وولٹ

وولٹ (علامت:V) برقی جُہد (electric potential)، برقی جُہدی فرق (electric potential difference) یا (وولٹیج) اور حر حرکی قوت کی ایک اکائی ہے۔[1] یہ اطالوی طبیعیات دان ایلیسینڈرو وولٹا کے نام سے منسوب ہے۔

وولٹ
NISTvoltChip
Josephson voltage standard chip developed by the National Bureau of Standards as a standard volt
اکائی کی معلومات
نظام اکائی ایس آئی ماخوذ اکائی
اکائی از الیکٹرک پوٹینشل, برحرکی قوت
علامت V 
Named after ایلیسینڈرو وولٹا
ایس آئی بنیادی اکائیوں میں: kg·m2·s−3·A−1

تعریف

ایک برقی موصل کے دو سروں کے درمیان ایک ایمپئیر (1A) برقی رو|برقی رو (current)]] ایک واٹ (1W) قوت صرف کرے تو اس کا برقی جہد ایک وولٹ (1V) گا۔[2]

حوالہ جات

  1. "SI Brochure, Table 3 (Section 2.2.2)"۔ BIPM۔ مورخہ 2007-06-18 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-07-29۔
  2. BIPM SI Brochure: Appendix 1, p. 144
آسمانی بجلی

آسمانی بجلی (انگریزی: Lightning) دراصل اس وقت پیدا ہوتی ہے۔ جب بادل اور تیز ہوا ایک دوسرے سے رگڑ کھاتے ہیں۔ آسمانی بجلی میں کروڑوں وولٹ اور کروڑوں ایمپئر کرنٹ ہوتا ہے۔ جو زمین پر دو طرح سے لپکتا ہے۔

1۔ جو شخص یا چیز مثلا عمارت اور درخت وغیرہ جو اس جگہ کی مناسبت سے اونچے ترین ہوں، ان پر بجلی گر کر زمین میں چلی جاتی ہے۔

‎2۔ سائنسدانوں کے مطابق زمین میں بھی مثبت یا منفی چارج ہوتا ہے۔ اس لیے آسمانی بجلی بھی اس چارج کی طرف لپکتی ہے اور زمین میں چلی جاتی ہے۔ حد درجہ وولٹیج اور میگا ایمپئرز کی وجہ سے آسمانی بجلی اپنے راستے میں آنے والی ہوا کو IONIZE کر دیتی ہے،جس کی وجہ سے ہوا میں اس کا سفر ممکن ہوتا ہے۔

الیکٹرون وولٹ

طبیعیات میں الیکٹرون وولٹ توانائی ناپنے کی اکائی ہے۔ اسے eV سے ظاہر کرتے ہیں۔

ایک الیکٹرون وولٹ 1.602x10−19 جول (جول) کے برابر ہوتا ہے۔ یہ وہ توانائی ہے جو ایک الیکٹرون ایک وولٹ کے برقی دباو (وولٹیج) کے تحت فاصلہ طے کر کے حاصل کرتا ہے یعنی اگر ایک کیپیسٹر جس کی پلیٹوں کو ایک وولٹ پر چارج کیا گیا ہو، اس کی منفی پلیٹ سے ایک الیکٹرون روانہ ہو اور کشش کے تحت مثبت پلیٹ تک پہنچ جائے تو اس الیکٹرون میں ایک الیکٹرون وولٹ کے برابر توانائی آ جاتی ہے جو مثبت پلیٹ پر ٹکرانے سے پلیٹ میں منتقل ہو جاتی ہے۔ یہ توانائی الیکٹرون پر کیے گئے کام (work done) کے برابر ہوتی ہے۔ (کام= قوت x ہٹاو)

بائنڈنگ انرجی

کسی ایٹم کے مرکزے (nucleus) کو اپنے اجزا میں توڑنے کے لیے جتنی توانائ کی ضرورت ہوتی ہے وہ اس مرکزے کی binding energy کہلاتی ہے۔

کسی مادے کے سب سے چھوٹے ذرے کو ایٹم کہتے ہیں جس کے مرکز میں مرکزہ ہوتا ہے جو نیوٹرون اور پروٹون سے بنا ہوتاہے اور اس کے گرد مختلف مدار میں الیکٹران گردش کرتے ہیں۔ کسی بھی ایٹم کا 99.9 فیصد سے زیادہ وزن اس کے مرکزے کی وجہ سے ہوتا ہے۔

