کتاب یشوع

کتاب یشوع یا کتاب یوشع (عبرانی: ספר יהושע) عبرانی بائبل کی چھٹی کتاب ہے۔ یہ کتاب یشوع سے منسوب کی گئی ہے، کیونکہ اس کتاب کے تمام واقعات ان سے ہی متعلق ہیں۔ یشوع ایک جنگجو سورما تھے، نڈر مگر دل میں خوف خدا رکھتے تھے۔ کنعان کے حالات دیکھنے کے لیے جانے والوں میں حضرت یشوع بھی شامل تھے مگر واپس آکر جہاد کرنے سے ڈرے نہیں۔ آپ کو موسیٰ نے اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔ اس جانشین مقرر کرنے کا ذکر کتاب استثنا کے باب 31 میں ہے۔ یشوع نے اس کتاب کو چودھویں صدی قبل مسیح کے دوران ترتیب دیا۔ اس کتاب کے بعض مندرجات جن میں آپ کی بیماری اور وفات کا احوال ہے وہ آپ کے بیٹے فنیحاص اور ہارون کے بیٹے الیعزر نے لکھے۔

اس کتاب میں بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح بنی اسرائیل ملک کنعان میں داخل ہوئے، کس طرح اس پر قبضہ کیا اور کس طرح اس ملک میں آباد ہوئے اور کس طرح اس کے اصلی باشندوں کو مطیع یا اس ملک سے نکال باہر کیا۔

کنعان کے اصلی باشندوں پر اللہ تعالیٰ کا قہر اس لیے آیا کہ اُن کے عقائد مشرکانہ تھے اور وہ بہت سے مکروہات میں بھی مبتلا تھے۔ اسی وجہ سے اُن کو نیست و نابود کیا گیا تاکہ بنی اسرائیل کو فضیلت بخشی جائے۔ دوسرا اس سے بنی اسرائیل کے اپنے لوگوں کی عبرت بھی مقصود تھی کہ اگر وہ بھی مشرکانہ عقائد اور مکروہات اپنائیں گے تو اُن کا حشر بھی کنعان کے اصلی باشندوں جیسا ہو گا۔

اس کتاب کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

  1. بنی اسرائیل کی موعودہ ملک کنعان میں داخلہ کی تیاری (باب1 تا باب 5 آیت15)
  2. کنعان میں داخلہ اور تسلط ( باب6 تا باب 12 آیت 24)
  3. اسرائیلی قبیلوں میں زمین کی تقسیم (باب 13 تا باب 21آیت 45)
  4. یشوع کا آخری خطبہ اور دیگر نصائح ( باب ب22 تا باب 24آیت 33)
کتاب یشوع
ماقبل 
استثنا
عبرانی بائبل مابعد 
قضاۃ
مسیحی
عہد نامہ قدیم
Aleppo Codex Joshua 1 1
یشوع 1:1
1 ایسدرس

١ ایسدرس (یونانی: Ἔσδρας Αʹ)، مزید نام یونانی ایسدرس، یونانی عزرا یا ٣ ایسدرس بائبل کی کتاب عزرا کا قدیم یونانی نسخہ ہے۔ اسے قدیم یہودی، ابتدائی مسیحی کلیسیا اور دورد جدید کے مسیحی مختلف درجوں میں رتبۂ تقدیس (مقدس کتاب کی سی حیثیت) دیتے ہیں۔

اس کتاب میں 2 توارایخ کے ابواب 35 اور 36، کتاب عزرا اور کتاب نحمیاہ کی تدوین و تالیف پائی جاتی ہے۔ تا ہم کچھ مواد منفرد بھی ہے، اس میں یہوداہ کی سلطنت کا زاول، بابل کی اسیری اور زر بابل کی قیادت میں اسیروں کے واپس یروشلم آنے کا ذکر ہے۔

2 ایسدرس

٢ ایسدرس (جسے 4 ایسدرس، لاطینی ایسدرس یا لاطینی عزرا بھی کہا جاتا ہے) ایک ایپوکریفا کتاب کا نام ہے، جو بائبل کے انگریزی نسخوں (دیکھیے نام دینے کی مجالس)۔ اس کتاب کو عزرا سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس کا شمار کاتھولک، پروٹسٹنٹ اور اکثر راسخ العقیدہ کلیسیائیں اپاکرفا کتب میں کرتے ہیں۔

ابی میلیک

ابی میلیک (Abimelech) (تلفظ: /əˈbɪməˌlɛk/; אֲבִימָלֶךְ ’Ǎḇîmeleḵ) قاضی جدعون کا بیٹا تھا۔ اس کے نام کی بہترین تشریح میرا باپ بادشاہ ہے۔

