کتاب قضاۃ

کتاب قضاۃ یا کتاب قضات (عبرانی: ספר שופטים) عبرانی بائبل کی ساتویں کتاب ہے۔ یہ کتاب اُن قاضیوں کے بارے میں ہے جو حضرت یشوع علیہ السلام کی موت کے بعد سے سلاطین کے دور کے شروع ہونے تک بنی اسرائیل کی قیادت کرتے رہے۔ یہ قاضی یہودیوں کی سیاسی، عسکری، تمدنی اور سماجی زندگی کے تمام شعبوں پر نظر رکھتے تھے اور شریعت موسوی کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔

اس کتاب کے مصنف کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ملتی، لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس کتاب کے مصنف کی بہت سے قابل وثوق ذرائع اور مآخذ تک رسائی تھی جن کی مدد سے اُس نے یہ کتاب تحریر کی۔ اکثر علما نے اس کتاب کو سموئیل نبی کی تصنیف قرار دیا ہے۔

اس کی تاریخِ تصنیف کے بارے میں علما میں اتفاق رائے نہیں۔ بعض کا خیال ہے چونکہ بنی اسرائیل کے قاضیوں کی قیادت کا زمانہ تقریباً 410 سال تک پھیلا ہوا ہے اس لیے یہ کتاب غالباً گیارھویں صدی قبل مسیح کے زمانہ کی تصنیف قرار دی جا سکتی ہے۔

جب تک حضرت موسیٰ علیہ السلام زندہ رہے آپ خدا کی مدد سے بنی اسرائیل کی زندگی کے تمام پہلوؤں کے بارے میں رہنمائی فرماتے رہے۔ چونکہ آپ خداوند تعالیٰ کی طرف سے شریعت (تورات) لے کر آئے تھے اس لیے آپ کی قیادت کو ہمیشہ مقبولیت کا درجہ حاصل رہا۔ اس کے باوجود بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے اور بعد میں بار بار راہ راست سے بھٹک کر بُت پرستی، تشدد پسندی اور بداخلاقی کے شکار ہوئے اور کئی مصائب میں گرفتار ہونے کے بعد بار بار توبہ کرتے رہے اور اپنے خدا کے حضور قسمیں کھا کھا کر وعدہ کرتے رہے کہ وہ اُن تمام قوانین کا اور احکام الٰہی پر جو اُنہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی معرفت دیے گئے تھے، عمل کریں گے لیکن اپنی بار بار کی عہد شکنی کے باعث وہ غضب الٰہی کا نشانہ بنتے رہے۔ اس میں کلام نہیں کہ یہ کتاب یہود کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے اتار چڑھاؤ کی بڑی عبرت انگیز تاریخ ہے۔

یہ کتاب نیکی اور بدی کی ہمیشہ جاری رہنے والی جنگ کی بڑی مکروہ تصویر پیش کرتی ہے اور تمام قوموں کو یاد دلاتی ہے کہ فتح ہمیشہ بندگان خدا ہی کو حاصل ہوتی ہے۔

کتاب قضاۃ
ماقبل 
یشوع
عبرانی بائبل مابعد 
سموئیل
مسیحی
عہدنامہ قدیم
مابعد 
روت
ابصان

ابصان (عبرانی: אִבְצָן‎ ’Iḇṣān؛ قدیم یونانی: Ἀβαισσάν؛ لاطینی: ابیصان، مطلب "نامور") کا ذکر عبرانی بائبل میں بنی اسرائیل کے قاضی نام سے آیا ہے۔

—قضاۃ 10-12:8 (نسخہ کنگز جیمس)

ابی میلیک

ابی میلیک (Abimelech) (تلفظ: /əˈbɪməˌlɛk/; אֲבִימָלֶךְ ’Ǎḇîmeleḵ) قاضی جدعون کا بیٹا تھا۔ اس کے نام کی بہترین تشریح میرا باپ بادشاہ ہے۔

