں رکھ سکا اور پارتھیوں کی قزاقانہ یعنی گوریلا جنگ سے تنگ آکر مجبوراََ اس نے صلح کرلی اور اشک کو پارتھیا کا بادشاہ تسلیم کر لیا اور ہمدان کا علاقہ جس پر اس نے قبضہ کر لیا تھا واپس کر دیا۔اس دوران سلوقیوں میں تخت نشینی کے لیے آپس میں خانہ جنگی چھڑ گئیں۔ ارشک ششم یا مہرداد اول نے اس خانہ جنگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آرمینیا، خوزستان، پارس اور بابل پر قبضہ کر لیا، نیز سلوقی فرمانروا دمیترس دوم کو گرفتار کر لیا، جس کے بعد ایران سے سلوکی حکومت عملی طور پر ختم ہو گئی، پھر بھی چھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔139 ؁ ق م میں دمیترس دوم کی گرفتاری کے بعد سلوکس ہفتم ایک بڑی فوج کے ساتھ ایران کی طرف بڑھا اور فرہاد دوم سے تین کامیاب جنگوں کے بعد آرمینیا، سلوکیہ اور بابل پر قابض ہو گیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انطیوکس اعظم کی تاریخ دہرائی جائے گی اور اشکانی اطاعت کے لیے مجبور ہوں گے۔ ف رہادبھی اپنی کمزوری محسوس کرتے ہوئے مصالحت کی کوشش کیں۔ مگر انطیوکس نے مصالحت کے لیے ایسی سخت شرائط رکھیں کہ ف رہاد منظور نہ کرسکا اور مجبوراََ جنگ پر آمادہ ہو گیا۔ آخر ہمدان کے قریب سلوکیوں اور اشکانیوں کی فیصلہ کن جنگ ہوئی، جس میں انطیوکس ماراگیا۔ اس کے ساتھ ایران سے یونانی حکومت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی اور سلوکی صرف شام تک محدود ہو گئے۔ آخر 64 ؁ ق م میں رومیوں نے شام کا الحاق اپنی سلطنت سے کرکے سلوکیوں کا نام و نشان مٹادیا۔

عمر مختار

عمر مختار (عربی: عمر المختار) لیبیا پر اطالوی قبضے کے خلاف تحریک مزاحمت کے معروف رہنما تھے۔ وہ 1862ء میں جنزور نامی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1912ء میں لیبیا پر اٹلی کے قبضے کے خلاف اگلے 20 سال تک تحریک مزاحمت کی قیادت کی۔

ماؤ زے تنگ

ماؤ زے تنگ (چینی: 毛澤東/毛泽东/Máo Zédōng) (پیدائش: 26 دسمبر 1893ء – وفات: 9 ستمبر 1976ء) ایک چینی مارکسی عسکری و سیاسی رہنما تھے، جنہوں نے چینی خانہ جنگی میں چینی کمیونسٹ جماعت کی قیادت کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی اور یکم اکتوبر 1949ء کو بیجنگ میں عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی۔ آپ 1945ء سے 1976ء تک چین کی کمیونسٹ جماعت کے چیئرمین رہے جبکہ 1954ء سے 1959ء تک عوامی جمہوریہ چین کی صدارت سنبھالی۔

ماؤ جدید تاریخ کی موثر ترین شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور ٹائم میگزین نے آپ کو 20 ویں صدی کی 100 موثر ترین شخصیات میں شمار کیا تھا۔

مائیکل کولنز (آئرش رہنما)

مائیکل کولنز (انگریزی: Michael Collins) (آئرش: Mícheál Ó Coileáin;)

ایک آئیرش انقلابی، فوجی اور سیاست دان تھا جس نے بیسویں صدی کے آغاز کے آغاز میں آزادی کے لیے جدوجہد کی۔

معرکہ پرتاپ گڑھ

معرکہ پرتاپ گڑھ 10 نومبر سنہ 1659ء کو مہاراشٹر کے شہر ستارا کے قریب واقع پرتاپ گڑھ کے قلعہ کے پاس پیش آیا۔ اس معرکہ میں ایک طرف مرہٹہ چھترپتی شیواجی مہاراج تھے اور دوسری جانب عادل شاہی سالار افضل خان۔ مرہٹوں نے عادل شاہی افواج کو باوجود قلت فوج کے شکست دی۔ مرہٹوں کی کسی بڑی علاقائی طاقت پر یہ پہلی کامیابی تھی جس نے بالآخر مرہٹہ سلطنت کے قیام کی راہ ہموار کی۔

ملایائی ہنگامی حالات

ملایائی ہنگامی حالات (انگریزی: Malayan Emergency) ایک گوریلا جنگ تھی جو وفاق ملایا کی آزادی کے بعد 1948ء سے 1960ء تک لڑی گئی۔

