غزہ

غزہ فلسطین کے محافظہ غزہ کا ایک شہر ہے۔

غزہ
دیگر نقل نگاری
 • عربی غزة
 • دیگر تلفظ Ghazzah (دفتری)
Gaza City (غیر سرکاری)
Skyline of Gaza, 2007
Skyline of Gaza, 2007
محافظہ غزہ
قیام 15th-century BCE
حکومت
 • قسم شہر (سے 1994[1])
 • سربراہ بلدیہ Rafiq Tawfiq al-Makki
رقبہ[2]
 • دائرہ کار 45,000 دونم (45 کلو میٹر2 یا 17 مربع میل)
آبادی (2009)[3]
 • دائرہ کار 449,221

حوالہ جات

  1. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ PASSIA نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  2. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ GazaMunicipality نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  3. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ PCBS2 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔

بیرونی روابط

14 جنوری

14 جنوری گريگورين سال کا 14واں دن ہے۔ اس سال میں 351 دن باقی ہیں۔

اسرائیل

اسرائیل (عبرانی: יִשְׂרָאֵל) مغربی ایشیا کا ایک ملک ہے جو بحیرہ روم کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع ہے۔ اس کے شمال میں لبنان، شمال مشرق میں شام، مشرق میں اردن، مشرق اور جنوب مشرق میں فلسطین اور جنوب میں مصر، خلیج عقبہ اور بحیرہ احمر واقع ہیں۔ اسرائیل خود کو یہودی جمہوریہ کہلاتا ہے اور دنیا میں واحد یہود اکثریتی ملک ہے۔

29 نومبر، 1947ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ منظور کیا۔ 14 مئی، 1948ء کو ڈیوڈ بن گوریان نے اسرائیل کے ملک کے قیام کا اعلان کیا۔ 15 مئی، 1948ء کو یعنی اعلان آزادی کے اگلے روز کئی ہمسایہ ممالک نے اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ بعد کے برسوں میں بھی کئی بار اسرائیل کے ہمسایہ ممالک اس پر حملہ کر چکے ہیں۔

اسرائیل کا معاشی مرکز تل ابیب ہے جبکہ سب سے زیادہ آبادی اور صدر مقام یروشلم کو کہا جاتا ہے۔ تاہم بین الاقوامی طور پر یروشلم کو اسرائیل کا حصہ نہیں مانا جاتا۔

نسلی اعتبار سے اسرائیل میںاشکنازی یہودی، مزراہی یہودی، فلسطینی، سفاردی یہودی، یمنی یہودی، ایتھوپیائی یہودی، بحرینی یہودی، بدو، دروز اور دیگر بے شمار گروہ موجود ہیں۔ 2014ء میں اسرائیل کی کل آبادی 8146300 تھی۔ ان میں سے 6110600 افراد یہودی ہیں۔ اسرائیل کا دوسرا بڑا نسلی گروہ عرب ہیں جن کی آبادی 1686000 افراد پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ مسیحی اور افریقی ممالک سے آنے والے پناہ گزین اور دیگر مذاہب کے افراد بھی یہاں رہتے ہیں۔

اسرائیل میں نمائندہ جمہوریت ہے اور پارلیمانی نظام چلتا ہے۔ حق رائے دہی سب کو حاصل ہے۔ وزیر اعظم حکومت کا سربراہ ہوتا ہے اور یک ایوانی پارلیمان ہے۔ اسرائیل ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور دنیا کی 43ویں بڑی معیشت ہے۔ مشرق وسطیٰ میں معیار زندگی کے اعتبار سے اسرائیل سب سے آگے ہے اور ایشیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ دنیا میں اوسط زیادہ سے زیادہ عمر کے حوالے سے اسرائیل دنیا کے چند بہترین گنے چنے ممالک میں شامل ہے۔

جنگ غزہ (2008ء-2009ء)

-

2008ء-2009ء غزہ پر اسرائیلی حملے اسرائیل اور فلسطین کے اسلامی گروپ حماس و دیگر چھوٹے بڑے اسلامی گروپوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ ہے، جس کا آغاز 27 دسمبر، 2008ء کو اسرائیلی فضائی حملوں سے ہوا، جس کو اسرائیل نے آپریشن کاسٹ لیڈ (Operation Cast Lead) کا نام دیا، جس کے نتیجے میں 19 دسمبر، 2008ء کو چھ ماہ سے جاری عارضی جنگ بندی کا خاتمہ ہو گیا۔

