ظروف سازی

مٹی وغیرہ سے برتن بنانے کو ظروف سازی کہتے ہیں۔ عرف عام میں مٹی سے برتن بنانے والے کو کمھار کہتے ہیں۔

preparation of pots in srikakulam town
Makingpottery
ایک آدمی ترکی میں مٹی سے برتن بنا رہا ہے۔

مزید دیکھیے

بیرونی روابط

الحشر

قرآن مجید کی 59 ویں سورت جس کے 3 رکوع میں 24 آیات ہیں۔

برطانوی ہندوستان میں بدعنوانی

برطانوی ہندوستان میں بدعنوانی ایک سنگین صورت حال تھی۔ انگریزوں نے ہندوستان کے بادشاہوں کو بدعنوانی کے ذریعہ انہیں اور ہندوستان کو غلام بنایا۔ اس کے بعد انہوں نے منصوبہ بند طریقے سے ہندوستان میں بدعنوانی کو فروغ دیا اور ہندوستان کو غلام بنائے رکھنے کے لیے اسے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہے۔ گوکہ بھارت میں اس وقت بدعنوانی ایک اہم مسئلہ ہے، لیکن اس بدعنوانی کی ابتدا برطانوی راج ہی میں ہو چکی تھی۔

ہندوستان چھوڑتے وقت انگریزوں نے یہاں مذہبی منافرت کا بازار گرم کیا جس کے شواہد دھرمیندر گوڑ کی کتاب "میں انگریزوں کا جاسوس تھا" میں موجود ہيں۔ انہوں نے ہندوستان کو تقسیم کی آگ میں جھونکنے کی منصوبہ بندی پہلے سے بنا رکھی تھی۔

اتنی زیادہ افراتفری اس ملک میں انگریزوں کی آمد سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ عام طور پر بدعنوانی اور غربت کی صورت حال ہندوستان میں کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ غربت، عمومی سیاست اور انتظامی بدعنوانی انگریزوں کی دین ہے، تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔

بہاؤ (ناول)

بہاؤ ، پاکستان سے شائع ہونے والا اردو ناول ہے جسے اردو کے مشہور و معروف مصنف مستنصر حسین تارڑ تحریر کیا ہے۔

تمغائے حسن کارکردگی (2010–2019)

تمغا حسن کارکردگی (انگریزی: Pride of Performance) حکومت پاکستان کی طرف سے ایک شہری اعزاز ہے جو پاکستان میں ادب، فنون، کھیل، طب، سائنس اور دیگر شعبوں میں اعلی کاردکرگی دکھانے والوں کو سال میں ایک دفعہ دیا جاتا ہے۔

خزافتی ہندسیات

خزافتی انجینئری (ceramic engineering)، گرمائش کے عمل کو استعمال کرتے ہوئے غیر نامیاتی، غیر فلزی امواد سے اشیاء بنانے کا علم اور ٹیکنالوجی۔

سینٹونگے

سینٹونگے ( فرانسیسی: Saintonge) فرانس کا ایک رہائشی علاقہ ہے۔

فن خزافت

خزافت دراصل حرارت کو استعمال کرتے ہوئے غیر نامیاتی اور غیر فلزی مواد سے چیزیں بنانے کا فن ہے۔ فنی تاریخ میں، خزافت (ceramics) اور فن خزافی (ceramic art) سے مراد ظروف سازی (pottery) کے عملیہ سے بنائے جانے والے میزی ظروف (tableware)، فنی اشیاء، طین (clay) سے بنے بلائط (tiles) اور دوسرے خزافتی مواد ہیں۔

فنیات و حرفیات

فنیات و حرفیات (arts and crafts)، جسے صنعت و حرفت بھی کہاجاتا ہے، اِس سے مراد وہ تمام سرگرمیاں اور مشاغل ہیں جو انسان کے اپنے ہاتھوں اور ہنر سے بنائی گئی چیزوں سے تعلق رکھتی ہیں۔

مجولی

(انگریزی: Majuli)

مجولی آسام، بھارت میں دریائے برہم پتر میں واقع ایک دریائی جزیرہ ہے۔ 2016ء میں اسے ضلع بنا دیا گیا اور اس طرح مجولی دنیا کا پہلا ایسا جزیرہ بنا جسے ضلع ہونے کا شرف حاصل ہے۔

