نجات

مذاہب میں نجات اعلٰی طاقت یا خدا انسانیت کی ابدی جہنم سے محفوظ کرتا ہے کہ اس تصور کے طور پر حوالہ دیا ہے۔ یہ آخرت کی بات آتی ہے تو ہمیشہ کی زندگی کے ساتھ فراہم کرنے کے لیے کہا جاتا ہے ۔[1]

حوالہ جات

  1. نجات کا مطلب کیا ہے؟ - سوالات و جوابات
آسیہ

آسیہ بنت مزاحم مصر کے بادشاہ فرعون کی بیوی تھیں۔ بہت پارسا اور ہمدرد خاتون تھیں۔ جب موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تو ان کی والدہ صاحبہ نے انہیں ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں بہا دیا۔ تاکہ فرعون کو پتہ نہ لگ جائے اور وہ انہیں قتل نہ کر دے۔ جب یہ صندوق فرعون کے محل کے قریب پہنچا تو آسیہ نے صندوق کو دیکھ کر اسے دریا سے باہر نکلوا لیا۔ پیارا ننھا بچہ نظر آیا تو بڑی محبت سے اس کی پرورش کی۔

آسیہ فرعون سے اپناایمان مخفی رکھتی تھی اوربعد میں اسے اس کے متعلق علم ہو گیا تھا۔ ان کے بارے میں بعض نصوص اور ان کی شروحات والتفسیر پیش خدمت ہے :

1 - فرمان باری تعالٰی ہے :

"اللہ تعالٰی نے ایمان والوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان کی ہے کہ جب اس نے کہا اے میرے رب میرے لیے اپنے پاس جنت میں گھر بنا، اورفرعون اوراس کے عمل سے نجات نصیب فرمااورمجھے ظالموں کی قوم سے بھی نجات عطا فرما۔2 - ابو موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :

مردوں میں سے توبہت سے درجہ کمال تک پہنچے لیکن عورتوں میں سے سوائے فرعون کی بیوی آسیہ اورمریم بنت عمران کے کوئی اورعورت درجہ کمال تک نہیں پہنچی، اورعائشہ رضي اللہ تعالٰی عنہا کی باقی سب عورتوں پرفضيلت اسی طرح ہے جس طرح ثرید باقی سب کھانوں پرافضل ہے۔ ۔3 – ابن عباس بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زمین پر چار لکیریں لگائيں اورفرمانے لگے :

کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوزيادہ علم ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :

جنتی عورتوں میں سب سے افضل خدیجہ بنت خویلد اورفاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم اورمریم بنت عمران رضي اللہ تعالٰی عنہن اجمعین ہیں۔ ۔4 - انس بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :

آپ کو( کمال کے اعتبارسے ) دنیا کی سب عورتوں سے مریم بنت عمران اور خدیجہ بنت خویلد اورفاطمہ بنت محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) اور فرعون کی بیوی آسیہ ( رضی اللہ تعالٰی عنہن ) کافی ہیں ۔

امام ترمذی نے اسے صحیح قراردیا ہے۔ 5 - حافظ ابن حجر کا کہنا ہے :

فرعون کی بیوی آسیہ علیہ السلام کے فضائل میں سے ہے کہ انہوں نے دنیا کی ان نعمتوں کے بدلے میں جس میں وہ تھیں دنیا کے عذاب وتکالیف اوربادشاہی کے بدلے میں قتل ہونا اختیارکرلیا اور ان کی موسی علیہ السلام کے متعلق فراست سچی تھی جب انہوں نے موسی علیہ السلام کے بارے میں ( ان کو دریا سے نکالتے ہوئے ) یہ کہا یہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ ۔

ادویت

ادویت ۔ (سنسکرت:अद्वैत वेदान्त) یعنی وحدت وجود۔ یہ خاص قسم کا تصور بہت ہی قدیم ہے۔ اگرچہ اس کی آخری شکل میں یہ زیادہ تر شنکر آچاریہ کا مرہون منت ہے۔ نظری پہلو کے لحاظ سے اس کی اہم ترین خصوصیات یہ ہیں:

