معیشت

معیشتکسی ملک یا علاقہ کے معیشتی نظام پر مشتمل ہوتی ہے؛ مزدور، سرمایہ اور اراضی اور وسائل؛ اور اس علاقہ میں اشیاء اور خدمات کی صناعی، پیداوار، تجارت، رسدی، خرچ پر۔

Ps.

ps. فلسطین کے لیے مخصوص کردہ بلند ترین اسمِ ساحہ (top-level domain name) ہے۔

آئس لینڈ

آئس لینڈ کا سرکاری نام جمہوریہ آئس لینڈ ہے۔ (Icelandic: Ísland or Lýðveldið Ísland; آئس لینڈ ایک جزیرہ ہے جو شمال مغربی یورپ کا ایک ملک ہے۔ اس کے بیرونی حصے شمال میں اٹلانٹک (بحر اوقیانوس) سمندر میں یورپ اور گرین لینڈ کے درمیان موجود ہیں۔ جولائی 2008ء کے مطابق اس کی آبادی 311396 ہے۔ اس کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ریکیاویک ہے۔

وسطی اٹلانٹک پلیٹ پر اپنے محل وقوع کے لحاظ سے آئس لینڈ آتش فشانی اور ارضیات کے حوالے سے کافی بڑے پیمانے پر متحرک ہے۔ اس کا اندرونی حصہ سطح مرتفع پر مشتمل ہے جو ریتلے میدانوں، پہاڑوں اور گلئیشرز(یخ بست دریا) پر مشتمل ہے اور ان ہی گلیشئرز (یخ بست دریا) سے دریا نکل کر اس کے زیریں حصوں سے ہوتے ہوئے سمندر تک جاتے ہیں۔ خلیجی رو کی وجہ سے آئس لینڈ کا درجہ حرارت اس کے محل وقوع کے باوجود نسبتاً معتدل رہتا ہے اور اس وجہ سے یہاں رہائش کرنا نسبتاً آسان ہے۔

آئس لینڈ میں انسانی آبادی کے آثار 874ء سے ملتے ہیں جب نارویجیئن سردار انگولفر آرنارسن آئس لینڈ کا پہلا مستقل آباد کار بنا۔ اس کے علاوہ دیگر لوگوں نے یہاں کے چکر لگائے تھے اور قیام بھی کیا تھا۔ اگلی صدیوں کے دوران نارڈک اور گائلیک لوگوں نے آئس لینڈ کو اپنا مستقر بنایا۔ بیسویں صدی سے قبل تک آئس لینڈ کی آبادی کا انحصار ماہی گیری اور زراعت پر تھا اور 1262ء سے 1944ء تک یہ ناروے کا حصہ رہا اور اس کے بعد ڈینش (دانمارکی) بادشاہت کا۔ بیسویں صدی میں آئس لینڈ کی معیشت اور بہبود کا نظام بہت تیزی سے پروان چڑھا۔

آج آئس لینڈ ایک ترقی یافتہ ملک ہے، فی کس جی ڈی پی کے لحاظ سے دنیا میں پانچویں اور انسانی ترقی کے حوالے سے دنیا میں دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ اس کی معیشت فری مارکیٹ (آزاد منڈی) اکانومی پر مشتمل ہے جس میں خدمات، فنانس(مالیات)، ماہی گیری اور مختلف صنعتیں اہم سیکٹرز ہیں۔ سیاحت بھی کافی مقبول ہے۔ آئس لینڈ UN, NATO, EFTA, EEA اور OECD کا رکن ہے لیکن یورپی یونین کا رکن نہیں۔

