عاموس

عاموس (عبرانی:עָמוֹס بہ معنی "دوست") کتاب عاموس کے مصنف اور بنی اسرائیل کی بارہ انبیائے صغیر میں سے ایک نبی تھے۔ عاموس بیت اللحم، یروشلیم میں پیدا ہوئے۔ وہ بڑا زلزلہ آنے سے دو سال پہلے، جب اسرائیلی قبیلوں پر یربعام دوم کی حکومت تھی اور سلطنت یہودیہ کا فرمانروا عزیاہ تھا، منصب نبوت پر فائز ہوئے۔[1] روایات میں سال ۷۶۳ قبل مسیح کو ان کے دور نبوت کے آغاز کا سال قرار دیا جاتا ہے اور روایات کے مطابق اس سے پہلے وہ چرواہے تھے، گلہ بانی کرتے، جانوروں کو چرواتے اور گولر کا پھل کاشت اور فروخت کرتے تھے۔[2] عاموس بنی اسرائیل کی مذہبی عبادت گاہ بیت ایل میں اپنی منصبی خدمات انجام دیتے تھے۔ بعد میں ان پر یربعام کے خلاف سازش کا الزام لگایا گیا جس پر یہودیوں کے کاہن اعظم امصیاہ نے انہیں دھمکایا۔[3] عاموس قبائل ارام، فلسطین، صور، ادوم، عمون، موآب، یہوداہ اور اسرائیل پر قاضی رہے۔[4] اور انہوں نے بت پرستی، تجمل‌ پرستی اور رشوت‌ خوری کو گناہ اور ممنوع قرار دیا۔[5] عاموس اپنے فرائض منصبی انجام دینے کے بعد یہودیہ واپس آ گئے اور وہیں فوت ہوئے۔

اگرچہ عاموس کا تعلق سلطنت اسرائیل کے جنوبی علاقے سے تھا، لیکن انہوں نے اپنے منصب نبوت کے فرائض کو بالخصوص شمالی سلطنت اسرائیل کے باشندوں کے لیے انجام دیا۔ اور خود کو ان کے لیے وقف کر دیا۔ خصوصا سامریہ اور بیت ایل کے شہروں میں۔[6]

عاموس وہ پہلے نبی تھے جو وہ سارے پیغامات لکھتے تھے، جو ان پر وارد ہوتے تھے۔ ان کی زبان کی پاکیزگی، ان کا انداز تکلم و تعلم اور شاعرانہ انداز ہمیشہ بے حد سراہا گیا۔ ان سب حوالوں کی وجہ سے انہیں یسعیاہ کا روحانی پرتو گردانا گیا۔[7]

عاموس
Russian icon of the prophet Amos
عاموس کی روسی شبیہ
نبی
پیدائش تقوع، بیت اللحم
وفات 745 ق م
محترم در یہودیت
مسیحیت
تہوار جون 15 (راسخ الاعتقاد)
کارہائے نمایاں کتاب عاموس

حوالہ جات

  1. عاموس ۱: ۱
  2. عاموس ۷: ۱۴
  3. عاموس ۷: ۱۰
  4. عاموس ۱: ۳
  5. عاموس ۳: ۱۵
  6. Dearman, J Andrew. Amos. Harper Collins Study Bible. Edited by Meeks, Wayne A. San Francisco: HarperCollins, 2006.
  7. "Amos", Jewish Encyclopedia. 1906.
1 ایسدرس

١ ایسدرس (یونانی: Ἔσδρας Αʹ)، مزید نام یونانی ایسدرس، یونانی عزرا یا ٣ ایسدرس بائبل کی کتاب عزرا کا قدیم یونانی نسخہ ہے۔ اسے قدیم یہودی، ابتدائی مسیحی کلیسیا اور دورد جدید کے مسیحی مختلف درجوں میں رتبۂ تقدیس (مقدس کتاب کی سی حیثیت) دیتے ہیں۔

اس کتاب میں 2 توارایخ کے ابواب 35 اور 36، کتاب عزرا اور کتاب نحمیاہ کی تدوین و تالیف پائی جاتی ہے۔ تا ہم کچھ مواد منفرد بھی ہے، اس میں یہوداہ کی سلطنت کا زاول، بابل کی اسیری اور زر بابل کی قیادت میں اسیروں کے واپس یروشلم آنے کا ذکر ہے۔

