کتاب تواریخ

تواریخ کی کتاب کے بھی دو حصے ہیں۔١ تواریخ اور ٢ تواریخ ان دونوں کتابوں میں بعض ایسے واقعات درج کیے گئے ہیں جو سموئیل اور سلاطین کی کتابوں میں درج کرنے سے رہ گئے تھے۔
تواریخ کا مولف علمائے یہود کے مطابق عزرا ہے اور متعدد راسخ العقیدہ مسیحی علما بھی اس نظریہ سے متفق ہیں۔ یہ دونوں کتابیں 450 قبل مسیح سے 425 قبل مسیح کے درمیان تالیف کی گئیں لیکن عزرا نے دانشمندی سے بڑی تحقیق اور کاوش کے بعد انہیں ان کی موجودہ صورت دی۔ ان کتابوں میں بعض ایسے ماخذوں کا ذکر موجود ہے جو شاہان یہوداہ اور شاہان اسرائیل کے واقعات پر مشتمل تھے جن کی مدد سے عزرا نے ان کتابوں کی تالیف کی۔
ان کتابوں کے بعض واقعات سموئیل اور سلاطین کی کتابوں میں مندرج واقعات سے ملتے جلتے ہیں لیکن مولف نے اپنی اس تالیف میں کئی اور ماخذوں کے نام بھی درج کیے ہیں جو مقدس بائبل میں شامل نہیں ہیں۔
بابل کی اسیری اور جلاوطنی کے زمانہ میں اہل یہود اپنی شریعت اور اپنے گزشتہ تاریخی واقعات کو تقریباً فراموش کر چکے تھے۔ انہیں اس عظیم ورثہ سے روشناش کرانے کے لیے تواریخ ایسی تالیف کی ضرورت تھی۔ لہذااسی ضرورت کے پیش نظر عزرا نے یہ کتاب تالیف کی۔ اس اسیری کے بعد نئی یہودی نسل کو یہ بھی بتانا ضروری تھا کہ جس خدائے قادر نے ماضی میں کئی مصائب اور کئی نامساعد حالات میں اُن کے آباؤ اجداد کو برکت دی، وہ اپنی برکزیدہ قوم کو ہمیشہ اپنے سایہ عافیت میں رکھے گا بشرطیکہ وہ اُس کی وفادر رہے اور اُس کے احکام کو دل و جان سے بجا لاتی رہے۔
تواریخ کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں اور اُس کے حکموں پر چلتے ہیں وہ برکات خداوندی کے امیدوار ہو سکتے ہیں لیکن خدا کی نافرمانی کرنے والے مصیبتوں اور پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں۔
تواریخ کو درج ذیل حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
پہلی کتاب :

  1. نسب نامہ آدم سے لے کر داؤد تک (باب 1 تا باب 9)
  2. داؤد بادشاہ کا دور حکومت ( باب 10 تا باب 29)

دوسری کتاب:

  1. سلیمان بادشاہ کا دور حکومت (باب 1 تا باب 9)
  2. شاہان یہوداہ، یربعام بادشاہ کے دور حکومت سے لے کر یہودیوں کے زمانہ اسیری، جلاوطنی اور بحالی تک (باب 10 تاباب 37)
اخیطوب

اخیطوب - مطلب نیکی کرنے والا بھائی = اچھا، بائبل میں یہ نام بہت کم آیا ہے جس میں :

(1.)اخیطوب، فینحاس کا بیٹا، عیلی کا پوتا، ایشابد کا بیٹا۔ عیلی کی وفات کے بعد اسرئیل کا کاہن اخیطوب بنا اور اس کے بعد اخیاہ بنا۔ اور یہ بائبل میں یہ لکھا ہے کہ اخیاہ اخیطوب کا بیٹا تھا۔ (سموئیل 14:3؛ 22:9، 11، 12، 20 اور 1 تواریخ 9:11) اخیاہ ( یا ”احیاہ“) جس کو اخیطوب کا بیٹا کہا گیا ہے اس کا ذکر 1 سموئیل 3-14:2، 18-19 میں ہے۔ یا پھر یہ ابی میلیک ہی ہو سکتا ہے۔ (1 سموئیل 9-22:20) یا پھر ابی میلیک اخیطوب کا دوسرا بیٹا ہو(اگر ایسا ہوا تو ابی میلیک اخیطوب کا بڑا بیٹا ہے)۔