استونیا

اسٹونیا جسے سرکاری طور پر جمہوریہ اسٹونیا بھی کہتے ہیں، شمالی یورپ کے بالٹک ریجن میں واقع ہے۔ شمال میں خلیج فن لینڈ، مغرب میں بحیرہ بالٹک، جنوب میں لٹویا اور مشرق میں روس واقع ہے۔ بحیرہ بالٹک کے پار سوئیڈن واقع ہے۔ اسٹونیا کا کل رقبہ 45٫227 مربع کلومیٹر ہے۔ استونین قوم فِننک قوم سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی واحد سرکاری زبان اسٹونین ہے جو فِننش زبان سے مماثل ہے۔

اسٹونیا پارلیمانی جمہوریہ ہے اور اس میں کل 15 کاؤنٹیاں ہیں۔ سب سے بڑا شہر اور دار الحکومت ٹالِن ہے۔ اس کی کل آبادی 13٫40٫000 ہے۔ یورپی یونین، یورو زون اور ناٹو کے رکن ممالک میں کم گنجان آباد ممالک میں سے ایک ہے۔ سابقہ روسی ریاستوں میں اسٹونیا فی کس آمدنی کے اعتبار سے سب سے آگے ہے۔ عالمی بینک کے مطابق اسٹونیا کی معیشت امیر ممالک میں شمار ہوتی ہے۔ اقوامِ متحدہ اسٹونیا کو ترقی یافتہ ملک قرار دیتی ہے اور انسانی ترقی کے اعشاریے میں اسٹونیا کا درجہ انتہائی بلند ہے۔ آزادئ صحافت، معاشی آزادی، جمہوریت اور سیاسی آزادی اور تعلیم کے حوالے سے بھی اسٹونیا کا درجہ بہت بلند ہے۔

اقتصادی تعاون تنظیم

اقتصادی تعاون تنظیم یا ای سی او (فارسی: سازمان همکاری اقتصادی‎، اردو: اقتصادی تعاون تنظیم، ترکی: Ekonomik İşbirliği Teşkilatı، قازق: Экономикалық ынтымақтастық ұйымы، ازبک: Iqtisodiy Hamkorlik Tashkiloti، کرغیز: Экономикалык Кызматташтык Уюму، آذربائیجانی: İqtisadi Əməkdaşlıq Təşkilatı، تاجک زبان: Ташкилоти ҳамкории иқтисодӣ، پشتو: اقتصادي همکاريو د سازمان‎) یا ای سی او ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جس میں 10 ایشیائی ممالک شامل ہے۔ یہ رکن ممالک کے درمیان میں تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع ترتیب دے کر انہیں ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے۔ اس کے رکن ممالک میں افغانستان، آذربائیجان، ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، تاجکستان، ترکی، ترکمانستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ ای سی او کا صدر دفتر ایران کے دار الحکومت تہران میں واقع ہے۔ اس تنظیم کا مقصد یورپی اقتصادی اتحاد کی طرح اشیاء اور خدمات کے لیے واحد مارکیٹ تشکیل دینا ہے۔

یہ تنظیم 1985ء میں ایران، پاکستان اور ترکی نے مل کر قائم کی تھی۔ اس تنظیم نے علاقائی تعاون برائے ترقی (انگریزی:Regional Cooperation for Development) یعنی آر سی ڈی کی جگہ لی جو 1962ء میں قائم ہوئی اور 1979ء میں اس کی سرگرمیاں ختم ہوگئیں۔ 1992ء کے موسم خزاں میں افغانستان سمیت وسط ایشیا کے 7 ممالک آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کو بھی تنظیم کی رکنیت دی گئی۔

رکن ممالک کے درمیان میں 17 جولائی 2003ء کو اسلام آباد میں اقتصادی تعاون تنظیم تجارتی معاہدہ (ECOTA) پر دستخط کیے گئے۔

اس تنظیم کے تمام رکن ممالک موتمر عالم اسلامی (او آئی سی) کے بھی رکن ہیں جبکہ 1995ء سے ای سی او کو او آئی سی میں مبصر کا درجہ بھی حاصل ہے۔

