مغربی یورپ

مغربی یورپ (western europe) کے عام معنوں میں ان تمام ممالک کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے جو یورپ کے مغربی حصے میں واقع ہیں۔ یہ اصطلاح مختلف ادوار میں مختلف معنوں میں استعمال ہوتی رہی ہے اور اس کی معنوں میں جغرافیائی کے علاوہ سیاسی و ثقافتی عناصر بھی اہمیت کے حامل ہیں۔

مغربی و مشرقی یورپ میں پہلا امتیاز رومی سلطنت کی تاریخ سے ملتا ہے۔ رومی موجودہ تقریباً پر چھا گئے لیکن اس کے باوجود مغربی خطوں کی زبان لاطینی تھی جبکہ مشرقی خطے یونانی بولتے تھے۔ یہ زبان و ثقافت کا فرق دونوں خطوں میں پہلا امتیاز ثابت ہوا اور بعد ازاں رومی سلطنت کی تقسیم سے یہ مزید واضح ہو گیا۔

بعد ازاں مسیحیوں رومن کیتھولک اور مشرقی آرتھوڈوکس فرقوں میں تقسیم اور بعد ازاں مسلم سلطنت عثمانیہ کے ہاتھوں مشرقی یورپ کی فتح بھی دونوں خطوں کے درمیان امتیازات میں مزید اضافے کا باعث بنی۔

یورپی نشاۃ ثانیہ (Renaissanceمارٹن لوتھر کی پروٹسٹنٹ تحریک، عہدِ روشن خیالی (Age of Enlightment)، انقلاب فرانس اور صنعتی انقلاب (Industrial Revolution) ایسے اہم مواقع تھے جنہوں نے مغربی یورپ کی ثقافت اور الگ پہچان کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ دریافتوں کے عہد (Age of Discovery) میں مغربی یورپ کے ممالک نے افریقا، ایشیا، جنوبی اور شمالی امریکا کو غلام بنا لیا اور یوں اس دور کو نوآبادیاتی دور (Colonial Era) بنا دیا۔ قبضے کے بعد ان ممالک سے لوٹی گئی دولت کے ذریعے مغربی یورپ مالی و ثقافتی اعتبار سے مشرقی یورپ سے بہت آگے نکل گیا۔ یہ تمام تاریخی واقعات یورپ کی اس سیاسی، ثقافتی، لسانی اور تاریخی تقسیم پر گہرے اثرات رکھتے ہیں۔

دوسری جنگ عظیم کے حتمی مراحل میں یورپ کا مستقبل 1945ء کی یالتا کانفرنس میں اتحادیوں کے مابین طے پایا جس میں وزیر اعظم برطانیہ ونسٹن چرچل، صدر امریکہ فرینکلن ڈی روزویلٹ اور سوویت یونین کے سربراہ جوزف اسٹالن شامل تھے۔

بعد از جنگ عظیم سرمایہ دارانہ نظام اور اشتراکی نظام کے درمیان سرد جنگ کے نتیجے میں یورپ دو بڑے حلقہ ہائے اثر میں بٹ گیا جس میں مشرقی حصہ سوویت یونین کے زیر اثر تھا جبکہ مغربی حصے کے تقریباً تمام ممالک امریکا کے زیر اثر تو نہیں کہے جا سکتے لیکن کم از کم مارشل پلان کے تحت اس سے اقتصادی امداد ضرور لیتے تھے اور سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ تھے۔ ان میں بیشتر نے نیٹو (NATO) میں شمولیت اختیار کر لی اور کچھ یورپی اتحاد یا اس کی حریف ایفٹا (European Free Trade Association) کا حصہ بن گئے۔

مغربی یورپ ان ممالک پر مشتمل تھا اور ہے:

  • Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ اور Flag of France.svg فرانس، جنگ عظیم کے فاتحین میں شامل تھے۔
  • Flag of the Netherlands.svg نیدرلینڈز، Flag of Belgium (civil).svg بلجئیم اور Flag of Luxembourg.svg لکسمبرگ، وہ ممالک جو نازی جرمنی کے زیر قبضہ آئے اور مغربی اتحادیوں نے انہیں آزادی دلائی۔
  • وفاقی جمہوریہ Flag of Germany.svg جرمنی، جو عام طور پر مغربی جرمنی کے نام سے جانا جاتا تھا، جرمنی کے تین قابض علاقوں سے تشکیل پایا جو مغربی اتحادی (امریکا، برطانیہ اور فرانس) کے تحت تھے۔ اب پورا جرمنی مغربی یورپ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
  • Flag of Italy.svg اطالیہ، سابق محوری قوت، جس نے مغربی اتحادیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے اور اس پر قبضہ کر لیا گیا۔
  • Flag of Ireland.svg جمہوریہ آئرلینڈ، 1922ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ جنگ میں کسی فریق کی حمایت نہیں کی۔ نیٹو میں شامل نہیں ہوا البتہ 1973ء میں یورپی اتحاد کا حصہ بنا۔
  • شمالی ممالک کا معاملہ کچھ الگ رہا۔

