قبرص

قبرص (انگریزی: Cyprus; تلفظ: سنیےi/ˈsprəs/; یونانی: Κύπρος، نقل حرفیKýpros یونانی تلفظ : [ˈcipros]; ترکی: Kıbrıs ترکی تلفظ: [ˈkɯbɾɯs])، رسمی اور پر Republic of Cyprus (یونانی: Κυπριακή Δημοκρατία، نقل حرفیKypriakí Demokratía; ترکی: Kıbrıs Cumhuriyeti) مشرقی بحیرہ روم کا ایک جزیرہ اور ملک ہے جو اناطولیہ (ایشیائے کوچک) کے جنوب میں واقع ہے۔ جمہوریہ قبرص 6 اضلاع میں تقسیم ہے جبکہ ملک کا دارالحکومت نکوسیا ہے۔ 1913ء میں برطانوی نو آبادیاتی بننے والا قبرص 1960ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ 11 سال تک فسادات کے بعد 1964ء میں اقوام متحدہ کی امن فوج تعینات کی گئی جس کے بعد جزیرے کے یونان کے ساتھ الحاق کیا گیا جس پر ترکی نے 1974ء میں جزیرے پر حملہ کر دیا۔ اس کے نتیجے میں شمالی قبرص میں ترکوں کی حکومت قائم ہوگئی جسے ترک جمہوریۂ شمالی قبرص کہلاتی ہے تاہم اسے اقوام متحدہ تسلیم نہیں کرتی۔ شمالی قبرص اور قبرص ایک خط کے ذریعے منقسم ہیں جسے "خط سبز" کہا جاتا ہے۔ شمالی قبرص کو صرف ترکی کی حکومت تسلیم کرتی ہے۔ جمہوریہ قبرص یکم مئی 2004ء کو یورپی یونین کا رکن بنا۔

جمہوریہ قبرص
Republic of Cyprus

Κυπριακή Δημοκρατία  (یونانی)
Kıbrıs Cumhuriyeti  (ترکی)
Flag of Cyprus
پرچم
ترانہ: مناجات آزادی[ا] (یونانی قبرصی)
"Hymn to Liberty"
قبرص کامحل وقوع (تصویر میں نچلے دائیں)، جمہوریہ قبرص سبز رنگ میں اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص روشن سبز رنگ میں، اور باقی یورپی اتحاد ہلکے سبز رنگ میں
قبرص کامحل وقوع (تصویر میں نچلے دائیں)، جمہوریہ قبرص سبز رنگ میں اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص روشن سبز رنگ میں، اور باقی یورپی اتحاد ہلکے سبز رنگ میں
دار الحکومت
اور سب سے بڑا شہر
نیکوسیا  
35°10′N 33°22′E / 35.167°N 33.367°E
دفتری زبانیں
اقلیتی زبانیں
دیسی زبانیں
نسلی گروہ
نام آبادی قبرصی
حکومت وحدانی صدارتی جمہوریہ
• صدر
نیکوس آناستاسیادیس
• پارلیمانی صدر
Demetris Syllouris
مقننہ ایوان نمائندگان
آزادیمملکت متحدہ سے
• زیوریخ اور لندن معاہدے
19 فروری 1959
• آزادی کا اعلان
16 اگست 1960
• یوم آزادی
1 اکتوبر 1960
• شمولیت یورپی اتحاد
1 مئی 2004
رقبہ
• کل[ب]
9,251 کلومیٹر2 (3,572 مربع میل) (168 واں)
• آبی (%)
9
آبادی
• 2013 تخمینہ
1,141,166[پ][3] (158 واں)
• 2011 [پ][5] مردم شماری
838,897[ت][4]
• کثافت
123.4/کلو میٹر2 (319.6/مربع میل) (82 واں)
خام ملکی پیداوار (مساوی قوت خرید) 2016 تخمینہ
• کل
$29.666 بلین[6] (126 واں)
• فی کس
$34,970[6] (35 واں)
خام ملکی پیداوار (برائے نام) 2016 تخمینہ
• کل
$19.810 بلین[6] (114 واں)
• فی کس
$23,352[6] (33 واں)
جینی (2015) positive decrease 33.6[7]
متوسط
انسانی ترقیاتی اشاریہ (2015) Increase2.svg 0.856[8]
انتہائی اعلی · 33 واں
کرنسی یورو (EUR)
منطقۂ وقت مشرقی یورپی وقت (متناسق عالمی وقت+2)
مشرقی یورپی گرما وقت (متناسق عالمی وقت+3)
ڈرائیونگ سمت بائیں ہاتھ
کالنگ کوڈ +357
انٹرنیٹ ڈومین Cy.[ٹ]