جب ایک نیوٹرون اور پروٹون ایک دوسرے سے جڑتے ہیں تو کچھ توانائ خارج ہوتی ہے۔ جب تک اتنی ہی توانائی دوبارہ نہ ملے یہ نیوٹرون اور پروٹون ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے۔ توانائی کی یہ مقدار ان کی binding energy ہے۔ مرکزہ اگرچہ نیوٹرون اور پروٹون کے ملنے سے بنا ہوتا ہے لیکن اس کی کمیت ہمیشہ ملنے والے اجزا کی مجموعی کمیت سے کم ہوتی ہے۔ کمیت کی یہ کمی آئن سٹائن کی مساوات E = mc2 کے مطابق توانائی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ مادے میں ہونے والی اس کمی کو mass deficit, mass defect یا mass packing fraction بھی کہتے ہیں۔

ایک پروٹون کی کمیت 1.6726x10−24 گرام ہوتی ہے یعنی 1.00728 amu

ایک نیوٹرون کی کمیت 1.6749x10−24 گرام ہوتی ہے یعنی1.00866 amu (نیوٹرون پروٹون سے 0.14% بڑا ہوتا ہے۔ )

ایک الیکٹرون کی کمیت ایک پروٹون کا 1/1837 حصہ ہوتی ہے یعنی 0.000549 amu

ایک ہیلیم کے ایٹم کے مرکزے میں دو پروٹون اور دو نیوٹرون ہوتے ہیں جن کی کمیت کل ملا کر 4.03188 amu بننی چاہیے مگر پیمائش کرنے پر حاصل ہونے والی کمیت اس سے لگ بھگ 0.75 فیصد کم ہوتی ہے یعنی 4.00153 amu ہوتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ دو پروٹون اور دو نیوٹرون جب ملکر ہیلیم کا مرکزہ بناتے ہیں تو 0.03035 amu کے برابر مادہ تحلیل ہو کر توانائ بن جاتا ہے۔ یہ توانائی گاما شعاع کی شکل میں خارج ہوتی ہے جس کی توانائی دوکروڑ 83 لاکھ الیکٹران وولٹ ہوتی ہے۔ یہ توانائی کی بہت بڑی مقدار ہے۔ عام کیمیائی بند (chemical bond) توڑنے کے لیے اس سے کہیں کم توانائی کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً ہائیڈروجن کے ایٹم سے الیکٹران نکالنے کے لیے صرف 13.6 الیکٹران وولٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔

ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم سے نکلنے والی توانائی دراصل یہی بائینڈنگ انرجی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس بارود، ٹی این ٹی، نائیٹروگلسرین یا RDX کے پھٹنے سے نکلنے والی توانائی کیمیائی بند (chemical bond) کے ٹوٹنے اور کمتر توانائی کے نئے کیمیائی بند بننے سے خارج ہوتی ہے۔

سورج اور دوسرے ستاروں کی چمک دمک بھی اسی بائینڈنگ انرجی کا نتیجہ ہے۔ ایٹمی بجلی گھر سے حاصل ہونے والی بجلی بھی اسی بائینڈنگ انرجی سے حاصل ہوتی ہے۔

برقی مزاحمت

جب کسی جسم سے بجلی گزرتی ہے تو وہ جسم بجلی کے بہاؤ کے خلاف مزاحمت پیش کرتا ہے جسے برقی مزاحمت کہاجاتا ہے۔ برقی مزاحمت کی اِکائی اوھم (Ohm) ہے۔ اِس کا معکوس برقی ایصالیت ہے جس کی اِکائی μ (سیمن / mue) ہے۔ ہموار برقی کثافت میں برقی مزاحمت R، کسی جسم کے طبعی ہندسہ اور مواد کی مزاحمیت (جس سے وہ جسم بنا ہے) کا مشترکہ فعل ہے۔


جہاں :
‘‘l’’ لمبائی ہے
‘‘A’’ عمود تراشی رقبہ ہے
‘‘ρ’’ مواد کی مزاحمیت ہے

برقی مزاحمت R بتاتی ہے کہ دیے گئے "برقی جُہد اختلاف"V کے لیے کسی جسم میں سے گزرنے والی جار برقی I کی مقدار کتنی ہے

تجزیہ نہیں کر پایا (نحوی نقص): {\displaystyle R = \frac‎{V‎}{I}}

جہاں :

R جسم کی مزاحمت (اِکائی: اوھم)
V جسم کے آرپار جہد اختلاف (اِکائی: وولٹ)
I جسم میں سے برقی جار (بہاؤ) (اِکائی: ایمپئر)

