کلیسائے مقبرہ مقدس

کلیسائے مقبرہ مقدس (Church of the Holy Sepulchre) (عربی: كنيسة القيامة، kanīssat al Qi'yāma; لاطینی: ecclesia Sancti Sepulchri; عبرانی: כנסיית הקבר הקדוש‎، Knesiyat HaKever HaKadosh) (آرمینیائی: Սուրբ Յարութեան տաճար، Surb Harut’ian tačar; یونانی: Ναός της Αναστάσεως، Naós tēs Anastáseōs) قدیم یروشلم کے مسیحی محلہ میں ایک کلیسا ہے۔[1]

کلیسائے مقبرہ مقدس
Church of the Holy Sepulchre
The Church of the Holy Sepulchre-Jerusalem
بنیادی معلومات
مقام قدیم یروشلم
متناسقات 31°46′42.4″N 35°13′47.1″E / 31.778444°N 35.229750°Eمتناسقات: 31°46′42.4″N 35°13′47.1″E / 31.778444°N 35.229750°E
مذہبی انتساب مسیحیت
رسم بازنطینی، لاطینی، اسکندری، آرمینیائی، مشرقی شامی
ملک اسرائیل، دولت فلسطین
مذہبی یا تنظیمی حالت فعال
تعمیراتی تفصیلات
معمار Nikolaos Ch. Komnenos Mitilenos (1810)
نوعیتِ تعمیر کلیسا، باسلیق
طرز تعمیر رومی طرز تعمیر، بروق
بانی قسطنطین اعظم
سنہ تکمیل 335
گنجائش 8,000
گنبد 3
مواد پتھر، لکڑی

حوالہ جات

  1. In American English also spelled Sepulcher۔ Also called the Basilica of the Holy Sepulchre۔
1000ء کی دہائی

یہ فہرست 1000ء کی دہائی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات بلحاظ سال کی فہرست ہے۔

الافضل بن صلاح الدین

الافضل بن صلاح الدین (Al-Afdal ibn Salah ad-Din)

(عربی: الأفضل بن صلاح الدين) صلاح الدین ایوبی کے سات بیٹوں میں سے ایک تھا۔ وہ اپنے والد کے بعد دمشق کا دوسرا امیر بنا۔

637ء میں مسلم افواج کی یروشلم کی فتح کے وقت سوفرونیئس نے شرط رکھی کہ کہ شہر کو صرف مسلمانوں کے خلیفہ عمر بن خطاب کے حوالے کیا جائے گا۔ چنانچہ خلیفہ وقت نے یروشلم کا سفر کیا۔ حضرت عمر نے سوفرونیئس کے ساتھ شہر کا دورہ کیا۔ کلیسائے مقبرہ مقدس کے دورہ کے دوران نماز کا وقت آ گیا اور سوفرونیئس نے حضرت عمر کو کلیسا میں نماز پڑھنے کی دعوت دی لیکن حضرت عمر نے کلیسا میں نماز پڑھنے کی بجائے باہر آ کر نماز پڑھی۔ جس کی وجہ یہ بیان کی کہ مستقبل میں مسلمان اسے عذر کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کلیسا کو مسجد کے لیے استعمال نہ کریں۔ خلیفہ کی دانشمندی اور دوراندیشی کو دیکھتے ہوئے کلیسا کی چابیاں حضرت عمر کو پش کی گئیں۔ اس پیشکش کو انکار نہ کرنے کے باعث چابیاں مدینہ سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کو دے دی گئیں اور انہیں کلیسا کو کھولنے اور بند کرنے کا حکم دیا، آج تک بھی کلیسا کی چابیاں اسی مسلمان خاندان کے پاس ہیں۔

1193ء میں اس واقہ کی یاد میں صلاح الدین ایوبی کے بیٹے الافضل بن صلاح الدین نے میں ایک مسجد تعمیر کروائی جس کا نام مسجد عمر ہے۔ بعد ازاںعثمانی سلطان عبد المجید اول نے اپنے دور میں اس کی تزئین و آرائش بھی کی۔

بنی نعیم

بنی نعیم ( عربی: بني نعيم) فلسطین کا ایک رہائشی علاقہ ہے۔

بیت جبرین

بیت جبرین فلسطین کے شہر الخلیل ( حبرون ) کے شمال میں 21 کلومیٹر ( 13 میل ) دور واقع ایک گاؤں ہے۔ اس کا کل رقبہ 56.1 کلومیٹر ( 13900 ایکڑ ) ہے جس کے 69 ایکڑ پر تعمیرات جبکہ باقی رقبہ کھیتوں پر مشتمل ہے۔

