ملاکی

ملاکی یا ملاخی (عبرانی میں:מַלְאָכִי، یونانی میں :Μαλαχίας، جس کے معنی و مفہوم مختلف حوالوں ، زاویوں اور عقیدوں کی رو سے «خدا تک پہنچانے میں مددگار یا بسا اوقات خدا کی مدد پہنچانے میں مددگار اور کہیں خدا کو پہنچانے والا») کا ذکر عہد عتیق، عبرانی تنک میں بیان کیے گئے پیغمبروں کے ضمن میں آتا ہے۔ اور انہیں انبیائے صغری میں سے گردانا جاتا ہے۔[1] ملاکی کا تعلق قبیلہ زبولون سے بتایا جاتا ہے اور زمانہ پیدائش یہودی قوم کے سائرس اعظم کی دلائی آزادی یا اس کی دی آزادی (سائرس اعظم کے عہد میں یہودیوں کو اسرائیل جو ہخامنشی سلطنت کا حصہ تھا واپس جانے اور اپنے معابد دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی تھی) سے بعد کا بیان کیا گیا ہے۔ ملاکی نحمیاہ[2] اور عزرا[3] کے ہم عصر تھے۔ اور ان کا دور نبوت حجی اور زکریاہ کے بعد کا ہے۔[4] ملاکی کے عہد میں بنی اسرائیل عشر اور ہدیہ جات (برائے ہیکل) ادا نہیں کرتے تھے۔ وعدہ سبت کو بھلا چکے تھے اور تقدیس سبت سے نا آشنا ہو چکے تھے۔ یہودی مرد غیر یہودی عورتوں سے شادیاں کرنے لگے تھے اور بنی اسرائیل کے کاہنوں میں رشوت خوری عام ہو چکی تھی۔[5] ملاکی نے یہودیوں کو غیر یہودی عورتوں سے شادیاں کرنے سے گریز کرنے کو کہا اور انہیں حرمت سبت اور باقی تمام انحراف کردہ یا فراموش شدہ قوانین و شعائر شریعت موسوی پر عمل کرنے کی ترغیب و ہدایت دی۔[6] یہودی روایات میں آتا ہے کہ ملاکی عہد نحمیاہ کے کاہنوں میں سے تھے اور وہ انہیں یروشلیم کی تعمیر نو کرنے والا تسلیم کرتے ہیں۔[7] یہودی ملاکی کی کتاب کو وحی الہی قرار دیتے ہیں۔[8] ملاکی کی کتاب ایک طویل نظم پر مشتمل ہے۔ ملاکی کا انتقال یروشلیم میں ہوا۔ ملاکی کو بہت سے فلسفی، علما اور مفسرین عہد عتیق کا آخری پیغمبر قرار دیتے ہیں۔

Duccio di Buoninsegna 066
نبی ملاکی۔

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. ملاکی ۱: ۱
  2. ملاکی ۲: ۱۱؛ نحمیاہ ۱۳: ۲۱
  3. ملاکی ۳: ۱۴؛ عزرا ۸: ۲۱
  4. ملاکی ۱: ۱۰؛ ۳: ۱۰
  5. ملاکی ۳: ۸؛ نحمیاہ ۱۳: ۱۰؛ ۱۰: ۱۰
  6. ملاکی ۱: ۶؛ ۲: ۱۴؛ ۳: ۱۱
  7. نحمیاہ ۴: ۸
  8. ملاکی ۱: ۳
1 ایسدرس

١ ایسدرس (یونانی: Ἔσδρας Αʹ)، مزید نام یونانی ایسدرس، یونانی عزرا یا ٣ ایسدرس بائبل کی کتاب عزرا کا قدیم یونانی نسخہ ہے۔ اسے قدیم یہودی، ابتدائی مسیحی کلیسیا اور دورد جدید کے مسیحی مختلف درجوں میں رتبۂ تقدیس (مقدس کتاب کی سی حیثیت) دیتے ہیں۔