Flag of Denmark.svg ڈنمارک اور Flag of Norway.svg ناروے نازی جرمنی کے قبضے میں تو آ گئے لیکن انہیں اتحادیوں نے آزادی نہیں دلائی۔ جنگ کے دوران Flag of Iceland.svg آئس لینڈ، جو اس وقت ایک بادشاہ کے تحت ڈنمارک کا حصہ تھا، پر برطانیہ اور امریکہ نے حملہ کر کے قبضہ کر لیا۔ جنگ کے دوران آئس لینڈ نے مکمل آزادی کا اعلان کر دیا۔

  • Flag of Sweden.svg سویڈن نے جنگ کے دوران مکمل طور پرغیر جانبدار رہنے کا اعلان کیا۔
  • Flag of Finland.svg فن لینڈ روس کے خلاف جرمنی کا ساتھی تھا اور شکست کھا گیا تاہم اس پر قبضہ نہیں کیا گیا۔ بلکہ سوویت اتحاد اور فن لینڈ کے مابین معاہدہ طے پا گیا۔
  • Flag of Austria.svg آسٹریا جنگ عظیم دوم سے قبل ہی سے جرمنی کے قبضے میں تھا جبکہ سویٹزرلینڈ نے جنگ کے دوران غیر جانبدارانہ کردار ادا کیا۔ جنگ کے بعد آسٹریا بھی غیر جانبدار رہا۔ بعد ازاں آسٹریا نے یورپی اتحاد میں شمولیت اختیار کی لیکن نیٹو کا حصہ نہیں بنا۔ سویٹزرلینڈ نے یورپی اتحاد اور نیٹو دونوں کی رکنیت لینے سے انکار کر دیا اور ایفٹا میں شمولیت اختیار کر لی۔

یہ ممالک بھی جغرافیائی یا سیاسی طور پر "مغربی یورپ" کا ہی حصہ شمار کیے جاتے ہیں:

Iron Curtain Final
سرد جنگ کے دوران مشرقی و مغربی یورپ، بالترتیب وارسا پیکٹ اور نیٹو کے تحت
انڈورا

انڈورا (Andorra) براعظم یورپ کے جنوب مغربی حصے میں ہر طرف سے خشکی سے گھرا ہوا ملک ہے۔ اس کے ایک طرف ہسپانیہ اور دوسری طرف فرانس موجود ہیں۔ اسے یورپ کا چھٹا سب سے چھوٹا ملک گردانتے ہیں۔ اس کا کل رقبہ 468 مربع کلومیٹر ہے اور 2009 کے ایک تخمینے کے مطابق اس کی آبادی 83٫888 افراد پر مشتمل ہے۔ اس کا دار الحکومت انڈورا لا ویلا ہے جو سطح سمندر سے 1٫023 میٹر بلند ہے اور اسے یورپ کے بلند ترین دار الحکومت کا درجہ ملا ہوا ہے۔ سرکاری زبان کٹالن ہے تاہم ہسپانوی، فرانسیسی اور پرتگالی بھی عام بولی جاتی ہیں۔

اسے 1278 میں بسایا گیا تھا۔ بادشاہ کا کردار دو شہزادے مل کر ادا کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک فرانسیسی جمہوریہ کا صدر اور دوسرا ارگل کا بشپ ہے۔

اپنی سیاحت کی صنعت کی وجہ سے ملک خوشحال ہے۔ یہاں سالانہ ایک کروڑ سے زیادہ سیاح آتے ہیں اور یہاں کوئی ٹیکس نہیں لیا جاتا۔ اگرچہ یہ یورپی یونین کا حصہ نہیں تاہم یورو بطور کرنسی استعمال ہوتا ہے۔ پیدائش کے وقت اوسط زندگی 82 سال مانی جاتی ہے جو دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے۔

بلجئیم

شمال مغربی یورپ میں واقع ایک ملوکیت۔ یورپی یونین اور نیٹو کے مراکز یہاں قائم ہیں۔

جبل الطارق

جبرالٹر جزیرہ نما آئبیریا کے انتہائی جنوب میں برطانیہ کے زیر قبضہ علاقہ ہے جو آبنائے جبل الطارق کے ساتھ واقع ہے۔ جبرالٹر کی سرحدیں شمال میں اسپین کے صوبہ اندلس سے ملتی ہیں۔ جبرالٹر تاریخی طور پر برطانوی افواج کے لیے انتہائی اہم مقام ہے اور یہاں برطانوی بحریہ کی بیس قائم ہے۔

جبرالٹر عربی نام جبل الطارق سے ماخوذ ہے جو بنو امیہ کے ایک جرنیل طارق بن زیاد کے نام پر جبل الطارق کہلایا جنہوں نے 711ء میں اندلس میں فتوحات حاصل کرنے کے بعد یہاں مسلم اقتدار کی بنیاد رکھی تھی۔

اسپین نے برطانیہ سے جبرالٹر واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو 1713ء میں ایک معاہدے کے تحت برطانیہ کے حوالے کیا تھا۔

جبرالٹر 6.5 مربع کلومیٹر (2.5 مربع میل) ہے اور آبادی 2005ء کے مطابق 27 ہزار 921 ہے۔