اساسی اور آخری حقیقت کے طور پر نرگن برہم کا تصور۔

نتیجہ کے طور پر مایا کے نظریے میں اعتقاد۔

جیو اور برہم کا بالکل ایک اور یکساں ہونا

نجات کا تصور جو برہم میں جیو کے جذب ہو جانے پر مشتمل ہے اور عملی پہلو کے لحاظ سے اس میں مکمل ترک کی حمایت کی جاتی ہے۔ اس مفہوم میں کہ گیان اور صرف گیان ہی نجات کا ذریعہ ہے۔

انجیلی مسیحیت

انجیلیت (انگریزی: Evangelicalism)، انجیلی مسیحیت یا انجیلی پروٹسٹنٹ ایک اناجیلی عقائد یا اصول یا ان عقائد کی پابندی کرنے والی پروٹسٹنٹ مسیحیت کی جماعت ہے۔ انجیلیت کا مسلک تعلیمات مسیح کا یہ عقیدہ ہے کہ نجات کا انحصار ایمان اور عقیدے پر ہے اور یہ کہ تبلیغ کو مذہبی رسومات پر فوقیت حاصل ہے۔یہ وہ مسیحی جماعت ہے جس کا ایمان کُلی طور پر انجیل پر ہے۔ وہ مسیحی جو اس عقیدے کے حامل ہیں انجیل کی بنیادی تعلیم پر کامل ایمان رکھتے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسان کی نجات صرف یسوع مسیح کے خون کی قربانی سے حاصل ہو سکتی ہے۔

اصلاح کلیسیا کے بعد اصولی طور پر سب پروٹسٹنٹ کلیسیائیں انجیلی تھیں کیونکہ یہ احتجاجی تحریک بائبل کے اختیار کو کلیسیائی اختیار پر ترجیح دیتی تھی۔

انجیلی مسیحی پاک کلام کو الہامی قبول کرتے اور اُسے اپنے ایمان اور عمل کے لیے معیاری قانون گردانتے ہیں۔ وہ پاک کلام کے بنیادی مسائل پر پورا ایمان رکھتے ہیں یعنی یسوع کا کنواری سے پیدا ہونا، ان کی بے گناہی، صلیبی موت اور جی اٹھنا اور دوبارہ زمین پر عدالت کرنے کے لیے آنا۔

بدھ مت

بدھ مت ایک مذہب اور فلسفہ ہے جو مختلف روایات، عقائد اور طرز عمل كو محیط كيا ہوا ہے، جس کی زیادہ تر تعلیمات کی بنیاد سدھارتھ گوتم کی طرف منسوب ہیں، عام طور پر بدھ (سنسکرت "ايک جاگت") کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ دنیا کے بڑے مذاہب میں سے ایک مذہب بدھ مت بھی ہے۔ بدھا کچھ چوتھی سے پانچویں صدی قبل مسیح کے درمیان میں شمال مشرقی بر صغیر میں رہتے تھے اور تعليمات ديتے تھے۔ انہيں بدھ مت لوگ "ایک جاگت" یا "روشن خیال ٹیچر" كے نام سے مانتے ہیں۔ انھوں نے حیات احساسی کو مشکلات سے نجات حاصل كرنا،نروان كو حاصل كرنا اور تکلیف اور دوسرے جنموں كی مشكلات سے بچنا سكھايا۔

دگمبر

دگمبر جین مت کے ایک فرقہ کا نام ہے۔ یہ سنسکرت لفظ دک (آکاش) اور انبر (لباس) سے نکلا ہے۔ برہنہ اور ننگے کو دگمبر کہتے ہیں۔ ہندوؤں کے درمیان شیو بھگوان کا یہی نام ہے۔ جن کی بابت روایت ہے کہ وہ برہنہ رہتے تھے۔ ایک زمانہ تھا جب ایسے سادھو ہندوؤں کے درمیان کہیں کہیں نظر آ جایا کرتے تھے۔ اب یہ گرو معدوم ہو گئے ہیں۔ دِگمبری جینی بھی ننگے رہتے ہیں۔