20ویں صدی کے آغاز میں اس کا کل رقبہ 880 مربع کلومٹر تھا مگر مگر پانی کے بہاو کی وجہ سے اس کا کچھ حصہ ندی میں سما گیا اور 2014ء میں اس کا کل رقبہ 352 کلومربع میٹر (136 مربع میل) مربع کلو میٹر رہ گیا۔ جیسے جیسے ندی کا پانی زیادہ ہوتا گیا مجولی کا علاقہ کم ہوتا گیا۔ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں مجولی کو دنیا کا سب سے بڑا دریائی جزیرہ مانا گیا ہے۔

مجولی دریائے برہم پتر اور اس کی ذیلی ندی دریائے انا برانچ اور دریائےسوبان سیری کے درمیان میں واقع ہے۔ جورہاٹ شہر سے ناو کے ذریعے مجولی تک پہونچا جا سکتا ہے۔یہ گوہاٹی سے 300–400 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔

پیشوں کی فہرست

انسانی سماج میں مختلف قسم کے صد ہا پیشے اور روزگار ہوتے ہیں اور ہر پیشے کا مخصوص نام ہوتا ہے۔ یہ پیشہ یا روزگار علمی بھی ہوتا ہے اور صنعت و حرفت سے متعلق بھی۔ علمی پیشوں کے اختیار کرنے سے قبل مخصوص تعلیم گاہوں میں اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنا پڑتا ہے جبکہ صنعت و حرفت کے پیشوں کے لیے اس فن کے ماہرین کی صحبت اٹھانی پڑتی ہے۔ذیل میں ان پیشوں اور روزگاروں کی فہرست درج ہے جو انسانی سماج اور خصوصاً برصغیر میں رائج ہیں۔ اس فہرست کی ترتیب و تیاری میں انجمن ترقی اردو کی شائع کردہ "فرہنگ اصطلاحات پیشہ وراں" سے خصوصی مدد لی گئی ہے اور بیشتر قدیم پیشوں کے نام اسی فرہنگ سے ماخوذ ہیں۔

چراغ

چراغ، دیا یا دیپک سے مراد تیل جلا کر روشنی حاصل کرنے کا برتن ہے۔ چراغ عام طور پر چکنی مٹی (clay) کا بنا ہوتا ہے جس میں سوتی ڈوری کی مدد سے بتی بنا کر گھی، تیل یا مکھن جلایا جاتا ہے۔ پیتل یا دوسری دھاتوں سے بنے دیے بھی مندروں میں عام پائے جاتے ہیں۔

غالباً تاریخ کا سب سے مشہور چراغ الہ دین کا چراغ رہا ہے۔ بچوں کی قدیم کہانی کے مطابق اسے رگڑنے سے فرماں بردار جن نکل آتا تھا۔

چین میں دمدار سیاروں کے تاریخی مشاہدات

چینی فلکیات میں دمدار سیاروں کو بہت اہمیت حاصل رہی ہے۔زمانہ قدیم اور قرونِ وسطیٰ کے عہد میں بھی دمدار سیاروں کا اندراج چینی تقاویم میں مسلسل ہوتا رہا ہے جس کے باقاعدہ ثبوت اب چینی فلکیات کی تاریخ میں ملتے ہیں۔ان دمدار سیاروں کا اندراج بھی اِتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ چین کا فلکیاتی علم۔

چین کی چار عظیم ایجادات

چین میں ایجاداتِ اربعہ (آسان چینی: 四大发明؛ روایتی چینی: 四大發明) سے مراد وہ اشیاء ہیں جن سے دنیا میں انقلابِ عظیم برپا ہوا۔اِن ایجادات کا تعلق قدیم چین سے ہے اور چینی ثقافت میں اِن چار ایجادات کو بطور مثال پیش کیا جاتا ہے اور اِن ایجادات کو چین اور دنیا کی تاریخ میں سائنس اور ٹیکنالوجی میں انقلاب برپا کرنے کی وجہ سے ایجاداتِ عظیمہ کہا جاتا ہے۔ چار اِیجادات سے مراد قطب نما ، بارود، کاغذ سازی اور طباعت ہیں۔اِن چار ایجادات نے عالمی تاریخ میں اور تمدنی ترقی میں گہرے اثرات مرتب کیے۔

