کتاب استثنا

کتاب استثنا یا تثنیہ شرع (عبرانی: דְּבָרִים‎، یونانی: Δευτερονόμιον) عبرانی بائبل کی چوتھی اور تورات کی پانچ کتابوں میں سے ایک ہے۔ تورات کی یہ پانچویں کتاب موسیٰ کی آخری تصنیف ہے۔ آپ نے یہ کتاب غالباً 1400 قبل مسیح میں لکھی، جب بنی اسرائیل موآب کے میدانوں میں خیمہ زن تھے اور ملک موعود کنعان میں داخل ہونے کے منتظر تھے۔

اس کتاب میں موسیٰ کے آخری خطبات درج ہیں اور ساتھ ہی آپ کی زندگی کے آخری ایام کے واقعات اور آپ کی وفات کا ذکر بھی پایا جاتا ہے۔ بائبل کے عالم اس بات پر متفق ہیں کہ یہ آخری واقعات اور موسیٰ کی وفات کا بیان یشوع کی تالیف ہیں۔ موسی نے 120 سال کی عمر میں وفات پائی۔ آپ نے یشوع کو اپنے انتقال سے پہلے اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا اور یہ یشوع ہی تھے جن کی قیادت میں بنی اسرائیل کی نئی نسل ملک کنعان میں داخل ہوئی۔

کتاب مقدس کے عربی ترجمہ میں اس کتاب کا نام "تثنية" اور اُردوترجمہ میں "استثنا" رکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں موسیٰ نے اپنی پچھلی کتابوں میں مندرج شریعت کے احکام و قوانین کو اختصار سے دوسری بار تحریر فرمایا ہے۔ یہ احکام و وقوانین مجموعی طور پر وہی ہیں جو موسیٰ خدا کی ہدایت کے بموجب بنی اسرائیل کو اُن کی اڑتالیس سالہ صحرانوردی کے مختلف اوقات میں دیتے رہے تھے۔

کتاب استثنا کا مقصد یہ تھا کہ بنی اسرائیل کی نئی نسل جو یشوع کی قیادت میں کنعان کی موعود سرزمین پر قدم رکھنے والی تھی بخوبی جان لے کہ احکام خداوندی کو ماننے کے فوائد اور نہ ماننے کے نقصانات کیا ہیں۔ خداوند خدا کا بنی اسرائیل سے تقاضا تھا کہ اُس کی برگذیدہ قوم پاک زندگی بسر کرے اور خدا کی وفادار رہے تاکہ وہ زندہ رہے، برکت، صحت، خوشحالی اور کامیابی سے ہمکنار ہو۔ لیکن اگر وہ عہد شکنی کی مرتکب ہوگی اور راہ راست سے دور ہو جائے گی تو لعنت، بیماری، افلاس اور موت کا شکار ہو گی۔

شروع شروع میں یہودیوں کے ہاں یہ کتاب یعنی کتاب استثنا نہیں پائی جاتی تھی، موسیٰ کے کوئی چھ سو سال بعد ایک جنگ کے زمانے میں ایک شخص ملک کے اس وقت کے یہودی بادشاہ کے پاس ایک کتاب لایا اور کہا یہ مجھے یہ کتاب ایک غار سے ملی ہے۔ معلوم نہیں کس کی ہے؟ مگر اس میں دینی احکام نظر آتے ہیں۔ بادشاہ نے اپنے زمانے کی ایک نبیہ عورت(یہودیوں کے ہاں عورتیں بھی نبی رہی ہیں یا کم از کم وہ اس کا دعویٰ کرتے ہیں) کے پاس بھیجا۔ اس نبیہ نے جس کا نام ہلدا (Hulda) بیان کیا جاتا ہے یہ کہلا بھیجا کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہی کی کتاب ہے۔ چنانچہ موسیٰ کے چھ سوسال بعد اسے موسیٰ کی طرف منسوب کیا جانے لگا۔

حوالہ جات

  • تاریخ قرآن از ڈاکٹر محمد حمید اللہ
کتاب استثنا
ماقبل 
گنتی
عبرانی بائبل مابعد 
یشوع
مسیحی
عہدنامہ قدیم
اجتماع یہود