اسرائیلی قضاۃ

اسرائیلی قضاة (جز ۔عبرانی: שופט‎‎שופט‬ šōp̄êṭ/shofet, pl. שופטים‬ šōp̄əṭîm/shoftim) عبرانی بائبل (تنک) اور اکثر کتاب قضاة میں اسرائیلی بادشاہت کے قیام سے قبل روحانی ( قرآن کے مطابق بارہ اوراسرائیلیات کے مطابق پندرہ) قضاة یا ائمہ بیان کیے گئے ہیں اسلامی علوم کے مطابق حضرت موسیٰ جب سرکشوں سے لڑنے کے لیے گئے تب بنی اسرائیل کے ہر قبیلہ میں سے ایک ایک سردار منتخب کر گئے تھے جن میں سے قضاة بنی اسرائیل کے مختلف قبائل اور ادوار میں آئے۔ یہ بنی اسرائیل سے ان کی بیعت کو پورا کراتے تھے کہ تاکہ یہ اللہ اور رسول کے تابع فرمان رہیں اور کتاب اللہ کی اتباع کرتے رہیں اور بحرانوں میں عسکری رہنما و سپہ سالار بنتے تھے۔ توراۃ کے چوتھے جز میں بنو اسرائیل کے قبیلوں کے سرداروں کے نام مذکور ہیں۔

افتاح بن جلعاد

افتاح (تلفظ /ˈdʒɛfθə/; عبرانی: יפתח‎ Yip̄tāḥ)، کا ذکر کتاب قضاۃ میں آیا ہے۔ یفتاح چھ سالوں تک بنی اسرائیل کے قاضی رہے(قاضی 12:7)۔

کتاب قضاۃ کے مطابق، افتاح جلعاد میں رہتا تھا اور اس کا تعلق قبیلہ مناسی سے تھا۔ اور کتاب قضاۃ میں ان کے والد کا نام بھی جلعاد درج ہے۔ کتاب قضاۃ میں ان کی والدہ کو طوائف بتایا گیا ہے۔

افتاح کی قیادت میں بنی اسرائیلیوں نے عمونیوں سے جنگ لڑی اور عمونی جنگ ہار گئے،عمونیوں کو شکست کی وجہ سے انہیں شادی کی شرط (انگریزی: Vow)

کے تحت اپنی بیٹیاں دینی پڑیں۔ روایتی طور پر کتاب قضاۃ میں حوالوں سے افتاح کو اہم قاضی قرار دیا گیا ہے لیکن چھ سال کی کی مدت قضاۃ سے افتاح غیر اہم ثابت ہوتا ہے۔

اہود

اہود بن گیرہ (عبرانی: אֵהוּד בֶּן־גֵּרָא‎‎) کا بائبل میں ذکر آیا ہے۔ جس میں اہود کو اسرائیل کا قاضی بتایا گیا ہے۔ اس کو خدا کی طرف سے بھیجا گیا تھا تاکہ وہ بنی اسرائیل کو موآبیوں سے نجات دلا سکے۔ اور اس کا تعلق قبیلہ بنیامین سے تھا۔

ایلون

بائبل میں ایلون یا آہیلون کا دوآئے–ریھمس (اور کچھ دوسرے ترجمہ شدہ بائبل) (عبرانی: אֵילֹן، جدید Elon ، طبری ʼÊlōn ; "oak"; قدیم یونانی: Αἰλώμ; لاطینی: Ahialon) میں ذکر ہے۔ اور ان آیات کے مطابق یہ اسرائیل کا قاضی تھا۔

اس نے ابصان کی پیروی کی اور عبدون اس کا جانشین بنا،اور کتاب قضاۃ میں لکھا ہے ایلون کا تعلق قبیلہ ظیبلون سے تھا،وہ اسرائیل کا دس سالوں تک قاضی رہا اور ظیبلون کے علاقے عجلون میں دفنایا گیا۔ (قضاۃ 12:11)

برق (قاضی)