اس کتاب میں 2 توارایخ کے ابواب 35 اور 36، کتاب عزرا اور کتاب نحمیاہ کی تدوین و تالیف پائی جاتی ہے۔ تا ہم کچھ مواد منفرد بھی ہے، اس میں یہوداہ کی سلطنت کا زاول، بابل کی اسیری اور زر بابل کی قیادت میں اسیروں کے واپس یروشلم آنے کا ذکر ہے۔

2 ایسدرس

٢ ایسدرس (جسے 4 ایسدرس، لاطینی ایسدرس یا لاطینی عزرا بھی کہا جاتا ہے) ایک ایپوکریفا کتاب کا نام ہے، جو بائبل کے انگریزی نسخوں (دیکھیے نام دینے کی مجالس)۔ اس کتاب کو عزرا سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس کا شمار کاتھولک، پروٹسٹنٹ اور اکثر راسخ العقیدہ کلیسیائیں اپاکرفا کتب میں کرتے ہیں۔

انبیائے صغری

انبیائے صغریٰ (آرامی زبان: תרי עשר‎‎r) سے مراد وہ انبیا ہیں جن کے مختصر الہامی صحائف بائبل میں موجود ہیں۔ یہ مختصر صحائف تعداد میں 12 ہیں۔ بائبل کا تیسرا حصہ نبییم کہلاتا ہے جس میں یہ 12 مختصر صحائف موجود ہیں۔ عموماً نبییم کو ہی کتاب صغار انبیا کہہ دیا جاتا ہے۔

حزقی ایل

حزقی ایل یا حزقیال (عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں خدا کا زور۔/ᵻˈzi:ki.əl/؛ عبرانی: יְחֶזְקֵאל‎‎ Y'ḥez'qel، عبرانی تلفظ: [jəħezˈqel]) کتاب حزقی ایل اور عبرانی بائبل کے حامی مرکزی کردار ہے۔

حکمت کی کتاب

حکمت کی کتاب دوسری صدی قبل از مسیح میں یونانی زبان میں لکھی گئی اور سیدنا شاہ سلیمان سے منسوب ہے۔ یونانی ثقافت اور حکمت کا مقابلہ کرتے ہوئے یہودیوں نے یہ کتاب تحریر کی۔ اس کتاب میں حکمت کی فضیلت، اسے حاصل کرنے کے وسائل اور اس کے عمدہ اِثمار کا بیان ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام نیکیاں عدل اور حکمت میں شامل ہیں۔ زندگی، معاشرت، فطرتّ، کائنات اور الٰہی حکمت کتاب کے موضوعات ہیں۔ کاتھولک اس کتاب کو الہامی مانتے ہیں کیونکہ اس کی چند آیات کا عہد جدید میں اور خصوصاً پولس کے خطوط میں ذکر پایا جاتا ہے۔ اس کتاب کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ (ابواب 1–11) ”عدل و انصاف کی جزاء اور حکمت کے لیے دعا“ کہلاتا ہے اور دوسرے حصے (ابواب 12–19) کو ”الٰہی پروردگاری“ کہا جاتا ہے۔

زکریا بن برخیا

زکریا (عبرانی: זְכַרְיָה، جدید Zekharya ، طبری Zəḵaryā، "خدا کو یاد کیا"; عربی: زكريّا Zakariya' یا Zakkariya; یونانی: Ζαχαρίας Zakharias; لاطینی: Zacharias) کا ذکر عبرانی بائبل میں آیا ہے۔ اور ان کو کتاب زکریاہ کا مصنف بھی سمجھا جاتا ہے۔ ان کا بارہ معمولی انبیاء میں گیارہواں نمب رہے۔ اور ان کا علاقہ نبوت مملکت یہودہ تھا۔ اور آپ حزقی ایل کی طرح یہودہ کے کوہن تھے۔

عہد نامہ قدیم

عہدنامہ قدیم ایک مسیحی اصطلاح ہے جو کتاب مقدس کے ایک بڑے حصہ کے لیے استعمال کی جاتی ہے، اس میں یہود کی تمام کتابیں بشمول تورات (شروع کی پانچ کتابیں) شامل ہیں۔ عہدنامہ قدیم تنک کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے تین اجزاء ہیں: تورات (قانون)، نبییم (انبیا) اور کتُبیم (کتب)۔

