کتاب خروج

کتاب خروج (عبرانی:שמות‎، یونانی:ἔξοδος)یہ عبرانی بائبل کی دوسری اور تورات کی پانچ کتابوں میں سے ہے۔ اس میں بنی اسرائیل کے ملک مصر سے خروج (نکلنے) کے واقعات درج ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کس طرح موسیٰ کی قیادت میں غلامی کی زندگی چھوڑ کر خداوند تعالیٰ کی ایک منتخب قوم میں تبدیل ہوئے اور اُنہیں اپنی روزمرہ کی زندگی گذارنے کے لیے خداتعالیٰ کی طرف سے موسیٰ کی معرفت کیا کیا احکام اور قوانین دیے گئے۔

یہ کتاب غالباً 1450 سے 1410 قبل مسیح میں معرض تحریر میں آئی اور اسے موسیٰ کی تصنیف سمجھا جاتا ہے۔ موسیٰ نے یہ کتاب اُن ایام میں تصنیف فرمائی جب بنی اسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد بیابان سینا میں سرگرداں تھے اور موسیٰ اور ہارون اُن کی قیادت کر رہے تھے۔ اس کتاب میں بہت سے معجزات کا ذکر ہے جن میں سے بعض قرآن کریم میں بھی آئے ہیں۔[حوالہ درکار] انہی معجزات کی وجہ سے بنی اسرائیل خود کو اللہ تعالیٰ کی برگزیدہ قوم سمجھنے لگی مگر اس کے باوجود بعد میں اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے رسول موسیٰ کی سرکشی کرنے لگی۔

کتاب خروج میں وہ دس احکام بھی موجود ہیں جو اللہ تعالیٰ نے پتھر کی الواح پر موسیٰ کو دیے۔ غیر مسلم اہل کتاب کا ماننا ہے کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر موسیٰ کو عطا فرمائے۔

اس کتاب میں بنی اسرائیل کے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور اُس کے حضور میں مختلف قسم کی قربانیوں اور نذروں کے پیش کرنے کے طور طریقے بھی بتائے گئے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے جو خیمہ بنایا گیاتھا اُس کا تفصیلی ذکر بھی اسی کتاب میں موجود ہے اور اُس کے مطالعہ سے عبادت اور دیگر مذہبی رسوم میں لوگوں کی رہنمائی کرنے والے کاہنوں کے فرائض اور ملبوسات وغیرہ کے بارے میں بھی بڑی دلچسپ معلومات حاصل ہوتی ہیں۔

اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

  • پہلا حصہ بنی اسرائیل کی مصر میں غلامانہ زندگی پر ہے جس کا احاطہ باب 1 تا باب 12 آیت 30 تک کیا گیا ہے۔
  • دوسرا حصہ بنی اسرائیل کی صحرا نوردی سے متعلق ہے جس کا احاطہ باب 12 آیت 31 تا باب 18 آیت 27 تک کیا گیا ہے۔
  • تیسرا حصہ بنی اسرائیل کو وادی سینا میں شریعت دیے جانے سے متعلق ہے جو باب 19 تا باب 40 آیت 38 تک ملتا ہے۔
کتاب خروج
ماقبل 
پیدائش
عبرانی بائبل مابعد 
احبار
مسیحی
عہدنامہ قدیم
آفات مصر

دس آفات وہ دس خوفناک مصیبتیں تھیں جن کا وعدہ خدا نے موسیٰ سے کیا تھا کہ وہ مصر پر نازل کرے گا تاکہ فرعون بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے رہا کرے۔

فرعون اِن نشانوں سے شروع میں مُتاثر نہ ہوا۔ لیکن جب یہ یکے بعد دیگرے شدت سے بڑھنے لگیں حتیٰ کہ مصریوں کے پہلوٹوں کی ہلاک ہونے کی نوبت پہنچی تو اُس نے بنی اِسرائیل کو خدا کے لیے قربانی دینے کے لیے بیابان میں جانے کی اِجازت دی۔