وولٹیج کو برقی بھاؤ پر تقسیم کی نسبت کو حبلی مزاحمت بھی کہاجاتا ہے۔

جوہری کمیتی اکائی

جوہری کمیتی اکائی (انگریزی: Atomic mass unit) یا ڈالٹن (Dalton)، کمیت کی ایک اکائی ہے جسے جوہروں اور سالموں کی کمیت کے اظہار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے amu سے ظاہر کرتے ہیں۔

کاربن کے دو پائیدار ہم جاء یعنی isotopes ہوتے ہیں۔ ہلکے آیسوٹوپ میں چھ پروٹون اور چھ نیوٹرون ہوتے ہیں۔ اسے 12C سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ ایٹم دوسرے ایٹموں اور ایٹمی ذرات کے لیے ایک معیار مانا گیا ہے اور اس کی کمیت کو amu 12 مانا گیا ہے۔ اگر کوئی ایٹم ہلکے کاربن سے بارہ گنا کم کمیت رکھتا ہے تو اس کی کمیت ایک amu کہلائے گی۔ ایک amu یعنی ایک ڈالٹن 1.66053886x10-24 گرام کے برابر ہوتا ہے یعنی 931.494 میلین الیکٹرون وولٹ کے برابر ہوتا ہے۔

کاربن کی دوسری قسم کے ایٹم میں چھ پروٹون کے ساتھ سات نیوٹرون ہوتے ہیں۔ اس کی کمیت 13.003355 amu ہوتی ہے۔ اسے 13C سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ کاربن کے دوسرے آیسوٹوپ پائیدار نہیں ہوتے۔

دقیقہ

وقت کی اکائی کے معنوں میں دیکھیےدقیقہ (وقت)

خفیف (دقیق) کے معنوں میں دیکھیےدقیقہ (وراثیات)

فرلانگ

فاصلے کی پیمائش جو ایک میل کے آٹھویں حصے اور220گز اور 201.168 میٹر کے برابر ہوتی ہے۔

فشن بمقابلہ فیوزن

ایٹم کے مرکزے (atomic nucleus) کا ٹوٹنا فشن (fission) اور جڑنا فیوژن (fusion) کہلاتا ہے۔

فٹ

فٹ (انگریزی: Foot (unit)) لمبائی کی پیمائش کی ایک اکائی ہے جو امریکہ، برطانیہ اور کئی دوسرے ممالک میں استعمال ہوتی ہے۔ ایک فٹ 0.3048 میٹریا 304.8ملی میٹر کے برابر ہے۔ ایک فٹ میں 12 انچ ہوتے ہیں۔

لٹر

لٹر (انگریزی: Litre) ایک پیمائشی اکائی ہے جو ایک مکعب ڈیسی میٹر، ایک ہزار مکعب سنٹی میٹر یا 1/1000 مکعب میٹر ہے برابر ہے۔

میٹر

میٹر (Metre) ناپ تول کے اعشاری نظام میں لمبائی کا ناپ ہے۔ ایک میٹر میں 3.281 فٹ یا 39.37 انچ ہوتے ہیں۔

علم طبیعیات میں میٹر کی تعریف یوں کی گئی ہے:

’’میٹر وہ فاصلہ ہے جو روشنی خلا مین ایک سیکنڈ کے 299792458 ویں حصے میں طے کرتی ہے۔‘‘

واٹ

واٹ (Watt) طاقت کو ناپنے کی اکائی ہے۔ ایک واٹ ایک جاؤل فی سیکنڈ کے برابر ہے۔واٹ طاقت کی اکائ ہے جبکہ واٹ آور watt hour توانائ یا کام کی اکائ ہے۔

وولٹیج

برقی جُہد (electric potential) ، برقی جُہدی فرق (Electric Potential Difference) یا وولٹیج (voltage) کو صرف جُہدی فرق (potential difference) ( مخفف P.D) بھی کہتے ہیں اور اسے ترچھے V سے ظاہر کرتے ہیں۔ اسے وولٹ بھی کہتے ہیں۔ یہ وہ دباؤ ہوتا ہے جس کی وجہ سے بجلی رواں ہوتی ہے یا آسان الفاظ میں یہ وہ دھکا ہوتا ہے جو الیکٹرون کو بہنے پر مجبور کرتا ہے۔ ماضی میں اس کے لیے برقی دباؤ (electric pressure) اور ٹینشن Tension کی اصطلاح استعمال کی جا چکی ہیں۔ ٹینشن کا لفظ آج بھی کبھی کبھی استعمال ہوتا ہے جیسے ہائ ٹینشن وائرز۔