اس مقام پر پہلی آبادی موحدین کے سلطان عبدالمومن نے قائم ہے جنہوں نے اس کی پہاڑی پر ایک قلعہ تعمیر کرنے کا حکم دیا جو آج بھی موجود ہے۔ 1309ء تک یہ علاقہ امارت غرناطہ کا حصہ رہا جب قشتالہ کے عیسائیوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔ 1333ء میں بنو مرین نے اس پر قبضہ کرکے 1374ء میں اسے مملکت غرناطہ کے حوالے کر دیا۔ 1462ء میں عیسائیوں نے اسے فتح کرکے اسپین میں 750 سالہ مسلم اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔

4 اگست 1704ء کو برطانیہ نے اس پر قبضہ کر لیا اور فرانسیسی و ہسپانوی دستے سالوں کی کوشش کے باوجود جبرالٹر فتح نہ کرسکے اور بالآخر 1713ء میں ایک معاہدے کے تحت جبرالٹر برطانیہ کے حوالے کر دیا گیا۔

نہر سوئز کی تعمیر کے بعد جبرالٹر اپنے محل وقوع کے باعث انتہائی اہمیت اختیار کرگیا کیونکہ سلطنت برطانیہ اپنی نوآبادیات ہندوستان اور آسٹریلیا کے ذریعے آسان بحری راستے سے منسلک ہو گیا۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران یہاں کی آبادی کو منتقل کر دیا گیا اور پہاڑی کو قلعے میں تبدیل کر دیا گیا اور ایک ہوائی اڈا بھی تعمیر کیا گیا۔ جنگ کے دوران نازی جرمنی نے بحیرہ روم میں داخلے کے اس راستے پر قبضے کے لیے ایک آپریشن کا آغاز کیا جسے آپریشن فیلکس کا نام دیا تاہم یہ ناکام ہو گیا۔

جبرالٹر اسپین اور برطانیہ کے درمیان تنازعات کا اہم ترین سبب ہے۔ 1967ء میں یہاں ایک ریفرنڈم کروایا گیا جس میں آبادی کی اکثریت نے برطانیہ کے حق میں ووٹ دیا جس پر اسپین نے جبرالٹر کے ساتھ اپنی سرحد اور تمام راستے بند کر دیے۔

1981ء میں برطانیہ نے اعلان کیا کہ شہزادہ چارلس اور لیڈی ڈیانا ہنی مون جبرالٹر میں منائیں گے جس پر اسپین کے بادشاہ یوان کارلوس اول نے دونوں کی شادی میں شرکت سے انکار کر دیا اور لندن نہیں گئے۔

اسپین کے ساتھ سرحد 1982ء میں عارضی اور 1985ء میں مکمل طور پر کھول دی گئی۔

جزائر برطانیہ

براعظم یورپ کے شمال مغربی ساحلوں پر جزائر برطانیہ واقع ہیں جو دو بڑے اور 5 ہزار سے زائد چھوٹے جزائر کا مجموعہ ہیں۔ سیاسی طور پر یہ علاقہ دو علاقوں میں منقسم ہے برطانیہ عظمٰی اور جمہوریہ آئرلینڈ۔ برطانیہ عظمٰی چار حصوں پر مشتمل ہے: انگلستان، ویلز، اسکاچستان اور شمالی آئرستان۔

جغرافیائی طور پر جزائر برطانیہ شمال اور مغرب کے بالائی علاقوں اور جنوب اور مشرق کے زیریں علاقوں میں تقسیم ہیں۔

چھوٹی پہاڑیاں، وسیع بنجر علاقے اور بڑے احاطوں میں چھوٹے قطعات زمین جزائر برطانیہ کے روایتی مناظر ہیں۔ آئرستان کو اپنی سرسبزی و شادابی کے باعث "جزیرۂ زمرد" کہا جاتا ہے۔ اسکاچستان اور ویلز پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہیں۔

انگلستان کے زیریں علاقوں میں وسیع اور ہموار زمینیں اسے برطانیہ میں زراعت کا اہم ترین مرکز بناتی ہیں۔ حالانکہ ملک خوراک کے حوالے سے خود کفیل نہیں لیکن گندم، آلو اور سبزیاں وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہیں۔ آئرستان اور وسطی انگلستان میں گلہ بانی بھی کی جاتی ہے جبکہ پہاڑی علاقوں میں بھیڑیں پالنا معمول ہے۔

گذشتہ چند دہائیوں میں برطانیہ کی روایتی صنعتیں یعنی کوئلے کی کان کنی، لوہا سازی اور پارچہ پافی زوال کی جانب گامزن ہیں اور ان کی جگہ گاڑیاں تیار کرنے کے جدید کارخانے، کیمیائی مادے اور برقی و جدید تکنیکی مصنوعات کی صنعتیں لے رہی ہیں۔ بنکاری و بیمہ کاری کی صنعت میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ملک کا سب سے اہم قدرتی وسیلہ بحیرہ شمال کے تیل و گیس کے ذخائر ہیں۔

