نوآبادیاتی ہندوستان

نوآبادیاتی ہندوستان یا استعماری ہندوستان (Colonial India) تجارت اور فتح کے ذریعے یورپی نوآبادیاتی طاقتوں کے دائرہ کار کے تحت جنوبی ایشیا کا حصہ ہے۔

نوآبادیاتی ہندوستان
IndiaPolitical1893ConstablesHandAtlas
نوآبادیاتی ہندوستان کے شاہی وجود
ولندیزی ہند 1605–1825
ولندیزی-ناروے ہند 1620–1869
فرانسیسی ہند 1769–1954
ہندوستان گھر 1434–1833
پرتگیزی ایسٹ انڈیا کمپنی 1628–1633
برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی 1612–1757
کمپنی راج 1757–1858
برطانوی راج 1858–1947
برما میں برطانوی راج 1824–1948
نوابی ریاستیں 1721–1949
تقسیم ہند
1947

بیرونی روابط

جنگیں

مزید دیکھیے

برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی

برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی یا برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی یا برطانوی شرق الہند کمپنی جسے انگریزی (British East India Company) کہا جاتا ہے، جزائر شرق الہند میں کاروباری مواقع کی تلاش کے لیے تشکیل دیا گیا ایک تجارتی ادارہ تھا تاہم بعد ازاں اس نے برصغیر میں کاروبار پر نظریں مرکوز کر لیں اور یہاں برطانیہ کے قبضے کی راہ ہموار کی۔ 1857ء کی جنگ آزادی تک ہندوستان میں کمپنی کا راج تھا۔ اس کے بعد ہندوستان براہ راست تاج برطانیہ کے زیر نگیں آ گیا۔

برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کو 1600ء میں ملکہ الزبتھ اول کے عہد میں ہندوستان سے تجارت کا پروانہ ملا۔ 1613ء میں اس نے سورت کے مقام پر پہلی کوٹھی قائم کی اس زمانے میں اس کی تجارت زیادہ تر جاوا اور سماٹرا وغیرہ سے تھی۔ جہاں سے مصالحہ جات برآمد کرکے یورپ میں بھاری داموں بیچا جاتا تھا۔ 1623ء میں جب ولندیزیوں (ڈچ) نے انگریزوں کو جزائر شرق الہند سے نکال باہر کیا تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی تمام تر توجہ ہندوستان پر مرکوز کر دی۔ 1662ء میں بمبئی بھی اس کے حلقہ اثر میں آ گیا۔ اور کچھ عرصہ بعد شہر ایک اہم تجارتی بندرگاہ بن گیا۔ 1689ء میں کمپنی نے علاقائی تسخیر بھی شروع کردی جس کے باعث بالآخر ہندوستان میں برطانوی طاقت کو سربلندی حاصل ہوئی۔ 1795ء میں جب فرانس نے نیدرلینڈ (ڈچ) فتح کر لیا تو برطانیہ نے ڈچ کولونیوں پر قبضہ کر لیا۔ نیدر لینڈ کے بڑے بینکار (Hope) لندن منتقل ہو گئے اور اس طرح مالیاتی مرکز ایمسٹرڈم سے لندن منتقل ہو گیا۔1858ء میں یہ کمپنی ختم کردی گئی اور اس کے تمام اختیارات تاج برطانیہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ تاہم 1874ء تک کچھ اختیارات کمپنی کے ہاتھ میں رہے۔ ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی 1602ء میں بنی تھی مگر برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی سے زیادہ بڑی ثابت ہوئی۔ ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کے پاس 4785 بحری جہاز تھے جبکہ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے پاس 2690 جہاز تھے۔

انگلش ایسٹ انڈیا کمپنی دنیا کی پہلی لمٹڈ کمپنی تھی۔ اس کے 125 شیئر ہولڈرز تھے اور یہ 72000 پاونڈ کے سرمائے سے شروع کی گئی تھی۔2010ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو ہندوستانی نژاد برطانوی کاروباری شخصیت سنجیو مہتا نے خرید لیا۔