اجتماع یہود ( عبرانی קיבוץ גלויות ، کیبوتز گالیوت ( بائبل : قیبؤس گلویوتھ))، ادب. جلاوطنوں کی جمع آوری، جسے بیدخل یہود کی جمع آوری بھی کہا جاتا ہے بائبل میں ایک وعدہ ہے [کتاب استثناء 30:1-5] جو موسی ؑ نےبنی اسرائیل سے فلسطین کی سرزمین میں داخلے سے پیشگی ان سے کیا تھا ۔

اسرائیلی قضاۃ

اسرائیلی قضاة (جز ۔عبرانی: שופט‎‎שופט‬ šōp̄êṭ/shofet, pl. שופטים‬ šōp̄əṭîm/shoftim) عبرانی بائبل (تنک) اور اکثر کتاب قضاة میں اسرائیلی بادشاہت کے قیام سے قبل روحانی ( قرآن کے مطابق بارہ اوراسرائیلیات کے مطابق پندرہ) قضاة یا ائمہ بیان کیے گئے ہیں اسلامی علوم کے مطابق حضرت موسیٰ جب سرکشوں سے لڑنے کے لیے گئے تب بنی اسرائیل کے ہر قبیلہ میں سے ایک ایک سردار منتخب کر گئے تھے جن میں سے قضاة بنی اسرائیل کے مختلف قبائل اور ادوار میں آئے۔ یہ بنی اسرائیل سے ان کی بیعت کو پورا کراتے تھے کہ تاکہ یہ اللہ اور رسول کے تابع فرمان رہیں اور کتاب اللہ کی اتباع کرتے رہیں اور بحرانوں میں عسکری رہنما و سپہ سالار بنتے تھے۔ توراۃ کے چوتھے جز میں بنو اسرائیل کے قبیلوں کے سرداروں کے نام مذکور ہیں۔

اسلام میں تورات

تورات (عبرانی: תּוֹרָה، تلفظ کے اعتبار سے توراہ) حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل شدہ آسمانی کتاب ہے جس کی تصدیق قرآن نے بھی کی ہے۔موجودہ بائبل کے عہد نامہ قدیم کی پہلی پانچ کتب کے مجموعہ کو تورات کہتے ہیں۔

انبیائے مسیحیت

مسیحیت میں جن شخصیات کو پیغمبر کہا جاتا ہے ان کا تذکرہ عبرانی بائبل اور عہد نامہ جدید کی فہرست مسلمہ میں ملتا ہے۔ مسیحی عقیدے کے مطابق پیغمبر کا انتخاب خدا کی جانب سے ہوتا ہے۔

درج ذیل فہرست میں محض ان شخصیات کے نام درج ہیں جنہیں واضح طور پر پیغمبر قرار دیا گیا ہے۔ یہ وضاحت خواہ صراحتاً مذکور ہو یا سیاق سباق اس کا مضبوط اشارہ دیتے ہوں۔ ساتھ ہی بائبل کے حوالے بھی درج ہیں۔

ذیل میں مسیحیت کے انبیائے کرام کی فہرست ہے۔

بحر میت کے مخطوطات

بحر میت کے مخطوطات یا بحر مردار کے طومار تقریباً 900 دستاویزوں پر مشتمل ہیں جن میں عبرانی انجیل کا متن بھی شامل ہے۔ انہیں 1947ء تا 1956ء اور 2000ء میں وادی قمران اور اس کے آس پاس کی قدیم خربہ قرمان آبادی کے آثارِ قدیمہ کے قریب بحیرہ مردار کے شمال مغرب میں واقع بارہ غاروں سے عرب بدوؤں نے دریافت کیا۔ وادی مربعات قمران سے بارہ میل جنوب کی طرف اور یروشلم سے تقریباً 15 میل جنوب مشرق کی جانب واقع ہے۔ وادی قمران سے قریباً پون میل کے فاصلہ پر بحر مراد کے مغرب کی جانب ایک جگہ ہے جس کو خربت قمران کہتے ہیں۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں یشوع کے زمانہ میں شہر نمک بستا تھا۔ (یشوع 15: 61) اب ویران ہوجانے کی وجہ سے خربت (بمعنی اجاڑ) کہلاتا ہے۔