اریحا

یریحو یا اریحا (انگریزی: Jericho؛ عربی: أريحا؛ عبرانی: יְרִיחוֹ) مغربی کنارہ میں دریائے اردن کے نزدیک ایک شہر ہے۔

اسے دنیا کے سب سے قدیم آباد شہروں میں سے ایک خیال کیا جاتا ہے۔

حکمت کی کتاب

حکمت کی کتاب دوسری صدی قبل از مسیح میں یونانی زبان میں لکھی گئی اور سیدنا شاہ سلیمان سے منسوب ہے۔ یونانی ثقافت اور حکمت کا مقابلہ کرتے ہوئے یہودیوں نے یہ کتاب تحریر کی۔ اس کتاب میں حکمت کی فضیلت، اسے حاصل کرنے کے وسائل اور اس کے عمدہ اِثمار کا بیان ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام نیکیاں عدل اور حکمت میں شامل ہیں۔ زندگی، معاشرت، فطرتّ، کائنات اور الٰہی حکمت کتاب کے موضوعات ہیں۔ کاتھولک اس کتاب کو الہامی مانتے ہیں کیونکہ اس کی چند آیات کا عہد جدید میں اور خصوصاً پولس کے خطوط میں ذکر پایا جاتا ہے۔ اس کتاب کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ (ابواب 1–11) ”عدل و انصاف کی جزاء اور حکمت کے لیے دعا“ کہلاتا ہے اور دوسرے حصے (ابواب 12–19) کو ”الٰہی پروردگاری“ کہا جاتا ہے۔

راحب

راحاب یا راحب (انگریزی: Rahab؛ عبرانی: רָחָב؛ یونانی: Ῥαάβ) عبرانی بائبل کی کتاب یشوع کے مطابق اریحا، ارض موعودہ میں مقیم ایک طوائف تھی جس نے شہر پر قبضہ کرنے میں اسرائیلیوں کی مدد کی۔

سامریت

سامریت ایک مذہب ہے۔جس کے پیروکار سامری کہلاتے ہیں۔

اس مذہب کے پیروکار تورات سامری کے احکامات پر کاربند ہیں اور ان کے عقیدہ کے مطابق یہودی تورات کے برعکس ان کئی تورات یعنی سامری تورات غیر متحرف اور اصل ہے۔ سامری تورات کے علاوہ سامریوں کے ہاں کتاب یشوع کا ان کا اپنا نسخہ ہے اور وہ کچھ بائبلی کرداروں مثلاً عیلی پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ سامری عقائد کے مطابق ابتدائے سامریت کو جناب موسیٰ سے منسوب کیا جاتا ہے اور یہ بھی عقیدہ ہے کہ آںجناب کے بعد بدلتے زمانوں اور گزرتے ہزاروں برس کے باوجود اس مذہب میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ سامریوں کے نزدیک یہودی تورات میں وقت گزرنے کے ساتھ تحریفات کی گئیں اور یہودیت بطور مذہب تبدیل شدہ ہے لہذا ہر دو اب ان ان احکامات کے مظہر اور پابند نہیں رہے جو خدا نے

کوہ سینا پر نازل کیے تھے۔

یہودیت اور سامریت کا ایک اہم فرق یہ بھی ہے کہ یہودیت میں مقام مقدس جبل موریاہ ہے جبکہ سامریوں کے عقائد کے مطابق یہ مقام جبل جرزیم ہے۔

عہد نامہ قدیم کی کتب

عہد نامہ قدیم کی کتب سے مراد وہ تمام کتابیں اور صحائف ہیں جو عہد نامہ قدیم شامل ہیں۔ عہد نامہ قدیم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے کی وہ کتب جو مختلف انبیا سے منسوب ہیں اور عہد نامہ جدید، میں انجیل اور حواریوں اور سینٹ پال سے منسوب خطوط وغیرہ ہیں۔

مذہبی جنگ

مذہبی جنگ (انگریزی: Religious war / Holy war)

(لاطینی: bellum sacrum) ایک ایسی جنگ ہے جو بنیادی طور پر مذہب میں فرق کی وجہ سے جائز ہے۔ مثلاً کتاب یشوع کے مطابق بنی اسرائیل کی کنعان کی فتح، ساتویں اور آٹھویں صدی کی اسلامی فتوحات اور گیارہویں تا تیرہویں صدی کی صلیبی جنگیں۔