کاتھولک اور راسخ الاعتقاد کلیسیاؤں کے مطابق عہدنامہ قدیم 46 کتابوں پر مشتمل ہے، جنہیں اسفار بھی کہا جاتا ہے۔ جبکہ پروٹسٹنٹ اور یہود کے نزدیک اس مجموعہ میں محض 39 کتابیں ہیں، یہود نے اس مجموعہ میں صرف ان کتابوں کو شامل کیا ہے جو عبرانی زبان میں مدون ہوئے تھے، اس کے علاوہ یونانی زبان میں ترتیب پانے والی دیگر کتابیں ان کے نزدیک مذہبی وقانونی استناد کا درجہ نہیں رکھتیں۔

نبییم

نبیم (/nəˈviːɪm/؛ عبرانی: נְבִיאִים Nəḇî'îm‎، انبیا) عبرانی کتاب مقدس (تناخ) کا دوسرا نمایاں حصہ ہے۔ باقی کے دو تورات (ہدایات) اور کتبیم (تحریریں یا قدیم تحریریں) ہیں۔ جس کے مزید دو ذیلی گروہ ہیں، پہلا:انبیائے قدیم (نبییم روشنیم، נביאים ראשונים یشوع، قضاة، سموئیل اور سلاطین کی کتابیں)، دوسرا: مابعد کے انبیا نبیم آہرونیم، נביאים אחרונים یسعیاہ، یرمیاہ اور حزقی ایل اورانبیائے صغریٰ کی کتابیں)

یہ کتب انبیا یہود کے تاریخ حالات پر مشتمل ہیں۔ ان کتب کی تقسیم انبیائے متقدمین و متاخرین میں کی گئی ہے۔ انبیائے متقدمین کی کتب میں یشوع، قضاۃ، سموئیل ثانی، سلاطین اول اور سلاطین ثانی شامل ہیں جبکہ انبیائے متاخریں کی کتب میں یسعیاہ، جرمیا، حزقیال، زکریا و دیگر شامل ہیں۔

کتاب آستر

آستر ایک خدا پرست یہودی خاتون تھی جسے ایران کی ملکہ بننے کا شرف حاصل ہوا۔ آستر کے چچا مردکی نے آستر کو پالا پوسا تھا اور اُس کی تربیت کی تھی۔ہامان بادشاہ کا مشیر تھا لیکن یہودیوں کا جانی دشمن تھا۔ اُس نے بادشاہ سے یہودیوں کے قتل عام کا فرمان حاصل کر کے تمام صوبوں میں بھجوا دیا۔ مردکی کو اس سازش کا علم ہوا اور اُس نے ملکہ آستر کی مدد سے یہودیوں کو ہامان کی سازش سے بچا لیا۔ ہامان بادشاہ کی نظر میں گر گیا اور پھانسی کی سزا پائی۔

مردکی کو ہامان کی جگہ بادشاہ کا مشیر خاص مامور کیا گیا اور اپنی بھتیجی ملکہ آستر کی مدد سے یہودیوں کے قتل عام کو رکوانے میں کامیاب ہوا۔ اس مختصر سی کتاب میں ان تین اشخاص یعنی ہامان، مردکی اور ملکہ آستر کی داستان درج ہے اور یہ کتاب جلاوطن یہودیوں کی تاریخ کا ایک روشن باب بھی کہلاتا ہے۔

اس کتاب میں جس بادشاہ اخسویرس کا ذکر ہے وہ یونانی زبان میں Xerxesکے نام سے مشہور ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ اس بادشاہ کی مملکت قدیم ہندوستان کے شمال مغربی علاقوں سے لے کر مشرقی افریقہ میں ایتھوپیا (Ethiopia) تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس بادشاہ کی تخت نشینی کا سال 486 قبل مسیح بتایا جاتا ہے۔

