صنعت کاری

صنعت کاری (industrialization) سے مراد ایک ایسا سماجی و معاشی تبدیلی کا عمل ہے جس میں کسی انسانی گروہ کی ماقبل صنعتی (pre-industrial) معاشرہ سے صنعتی معاشرہ میں تحویل ہوتی ہے۔

Zeche Mittelfeld Ilmenau
1860ء کے دوران، جرمنی میں واقع ایک صنعتی کارخانہ

نیز دیکھیے

تائیوان کی تاریخ

تائیوان کی تاریخ (انگریزی: History of Taiwan) کا سب سے ابتدائی نمونہ ہزاروں سال قبل سے ملتا ہے۔ تائیوان چین کے مشرق میں ایک چھوٹا کا جزیرہ ہے جس کے جنوب میں فلپائن واقع ہے۔ اس جزیرہ میں تقریباً 3000 سال قبل مسیح میں زراعت کے آثار ملتے ہیں ۔ 17ویں میں نیدرلینڈز نے جزیرہ کو اپنی کالونی میں شامل کر لیا۔ اس کے بعد تڑی تعداد میں ہان چینی اور ہکا نے فوجیان اور گوانگڈونگ سے ہجرت کر کے آبنائے تائیوان اور تائیوان میں پناہ لی۔ کچھ مدت کے لیے ہسپانیہ نے جزیرہ کے شمال میں اپنی کچھ بستیان بسائیں مگر 1642ء میں نیدرلینڈز نے انہیں بھگا دیا۔ 1662ء میں منگ خاندان کے وفادار کوشینگا نے نیدرلینڈز کو شکست دے کر مملکت تونگنینگ کی بنیاد رکھی۔ منگ خاندان نے 1644ء میں برعظیم چین کا اقتدار کھودیا تھا۔1683ء میں منگ خاندان کی فوج کو چنگ خاندان کی فوج نے شکست دے دی اور تائیوان کا کچھ حصہ چنگ سلطنت میں شامل ہو گیا۔1895ء میں پہلی چین جاپانی جنگ میں چنگ خاندان نے پنگہوسمیت پورے جزیرہ کی باگ ڈور سلطنت جاپان کو سونپ دیا۔ ۔تائیوان میں جاپان کو چاول اور چینی ملتی تھی اور دوسری جنگ عظیم میں جنوب مشرقی ایشیا میں جاپانی تسلط اور بحرالکاحل کے جزائر میں جاپانی حملوں کے دوران میں جزیرہ تائیوان جاپانیوں کی فوجگاہ تھا۔

تائیوان میں جاپانی سامراجی تعلیم کا نافذ کیا گیا اور کئی جنگوں میں تائیوانیوں نے جاپان کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا۔

1945ء میں دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد جمہوریہ چین کی نیشنلسٹ حکومت نے کومنتانگ کی قیادت میں تائیوان پر قبضہ کر لیا۔ 1949ء میں چینی خانہ جنگی میں اصل سرزمین چین کا تسلط کھونے کے بعد جمہوریہ چین نے کومنتانگ کی قیادت میں تائیوان کی طرف کوچ کیا اورچیانگ کائی شیک نے فوجی قانون نافذ کر دیا۔ اگلے 40 برسوں تک کومنتانگ نے آبنائے تائیوان کے بغل میں موجود جزیرہ کن مین، ووقیو اور ماتسو سمیت پورے تائیوان پر بحیثیت یک جماعت ریاست حکومت کی۔1980ء کی دہائی میں وہاں جمہوری تحریک و اصلاحات کا آغاز ہوا اور 1996ء میں براہ راست صدارتی انتخابات ہوئے۔

ما بعد جنگ کے زمانہ میں تائیوان میں سرعت صنعت کاری اور مالیاتی ترقی دیکھنے کو ملی۔ اس وقت تائیوان کو چار ایشیائی شیروں میں شمار کیا جاتا تھا۔

تجارت

تجارت دراصل اجناس (goods) اور خدمات (services) کے رضاکارانہ تبادلے کو کہا جاتا ہے۔

تجارت کی اصل شکل تبادلۂ اجناس تھی، جس میں اجناس اور خدمات کا براہِ راست یا بلاواسطہ تبادلہ کیا جاتا تھا۔ جدید تاجر عموماً تبادلۂ اجناس کی بجائے تجارت کا ایک وسیلہ اِستعمال کرتے ہیں، مثلاً پیسہ. نتیجتاً، خریداری کو فروخت یا منافع سے تفریق کیا جاسکتا ہے۔ پیسے کی ایجاد نے تجارت کو سادہ اور غیر پیچیدہ بنادیا ہے اور اِس کو اور ترقی سے نوازا ہے۔