(2.)صدوق کا باپ تھا(2 سموئیل۔ 17-8:15)۔ یہ اخیطوب امریاہ کا بیٹا تھا۔ اور امریاہ، مرایوت کا بیٹا تھا۔ اور مرایوت، زراخیاہ کا بیٹا تھا اور زراخیاہ، عزی کا بیٹا تھا۔ اور عزی، بقی کا بیٹا تھا۔ اور بقی، ابیسوع کا بیٹا تھا اور ابِیسُوع، فینحاس کا بیٹا تھا۔ اور فینحاس، الیعزر کا بیٹا تھا۔ اور الیعزر، ہارون کا بیٹا تھا (1 تواریخ 8-6:3)۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے اس اخیطوب کو کاہن طالوت یا ساؤل نے بنایا ہو اور یہ ابی میلیک کے خاندان کے قتل کے بعد ہوا تھا۔ پر اس بات کا کہیں ذکر نہیں ہے جو اس بات کو ثابت کرسکے۔ اور ساؤل نے اپنے دور میں اس واقعہ کے بعد کوئی سرکاری کاہن نہیں بنایا تھا (دیکھیں یوسیفس کی

یہودیوں کی عہد قدیم کتاب VI، باب XII، پیراگراف 7)۔

(3.)ایک اور اسی نام کا کاہن۔ اس کاہن کا ذکر

1 تواریخ 12-6:11 میں ہے۔ اور یہاں معاملات اور الجھ گئے ہیں کیوں اس اخیطوب کے بیٹے (یا شاید پوتے) کا نام بھی صدوق ہے۔

(4.)اس اخیطوب کا ذکر نحمیاہ 11:11 میں ہے۔ اور یہ شخص شاید مذکورہ بالا تین اخیطوب میں سے ایک ہے۔ اور شاید نہیں بھی۔

اسیری بابل

بابل کی اسیری یا بابلی جلاوطنی یہودی تاریخ کا وہ دور ہے جس میں ، قدیم مملکت یہوداہ کے یہود کی ایک بڑی تعداد مملکت بابل کے اسیر رہے. کرکمیش کی جنگ کے بعد 605 قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر , نے یروشلم کا محاصرہ کیا جس کے نتیجے میں یہوداہ کے بادشاہ یہویقین نے خراج دیا. یہویقین نے اپنے اوپر غلبہ پائے جانے کے چوتھے سال بخت نصر کو خراج دینے سے انکار کر دیا , جس کی وجہ سے بخت نصر نے تین سال بعد پھر سے ایک اور محاصرہ کیا، جس کا اختتام یہویقین کی موت اور بادشاہ یقونیاہاور اس کے درباریوں کی جلا وطنی پر ہوا ; یقونیاہ کے جانشین صدقیاہ اور دوسروں کو بخت نصر کے اٹھارویں سال میں جلاوطن کیا گیا، بخت نصر کے تیئسویں سال میں ایک اور بادشاہ کی ملک بدری واقع ہوئی . مورخہ جات, ملک بدری کی تعداد , اور جلاوطن کیے گئوں کی تعداد بائبل کے سرگزشتوںمیں مختلف ہیں. یہ ملک بدریاں پہلی مرتبہ 597 قبل مسیح پھر 587/586 قبل مسیح, اور 582/581 قبل مسیح میں واقع ہوئیں.بابل کے سقوط کے بعد فارس کے بادشاہ کورش عظیم 539 قبل مسیح میں جلاوطن یہود کو واپس یہوداہ جانے کی اجازت دی. تورات کی شہادت یہ ہے کہ کورش کا ظہور اور بابل کی فتح نبی اسرائیل کے لیے زندگی اور خوشحالی کا نیا پیام تھا اور یہ ٹھیک اسی طرح ہوا جیسے یسعیاہ نبی نے ایک سو ساٹھ برس قبل وحی الہی سے مطلع ہوکر خبر دے دی تھی اور جب کورش کو کتابوں میں یہ پیشنگوئ دکھلائی گئی تو اس نے دانیال نبی کی نہایت توقیر کی اور یہودیوں کو یروشلم میں بسنے کی اجازت دی – بلکہ اعلان کیا کہ خدا نے مجھے حکم دیا کہ یروشلم میں اس کے لیے ہیکل (ہیکل سلیمانی کی از سر نو تعمیر) بناؤں پس تمام لوگوں کو ہر طرح کا سازوسامان مہیا کرنا چاہیے اس نے تمام ظروف جو (بخت نصر) لوٹ لایا تھا اس میں بددستور قبل واپس رکھ دئے(عزرا-باب اول)[6] بائبل کی کتاب عزرا کے مطابقیروشلم کے ہیکل دوم کی تعمیر 537 قبل مسیح آس پاس شروع کر دیا گیا تھا۔ یہ تمام واقعات یہودی تاریخ اور ثقافت میں بہت اہمیت کے حامل ہیں اور ان کا یہودیت کی ترقی پر دور رس اثر رہا ہے۔