چینی فلکیات

چین میں فلکیات (انگریزی: Astronomy in China) کی تاریخ کا آغاز چین کے برنجی دور میں شانگ خاندان کے عہد سلطنت سے شروع ہوتا ہے۔چین میں مصدقہ تاریخی آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی بار فلکیات کے چینی ستاروں کے نام آنیانگ سے دریافت ہونے والی اوریکل ہڈیوں سے معلوم ہوئے ہیں اور اِن کے یہ نام اٹھائیس چینی قمری منازل میں لکھے گئے ہیں۔شانگ خاندان کے دور تک فلکیات اپنی ابتدائی مراحل سے گزرتا ہوا ترقی پاچکا تھا اور ستاروں کے نام تک تجویز کیے جا چکے تھے۔ 1339 قبل مسیح سے 1281 قبل مسیح کے دوران شانگ خاندان کے بادشاہ وو دنگ کے عہدِ حکومت میں منازل قمری کے نام ملتے ہیں۔ چوتھی صدی قبل مسیح میں چین کا تنازعاتی دور شروع ہوتا ہے اور اِس دور میں بھی ستاروں کے متعلق علم اور حقائق ملتے ہیں اور آخر کار یہ علم منتقل ہوتا ہوا ہان خاندان کے عہد سلطنت تک پہنچتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ چینی فلکیات کی بنیاد زمین کے ساکن ہونے اور سورج کے متحرک ہونے پر تھی۔ بعض اوقات یہ قواعد جدید علم فلکیات کے مطابق استوار کرلیے جاتے تھے اور کبھی کبھار شروق نجمی یا منطقۃ البروج کے مطابق ترتیب دے دیے جاتے تھے۔ جدید محققین فلکیات کے مطابق قرونِ وسطیٰ میں اسلامی فلکیاتی دور سے قبل چین کا ہی علم فلکیات اِن قواعد پر مرتب ہوا تھا۔ موجودہ ہندوستانی فلکیات کے متعدد عناصر و قواعد چین منتقل ہوئے اور یہ دور غالباً چین میں بدھ مت کی ترویج اور مشرقی ہان سلطنت کا عہدِ حکومت یعنی 25ء سے 220ء تھا۔ اِس کے بعد تانگ خاندان کے دور یعنی 618ء سے 907ء میں ہندوستانی فلکیات چینی فلکیات میں مکملاً رچ بس گئی اور تانگ خاندان کے دور میں ہی شاہی منجمین کا تقرر ہونا شروع ہوا اور منجمین کو دار الحکومت میں طلب کیا گیا۔اِنہی منجمین میں یی ژنگ بھی شامل تھا جسے تانترک بدھ متی ماہر نجوم سمجھا جاتا تھا۔یوآن خاندان کے دور میں اسلامی فلکیات چین میں داخل ہوئی اور منگ خاندان کے دورِ زوال تک اسلامی فلکیات کی شہرت باقی رہی۔ منگ خاندان کے زوال کے بعد جب چین میں مسیحی یسوعیوں کا دور دورہ ہوا تو اسلامی فلکیات کی شہرت جاتی رہی۔ سترہویں صدی میں پہلی بار چین میں فلکی دوربین نصب کی گئی۔ 1669ء میں بیجنگ کی قدیمی رصد گاہ کو نئے انداز پر تشکیل دیا گیا۔ موجودہ حالات میں چین فلکیات کے ایک منظم و جدید پروگرام کے تحت نظام شمسی میں موجود اجرام فلکی پر اپنے سائنسی مشن بھیج رہا ہے۔

کوتاہیہ

مغربی ترکی کا ایک شہر جس کی آبادی 2004ء کے اندازوں کے مطابق ایک لاکھ 70 ہزار باشندوں پر مشتمل ہے۔ کوتاہیہ دریائے بورسک کے کنارے سطح سمندر سے 930 میٹر بلندی پر واقع ہے۔ یہ صوبہ کوتاہیہ کا صدر مقام ہے۔

کوتاہیہ زمانۂ قدیم سے صنعتی علاقے کے طور پر معروف رہا ہے خاص طور پر ظروف سازی اور سفال گری کی صنعت کے حوالے سے اسے قدیم دور سے ہی ممتاز مقام حاصل رہا۔ جدید صنعتوں میں شکر سازی اور دباغت اور زرعی صنعت میں اناج، پھل اور شکر قندی شامل ہیں۔