تاریخ

قبرص 395ء میں رومی سلطنت کی تقسیم کے بعد بازنطینی سلطنت کا حصہ بنا اور امیر معاویہ کے دور میں اسے مسلمانوں نے فتح کر لیا۔

تیسری صلیبی جنگ کے دوران 1191ء میں انگلستان کے شاہ رچرڈ اول (رچرڈ شیر دل) نے اسے فتح کر لیا اور مملکت قبرص کی بنیاد رکھی۔

1489ء میں جمہوریہ وینس نے جزیرے کا کنٹرول سنبھال لیا جبکہ 1571ء میں لالہ مصطفی کی زیر قیادت عثمانی فوج نے جزيرہ فتح کر لیا۔

قبرص کے بڑے شہر

درجہ شہر کا نام ضلع آبادی
1 نیکوسیا نیکوسیا 398,293
2 لیماسول لیماسول 235,056
3 لارناکا لارناکا 72,000
4 فاماگوستا فاماگوستا 42,526
5 پافوس پافوس 32,754
6 کیرینیہ کیرینیہ 26,701
7 پروٹاراس فاماگوستا 20,230
8 مورفو نیکوسیا 14,833
9 ارادھیپو لارناکا 13,349
10 پارالیمینی فاماگوستا

جغرافیہ

Cy-map
جغرافیہ قبرص

قبرص بحیرہ روم کا ساردینیا اور صقلیہ کے بعد تیسرا سب سے بڑا (بلحاظ علاقہ اور آبادی) جزیرہ ہے۔

یہ 240 کلومیٹر (149 میل) طویل اور وسیع ترین مقام پر 100 کلومیٹر (62 میل) چوڑا ہے۔ ترکی اس کے شمال میں 75 کلومیٹر (47 میل) کے فاصلے پر ہے۔ دیگر ہمسایہ ممالک مشرق میں شام اور لبنان ہیں (بالترتیب 105 کلومیٹر (65 میل) اور 108 کلومیٹر (67 میل))، اسرائیل جنوب مشرقی میں 200 کلومیٹر (124 میل)، مصر جنوب میں 380 کلومیٹر (236 میل)، جزیرہ روڈز 400 کلومیٹر (249 میل)، اور یونان سے 800 کلومیٹر (497 میل) کے فاصلے پر واقع ہیں۔

جغرافیائی سیاسی طور پر جزیرے کو چار اہم حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جمہوریہ قبرص جزیرے کے دو تہائی جنوبی حصہ (59.74٪) پر واقع ہے۔ ترک جمہوریہ شمالی قبرص شمالی تہائی حصہ (34.85٪) پر واقع ہے۔ اور اقوام متحدہ کے زیر گرین لائن جزیرے کو دو الگ حصوں میں تقسیم کرتا ہے اور ایک بفر زون بناتا ہے جو جزیرے کے کل رقبہ کا 2،67٪ کا احاطہ کرتا ہے۔ آخر میں برطانوی حاکمیت کے تحت دو فوجی اڈے جزیرے پر واقع ہیں: ایکروتیری و دیکیلیا باقی 2،74٪ پر واقع ہیں۔

جامعات - جمہوریہ قبرص

جامعہ قبرص (University of Cyprus)

جامعہ طرزیات قبرص (Cyprus University of Technology)

مفتوح جامعہ قبرص (Open University of Cyprus)

جامعہ فریڈرک (Frederick University)

جامعہ نیکوسیا (University of Nicosia)

یورپی جامعہ قبرص (European University of Cyprus)

جامعہ نیاپولس (Neapolis University)

بین الاقوامی جامعہ قبرص (Cyprus International University)

انتظامی تقسیم

جمہوریہ قبرص کے چھ اضلاع ہیں- جن کے دارالحکومتوں کے نام مشترک ہیں-

قبرص کا نقشہ اضلاع یونانی نام ترکی نام
NicosiaLarnacaلیماسولPaphosایکروتیری و دیکیلیاKyreniaFamagustaایکروتیری و دیکیلیاCyprus districts.jpg
فاماگوستا    Αμμόχωστος - Ammochostos     Gazimağusa   
کیرینیہ Κερύvεια - Keryneia Girne
لارناکا Λάρνακα - Larnaka Larnaka/İskele
لیماسول Λεμεσός - Lemesos Limasol/Leymosun
نیکوسیا Λευκωσία - Lefkosia Lefkoşa
پافوس Πάφος - Pafos/Bafos Baf/Gazibaf