برطانیہ کی کثافت آبادی بہت زیادہ ہے یہاں کے بیشتر لوگ شہری علاقوں میں رہتے ہیں۔ جنوب مشرقی علاقہ ملک کا سب سے گنجان آباد علاقہ ہے۔ اسکاچ بالائی علاقوں میں سب سے کم آبادی ہے۔ آئرستان کی بیشتر آبادی دیہی ہے جہاں اکثریت زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے۔

جزیرہ نما آئبیریا

جزیرہ نما آئبیریا یورپ کے انتہائی جنوب مغرب میں واقع ہے۔ یہ یورپ کے تین جزیرہ نماؤں (جزیرہ نما بلقان، جزیرہ نما اٹلی اور جزیرہ نما آئبیریا) میں سے انتہائی جنوب اور مغرب میں واقع آخری جزیرہ نما ہے۔ جنوب اور مشرق میں اس کی سرحدیں بحیرہ روم اور شمال اور مغرب میں بحر اوقیانوس سے ملتی ہیں۔ جزیرہ نما کے شمالی علاقے میں کوہ پائرینیس ہیں جو اسے یورپ سے منسلک کیے ہوئے ہیں۔ جنوب میں افریقا کا شمالی ساحل اس کے قریب واقع ہیں۔ 582،860 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا جزیرہ نما آئبیریا یورپ کا تیسرا بڑا جزیرہ نما ہے۔

جزیرہ نما آئبیریا میں مندرجہ ذیل ممالک شامل ہیں:

پرتگال: جزیرہ نما کے مغربی علاقے میں واقع ہے

اسپین: جزیرہ نما کا بیشتر حصہ (وسطی، مشرقی اور شمال مغربی علاقہ) اسپین میں شامل ہے

انڈورا: فرانس اور اسپین کے درمیان سرحد پر کوہ پائرینیس کے درمیان ایک چھوٹی سی ریاست

جبل الطارق یا جبرالٹر: اسپین کے جنوب میں بحیرہ روم کے ساحلوں پر برطانیہ کے زیر قبضہ علاقہ

جمہوریہ آئرلینڈ

جمہوریہ آئرلینڈ براعظم یورپ میں جزائر برطانیہ میں جزیرہ آئرلینڈ پر واقع ایک ملک ہے۔ جزیرہ آئرلینڈ کا تقریباً 80 فیصد حصہ جمہوریہ آئرلینڈ کے تحت ہے۔ ڈبلن اس کا سب سے بڑا شہر اور دارالحکومت ہے۔ اس ملک کی مجموعی آبادی تقریباً 47 لاکھ ہے، جن میں سے ایک تہائی ڈائلن میٹروپولیٹن علاقے میں ایک تہائی ہے۔ اس ملک کی مجموعی آبادی تقریباً 47 لاکھ ہے، جس میں سے ایک تہائی ڈبلن میٹروپولیٹن علاقے میں مقیم ہے۔ اس کے شمال میں شمالی آئرلینڈ واقع ہے جو مملکت متحدہ کا حصہ ہے۔ 1973ء کے بعد سے یہ یورپی یونین کا رکن ہے۔

سویٹذرلینڈ

سویٹذرلینڈ (جرمن : دی شوایدز، فرانسیسی میں لا سویسے اور ایثالیایی میں لا سویزے را ) کہا جاثا ہے۔

سویٹذرلینڈ ایک یورپی ملک ہے جو جغرافیائی اعتبار سے ایک طرف کوہِ الپس کی خوبصورت وادیوں اور دوسری طرف ایورہ کی اونچی نیچی پہاڑیوں میں واقع ہے۔ یہ ملک 21 ہزار265 مربع کلو میٹریا 15 ہزار940 مربع میل رقبے پر محیط ہے۔ زیادہ تر علاقہ الپس (ALPS) کے خوش منظر پہاڑوں میں گھرا ہے۔ ملک کی مجموعی آبادی 2015ء کو ایک اندازے کے مطابق تقریباً 8 ملین ہے۔ آبادی کا بیشتر حصہ سطح مرتفع پرقائم بڑے شہروں میں سکونت پزیر ہے۔ بین الاقوامی شہرت کے حامل دو شہروں یعنی زیورخ اور جنیوا کو ملک کے اقتصادی مراکز کی حیثیت حاصل ہے۔ ملک کا قومی دن ہر سال یکم اگست کو منایا جاتا ہے جو روایتی طور پر ریاست کے قیام کا دن سمجھا جاتا ہے یعنی سوئس کنفیڈریشن کا قیام یکم اگست 1291ء کو عمل میں آیا چنانچہ یکم اگست ملک کا قومی دن قرار پایا۔ سوئٹزرلینڈ فی کس آمدنی کے لحاظ سے دنیا کے خوشحال ممالک میں شمار کیا جاتاہے۔

شمالی آئرلینڈ

جزائر آئرلینڈ (northern ireland) کا وہ حصہ جو تاحال برطانیہ کے قبضے میں ہے۔ اسے شمالی آئرلینڈ کہا جاتا ہے۔ کافی طویل عرصہ سے وہاں آزادی کی تحریک جاری ہے جو پہلے زیادہ متشدد تھی اور اب جمہوری طریقہ سے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کا رقبہ 13،843 مربع کلومیٹر ہے۔