اس کتاب کے مصنف کے بارے میں علماء میں اتفاق الرائے نہیں ہے۔ بعض اسے مردکی کی تصنیف مانتے ہیں اور بعض اسے عزرا یا نحمیاہ سے منسوب کرتے ہیں۔ مصنف خواہ کوئی بھی ہو، اس حقیقت سے کسی کو انکار ہیں کہ آستر کا مصنف اہل ایران کے رسم و رواج اور اُن کے تمدن سے بخوبی آگاہ تھا اور ایک خداترس انسان تھا اور اہل یہود کے لیے اپنے دل میں درد رکھتا تھا۔

یہودیوں کے اس قتل عام سے نجات پانے کی یادگار پوریم کے تہوار سے منائی جاتی ہے جو بڑی ضیافتوں اور خوشی کا دن سمجھا جاتا ہے۔ یہاں اس نکتہ کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ خدا اپنے منصوبوں کو بجائے خود کس طرح انسانوں کے ذریعہ عملی جامہ پہناتا ہے، اس لیے ہمیں ہر وقت خدا کی مرضی پر چلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

شہنشاہ کے دار الخلافہ سوسن (Shushan)میں واقع شاہی محل میں سازش (باب 1 تا باب 2)

یہودیوں کے برخلاف ہامان کی سازش (باب 3 تا باب 5)

یہودیوں کی مُخلصی اور پُوریم کا آغاز(باب 6 تاباب 10)

کتاب ایوب

کتاب ایوب (/ˈdʒoʊb/; عبرانی: אִיוֹב Iyov)، عبرانی کتاب مقدس کے حصے کتبیم میں شامل ہے اور مسیحی عہد نامہ قدیم کی یہ پہلی نظم کی کتاب ہے۔

کتاب باروک

کتاب باروک یا باروک کی کتاب (انگریزی: Book of Baruch) ایپوکریفا عہد نامہ جدید کی فہرست میں شامل ایک کتاب ہے۔ یہ ہفتادی ترجمہ میں نوحہ اور کتاب یرمیاہ کے درمیان ہے۔ یہ کتاب باروک بن نیریاہ نے آخری ایام بابل میں جلاوطنوں کی تسلی کے لیے لکھی، عام طور پر اس کا زمانۂ تصنیف 50ء سے 100ء کے درمیان مانا جاتا ہے۔

کتاب جوبلی

کتاب جوبلی یا پیدائش صغیر (چھوٹی پیدائش) ایک قدیم یہودی مذہبی کتاب ہے۔ یہ کتاب 50 ابواب پر مشتمل ہے۔ جس کو حبشی راسخ الاعتقاد توحیدی کلیسیا اور یہود فلاشا (یا بِیٹا اسرائیل) مسلمہ کتاب سمجھتے ہیں۔ حبشی یہودیوں میں اس کتاب کو ”کتاب قسمت یا بازدید“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ (گیزر : መጽሃፈ ኩፋሌ Mets'hafe Kufale)۔ جوبلی کو پروٹسٹنٹ، مشرقی آرتھوڈوکس اور رومی کاتھولک کلیسیا کلیسیا من گھڑت تحریر سمجھتے ہیں

کتاب عاموس

یہ کتاب 740 سے 793 قبل مسیح میں لکھی گئی۔

کتاب نحمیاہ

کتاب نحمیاہ چونکہ حضرت نحمیاہ کے حالات پر مشتمل ہے اس لیے اسے نحمیاہ کی تصنیف سمجھا جاتا ہے۔ بعض علماءکا خیال ہے کہ یہ کتاب حضرت عزرا کی کتاب کا تتمہ ہے۔ بعض شواہد کی بنا پر اس کتاب کو 423 سے 400 قبل مسیح کی تصنیف سمجھا گیا ہے۔