2 ایسدرس

٢ ایسدرس (جسے 4 ایسدرس، لاطینی ایسدرس یا لاطینی عزرا بھی کہا جاتا ہے) ایک ایپوکریفا کتاب کا نام ہے، جو بائبل کے انگریزی نسخوں (دیکھیے نام دینے کی مجالس)۔ اس کتاب کو عزرا سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس کا شمار کاتھولک، پروٹسٹنٹ اور اکثر راسخ العقیدہ کلیسیائیں اپاکرفا کتب میں کرتے ہیں۔

اصحاب الرس

اصحاب الرس سے مراد قوم ثمود کے باقی ماندہ لوگ ہیں جو عذاب کے بعد باقی رہے، ضحاک وغیرہ مفسرین نے ان کا قصہ یہ لکھا ہے کہ جب حضرت صالح علیہ السلام کی قوم (ثمود) پر عذاب آیا تو ان میں سے چار ہزار آدمی جو حضرت صالح (علیہ السلام) پر ایمان لا چکے تھے وہ عذاب سے محفوظ رہے، یہ لوگ اپنے مقام سے منتقل ہو کر حضرموت میں جا کر مقیم ہو گئے، حضرت صالح (علیہ السلام) بھی ان کے ساتھ تھے، ایک کنویں پر جا کر یہ لوگ ٹھہر گئے اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی وفات ہو گئی، اسی لیے اس جگہ کا نام حضرموت (یعنی موت حاضر ہو گئی) ہے، یہ لوگ یہیں رہ پڑے، پھر ان کی نسل میں بت پرستی شروع ہو گئی، ان کی اصلاح کے لیے حق تعالیٰ نے ایک نبی کو بھیجا، جس کو انہوں نے قتل کر ڈالا، ان پر خدا تعالیٰ کا عذاب آیا، ان کا کنواں جس پر ان کی زندگی کا انحصار تھا وہ بیکار ہو گیا اور عمارتیں ویران ہوگئیں، قرآن کریم نے اسی کا ذکر دو بار فرمایا ہے۔رس عربی زبان میں مختلف معنی کے لیے آتا ہے، مشہور معنی یہ ہیں کہ کچے کنویں کو رس کہا جاتا ہے، جو اینٹ پتھر وغیرہ سے پختہ نہ کیا گیا ہو۔

انبیائے صغری

انبیائے صغریٰ (آرامی زبان: תרי עשר‎‎r) سے مراد وہ انبیا ہیں جن کے مختصر الہامی صحائف بائبل میں موجود ہیں۔ یہ مختصر صحائف تعداد میں 12 ہیں۔ بائبل کا تیسرا حصہ نبییم کہلاتا ہے جس میں یہ 12 مختصر صحائف موجود ہیں۔ عموماً نبییم کو ہی کتاب صغار انبیا کہہ دیا جاتا ہے۔

تنک

تنک (عبرانی: תַּנַ"ךְ ؛ انگلش: Tanakh) یا "تناخ" یا "تنخ" اُس مجموعہ کا نام جس کو عبرانی بائبل کہا جاتا ہے اور جو یہودیت کا سب سے مقدس کتابی مجموعہ ہےـ اس کے تین اجزاء ہیں : تورات (درس)، نوییم (انبیا) اور کیتُوویم (کتب) ـ

تورات میں خدا کے احکامات کے علاوہ کائنات، عالم اور انسان کی تخلیق کا قصہ ہےـ اس کے علاوہ اس میں نوح کی نبوت اور سیلاب، ابراہیم کی نبوت اور خدا کے عہد اور دیگر انبیا کے قصص ہیں ـ تورات کا اختتام بنی اسرائیل کے کنعان میں داخلہ اور خدا کے عہد کی تکمیل پہ ہوتا ہےـ

نبییم میں موسیٰ کے کچھ مزید قصص بیان ہیں اور باقی تمام انبیاء کے قصے اور ان کے پیغام درج ہیں ـ یہ انبیا وقتاً فوقتاً خدا کی طرف سے بھیجے گئے تھے تاکہ بنی اسرائیل اپنے عہد پہ پورا اترےـ نیوییم کے اختتام تک بنی اسرائیل ناکام ہوا اور خدا کا عذاب حاصل کر گیا ـ