آثار قدیمہ کی مطالعات بتلاتی ہیں کہ تمام تر آبادی کو یہوداہ سے ملک بدر نہیں کیا گیا تھا اور اگرچہ یروشلم بری طرح سے تباہ ہوا ملک بدری کے زمانے میں یہوداہ کے دیگر علاقے یہود سے آباد رہے . یہود کی بابل سے واپسی ایک مرحلہ وار عمل تھا نہ کہ ایک دفعہ کا واقعہ اور یہ امر بھی قابل غور ہے کہ بہت سے ملک بدر کیے گئے یہود واپس نہ لوٹے-

بائبل کی اصاغر شخصیات کی فہرست، ا سے ڈ

یہ فہرست بائبل کے مذکورہ ناموں کی وہ فہرست سے جو چھوٹے (عموماً اکابر کے با لمقابل) نامور شخصیات ہیں جن کا نام بائبل میں بہت کم آیا ہے یا یہ بائبل کی کسی مشہور شخصیت کے رشتہ دار ہیں۔

بائبل کی اصاغر شخصیات کی فہرست، ز سے ی

یہ فہرست بائبل کے مذکورہ ناموں کی وہ فہرست سے جو چھوٹے (عموماً اکابر کے با لمقابل) نامور شخص ہین جن کا نام بائبل میں بہت کم آیا ہے یا یہ بائبل کی کسی مشہور شخصیات کے رشتہ دار ہیں۔

بابل کی اسیری

توریت کی کہانی کی طرف اشارہ ہے۔ وہ عرصہ جوبنی اسرائیل نے شہر بابل میں عالم اسیری میں گزارا جب کہ بنو کدنصر یا بخت نصر شاہ بابل نے یروشلم کو تباہ کیا اور بنی اسرائیل کو اسیر کرکے بابل میں لے گیا۔ اسیری کی عمر ستر سال بیان کی جاتی ہے۔ 539 ق م مسیح میں سائرس (خسرو) شاہ ایران نے جب بابل فتح کیا تو انھیں یروشلم واپس جانے اور اسے آباد کرنے کی اجازت مل گئی۔ بعض لوگ اسرائیل کی اس پراگندگی کو ایک اور واقعہ سے نسبت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آریہ قوم دراصل بنی اسرائیل تھیں جو ہند میں وارد ہوئیں۔ مگر ان کا خیال صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ کیونکہ بنی اسرائیل جہاں بھی گئی وہاں انھوں نے اپنی مخصوص تہذیب قائم رکھی جس کی آریائی تہذیب سے کوئی مشابہت نہیں۔

ایک اور نظریہ یہ ہے کہ اسی اسیری کے دور میں بنی اسرائیل کا ایک قبیلہ بنو افغانہ فرار ہو کر افغانستان کے علاقے میں آباد ہوا اور آج کی یہ ساری پشتون یا افغان آبادی ان ہی کی اولاد ہے۔ لیکن اس نظریے کے متعلق بھی وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