بالی وڈ

بالی وڈ بھارت کی اردو اور ہندی فلمی صنعت کے مرکز کو کہا جاتا ہے جو ممبئی شہر میں واقع ہے۔ بالی وڈ کا لفظ امریکی شہر ہالی وڈ کے نام کا چربہ ہے جو امریکی فلمی صنعت کا مرکز ہے۔ ممبئی کا قدیم نام بمبئی تھا جس سے "بالی" کا لفظ نکالا گیا۔ زیادہ تر فلمیں اردو اور ہندی زبانوں میں بنتی ہیں۔

بلوچستان

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اس کا رقبہ 347190 مربع کلو میٹر ہے جو پاکستان کے کل رقبے کا43.6فیصد حصہ بنتا ہے جبکہ اس کی آبادی 1998ءکی مردم شماری کے مطابق 65لاکھ65ہزار885نفوس پر مشتمل تھی۔ اس وقت صوبے کی آبادی ایک محتاط اندازے کے مطابق90لاکھ سے ایک کروڑ کے درمیان میں ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال بلوچستان محل وقوع میں اہم ترین صوبہ ہے مگر افسوس حالیہ یو،این عالمی ادارے کے سروے کے مطابق بلوچستان دنیا کا سب سے پسماندہ اور غریب ترین علاقہ ہے اس کے شمال میں افغانستان، صوبہ خيبر پختون خوا، جنوب میں بحیرہ عرب، مشرق میں سندھ اور پنجاب جبکہ مغرب میں ایران واقع ہے۔ اس کی 832کلو میٹر سرحد ایران اور 1120کلو میٹر طویل سرحد افغانستان کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ جبکہ 760کلو میٹر طویل ساحلی پٹی بھی بلوچستان میں ہے۔

ایران میں بلوچوں کا علاقہ جو ایرانی بلوچستان کہلاتا ہے اور جس کا دار الحکومت زاہدان ہے، ستر ہزار مربع میل کے لگ بھگ ہے - بلوچوں کی آبادی ایران کی کل آبادی کا دو فی صد ہے - اس کے علاوہ افغانستان میں زابل کے علاقہ میں بھی بلوچوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے -

تاجکستان

جمہوریہ تاجکستان (تاجک: جمہوری توجکستون) وسط ایشیا کا ایک خشکی میں گھرا ہوا (landlocked) ملک ہے۔ اس کی سرحدیں جنوب میں افغانستان، مغرب میں ازبکستان، شمال میں کرغزستان اور مشرق میں چین سے ملتی ہیں۔ یہ تاجک نسل کے باشندوں کا وطن ہے، جن کی ثقافتی و تاریخی جڑیں ایران میں پیوست ہیں اور یہ فارسی سے انتہائی قربت رکھنے والی زبان تاجک بولتے ہیں۔ سامانی سلطنت کا گہوارہ رہنے والی یہ سرزمین 20 ویں صدی میں سوویت اتحاد کی باضابطہ جمہوریہ رہی جسے تاجک سوویت اشتراکی جمہوریہ (Tajik Soviet Socialist Republic) کہا جاتا تھا۔

سوویت اتحاد سے آزادی ملنے کے بعد تاجکستان 1992ء سے 1997ء تک زبردست خانہ جنگی کا شکار رہا۔ خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سیاسی استحکام، غیر ملکی امداد اور ملک کے دو بڑے قدرتی ذرائع کپاس اور المونیم نے ملکی معیشت کی بہتری میں اہم کردار ادا کیا۔

تھائی لینڈ

تھائى لینڈ کے معنے ہیں آزاد لوگوں کے رہنے کى جگہ اس ملک کا پرانا نام سیام ہوا کرتا تھاـ یہ ملک تاریخ میں کبھى بھى کسى اور قوم کا غلام نہیں بنا۔