کتبیم زبور سے شروع ہوتی ہےـ اس میں داؤد اور سلیمان کے علاوہ دیگر پیغمبروں کا ذکر ہےـ اس کے علاوہ اس میں مملکت یہوداہ کی تاریخ اور عروج بھی بیان ہےـ اس کا اختتام بنی اسرائیل کی توبہ اور خدا کے عہد کی بحالی پہ ہوتا ہے۔

حکمت کی کتاب

حکمت کی کتاب دوسری صدی قبل از مسیح میں یونانی زبان میں لکھی گئی اور سیدنا شاہ سلیمان سے منسوب ہے۔ یونانی ثقافت اور حکمت کا مقابلہ کرتے ہوئے یہودیوں نے یہ کتاب تحریر کی۔ اس کتاب میں حکمت کی فضیلت، اسے حاصل کرنے کے وسائل اور اس کے عمدہ اِثمار کا بیان ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام نیکیاں عدل اور حکمت میں شامل ہیں۔ زندگی، معاشرت، فطرتّ، کائنات اور الٰہی حکمت کتاب کے موضوعات ہیں۔ کاتھولک اس کتاب کو الہامی مانتے ہیں کیونکہ اس کی چند آیات کا عہد جدید میں اور خصوصاً پولس کے خطوط میں ذکر پایا جاتا ہے۔ اس کتاب کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ (ابواب 1–11) ”عدل و انصاف کی جزاء اور حکمت کے لیے دعا“ کہلاتا ہے اور دوسرے حصے (ابواب 12–19) کو ”الٰہی پروردگاری“ کہا جاتا ہے۔

عبر

عبر (انگریزی: Eber) (عبرانی زبان: עֵבֶר‎) عبرانی بائبل کی ایک شخصیت ہیں جن کا ذکر کتاب پیدائش میں آیا ہے۔ عبر اسرائیلیوں کے جدِ امجد تھے۔ فلج کے والد اور سام بن نوح کے پرپوتے ہیں۔

عہد نامہ قدیم

عہدنامہ قدیم ایک مسیحی اصطلاح ہے جو کتاب مقدس کے ایک بڑے حصہ کے لیے استعمال کی جاتی ہے، اس میں یہود کی تمام کتابیں بشمول تورات (شروع کی پانچ کتابیں) شامل ہیں۔ عہدنامہ قدیم تنک کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے تین اجزاء ہیں: تورات (قانون)، نبییم (انبیا) اور کتُبیم (کتب)۔

کاتھولک اور راسخ الاعتقاد کلیسیاؤں کے مطابق عہدنامہ قدیم 46 کتابوں پر مشتمل ہے، جنہیں اسفار بھی کہا جاتا ہے۔ جبکہ پروٹسٹنٹ اور یہود کے نزدیک اس مجموعہ میں محض 39 کتابیں ہیں، یہود نے اس مجموعہ میں صرف ان کتابوں کو شامل کیا ہے جو عبرانی زبان میں مدون ہوئے تھے، اس کے علاوہ یونانی زبان میں ترتیب پانے والی دیگر کتابیں ان کے نزدیک مذہبی وقانونی استناد کا درجہ نہیں رکھتیں۔

نبییم

نبیم (/nəˈviːɪm/؛ عبرانی: נְבִיאִים Nəḇî'îm‎، انبیا) عبرانی کتاب مقدس (تناخ) کا دوسرا نمایاں حصہ ہے۔ باقی کے دو تورات (ہدایات) اور کتبیم (تحریریں یا قدیم تحریریں) ہیں۔ جس کے مزید دو ذیلی گروہ ہیں، پہلا:انبیائے قدیم (نبییم روشنیم، נביאים ראשונים یشوع، قضاة، سموئیل اور سلاطین کی کتابیں)، دوسرا: مابعد کے انبیا نبیم آہرونیم، נביאים אחרונים یسعیاہ، یرمیاہ اور حزقی ایل اورانبیائے صغریٰ کی کتابیں)

یہ کتب انبیا یہود کے تاریخ حالات پر مشتمل ہیں۔ ان کتب کی تقسیم انبیائے متقدمین و متاخرین میں کی گئی ہے۔ انبیائے متقدمین کی کتب میں یشوع، قضاۃ، سموئیل ثانی، سلاطین اول اور سلاطین ثانی شامل ہیں جبکہ انبیائے متاخریں کی کتب میں یسعیاہ، جرمیا، حزقیال، زکریا و دیگر شامل ہیں۔