ان کا عقیدہ ہے کہ ان کے سادھو یا سنت کو ہی برہنہ رہنا چاہیے۔ وہ غذا اور خواہش کے محتاج نہیں ہوتے۔ اِن کے برہنہ رہنے کا خیال پرانا نہیں ہے بلکہ بہت قدیم ہے اور جینی اور ہندو دونوں میں عام ہے۔ ممکن ہے کہ یہ خیال رشبھ دیو کے زمانہ سے چلا آتا ہو۔ کیونکہ جب انھوں نے ترک دنیا کیا تھا اسی وضع میں رہتے تھے۔ یہ روایت ہے کہ دِگمبر جینی اپنی مورتوں کو کپڑے نہیں پہناتے اُن کی مورتیاں ننگی بنائی جاتی ہیں اور اس وجہ سے ہندو معترض رہتے ہیں کہ ننگی مورت کا دیکھنا پاپ ہے لیکن یہ اعتراض ہی اعتراض ہے۔ جب خود ہندوؤں میں ننگے سادھو (نانگا) اب تک موجود ہیں تو جینیوں کے بابت ان کا یہ اعتراض بیجا ہے۔

دگمبر اور جینیوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہ عورتوں کو نجات یا مُکتی کی برکت سے محروم تصور کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اُن کے یہاں کبھی عورتوں کے وہار یا مٹھ نہیں ہوا کرتے تھے۔ یہ صرف اپنے آپ کو سچا جینی مانتے ہیں اور شویتامبر فرقے تک کے ضابطہ کو غلط قرار دیتے ہیں۔

شیو مت

شیو مت (ہندی: शैव) یا شیو پنتھ ہندو مت کے بڑے فرقوں میں سے ایک ہے جو شیو کو حاکم مطلق کی حیثیت سے پوجتے ہیں۔ شیو بھگت شیو پرست یا شیوی کہلاتے ہیں۔ آج ہندومت میں شیو مت کے کئی طبقے ہیں سب ویدوں اور مخصوص شیوی کتب سے مقدس صحائف کی طرح عقیدت رکھتے ہیں۔ اُن کا فلسفیانہ نظریہ یہ ہے کہ شیو حقیقت مطلق ہے وہ تخلیق کرنے والا، زندگی اور موت دینے والا دیوتا ہے۔ بنی نوع انسان کو جہالت، کرم اور التباس کے سبب شیو کو الگ سمجھا جاتا ہے۔ شیو سے تعلق بنانے کی خاطر لوگوں کو اُس کے بتائے ہوئے راستے کی پیروی اور اس کی پیروی کرنی چاہیے اور اس کے مندر میں اس کے حضور پیش ہوں۔ انہیں گرو کی زیر ہدایت مطالعہ اور مراقبہ کرنا چاہیے۔ بعض شیو پرستوں کی نظر میں خصوصی منتر دوہرانا ضروری ہے۔ یہ تمام افعال شیو اور پوجا کرنے والے کے مابین اتحاد قائم کرتے ہیں اور قطعی نتیجہ موکش (نجات) ہوتا ہے۔

طالوت

طالوت کا ذکر قرآن کریم میں ایک نیک بادشاہ کے طور پر آیا ہے جو موسی علیہ السلام کے بعد پیغمبر سموئیل علیہ السلام کے وقت میں تخت نشین ہوئے اور بنی اسرائیل کو ظالموں کے ظلم سے نجات دلائی۔

عاشورا

عاشورا یا یوم عاشورا اسلامی تقویم کے مہینے محرم الحرام کے دسویں دن کو کہا جاتا ہے۔ اس دن شیعہ مسلمانوں کی اکثریت اور کچھ سنی مسلمان پیغمبر اسلام محمد کے نواسے حسین ابن علی کی شہادت کو مختلف طریقوں سے یاد کرتے ہیں۔ شہادت کے واقعہ پر کسی قسم کا اختلاف نہیں پایا جاتا، اہل سنت اور اہل تشیع دونوں متفق ہیں۔ واقعہ کربلا کے تقریباً فوری بعد ہی نوحہ گری شروع ہو گئی تھی۔ واقعہ کربلا کی یاد میں اموی اور عباسی دور میں مشہور مرثیے تحریر کے گئے اور ابتدائی ترین عزاداری سنہ 963ء میں بویہ سلطنت کے دور میں ہوئی۔ افغانستان، ایران، عراق، لبنان، آذربائیجان، بحرین، بھارت اور پاکستان میں اس دن عام تعطیل ہوتی ہے اور کئی دوسری نسلی و مذہبی برادریاں اس دن جلوس میں شریک ہوتی ہیں۔

