مغرب-سمت

مغرب ہماری زمین پر موجود ایک ایسی سمت ہے، جو مشرق کے محاذی واقع ہے۔ نقشوں میں اس کا مقام بائیں طرف ہوتا ہے۔ قطب نما کو 270 ڈگری پر طے کرنے سے کسی مقام پر مغربی سمت کا تعین بآسانی کیا جا سکتا ہے۔

دوسرے الفاظ میں مغرب وہ سمت ہے،

جس کے مخالف ہماری زمین اپنے محور کے گرد گردش کرتی ہے۔

گویا یہ وہ سمت ہے جدھر سورج غروب ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

Compass Rose English West
قطب نما، جس میں مغربی سمت نمایاں ہے

مزید دیکھیے

تور

ایران کی افسانوی ملّی داستان شاہنامہ میں بادشاہ فریدون کا دوسرا بیٹا۔

بادشاہ نے اسے سلطنت کی تقسیم کے وقت توران(ترکستان) اور چین دیے تھے۔ تور بڑے بھائی سلم کے ساتھ مل کر سب سے چھوٹے بھائی ایرج کو مار ڈالا۔ اسی پر ایران و توران کے درمیان لڑائیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا۔

تور

یہ فریدون کا بیٹا تھا، جس نے اپنے بھائی سلم کے ساتھ ایرج کو مارا تھا۔ یہاں تک ایرج کا بیٹا منوچہر جوان ہوا۔ جس نے ایک بڑی فوج کے ساتھ تور اور سلم کے ملکوں پر چڑھائی کی۔ ان دونوں سے تصادم کی جگہ بحیرہ خزر کے شمال بتائی گئی ہے۔ اس طرح منوچہر دونوں کو شکست دے دیتا ہے اور اس شکست کے بعد بھی تور سے یورششیں جاری رہتی ہیں۔ مگر سلم کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ تور، سلم اور ایرج ہم نسل تھے اور ان کی حکومت یا مملکت کا علاقہ توران تھا اور تور کا ذکر اس لیے ملتا ہے کہ اس مسلسل آویزشیں ایرانیوں سے جاری رہتی ہیں۔

ایک قدیم کتاب میں یہ کلمہ توچ آیا ہے۔ قدیم دور میں تور سے مراد توران یا ترک لیے جاتے تھے جب کہ اوستا میں یہ کلمہ تورہ آیا۔ (سلم۔ معارف اسلامیہ) پرانوں میں یہ کلمہ ترشکا آیا ہے اور قدیم زمانے میں شمال مغرب سمت سے برصغیر پر حملہ کرنے والوں کو ترشکا کہا جاتا تھا۔ بعد میں اس کا اطلاق مسلمانوں پر کیا جانے لگا اور وہ ترک کہلانے لگے۔ اس لیے ابتدا میں مسلمانوں کو ترک کے نام سے موسوم کیا جانے لگا۔ راجپوتوں کا ایک خاندان توار کہلاتا تھا جو راجپوتوں کے چھبیس شاہی خاندانوں میں شامل ہے۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 99۔ 117۔ 247)

افغانوں کے شجرہ نسب میں بہت سے کلمے تور سے بنے ہیں۔ تور پشتو کلمہ ہے جس کے معنی تلوار کے ہیں اور طور اس کا معرب ہے۔ یہ کلمہ تور من، تور کش اور تورجن کی شکل میں بھی ملتا ہے۔ ان سب میں تور مشترک ہے۔ ترخان خراسان کا قدیم قبیلہ تھا۔ گمان یہ کہ قبل اسلام بھی ترخان خراسان میں آباد تھے اور زابلستان میں ابدالیوں کے وارثوں میں تھے۔ اس کلمہ کا پہلا حصہ تر پشتو کے طور سے مطابقت رکھتا ہے۔ ترخان دسویں صدی ہجری میں سندھ آ گئے تھے۔ اور 962 ھ میں مرزا عیسیٰ ترخان ولد عبد العلی عبد العلی ٹھٹھہ میں تخت نشین ہوا۔ ترخان تور کا معرب ہے۔ اس کا املا مختلف طور پر آیا ہے۔ مثلاً تبر خان، تزخان لیکن ترخان صیح ہے اور اس کا معرب طر خان ہے۔ البیرونی نے آثار الباقیہ اور ابن خرابا نے طر خان = طوخون سمر قند کے بادشاہ کا لقب لکھا ہے۔ ابونصر الفارابی کے والد کا نام طرخان بن اوزلغ تھا۔ (عبد الحئی حبیبی۔ تقلیمات طبقات ناصری جلد دوم، 424)