کتاب آستر

آستر ایک خدا پرست یہودی خاتون تھی جسے ایران کی ملکہ بننے کا شرف حاصل ہوا۔ آستر کے چچا مردکی نے آستر کو پالا پوسا تھا اور اُس کی تربیت کی تھی۔ہامان بادشاہ کا مشیر تھا لیکن یہودیوں کا جانی دشمن تھا۔ اُس نے بادشاہ سے یہودیوں کے قتل عام کا فرمان حاصل کر کے تمام صوبوں میں بھجوا دیا۔ مردکی کو اس سازش کا علم ہوا اور اُس نے ملکہ آستر کی مدد سے یہودیوں کو ہامان کی سازش سے بچا لیا۔ ہامان بادشاہ کی نظر میں گر گیا اور پھانسی کی سزا پائی۔

مردکی کو ہامان کی جگہ بادشاہ کا مشیر خاص مامور کیا گیا اور اپنی بھتیجی ملکہ آستر کی مدد سے یہودیوں کے قتل عام کو رکوانے میں کامیاب ہوا۔ اس مختصر سی کتاب میں ان تین اشخاص یعنی ہامان، مردکی اور ملکہ آستر کی داستان درج ہے اور یہ کتاب جلاوطن یہودیوں کی تاریخ کا ایک روشن باب بھی کہلاتا ہے۔

اس کتاب میں جس بادشاہ اخسویرس کا ذکر ہے وہ یونانی زبان میں Xerxesکے نام سے مشہور ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ اس بادشاہ کی مملکت قدیم ہندوستان کے شمال مغربی علاقوں سے لے کر مشرقی افریقہ میں ایتھوپیا (Ethiopia) تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس بادشاہ کی تخت نشینی کا سال 486 قبل مسیح بتایا جاتا ہے۔

اس کتاب کے مصنف کے بارے میں علماء میں اتفاق الرائے نہیں ہے۔ بعض اسے مردکی کی تصنیف مانتے ہیں اور بعض اسے عزرا یا نحمیاہ سے منسوب کرتے ہیں۔ مصنف خواہ کوئی بھی ہو، اس حقیقت سے کسی کو انکار ہیں کہ آستر کا مصنف اہل ایران کے رسم و رواج اور اُن کے تمدن سے بخوبی آگاہ تھا اور ایک خداترس انسان تھا اور اہل یہود کے لیے اپنے دل میں درد رکھتا تھا۔

یہودیوں کے اس قتل عام سے نجات پانے کی یادگار پوریم کے تہوار سے منائی جاتی ہے جو بڑی ضیافتوں اور خوشی کا دن سمجھا جاتا ہے۔ یہاں اس نکتہ کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ خدا اپنے منصوبوں کو بجائے خود کس طرح انسانوں کے ذریعہ عملی جامہ پہناتا ہے، اس لیے ہمیں ہر وقت خدا کی مرضی پر چلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

شہنشاہ کے دار الخلافہ سوسن (Shushan)میں واقع شاہی محل میں سازش (باب 1 تا باب 2)

یہودیوں کے برخلاف ہامان کی سازش (باب 3 تا باب 5)

یہودیوں کی مُخلصی اور پُوریم کا آغاز(باب 6 تاباب 10)

کتاب ایوب

کتاب ایوب (/ˈdʒoʊb/; عبرانی: אִיוֹב Iyov)، عبرانی کتاب مقدس کے حصے کتبیم میں شامل ہے اور مسیحی عہد نامہ قدیم کی یہ پہلی نظم کی کتاب ہے۔

کتاب باروک

کتاب باروک یا باروک کی کتاب (انگریزی: Book of Baruch) ایپوکریفا عہد نامہ جدید کی فہرست میں شامل ایک کتاب ہے۔ یہ ہفتادی ترجمہ میں نوحہ اور کتاب یرمیاہ کے درمیان ہے۔ یہ کتاب باروک بن نیریاہ نے آخری ایام بابل میں جلاوطنوں کی تسلی کے لیے لکھی، عام طور پر اس کا زمانۂ تصنیف 50ء سے 100ء کے درمیان مانا جاتا ہے۔