اسرائیل کا موقف یہ ہے کہ یہ حملے حماس کی جانب سے اسرائیل پر کیے جانے والے راکٹ حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کا رد عمل ہیں، اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق کرسمس سے ایک دن پہلے یعنی 24 دسمبر، 2008ء کو حماس کی طرف سے اسرائیل پر 98 راکٹ داغے گئے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ حملے حماس کی جنگی قابلیت اور طاقت کے ختم ہونے تک جاری رہی نگے تاکہ مستقبل قریب یا بعید میں حماس دوبارہ اسرائیل پر حملے نہ کرسکے جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے خاتمہ کا ذمہ دار اسرائیل ہے، اب دوبارہ جنگ بندی کا معاہدہ اُس وقت تک نہیں کیا جاسکتا، جب تک اسرائیل غزہ کو دوبارہ کھول نہیں دیتا کیونکہ اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ کر لیا ہے۔

جنگ بندی کے بعد اس تنازع کا آغاز نومبر، 2008ء میں غزہ میں اسرائیلی فوج کے چھاپے میں 6 فلسطینی مسلمانوں کی شہادت سے ہوا۔2006ء میں فلسطین میں حماس کی اتحادی حکومت کے قیام کے بعد یہ وحشیانہ ترین حملے ہیں، اس تنازع میں اب تک 550 سے زائد فلسطینی مسلمان شہید ہوچکے ہیں۔

اب تک ہلاک ہونے والے 550 فلسطینیوں میں سے 25 فیصد عورتیں اور بچے ہیں جبکہ زخمیوں میں ان کا تناسب 45 فیصد ہے۔ حملوں کے نتیجے میں غزہ میں صورت حال مزید بگڑ چکی ہے اور اشیائے خور و نوش اور طبی امدادی سامان کی سخت قلت ہو چکی ہے۔ علاوہ ازیں پینے کا صاف پانی اور ایندھن بھی نایاب ہے۔ شہر کے تمام ہسپتال زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں اور طبی امداد نہ ملنے کے سبب زخمی دم توڑ رہے ہیں۔ علاقے کی بجلی پہلے ہی سے معطل ہے اور لاکھوں لوگ ایک بدترین انسانی المیہ سے دوچار ہیں۔ غزہ سے ملنے والی اطلاعات بھی انتہائی محدود ہیں کیونکہ اسرائیل نے غزہ میں صحافیوں کا داخلہ بند کر رکھا ہے اس لیے حقیقی صورت حال کا درست اندازہ نہیں ہو پا رہا۔

اسرائیل کے حملوں کے پہلے دن شام تک 225 افراد شہید ہوئے جو اب تک فلسطین اور اسرائیل مابین ہونے والی جھڑپوں میں سب بڑا جانی نقصان ہے۔

حملوں کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی دفاعی افواج کے طیاروں چار دقیقوں تک حماس کے ٹھکانوں پر بمباری کی (جن میں تھانے، قید خانے و دیگر حکومتی دفاتر شامل ہیں)۔

اسرائیل نے اس کے علاوہ حماس کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے کے لیے غزہ کے مرکزی قصبوں، غزہ شہر، شمال میں واقع بيت حانون، خان یونس اور جنوب میں واقع رفح پر بھی حملے کیے۔

ظلم و بربریت کی داستان یہی پر ختم نہیں ہوئی، اسرائیلی بحریہ نے بھی غزہ کو اسی وقت نشانہ بنایا اور غزہ پٹی پر بحری حدود کو بھی تاراج کر دیا، جس میں عام شہری کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

خان یونس

خان یونس غزہ پٹی پر موجود محافظہ خان یونس کا ایک فلسطینی شہر ہے۔جو 1380ء میں سلطان.بادشاه.خان یونس بن عبدالله نورزئی الدودار کے نام په یه شهر بنا اور خان یونس نے اس میں ایک قلعه بھی تعمیر کی جو قلعه برقوق کے نام آج بھی هے

دوسری صدی ہجری

1 صدی ہجری - 2 صدی ہجری - 3 صدی ہجری

غزہ پٹی

غزہ فلسطین کا ایک علاقہ ہے جس کی سرحد مصر سے ملتی ہے۔ اس علاقہ کو اسرائیل نے گھیرے میں لے رکھا ہے اور اس کی تجارت اور خارجی معاملات بھی آزاد نہیں۔ اس علاقے میں اسرائیل نے 38 سال قبضہ کرنے کے بعد چھوڑا تو اس کے بعد ظلم و ستم کا بازار گرم رکھا جیسا کہ 2008ء-2009ء میں اسرائیل کے غزہ پر حملے میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں، اسرائیل نے فلسطینیوں پر چوہوں اور خرگوشوں کی طرح کثیف غیرعامل دھاتی دھماکا خیز مواد کا تجربہ کیا ہے اور حملہ کے پہلے ہی دن 500 فلسطینیوں کا قتل عام کیا اور جنگ کے 12 دن بعد یہ تعداد 1000 سے بڑھ گئی۔