1967ء میں اسرائیلی فوج نے یروشلم کے عجائب گھر سے کچھ مخطوطات چوری کر لیے۔ 2009ء میں جب یہ مخطوطات ٹورانٹو میں نمائش کے لیے لائے گئے تو اردن نے کینیڈا حکومت کو بین الاقوامی قوانین کے تحت ان مخطوطات کو ضبط کرنے کے لیے کہا۔

بیوہ بھابی سے شادی

بیوہ بھابی سے شادی (انگریزی: LEVIRATE MARRIAGE) سے مراد ایک ایسی شادی جس میں ایک شخص اپنے بھائی گزر جانے کے بعد متوفی کی اہلیہ سے شادی کرتا ہے۔ یہ رواج کئی قدیم قومی میں پایا گیا ہے۔ کچھ معاملوں میں یہ ایک آدمی کا فریضہ تھا کہ وہ اپنے بھائی کی بیوہ سے شادی کرے اگرچیکہ وہ مرحوم کی اولاد کی ماں ہی کیوں نہ ہو۔ مگر اکثر معاملوں میں یہ اس وقت ہوتا آیا ہے جب اولاد موجود نہ ہو۔ یہودیوں میں بھائی کی بیوہ سے شادی تلمود کے قاعدے کی رو سے ممنوع تھی، مگر کتاب استثنا میں یہ واجب قرار دی گئی جب کوئی اولاد نرینہ نہ ہو اور دونوں بھائی ایک ہی خاندانی جائداد پر رہ رہے یوں۔بیوہ بھابی سے شادی کی رسم کا موازنہ کئی بار میراث بیوہ (Widow inheritance) سے ہوتا ہے۔ ان اصطلاحوں میں فرق یہ ہے کہ اول الذکر میں عورت زیادہ بااختیار ہوتی ہے۔ کچھ سماجوں میں جہاں بیوہ بھابی سے شادی کا رواج بے حد عام ہے، اس شادی کی رو سے متوفی شوہر کے رشتے دار کو یہ اختیار دیا ہی نہیں جاتا ہے کہ بیوہ کو متوفی شوہر کے رشتے دار (عمومًا بھائی) سے شادی کرے۔ اس کے برعکس یہ بیوہ کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ متوفی شوہر کے کسی بھائی کو اس سے شادی کے لیے مجبور کرے۔

تورات

تورات یا توریت (/ˈtɔːrəˌˈtoʊrə/; عبرانی: תּוֹרָה‎‎، "تدریس، تعلیم") یا اسفار خمسہ یہودیت کی مرکزی کتاب ہے۔ موجودہ بائبل میں پرانے عہد نامے کی پہلی پانچ کتابوں کے مجموعے کو تورات کہتے ہیں۔

حنوک

حنوک (/ˈiːnək/؛ عبرانی: חֲנוֹךְ، جدید H̱anokh ، طبری Ḥănōḵ؛ عربی: أَخْنُوخ، [عام طور پر قرآنی ادب میں]: إِِدْرِيس) بائبل کے لٹریچر میں ایک شخصیت ہے۔ حنوک ”آدم کی ساتویں نسل“ ہے۔ ان کو کتاب حنوک کا مصنف سمجھا جاتا ہے۔ ان کو کاتب راستباز بھی کہا جاتا ہے عبرانی بائبل کی کتاب پیدائش میں ظہور کے علاوہ، حنوک بہت سے یہودی اور مسیحی تحریروں کا موضوع ہے۔

حنوک یارد کا بیٹا اور متوشلح کا باپ تھا۔ اور نوح کا پر دادا تھا۔ جب وہ 65 سال کا تھا، اس سے متوشلح، ریجم اور گیدت پیدا ہوئے ان دو دوسری اولادوں کا ذکر کتاب حنوک دوم میں کیا گیا ہے۔