بت سبع

بت سبع یا بتشابع (انگریزی: Bathsheba، عبرانی: בַּת שֶׁ֫בַע‎، بت-شبا‘، "قسم یا عہد کی بیٹی"؛ عربی: بثشبع، "ابنة القسم") عبرانی کتاب مقدس کے مطابق مملکت اسرائیل کے بادشاہ داؤد کی زوجہ اور شاہ سلیمان کی والدہ تھی۔ کتاب سموئیل۔2 میں داؤد اور بت سبع کے بارے میں ایک نامناسب کہانی میں موجود ہے جسے کتاب تواریخ۔1 میں حذف کر دیا گیا ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر بھی اس کہانی کی توثیق نہیں کرتا۔

بائبل کے مطابق یہ الیعام اور عمی ایل کی بیٹی تھی دونوں ناموں کو مطلب عبرانی میں یکساں ہے یہ حتی اوریاہ کی بیوی تھی جو شاہ داؤد کی فوج میں ایک سپاہی تھا داؤد نے اوریاہ کی غیر حاضری میں جب وہ جب وہ جنگی محاذ پر لڑ رہا تھا بت سبع سے زنا کیا اور جب وہ حاملہ ہو گئی تو کوشش کی کہ اُس کا خاوند اُس کا خاوند اس کے پاس آئے جب وہ اس میں ناکام ہوا تو اوریاہ کو گھسمان میں بھجوا کر قتل کروا دیا اس کے بعد داؤد نے بت سبع سے شادی کر لی اور وہ محل میں رہنے لگی۔ اُس کے چار بیٹے سِمعا، سُوباب، ناتن اور سلیمان ہوئے اس نے ناتن نبی کی مدد سے اودنیاہ کے سلطنت چھیننے کی سازش کو ناکام بنا دیا اور اپنے بیٹے سلیمان کو تخت کا جانشین بنانے میں کامیاب ہوئی۔وہ بڑی حاضر دماغ اور باتدبیر خاتون تھی۔ اس نے شاہ داؤد پر اُس کے آخری ایام تک اثر و رسوخ رکھا۔ روایت ہے کہ امثال باب 31 کو بت سبع نے اپنے بیٹے سلیمان کی فرعون کی بیٹی سے شادی کے موقع پر نصیحت کے طور پر لکھا۔ ١ تواریخ میں اسے بت سُوع بھی کہا گیا ہے۔

اس کے کُل چار بیٹے تھے سلیمان کے علاوہ تین بیٹوں کا نام سِمعا، سُوباب اور ناتن تھا۔علمائے اسلام شاہ داؤد کا بت سبع سے زنا کرنے کو مسترد کرتے ہوئے اس کہانی کو من گھڑت تصور کرتے ہیں۔

خلدہ

خلدہ یا حلدہ (عبرانی: חֻלְדָּה‬ ، انگریزی: Huldah) عبرانی بائبل کے مطابق سلطنت یہوداہ کی کے یوسیاہ بادشاہ کے عہد میں نبیہ تھی۔ خلدہ کا زمانہ غالباً 650 قبل مسیح سے 600 قبل مسیح کا وسطی دور ہے۔

سلیمان (بادشاہ)

سلیمان (/ˈsɒləmən/؛ عبرانی: שְׁלֹמֹה، جدید Shlomo ، طبری Šəlōmō Šlomo؛ سریانی: ܫܠܝܡܘܢ Shlemun؛ عربی: سُليمان Sulaymān، Silimān یا Slemān؛ یونانی: Σολομών Solomōn؛ لاطینی: Salomon) جدیدہ( بھی کہلاتے ہیں، عبرانی:יְדִידְיָהּ) بائبل، کتاب سلاطین اول 1-11، (کتاب تواریخ اول 28-29، تواریخ 1-9)، قرآن، حدیث اور قرآن میں مختلف اشاروں کے مطابق سلیمان بے تحاشہ امیر اور عقلمند اسرائیل کا بادشاہ تھا۔ اور داؤُد (سابقہ بادشاہ اسرائیل) کا بیٹا تھا۔