اہلیاب

اہلیاب (انگریزی: Oholiab) ایک نقاش کاریگر تھا جس کا ذکر عبرانی بائبل کی کتاب خروج میں آیا ہے۔ تابوت سکینہ کی تیاری میں اہلیاب بھی شامل تھا۔ اہلیاب کے باپ کا نام اخیسمک تھا۔ اہلیاب اعلیٰ درجہ کا کاریگر اور نقاش تھا اور نیلے ارغوانی اور سرخ رنگ کے سوت اور نفیس کتان کی کشیدہ کاری کا ماہر تھا۔ اہلیاب کا تعلق قبیلہ دان سے تھا اور وہ بضلی ایل کے ماتحت تابوت سکینہ کی تیاری میں مصروف رہا۔ تابوت سکینہ کی تیاری کے بعد عبرانی بائبل میں اہلیاب سے متعلق مزید کوئی اور بیان یا تفصیل نہیں ملتی۔ ایک عبرانی روایت کے مطابق اہلیاب کا مدفن موجودہ جنوبی لبنان میں ہے۔

بائبل میں فراعنہ مصر

بائبل میں مختلف مقامات میں قدیم مصر کے فراعنہ (عبرانی: פַּרְעֹה) کا ذکر بھی موجود ہے۔ بعض فراعنہ کا نام بھی اکثر واقعات کے ضمن میں موجود ہے اور بعض کا صرف اشارہ ہی ملتا ہے۔اِن فراعنہ مصر کا تذکرہ تورات اور دوسری کتب ہائے عہد نامہ قدیم میں بنی اسرائیل کی تاریخ میں ملتا ہے۔

جلتی جھاڑی

جلتی جھاڑی کو اہلِ اسلام تجلئ طور کہتے ہیں یہ کتاب خروج تیسرے باب کا ایک واقعہ ہے جس کے مطابق موسیٰ اپنے خُسر یترو (اسلام میں شعیب) کی بھیڑبکریوں کی نگہبانی کرتا تھا۔ ایک دن موسیٰ ریوڑ کو ریگستان کی پرلی جانب لے گیا اور چلتے چلتے خدا کے پہاڑ حورب یعنی سینا تک پہنچ گیا۔ وہاں رب کا فرشتہ آگ کے شعلے میں اُس پر ظاہر ہوا۔ یہ شعلہ ایک جھاڑی میں بھڑک رہا تھا۔ موسیٰ نے دیکھا کہ جھاڑی جل رہی ہے لیکن بھسم نہیں ہو رہی۔ موسیٰ نے سوچا، ”یہ تو عجیب بات ہے۔ کیا وجہ ہے کہ جلتی ہوئی جھاڑی بھسم نہیں ہو رہی؟ مَیں ذرا وہاں جا کر یہ حیرت انگیز منظر دیکھوں۔“ جب رب نے دیکھا کہ موسیٰ جھاڑی کو دیکھنے آ رہا ہے تو اُس نے اُسے جھاڑی میں سے پکارا، ”موسیٰ، موسیٰ!“ موسیٰ نے کہا، ”جی، مَیں حاضر ہوں۔“ رب نے کہا، ”اِس سے زیادہ قریب نہ آنا۔ اپنی جوتیاں اُتار، کیونکہ تُو مُقدّس زمین پر کھڑا ہے۔ مَیں تیرے باپ کا خدا، ابراہیم کا خدا، اسحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں۔“ یہ سن کر موسیٰ نے اپنا منہ ڈھانک لیا، کیونکہ وہ خدا کو دیکھنے سے ڈرا۔