برطانوی راج

برطانوی راج یا برطانوی ہند (غیر باضابطہ نام: سلطنت ہندوستان) (انگریزی: British Raj یا British India، باضابطہ نام Indian Empire) کی اصطلاح 1858ء سے 1947ء تک برطانیہ کے زیر نگیں بر صغیر کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

سلطنت ہندوستان علاقائی و بین الاقوامی سطح پر "ہندوستان" کے نام سے جانی جاتی تھی۔ "ہندوستان" جمعیت اقوام کا تاسیسی رکن اور 1900ء، 1920ء، 1928ء، 1932ء اور 1936ء کے گرمائی اولمپک کھیلوں میں شامل ہوا۔

برطانوی ہند کی ایجنسیاں

ایجنسی برطانوی ہند کی 1947ء سے قبل ایک انتظامی اکائی تھی۔

برطانوی ہند کے صوبے اور علاقے

برطانوئی ہند کے صوبے اور علاقے انگریزوں نے اپنے دور حکمرانی میں برصغیر کو انتظآمی طور پر مختلف علاقوں اور صوبوں میں بانٹ رکھا تھا اور کام انھوں نے سنہ 1612 ء سے 1947 تک جاری رکھا۔ اس انتظامی تایخ کو تین مختلف ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

1612 تا 1757 تکایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کے مشرقی علاقوں پر مغل بادشاہوں کی اور مقامی راجاوں کی اجازت سے کچھ علاقوں اجارادری کی۔ جن میں مدراس، بمبئی اور کلکتہ شامل تھے۔

نقاطی فہرست کی مَد

تحریک آزادی ہند

تحریک آزادی ہند (Indian independence movement) خیالات اورسرگرمیوں پر مبنی ایسی تحریک تھی جو پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی (1757ء - 1858ء) اور بعد میں برطانوی راج (1858ء - 1947ء) سے آزادی کی جدوجہد میں سرگرم تھی۔

سویڈش ایسٹ انڈیا کمپنی

سویڈش ایسٹ انڈیا کمپنی (Swedish East India Company)

(سویڈنی: Svenska Ostindiska Companiet) یوہتیبوری، سویڈن میں 1731ء میں مشرق بعید سے تجارت کے لیے قائم کی جانے والی ایک کمپنی تھی۔

فرانسیسی ایسٹ انڈیا کمپنی

فرانسیسی ایسٹ انڈیا کمپنی (French East India Company)

(فرانسیسی: Compagnie française pour le commerce des Indes orientales) شرق الہند میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی اور ولندیزی ایسٹ انڈیا کمپنی کا مقابلہ کرنے کے لیے 1664ء میں قائم ایک فرانسیسی کاروباری کمپنی تھی۔

فرانسیسی ہندوستان

فرانسیسی ہند یا فرانسیسی ہندوستان (French India) رسمی طور پر

(فرانسیسی: Établissements français dans l'Inde) برصغیر میں ایک فرانسیسی نوآبادی تھی۔

مدراس پریزیڈنسی

مدراس پریزیڈنسی (Madras Presidency) جسے صوبہ مدراس (Madras Province) بھی کہا جاتا تھا، برطانوی ہند کی ایک انتظامی تقسیم (پریزیڈنسی) تھی۔

نمک مارچ

ڈنڈی مارچ یا نمک مارچ تحریک آزادی ہند کا اہم واقعہ ہے۔ یہ مارچ 12 مارچ 1930ء کو ہوا۔ 12 مارچ 1930 کو گاندھی نے اپنے 80 ستیہ گری ساحلی شہر ڈانڈی گجرات کی طرف پیدل مارچ کیا۔ یہ مارچ 390 کلو میٹر (240 میل) تھا۔ نمک مارچ کو وائٹ فلوئنگ ریور(White Flowing River) بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس مارچ میں شریک سب افراد نے سفید کھدر پہنی ہوئی تھی۔