سلیمان کا بادشاہت کا دور مختلف روایات کے مطابق 970 ق۔ م سے 931 ق۔ م تھا۔

سمہ بن اجی

سمہ (انگریزی: Shammah؛ عبرانی: שַׁמָּה‎؛ مطلب: ”خدا ہمارے ساتھ ہے۔“) ایک شخصیت کا نام ہے جس کا ذکر عبرانی بائبل میں کیا گیا ہے۔ یہ اجی ہراری کا بیٹا تھا اور جو داؤد کے سورماؤں میں سے ایک تھا۔ جس کا ذکر کتاب سموئیل دوم میں آیا ہے:

دوسرا ذکر کتاب تواریخ میں سمعہ کی بجائے سموت کے نام سے آیا ہے:

دوسرا ذکر بھی کتاب تواریخ اول میں سمعہ کی بجائے ”سمہوت“ کے نام سے آیا ہے جو سال کے چوتھے مہِینے میں مملکت اسرائیل کے بادشاہ داؤد کی فوج میں کمانڈر کے طور پر خدمات سر انجام دیتا تھا:

سمہ یا سموت یا سمہوت کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ جب فلستیوں کی فوج سے بنی اسرائیلی فوج شکست کھا رہی تھی تو تب تمام بنی اسرائیل فرار ہو گئے تھے۔ اس وقت سمعہ بن اجی نے دال کے پہاڑ کے مقام پر مقابلہ کرتے ہوئے 300-800 فلستی مرد فوجیوں کو اکیلے شکست دی تھی۔

اس کے علاوہ بائبل میں دوسرے سمہ بھی مذکور ہیں جن کا صرف نام لیا گیا ہے:

سمہ جس کا ذکر کتاب تواریخ میں آدم کے شجرہ نسب کیا گیا ہے۔اسی سمہ کا ذکر کتاب پیدائش میں کیا گیا ہے جو رعوایل کا بیٹا تھا۔سمہ یسی کا تیسرا بیٹا اور داؤد (بادشاہ) کا بھائی تھا۔

سیجب

کتاب تواریخ کے مطابق:

کتاب سلاطین۔1 کے مطابق:

(26:6 یشوع).

شیث

سیت یا شیث (عبرانی: שֵׁתֿ،طبری تلفظ صوتی Šet, معیاری:Šēṯ; عربی: شيثShith یا Shiyth) حضرت آدم علیہ السلام کے تیسرے بیٹے اور ان کے بعد نبی تھے۔ ان کا ذکر تورات میں ہے۔ یہودیت، مسیحیت اور اسلام کے مطابق یہ آدم اور حوا کے بیٹے اور ہابیل و قابیل کے بھائی تھے۔عہد نامہ قدیم ،کتاب پیدائش کے باب 4 آیت 25 میں یوں مذکور ہے:

اور آدمؔ پھر اپنی بیوی کے پاس گیا اور اُسکے ایک اَور بیٹا ہُوا اور اُسکا نام سیؔت (شیث) رکھاّ اور وہ کہنے لگی کہ خُدا نے ہاؔبل کے عِوض جس کو قاؔئنِ (قابیل) نے قتل کیا مجھے دُوسرا فرزند دیا۔

یعنی حوا کو یقین تھا کہ شیث انکو ہابیل کے بدلے میں اور ہابیل صبر کی وجہ سے انعام کے طور پر عطا کیا گیا تھا۔ کتاب پیدائش کے مطابق جب شیث تولد ہوئے اس وقت آدم کی عمر 130سال تھی۔ اور شیث ہوبہو آدم کی شبیہ اور صورت پر تھے۔(دیکھیے:کتاب پیدائش باب 5 آیت 3)

یہی شجرہ نامہ قدیم کی کتاب تواریخ اول کے باب 1 کی آیت 1 تا 3 اور کتاب پیدائش کے باب 5 آیت 4 تا 5 میں مذکور ہوا ہے۔ شیث نام کے بارے میں یہودیت میں ایک روایت پائی جاتی ہے کہ شیث کا لفظ عبرانی کے لفظ سے ماخوذ ہے جس کا معنی "بیج"یا"پودا" ہے۔ اسی لیے حوا کو یقین تھا کہ خدا نے ان کو ہابیل کے بدلے میں جس کو قابیل نے قتل کر دیا تھا شیث عطا کیا ہے۔