برق (/ˈbɛəræk/ or /ˈbɛərək/; عبرانی: בָּרָק‎‎، طبری عبرانی: Bārāq ،عربی: البُراق، al-Burāq،مطلب "آسمانی بجلی") بارہویں صدی ق م کے بنی اسرائیل کے حکمران اور قاضی تھے۔ دبورہ نبیہ کے دور میں باراک ان کے فوجی کمانڈر تھے اور انہوں نے بنی کنعان کو شکست دی تھی جس کی سیسرا سربراہ تھی۔

جدعون

جدعون (Gideon یا Gedeon) جس کے معنی تباہ کرنے والا، زبردست جنگجو یا گرانے والا (درخت) کے ہیں، عبرانی کتاب مقدس کے مطابق بنی اسرائیل کا ایک قاضی تھا۔ اس کا بیان کتاب قضاة کے چھٹے تا آٹھویں باب تک ہے۔

اس کے علاوہ عبرانیوں کے نام خط کے گیارہویں باب میں بھی اس کا تذکرہ ہے۔

دبورہ

دبورہ (انگریزی: Deborah)

(عبرانی: דְּבוֹרָה، جدید Dvora ، طبری Dəḇôrā ; "شہد کی مکھی") بنی اسرائیل کی ایک نبیہ اور چوتھی قاضیہ۔ اس کے خاوند کا نام لفیدوت تھا۔ وہ بنیمین اور افراہیم کی سرحد پر رہتی تھی اور غالبا افراہمی تھی۔ وہ دبورہ کے کجھور کے درخت کے نیچے بیٹھ کر انصاف کرتی

سیجب

کتاب تواریخ کے مطابق:

کتاب سلاطین۔1 کے مطابق:

(26:6 یشوع).

شمجر

شمجر عنات کا بیٹا (عبرانی: שַׁמְגַּר‎۔ Šamgar)، ممکنہ طور پر یہ ایک یا دو افراد کا نام ہے جس کا کتاب قضاۃ میں ذکر ہے۔ اس نام کا کتاب قضاۃ میں دو دفعہ شروع میں ذکر ہے۔ بائبل شمجر کی قاضی کے نام سے نشان دہی کی گئی ہے، جس نے اسرائیلی علاقوں میں فلسطینی حملوں کو پسپا کرنے اور 600 حملہ آوروں کو بیل انکش (ox-goad) سے مارا۔

شمشون

شمشون (عبرانی: שִׁמְשׁוֹן، جدید شِمشون ، طبری {{{3}}}، معنی "سورج والا")، (عربی: شمشون، یونانی: Σαμψών)

بنی اسرائیل کا آخری قاضی تھا جس کو ذکر عبرانی کتاب مقدس کی کتاب قضاۃ کے تیرہویں تا سولہویں باب تک ہے۔

شوفتیم

شوفتیم (انگریزی: Shoftim، عبرانی: שופטים) عبرانی زبان میں قضاۃ کو کہا جاتا ہے۔ شوفتیم کے درج ذیل مدلولات ہوسکتے ہیں:

شوفیت (Shophet)، قاضی کی جمع۔

سفر شوفتیم (ספר שופטים)، کتاب قضاۃ کا عبرانی نام۔

مشنی تورات کی چودھویں کتاب۔

صفورہ

صفورہ (انگریزی: Zipporah or Tzipora ؛ /ˈzɪp.ər.ə/ or /zɪpˈɔ:r.؛ عبرانی: צִפוֹרָה) ایک خاتون کا نام ہے جس کا ذکر بائبل کی کتاب خروج باب 2 آئت 18 میں ہے۔ جس میں لکھا ہے کہ صفورہ موسیٰ کی بیوی ہے۔ صفورہ نامی خاتون رعوایل/یترو (شعیب) کی بیٹیوں میں سے ایک تھی۔

عبدون

عبد ون (عبرانی: עַבְדּוֹן ‘Aḇdōn, "خادم" یا "خدمت")، حلیل کا بیٹا تھا،جو ایک فراثونی تھا اور اس کا نام کتاب قضاۃ میں درج ہے جس میں لکھا ہے کہ یہ بنی اسرائیل کا بارہواں قاضی ہے (قضاۃ 15-12:13)۔