بائبل کے مطابق، خدا کے زندہ اٹھانے سے پہلے حنوک 365 برس تک جیتا رہا۔ آگے لکھا ہے کہ پھر ”اور حنوک خُدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور وہ غائِب ہو گیا کِیُونکہ خُدا نے اُسے اُٹھا لِیا۔“

دس احکام

احکاماتِ عشرہ یا دس احکام (انگریزی: Ten Commandments) موسوی شریعت کی رو سے بنی اسرائیل امت کو جو دس ابتدائی ہدایت دی گئیں وہ احکاماتِ عشرہ کہلاتی ہیں۔ یہ احکامات بنی اسرائیل کے عقیدے کے مطابق خدا نے موسیٰ پر نازل کیے جو وہ پتھر کی دو سلوں پر کندہ کرکے لائے۔ توریت کی دوسری کتاب خروج میں ان کا اندراج موجود ہے۔ ان احکامات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اول جو خاص خدا سے متعلق ہیں۔ دوم جو بنی نوع انسان کے متعلق ہیں۔ مختصر طور پر یہ احکام حسب ذیل ہیں۔

شاٹ گن شادی

شاٹ گن شادی یا شاٹگن شادی ایسی شادی کو کہتے ہیں جسے اس وجہ سے انجام دیا جاتا ہے تاکہ اس شرمندہ صورت حال سے بچا جا سکے جو قبل از شادی ہم بستری کی وجہ سے رونما ہو، جس میں ممکن ہے کہ غیرارادی حمل بھی ہو، جسے شرکاء نہیں چاہتے تھے۔ یہ محاورہ امریکی بول چال کی زبان سے ہے، حالانکہ یہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، جس کے پس پردہ مجوزہ دلہن کے باپ کا دھمکانا شامل ہوتا ہے (جیساکہ شاٹ گن چلانے کی دھمکی) تاکہ یہ یقینی بنایا جائے کہ وہ آدمی جس نے اسے حاملہ کیا شادی کے بندھن میں شامل ہوتا ہے۔

موت سے بچنے کے ارادے سے شادی کرنے کا تصور ہزاروں سال پرانا ہے۔ کتاب استثنا نے قبل از شادی ہم بستری سے متعلق قانون بیان کرتی ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی ایسی کنواری کے ساتھ زنا بالجبر انجام دیتا ہے جس سے اس کی شادی کے لیے سگائی نہیں ہوئی ہے اور اس عمل میں وہ ملوث پکڑا جاتا ہے، تو اس آدمی کو مہر (50 شیقل) ادا کرنا چاہیے اور اس عورت کو اپنی بیوی کے طور پر اپنانا پڑے گا اور کبھی طلاق نہیں دینا چاہیے، ورنہ اسے سنگسار کر کے مار دینے کا خطرہ رہے گا۔زبردستی یا پُرتشدد زبردستی کا استعمال کر کے شادی کروانا ریاستہائے متحدہ امریکا میں آج کے دور میں عام نہیں ہے، حالانکہ کئی حکایات اور لوک گیتوں سے پتہ چلتا ہے اٹھارویں اور انیسویں صدیوں صدیوں میں اس طرح کے کئی واقعات پیش آئے۔[حوالہ درکار] اکثر جواں سال جوڑے شاٹ گن شادیاں واضح باہری حوصلہ افزائی کے بغیر شادی انجام دیتے اور کچھ مذہبی تعلیمات یہ اسے اخلاقی فریضہ سمجھتے ہیں کہ اس صورت حال شادی ہی انجام پائے۔