عدو

عدو (عبرانی: עדו) یا عیدو بائبل میں مذکور ایک پیغمبر ہیں۔ کتاب تواریخ کے مطابق وہ سلیمان اور ان کے جانشینوں رحبعام اور ابیاہ مملکت یہوداہ کے عہد حکومت میں رہتے تھے۔

عدو کے بارے میں بہت کم معلومات مل سکی ہیں تاہم ان کا تذکرہ صرف کتاب تواریخ کے اس حصے میں ملتا ہے جہاں سلیمان کے عہد حکومت کا تذکرہ ہے۔ کتاب تواریخ میں مذکور ہے کہ سلیمان کے عہد حکومت کے واقعات اور عدو کے مملکت اسرائیل کے بادشاہ یربعام اول کے خلاف پیشن گوئیوں کے تذکرے زیر تحریر لائے گئے تھے۔ عدو نے جو تواریخ لکھی ہیں وہ اب معدوم ہیں۔ رحبعام بن سليمان کی تاریخ لکھنے کا سہرا بھی عدو کے سر ہی جاتا ہے۔ اور اسی طرح انہوں نے رحبعام کے بیٹے بادشاہ ابیاہ کا بھی تذکرہ لکھا ہے۔

تلمود کی کئی روایات میں عدو کا تذکرہ اول سلاطین 13 کے گمنام پیغمبر کے طور پر ملتا ہے، پہلی صدی قبل مسیح میں مؤرخ یوسیفس، چوتھی اور پانچویں صدی مسیح میں مسیحی مفسر جیروم اور عہد وسطی کے یہودی مفسر راشی نے عدو کا تذکرہ کیا ہے اور تلمود میں مذکور ایک گمنام پیغمبر کو عدو کے طور پر پہچاننے کی کوشش کی ہے۔ اول سلاطین کے ہیرو کو "خدا کا بندہ" کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ جنہوں نے يربعام کے خلاف پیشن گوئی کی، عدو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے کئی پیشن گوئیاں کی ہیں۔ کتاب سلاطین میں مذکور ہے کہ 300 سال بعد جب یوسیاہ کا دور تھا، بادشاہ نے یربعام کے قربان گاہ کو رسم کے مطابق خالی کرنے کے لیے انسانی ہڈیوں کو جلانا شروع کیا، اپنی اس مہم کے دوران یوسیاہ کو ‘‘خدا کا بندہ‘‘ کی قبر ملی، اس نے اس کے بارے میں معلوم کروایا تو اس کو بتایا گیا کہ یہ اس آدمی کی قبر ہے جس نے یربعام کی قربان گاہ کی پیشن گوئی کی تھی۔ یوسیاہ نے ان کی نبوت کا احترام کرتے ہوئے حکم دیا کہ ان کی قبر کو نقصان نہ پہونچایا جائے۔

لاحانکہ جیروم کا دعوی ہے کہ عدو کا تذکرہ اول سلاطین 13 کے ایک گمنام شخص کے طور پر ہوا ہے مگر وہ کہتے ہیں عدو کتاب سلاطین دوم 1 میں عزریاہ کے باپ عودد کے ساتھ ایک پیغمبر کی حیثیت سے مذکور ہیں۔

عدو کے نام سے ایک تذکرہ کتاب عزرا 8: 17 میں کاشفیہ علاقہ کے صدر کے طور پر ملتا ہے۔ عزرا عدو اور ان کے بھائیوں سے ہیکل کے لیے خدام لانے کی درخواست کرتے ہیں۔ یہ وہی عدو ہیں کہ جب عزرا پیغمبر زکریاہ بن برخیاہ کو بلاتے ہیں تو انہیں عدو کا بیٹا کہتے ہیں (عزرا 5: 1 اور 6: 14)۔ کتاب زکریاہ 1: 1 اور 1: 7 میں عدو کو زکریاہ کے دادا کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

عزی (بائبل)