کوتاہیہ ریل اور سڑکوں کے ذریعے مغرب میں 250 کلو میٹر دور بالکیسر، جنوب مغرب میں 450 کلومیٹر دور قونیہ، شمال مشرق میں 70 کلومیٹر دور اسکی شہر اور مشرق میں 300 کلومیٹر دور انقرہ سے ملا ہوا ہے۔

کوتاہیہ کے قدیم علاقوں میں روایتی عثمانی طرز کے مکانات بکثرت ملتے ہیں۔ شہر میں آثار قدیمہ بھی ملتے ہیں جن میں ایک بازنطینی دور کا قلعہ اور گرجا بھی شامل ہیں۔

1071ء میں سلجوقیوں سے اس شہر کو فتح کیا اور اگلے چند سالوں تک اس پر مسلمانوں کی حکومت رہی لیکن صلیبی جنگوں کے زمانے میں 1095ء میں یہ مسیحیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ سلجوقیوں نے دوسری مرتبہ اسے 1182ء میں فتح کیا۔ 1402ء میں جنگ انقرہ کے بعد امیر تیمور نے اس شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ 1482ء میں یہ عثمانی سلطنت کا حصہ بنا جس کے دوران اس نے دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کی لیکن 19 ویں صدی میں صرف 70 کلو میٹر دور اس کی شہر کے تیزی سے پھیلنے کے بعد کوتاہیہ کی ترقی گہنا گئی اور یہ علاقائی و اقتصادی اہمیت کھو بیٹھا۔

1831ء عثمانی سلطنت کے والئ مصر محمد علی پاشا کی بغاوت کے بعد اس کا بیٹا ابراہیم پاشا شہر پر شہر فتح کرتے ہوئے کوتاہیہ تک پہنچ گیا تھا لیکن عالمی قوتوں کی مداخلت کے باعث محمد علی کو سمجھوتہ کرنا پڑا۔

ترکی کے معروف سیاح اور مصنف اولیاء چلبی کا تعلق اسی شہر سے تھا۔

کوٹ ڈیجی

کوٹ ڈیجی کے آثار قدیمہ قومی شاہراہ کے کنارے خیرپور شہر سے جنوب کی طرف پندرہ میل کے فاصلے پر واقع ہیں۔ ایک چٹان پر واقع شرقاً غرباً چھ سو فٹ لمبی اور شمالاً جنوباً چار سو فٹ چوڑی ڈھیری ہے جو ارد گرد کی زمین سے چالیس فٹ اونچی ہے۔

اس مڈفون شہر کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ قلعہ کے اندر ہے، جس میں حکمران طبقات رہتے ہوں گے۔ دوسرا حصہ قلعہ کے باہر ہے جس میں دستکار لوگ رہتے ہوں گے۔ جو اپنے وقت میں غلاموں کا درجہ رکھتے تھے۔ یہ لوگ اجتماعی طور پر ایک سماجی طبقے کمی ( مکین )کا درجہ رکھتے تھے اور حکمران طبقہ اجتماعی طور پر ان پر مالکانہ حقوق رکھتا تھا۔ یہ ضروری نہیں تھا کہ یہ غلام ملکان فرداً فرداً بھی سارے سارے دولت مند ہوں۔ ان میں سے افراد غریب بھی ہوسکتے تھے۔ لیکن آزاد شہری ضرور تھے۔ ان غریب آزاد شہریوں کو غلاموں پر اتنی ہی مالکانہ حثیت حاصل تھی جتنی امرائ کو اور یہ غریب آزاد شہری اگر ان کے استحصال میں شریک نہیں تھے تو بھی ان کو محکوم رکھنے کے لیے اپنی طاقت حکمرانوں کے پلڑے میں ڈالتے تھے اور یہ مقصد نسلی قبائلی اور گروہی بنیادوں پر حاصل کیا جاتا تھا۔ لہذا قدیم پاکستان کے کمی مکمل طور پر غلام تھے اور ان کے ارد گرد ذات پات کی دیواریں چن دی گئی تھیں۔ جن میں وہ سسک سسک کر جیتے تھے۔