نحمیاہ یہودیوں کی بابل اسیری کے زمانہ میں ارتخششتا اول، شہنشاہ ایران جس کا دور 465 سے 424 قبل مسیح ہے،کے قابل اعتماد اور با وفا ساقی تھے۔ بادشاہ کو اُس کی دلپسند مشروبات بہم پہنچانے کا کام ایک اعلیٰ عہدہ سمجھا جاتا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ شاہی ساقی صرف مشروبات ہی باہم نہیں پہنچاتا تھا بلکہ بادشاہ کا رازدار اور مشیر بھی ہوتا تھا۔ اس اعلیٰ عہدے پر فائز ہوتے ہوئے بھی نحمیاہ کے دل میں ایک معمولی شہر یروشلیم واپسی کی خواہش رہتی تھی۔ آپ بڑے خدا ترس اور راست باز شخص تھے اور تمام امرا اور درباری آپ کے تدبر اور سیاسی شعور کے قائل تھے۔عزرا کی یروشلیم کو واپسی کے 12 سال بعد آپ خود بھی عازم یروشلیم ہوئے۔ بادشاہ نے آپ کی خدمات سے خوش ہو کر آپ کو واپسی کی اجازت عطا فرمائی۔ چونکہ آپ سیاست سے دلچسپی رکھتے تھے، آپ یروشلیم کے گورنر کی حیثیت سے سرفراز کیے گئے۔ اُن دنوں یروشلیم چاروں طرف سے دشمنوں سے گھر ہوا تھا۔ آپ نے دشمنوں کو یروشلیم کے خلاف کبھی کامیاب نہ ہونے دیا۔ اس کتاب کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ آپ نے یروشلیم کی فصیلوں کو ازسر نو تعمیر کرنے میں کامیابی حاصل کی اور شہر والوں کو اپنے دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ہمت دلائیَ۔

آپ نے اپنی واپسی پر شہر کی خستہ حالت ملاحظہ فرمائی اور آپ کو اُس شہر کی فوری مرمت اور اُس کی فصیلوں کو از سر نو تعمیر کرنے کا خیال آیا۔ بادشاہ نے نہ صرف آپ کو یروشلیم واپسی کی اجازت دی بلکہ شہر کی تعمیر نو کے لیے جس سازوسامان کی آپ کو ضرورت تھی، وہ سامان آپ کو فراہم کیا۔ آپ نے باوجود مخالفت کے اپنی اصطلاحات جاری رکھیں اور صرف باون دنوں میں دن رات محنت کر کے تعمیر کے کام کو انجام دیا۔

نحمیاہ کے کتاب توریت کو ڈھونڈ کر اسے بنی اسرائیل کو حرف بہ حرف پڑھ کر سنانے کے واقعہ سے اس کتاب کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کتاب توریت کی بازیافتگی کے نتیجہ میں بعض احکام اور اہم مذہبی رسومات جنہیں لوگ تقریباً فراموش کر چکے تھے، پھر سے رائج کی گئیں۔ آپ کچھ عرصہ کے لیے بابل لوٹ گئے مگر جلد ہی پھر یروشلیم آ کر یہودیوں کی سماجی، مذہبی اور سیاسی زندگی کو سدھارنے کی غرض سے کئی اقدامات کیے اور مکروہات کا سدباب کیا اور اپنی قوم اسرائیل کو آزادی کا سانس لینے اور خوشحال زندگی بسر کرنے کا موقع بخشا۔ آپ کی تمام اصطلاحات کی تمام کوششوں میں خدا کی مدد ہمیشہ آپ کے شامل حال رہی اور عزرا اور ملاکی نے بھی آپ کو بہت سہارا دیا۔

اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

حضرت نحمیاہ کا یروشلیم جانا اور شہر کی فصیلوں کی تعمیر نو ( باب 1 تا باب 6)

آپ کی اصلاحات کا پہلا دور (باب 7 تا باب 10)

آپ کی اصلاحات کا دوسرا دور (باب 11 تا باب 13)

کتاب پیدائش

کتاب مقدس کی پہلی پانچ کتابوں کے مجموعہ کو تورات کہتے ہیں۔ یہودی علمائے بائبل کی اکثریت نے ان پانچ کتابوں کو حضرت موسیٰ کی تصانیف بتایا ہے۔ پہلی کتاب کی پہلی سطر عبرانی لفظ برا شیت (عبرانی:בְּרֵאשִׁית) سے شروع ہوتی ہے، اس کا مطلب ہے "ابتدا میں"۔ تقریباً ایک سو پچاس قبل مسیح جب بائبل مقدس کا ترجمہ یونانی زبان میں ہوا تو اس ترجمہ میں عبرانی لفظ برا شیت کو تکوین یا پیدائش کائنات (γένεσις) کے معنی میں استعمال کیا گیا۔ اس معنی کے پیش نظر کتاب مقدس کی اولین کتاب کو اس پروٹسٹنت اردو ترجمہ میں پیدائش کا جبکہ کیتھولک ترجمہ میں تکوین کا نام دیا جاتا ہے۔