خیمۂ اجتماع

خیمۂ اجتماع یا حضوری کا خیمہ عبرانی میں اس کے لیے دو الفاظ ہیں مشکن یعنی مسکن یا رہنے کی جگہ، دوسرا لفظ اوہل موعید یعنی خیمۂ اجتماع ہے۔ یہ سفری یا نقل پزیر خیمہ تھا جو بنی اسرائیل کے بیابان میں بھٹکنے کے دوران عبادت اور قربانی وغیرہ کے سلسلے میں استعمال ہوتا تھا جب تک سلیمان بادشاہ نے یروشلم میں ہیکل تعمیر نہ کر لیا۔ یہ خیمہ خدا کا انسان کے درمیان سکونت کی علامت تھا۔۔، اس مختلف ناموں سے پکارا گیا ہے۔ مسکن خیمہ، خیمہِ اجتماع، بیت اللہ کا مسکن، خداوند کا گھر، شہادت کا خیمہ اسے تفصیل سے خروج باب 25 آیت 10 - باب 27 آیت 19 اور ابواب 35 - 38 میں بیان کیا گیا ہے۔

دس احکام

احکاماتِ عشرہ یا دس احکام (انگریزی: Ten Commandments) موسوی شریعت کی رو سے بنی اسرائیل امت کو جو دس ابتدائی ہدایت دی گئیں وہ احکاماتِ عشرہ کہلاتی ہیں۔ یہ احکامات بنی اسرائیل کے عقیدے کے مطابق خدا نے موسیٰ پر نازل کیے جو وہ پتھر کی دو سلوں پر کندہ کرکے لائے۔ توریت کی دوسری کتاب خروج میں ان کا اندراج موجود ہے۔ ان احکامات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اول جو خاص خدا سے متعلق ہیں۔ دوم جو بنی نوع انسان کے متعلق ہیں۔ مختصر طور پر یہ احکام حسب ذیل ہیں۔

سنہری بچھڑا

سنہری بچھڑا (سونے کا بچھڑا)

سکینہ

سکینہ (Shekinah, Shechinah, Shechina, یا Schechinah)

(عبرانی: שכינה‎; عربی: السكينة) عبرانی لفظ کی کلمہ نویسی ہے جس مطلب الہی موجودگی کا مظہر ہے۔

صفورہ

صفورہ (انگریزی: Zipporah or Tzipora ؛ /ˈzɪp.ər.ə/ or /zɪpˈɔ:r.؛ عبرانی: צִפוֹרָה) ایک خاتون کا نام ہے جس کا ذکر بائبل کی کتاب خروج باب 2 آئت 18 میں ہے۔ جس میں لکھا ہے کہ صفورہ موسیٰ کی بیوی ہے۔ صفورہ نامی خاتون رعوایل/یترو (شعیب) کی بیٹیوں میں سے ایک تھی۔

عصائے موسیٰ

عصائے موسیٰ (انگریزی: Staff of Moses) موسیٰ بن عمران کے ہاتھ کی لکڑی جس میں یہ معجزہ تھا کہ فرعون کے ساحروں کے مقابلے میں سانپ یا اژدہا بن گئی تھی۔ اس عصا یا ڈنڈے کا ذکر کتاب خروج اور کتاب مقدسہ قرآن مجید میں موجود ہے۔

فرعون کے جادوگر

فرعون کے جادوگر یاجادوگران فرعون اور ساحران فرعون مختلف نام ہیں فرعون کے ان جادوگروں کے جنہیں فرعون حضرت موسی کے مقابلے کے لیے لیکر آیا۔

جب ان جادوگروں نے حضرت موسی کے معجزہ کو دیکھا تو سجدے میں گر گئے اور ایمان لانے کا اعلان کر دیا فرعون نے ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں (دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں یا دایاں پاؤں اور بایاں ہاتھ)سے کٹوائے اور درختوں پر سولی چڑھا دیا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عصا اور ید بیضا کے نشانات( معجزہ ) عطا ہوئے اس زمانے میں مصر سحر اور جادو کا مرکزتھا اور فن سحر شباب پر اور مصریوں نے تمام دنیا کے مقابلہ میں اس کو اوج کمال تک پہنچادیا تھا۔

فرعون کے درباریوں کی تجویز کے بعد مصر کے مختلف شہروں ماہر جادو گروں کی تلاش شروع کردی ” آخر کار ایک مقررہ دن کی میعادکے مطابق جادو گروں کی ایک جماعت اکٹھا کرلی گئی “سورہ شعرا آیت 38۔

امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس سے روایت کیا کہ جادوگر ستر آدمی تھے۔ صبح کو وہ جادوگر اور شام کو وہ شہدا تھے۔ اور دوسرے الفاظ میں دن کے پہلے حصے میں وہ جادوگر تھے اور دن کے آخری حصہ میں وہ شہداء تھے جب ان کو قتل کر دیا گیا۔

حضرت موسیٰ اور فرعون کے جادوگروں کا مقابلہ :

جادوگروں نے حضرت موسیٰ سے کہا اے موسیٰ ! آیا آپ پہلے عصا ڈالیں گے یا ہم اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پہلے ڈالیں، انہوں نے اپنے اس سوال میں حسن ادب کو ملحوظ رکھا اور اپنے ذکر سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا اور اسی ادب کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان لانے کی توفیق دی۔

مریم (ہمشیرہ موسیٰ)

مریم (عبرانی: מִרְיָם، جدید Miryam ، طبری Miryām ; عربی: مريم) موسیٰ اور ہارون کی بڑی بہن تھیں جن کا ذکر کتاب خروج، عبرانی کتاب مقدس میں ملتا ہے۔ مریم بنت عمران/عمرام موسیٰ کی بہن ہیں جو دریا میں صندوق کے پیچھے گئی تھیں۔ توریت میں ان کا نام مریم آیا ہے۔ یہ بھی لکھا ہے کہ وہ" نبیہ" تھی (خروج 10: 20) اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ کوئی عورت نبی نہیں ہوئی ہے۔ اسرائیلی اصطلاح دوسری تھی۔ وہاں ”نبیہ“ کے معنی صرف پیشین گوئی کرنے والی یا تقریباً کاہنہ کے ہیں۔ توریت میں یہ بھی ہے: ”اور اس کی بہن دور سے کھڑی دیکھتی تھی کہ اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے“۔ (خروج 2: 4)

ابن المنذر نے ابن جریج سے روایت کیا کہ موسیٰ کی بہن کا نام یواخید تھا اور اس کی ماں کا یحنذ تھا۔

موسی ابن عمران

موسیٰ علیہ السلام خدا کے برگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک تھے۔ آپ کے بھائی

ہارون علیہ السلام بھی اللہ کے برگزیدہ نبیوں میں سے ایک ہیں۔

موسیٰ

موسٰی (انگریزی: Moses) ابراہیمی مذاہب کے ایک پیغمبر تھے۔ عبرانی بائبل کے مطابق، موسیٰ ایک مصری شہزادے تھے جو بعد میں مذہبی رہنما اور شارع رہنما بن گئے۔ جنہوں نے توریت تالیف کی تھی یا جن کو جنت سے توریت کا حصول ہوا۔ ان کو موشی ریبنو (מֹשֶׁה רַבֵּנוּ، لغوی معنی: "موسیٰ ہمارے استاد") بھی کہا جاتا ہے، یہودیت میں ان کو سب سے اہم پیغمبر تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوه ان کو مسیحیت، اسلام اور بہائیت کے ساتھ ساتھ دوسرے ابراہیمی مذاہب میں بھی اہم پیغمبر سمجھا جاتا ہے۔

کتاب خروج کے مطابق، موسیٰ ایک ایسے وقت میں پیدا ہوا تھا جب اس کی قوم بنی اسرائیل کو ایک اقلیتی غلام بنا کر رکھا تھا،جن کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا اور فرعون فکر مند تھا کہ وہ لوگ مصر کے دشمنوں کے ساتھ اتحاد نہ کر لیں۔جب فرعون نے حکم دیا کہ تمام نوزائیدہ عبرانی لڑکوں کو ہلاک کیا جائے تاکہ بنی اسرائیل کی آبادی کم ہو سکے۔ تو عبرانی موسیٰ کی ماں یوکابد نے خفیہ طور پر اُسے چھپا دیا۔ جس لقیط (لاوارث بچہ) کو فرعون کی بیٹی (مدراش میں جس کی نشان دہی ملکہ بتیاہ کے نام سے ہوئی) نے اپنا لیا تھا جو اس کو دریائے نیل سے ملا تھا اور وہ مصری شاہی خاندان کے ساتھ پلے بڑھے۔ موسیٰ بعد میں ایک غلام کے مالک کو قتل کر کے بحیرہ احمر کے پار مدیان فرار ہو گئے تھے (کیونکہ یہ مالک ایک عبرانی شخص کو مار رہا تھا)، مدیان میں ان کو رب کے فرشتے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جس نے حورب پہاڑ میں جلتی ہوئی جھاڑی پر موسیٰ سے بات کی (جس کو انہوں نے خدا کا پہاڑ کہا)۔