تھائی لینڈ ایک آئینی سلطنت ہے اور پارلیمنٹ کے جمہوریہ جمہوریہ اور فوجی جنتا کے درمیان دہائیوں کے درمیان تبدیل کر دیا ہے، مئی 2014 میں نیشنل کونسل برائے امن اور آرڈر کی طرف سے تازہ ترین بغاوت۔ اس کا دار الحکومت اور سب سے زیادہ آبادی شہر بینکاک ہے۔ یہ شمال میں میانمر اور لاوس کی جانب سے مشرقی طرف لاؤس اور کمبوڈیا کی طرف سے جنوبی طرف تھائی لینڈ اور ملائیشیا کے خلیج اور آمنام سمندر اور میانمار کی جنوبی افریقی طرف مغرب تک واقع ہے۔ اس کی بحری سرحدوں میں ویت نام تھائی لینڈ کے خلیج میں جنوب مشرقی، انڈونیشیا اور انڈیا میں اورامان سمندر پر جنوب مغرب تک شامل ہے۔

تھائی معیشت پی پی پی میں دنیا کی 20 سب سے بڑی جی ڈی ڈی اور نجی جی ڈی پی کی طرف سے 27 ویں بڑی معیشت ہے۔ یہ ایک نیا صنعتی ملک بن گیا اور 1990 کے دہائی میں ایک اہم برآمد کنندہ بن گیا۔ مینوفیکچرنگ، زراعت اور سیاحت معیشت کے شعبوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ یہ علاقے اور دنیا بھر میں ایک درمیانی طاقت سمجھا جاتا ہے۔

جزائر فاکلینڈ

جزائر فاکلینڈ جنوبی بحر اوقیانوس میں ارجنٹائن کے ساحل سے 480 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک مجموعہ جزائر ہے۔ مجموعہ میں دو بڑے جزیرے، مشرقی فاکلینڈ اور مغربی فاکلینڈ اور 776 چھوٹے جزیرے شامل ہیں۔ رقبہ 12,000 مربع کلومیٹر سے زائد جبکہ آبادی صرف 3,000 کے لگ بھگ ہے۔

یہ جزائر برطانیہ کے زیر انتظام ہیں لیکن ارجنٹائن ان پر ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس تنازع کے باعث ارجنٹائن اور برطانیہ کے مابین 1982ء میں ایک جنگ بھی ہو چکی ہے جس میں ارجنٹائن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

جزائر کی معیشت کا ایک بڑا حصہ گلہ بانی پر منحصر ہے جو یہاں کا تاریخی پیشہ بھی ہے۔ یہ علاقہ بھیڑوں کی افزائش کے لیے مشہور ہے اور یہاں پر اندازہً 5 لاکھ بھیڑیں موجود ہیں۔ 1984ء کے بعد سے معیشت میں تنوع لانے کے لیے ماہی گیری کی صنعت کو بھی فروغ دیا گیا ہے اور اب یہ صنعت معیشت کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ سیاحت بھی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

جنوبی امریکا

جنوبی امریکا مغربی نصف کرہ میں واقع ایک براعظم ہے جس کا بیشتر حصہ جنوبی کرہ ارض میں واقع ہے۔ مغرب میں اس براعظم کی سرحدیں بحر الکاہل اور شمال اور مشرق میں بحر اوقیانوس اور شمالی امریکا اور شمال مغرب میں بحیرہ کیریبیئن سے ملتی ہیں۔

جنوبی امریکا کا نام شمالی امریکا کی طرح یورپی جہاز راں امریگو ویسپوچی کے نام پر رکھا گیا جس نے پہلی مرتبہ یہ انکشاف کیا کہ امریکا دراصل ہندوستان نہیں بلکہ ایک نئی دنیا ہے جسے یورپی نہیں جانتے۔

ریاستہائے متحدہ مردم شماری بیورو

ریاستہائے متحدہ مردم شماری بیورو (United States Census Bureau) رسمی طور پر مردم شماری بیورو (Bureau of the Census) امریکی وفاقی شماریاتی نظام کی ایک بنیادی ایجنسی ہے جو امریکی عوام اور معیشت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی ذمہ دار ہے۔