سیاحی مقامات

نیکوسیا

لیماسول

لارناکا

پافوس

آئیا ناپا

پولس

سلامیس

ٹروڈوس سلسلہ کوہ

مزید دیکھیے

قبرص کے بڑے شہر - تصاریر

فہرست متعلقہ مضامین قبرص

حوالہ جات

  1. "National Anthem"۔ www.presidency.gov.cy۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 جون 2015۔
  2. "Cyprus"۔ The World Factbook۔ CIA۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 جنوری 2016۔
  3. United Nations, Department of Economic and Social Affairs, Population Division (2013). World Population Prospects: The 2012 Revision, Highlights and Advance Tables (ESA/P/WP.220). New York. p. 52. http://esa.un.org/wpp/Documentation/pdf/WPP2012_HIGHLIGHTS.pdf.
  4. "Statistical Service – Population and Social Conditions – Population Census – Announcements – Preliminary Results of the Census of Population, 2011" (Greek زبان میں)۔ Statistical Service of the Ministry of Finance of the Republic of Cyprus۔ 29 دسمبر 2011۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 جنوری 2012۔
  5. United Nations, Department of Economic and Social Affairs, Population Division (2013). World Population Prospects: The 2012 Revision, DB02: Stock Indicators. New York. http://esa.un.org/unpd/wpp/ASCII-Data/DISK_NAVIGATION_ASCII.htm.
  6. ^ ا ب پ ت "Report for Selected Countries and Subjects"۔ World Economic Outlook Database, April 2017۔ Washington, D.C.: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ۔ 12 اپریل 2017۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اپریل 2017۔
  7. "Gini coefficient of equivalised disposable income – EU-SILC survey"۔ Luxembourg: Eurostat۔ 28 مارچ 2017۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اپریل 2017۔
  8. "Table 1: Human Development Index and its components"۔ Human Development Reports۔ Stockholm: United Nations Development Programme۔ 21 مارچ 2017۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اپریل 2017۔


نقص حوالہ: "lower-alpha" نام کے حوالے کے لیے ٹیگ <ref> ہیں، لیکن مماثل ٹیگ <references group="lower-alpha"/> نہیں ملا یا پھر بند- ٹیگ </ref> ناموجود ہے

Cy.

cy. قبرص کے لیے مخصوص کردہ بلند ترین اسمِ ساحہ (top-level domain name) ہے۔

ایکروتیری و دیکیلیا

ایکروتیری و دیکیلیا قبرص میں برطانوی زیر انتظام دو سمندر پار علاقے ہیں۔

بحیرہ روم

بحیرۂ روم، جسے اردو میں بحیرۂ متوسط یا بحیرۂ ابیض بھی کہا جاتا ہے، (انگریزی: Mediterranean Sea) افریقا، یورپ اور ایشیا کے درمیان ایک سمندر ہے جو تقریبا چاروں طرف سے زمین میں گھرا ہوا ہے۔ یہ صرف وہاں سے کھلا ہے جہاں اسپین اور مراکش آمنے سامنے ہیں اور درمیان میں چند کلومیٹر کا سمندر ہے (دیکھیے : آبنائے جبل الطارق) بحیرہ روم کے شمال میں یورپ، جنوب میں افریقہ اور مشرق میں ایشیا موجود ہے۔ یہ 2.5 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے لیکن اسے بحر اوقیانوس سے منسلک کرنے والی آبنائے جبرالٹر صرف 14 کلومیٹر چوڑی ہے۔

یہ بحیرہ درہ دانیال اور آبنائے باسفورس کے ذریعے بحیرہ مرمرہ اور بحیرہ اسود سے بھی منسلک ہے۔ نہر سوئز بحیرہ روم کے جنوب مشرقی کنارے پر واقع ہے جو اسے بحیرہ قلزم سے منسلک کرتی ہے۔

بحیرہ کے بڑے جزیروں میں قبرص، کریٹ، رہوڈز، سارڈینیا، کورسیکا، صقلیہ، مالٹا، ابیزا، ماجورکا اور منورکا شامل ہیں۔