نبییم

نبیم (/nəˈviːɪm/؛ عبرانی: נְבִיאִים Nəḇî'îm‎، انبیا) عبرانی کتاب مقدس (تناخ) کا دوسرا نمایاں حصہ ہے۔ باقی کے دو تورات (ہدایات) اور کتبیم (تحریریں یا قدیم تحریریں) ہیں۔ جس کے مزید دو ذیلی گروہ ہیں، پہلا:انبیائے قدیم (نبییم روشنیم، נביאים ראשונים یشوع، قضاة، سموئیل اور سلاطین کی کتابیں)، دوسرا: مابعد کے انبیا نبیم آہرونیم، נביאים אחרונים یسعیاہ، یرمیاہ اور حزقی ایل اورانبیائے صغریٰ کی کتابیں)

یہ کتب انبیا یہود کے تاریخ حالات پر مشتمل ہیں۔ ان کتب کی تقسیم انبیائے متقدمین و متاخرین میں کی گئی ہے۔ انبیائے متقدمین کی کتب میں یشوع، قضاۃ، سموئیل ثانی، سلاطین اول اور سلاطین ثانی شامل ہیں جبکہ انبیائے متاخریں کی کتب میں یسعیاہ، جرمیا، حزقیال، زکریا و دیگر شامل ہیں۔

کتاب آستر

آستر ایک خدا پرست یہودی خاتون تھی جسے ایران کی ملکہ بننے کا شرف حاصل ہوا۔ آستر کے چچا مردکی نے آستر کو پالا پوسا تھا اور اُس کی تربیت کی تھی۔ہامان بادشاہ کا مشیر تھا لیکن یہودیوں کا جانی دشمن تھا۔ اُس نے بادشاہ سے یہودیوں کے قتل عام کا فرمان حاصل کر کے تمام صوبوں میں بھجوا دیا۔ مردکی کو اس سازش کا علم ہوا اور اُس نے ملکہ آستر کی مدد سے یہودیوں کو ہامان کی سازش سے بچا لیا۔ ہامان بادشاہ کی نظر میں گر گیا اور پھانسی کی سزا پائی۔

مردکی کو ہامان کی جگہ بادشاہ کا مشیر خاص مامور کیا گیا اور اپنی بھتیجی ملکہ آستر کی مدد سے یہودیوں کے قتل عام کو رکوانے میں کامیاب ہوا۔ اس مختصر سی کتاب میں ان تین اشخاص یعنی ہامان، مردکی اور ملکہ آستر کی داستان درج ہے اور یہ کتاب جلاوطن یہودیوں کی تاریخ کا ایک روشن باب بھی کہلاتا ہے۔

اس کتاب میں جس بادشاہ اخسویرس کا ذکر ہے وہ یونانی زبان میں Xerxesکے نام سے مشہور ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ اس بادشاہ کی مملکت قدیم ہندوستان کے شمال مغربی علاقوں سے لے کر مشرقی افریقہ میں ایتھوپیا (Ethiopia) تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس بادشاہ کی تخت نشینی کا سال 486 قبل مسیح بتایا جاتا ہے۔

اس کتاب کے مصنف کے بارے میں علماء میں اتفاق الرائے نہیں ہے۔ بعض اسے مردکی کی تصنیف مانتے ہیں اور بعض اسے عزرا یا نحمیاہ سے منسوب کرتے ہیں۔ مصنف خواہ کوئی بھی ہو، اس حقیقت سے کسی کو انکار ہیں کہ آستر کا مصنف اہل ایران کے رسم و رواج اور اُن کے تمدن سے بخوبی آگاہ تھا اور ایک خداترس انسان تھا اور اہل یہود کے لیے اپنے دل میں درد رکھتا تھا۔

یہودیوں کے اس قتل عام سے نجات پانے کی یادگار پوریم کے تہوار سے منائی جاتی ہے جو بڑی ضیافتوں اور خوشی کا دن سمجھا جاتا ہے۔ یہاں اس نکتہ کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ خدا اپنے منصوبوں کو بجائے خود کس طرح انسانوں کے ذریعہ عملی جامہ پہناتا ہے، اس لیے ہمیں ہر وقت خدا کی مرضی پر چلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

شہنشاہ کے دار الخلافہ سوسن (Shushan)میں واقع شاہی محل میں سازش (باب 1 تا باب 2)

یہودیوں کے برخلاف ہامان کی سازش (باب 3 تا باب 5)

یہودیوں کی مُخلصی اور پُوریم کا آغاز(باب 6 تاباب 10)