کوٹ ڈیجی کی کھدائی میں آبادی کی کل سولہ سطحیں ملی ہیں۔ سب سے اوپر کی تین سطحیں وادی سندھ کی نمائندہ ہیں۔۔ جب کہ سطح 4 سے لے کر سولہ تک جو سب سے نیچے ہیں۔ قبل از سندھ تہذیب کے آثار ملے ہیں۔ اس قدیم دور میں ایک قلعہ بھی ملا ہے۔ جس میں طویل عرصے تک ایک منظم عمدگی سے ترتیب دیا ہوا شہر آباد رہا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وادی سندھ کی تہذیب کے وجود میں آنے سے صدیوں پہلے نہایت دولت مند اور ترقی یافتہ لوگ یہاں رہتے تھے۔ ان کے مکانات منظم تھے۔ جن کی بنیادیں پتھر کی اور دیواریں کچی اینٹوں کی تھیں۔ برتن چاک پر بنتے تھے۔ ان کے حجری اوزار نہایت ترقی یافتہ تھے۔ جن میں نیزوں کی انیاں، برچھے، چھوٹے استرے اور کھرچنے وغیرہ شامل ہیں۔ ایک بیل کی سفالی مورتی بھی ملی ہے۔ اس قلعے کے لوگ طویل عرصے قلعہ پر قابض رہے ہیں۔ یعنی لگ بھگ سات سو سال۔ کیوں کہ اس جگہ عمارتی ملبے کی تیرہ سطحیں ملی ہیں۔ جن میں سے کم از کم گیارہ یا بارہ مرتبہ آبادی رہی ہے۔ شہر کا وہ حصہ جو قلعے سے باہر ہے اس میں پانچ مرتبہ آبادی رہی ہے اور آبادی کم گنجان بھی رہی ہے۔ اس قلعے کی دیوار میں حفاظتی برج بھی ہیں۔ اس کی بنیاد میں پتھر اور اوپر کی چنائی میں کچی اینٹیں استعمال ہوئی ہیں۔

تیسری سطح کے نیچے اور چوتھی سطح کے اوپر یعنی وادی سندھ کی تہذیب کے آنے اور اس سے پہلے زمانے کے درمیان شدید آتش زنی کے آثار ہیں۔ اس کے ساتھ ہی قدیم اور جدید مادی ثقافت میں زبر دست فرق ہے۔ اس ڈاکٹر ایف اے خان نے اور ان کی طرح دیگر ماہرین نے بھی یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ نئے آّنے والے والوں نے قدیم شہر کو جلا کر تاخت و تاراج کیا۔ اس کے ثبوت میں مرکزی نکتہ یہ ہے کہ پہلے لوگ باریک دیوار کے نفیس برتن بناتے تھے۔ جب کہ نئے لوگ موٹی دیوار کے برتن بناتے تھے۔ پرانے دور میں کم جگہ میں زیادہ برتن اور نہایت عمدہ معیار کے ملے ہیں۔ جس کا مطلب کہ وہ بہت زیادہ امیر لوگ تھے اور ان کی صنعت و حرفت بہت ترقی یافتہ تھی۔ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ قدیم دور میں سب سے نچلی سطح سے 16 سے سطح 4 تک بار بار راکھ اور جلی ہوئی لکڑی کے کوئلے کی سطحیں ملتی ہیں۔ لیکن ظروف سازی کی تیکنک اس کا اسلوب اور معیار ہمیشہ ایک جیسا رہتا ہے۔ یعنی قدیم ضروف ہمیشہ باریک، نفیس اور ہلکے رہے ہیں۔ صرف دور قدیم کے اختتام پر ایسا ہوتا ہے کہ ضروف سازی میں بنیادی تبدیلی آتی ہے۔ یہ سارے شواہد اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ کوٹ ڈیجی ثقافت زوال آمادہ سماج اور غلامانہ سماج کے دور کی غلام دار ثقافت تھی۔ اس میں اکثر غلاموں کی بغاوتیں ہوتی رہتی تھیں۔ جو مالکان کے شہر کو تباہ و برباد کرتے تھے اور ہر بار غلاموں کو شکست ہوتی تھی۔ آخر چوتھی سطح کے زمانے میں پرانے غلام مالکان کو شکت ہوئی ہے۔ اور دیہاتوں سے آکر حملہ آور ہونے والے زرعی غلام ان کے شہروں پر قبضہ کرلیتے ہیں۔ ان مکانوں کو ازسر نو تعمیر کرکے خود ان میں رہائش اختیار کرتے ہیں اور نیا سیاسی اقتدار قائم کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں قدیم پاکستان طول و عرض میں ایک ریاست وجود میں آتی ہے۔ جسے وادی سندھ کی تہذیب کے نام سے یا کیا جاتا ہے۔ یہ غلام دار ریاست ایک خونی انقلاب کے ذریعے وجود میں آتی ہے۔ جس میں چھوٹی چھوٹی کسان سلطنتیں ایک وسیع سلطنت میں ضم ہوجاتی ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جسے مغربی مورخین وادی سندھ کی تہذیب کو اچانک جو بن پر آنا SUDDEN FLOWERING OF THE INDUS CIVILIZATION کہتے ہیں۔ اس کا اچانک وجود میں آنا کسی مادی اسباب کے ممکن نہیں ہے۔ بلکہ سماجی انقلاب تھا۔ ٹکریوں میں بٹے ہوئے غلام دارانہ سماج کو خون ریز طبقاتی جدل کے بعد ایک عظیم تر معاشی سیاسی اور سماجی وحدت میں تبدیل کرتا ہے۔ اس انقلاب کی حرکی قوت کسان اور دستکار ( کمی ) تھے۔ جو پھر خود غلام، ملکان اور اونچی زات کے حکمرانوں میں تبدیل ہوئے۔ اس جنگ میں بہت سے صنعتی کارکن اور دستکار مارے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ شہری طرز تعمیر بھی ایک دفعہ غائب ہوجاتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب نئے حکمرانوں سیاسی استحکام حاصل کر لیا تو پھر ان کی نفاست لوٹ آئی اور پرانا ورثہ قدرے نئے انداز میں اجاگر ہوا۔ ہرپہ، موہنجو ڈارو کے شہر لگ بھگ چھ سات سو سال زندہ رہے۔ اگر یہ یکے دیگر تھے تو پھر وادی سندھ کی غلام ریاست تیرہ چودہ سو سال زندہ رہی۔