کتاب جوبلی

کتاب جوبلی یا پیدائش صغیر (چھوٹی پیدائش) ایک قدیم یہودی مذہبی کتاب ہے۔ یہ کتاب 50 ابواب پر مشتمل ہے۔ جس کو حبشی راسخ الاعتقاد توحیدی کلیسیا اور یہود فلاشا (یا بِیٹا اسرائیل) مسلمہ کتاب سمجھتے ہیں۔ حبشی یہودیوں میں اس کتاب کو ”کتاب قسمت یا بازدید“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ (گیزر : መጽሃፈ ኩፋሌ Mets'hafe Kufale)۔ جوبلی کو پروٹسٹنٹ، مشرقی آرتھوڈوکس اور رومی کاتھولک کلیسیا کلیسیا من گھڑت تحریر سمجھتے ہیں

کتاب روت

کتاب روت (عبرانی: ) عبرانی بائبل کی کتاب ہے۔روت ایک چھوٹی سی کتاب ہے جس میں ایک موآبی خاتون روت کا مثالی کردار پیش کیا گیا ہے۔ آپ موآب کے علاقے کی رہنے والی تھیں۔ یہ علاقہ بحیرہ مردار (Dead Sea) کے مشرق میں واقع تھا۔ آپ ایک یہودی گھرانے میں شادی کر لینے کے باعث قوم یہود میں شامل ہو گئی تھیں۔ جیسا کہ اُس زمانے کا رواج تھا انہوں نے اپنے پہلے خاوند کی وفات کے بعد اپنے ہی ایک رشتہ دار بوعز سے شادی کر لی۔ اس کے بعد اُن کا ایک بیٹا پیدا ہوا۔ یہ بیٹا حضرت داؤد علیہ السلام کا دادا بنا۔روت کو اہل یہود کی طرف سے بہت عزت دی جاتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ باہر سے یہود میں شامل ہوئیں اور اُن سے داؤد علیہ السلام جو نبی بھی بنے اور عظیم بادشاہ بھی ہوئے کا خاندان شروع ہوا۔

روت کی کتاب یہودیوں کی مقدس کتاب شمار کی جاتی ہے۔ یہ کتاب عید پنتکست کے دنوں میں یہودی خاندانوں میں خاص طور پر پڑھی جاتی ہے۔ اس عید کے منائے جانے کی تفصیل کتاب احبار باب 15 کی آیات 15 تا 21 میں موجود ہیں۔

بعض علما اس کتاب کو سموئیل علیہ السلام نبی کی تصنیف مانتے ہیں حالانکہ اس کتاب میں اُس کے مصنف کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں ملتا۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ کتاب سموئیل علیہ السلام کے بہت بعد کے زمانہ کی تصنیف ہے۔ چونکہ اس کتاب میں دو جگہ یعنی بات 4 آیت 17 اور 22 میں داؤد علیہ السلام کا نام آیا ہے اس لیے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کتاب یہودی بادشاہوں کے زمانہ کے دوران یا بعد کی تصنیف ہے۔

اس کتاب میں روت، نعومی اور بوعز تین مرکزی کردار ہیں۔ تینوں نہایت خدا پرست اور خدا ترس انساان ہیں۔ اُن کے ایمان میں کسی حال کمی نہیں ہوتی۔ اس سے اہل یہود اور مسیحی یہ سبق لیتے ہیں اور باقی سب کو بھی لینا چاہیے کہ خدا تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو ہمیشہ سنبھالتا ہے اور اُنہیں کبھی فراموش نہیں کرتا۔

اس کتاب کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

نعومی اور الیملک کی موآب سے نقل مکانی، باب 1 آیت 1 تا 22۔

بوعز اور روت کی ملاقات، باب 2 آیت 1 تا 23۔

نعومی کا منصوبہ، باب 13 آیت 1 تا 18۔

بوعز، روت سے شادی کر لیتا ہے، باب 4 آیت 1 تا 18۔

کتاب عاموس

یہ کتاب 740 سے 793 قبل مسیح میں لکھی گئی۔

کتاب گنتی

کتاب گنتی (عبرانی: במדבר‎، یونانی: Ἀριθμοί) عبرانی بائبل کی چوتھی اور تورات کی پانچ کتابوں میں سے ایک ہے۔ تورات کی اس چوتھی کتاب کی تصنیف و تالیف موسیٰ سے منسوب ہے۔ یہ 1450-1410 قبل از مسیح کے درمیانی عرصہ میں لکھی گئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بنی اسرائیل کوہ سینا کے دامن میں مقیم رہنے، خدا سے وفاداری کا عہد باندھنے اور اُس کے احکام و قوانین کو ماننے کی قسم کھانے کے بعد کنعان کی موعودہ سرزمین کے طرف روانہ ہوئے۔ یہ کتاب بنی اسرائیل کے چالیس سالہ ابتدائی عہد کی تاریخ ہے۔