فرانس

جمہوریہ فرانس یا فرانس (فرانسیسی: République française، دفتری نام: جمہوریہ فرانس) ایک خود مختار ریاست ہے جس کی عمل داری میں مغربی یورپ کا میٹروپولیٹن فرانس اور سمندر پار واقع متعدد علاقے اور عمل داریاں شامل ہیں۔ فرانس کا میٹروپولیٹن خطہ بحیرہ روم سے رودبار انگلستان اور بحیرہ شمال تک نیز دریائے رائن سے بحر اوقیانوس تک پھیلا ہوا ہے، جبکہ سمندر پار علاقوں میں جنوبی امریکا کا فرانسیسی گیانا اور بحر الکاہل و بحر ہند میں واقع متعدد جزائر شامل ہیں۔ ملک کے 18 خطوں (جن میں سے پانچ سمندر پار واقع ہیں) کا مکمل رقبہ 643,801 مربع کلومیٹر (248,573 مربع میل) ہے جس کی مجموعی آبادی (جون 2018ء کے مطابق) 67.26 ملین (چھ کروڑ اکہتر لاکھ چھیاسی ہزار چھ سو اڑتیس) نفوس پر مشتمل ہے۔ فرانس ایک وحدانی نیم صدارتی جمہوریہ ہے جس کا دار الحکومت پیرس ہے۔ یہ فرانس کا سب سے بڑا شہر اور ملک کا اہم ترین ثقافتی و اقتصادی مرکز ہے۔ دیگر اہم شہروں میں مارسئی، لیون، لیل، نیس، تولوز اور بورڈو قابل ذکر ہیں۔

وہ خطہ جو اس وقت میٹروپولیٹن فرانس کہلاتا ہے، آہنی دور میں اس جگہ سیلٹک قوم سے تعلق رکھنے والے گال آباد تھے۔ روم نے 51 ق م میں اس خطہ پر قبضہ کیا جو 476ء تک برقرار رہا۔ بعد ازاں جرمانی فرانک یہاں آئے اور انہوں نے مملکت فرانس کی بنیاد رکھی۔ عہد وسطیٰ کے اواخر میں فرانس نے جنگ صد سالہ (1337ء تا 1453ء) میں فتح حاصل کی جس کے بعد فرانس ایک بڑی یورپی طاقت بن کر ابھرا۔ نشاۃ ثانیہ کے وقت فرانسیسی ثقافت پروان چڑھی اور ایک عالمی استعماری سلطنت کی ابتدا ہوئی جو بیسویں صدی عیسوی تک دنیا کی دوسری عظیم ترین سلطنت سمجھی جاتی تھی۔ سولہویں صدی عیسوی میں کاتھولک اور پروٹسٹنٹ کے درمیان میں مذہبی جنگیں عروج پر تھیں اور یہ پوری صدی انہی جنگوں کے نام رہی، تاہم لوئی چودہواں کے زیر اقتدار فرانس یورپ کی غالب تمدنی، سیاسی اور فوجی طاقت بن گیا۔ اٹھارویں صدی عیسوی کے اواخر میں عظیم الشان انقلاب فرانس رونما ہوا جس نے مطلق العنان شہنشاہی کا خاتمہ کرکے عہد جدید کے اولین جمہوریہ کی بنیاد رکھی اور حقوق انسانی کے اعلامیہ کا مسودہ پیش کیا جو بعد میں اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے منشور کا محرک بنا۔

انیسویں صدی عیسوی میں نپولین نے مسند اقتدار سنبھالنے کے بعد فرانسیسی سلطنت اول قائم کی۔ نپولین کے عہد میں لڑی جانے والی جنگوں نے پورے بر اعظم یورپ کو خاصا متاثر کیا۔ اس سلطنت کے زوال کے بعد فرانس سخت بد نظمی اور انتشار کا شکار رہا، بالآخر سنہ 1870ء میں فرانسیسی جمہوریہ سوم کی بنیاد پڑی۔ فرانس پہلی جنگ عظیم میں شامل تھا جس میں اسے معاہدہ ورسائے کی شکل میں فتح نصیب ہوئی، نیز وہ دوسری جنگ عظیم میں بھی متحدہ طاقتوں کے ساتھ تھا لیکن 1940ء میں محوری طاقتوں نے اس پر قبضہ کر لیا جس سے سنہ 1944ء میں فرانس کو آزادی ملی اور فرانسیسی جمہوریہ چہارم کا قیام عمل میں آیا لیکن یہ جنگ الجزائر کی وقت تحلیل ہو گیا۔ سنہ 1958ء میں چارلس ڈیگال نے فرانسیسی جمہوریہ پنجم کی بنیاد رکھی جو اب تک موجود ہے۔ سنہ 1960ء کی دہائی میں الجزائر اور تقریباً تمام نو آبادیاں فرانسیسی استعمار سے آزاد ہوئیں لیکن فرانس سے ان کے اقتصادی اور فوجی روابط اب بھی خاصے مستحکم ہیں۔