کوٹ دیجی کی ثقافت کا زمانہ 3155 ق م ( نیچے کی سطح یعنی سطح نمبر 14 ) سے لے کر 2590 ق م کا زمانہ ہے۔ یہ قلعے کے اندرونی شہر کا زمانہ ہے۔ قلعے کے باہر جو شہر ہے اس کی سب سے قدیم آبادی 2885 ق م سے لے کر 2805 تک رہی ہے۔ مجموعی طور پر ثقافت لگ بھگ ساڑھے پانچ سو سال رہی۔ ڈکٹر توفیق محل کا اصرار ہے کہ کوٹ ڈیجی چقافت پوری عظیم وادی سندھ، شمالی بلوچستان میں افغانستان کی سرحد سے لے کر اور اور ساحل مکران کی طرف ایرانی سرحد کے ساتھ ساتھ بھارت کی چند میل پٹی اس میں شامل تھی۔ اسی علاقے پر بعد میں وادی سندھ کی تہذیب پھلی پھولی۔

کیمیا

کیمیا (chemistry) سائنس کی وہ شاخ جو مادے کی ترکیب(composition)، ساخت، خواص اور مادوں کے تعاملات (reactions) سے متعلق ہے۔ اس شعبہ علم میں خاص طور پر جوہروں کے مجموعات ؛ مثلا سالمات اور ان کے تعملات، قلموں (crystals) دھاتوں سے بحث کی جاتی ہے۔ کیمیا میں ان مذکورہ اشیاء کی ساخت اور پھر ان کی نئے مرکبات میں تبدیلیوں کا مطالعہ اور ان کے تفاعل (interaction) کے بارے میں تحقیق شامل ہے۔ اور جیسا کہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب مادے کا بڑے پیمانے (یعنی سالمات اور قلمیں وغیرہ کے پیمانے) پر مطالعہ کیا جائے گا تو جوہر یا ایٹم یعنی باریک پیمانے پر مادے کا مطالعہ بھی لازمی ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ کیمیا میں جوہروں کی ساخت اور ان کے آپس میں تعملات اور روابط کا مطالعہ بھی کیا جاتا ہے۔

کینتسوگی

کینتسوگی (انگریزی: Kintsugi) جاپانی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب سنہری یا سونے کا جوڑ ہے۔ یہ برتنوں کو جوڑنے کا طریقہ ہے۔ جاپان میں برتن ٹوٹنے پر انہیں سونے یا قیمتی دھاتوں کے پاؤڈر یا مائع سے جوڑا کر سجایا جاتا۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.