اہل سنت میں عاشورا نبی موسی کا اپنی قوم کو فرعون سے نجات دلانے کا دن ہے اور یہ اسلامی یوم کپور سے ملتا جلتا ہے۔ اسی دن نبی نوح نے کشتی چھوڑی تھی اور پیغمبر اسلام محمد مدینہ آئے تھے۔

علم الکلیسیا

علم الکلیسیا مسیحی علم الٰہیات میں کلیسیا، مسیحیت کے مصدر، یسوع سے ربط، نجات کے حصول میں کردار، سیاست، ضابطۂ عمل، مستقبل اور اس کی مذہبی پیشواقیادت کا مطالعہ ہے۔ مختلف مسیحی فرقوں میں اس علم کے ذیلی شعبے موجود ہیں جیسے کہ کیتھولک علم الکلیسیا، پروٹسٹنٹ علم الکلیسیا اور اتحادی علم الکلیسیا۔

غناسطیت

غناسطیت کا دوسرا نام عرفانیت ہے۔ غناسطیت یونانی لفظ gnosis کا معرب ہے۔ اس علم کی طرف عہد نامہ جدید میں ہے اور اکثر تحریروں میں اس کی تعلیم سے خبر دار کیا گیا ہے۔ یہ علم کب اور کیسے شروع ہوا اور اس کی نوعیت کیا ہے، ان سب باتوں کا صحیح پتہ لگایا نہیں جاسکا۔ اس لیے بہت مشکل ہے کہ معلوم کیا جائے کہ اس کا کس فلسفے سے تعلق ہے۔ زمانہ خاضرہ کے علما کا خیال ہے کہ اس کا تعلق اُس تحریک سے ہے جسے بعد میں غناسطیت یا عرفانیت کا نام دیا گیا۔ یہ ایک منظم اور مکمل فلسفہ نہ تھا۔ اس میں مختلف مکاتبِ فکر کو ایک نام کے تحت رکھ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان سب میں مشترک باتیں یہ تھیں۔ اِن سب کا عقیدہ تھا کہ نجات ایک خاص خفیہ علم کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس کے تمام فرقوں کا خیال تھا کہ عرفان سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیکی اور بدی کا وجود صرف ثنویت سے سمجھا جاسکتا ہے یعنی کائنات میں دو خدا ہیں، ایک نیکی کا اور دوسرا بدی کا۔ ان دونوں کے درمیان صدور کا ایک سلسلہ تھا جو نیکی سے بدی کی طرف بتدریج جاتا تھا۔ مادہ بدی کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ چونکہ خدا نیکی کا مظہر تھا اس لیے نجات حاصل کرنے کے لیے اور خدا کی قربت میں پہنچنے کے لیے ضروری تھا کہ انسان درجہ بدرجہ اس خفیہ عرفان کے ذریعہ خدا کے پاس جائے۔

مسیح

مسیح یا مسیحا بطور نجات دہندہ کا تصور ابراہیمی ادیان میں ایسے نجات دہندہ کے طور پرلیا جاتا ہے جو لوگوں کو مصیبتوں سے نجات دلائے گا اور دنیا میں اُن لوگوں کے مذہب کو سربلند کرے گا۔ مسیحا کا تصور، یہودیوں، مسیحیوں، احمدیوں اور مسلمانوں ہاں موجود ہے۔