نوآبادی

نوآبادی یا کالونی (colony) سے مراد ایسا علاقہ یا ملک ہوتا ہے جہاں غیر ملکیوں کی حکومت ہو۔ یہ غیر ملکی اس نوآبادی کی دولت مختلف طریقوں سے لوٹ کر اپنے ملک میں منتقل کرتے ہیں جس سے نوآبادی میں غربت بڑھتی چلی جاتی ہے جبکہ نوآبادی پر قبضہ کرنے والے ملک میں بڑی خوشحالی آ جاتی ہے۔ نوآبادی پر قبضہ کرنے والے ملک کو استعماری ملک (imperial power) کہا جاتا ہے۔

ولندیزی ایسٹ انڈیا کمپنی

ولندیزی ایسٹ انڈیا کمپنی (Dutch East India Company)

(ولندیزی: Vereenigde Oost-Indische Compagnie) ولندیزی ہند کی آبادیوں اور تجارتی بندرگاہوں کے مفادات کے لیے قائم کی جانے والی ایک قومی چارٹرڈ کمپنی تھی۔

ولندیزی ہند

ولندیزی ہند یا ولندیزی ہندوستان (Dutch India) ایک اصطلاح ہے جسے ولندیزی ایسٹ انڈیا کمپنی کی آبادیوں اور تجارتی بندرگاہوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

پرتگیزی ایسٹ انڈیا کمپنی

پرتگیزی ایسٹ انڈیا کمپنی (Portuguese East India Company)

(پرتگیزی: Companhia do commércio da Índia or Companhia da Índia Oriental) پرتگیزی ہند میں پرتگیزی سلطنت کے مفادات کے لیے قائم کی جانے والی ایک قلیل مدتی قومی چارٹرڈ کمپنی تھی۔

ڈینش ایسٹ انڈیا کمپنی

ڈینش ایسٹ بھارت کمپنی (Danish East India Company) (ڈینش: Ostindisk Kompagni)

سے مراد دو الگ الگ سے ڈینش نورویجینی چارٹرڈ کمپنیاں ہیں۔

ڈینش ہند

ڈینش ہند یا ڈینش ہندوستان (Danish India) ہندوستان میں ڈنمارک-ناروے کی سابقہ نوآبادی تھی۔

ہندوستان گھر

ہندوستان گھر (Casa da Índia)

(پرتگیزی تلفظ: [ˈkazɐ dɐ ˈĩdiɐ]

، India House) سولہویں صدی میں ایک پرتگیزی تنظیم تھی جو پرتگیزی سلطنت کے تمام بیرون ملک علاقوں کا انتظام سنبھالتی تھی۔

ہوم چارجیز

1947ء میں آزادی سے پہلے ہندوستان کو اپنی غلامی کی جو قیمت برطانیہ کو ہر سال ادا کرنی پڑتی تھی وہ ہوم چارجیز (Home Charges) کہلاتی تھی۔

اگرچہ دعویٰ یہ کیا جاتا تھا کہ اس رقم سے برطانوی ہند کے سرکاری ملازمین کی تنخواہ، پنشن، فوجی اخراجات اور جنگی اخراجات وغیرہ پورے کیے جاتے تھے۔ ہندوستان کے نام پر لیے گئے قرضوں کا سود، ایسٹ انڈیا کمپنی کے شیئر ہولڈروں کے منافع (Dividend)، ریلوے پر لگائی گئی رقم کا سود، عوامی اور فوجی منتظمی کے اخراجات وغیرہ بھی اس میں شامل تھے لیکن غالباً یہ برطانوی حکمرانوں کو نذرانہ پیش کیا جاتا تھا۔ یہ شرط بھی عائد تھی کہ برطانوی ہند کے حکومتی اخراجات کا 30 فیصد برطانوی اشیا کی خریداری پر صرف ہوگا۔

1893ء میں حکومت ہند کی آمدنی کا چوتھائی حصہ ہوم چارجز کی مد میں خرچ ہوتا تھا۔

Indian government, one-fourth of whose revenue is used under normal conditions to meet obligations in England

یونینسٹ پارٹی (پنجاب)

یونینسٹ پارٹی (Unionist Party) برطانوی راج کے دوران صوبہ پنجاب میں ایک سیاسی جماعت تھی۔

موضوعات  بھارت

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.