کتاب ایوب

کتاب ایوب (/ˈdʒoʊb/; عبرانی: אִיוֹב Iyov)، عبرانی کتاب مقدس کے حصے کتبیم میں شامل ہے اور مسیحی عہد نامہ قدیم کی یہ پہلی نظم کی کتاب ہے۔

کتاب باروک

کتاب باروک یا باروک کی کتاب (انگریزی: Book of Baruch) ایپوکریفا عہد نامہ جدید کی فہرست میں شامل ایک کتاب ہے۔ یہ ہفتادی ترجمہ میں نوحہ اور کتاب یرمیاہ کے درمیان ہے۔ یہ کتاب باروک بن نیریاہ نے آخری ایام بابل میں جلاوطنوں کی تسلی کے لیے لکھی، عام طور پر اس کا زمانۂ تصنیف 50ء سے 100ء کے درمیان مانا جاتا ہے۔

کتاب جوبلی

کتاب جوبلی یا پیدائش صغیر (چھوٹی پیدائش) ایک قدیم یہودی مذہبی کتاب ہے۔ یہ کتاب 50 ابواب پر مشتمل ہے۔ جس کو حبشی راسخ الاعتقاد توحیدی کلیسیا اور یہود فلاشا (یا بِیٹا اسرائیل) مسلمہ کتاب سمجھتے ہیں۔ حبشی یہودیوں میں اس کتاب کو ”کتاب قسمت یا بازدید“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ (گیزر : መጽሃፈ ኩፋሌ Mets'hafe Kufale)۔ جوبلی کو پروٹسٹنٹ، مشرقی آرتھوڈوکس اور رومی کاتھولک کلیسیا کلیسیا من گھڑت تحریر سمجھتے ہیں

کتاب عاموس

یہ کتاب 740 سے 793 قبل مسیح میں لکھی گئی۔

کتاب یاشر

عہد نامہ قدیم میں ذکر کردہ ایک گم شدہ کتاب، کتاب سموئیل۔2 کے پہلے باب کی آیت 18یاشر کی کتاب یا راست باز کی کتاب کے نام سے ایک کتاب کا ذکر ہے، لیکن یہ کتاب موجودہ عہد نامہ میں شامل نہیں۔

گنیسرت

گنیسرت (Gennesaret یا Gennesareth یا Ginosar) ("دولت کا باغ") قبیلہ نفتالی کو تویض کیا گیا ایک شہر تھا، جسے کتاب یشوع میں کنزت (Kinnereth) اور کبھی جمع کی شکل میں کزت (Kinneroth) کہا گیا ہے۔ بعد کے ادوار میں نام آہستہ آہستہ گنیسرت (Genezareth) میں تبدیل ہو گیا۔

یوشع بن نون

یشوع یا یوشع بن نون (/ˈdʒɒʃuːə/) یا جاہیشوا (عبرانی: יְהוֹשֻׁעַ‎‎ یاہوشوآ یا عبرانی: יֵשׁוּעַ‎‎ یشوعوا; آرامی: ܝܫܘܥ‎ ایشا; یونانی: Ἰησοῦς ،عربی: يوشع بن نون، لاطینی: یوسوے، یوشع ابن نون، ترکی: یوشع)، ایک تورات میں مذکور شخصیت ہے، جسے بطور جاسوس پیش کیا گیا ہے (گنتی 13–14) اور کئی مقامات پر موسی کے مددگار کے طور پر ۔ یوشع، اسلام کے مطابق، موسی کے بھانجے اورجانشین تھے اور ایک جنگجو سورما تھے، نڈر مگر دل میں خوف خدا رکھتے تھے۔ کنعان کے حالات دیکھنے کے لیے جانے والوں میں یشوع بھی شامل تھے مگر واپس آ کر جہاد کرنے سے ڈرے نہیں۔ آپ کو موسیٰ نے اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔ اس جانشین مقرر کرنے کا ذکر کتاب استثنا کے کے باب 31 میں ہے۔ اُن کا عہد چودہویں صدی قبل مسیح کا ہے۔ یشوع سے عہد نامہ قدیم کی ایک کتاب یشوع بھی منسوب ہے۔

قرآن کریم میں بغیر نام لیے آپ کا ذکر سورۃ الکہف کی آیت 60 اور 62 میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام اپنے نوجوان یا شاگرد سے مخاطب ہوئے۔ یہ نوجوان اور شاگرد یشوع علیہ السلام ہی تھے۔

تقسیم
ذیلی تقسیم
پیشرفت
مخطوطات
مزید دیکھیے

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.