ڈیوڈ ریکارڈو

ڈیوڈ ریکارڈو (انگریزی: David Ricardo) (پیدائش: 18 اپریل 1772ء - وفات: 11 ستمبر 1823ء) انیسویں صدی کا مشہور برطانوی عالمِ معاشیات جس نے علمِ معاشیات کا باقاعدہ مطالعہ کیا اور اسے کلاسیکی شکل دی۔ وہ انگلستان کی پارلیمان کے رکن بھی رہے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ان کی تصنیف معاشیات کے اصول اور ٹیکس (On the Principles of Political Economy and Taxes) ہے۔

ڈیوڈ ریکارڈو
(انگریزی میں: David Ricardo
Portrait of David Ricardo by Thomas Phillips
 

معلومات شخصیت
پیدائش 18 اپریل 1772[1][2][3][4] 
لندن[5][6] 
وفات 11 ستمبر 1823 (51 سال)[7][1][8][3][9][4] 
لندن 
مدفن ویلٹشائر 
طرز وفات طبعی موت 
شہریت Flag of the United Kingdom.svg متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
Flag of Great Britain (1707–1800).svg مملکت برطانیہ عظمی (–1 جنوری 1801)
Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ[10] 
جماعت وگ 
رکن چھٹی پارلیمان مملکت متحدہ،  وساتویں پارلیمان مملکت متحدہ 
عملی زندگی
پیشہ ماہر معاشیات،  وفلسفی،  وسیاست دان 
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[11] 
شعبۂ عمل معاشیات 

حالات زندگی

ڈیوڈ ریکارڈو 18 اپریل 1772ء کو لندن، انگلستان میں پیدا ہوئے۔[12] وہ پرتگیزی نژاد سفاردی یہودی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد لندن اسٹاک ایکسچینج کے ارکان تھے۔ 1786ء میں وہ اپنے والد کے کاروبار میں شریک ہو گئے اور غیر معمولی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ مذہبی اختلافات کی وجہ سے وہ اپنے خاندان سے الگ ہو گئے۔ ریکارڈو نے پہلی دفعہ یہ دکھلایا کہ کس طرح قیمتوں کی سطح کا تعلق بینک کرنسی نوٹس سے۔ بینک کرنسی نوٹس میں اضافے سے قیمتیں بڑھتی ہیں۔ انہوں نے معاشیات پر اپنا پہلا مضمون 37 برس کی عمر لکھا جو لندن کے ایک اخبار مارننگ کرانیکل میں شائع ہوا، اس مضمون میں انہوں نے بینک آف انگلینڈ کی جانب سے جاری کیے جانے والے کرنسی نوٹوں کے اجرا میں کمی پر روشنی ڈالی ہے۔ ان کا اہم کارنامہ ان کی تصنیف معاشیات کے اصول اور ٹیکس (On the Principles of Political Economy and Taxes) ہے۔ ان کی دیگر کتابوں میں he High Price of Bullion, a Proof of the Depreciation of Bank Notes (1810) اور Essay on the Influence of a Low Price of Corn on the Profits of Stock (1815) شامل ہیں۔ 1981ء میں جامعہ کیمبرج پریس کی جانب سے ان کی تمام تخلیقات مبنی کلیات بھی شائع ہو چکی ہے۔ 1814ء میں ریکارڈو کاروبار سے الگ ہو کر پارلیمنٹ کے ارکان بن گئے۔ ریکارڈو کی رائے کا تمام ماہرین معاشیات بڑا احترام کرتے تھے۔[13]

وفات

ڈیوڈ ریکارڈو 51 سال کی عمر میں 11 ستمبر 1823ء کو گلوسٹرشائر، انگلستان میں انتقال کر گئے۔ انہوں نے اپنے پسماندگان میں تیں بیٹوں سمیت کل 8 بچے چھوڑے۔ انتقال کے وقت ان کے کل اثاثوں کی مالیت 600,000 پاؤنڈ تھی۔