فرانس سینکڑوں برس سے فلسفہ، طبیعی علوم اور فنون لطیفہ کا عالمی مرکز رہا ہے۔ وہاں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات بکثرت موجود ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے ہر سال تقریباً 83 ملین غیر ملکی سیاح آتے ہیں۔ فرانس ایک ترقی یافتہ ملک ہے جو خام ملکی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کی ساتویں اور مساوی قوت خرید کے لحاظ سے نویں بڑی معیشت سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی خانگی دولت کے حساب سے فرانس دنیا کا چوتھا مالدار ترین ملک ہے۔ نیز تعلیم، نگہداشت صحت، متوقع زندگی اور انسانی ترقی کے میدانوں میں بھی فرانس کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل میں حق استرداد حاصل ہونے کی بنا پر اسے دنیا کی عظیم طاقت اور باضابطہ جوہری قوت کا حامل ملک سمجھا جاتا ہے۔ ساتھ ہی یورو زون اور یورپی اتحاد کے سربرآوردہ ممالک میں اس کا شمار ہے۔ نیز وہ نیٹو، انجمن اقتصادی تعاون و ترقی، عالمی تجارتی ادارہ اور فرانسیسی بین الاقوامی تنظیم کا بھی رکن رکین ہے۔

لاطینی زبان

لاطینی : Latin ؛ اس کا تلفظ “لاطینہ“ ہے۔ یہ زبان قدیم روم کی ادبی زبان ہے۔ یہ زبان قلزم اور یورپ کے بہت سارے علاقوں میں عام ہوئی۔ لاطینی آریائی زبانوں کی ایک شاخ اور دنیا کی قدیم زبانوں میں سے ایک ہے۔ یورپ کی تقریبا تمام بڑی زبانوں (فرانسیسی، اطالوی، ہسپانوی، رومانوی، پرتگالی) کی ماں اور تاحال رومی کلیسا کی مذہبی زبان ہے۔ ازمنۂ وسطی اور نشاۃ ثانیہ کے دور تک مغربی یورپ کی تمام علمی، ادبی، سائنسی، تحریریں اسی زبان میں لکھی جاتی تھیں۔ انگریزی اور جرمنی زبانیں بھی اس سے متاثر ہوئیں۔ انہوں نے بیشتر سائنسی اور علمی اصطلاحات اسی زبان سے لی ہیں۔

لیختینستائن

لیختینستائن (آلمانی میں Fürstentum Liechtenstein) مغربی یورپ میں سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے درمیان واقع ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ یہاں زیادہ تر آلمانی (جرمنی کی زبان) بولی جاتی ہے۔ اس کا کل رقبہ 160.4 مربع کلومیٹر ہے اور آبادی کا تخمینہ 2008ء میں 35,375 لگایا گیا ہے۔

مغربی یورپی وقت

مغربی یورپی وقت (Western European Time) ایک منطقۂ وقت UTC+0 ہے۔

نیدرلینڈز

نیدرلینڈز یا نیدرلانت (Netherlands) یا جسے ہالینڈ (Holland) بھی کہا جاتا ہے مملکت نیدرلینڈز (Kingdom of the Netherlands) کا جزو ملک ہے۔

اس کا دار الحکومت شہر ایمسٹرڈیم ہے۔

ویلز

ویلز برطانیہ کے4 آئینی ممالک میں سے ایک ہے جو انگلستان، اسکاچستان (اسکاٹ لینڈ)، ویلز اور شمالی آئرلینڈ (شمالی آئرستان) پر مشتمل ہے۔ یہ برطانیہ عظمی کے جنوب مغرب میں واقع ہے اور اس کی سرحدیں مشرق میں انگلستان کی کاؤنٹی چیشائر، شروپشائر،ہیئر فورڈ شائر اور گلوسسٹر شائر سے، جنوب مغرب میں رودباد سینٹ جارج اور شمال اور مغرب میں بحیرہ آئرش سے ملتی ہیں۔

ویلز 20،779 مربع کلومیٹر (8،022 مربع میل) پر پھیلا ہوا ہے جبک 2011ء کے اندازوں کے مطابق اس کی آبادی 3,063,500 ہے۔

ویلز کا دارالحکومت کارڈف ہے جبکہ ویلش اور انگریزی قومی زبانیں ہیں۔

پرتگال

پرتگال (Portugal) (تلفظ: /ˈpɔrtʃʉɡəlˌ -tjʉ-/; پرتگیزی: [puɾtuˈɣaɫ]

) سرکاری طور پر جمہوریہ پرتگال یا پرتگیزی جمہوریہ (Portuguese Republic) جنوب مغربی یورپ میں جزیرہ نما آئبیریا میں ایک ملک ہے۔ یہ یورپ کا مغربی ترین ملک ہے۔