وولٹیج کو وولٹ میں ناپتے ہیں اور وولٹ کو کھڑے V سے ظاہر کرتے ہیں۔

پور

انچ (Inch) لمبائی کا ایک پیمانہ ہے۔ یہ امریکہ، برطانیہ اور کئی ملکوں میں مستعمل ہے۔ ایک فٹ میں 12 انچ ہوتے ہیں اور ایک انچ میں 25.4 ملی میٹر ہوتے ہیں۔ انچ کو " کے نشان سے بھی لکھا جاتا ہے۔

ڈائیوڈ

ڈائیوڈ (diode) دو سروں (pins) والے ایسے الیکٹرونک آلے (component) کو کہتے ہیں جو مثبت اور منفی دو سروں پر مشتمل ہوتا ہے اس کی یہ خاصیت ہے کہ یہ مثبت سرے سے منفی سرے تک کرنٹ گزرنے دیتا ہے مگر منفی سرے سے مثبت سرے تک کرنٹ نہیں گزرنے دیتا۔ اس طرح ڈائیوڈ بجلی کے ایک check valve کا کام کرتا ہے۔

ڈائیوڈ نیم موصلوں سے بنے ہوتے ہیں۔ ان میں P اور N قسم کے مادے کا ایک جنکشن ہوتا ہے۔ زیادہ تر ڈائیوڈ سیلیکون Silicon سے بنے ہوتے ہیں۔ کچھ ڈائیوڈ جرمینیئم سے بھی بنتے ہیں۔ آج بھی پارے سے بھرے ویکیوم ٹیوب کے ڈائیوڈ بھاری کرنٹ کے لیے صنعتی استعمال میں آتے ہیں۔

سلیکون سے بنے ڈائیوڈ لگ بھگ 0.7 وولٹ سے کم وولٹیج پر کام نہیں کرتے۔ جرمینیئم سے بنے ڈائیوڈ لگ بھگ 0.3 وولٹ سے کم وولٹیج پر کام نہیں کرتے۔ دوسرے الفاظ میں اگر کسی اڈاپٹر یا بیٹری چارجر کی وولٹیج 0.7 وولٹ کم کرنی ہو تو لوڈ کے ساتھ سیریز میں ایک سلیکون ڈائیوڈ استعمال کرنا چاہیئے۔

کلو میٹر

ہزارہ لفظ الف اور پیمائشی لفظ پیما کا مرکب ہے۔

انگریزی نام : kilometerکلومیٹر (Kilometre) لمبائی کا پیمانہ ہے۔ یہ ایک ہزار میٹر کے برابر ہے۔ بین الاقوامی اکائیوں کے نظام میں یہ لمبائی کا پیمانہ ہے۔

ایک کلومیٹر = 1000 میٹر

ایک کلومیٹر = 0.621 میل

ایک کلومیٹر = 1094 گز

ایک کلومیٹر = 3281 فٹ

ایک میل = 1.609344 کلومیٹر

کلوگرام

کلوگرام یا ألف گرام (Kilogram)، ناپ تول کے اعشاری نظام میں کمیت کا پیمانہ ہے۔ ایک کلوگرام میں ایک ہزار گرام ہوتے ہیں۔ ایک کلوگرام 2.205 پاؤنڈ کے برابر ہے۔

کولمب

بین الاقوامی نظام اکائیات میں کولمب برقی بار electrical charge کی اکائ ہے۔ یہ Charles-Augustin de Coulomb کے نام پر رکھی گئی ہے اور اسے C سے ظاہر کرتے ہیں

یہ برقی بار کی وہ مقدار ہوتی ہے جو ایک ایمپیر ampere کی برقی رو electrical current کے تحت ہر سیکنڈ میں گزرتی ہے

اسے یوں بھی بیان کر سکتے ہیں کہ یہ برقی بار electrical charge کی وہ مقدار ہوتی ہے جو ایک فیراڈ farad کی گنجائش والے گنجائش دار capacitor میں ایک وولٹ کے تحت جمع ہو جائے۔

ایک کولمب برقی بار 6.241 509 629 152 65 × 1018 برقیوں electrons کے مجموعی برقی بار کے برابر ہوتا ہے

ایک عام AA بیٹری جس کی صلاحیت 2890 ملی ایمپیر آور ہوتی ہے وہ 10404 کولمب کا برقی بار charge بہانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ہرٹز

ہرٹز (Hertz) ناپ تول کے اعشاری نظام میں تعدد (Frequency) کا پیمانہ ہے۔ ایک ہرٹز کا مطلب ایک چکر فی سیکنڈ ہے۔

بنیادی اکائی
ماخوذ اکائیوں کے نام
دیگر مستعمل اکائیاں
مزید دیکھیے

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.