دو تاجروں کے درمیان تجارت کو دو طرفی تجارت جبکہ دو سے زیادہ تاجروں کے درمیان تجارت کو کثیر فرقی تجارت کہتے ہیں۔

تجارت، اُس عمل کو بھی کہا جاتا ہے جو تاجرین اور مالیاتی منڈیوں کے کماش یا کارندے انجام دیتے ہیں۔

ترقی پذیر ملک

ترقی پزیر ملک (developing country)، سے مراد ایک ایسا ملک ہے جس کے جمہوری حکومتوں، آزاد بازاری معیشت، صنعت کاری، سماجی کاموں اور اپنے شہریوں کے لیے حقوق انسانی ضمانات کا معیار مغربی انداز کے معیارات سے نیچے ہو۔

تقسیم ہند

برطانوی قانون آزادی ہند 1947ء کے تحت 15 اگست 1947ء کو پاکستان اور بھارت کے قیام کو تقسیم ہند کہا جاتا ہے جس کے تحت دونوں ممالک نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ اس تقسیم کے نتیجے میں مشرقی بنگال پاکستان اور مغربی بنگال بھارت میں شامل ہوا اور پنجاب بھی پاکستان کے موجودہ صوبہ پنجاب اور بھارت کے مشرقی پنجاب میں تقسیم ہو گیا۔

اس تقسیم کے بعد نوزائیدہ پاکستانی ریاست کا دار الحکومت کراچی قرار پایا جہاں قائد اعظم محمد علی جناح نے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ پاکستان اپنا یوم آزادی 14 اگست جبکہ بھارت 15 اگست کو مناتا ہے۔

تقسیم ہند کا بنیادی محرک مسلمانان ہند کی وہ عظیم تحریک تھی جو انہوں نے برصغیر میں ایک الگ وطن قائم کرنے کے لیے شروع کی تھی۔ جس کے لیے انہوں نے مسلم لیگ کا پلیٹ فارم استعمال کیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلمانان ہند کا خواب 14 اگست 1947ء کی شب پورا ہوا جب 27 رمضان المبارک کی مبارک ساعتیں تھیں۔

جغرافیہ پاکستان

جغرافیہ پاکستان (Geography of Pakistan) میدانی علاقوں، صحراوں، جنگلات، پہاڑوں، سطح مرتفع، ساحلی علاقوں اور سلاسل کوہ کا ایک عمیق امتزاج ہے۔

جوزف استالن

جوزف استالن 1922ء سے 1953ء تک سوویت اتحاد کی اشتراکی جماعت کے معتمد عام (جنرل سیکرٹری) تھے۔ 1924ء میں ولادیمیر لینن کی وفات کے بعد وہ اتحاد سوویت اشتراکی جمہوریہ المعروف سوویت اتحاد کے سربراہ بنے۔

استالن نے مکمل زیر تسلط معیشت کا تصور پیش کیا اور تیز تر صنعت کاری اور اقتصادی تجمیع (Collectivization) کے عمل کا آغاز کیا۔ زرعی شعبے میں یکدم تبدیلی نے اشیائے خور و نوش کے پیداواری عمل کو تہ و بالا کر ڈالا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر قحط پھیلا جس میں 1932ء کا قیامت خیز سوویت قحط بھی شامل ہے جسے یوکرین میں Holodomor کہا جاتا ہے۔1930ء کی دہائی کے اواخر میں استالن نے 'عظیم صفائی' (Great Purge) کا آغاز کیا جسے 'عظیم دہشت' (Great Terror) بھی کہا جاتا ہے، جو اشتراکی جماعت کو ان افراد سے پاک صاف کرنے کی مہم تھی جو بد عنوانی، دہشت گردی یا غداری کے مرتکب تھے؛ استالن نے اس مہم کو عسکری حلقوں اور سوویت معاشرے کے دیگر شعبوں تک توسیع دی۔ اس مہم کا نشانہ بننے والے افراد کو عام طور پر قتل کر دیا جاتا یا جبری مشقت کے کیمپوں (گولاگ) میں قید کر دیا جاتا یا پھر وہ جلاوطنی کا سامنا کرتے۔ آنے والے سالوں میں نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد جبری ہجرت کا نشانہ بنائے گئے۔1939ء میں استالن کی زیر قیادت سوویت اتحاد نے نازی جرمنی کے ساتھ عدم جارحیت کا معاہدہ کیا جس کے بعد پولینڈ، فن لینڈ، بالٹک ریاستوں، بیسربیا اور شمالی بوکووینا میں روس نے جارحانہ پیش قدمی کی۔ 1941ء میں جرمنی کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کے باعث سوویت اتحاد نے اتحادیوں میں شمولیت اختیار کر لی جس نے دوسری جنگ عظیم میں محوری قوتوں کی شکست میں اہم کردار ادا کیا لیکن سوویت اتحاد کو اس فتح کی زبردست قیمت چکانی پڑی اور تاریخ کی تمام جنگوں کا سب سے زیادہ جانی نقصان اٹھاناپڑا۔ بعد ازاں اتحادیوں کے اجلاس میں تردیدی بیانات کے باوجود استالن نے مشرقی یورپ کے بیشتر ممالک میں اشتراکی حکومتیں قائم کروائیں، جس نے ایک مشرقی اتحاد تشکیل دیا جو سوویت اقتدار کے 'آہنی پردہ' (Iron Curtain) تلے تھے۔ اس نے نفرت و عناد اور دشمنی کے اس طویل عہد کا آغاز کیا جو تاریخ میں 'سرد جنگ' کے نام سے جانا جاتا ہے۔