سفید ہن کی سلطنت کی سلطنت جو وسط ہند سے لے کر رہی اس کے سربراہ کا نام ٹورامن تھا۔ خٹکوں کے مورث علیٰ کا نام بھی ٹورامن تھا۔ ترکانہ خاتون علاؤ الدین تکش کی بیوی کا نام تھا۔ توراکینہ چنگیز خان کے پوتے اوکتائی کی بیوی کا نام تھا۔ سندھ میں سومروں کے پہلے پایہ تخت کا نام مہاتم تور یا محمد تور تھا۔ بلوچستان کی ایک ریاست توران کہلاتی تھی۔ (اعجاز الحق قدوسی۔ تاریخ سندھ، جلد اول، 296۔ 413) راجپوتوں کا ایک خاندان توار تھا، جس نے دہلی کو ارثر نو آباد کیا۔ توار تور کی تخریب ہے۔

اس بالاالذکر بحث سے ہم نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ کلمہ مختلف شکلوں میں وسط ایشیا سے برصغیر تھا اور افغانستان کے علاوہ دوسری قوموں میں یہ کلمہ زمانے سے رائج رہا ہے۔ ان سب قوموں کا تعلق وسط ایشیا سے رہا ہے۔ افغان اپنا جد امجد طالوت کو بتاتے ہیں جو بنی اسرائیل کا پہلا بادشا تھا اور یہ گمان ا نہیں اس کلمہ تور کی نسبت سے آیا ہے اور کلمہ تور کو معرب کرکے اس طور بنا لیا اور شجرہ نسب ترتیب دیتے ہوئے اسے طالوت قرار دیتے ہوئے اسے اپنا جد امجد تصور کر لیا۔

سلیمیہ مسجد، قونیہ

سلیمیہ مسجد (انگریزی: Selimiye Mosque) قونیہ میں واقع عثمانی معماری کی ایک تاریخی مسجد ہے جسے عثمانی سلطان سلیم ثانی نے تعمیر کروایا۔

طلیطلہ کیتھیڈرل

تولیدو گرجاگھر (اسہینی زبان میں: Catedral Primada Santa Mara de Toledo) تولیدو اسپین میں وقوع پزیر ایک رومن کیتھولک گرجاگھر ہے۔ تولیدو گرجاگھر تیرہویں صدی کا گرجاگھر ہے۔ اسپین کی کچھ تنظیموں کا کہنا ہے که یہ گرجاگھر گوتھک طرز تعمیر کا اسپین میں شاہ کار نمونہ ہے۔اس کی اتعمیر 1226عیسوئ شروع کروائی تھی گئی تھی۔ اس میں آخری گوتھک تعاون 15ویں صدی (1493 میں) میں کیتھولک راجاؤں کے دورحکومت میں ہوا۔ اس میں مدیجان طرز تعمیر کی خاص خوبیاں موجود ہیں، خاص کر اس کا مٹھ۔ روشنی کے داخلے کے لیے شاندار راستہ بناتا ہے اور اس کے گنبد اس طرزتعمیر کی خاص خصوصیتیں ہیں۔ اس کو دویس تولیتانا (Dives Toletana لاطینی زبان میں اس کا مطکب ہے امیر تولیدو) بھی کہا جاتا ہے۔

فورفار قلعہ نما محل

فورفار قلعہ نما محل ایک گیارھویں صدی کا قلعہ نما محل یا محل نما قلعہ ہے، جو اسکاٹلینبڈ کے ٹاؤن فورفار کے مغرب سمت بنا ہوا ہے۔آج اس قلعہ نما محل کے کوئی آثار موجود نہیں ہیں لیکن 17ھویں صدی میں اس کے کچھ آثار موجود تھے، جو بعد میں جاکے طوفانوں اور بارشوں کی زد میں آکے تباہ و برباد ہو گئے۔