انسان پرتگال میں تقریبا 30 30،000 قبل مسیح سے آباد ہے جب دنیا برف کے دور کی گرفت میں تھی۔ پہلے پرتگالی شکاری اور ماہی گیر تھے۔ انہوں نے کھانے کے لیے پودے بھی جمع کیے۔ انہوں نے چمڑے کے کپڑے پہن رکھے تھے اور انہوں نے پتھر کے اوزار بنائے تھے۔ تقریبا 5000 قبل مسیح میں کاشتکاری پرتگال میں متعارف کروائی گئی تھی۔ تاہم ، کاشت کار پتھر کے اوزار استعمال کرتے رہے۔ کانسی پرتگال میں تقریبا 2،000 قبل مسیح میں متعارف کروائی گئی تھی۔ شمال سے 700 قبل مسیح کے سیلٹک قبائل پرتگال میں داخل ہوئے۔ انہوں نے پرتگال سے لوہا منوایا۔ اسی دوران 800 قبل مسیح میں ، فینیشینوں نے جو اب لبنان ہے پرتگالیوں کے ساتھ تجارت شروع کردی تھی۔ (وہ کانسی بنانے کے لیے پرتگالی ٹن چاہتے تھے)۔ تقریبا 600 قبل مسیح تک یونانی بھی پرتگال کے ساتھ تجارت کر رہے تھے۔

210 قبل مسیح میں رومیوں نے جزیرins جزیرہ پر حملہ کیا۔ انہوں نے جلد ہی جنوب فتح کر لیا لیکن مرکزی حصہ ایک الگ معاملہ تھا۔ یہاں ایک سیلٹک قبیلہ تھا جسے لوسیطانی کہا جاتا تھا۔ 193 قبل مسیح میں ، ان کے حکمران ویریاطس کی سربراہی میں ، انہوں نے رومن حکمرانی کے خلاف بغاوت کی۔ انہوں نے کئی دہائیوں تک رومیوں کا مقابلہ کیا اور وہ صرف 139 قبل مسیح میں ہی شکست کھا رہے تھے جب ویریاٹس کو پکڑا گیا تھا۔ اس کے بعد ، مزاحمت گر گئی۔ تاہم ، سیلٹک قبیلے نے اپنا نام رومی صوبے لوزیٹانیا میں دے دیا۔ وقت کے ساتھ ہی جزیرہ نما جزیرula روم کا جنوب مکمل طور پر رومی دنیا میں ضم ہو گیا۔ جو پرتگال ہے وہاں سے گندم ، زیتون اور شراب روم کو برآمد کی گئیں۔

تاہم تیسری صدی عیسوی کے وسط تک رومن سلطنت زوال پزیر تھی۔ 5 ویں صدی میں پرتگال میں رومن حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔ 409 میں جرمنی کے عوام نے جزیرins جزیرہ پر حملہ کیا۔ سویوی نامی ایک دوڑ نے پرتگال پر حملہ کیا۔ تاہم ، چھٹی صدی میں ، ویزگوٹھوں نامی ایک اور دوڑ نے اسپین پر حکومت کی اور انہوں نے سویوی پر حملہ کر دیا۔ 585 تک ویزگوٹھوں نے سویوی کو فتح کر لیا۔ جرمنی کے حملہ آور نئے اپر کلاس بن گئے۔ وہ زمیندار اور جنگجو تھے جو تجارت سے نفرت کرتے تھے۔ ان کے اقتدار کے تحت یہودیوں کا تجارت غلبہ تھا۔

درمیانی عمر میں پورٹل

711 میں شمالی افریقہ کے ماؤسوں نے جزیرins جزیرہ پر حملہ کیا۔ انہوں نے فوری طور پر فتح کر لیا جو اب جنوبی پرتگال ہے اور انہوں نے صدیوں تک اس پر حکومت کی۔ تاہم ، وہ شمالی پرتگال کو مستقل طور پر محکوم رکھنے سے قاصر تھے۔

شمال میں آہستہ آہستہ ویزیگوتھک اسٹیٹیلیٹ بڑھتی گئی۔ 11 ویں صدی تک ، یہ پرتگال کے نام سے جانا جاتا تھا۔ پرتگال کی گنتی لیون کے بادشاہ کے واسال تھے لیکن ثقافتی طور پر یہ علاقہ لیون سے بالکل مختلف تھا۔ 1095 میں لیون کے بادشاہ نے پرتگال کو اپنی بیٹی ڈونا ٹریسا اور اس کے شوہر کو عطا کیا۔ جب اس کے شوہر کی موت ہو گئی تو ڈونا ٹریسا نے اپنے بیٹے کی حیثیت سے حکمرانی کی۔ اس نے ایک گالیشی نوبل سے شادی کی۔ تاہم ، پرتگالی اشراف گالیشیاء کے ساتھ اتحاد کا امکان دیکھ کر گھبرا گئے۔ انہوں نے بغاوت کی اور اس کے بیٹے ڈوم الفونسو ہنریکس کی سربراہی میں انہوں نے ساو ممیڈ کی جنگ میں ٹریسا کو شکست دی۔ اس کے بعد الفونسو ہنریکس پرتگال کا حکمران بن گیا۔