اس طرح کی شادی کے پس پردہ ایک مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ حمل کے ٹھہرنے کے ذمے دار آدمی کو اس کے کیے ندامت کا احساس دلایا جائے؛ دوسرا مقصد یہ ہوتا ہے کہ شکم مادر بنے بچے کی پرورش دونوں ماں باپ کریں۔ کچھ معاملات میں امریکا کے شروعاتی سالوں میں اور مشرق وسطٰی میں ایک اہم مقصد سماجی عزت کو ماں کے لیے بحال کرنا ہے۔[حوالہ درکار] یہ رواج ایک طرح سقم ہے جس سے جائز طریقے سے ناجائز اولاد سے بچتے ہیں یا اگر شادی کافی جلدی انجام پاتی ہے، تو یہ چھپایا جا سکتا ہے کہ اقرار حمل کبھی شادی سے پہلے ہوا ہے۔ کچھ سماجوں میں یہ برادری میں بدنامی کی وجہ ہے کہ حمل شادی کے بندھن سے ہٹ کر ہو۔ یہ وسیع پیمانے پر ہو سکتی ہے، جبر و زیادتی کے طریقے (جو نامناسب اثراندازی کے قانونی دفاع میں ہوں) انتقامًا امکانی خسر استعمال کرتا ہے، جو ایک طرح سے اکثر اس کے "حق" اور ضرورت کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے، چاہے ایسا کرنا خلاف روایت ہی کیوں نہ ہو اور امکانی باپ سن شعور کا ہی کیوں نہ ہو۔[حوالہ درکار]ایسے مواقع اب بہت کم ہو گئے ہیں (کم از کم مغربی دنیا میں) کیوں کہ ماورائے شادی پیدائشوں سے جُڑی بدنامی گھٹ چکی ہے اور ایسی پیدائشوں میں اضافہ ہوا ہے۔[حوالہ درکار] مؤثر ضبط حمل اور اسقاظ حمل کی قانونی اجازت بھی کم تر غیر منصوبہ بند حمل کی وجہ بنے ہیں۔ اس کے باوجود جب بھی کوئی شادی انجام پاتی ہے جب دلہن حاملہ ہو، چاہے اس کے پیچھے کوئی خاندان یا سماجی دباؤ بالکل بھی نہ ہو، اسے کبھی کبھی "شاٹ گن شادی" کا نام دیا جاتا ہے۔

شیماع یسرائیل

شیماع یا شیماع یسرائیل (عبرانی: שמע ישראל؛ انگریزی: Shema Yisrael؛ جسے عرف عام میں کلمہ شیماع اور حکم اعظم بھی کہتے ہیں) یہودیت کی اہم دعا ہے جو کتاب استثنا 6: 4-9 کا پہلا لفظ ہے، اس کے متعلق تورات میں حکم ہے کہ اس کو لیٹ جانے اور اُٹھ کھڑے ہونے پر دہراؤ۔ اس "شیماع یسرائیل" کے لغوی معنے ہیں "سن اے اسرائیل"۔ یہود اپنی روزانہ کی دعاؤں میں اسے دو مرتبہ ضرور پڑھتے ہیں نیز یہودی والدین پر فرض ہے کہ وہ ہر رات سونے سے قبل اپنی اولاد کو یہ آیتیں سکھائیں۔

صدقہ (یہودیت)

یہودیت میں صدقہ (عبرانی: צדקה‎؛ عربی: صدقة؛ انگریزی: Tzedakah) کا تصور اسلامی صدقہ سے فرق ہےـ ہر یہودی پر فرض ہے کہ وہ غریبوں کو خیرات دیں اور قوم کی بہتری کے لیے کام کریں ـ عبرانی لفظ کا تعلق عدل و انصاف سے ہے اور صدقہ دینا انصاف کرنے کے برابر ہے۔ صدقہ کا حکم ہر یہودی پر ہے خواہ وہ امیر ہو یا غریب۔

قبیلہ لاوی

قبیلہ لاوی یا قبیلہ لیوی (Tribe of Levi) بنی اسرائیل کے بارہ قبائل میں سے ایک ہے۔موسیٰ و ہارون نبی اسی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ جس وجہ سے اس قبیلہ کو خاص عزت ملی۔ بائبل کے مطابق خود لاوی پر ان کے باپ یعقوب نبی نے لعنت کی تھی، جس وجہ سے یہ قبیلہ لعنتی ٹھہرایا جاتا رہا، مگر پھر کوہ سیناء پر لاویوں کو جب خدا کے انتظام میں اہم ذمہ داریاں تفویض ہوئیں، تو اس وقت یہ مان لیا گیا کہ خدا کی لعنت، خدا کی رحمت سے بدل گئی ہے۔