مسیحی الٰہیات

مسیحی اِلٰہیات یسوع مسیح مسیحی، مسیحیت سے متعلق اور (عربی سے اِلٰہ یعنی خُدا اور یات یعنی علم یا مطالعہ انگریزی: Theology)، ایک ایسا علم ہے جس میں خدا کا مطالعہ بائبل مقدس کے مطابق مسیحی مذہبی تناظر سے کیا جاتا ہے۔

مسیحیت میں یسوع

مسیحیت میں یسوع کو مسیح سمجھا جاتا ہے ان کی صلیبی موت اور قیامت نسل انسانی سے خدا کی رضامندی کا ذریعہ اور اس طرح یہ نجات کی پیشکش اور ابدی زندگی کا وعدہ ہے۔ یہ تعلیمات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ یسوع نے خدا کے برہ کے طور پر کلوری کے مقام پر مصلوب ہونے کا انتخاب کیا جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ خدا کی فرماں برداری کرتے ہوئے اپنی مرضی سے فوت ہوئے۔ یسوع کا انتخاب اس طرح آدم کی نافرمانی کے برعکس ان کو فرماں بردار اور اخلاقی شخص بناتا ہے۔مسیحیوں کا ماننا ہے کہ یسوع انسان اور خدا دونوں ہیں۔

موکش

مکش یا موکشا (Moksha) کے معنی نجات اخروی کے ہیں۔ یہ نہ صرف ہندو مت بلکہ بدھ مت اور جین مت کا مرکزی مقصد حیات ہے۔ جس کے مطابق یہ زندگی آوگون کا ہیر پھیر ہے۔ اس چکر سے نجات کا نام موکش ہے جس کے بعد انسان کی آتما حقیقی اولی ایشور میں ضم ہوجاتی ہے اور ابدی سکون پالیتی ہے۔

مہایان

مہایان فرقہ نے وسیع المشرب اور آزاد خیال بدھی مکتب فکر کی حیثیت سے چوتھی صدی قبل مسیح میں اپنے بنیادی خدوخال مرتب کیے۔ مہایانوں نے گوتم بدھ کے روایتی افکار اور خیالات کی بہت سے نئے زاویوں سے تشریح و تفسیر کی۔ اس مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے علما نے مہاتما بدھ کے وضع کردہ اصول و ضوابط کو لچک اور تحرک سے نواز کر لوگوں کی بہت بڑی تعداد کو متاثر کیا۔

نجات دہندہ کا لوتھری گرجا گھر

نجات دہندہ کا لوتھری گرجا گھر (Lutheran Church of the Redeemer) قدیم یروشلم میں قائم ہونے والا دوسرا لوتھری (پروٹسٹنٹ) گرجا گھر ہے (جبکہ پہلا کلیسا مسیح ہے جو باب یافا کے قریب ہے)۔

کاؤ دائیت

کاؤ دائیت (ویتنامی: Đạo Cao Đài) ایک توحیدی مذہب جو 1926ء میں شمالی ویتنام کے شہر تائی نن میں قائم ہوا۔ اس مذہب کا مکمل نام Đại Đạo Tam Kỳ Phổ Độ (تیسری عالمگیر نجات [کے لیے] عظیم عقیدہ) ہے۔ یہ مذہب بدھ مت، تاؤ مت، کنفیوشس مت، مسیحیت اور اسلام کا ملاپ ہے۔