کتاب مقدس کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: پیدایش سے ملاکی تک کی کتابوں کو عہدنامہ قدیم اور متی کی انجیل سے مکاشفہ تک کی کتابوں کو عہدنامہ جدید کہتے ہیں۔ پرانے اور نئے عہد ناموں میں موسوی شریعت کی اصطلاح متعدد بار استعمال ہوئی ہے۔ چونکہ تورات سے موسوی شریعت بھی مراد ہے اس لیے حضرت موسیٰ ہی تورات کی پہلی کتاب "پیدائش" کے مصنف سمجھے گئے ہیں۔ اس کتاب میں آدم، حوا، نوح، ابراہیم، سارہ، اسحق، ربقہ، یعقوب اور یوسف کے حالات بھی درج ہیں اور حضرت موسیٰ کے موت کا ذکر بھی پایا جاتا ہے جس کے متعلق یہود ی اور مسیحی علما کا خیال ہے کہ یہ بیان حضرت موسیٰ کے بعد زمانہ کے کسی مصنف نے تحریر کیا ہے۔

کتاب پیدائش سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ کائنات کس طرح وجود میں آئی۔ پہلا انسانی جوڑا اس زمین پر کسی طرح نمودار ہوا، گناہ کس طرح انسانی زندگی میں داخل ہوا اور اس کا اثر بنی نو ع انسان پر کیا ہوا۔ خدا نے انسان کی نجات کا کیا انتظام کیا، خدا کی ذات اور اس کی شخصیت کے بارے میں کیا کچھ معلوم ہو سکتا ہے؟ اس کرہ ارض پر انسان کی ذمہ داری کیا ہے؟ خدا کے عدل و انصاف سے اور اس کے سزا و جزا دینے سے کیا مراد ہے؟

پیدائش میں حضرت موسیٰ سے ماقبل کی تاریخ بھی بیان کی گئی ہے۔

کتبیم

کتبیم (بائبلی عبرانی: כְּתוּבִים Kəṯûḇîm، "تحریریں") تورات (ہدایت) اور نبییم

(انبیا) کے بعد یہ تناخ (عبرانی بائبل) کا تیسرا اور حتمی حصہ ہے۔

یہود

یہودی (جمع: یہود) یہودیت کے پیروکاروں کو کہتے ہیں جو قدیم بنی اسرائیل کی اولاد ہیں۔ دنیا بھر میں یہودیوں کی موجودہ تعداد کا مکمل اندازہ تو نہیں لگایا جاسکتا تاہم ان کی تعداد 12 سے 14 ملین کے لگ بھگ ہے جن کی اکثریت امریکا اور اسرائیل میں رہائش پزیر ہے۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں 1 کروڑ چوالیس لاکھ 35 ہزار نو سو یہودی ہیں۔ اسرائیل میں 30 لاکھ، روس میں 26 لاکھ بیس ہزار اور امریکا میں 58،70،000 آباد ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ یہودی نیو یارک شہر میں جہاں ان کی تعداد 18،30،000 ہے۔ یہودی کی اصطلاح اپنے اندر کثیر مذہبی وظائف اور عقائد کو سمیٹے ہوئے ہے۔ دنیا بھر کے یہودی اپنے وظائف اور عقائد کے لحاظ سے متعدد حصوں میں منقسم ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق یہودیوں کی اکثریت خدا میں یقین نہیں رکھتی اور وہ زیادہ تر ملحد ہیں۔

یہودیت میں انبیا

یہودی مفسر راشی، مگیلہ 14-الف (Megillah 14a) اور اس کے تحشیہ کے مطابق 48 انبیا اور 7 نبیہ گزریں ہیں۔یہودیت میں آخری نبی ملاکی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ اور ان کی وفات کے بعد نبوت کا معتبر دور ختم ہو گیا تھا۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.