یہ زمانہ قدیم سے بحری ذرائع نقل و حمل کا مرکز رہا ہے۔ ترک اس سمندر کو Akdeniz (آق دینز) یعنی بحیرہ ابیض جبکہ عربی "البحر الابيض المتوسط" کہتے ہیں۔

دیگر زبانوں میں بحیرہ روم کے لیے مندرجہ ذیل الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں :

ڈچ: Middellandse zee

فرانسیسی: Mer Méditerranée

جرمنی: das Mittelmeer

یونانی: Mesogeios Thalassa (Μεσόγειος Θάλασσα)

عبرانی: ha-Yam ha-Tikhon (הים התיכון)

اطالوی: Mar(e) Mediterraneo

لاطینی: Mare Mediterraneum, یا Mare Nostrum

پرتگیزی: Mar Mediterrâneo

ہسپانوی: Mar Mediterráneo

انگريزي: Mediterranean seaبحیرہ روم کا ساحل 22 ممالک سے ملتا ہے جن میں مندرجہ ذیل ممالک شامل ہیں :

یورپ (مغرب سے مشرق کی جانب)

ہسپانیہ

فرانس

موناکو

اطالیہ

مالٹا

سلووینیا

کرویئشا

بوسنیا و ہرزیگووینا

مونٹینیگرو

البانیا

یونان

ترکی

قبرصایشیا (شمال سے جنوب کی جانب)

ترکی

سوریہ

لبنان

اسرائیل

فلسطینافریقا (مشرق سے مغرب کی جانب)

مصر

لیبیا

تونس

الجزائر

مراکش

ترک جمہوریہ شمالی قبرص

ترک جمہوریہ شمالی قبرص (ترکی زبان: Kuzey Kıbrıs Türk Cumhuriyeti, KKTC، انگریزی: Turkish Republic of Northern Cyprus) قبرص کے شمالی علاقوں میں واقع ایک ریاست ہے جسے صرف ترکی تسلیم کرتا ہے۔ اقوام متحدہ پورے جزیرہ قبرص پر جمہوریہ قبرص کا اختیار تسلیم کرتا ہے۔

ترکی

ترکی (انگریزی: Turkey یا Republic of Turkey) (سرکاری نام: Türkiye Cumhuriyeti یعنی ترکیہ جمہوریتی) یوریشیائی ملک ہے جو جنوب مغربی ایشیا میں جزیرہ نما اناطولیہ اور جنوبی مشرقی یورپ کے علاقہ بلقان تک پھیلا ہوا ہے۔

ترکی کی سرحدیں8 ممالک سے ملتی ہیں جن میں شمال مغرب میں بلغاریہ، مغرب میں یونان، شمال مشرق میں گرجستان (جارجیا)، مشرق میں آرمینیا، ایران اور آذربائیجان کا علاقہ نخچوان اور جنوب مشرق میں عراق اور شام شامل ہیں۔ علاوہ ازیں شمال میں ملکی سرحدیں بحیرہ اسود، مغرب میں بحیرہ ایجیئن اور بحیرہ مرمرہ اور جنوب میں بحیرہ روم سے ملتی ہیں۔

ترکی ایک جمہوری، لادینی، آئینی جمہوریت ہے جس کا موجودہ سیاسی نظام 1923ء میں سقوط سلطنت عثمانیہ کے بعد مصطفیٰ کمال اتاترک کی زیر قیادت تشکیل دیا گیا۔ یہ اقوام متحدہ اور موتمر عالم اسلامی کا بانی رکن اور 1949ء سے یورپی مجلس اور 1952ء سے شمالی اوقیانوسی معاہدے کا رکن ہے۔ ریاست کی یورپی اتحاد میں شمولیت کے لیے مذاکرات طویل عرصے سے جاری ہیں۔

یورپ اور ایشیا کے درمیان محل وقوع کے اعتبار سے اہم مقام پر واقع ہونے کی وجہ سے ترکی مشرقی اور مغربی ثقافتوں کے تاریخی چوراہے پر واقع ہے۔

ترکی زبان

دنیا بھر کے 65 سے 73 ملین افراد کی زبان جن کی اکثریت ترکی میں رہتی ہے تاہم قبرص، یونان اور وسطی یورپ کے علاوہ مغربی یورپ خصوصاً جرمنی میں رہائش پزیر تارکین وطن کی بڑی تعداد بھی ترک زبان بولتی ہے۔