عزی (عبرانی: עוזי `عوزی) ایک بائبل کا کردار ہے جس کے نام کا مطلب "میری طاقت"۔

بائبل میں جگہ جگہ یہ نام آیا ہے جس میں:

(یونانی: Οζι تواریخ۔ 1 میں، Σαουια عزرا میں، لاطینی:Ozi) بقی کا بیٹا، ہارون کی اولاد (1 تواریخ۔ 6:5؛ عزرا 7:4)(یونانی: Οζι; لاطینی: Ozi)، یساکار کے پوتے (1 تواریخ۔ 7:2، 3)

(یونانی: Οζι; لاطینی: Ozi)، بالع کے بیٹے اور بنیامین کے پوتے۔(1 تواریخ۔ 7:7)

(یونانی: Οζι; لاطینی: Ozi)، ایک بنیامینی، قبیلہ کا سردار۔ (1 تواریخ۔ 9:8)

(یونانی: Οζι; لاطینی: Azzi)، بنی کا بیٹا، قید سے واپسی کے بعد لاویوں کی نگرانی کرتے تھے۔(نحمیا۔ 11:22)

(یونانی: Οζι; لاطینی: Azzi)، یدعیاہ کے سربراہ، کاہنوں کے سردار میں سے ایک سردار ۔(نحمیا۔ 12:19)

(یونانی: Οζι; لاطینی: Azzi)، ایک کاہن جس نے یروشلم کی دیواروں کو مخصوص کروانے میں مدد کی۔(نحمیا۔ 12:42)جدید نام :

عیلن ایڈرین عزی ڈیمٹر، رومانیہ کے ہپ ہاپ آرٹسٹ ہیں اور بی۔یو۔جی مافیہ کے رکن ہیں۔

عوبید

تنک میں؛ اوبید (عبرانی:עוֹבֵד، ‘Ōḇêḏ ; "عبادت گزار")، عہد نامہ قدیم میں اس نام کی پانچ مختلف شخصیات کا ذکر ہے۔

سیسان کی اولاد سے ایک شخص۔(کتاب تواریخ۔1)

داؤد کی فوج کا ایک سپاہی۔(کتاب تواریخ۔1)

داؤد کے زمانہ میں خیمۂ احتماع کا ایک دربان۔(کتاب تواریخ۔1)

عزریاہ کا باپ۔ (کتاب تواریخ۔2)

بوعز اور روت کا بیٹا، داؤد بادشاہ کا دادا، مسیحی عہد نامہ جدید کے مطابق یہ یسوع مسیح کے نسب نامہ میں آتا ہے۔(متی کی انجیل، لوقا کی انجیل اور روت و کتاب تواریخ۔1)

عہد نامہ قدیم کی گم شدہ کتب کی فہرست

عہد نامہ قدیم میں کل کتنی کتابیں شامل تھیں، اس پر محقّقین کا اختلاف رہا ہے۔ البتہ کچھ کتب جن کا ذکر خود موجودہ عہد نامہ قدیم، جسے اکثرمسیحی اور یہودی فرقے تسلیم کرتے ہیں، اس میں کچھ کتب کے نام آئے ہیں، مگر وہ اس میں شامل نہیں ہیں۔

مہلل ایل

مہلل ایل، مہللیل یا مہللئیل(مطلب: خدا کی تعریف) (عبرانی: מהללאל، جدید Mahalalel ، طبری mahălalʾēl؛ عربی: Mahlālīl مَهْلَالِيل یا Mahlāyīl مَهْلَايِِيل)، عبرانی بائبل کا پیٹرآک (مقدس بزرگ) تھا۔ عہد نامہ جدید کے نسخہ سلاطین جیمس میں مرد ئل لکھا ہے لیکن کتاب پیدائش میں مہلل ایل درج ہے جس کو مستند سمجھا جاتا ہے۔

ناتن

ناتن (عبرانی: נָתַן‎ ؛ سریانی: ܢܬܢ) عبرانی تنک میں مذکور ایک عظیم شخصیت ہیں۔ ان کا زمانہ تقریباً 1000 سال قبل مسیح کا ہے۔