شنگھائی

شنگھائی چین کا سب سے بڑا شہر اور تجارتی و صنعتی مرکز ہے۔ دو کروڑ نفوس کی آبادی والا یہ شہر دنیا کے سب سے بڑے شہری علاقوں میں سے ہے۔ شنگھائی کا شہر چین کے مغربی ساحل پر یینگزی دریا کے پنگھٹ پر واقع ہے۔

مشرقی یورپ

دریائے ڈینیوب اور بحیرہ اسود کے شمال میں پھیلا ہوا علاقہ مشرقی یورپ (eastern europe) کہلاتا ہے۔ اس خطے کا بیشتر علاقہ میدانی ہے۔ بیلارس، مالڈووا، رومانیہ اور یوکرین مشرقی یورپ کے ممالک شمار کیے جاتے ہیں۔ جبکہ قفقاز کے ممالک اور سرد جنگ کے دوران وسطی یورپ کے وائز گراڈ گروپ کے ممالک بھی مشرقی یورپ کا حصہ سمجھتے جاتے تھے۔ علاوہ ازیں شمالی یورپ کی بالٹک ریاستیں اور یورپی روس کو بھی مشرقی یورپ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ہم اس مضمون میں وسطی یورپ، شمالی یورپ، بالٹک ریاستوں اور قفقاز کے علاقے کو چھوڑ کر مشرقی یورپ کے مخصوص ممالک کو موضوع بنائیں گے۔

منتہا بین الاقوامی درجہ بندی بالحاظ ملک

یہ منتہا بین الاقوامی درجہ بندی بالحاظ ملک ہے۔

نیپال کے ترقیاتی علاقے

نیپال پانچ ترقیاتی علاقوں (विकास क्षेत्र)، چودہ انتظامی زونز (अञ्चल) اور 75 اضلاع (जिल्ला) میں منقسم ہے۔

نیپال کے پانچ ترقیاتی علاقے یہ ہیں (مشرق سے مغرب):

مشرقی ترقیاتی علاقہ (पुर्वाञ्चल विकास क्षेत्र): میچی، کوسی، ساگرماتھا

مرکزی ترقیاتی علاقہ (मध्यमाञ्चल विकास क्षेत्र): جنکپور، باگمتی، نارائنی

مغربی ترقیاتی علاقہ (पश्चिमाञ्चल विकास क्षेत्र): گنداکی، لومبینی، دھولاگیری

وسط-مغربی ترقیاتی علاقہ (मध्य पश्चिमाञ्चल विकास क्षेत्र): راپتی، کرنالی، بھیری

بعید-مغربی ترقیاتی علاقہ (सुदुर पश्चिमाञ्चल विकास क्षेत्र): سیتی، مہاکالی

پاکستان ریلویز

پاکستان ریلویز ( انگريزی: Pakistan Railways ) جس کا سابقہ نام 1947ء سے فروری 1961ء تک شمال مغربی ریلوے (North Western Railway)، فروری 1961ء سے مئی 1974ء تک پاکستان مغربی ریلوے (Pakistan Western Railway) تھا، حکومت پاکستان کا ایک محکمہ ہے جو پاکستان میں ریلوے خدمات فراہم کرتا ہے۔ اس کا صدر دفتر لاہور میں ہے اور یہ وزارت ریلوے کے تحت کام کرتا ہے۔ پاکستان ریلویز پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی طرح اہم ہے جو پاکستان میں بڑے پیمانے پر آمد و رفت کی سستی تیز رفتار اور آرام دہ سہولیات فراہم کرتا ہے۔