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11921814d — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. David Ricardo
  3. ^ ا ب Babelio author ID: https://www.babelio.com/auteur/wd/117594 — بنام: David Ricardo — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. ^ ا ب اوکسفرڈ بائیوگرافی انڈیکس نمبر: https://doi.org/10.1093/ref:odnb/23471 — مدیر: Colin Matthew — عنوان : Oxford Dictionary of National Biography — ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس
  5. عنوان : Рикардо, Давид — شائع شدہ از: Brockhaus and Efron Encyclopedic Dictionary. Volume XXVIа, 1899
  6. مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Рикардо Давид — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  7. عنوان : Рикардо, Давид — شائع شدہ از: Brockhaus and Efron Encyclopedic Dictionary. Volume XXVIа, 1899 — اقتباس: Скончался 11 сентября 1823 г.
  8. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w65t3tkb — بنام: David Ricardo — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  9. Babelio author ID: https://www.babelio.com/auteur/wd/117594 — بنام: David Ricardo — مصنف: Leslie Stephen — شائع شدہ از: ڈکشنری آف نیشنل بائیو گرافی — اقتباس: He died on 11 Sept. 1823.
  10. https://libris.kb.se/katalogisering/42gknhsn03mlsh0 — اخذ شدہ بتاریخ: 24 اگست 2018 — شائع شدہ از: 18 جون 2007
  11. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11921814d — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  12. ڈیوڈ ریکارڈو، دائرۃالمعارف برطانیکا آن لائن
  13. جامع اردو انسائیکلوپیڈیا (جلد-3 سماجی علوم)، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی،2003ء، ص 304
معاشیات

معاشیات یا اقتصادیات (Economics) معاشرتی علوم (Social Sciences) کی اہم ایک شاخ ہے جس میں قلیل مادی وسائل و پیداوار کی تقسیم اور ان کی طلب و رسد کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ عربی اور فارسی میں رائج اصطلاح اقتصادیات اردو میں معاشیات کے مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوتی رہی ہے۔ معاشیات کی ایک جامع تعریف جو روبنز (Lionel Robbins) نے دی تھی کچھ یوں ہے کہ 'معاشیات ایک ایسا علم ہے جس میں ہم انسانی رویہ کا مطالعہ کرتے ہیں جب اسے لامحدود خواہشات اور ان کے مقابلے میں محدود ذرائع کا سامنا کرنا پڑے۔ جبکہ ان محدود ذرائع کے متنوع استعمال ہوں'۔ معاشیات آج ایک جدید معاشرتی علم بن چکا ہے جس میں نہ صرف انسانی معاشی رویہ بلکہ مجموعی طور پر معاشرہ اور ممالک کے معاشی رویہ اور انسانی زندگی اور اس کی معاشی ترقی سے متعلق تمام امور کا احاطہ کیا جاتا ہے اور اس میں مستقبل کی منصوبہ بندی اور انسانی فلاح جیسے مضامین بھی شامل ہیں جن کا احاطہ پہلے نہیں کیا جاتا تھا۔ معاشیات سے بہت سے نئے مضامین جنم لے چکے ہیں جنہوں نے اب اپنی علاحدہ حیثیت اختیار کر لی ہے جیسے مالیات، تجارت اور انتظام۔ معاشیات کی بہت سی شاخیں ہیں مگر مجموعی طور پر انہیں جزیاتی معاشیات (Microeconomics) اور کلیاتی معاشیات (Macroeconomics) میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

ینگ بنگال

ینگ بنگال (یا نوجوانان بنگال) تحریک بنگالی نژاد آزاد خیال انقلابی فکر کے حامل افراد کا ایک گروپ تھا جو ہندو کالج، کلکتہ سے ظاہر ہوا۔ انہیں "دیروزی" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ہندو کالج میں ان کے آتش نوا استاد کا نام ہنری لوئی ویوین دیروزیو تھا۔ نوجوانان بنگال ہندو سماج کے موجودہ سماجی و مذہبی ڈھانچے سے سخت بیزار اور آزاد خیالی کی روح سے سرشار تھے۔ آتش جوانی کم ہونے کے بعد ان کی ایک بڑی تعداد نے برہمو سماج تحریک کا رخ کیا۔ینگ بنگال تحریک میں ظاہری طور پر کچھ مسیحی بھی شامل تھے جن میں جنرل اسمبلی کے ادارے کے بانی معظم الیگزینڈر ڈف (1806ء – 1878ء) اور ان کے شاگرد لال بہاری دے (1824ء – 1892ء) جنہوں نے ہندو مت چھوڑ دیا تھا قابل ذکر ہیں۔ اس تحریک کے وارثین میں برجندر ناتھ سیل (1864ء – 1938ء) معروف ہیں جن کا برہمو سماج کے سربر آوردہ مفکرین اور ماہرین الہیات میں شمار ہوتا تھا۔

ینگ بنگال کلاسیکی معاشیات کے پیروکار اور آزاد تجارت کے داعی تھے۔ اس میدان میں ان کے محرک جیریمی بینتھم، آدم اسمتھ اور ڈیوڈ ریکارڈو تھے۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.