فلسطینی علاقہ جات

فلسطینی علاقہ جات یا مقبوضہ فلسطینی علاقہ جات (OPT) مغربی کنارے (بشمول مشرقی یروشلم) اور غزہ کی پٹی پر مشتمل ہیں۔

فلسطینی علاقہ جات کے شہروں کی فہرست

یہ فلسطینی علاقہ جات کے شہروں کی فہرست (Lists of cities in the Palestinian territories) ہے۔

فلسطینی قومی عملداری کے زیر انتظام شہر

مغربی کنارہ کے شہر

غزہ پٹی کے شہر

محافظات غزہ پٹی

محافظات غزہ پٹی(Governorates of the Gaza Strip) پانچ انتظامی اضلاع 2007ء کے بعد سے قائم ہیں، جو 1993ء کے اوسلو معاہدے کے مطابق ہیں۔

محافظات فلسطینی قومی عملداری

اوسلو معاہدے پر دستخط کے بعد، اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ پٹی کو تین علاقوں (علاقہ A، علاقہ B اور علاقہ C) اور 16 محافظات میں تقسیم کیا گیا ہے جو فلسطینی قومی عملداری کے دائرہ کار میں ہیں۔ 2013ء سے فلسطینی قومی عملداری کی دولت فلسطین میں تبدیلی مکمل ہو گئی ہے۔

محافظہ خان یونس

محافظہ خان یونس (عربی: محافظة خان يونس، انگریزی: Khan Yunis Governorate) فلسطین کے 16 محافظات میں سے غزہ پٹی پر ایک محافظہ ہے۔

محافظہ دیر البلح

محافظہ دیر البلح (عربی: محافظة دير البلح، انگریزی: Deir al-Balah Governorate) فلسطین کے 16 محافظات میں سے غزہ پٹی پر ایک محافظہ ہے۔

محافظہ رفح

محافظہ رفح (عربی: محافظة رفح، انگریزی: Rafah Governorate) فلسطین کے 16 محافظات میں سے غزہ پٹی پر ایک محافظہ ہے۔

محافظہ شمالی غزہ

محافظہ شمالی غزہ (عربی: محافظة شمال غزة، انگریزی: North Gaza Governorate) فلسطین کے 16 محافظات میں سے غزہ پٹی پر ایک محافظہ ہے۔ 2006 میں فلسطینی قانون ساز مجلس میں اس کے پاس پانچ نشستیں ہیں جن پر حماس کے ارکان منتخب ہوئے تھے۔

محافظہ غزہ

محافظہ غزہ (عربی: محافظة غزة، انگریزی: Gaza Governorate) فلسطین کے 16 محافظات میں سے غزہ پٹی پر ایک محافظہ ہے۔ 2006 میں فلسطینی قانون ساز مجلس میں اس کے پاس پانچ نشستیں ہیں جن پر حماس کے ارکان منتخب ہوئے تھے۔

مصر

اگر یہ آپ کا مطلوبہ صفحہ نہیں تو دیکھیے، مصری (ضدابہام)عرب جمہوریہ مصر یا مصر، جمهورية مصر العربية‎ ​ (قبطی زبان:Ⲭⲏⲙⲓ Khēmi)، بر اعظم افریقا کے شمال مغرب اور بر اعظم ایشیا کے سنائی جزیرہ نما میں واقع ایک ملک ہے۔ مصر کا رقبہ 1،001،450 مربع کلو میٹر ہے۔ مصر کی سرحدوں کو دیکھا جائے تو شمال مشرق میں غزہ پٹی اور اسرائیل، مشرق میں خلیج عقبہ اور بحیرہ احمر، جنوب میں سوڈان، مغرب میں لیبیا اور شمال میں بحیرہ روم ہیں۔ خلیج عقبہ کے اس طرف اردن، بحر احمر کے اس طرف سعودی عرب اور بحیرہ روم کے دوسری جانب یونان، ترکی اور قبرص ہیں حالانکہ ان میں سے کسی کے ساتھ بھی مصر کی زمینی سرحد نہیں ملتی ہے۔