مصادر یہودیت

اس مضمون میں پہلے ہزاریے قبل مسیح کے دوران یہودیت کی تاریخی جڑوں پر بحث ہے۔ جدید دور کے یہودیت مذہب کے ماخذ کے لیے ، مصادررہبانی یہودیت دیکھیں.تاریخی حوالوں سے ماخذ یہودیت کانسی دور کے مشرکانہ قدیم سامی مذاہب کی جڑوں میں پایا گیا ہے ، خاص طور پر کنعانی مذہب ، جو ایک ملغوبہ تھا کسدیوں کے مذہب اور یہواہ کی عبادت کے عناصر کا جیسا کہ اولین عبرانی بائبل میں الہامی کتابوں کے حوالوں سے پتہ چلتا ہے ۔ جبکہ آہنی دور میں ، اسرائیلی مذہب دیگر کنعانی مذاہب سے تجدیدِ توحید ہوجانے ( خاص یہواہ کی عبادت کرنے) کیوجہ سے پھر سے منفرد اور ممتاز ہوا ۔

بابل کی اسیری 6ویں اور 5ویں صدی قبل مسیح (آہنی دوم دور) کے دوران ، جلاوطن بابل کے یہود کے بعض حلقوں نے توحید, انتخاب و نبوت , قانون الہی اور شریعت کے بارے میں پہلے سے موجود خیالات میں تحقیق و تجدید کی اور ایک سخت وحدانی عقیدہ رائج کیاجس نے سابق یہوداہ کی مملکت پر آنے والی صدیوں میں پر غلبہ حاصل کیا۔ 5ویں صدی قبل مسیح سے 70 عیسوی تک ، اسرائیلی مذہب دوسرا ہیکل یہودیت کے مختلف مذہبی عقائد پر مبنی مذہب بنا ، جلا وطنی کے دور کے یونانی یہودیت کے علاوہ دوسرے ہیکل یہودیت کو ، نمایاں طور پر زرتشتیت یا مجوسیّت نے متاثر کیا تھا۔ عبرانی بائبل کے متن میں موجود (تحریف سے تجدید ) پر نظر ثانی کی گئی اور اس کی پرانی شکل میں شکل میں لایا گیا اور ممکنہ طور پر مقدس درجہ بھی دیا گیا۔

ربیائ یہودیت 3 اور 6 صدی کے دوران مسلم دورِنبوت اور خلافت کے دوران پروان چڑھی۔ بائبل کے عہد نامہ مَسورا اور تالمود کی تدوین اسی زمانے میں کی گئی۔مَسورا کی طرز میں لکھی گئی قدیم ترین مخطوطات و قلمی نسخہ جات 10ویں اور 11ویں عیسوی صدیوں میں وجود میں آئیں ، یعنی مخطوطہِ حلب کی شکل میں 10ویں صدی کے اخائر میں اورمخطوطہِ لینن گراڈ کی شکل میں مورخہ 1009–1008 عیسوی میں وجود میں آئی- قرون وسطی کے یورپ میں ربیائی ادب کے مختلف متن جلانے اور دبانے کی وجہ سے بچے ہوئے صحائف اور تحاریر اپنے دور کے اخائر میں منظر عام پر آئیں۔ قدیم ترین بابلی تالمود کی بچ رہنے والی نقل کی تاریخ 1342عیسوی ہے۔

کتاب یشوع

کتاب یشوع یا کتاب یوشع (عبرانی: ספר יהושע) عبرانی بائبل کی چھٹی کتاب ہے۔ یہ کتاب یشوع سے منسوب کی گئی ہے، کیونکہ اس کتاب کے تمام واقعات ان سے ہی متعلق ہیں۔ یشوع ایک جنگجو سورما تھے، نڈر مگر دل میں خوف خدا رکھتے تھے۔ کنعان کے حالات دیکھنے کے لیے جانے والوں میں حضرت یشوع بھی شامل تھے مگر واپس آکر جہاد کرنے سے ڈرے نہیں۔ آپ کو موسیٰ نے اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔ اس جانشین مقرر کرنے کا ذکر کتاب استثنا کے باب 31 میں ہے۔ یشوع نے اس کتاب کو چودھویں صدی قبل مسیح کے دوران ترتیب دیا۔ اس کتاب کے بعض مندرجات جن میں آپ کی بیماری اور وفات کا احوال ہے وہ آپ کے بیٹے فنیحاص اور ہارون کے بیٹے الیعزر نے لکھے۔