پرتگال آہستہ آہستہ لیون سے آزاد ہو گیا۔ 1140 تک الفونسو نے خود کو پرتگال کا بادشاہ کہا اور اپنے ملک کی آزادی کا دعوی کیا۔ 1179 سے پوپل سفارتکاروں نے بھی اسے بادشاہ کہا۔ دریں اثنا ، الفانسو نے ماؤس سے علاقہ پر دوبارہ قبضہ کرنے کا آغاز کیا۔ 1139 میں الفانسو نے ماورس کو اوریئک سے شکست دی۔ 1147 میں اس نے لزبن پر قبضہ کیا اور سرحد کو دریائے ٹیگس میں منتقل کر دیا۔ بعد میں اس نے ٹیگس کے جنوب میں علاقے پر قبضہ کر لیا۔

دریں اثنا پرتگال میں تجارت کی منازل طے رہی۔ یہودیوں کا شہروں میں اہم ہونا اہم ہے۔ پہلی پارلیمنٹ یا کورٹس کا اجلاس 1211 میں ہوا۔ پہلے تو صرف پادریوں اور شرافت کی نمائندگی کی گئی۔ تاہم ، کنگ ڈینس (1279-1325) نے تاجر طبقے کو نمائندے بھیجنے کی اجازت دی - جو ان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی علامت ہے۔ 13 ویں صدی کے وسط سے ، لزبن پرتگال کا دار الحکومت بن گیا۔ 1290 میں پرتگال کی پہلی یونیورسٹی لزبن میں قائم ہوئی۔ (حالانکہ یہ جلد ہی کوئمبرا منتقل ہو گیا ہے)۔ اس کے علاوہ دینی کے دور میں دیودار کے دیودار جنگلات لگائے گئے تھے اور کھیتی باڑی کے ل ma مارش لینڈ کو بہا دیا گیا تھا۔ زراعت ترقی کی۔

تاہم ، یوروپ کے باقی حصوں کی طرح ، 1348-49 میں ، پرتگال میں کالی موت نے تباہی مچا دی تھی ، جس نے شاید ایک تہائی آبادی کو ہلاک کر دیا تھا۔

پھر چودہویں صدی کے آخر میں پرتگال ایک جنگ کی طرف راغب ہوا۔ جب بادشاہ فرنینڈو (1367-13138) کی وفات ہوئی اس کی بیٹی بیٹریز ملکہ ہوگئ۔ تاہم ، اس کی شادی کاسٹل کے جوآن سے ہوئی تھی۔ کچھ پرتگالیوں کو خدشہ تھا کہ پرتگال کاسٹیل کے ساتھ متحد ہوجائے گا اور خود مختار ہوجائے گا۔ وہ سرکشی میں اٹھے۔ کیسٹل کے بادشاہ نے اپنی اہلیہ کی حمایت کے ل Port پرتگال پر حملہ کیا۔ جنگ 2 سال تک جاری رہی۔ آخر ، کجلیائیوں کو پرتگالی فوج نے انگریزی آرچرز کے ذریعہ سپورٹ کیا۔ اس کے بعد ڈوم جواؤ بادشاہ بنا اور پرتگال آزاد رہا۔

1386 میں پرتگال نے انگلینڈ کے ساتھ اتحاد کیا۔ پھر 15 ویں صدی میں پرتگال ایک بہت بڑا سمندری قوم بن گیا۔ 1415 میں پرتگالیوں نے مراکش میں سیؤٹا پر قبضہ کر لیا۔ میڈیرا کو 1419 میں دریافت کیا گیا تھا۔

اس وقت شہزادہ ہنری نیویگیٹر (1394601460) نے ایک عمدہ فن کا رخ کیا۔ انہوں نے پرتگالی کپتانوں کو جہاز اور رقم بھی فراہم کی۔ پرتگالی بحری جہازوں نے آگے اور آگے کی مہم جوئی کی۔ جب شہزادہ ہنری کی موت ہوئی ، پرتگالی سیرا لیون تک چلے گئے۔ پھر ٹینگیئرس کو 1471 میں پکڑ لیا گیا۔

کوہ پائرینیس

کوہ پائرینیس جنوب مغربی یورپ کا ایک پہاڑی سلسلہ ہے جو فرانس اور اسپین کے درمیان قدرتی سرحد ہے۔ یہ جزیرہ نما آئبیریا کو فرانس سے جدا کرتے ہیں اور بحر اوقیانوس میں خلیج بسکے سے بحیرہ روم میں کیپ ڈی کریوس تک 430 کلومیٹر (267 میل) پر پھیلے ہوئے ہیں۔

اس پہاڑی سلسلے کی بلند ترین چوٹی انیتو یا پک ڈی نیتھو ہے جس کی بلندی 3،404 میٹر (11،168 فٹ) ہے۔

ہسپانیہ

ہسپانیہ (انگریزی میں Spain، اردو میں ہسپانیہ یا سپین) سرکاری طور پر مملکت ہسپانیہ (Kingdom of Spain) کاستین، کتالان، باسک سمیت بہت سی قدیم قوموں کا ملک ہے۔ مغرب کی جانب يہ پرتگال، جنوب ميں جبل الطارق اور مراکش اور شمال مشرق ميں انڈورا اور فرانس کے ساتھ ملتا ہے۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.