ان کے اقوال و افعال کا تذکرہ کتاب سموئیل، کتاب سلاطین اور کتاب تواریخ میں موجود ہے۔ (خصوصاً 2 سموئیل 7: 2-17، 2 سموئیل 12: 1-25)۔

کتاب سموئیل کی روایات کے مطابق ناتن داؤد کے درباری پیغمبروں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے داؤد بادشاہ کو خدا کے اس عہد کے بارے میں باخبر کیا تھا جو خدا ان کے ساتھ کرنے والے تھے۔ (2 سموئیل 7: 4-17 اس کو ناتن کا معجزہ بھی کہا جاتا ہے۔)خدا نے داؤد کے لیے ایک گھر بنایا (آل داؤد)، یہ داؤد کے لیے خدا کا انعام تھا، چنانچہ داؤد بھی خداکے لیے ایک گھر تابوت سکینہ تعمیر کرنا چاہتے تھے، اس پر ناتن نے ان کو متنبہ کیا کہ ایسا نہ کریں۔ اس کے ایک اور واقعہ ہوا جہاں ناتن داؤد کے لیے فرشتہ بن کر ثابت ہوئے۔ واقعہ یوں ہے کہ اوریا بن حتی کو داؤد نے جنگ میں قتل کر دیا اور اس کی بیوی بت سبع کے ساتھ جماع کرنا چاہا، تب ناتن نے ان کو بتایا کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو وہ زنا کے مرتکب ہوں گے۔ یہ واقعہ کتاب سموئیل میں مذکور ہے۔

کتاب تواریخ میں یہ روایت ہے کہ ناتن نے داؤد کے عہد حکومت اور سلیمان کے عہد حکومت کی تاریخ لکھی ہے۔ اور وہ ہیکل کی موسیقی سے بھی وابستہ تھے۔

کتاب سلاطین میں مذکور ہے کہ وہ ناتان ہی تھے جنہوں نے صحب فراش داؤد کو ادونیا کے بادشاہ بننےکے بارے میں بتایا، جس کے بعد ادونیا کی بجائے سلیمان کی بادشاہت کا اعلان کر دیا گیا۔ ناتن نے سلیمان بادشاہ کے سر پر مقدس تیل کا مسح کیا تھا اور ان کا نام نظم زدوک دی پریسٹ میں سلیمان کے مسح کرنے والے کو ور پر مذکور ہے۔

24 اکتوبر تقویم برائے مقدسین کو ناتن پیغمبر کے مقدس دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ مشرقی راسخ الاعتقاد کلیسیا اور وہ تمام لوگ جو بازنطینی ریت کی تابع مشرقی راسخ الاعتقاد کلیسیا کو مانتے ہیں، کرسمس کے بڑے میلے سے پہلے اتوار کو ناتن کو بزرگ تسلیم کرتے ہیں۔

کالب بن یفنہ

کالب (کبھی کبھی کالیب بھی لکھا جاتا ہے۔כָּלֵב، طبرابی ادائیگی: Kālēb؛ عبرانی اکیڈمی:Kalev) ایک شخصیت کا نام ہے جس کا ذکر عبرانی بائبل میں آیا ہے۔ عبارت میں وہ بنی اسرائیل کے میدان تیہ تک سفر کے دوران قبیلہ یہوداہ کے نمائندہ کے طور مذکور ہے۔ ان کا ایک ذکر قرآن مجید میں بھی پایا گیا، اگرچہ ان کے نام کا ذکر نہیں ہے۔

یوسیاہ

یوسیاہ (عبرانی: יאשיהו בן-אמון מלך יהודה) سلطنت یہوداہ کا سترہواں بادشاہ تھا جس نے 640 قبل مسیح سے 609 قبل مسیح تک حکومت کی۔یوسیاہ نے بطور شاہ یہوداہ تخت داؤد پر 31 سال حکمرانی کی اور یہ تمام عرصہ سیاسی آزادی اور اصلاح مذہب کی آخری لہر ثابت ہوا۔ اس دور کے بعد سقوط یروشلم سے مملکت یہوداہ ختم ہو گئی۔

تقسیم
ذیلی تقسیم
پیشرفت
مخطوطات
مزید دیکھیے

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.