اس زبان کی جڑیں وسط ایشیا سے جا ملتی ہیں اور پہلا تحریری ثبوت 1200 سال قدیم ہے۔ مغرب میں عثمانی ترک زبان کے اثرات عثمانی سلطنت کے پھیلاؤ کے ساتھ بڑھتے رہے۔ اس دور میں ترکی زبان کو عربی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا۔ اسے عثمانی ترکی زبان بھی کہا جاتا ہے۔ سینکڑوں سال تک کا ادبی، ثقافتی اور تاریخی مواد اسی رسم الخط میں ترکی اور کچھ دیگر ممالک کے عجائب گھروں میں موجود ہے۔ 1928ء میں اتاترک کی اصلاحات کے نتیجے میں عربی رسم الخط کا خاتمہ کر کے نئے لاطینی رسم الخط کو رائج کیا گیا۔

اصلاحات کے نتیجے میں عربی اور فارسی کے الفاظ کو بڑی تعداد میں ترک زبان سے نکالا گیا اور ان کی جگہ ترک زبان کے مقامی لہجوں اور قدیم الفاظ رائج کیے گئے۔

درحقیقت

درحقیقت (de facto) (تلفظ: /dɨ ˈfæktoʊ/, /deɪ-/, لاطینی: [de: ˈfakto:]) ایک لاطینی اصطلاح ہے جس کے معنی "حقیقت میں" کے ہیں۔

اس کا استعمال عام طور ایسے مقام پر کیا جاتا ہے جب کسی چیز کی حیثیت ازروئے قانون (de jure) الگ ہو اور درحقیقت اس کا استعمال الگ ہو۔

مثلا تیمپلوس ازروئے قانون قبرص کا ایک شہر ہے، لیکن درحقیقت وہ ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے زیر انتظام ہے۔

سوریہ (علاقہ)

سوریہ (یونانی: Συρία; انگریزی: Syria) جدید ادب میں اسے سوریہ-فلسطین یا سر زمین شام بھی کہا جاتا ہے بحیرہ روم کے مشرق میں واقع ایک علاقہ ہے۔ نام سوریہ کی سب سے پرانی توثیق آٹھویں صدی ق م کی فونیقی نقش کاریوں سے ہوتی ہے۔

شمالی قبرص کے اضلاع

شمالی قبرص پانچ اضلاع میں تقسیم ہے، جو مزید ذیلی اضلاع میں تقسیم ہیں۔

ہر ضلع کا منتظم ایک قائم مقام ہوتا ہے۔

ضلع نیکوسیا

ضلع نیکوسیا (Nicosia District) قبرص کے چھ اضلاع میں سے ایک ہے۔ اس کا مرکزی شہر جزیرے کا دارالحکومت نیکوسیا ہے۔

ضلع پافوس

ضلع پافوس (Paphos District) قبرص کے چھ اضلاع میں سے ایک ہے۔

فہرست قبرص کے شہر

یہ قبرص میں شہروں اور قصبوں کی ایک فہرست ہے۔ اس فہرست میں 2006 کی مردم شماری کے مطابق 10،000 سے زیادہ کی آبادی والے شہر شامل ہیں۔

قبرص میں اسلام

قبرص میں اسلام کی آمد کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ مسلمان مجاہدین قبرص میں خلیفۂ راشد جناب عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی کے دور خلافت میں یہاں پہنچے۔ یہ زمانہ 649ء کا تھا۔

اور فی زمانہ 1974 تک ترکی قبرص کے جزیرہ نما علاقے میں ترک نژاد مسلمان 18 فیصد تک پہنچ چکے ہيں۔ جو 2 لاکھ 64 ہزار 1 سو بہتر کی تعداد میں جنوبی قبرص میں آباد ہيں۔ ترک نژاد قبرصی اصل میں سنی العقیدہ اور تصوف مائل رجحان رکھتے ہيں۔ ان کے رہنما نظام القبرصی ہیں جو نقشبندی حقانی سلسلے سے تعلق رکھتے ہيں اور لیفکامیں رہائش پزیر ہيں