اس کتاب میں بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح بنی اسرائیل ملک کنعان میں داخل ہوئے، کس طرح اس پر قبضہ کیا اور کس طرح اس ملک میں آباد ہوئے اور کس طرح اس کے اصلی باشندوں کو مطیع یا اس ملک سے نکال باہر کیا۔

کنعان کے اصلی باشندوں پر اللہ تعالیٰ کا قہر اس لیے آیا کہ اُن کے عقائد مشرکانہ تھے اور وہ بہت سے مکروہات میں بھی مبتلا تھے۔ اسی وجہ سے اُن کو نیست و نابود کیا گیا تاکہ بنی اسرائیل کو فضیلت بخشی جائے۔ دوسرا اس سے بنی اسرائیل کے اپنے لوگوں کی عبرت بھی مقصود تھی کہ اگر وہ بھی مشرکانہ عقائد اور مکروہات اپنائیں گے تو اُن کا حشر بھی کنعان کے اصلی باشندوں جیسا ہو گا۔

اس کتاب کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

بنی اسرائیل کی موعودہ ملک کنعان میں داخلہ کی تیاری (باب1 تا باب 5 آیت15)

کنعان میں داخلہ اور تسلط ( باب6 تا باب 12 آیت 24)

اسرائیلی قبیلوں میں زمین کی تقسیم (باب 13 تا باب 21آیت 45)

یشوع کا آخری خطبہ اور دیگر نصائح ( باب ب22 تا باب 24آیت 33)

ہندومت اور یہودیت

ہندومت اور یہودیت کا شمار دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں ہوتا ہے۔ ان دونوں مذاہب میں ابتدا ہی سے خاصی مماثلت پائی جاتی ہے اور ان کے پیروکاروں کے زمانہ قدیم سے آپسی تعلقات رہے ہیں جو آج بھی برقرار ہیں۔

یوشع بن نون

یشوع یا یوشع بن نون (/ˈdʒɒʃuːə/) یا جاہیشوا (عبرانی: יְהוֹשֻׁעַ‎‎ یاہوشوآ یا عبرانی: יֵשׁוּעַ‎‎ یشوعوا; آرامی: ܝܫܘܥ‎ ایشا; یونانی: Ἰησοῦς ،عربی: يوشع بن نون، لاطینی: یوسوے، یوشع ابن نون، ترکی: یوشع)، ایک تورات میں مذکور شخصیت ہے، جسے بطور جاسوس پیش کیا گیا ہے (گنتی 13–14) اور کئی مقامات پر موسی کے مددگار کے طور پر ۔ یوشع، اسلام کے مطابق، موسی کے بھانجے اورجانشین تھے اور ایک جنگجو سورما تھے، نڈر مگر دل میں خوف خدا رکھتے تھے۔ کنعان کے حالات دیکھنے کے لیے جانے والوں میں یشوع بھی شامل تھے مگر واپس آ کر جہاد کرنے سے ڈرے نہیں۔ آپ کو موسیٰ نے اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔ اس جانشین مقرر کرنے کا ذکر کتاب استثنا کے کے باب 31 میں ہے۔ اُن کا عہد چودہویں صدی قبل مسیح کا ہے۔ یشوع سے عہد نامہ قدیم کی ایک کتاب یشوع بھی منسوب ہے۔

قرآن کریم میں بغیر نام لیے آپ کا ذکر سورۃ الکہف کی آیت 60 اور 62 میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام اپنے نوجوان یا شاگرد سے مخاطب ہوئے۔ یہ نوجوان اور شاگرد یشوع علیہ السلام ہی تھے۔

تقسیم
ذیلی تقسیم
پیشرفت
مخطوطات
مزید دیکھیے

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.