ڈکوٹاز

ڈکوٹاز (The Dakotas) امریکی ریاستوں شمالی ڈکوٹا اور جنوبی ڈکوٹا کے لیے ایک اجتماعی اصطلاح ہے۔ اسے ڈکوٹا علاقہ بیان کرنے کے لیے تاریخی طور پر استعمال کیا جاتا ہے، اور یہ اصطلاح اب بھی اجتماعی ثقافتی ورثہ، ثقافت، جغرافیہ، نباتیہ، سماجیات، معیشت، اور طباخی کے لیے دو ریاستوں کے استعمال ہوتی ہے۔

یوراگوئے

یوراگوئے جنوبی امریکا کے جنوب مشرقی حصے میں واقع ایک ملک ہے۔ ملک میں رہنے والی تقریباً 35 لاکھ کی آبادی میں سے 11 لاکھ افراد دار الحکومت مونٹیویڈیو اور اس میٹروپولیٹن علاقے میں رہائش گاہ کرتے ہیں۔ ملک کی 88-94٪ آبادی یورپی یا مخلوط لوگ ہیں۔

یوراگوئے کی زمینی سرحد مشرق اور شمال میں برازیل سے اور مغرب میں ارجنٹائن، شمال میں ریو گرینڈ دو سول سے ملتی ہے۔ اس کے مغرب میں یوراگوئے دریا، دكشپشچم میں ریو دی لا پلاتا کا مہانا اور جنوب میں جنوبی اندھ اوقیانوس واقع ہے۔ یوراگوئے جنوبی امریکا میں سورینام کے بعد دوسرا سب سے چھوٹا ملک ہے۔

یوراگوئے میں سب سے پرانی یورپی کالونی كولونيا ڈیل سكارمے ٹو قائم پرتگال کی طرف سے 1680 میں کی گئی تھی۔ موٹے ويڈيو قائم سپے نيو نے 18 ویں صدی کے ابتدائی دور میں فوجی گڑھ کے طور پر کی تھی۔ یوراگوئے نے 1825–1928 کے درمیان میں سپین، ارجنٹائن اور برازیل کے درمیان میں تین طرفہ جنگ کے بعد آزادی حاصل کی۔ یہاں آئینی جمہوریت ہے، جہاں صدر ریاست کے ساتھ ساتھ حکومت کے بھی سربراہ ہیں۔

یوراگوئے کی معیشت بنیادی طور زراعت پر اور ریاست سروس پر مبنی ہے۔ ٹراسپرے سي انٹرنیشنل کے مطابق، یوراگوئے لاطینی امریکا میں (چلی کے ساتھ) سب ​​سے کم بدعنوان ملک ہے، جہاں کی سیاسی اور کام حالات براعظم میں سب سے زیادہ کھلی ہے۔

یوراگوئے اعلیٰ انسانی ترقی انڈیکس اور فی کس آمدنی کے لحاظ سے لاطینی امریکا کے سب سے ترقی یافتہ معیشت والا ملک ہے۔

یورو

یورو یورپ کے اکثر ممالک میں رائج کرنسی کا نام ہے۔ یہ 1999 میں دنیاوی معیشت میں متعارف کیا گیا اور 2002 میں سکوں اور نوٹوں کی شکل میں جاری کیا گیا۔ یورپی یونین کے تمام ممالک اس کرنسی کو اپنا سکتے ہیں اگر وہ کچھ مالیاتی شرائط کو پورا کر لیں۔ تمام ممبر ممالک کے لیے آخر کار اس کرنسی کو اپنانا لازمی ہے۔ 2004 تک آسٹریا، بلجیم، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، یونان (گریس)، آئرلینڈ، اٹلی، لکسمبرگ، نیدرلینڈ، پرتگال اور سپین اسے اپنا چکے ہیں۔

یورو کرنسی 1، 2، 5، 10، 20، 50 سینٹ اور 1 اور 2 یورو کے سکوں اور 5، 10، 20، 50، 100، 200 اور 500 یورو کے نوٹوں پر مشتمل ہے۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.