عبرانی زبان میں اس کتاب کا نام "بمدبر" ہے جس مطلب ہے "بیابان میں "۔ لیکن کتاب مقدس کے انگریزی ترجمہ میں اس کتاب کو Numbers (اعداد) اور اردو ترجمہ میں گنتی کا نام دیا گیا ہے۔

وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب بنی اسرائیل فرعون مصر کی غلامی سے رہا ہو کر نکلے تھے تو موسیٰ نے انہیں ایک عظیم لشکر کی صورت میں منظم کرنے کے لیے اُن کی مردم شماری کی تھی جس کے مطابق ان کی تعداد بیس لاکھ تھی لیکن کوہ سینا کے دامن سے روانہ ہونے کے بعد یہ تعداد کم ہو گئی۔ ملک کنعان میں داخل ہونے سے قبل ایک بار پھر اُن کی مردم شماری کی گئی تا کہ معلوم ہو کہ کتنے جوان فوجی خدمت انجام دینے کے قابل ہیں۔

بنی اسرائیل کو ملک مصر سے نکلنے کے بعد موعود ملک کنعان تک پہنچنے کے لیے کل نو دن کی مدت درکار تھی، لیکن انہیں وہاں تک پہنچنے میں اڑتیس سال کا طویل عرصہ لگ گیا اور اس دور ان وہ لوگ جو موسیٰ کی قیادت میں ملک مصر سے نکلی تھے صفحہ ہستی سے نابود ہو چکے تھے۔ صرف اُن کی آل اولاد ہی دریائے اردن پار کر کے کنعان میں داخل ہو سکی۔ خود موسیٰ کو بھی کنعان کی سرزمین پر قدم رکھنے کی سعادت نصیب نہ ہوئی۔ بنی اسرائیل کے وہ لوگ جو مصر سے موسیٰ کے ساتھ آئے تھے سوائے یشوع اور ایک دوسرے یہودی کے سب انتقال کر گئے۔ یہ دونوں اس لیے بچ گئے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق جہاد کی حمایت کی تھی جبکہ باقی بنی اسرائیل ملک کنعان کا حال سن کر موسیٰ اور خدا کو برا بھلا کہنے لگے۔ بنی اسرائیل کی نئی نسل یشوع کی قیادت میں کنعان پہنچی جنہیں موسیٰ نے اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔

ایسا کیوں ہوا؟ اس سوال کا جواب قارئین کو کتاب گنتی کے مطالعہ سے بخوبی معلم ہو جاتا ہے۔ کوہ سینا پر بنی اسرائیل نے خدا سے عہد باندھا تھا کہ وہ اس کام کے احکام و قوانین کو مانیں گے، ہمیشہ اُ س کے وفادار رہیں گے لیکن رفتہ رفتہ وہ خدا کے احکام کی خلاف ورزی کرنے لگے اور بت پرستی اور کئی دوسری برائیوں میں گرفتار ہو گئے۔ یہاں تک کہ خدا کی نعمتوں اور برکتوں کے لیے اُس کا شکر کرنے کی بجائے اُسے برا بھلا کہنے لگے۔ چنانچہ خدا نے اس قوم کو جسے اُس نے فرعون مصر کی غلامی سے نجات دی تھی بعض ایسے صبر آزما اور دلگداز تجربوں سے گزر نے دیا جو اُن کی آئندہ نسلوں کے لیے باعث عبر ت ثابت ہوئے۔ گنتی کی کتاب کے مطالعہ سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ خدا کے احکام و قوانین سے رو گردانی کا نتیجہ کس قدر برا ہوا ہے۔

اس کتاب میں مندرجہ ذیل واقعات ہیں:

مسافرت کے لیے بنی اسرائیل کی تیاریاں (1:1۔ 10:10)

مُلک مو عود کی پہلی جھلک ( 10:11۔14:45)

مزید صحرا نو ر دی ( 1:15۔ 21:35)

مُلک مو عود میں داخل ہونے کی دوسری کوشش (1:22۔ 13:36)

کتبیم

کتبیم (بائبلی عبرانی: כְּתוּבִים Kəṯûḇîm، "تحریریں") تورات (ہدایت) اور نبییم

(انبیا) کے بعد یہ تناخ (عبرانی بائبل) کا تیسرا اور حتمی حصہ ہے۔

یوایل

یوایل یا یوئیل (عبرانی:יואל بہ معنی «یہوواہ خدا ہے») بنی اسرائیل کے بارہ انبیائے صغیر میں سے دوسرے، فتوایل کے بیٹے اور کتاب یوایل کے مصنف تھے۔ انہوں نے یہودیہ میں زندگی گزاری اور اور یہودیوں کے لیے معاملات قضاء پر کام کیا۔ انہیں سلطنت عزیاہ کے دوران میں یسعیاہ اور عاموس کا ہمعصر کہا جاتا ہے۔ یوئیل کی کتاب، کتاب عاموس، کتاب میکاہ، کتاب صفنیاہ، کتاب یرمیاہ اور کتاب حزقی ایل کا ہی تسلسل ہے۔ یوایل نے یہودیہ میں خشک سالی اور ٹڈیوں کی آفات کے نازل ہونے کی پیش گوئی کی تھی۔ انہوں نے جوانوں و بوڑھوں، شراب نوشوں، باغبانوں اور کاہنوں کو توبہ کرنے کی تلقین کی اور وہ سمجھتے تھے کہ بنی اسرائیل پر نزول عذاب کا وقت قریب آچکا ہے۔ یوئیل نے یہودیہ میں وفات پائی لیکن ان کی قبر کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ لیکن ایک طویل روایت کے مطابق یوئیل کی تدفین گوش حلب میں کی گئی تھی۔

یہودیت کی کتاب

یہودیت کی کتاب میں ایک جرات مند اور پاکدامن عورت کے چند حالات زندگی بیان کیے گئے ہیں۔ اس کتاب میں ہے کہ یہودی قوم کو سخت مصیبت در پیش تھی، ایک بیوہ قوم پرستی، حب الوطنی اور خدا سے وفاداری کی بنا پر اپنے لوگوں کی سیاسی اور ایمان کی مضبوطی بنتی ہے۔ یہ کتاب دعا اور پارسائی کے اعمال کی تابعداری اور خدا کی پرستش پر زور دیتی ہے۔ جس طرح آستر کی کتاب عید پوریم پر اس طرح یہ کتاب عید فسح پر ایمان افروز غور و خوض ہے۔

کیتھولک اس کتاب کو الہامی مانتے ہیں اور کیتھولک اس کتاب کو عہد عتیق میں شامل کرتے ہیں۔ کیتھولکوں کے مطابق ایک دیندار یہودی نے اس کتاب کو اپنی مادری زبان (عبرانی) میں تحریر کیا کہ وہ یہودی دینداری کا خاص نمونہ پیش کرے اور یوں اپنے قوم کے لوگوں کو تحریک دے کر شریعت اور احکام الٰہی کا پابند بنائے۔ یہودیت کی کتاب بائبل کے یونانی ترجمے سپتواجنتا میں موجود ہے۔ آبائے کلیسیا کو اس کتاب کے الہامی ہونے پر کوئی شک نہیں۔ روایت اور کیتھولک کلیسیا کی ہدایت کے مطابق ”یہودیت“ مقدسہ مریم کی پیش علامت سمجھی جاتی ہے اور کیتھولکوں میں اس کتاب کی چند آیات اور تلاوتیں مقدسہ مریم کی عیدوں کی عبادتوں میں استعمال کی جاتی ہیں۔ اس کتاب کے تین حصے ہیں۔ پہلے حصے (ابواب 1–7) ”یہودیوں کو خوف اور خطرہ“، دوسرے حصے (ابواب 8–14) ”یہودیت کا کردار“ اور تیسرے اور آخری حصے (ابواب 15–16) کو ”یہودیوں کی فتح“ کہا جاتا ہے۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.