دیوار گریہ

اسے مغربی دیوار (عبرانی:הכותל המערבי) بھی کہا جاتا ہے، قدیم شہر یروشلم میں واقع یہودیوں کی اہم مذہبی یادگار ہے۔ یہودیوں کے بقول 70ء کی تباہی سے ہیکل سلیمانی کی ایک دیوار کا کچھ حصہ بچا ہوا ہے جہاں دو ہزار سال سے یہودی زائرین آ کر رویا کرتے تھے اسی لیے اسے "دیوار گریہ" کہا جاتا ہے جبکہ مسلمان اس کو دیوارِ براق کہتے ہیں۔

راہ غم

راہ غم یا راہ درد یا ویا دولوروسا (Via Dolorosa) (لاطینی،"Way of Grief"، "Way of Sorrows"، "Way of Suffering" or simply "Painful Way") (عربی: طريق الآلام) قدیم یروشلم میں دو حصوں میں منقسم ایک گلی ہے، جہاں یسوع مسیح قید خانے سے اپنی صلیب اٹھا کر چلتے ہوئے مقام مصلوبیت پر آئے۔ راستے کی لمبائی تقریباً 600 میٹر (2،000 فٹ) ہے۔ مقام مصلوبیت پر اب کلیسائے مقبرہ مقدس قائم ہے۔ موجودہ راستے پر نو قیام صلیب نشان زدہ ہیں۔ قیام صلیب سے مراد وہ مقامات ہیں جہاں یسوع مسیح صلیب اٹھا کر چلتے ہوئے رکے یا گرے۔

پندرہویں صدی کے آواخر سے قیاموں کی تعداد چودہ ہے، جس میں نو راہ غم پر جبکہ پانچ کلیسائے مقبرہ مقدس کے اندر ہیں۔

سوفرونیئس

سوفرونیئس (560 ء تا 11 مارچ 638ء) جو سوفرونیئس یروشلم کا بشپ (انگریزی: Sophronius of Jerusalem) کے نام سے معروف ہے۔ سوفرونیئس عربی النسل تھا،. اور خطابت کا استاد (معلم) تھا۔ مصر میں 580ء میں رہبانیت اختیار کر لی پھر بیت لحم میں تھیوڈوسس کی خانقاہ میں چلا گيا۔ایشیائے کوچک مصر اور روم کے خانقاہی مراکز کا سفر کیا۔ اس کے ساتھ بازنطینی وقائع نگار بشپ جان تھا۔'

قبۃ الصخرہ

قبۃ الصخرۃ (Dome of the Rock) یروشلم/بیت المقدس میں مسجد اقصی کے قریب موجود ایک تاریخی چٹان کے اوپر سنہری گنبد کا نام ہے۔ یہ ہشت پہلو عمارت پچھلی تیرہ صدیوں سے دنیا کی خوبصورت ترین عمارتوں ميں شمار ہو رہی ہے۔ یہ حرم قدسی شریف کا ایک حصہ ہے۔ مسیحی اور یہودی اسے Dome of the Rock کہتے ہیں۔ عربی میں قبۃ کا مطلب گنبد اور الصخرۃ کا مطلب چٹان ہے۔

قدیم شہر (یروشلم)

قدیم شہر (انگریزی: Old City، عبرانی: העיר העתיקה‎، Ha'Ir Ha'Atiqah، عربی: البلدة القديمة، al-Balda al-Qadimah، آرمینیائی: Երուսաղեմի հին քաղաք، Yerusaghemi hin k'aghak' ) دیوار بند 0.9 مربع کلومیٹر (0:35 مربع میل) پر محیط علاقہ ہے، جو جدید شہر یروشلم میں واقع ہے۔

مسجد ابراہیم

ابراہیمی مسجد یا حرم ابراہیمی ایک مسجد ہے جو فلسطینی شہر الخلیل میں واقع ہے۔ اس مسجد کے متعلق کہا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ جگہ اپنی دفن کے لیے ایک شخص سے خریدی تھی۔

مسجد عمر (یروشلم)

مسجد عمر (Mosque of Omar)

(عربی: مسجد عمر بن الخطاب) یروشلم میں کلیسائے مقبرہ مقدس کے جنوبی صحن کے سامنے واقع ہے۔ 637ء میں مسلم افواج کی یروشلم کی فتح کے وقت سوفرونیئس نے شرط رکھی کہ کہ شہر کو صرف مسلمانوں کے خلیفہ عمر بن خطاب کے حوالے کیا جائے گا۔ چنانچہ خلیفہ وقت نے یروشلم کا سفر کیا۔ حضرت عمر نے سوفرونیئس کے ساتھ شہر کا دورہ کیا۔ کلیسائے مقبرہ مقدس کے دورہ کے دوران نماز کا وقت آ گیا اور سوفرونیئس نے حضرت عمر کو کلیسا میں نماز پڑھنے کی دعوت دی لیکن حضرت عمر نے کلیسا میں نماز پڑھنے کی بجائے باہر آ کر نماز پڑھی۔ جس کی وجہ یہ بیان کی کہ مستقبل میں مسلمان اسے عذر کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کلیسا کو مسجد کے لیے استعمال نہ کریں۔ خلیفہ کی دانشمندی اور دوراندیشی کو دیکھتے ہوئے کلیسا کی چابیاں حضرت عمر کو پش کی گئیں۔ اس پیشکش کو انکار نہ کرنے کے باعث چابیاں مدینہ سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کو دے دی گئیں اور انہیں کلیسا کو کھولنے اور بند کرنے کا حکم دیا، آج تک بھی کلیسا کی چابیاں اسی مسلمان خاندان کے پاس ہیں۔