خدا نے موسیٰ کو دوبارہ مصر بھیجا تاکہ وہ بنی اسرائیلیوں کو غلامی سے نجات دلا سکے اور ان کی آزادی کا مطالبہ کرے۔ مگر موسیٰ نے کہا کہ وہ صاف صاف بول نہیں سکتا اور رُک رُک کے بولتا ہے اور نہ ہی اچھے الفاظ ادا کر سکتا ہے۔ پھر خدا نے ہارون موسیٰ کے بھائی کو اس کی جگہ بات کرنے کو کہا۔مصری آفتوں کے بعد، موسیٰ نے بنی اسرائیلیوں کے مصر سے خروج اور بحیرہ احمر عبور کرنے میں قیادت کی۔ اس کے بعد وہ لوگ جبل موسیٰ میں آباد ہوئے۔ جہاں موسیٰ کو دس احکام موصول ہوئے۔ 40 سال صحرا میں بھٹکنے کے بعد جبل نیبو میں میدان تیہ پر موسیٰ انتقال کر گئے۔ربیائی یہودیت کے مطابق موسیٰ 1391-1271 قبل مسیح تک زندہ رہے۔ جیروم کے مطابق 1592 قبل مسیح، اور جیمس یوشر کے مطابق 1571 قبل مسیح ان کا پیدائش کا سال تھا۔

نحشتان

بائبل کے مطابق جب بنی اسرائیل صحرا میں موسیٰ اور خدا کی شکایت کرنے لگے تو اُنہیں جلانے والے سانپوں نے کاٹنا شروع کیا۔ جب انہوں نے توبہ کی تو پھر خدا نے موسیٰ کو حکم دیا کہ نحشتان (کانسے کا سانپ) بنا کر بَلّی پر لٹکائے اور کہا کہ جو اُس کی طرف نگاہ کرے گا بچ جائے گا۔ بعد میں بنی اسرائیل اس کی پوجا کرنے لگے چنانچہ حزقیاہ بادشاہ نے اُسے تباہ کیا۔یوحنا کی انجیل میں یسوع نے اپنے مصلوب ہونے کو نحشتان سے تشبیہ دی۔ علمائے مسیحیت کے بقول یسوع بھی صلیب پر کھینچے جانے والے تھے تاکہ جو ان کی طرف ایمان سے نگاہ کرے وہ نجات پائے۔

ہارون

ہارون (انگریزی: ، Aaron عبرانی:אַהֲרֹן ، لغوی معنی کوه‌نشین) عمران اور یوکابد کے بیٹے موسی اور مریم (کُلثُم، کلثوم) کے بھائی تھے۔ جن کے بارے میں تاریخ بتاتی ہے کہ موسی کے ساتھ فرعون کے پاس گئے تھے۔ یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں کے عقائد کے مطابق خدا کے مبعوث کردہ پیغمبر تھے۔ هارون بہت فصیح زبان تھے۔ اور موسی کے عرصہ نبوت میں ان کے وزیر اور مددگار رہے۔ هارون موسی سے تین برس عمر میں بڑے تھے اور روایات کے مطابق جب موسی کے ہمراہ فرعون سے گفتگو کے لیے گئے تو اس وقت ان کی عمر تراسی برس کی تھی، ہارون سرزمین فلسطین کے مقام کوہ میں اس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔ ان کے چار بیٹے تھے جن کے نام الیعزر، ناداب، ابیہو اور اتامر بیان کیے گئے ہیں۔