کاؤ دائیوں کے عقیدہ کے مطابق کاؤ دائی (ویتنامی: [kā:w ɗâ:j] ( سنیے)، لفظی مطلب "اعلٰی خدا" یا "اعلٰی طاقت") ایک اعلٰی خدا ہے جس نے کائنات کو تخلیق کیا۔ اس کے علاوہ کاؤ دائی اکثر خدا کے نام کے لیے Đức Cao Đài (قابل احترام اعلٰی خدا) استعمال کرتے ہیں، جو Cao Đài Tiên Ông Đại Bồ Tát Ma Ha Tát (”اعلٰی طاقت قدیم لافانی [اور] عظیم بودھی ستو“) کا مخفف ہے۔ ان کے عقیدے کی علامت خدا کی الٹی آنکھ ہے، جو یانگ (نرینہ خالق کی فعالیت) جس کا توازن یِن (مادر خدا کی فعالیت) نے برقرار رکھا ہے، کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ مادر خدا مغرب (Diêu Trì Kim Mẫu، Tây Vương Mẫu) کی تانیث، پرورش، انسانیت کی بحالی کی مادر ملکہ ہے۔اس مذہب کے پیروکار عبادت، سلف (بزرگ) کا احترام کرتے ہیں اور عدم تشدد، سبزی خوری جیسی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں۔ ویتنام میں کاؤ دائیوں کی تعداد تبدیل ہوتی رہتی ہے، حکومتی شخصیات کے مطابق 4.4 ملین کاؤ دائی Tây Ninh church سے منسلک ہیں، باقی شاخوں کو ملا کر تعداد 6 ملین بنتی ہے۔اس مذہب کی زیادہ تر اخلاقی تعلیمات کنفیوشس مت سے، مخفی یا پُراسرار کے مطالعہ (occult) کا دستور تاؤ مت سے اور کرم و نئے جنم کے نظریات بدھ مت اور پیر شاہی نظام (مثلاً پوپ) رومن کاتھولک مسیحیت سے اخذ شدہ ہیں۔

کالوینیت

کالوینیت پروٹسٹنٹ فرقے کا ایک ذیلی فرقہ جس کے بانی جان کالون ہیں۔ یہ فرقہ کالون کی مذہبی تعلیمات پر مبنی ہے جن تعلیمات میں خدا کے اقتدار اعلیٰ، تقدیر اور ابتدائی گناہ پر زور دیا گیا ہے۔

کلیسیا

کلیسیا کی اصطلاح عموماً پروٹسٹنٹ اور کچھ دوسرے مسیحی فرقوں میں رائج ہے، اس کے معنی ”مسیحی اُمّت“ کے ہیں، جس میں تمام مسیحی خواہ وہ کسی بھی قوم و ملک کے ہوں برابر کے شریک ہیں، اس لحاظ سے اصطلاح کلیسیا ایک فرقہ نہیں ہے بائبل کے مطابق کلیسیا مسیح کا بدن ہے یعنی وہ لوگ جو نجات کے لیے یسوع مسیح پر ایمان لائے ہوئے ہیں۔ اس کے دوسرے معنی میں کلیسیا مسیحیت کے مذہبی رہنماؤں کی وہ جماعت ہے جو مذہبی امور میں تمام مسیحیوں کی سربراہ اور ذمہ دار ہے۔ (مثلاً کاتھولک کلیسیا، راسخ الاعتقاد كليسیا، اورینٹل راسخ الاعتقادی کے غیر خلقیدونی کلیسیا اور مشرقی آشوری کلیسیا وغیرہ)

ہوسیع

ہوسیع (عبرانی:הוֹשֵׁעַ، یونانی:Ὠσηέ بہ معنی «نجات خدا کی طرف سے ہے») بنی اسرائیل کے انبیائے صغیر میں سے پہلے نبی، بیری کے بیٹے تھے۔ انہوں نے دبلائم کی بیٹی جُمر سے شادی کی اور اس سے ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی جن کے نام بالترتیب یرزعیل ، لوعمی اور لوروحامہ بیان کیے گئے ہیں۔ ہوشع کے عہد نبوت میں بنی اسرائیل نے بعل دیوتا کی پوجا شروع کر دی اور اس کے لیے اونچی جگہوں پر قربانیاں چڑھایا کرتے تھے۔ اور شہر سامرہ میں بچھڑے کے بت کو پوجتے تھے۔ انہیں نہ تو خدا کی کچھ خبر تھی نہ ہی اس سے کوئی نسبت تھی کیونکہ وہ نسبت خدائی کے ہی تو خائن تھے۔ اس حد تک کہ انہوں نے سرے سے وجود شریعت یہودی کا انکار ہی کر دیا تھا۔ لیکن ہوسیع نے انہیں توحید پرستی اور میانہ روی کا درس دیا۔ روایت ہے کہ ہوشع زانی عورتیں خریدتے تھے۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.