1193ء میں اس واقہ کی یاد میں صلاح الدین ایوبی کے بیٹے الافضل بن صلاح الدین نے میں ایک مسجد تعمیر کروائی جس کا نام مسجد عمر ہے۔ بعد ازاںعثمانی سلطان عبد المجید اول نے اپنے دور میں اس کی تزئین و آرائش بھی کی۔

مسجد قبلي

مسجد اقصی کی قریبی سنہری گنبد والی عمارت کے لیے دیکھیے قبۃ الصخرۃ

مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ اول اور خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔

مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف (عربی: الحرم القدسی الشریف) کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ 2000ء میں الاقصیٰ انتفاضہ کے آغاز کے بعد سے یہاں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔

مسیحی محلہ

مسیحی محلہ (انگریزی: Christian Quarter، عربی: حارة النصارى) قدیم شہر کے شمال مغربی کونے میں واقع ہے۔ یہ شمال میں مغربی دیوار کے ساتھ باب جدید سے باب الخلیل تک پھیلا ہوا ہے۔ جنوب میں یہ آرمینیائی محلے اور یہودی محلے سے متصل ہے۔ مشرق میں یہ باب دمشق سے مسلم محلے تک پھیلا ہوا ہے۔ اس محلے میں کلیسائے مقبرہ مقدس بھی موجود ہے جسے زیادہ تر مسیحی مقدس ترین مقام سمجھتے ہیں۔ مسیحی محلے میں تقریباً 40 مسیحی مقدس مقامات ہیں۔ حالانکہ آرمینیائی بھی مسیحی ہیں لیکن ان کا محلہ مسیحی محلہ سے الگ ہے۔ مسیحی محلہ زیادہ تر مذہبی، سیاحتی اور تعلیمی عمارتوں پر مشتمل ہے ۔

مسیحیت

مَسِیحِیَّت ایک تثلیث کا عقیدہ رکھنے والا مذہب ہے، جو یسوع کو مسیح، خدا کا بیٹا اور خدا کا ایک اقنوم مانتا ہے۔ اور اسے بھی عین اسی طرح خدا مانتا ہے، جیسے خدا اور روح القدس کو۔ جنہیں بالترتیب باپ، بیٹا اور روح القدس کا نام دیا جاتا ہے۔ اپنے پیروکاروں کی تعداد کی اعتبار سے مسیحیت دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہے۔ 1972ء میں رومی کاتھولک، مشرقی راسخ الاعتقاد اور پروٹسٹنٹ گروہوں کی تعداد 98,53,63,400 تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ زمین میں بسنے والے تقریباً ہر تین افراد میں سے کسی نہ کسی کا تعلق مسیحیت سے ہے۔ ظاہری بات ہے کہ اتنے زیادہ لوگوں پر مشتمل مذہب میں عقائد و وظائف کی وسیع تعداد ہوگی۔ عمومی لحاظ سے مسیحیوں میں یسوع ناصری کی انفرادیت کے بارے میں عقیدہ مشترک ہے کہ وہ خدا کے بیٹے تھے اور انہوں نے اپنی صلیبی موت کے ذریعہ انسانیت کا کفارہ ادا کیا اور اپنی موت کے تیسرے دن ہی قبر سے جی اٹھے۔ مسیحی لوگ مذہب میں داخلے کے لیے بپتسمہ پر عقیدہ رکھتے ہیں۔ ان کا نظریہ ہے کہ ایمان لانے والے کے پاس ایک زندگی ہے جس میں اُسے حیات بعد الموت کے لیے اپنی تقدیر کے متعلق فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ اس تقدیر میں عموماً جنت کی ابدی رحمت یا جہنم کا دائمی عذاب شامل ہے۔

مسیحیت میں کئی فرقے ہیں، جن میں دو بڑے فرقے ہیں کاتھولک اور پروٹسٹنٹ۔

یروشلم کی شخصیات کی فہرست

یہ یروشلم میں پیدا ہونے، رہائش اختیار کرنے یا یروشلم سے جڑی شخصیات کی فہرست ہے۔

علاقے
دروازے
گردو نواح کی شاہراہیں
کنیسہ/
یہودی مقدس مقامات
مساجد/
اسلامی مقدس مقامات
کلیسا/
مسیحی مقدس مقامات
یہودیت
(سفاردی/
اشکنازی
Chief Rabbis)
مسیحیت
اسلام
(اہل سنت
مفتی اعظم)

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.