یہودی عقائد کے مطابق ہارون دنیا کے سب سے پہلے کاہن تھے اور ان کے بعد کے تمام کاہن ان کے بیٹے ہیں۔ ھارون کی بیٹیاں اور ھارون کی بہنیں یہودیت میں یہودی خواتین کی روحانی راہنما تسلیم کی جاتی ہیں۔یہودی بادشاہ ہیرودیس کے عہد میں ایک زکریا نام کا کاہن تھا جس کی بیوی کے بارے میں روایت کیا گیا ہے کہ وہ ہارون کی بیٹیوں میں سے تھی اور اس کا نام الیسبع تھا۔ جبکہ مورخین کی ایک کثیر تعداد اس بات کی قائل نہیں کہ الیصابات ہارون کی بہن تھی کیونکہ اس کے اور ھارون کے زمانے میں بہت زیادہ فاصلہ تھا۔

یترو

عبرانی بائبل کے مطابق یترو (/ˈdʒɛθroʊ/; عبرانی: יִתְרוֹ‎‎، معیاری: یترو طبری: یِترو؛ "اس کی عظمت / حوصلہ افزائی"؛ عربی: شعيب) یا رعوایل موسیٰ کے سسر، ایک قینی گُڈَریے اور مدین کے کاہن تھے۔ کتاب گنتی 10:29 کے مطابق یترو حوباب کے والد تھے۔ وہ دروز مذہب میں روحانی پیشوا اور ایک اصغر پیغمبر تصور کیے جاتے ہیں، اور تمام دروزی یترو کو اپنے آباؤ اجداد میں سے سمجھتے ہیں۔

یوکابد

موسیٰ کی والدہ کا نام یوخابذ آتا ہے اردو میں اس کو یوکابد لکھتے ہیں

موسیٰ کی ماں کا نام یوخابذ تھا۔ امام عبد الرحمان بن علی الجوزی نے لکھا ہے کہ ان ماں کا نام یوخابذ تھا۔

علامہ سید محمود آلوسی لکھتے ہیںایک قول ہے کہ ان کا نام محیانۃ بنت یصھر بن لاوی ہے ‘ ایک قول ہے ان کا نام یوخابذ ہے ایک قول یارخا ہے ایک قول یارخت ہے ‘ اور ان کے علاوہ بھی اقوال ہیں۔یوخابذ یا یوکابد کا قرآن میں ام موسی کے الفاظ سے دو مرتبہ استعمال ہوا

وَأَوْحَيْنَا إِلَى أُمِّ مُوسَى أَنْ أَرْضِعِيهِ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ

وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَى فَارِغًا إِن كَادَتْ لَتُبْدِي بِهِ لَوْلَا أَن رَّبَطْنَا عَلَى قَلْبِهَا لِتَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَان کے نام میں بہت اختلاف ہے

علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ امام سہیلی نے کہا کہ حضرت موسیٰ کی ماں کا نام ایارخا تھا اور ایک قول ایارخت ہے‘ اور علامہ ثعلبی نے کہا ان کا نام لوحابنت ھاندبن لاوی بن یعقوب تھا۔

امام بغوی نے لکھا ہے‘ ان کا نام یوحانذبنت لاوی بن یعقوب تھا۔

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ کی ماں کا نام اناحید تھا امام ابو الکر محمد ابن الاثیر الجزری نے لکھا ہے حضرت موسیٰ کی ماں کا نام یوخابذ تھا۔

یہوواہ

یہواہ یا یہوواہ (عبرانی: יהוה) خدا کا چوحرفی نام ہے اور یہ خدا کا عبرانی زبان میں ایک خاص نام ہے۔ یہ خدا نے موسیٰ کو بتایا تھا۔ یہواہ کا عہد نامہ قدیم میں 5410 بار ذکر آیا ہے۔

کتاب خروج کا ایک ذکر

تقسیم
ذیلی تقسیم
پیشرفت
مخطوطات
مزید دیکھیے

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.