مکابیین

مکابیین (واحد: مکابی) شفیلہ میں مودین کے ایک یہودی خاندان کا نام تھا۔ جس نے شام کے سلوکی بادشاہ انطاکس اپفینس کی اہلِ فلسطین پر زبردستی یونانی تہذیب و تمدن کو ٹھونسنے کی پالیسی کے خلاف بغاوت شروع کی۔ مکابیوں کی شجاعت کی داستان ایپوکریفا (غیر ملہم کُتب) میں مکابیین کے نام سے دو کتابوں میں درج ہے۔ یہ بغاوت اُس وقت شروع ہوئی جب ایک عمر رسیدہ کاہن متت یاہ نے ایک منحرف یہودی منصبدار کو جو جبراً کافرانہ قربانی چڑھواتا تھا قتل کر دیا اور مذبح کو بھی ڈھا دیا۔ پھر وہ اپنے بیٹوں کو لے کر پہاڑوں کو بھاگ گیا۔ تب حسیدیم کی جماعت (شریعت کی سختی سے پابندی کرنے والی جماعت) بھی اِن سے مِل گئی۔ عمر رسیدہ کاہن متت یاہ گوریلا جنگ لڑنے کے چند ماہ بعد وفات پاگیا۔ اس جنگ میں اُس کے دو بیٹے یوحنا اور الی عازار بھی کام آئے باقی تین بیٹوں نے باری باری اِس تحریک کی راہنمائی کی اور اُن سب نے یہودی تاریخ کو نہایت گہرے انداز سے متاثر کیا۔

مکتی باہنی

ایک چھاپہ مار تنظیم جس نے پاکستان کے مشرقی بازو کو کاٹ کر بنگلہ دیش بنانے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ اسے بھارت کی آشیر باد حاصل تھی۔ اس نے اپنے ہم وطنوں اور بہاریوں کے قتل عام میں آگے بڑھ کر حصہ لیا اور دہشت گردی اور وحشتناکی کی تاریخ رقم کی۔ اس میں ابتدا میں نہ صرف بنگالی شامل تھے بلکہ بھارتی افواج کے لوگ بھی تھے جنہوں نے اسے گوریلا جنگ کی ٹریننگ دی۔

ننجوتسو

ننجوتسو (انگریزی: Ninjutsu; جاپانی: 忍術) جسے کبھی کبھار جدید اصطلاح ننپو (انگریزی: ninpō; جاپانی: 忍法) کے مترادف کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے

کبھی کبھی جدید اصطلاح کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جاتا ہے

شنوبی غیر روایتی جنگی حکمت عملی، گوریلا جنگ اور جاسوسی کی تربیت ہے(عام طور پر جاپان سے باہر اسے ننجا کے طور پر جانا جاتا ہے)۔

نوید مختار

لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار ایک تھری سٹار رینک کے حامل پاک فوج کے فوجی جنرل ہیں۔ 11 دسمبر 2016 کو پاکستان کے حساس ادارے، ائی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل مقرر ہوئے۔

چی گویرا

چے گویرا (انگریزی : Ernesto Guevara) ارجنٹائن کا انقلابی لیڈر تھا۔ چے عرفیت ہے۔ وہ 14 مئی، 1928ء کو ارجنٹائن میں پیدا ہوا۔

بچپن سے دمہ کا مریض ہونے کے باوجود وہ ایک بہترین ایتھلیٹ تھا اور شطرنج کا بھی شوقین تھا۔ اپنی نوجوانی میں وہ کتابوں کا بہت زیادہ شوقین تھا، اس کی خوش قسمتی تھی کہ اس کے گھر میں 3000 سے زائد کتابوں پر مشتمل ذخیرہ موجود تھا، جس سے اس نے اپنے علم میں بہتر اضافہ کیا۔

کار بم دھماکا

کار بم دھماکا یا ٹرک بم دھماکا، دھماکے کی ایک قسم ہے،جس میں کسی گاڑی، ٹرک یا دوسری اس طرح کی مشینری میں بم، بارودی مواد دیگر جان لیوا اشیاء نصب کر کے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ عموماََ اس طرح کی کاروائیوں کے تین مقاصد ہوتے ہیں یعنی کسی دشمن کو سیاسی یا ذاتی مفادات کے لیے نشانہ بنانا، لوگوں میں دہشت پیدا کرنا یا گوریلا جنگ کرنا۔ اس طرح کی کاروائیوں میں جن مواد کا استعمال کیا جاتا ہے وہ خاص طور پر کار بمبنگ کے لیے بنائے جاتے ہیں اور اس بم کی اس قسم کو کار بم کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹائم بم بھی کبھی کبھار اس طرح کی کاروائیوں میں پایا گیا ہے۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.