مسجد وزیر خان

مسجد وزیر خان شہر لاہور میں دہلی دروازہ، چوک رنگ محل اور موچی دروازہ سے تقریباً ایک فرلانگ کی دوری پر واقع ہے۔ یہ مسجد نقش ونگار میں کاریگری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ علم الدین انصاری جو عام طور پر نواب وزیر خان کے نام سے جانے جاتے ہیں سلطنت مغلیہ کے عہد شاہجہانی میں لاہور شہر کے گورنر تھے اور یہ مسجد انہی کے نام سے منسوب ہے۔ مسجد کی بیرونی جانب ایک وسیع سرائے ہے جسے چوک وزیر خان کہا جاتا ہے۔ چوک کے تین محرابی دروازے ہیں۔ اول مشرقی جانب چٹا دروازہ، دوم شمالی جانب راجا دینا ناتھ کی حویلی سے منسلک دروازہ، سوم شمالی زینے کا نزدیکی دروازہ-مسجد کے مینار 107 فٹ اونچے ہیں۔ اس مسجد کی تعمیر دسمبر 1641ء میں سات سال کی طویل مدت کے بعد پایۂ تکمیل کو پہنچی۔ مسجد وزیر خان سلطنت مغلیہ کے عہد میں تعمیر کی جانے والی اب تک کی نفیس کاشی کار و کانسی کار خوبصورت مسجد ہے جو بادشاہی مسجد کی تعمیر سے 32 سال قبل (یعنی 1641ء میں) تکمیل کو پہنچی۔

مغرب (ضد ابہام)

آپ درجِ ذیل میں سے اپنا انتخاب کر سکتے ہیں:

نماز مغرب: اسلام کی پانچ فرض نمازوں میں سے شام کی نماز

مغرب-سمت: چہار سمتوں میں سے ایک سمت

یورپ: یورپ اور یورپی ممالک کے لیے بھی مغرب کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔

نانجنگ میٹرو

نانجنگ میٹرو (انگریزی: Nanjing Metro) (چینی: 南京地铁) عوامی جمہوریہ چین کے صوبے جیانگسو کے دار الحکومت شہر نانجنگ کے شہری اور مضافاتی اضلاع کے لیے ایک عاجلانہ نقل و حمل نظام ہے۔

نظام کی دس لائنیں اور 159 اسٹیشن ہیں۔ اس کے ٹریک کا کل لمبائی 393.628 کلومیٹر (244.589 میل) ہے۔ یہ نانجنگ میٹرو گروپ کمپنی کے زیر انتطام ہے۔ نظام کی کل لمبائی کے لحاظ سے یہ چین میں شنگھائی میٹرو، بیجنگ سب وے اور گوانگژو میٹرو کے بعد چوتھے نمبر پر ہے۔

2017ء میں مجموعی طور پر میٹرو نظام سے 977.4 ملین افراد نے سالانہ سفر کیا۔ نانجنگ میٹرو نظام کے لیے تجاویز 1984ء میں شروع ہوئیں جبکہ 1994ء میں ریاستی منصوبہ بندی کمیشن نے اس کی منظوری دی۔

لائن 1 پر ابتدائی 16-اسٹیشنوں کی تعمیر 1999ء میں شروع ہوئی اور 2005ء میں اس کا افتتاح ہوا۔

اگلے چند سالوں میں مستقبل کی توسیع کی منصوبہ بندی کے تحت تین لائنیں کھولی جائیں گی جبکہ کئی تعمیراتی شروع کرنے کے لئے منظوری کی منتظر ہیں۔

ویسٹ (ضد ابہام)

ویسٹ سے مراد مغرب (سمت) ہے۔

ویسٹ (West) کے لیے آپ مندرجہ ذیل صفحات سے رجوع کر سکتے ہیں۔

ٹیونگا

ٹیوںگا، تحصیل پھول پورضلع اعظم گڑھ میں واقع ہے۔گاؤں کے شمال میں گاؤں مان پور، خوراسون،نوادہ، مشرق میں صدر پوربرولی، مغرب سمت میں لونیہ ڈیہ، جھکہاں اور جنوب میں نہر اور نہر کی

دوسری طرف پھول پور اور اودپور ہیں۔ ارد گرد میں مشہور گاؤں منڈیار، جگدیش پور واقع ہیں۔ گاؤں تک پکی سڑک موجود ہے جو براستہ شمساآباد، ستواہیاں، خوراسوں، مان پور، ہمارے گاؤں اور ماہل روڈ سے ہوتے ہوئے پھول پورتیراہے کے مقام پر ملاتی ہے۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.