قبرص کے اضلاع

جمہوریہ قبرص کے چھ اضلاع ہیں- جن کے دارالحکومتوں کے نام مشترک ہیں-

اضلاع کو مزید بلدیات میں تقسیم کیا گیا ہے-

قبرص کے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کی فہرست

یہ قبرص کے آباد مقامات کی ایک فہرست ہے۔

مشرقی بحیرہ روم

مشرقی بحیرہ روم (Eastern Mediterranean) بحیرہ روم (بحیرہ الشرق) کے مشرق میں واقع ممالک ہیں۔ عام طور پر اس کی دو طرح سے تشریح کی جاتی ہے:

سوریہ علاقہ مع قبرص (جسے سرزمین شام بھی کہا جاتا ہے) اور ترکی جو مغربی ایشیا تک محدود ہے۔

سرزمین شام مع یونان اور مصرممالک اور علاقے جو مشرقی بحیرہ روم میں شامل ہیں

قبرص

یونان

لبنان

سوریہ

فلسطین

اسرائیل

ترکی

مصر

اردن

لیبیا

نیکوسیا

نیکوسیا (انگریزی: Nicosia؛ تلفظ: /ˌnɪkəˈsiːə/ NIK-ə-SEE-ə؛ یونانی: Λευκωσία، نقل حرفی: لیفکوسیا [lefkoˈsi.a]؛ ترکی: Lefkoşa، تلفظ: [lefˈkoʃa] لیفکوشا) قبرص کا سب سے بڑا شہر اور میساوریا میدانی علاقہ کے تقریباً وسط میں دریائے پیدیوس کے کنارے پر واقع حکومت قبرص کا دار الحکومت ہے۔ یہ یورپی یونین کی رکن ریاستوں میں انتہائی جنوب مشرقی دار الحکومت ہے۔ یہ شہر 4،500 برسوں سے مسلسل آباد ہے اور دسویں صدی سے قبرص کا دار الحکومت چلا آرہا ہے۔

قبرص بحران 1955–64ء کے بعد سے ترک قبرصی اور یونانی قبرصی شہر کی تقسیم کے بعد شہر کے شمالی اور جنوبی الگ الگ حصوں میں آباد ہیں۔ 1974ء میں ترکی کے قبرص کے حملے کے بعد شہر کے درمیان میں ایک عسکری خط اخضر قائم ہے جو اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ہے۔ اس تقسیم کے بعد نیکوسیا کا جنوبی حصہ جمہوریہ قبرص کا دار الحکومت اور شمالی قبرص ترک جمہوریہ شمالی قبرص کا دار الحکومت ہے۔

قانون سازی اور انتظامی افعال کے علاوہ نیکوسیا نے خود کو جزیرے کے اقتصادی دار الحکومت اور اہم بین الاقوامی کاروباری مرکز کے طور پر بھی منوایا ہے۔2018ء میں نیکوسیا دنیا کے تقابل میں قوت خرید میں بتیسواں امیر ترین شہر تھا۔ دیوار برلن کے خاتمے کے بعد نیکوسیا دنیا کا واحد منقسم دار الحکومت ہے۔

یونانی زبان

یونانی زبان (جدید یونانی: ελληνικά [eliniˈka]، elliniká, "یونانی", ελληνική γλώσσα [eliniˈci ˈɣlosa] ( سنیے)، ellinikí glóssa, "یونانی زبان") یونان کی زبان ہے جو دنیا کی قدیم زبانوں میں سے ہے۔ اس کا تعلق ہند یورپی زبانوں سے ہے۔سائنس اور مغربی ثقافت پر بہت زیادہ اثر اندازہوئی زبان ہے اس کے علاوہ انگریزی زبان پر بھی اس کا گہرا اثر پڑچکاہے۔چونکہ سائنسی علوم میں یونانی قوموں نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے اسلئے آج کل کے جدید طب میں زیادہ تر یونانی الفاظ ہی مستعمل ہیں۔

یورپ کے خودمختار ممالک اور تابع علاقے
خود مختار ریاستیں
محدود تسلیم شدہ ریاستیں
تابع علاقے اور
دیگر علاقے
ارکان
امیدوار
خود مختار ریاستیں
انحصاریاں
فرانکوفونی کی رکن ریاستیں اور مبصرین
رکن ممالک
مبصرین
مشرق وسطیٰ کے ممالک
ممالک اور خطہ جات
دیگر موضوعات
بحیرہ روم کے کنارے واقع ممالک اور علاقے
اقوام متحدہ کے رکن ممالک
غیر اقوام متحدہ رکن
ریاستیں

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.