کسی بھی ملک کے مقابلے میں مصر کی تاریخ سب سے پرانی اور طویل ہے اور اس کی تاریخی ابتدا 6 تا 4 ملنیا قبل مسیح مانی جاتی ہے۔ مصر کو گہوارہ ثقافت بھی مانا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں کتابے، زراعت، شہرکاری، تنظیم اور مرکزی حکومت کے آثار ملتے ہیں۔ مصر میں دنیا کے قدیم ترین یادگار عمارتیں موجود ہیں جو مصر کی قدیم وراثت، تہذیب، فن اور تقافت کی گواہی دیتی ہیں۔ ان میں اہرامات جیزہ، ابوالہول، ممفس، مصر، طیبہ اور وادی ملوک شامل ہیں۔ ان مقامات پر اکثر سائنداں اور محققین تحقیق و ریسرچ میں سرگرداں نطر آتے ہیں اور مصر کی قدیم روایات اور تاریی حقائق سے آشکارا کرتے ہیں۔ مصر کی قدیم تہذیب ہی وہاں کی قومی علامت ہے جسے بعد میں یونانی قوم، فارس، قدیم روم، عرب قوم، ترکی عثمانی اور دیگر اقوام نے متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔ قدیم مصر مسیحیت کا ایک بڑا مرکز تھا لیکن 7ویں صدی میں مسلمانوں نے یہاں اپنے قدم جمانے شروع کیے اور مصر مکمل طور سے مسلم اکثریت ملک بن گیا مگر عیسائی بھی وہاں موجود رہے گوکہ اقلیت میں تھے۔

16ویں صدی تا 20ویں صدی کے آغاز تک مصر پر بیرونی طاقتوں کے حکومت کی۔ شروع میں سلطنت عثمانیہ اور بعد میں سلطنت برطانیہ نے مصر کو اپنی حکومت کا حصہ بنایا۔ جدید مصر کا آغاز 1922ء سے ہوا جب مصر کو برطانیہ سے آزادی ملی مگر آزادیکے بعد وہاں بادشاہت قائم ہو گئی۔ البتہ اب بھی وہاں برطانوی فرج کا غلبہ تھا اور کئی مصریوں کا کہنا ہے کہ بادشاہت دراصل برطانیہ کی ایک چال تھی تاکہ مصر ان کی کالونی کا حصہ بنا رہے۔ مصری انقلاب، 1952ء میں مصریوں نے برطانوی فوج اور افسروں کو اپنے ملک سے بھگا دیا اور اس طرح مصر سے برطانیہ کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔ برطانوی نہر سوئز کا قومیانہ کیا گیا اور شاہ فاروق اول کو مع اہل خانہ ملک بدر کر دیا گیا۔ اس طرح مصر ایک جمہوری ملک بن گیا۔ 1958ء میں جمہوریہ سوریہ کے ساتھ مل کر متحدہ عرب جمہوریہ کی بنیاد ڈالی گئی مگر 1961ء میں اسے تحلیل کرنا پرا۔ 20ویں صدی کے نصف آخر میں مصر میں سماجی اور مذہبی اتار چڑھاو دیکھنے کو ملا جس کی وجہ سیاسی عدم استحکام کی صورت حال پیدا ہو گئی اور اسی دوران میں 1948ء میں اسرائیل کے ساتھ تنازع، 1956ء میں سوئز بحران، 1967ء میں روزہ جنگ اور 1973ء میں جنگ یوم کپور جیسے نا خوشگوار واقعات رونما ہوئے۔ مصر نے 1967ء تک غزہ پٹی پر اپنا قبضہ برقرار رکھا۔ 1978ء میں مصر نے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ پر دستخط کیے اور غزہ پٹی سے اپنا قبضہ واپس لے لیا اور ساتھ اسرائیل کو ایک ملک کی حیثیت سے تسلیم کر لیا۔ ملک میں بدستور سیاسی ہنگامہ جاری رہا اور بے امنی کو دور دورہ رہا۔ 2011ء میں پھر ایک انقلاب برپا ہوا اور مصر کی سیاست میں زبردست تبدیلی آئی۔ اسی دوران مصر دہشت گردی کی زد میں رہا اور معاشی مسائل سے بھی دوچار رہا۔ مصر کی موجودہ حکومت بین صدارتی جمہوریہ ہے اور مصر کے موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی ہیں۔ سیاست میں انہیں آمریت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

شہر
قصبات
دیہی مجالس
پناہگزین پڑاؤ

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.