اس کا تعلق قبیلہ افرائیم سے تھا،اور بائبل میں مزید لکھا ہے کہ اس کے چالیس بیٹے تھے اور تیس پوتے تھے۔ اور اسے بائبل امیر تصور کیا گیا ہے،کیونکہ اس نے اپنے 70 بیٹے اور پوتوں کو گدھے فراہم کیے تھے۔

عبد ون اسرائیل کا آٹھ سالوں تک قاضی رہا۔ اسے افرائیم کی سرزمین میں فراثون میں عملقیت

کے ملک میں دفنایا گیا۔فلا ویس یو سیفس مزید عبد ون کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس کا دورِ قضاۃ پرامن تھا۔.

غتنی ایل

غتنی ایل (/ˈɔːθniəl/ یا /ˈɒθniəl/; عبرانی: עָתְנִיאֵל בֶּן קְנַז، جدید Otniel Ben Knaz ، طبری ʻOṯnîʼēl Ben Qənáz) اسرائیل کے پہلے قاضی تھے۔ غتنی ایل کے نام کا مطلب ”خدا / ال میری طاقت ہے“ یا ”خدا نے میری مدد کی“ ہے۔

لفیدوت

لفیدوت (عبرانی: לַפִּידוֹת‎ لیپی ڈوث, "ٹارچز") اسرائیل کی چوتھی قاضی دبورہ کے شوہر تھے۔ جن کا کتاب قضاۃ میں چوتھے یا پانچویں باب میں ذکر ہے۔اور لفیدوت ایک عبرانی مرد کا نام بھی ہے۔

یائیر

یہودی صحیفہ اور مسیحی صحیفہ میں یائیر (عبرانی: יָאִיר Yā’îr, "اس نے روشن کیا") جلعاد کا رہنا والا اور مناسی قبیلہ کا فرد تھا،(جلعاد دریائے اردن کے مشرق میں واقع ایک جگہ ہے) جو تولع کے مرنے کے بعد 23 سالوں تک بنی اسرائیل کے قاضی رہے ان کو جلعاد کی میراث مکیر کے ذریعے ملی، مکیر جو مناسی کا بیٹا تھا۔ یائیر سیجب کا بیٹا تھا اور سیجب جو حصرون کا اور مکیر کی بیٹی کا بیٹا تھا۔ جس کا ذکر 1-تواریخ 2 میں ہے۔

کتاب قضاۃ میں ورس 3:10-5 کے مطابق،

جلعاد جگہ کا نام کتاب قضاۃ میں چاوتھ ہائیر بتایا گیا ہے۔

لفظ چاوتھ (خیمہ چھاؤنیوں)کا ذکر اس تناظر (نمبرز 32:41؛ استثنا 3:14؛ کتاب قضاۃ 10: 4) میں آیا ہے۔ یہ لفظ عبرانی ثقافت میں ابتدائی خانہ بدوش دور سے باقی ہے۔

یائیر کی جب موت ہوئی تو ان کو کیمون یا کیمان میں دفن کر دیا گیا۔

ڈبلیو۔ ایونگ (پادری) نے کہا ہے کہ کیمون شاید قیمن سے ملتا ہے جس کو سلوقی سلطنت کے بادشاہ انطاکس سوم نے پلا سے جعفرون مارچ کرتے وقت قبضے میں لیا تھا(پولیبیس کتاب ورس نمبر 70:12) اس کی موت کے بعد اٹھارا سال تک بنی اسرائیل میں کفر کے سائے چھائے رہے۔ اوربنی اسرائیلی اپنے ہمسائیوں عمونی اور فلستیوں پر ظلم و جبر کرتے رہے۔==مزید دیکھیے==* تولع* یفتاح* کتاب قضاۃ

تقسیم
ذیلی تقسیم
پیشرفت
مخطوطات
مزید دیکھیے

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.