استالن نے اپنے عوامی تاثر اور شخصیت کو سنوارنے کی کافی کوشش کی۔ لیکن اس کی وفات کے بعد جانشیں نکیتا خروشیف نے اس کے اعمال پر علانیہ ملامت کی اور ایک نئے عہد کا آغاز کیا جو عدم استالیانے (de-Stalinization) کا عہد کہتے ہیں۔

حیوانیہ پاکستان

حیوانیہ پاکستان (Fauna of Pakistan) پاکستان کے مختلف موسمی خظوں کی عکاسی کرتا ہے۔

سندھ

سندھ (سندھی: سنڌ‎) پاکستان کے چارصوبوں میں سے ایک صوبہ ہے، جو برِصغیر کے قدیم ترین تہذیبی ورثے اور جدید ترین معاشی و صنعتی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ سندھ پاکستان کا جنوب مشرقی حصہ ہے۔ سندھ کی صوبائی زبان سندھی اور صوبائی دار الحکومت کراچی ہے۔

سکھ سلطنت

سکھ سلطنت (Sikh Empire) برصغیر میں ایک اہم طاقت تھی جو مہاراجہ رنجیت سنگھ کی قیادت کے تحت ابھری۔ جس نے 1799ء میں لاہور پر قبضہ کر لیا اور پنجاب کے ارد گردعلاقوں پر سلطنت قائم کی۔ سلطنت 1799ء سے 1849ء تک قائم رہی۔

فہرست پاکستان کے چڑیا گھر

یہ فہرست پاکستان کے چڑیا گھر ہے۔

قانون آزادی ہند 1947ء

4 جولائی 1947ء کو ایک مسودہ قانون برطانوی پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔ 15جولائی کو دارالعوام نے اس کی منظوری دے دی، 16 جولائی 1947ء کو دار الامرا نے بھی اس کو منظور کیا۔ 18 جولائی 1947ء کو شاہ برطانیہ نے اس کی منظوری دے دی، پھر اس قانون کے تحت تقسیم ہند عمل میں لائی گئی اور دو نئی عملداریاں مملکت پاکستان اور مملکت بھارت وجود میں آئیں۔ قانون کو شاہی اجازت 18 جولائی 1947ء کو حاصل ہوئی۔ اور دو نئے ممالک پاکستان اور بھارت 15 اگست کو وجود میں آئے۔

اس قانون کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

دو نئے ممالک پاکستان اور بھارت بنائے جائیں گے۔

دونوں ممالک مکمل طور پر آزاد و خود مختار ہوں گے ان پر برطانوی حکومت مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔

دونوں ممالک کی اپنی مجالس قانون ساز ہوں گی جو ان ممالک کے لیے آئین بنائیں گی۔

جب تک نیا آئین نہیں بنتا اس وقت تک 1935ء کا آئین رائج رہے گا دونوں ممالک کی اسمبلیاں اس آئین میں ترمیم کا اختیار رکھتی ہیں۔

حکومت برطانیہ اور ہندوستانی شاہی ریاستوں کے درمیان تمام معاہدے ختم کیے جاتے ہیں۔

حکومت برطانیہ کو یہ اختیارات نہیں ہوں گے کہ وہ کسی ملک کی قانون ساز اسمبلی کے بنائے ہوئے قانون کو رد یا منظور کریں یہ اختیارات اس ملک کے گورنر جنرل کو حاصل ہیں۔

شاہ برطانیہ کے خطابات میں سے شہنشاہ ہند کا خطاب ختم کیا جاتا ہے۔

قومی شاہراہ 30

قومی شاہراہ 30 (N-30 / National Highway 30) پاکستان کی ایک قومی شاہراہ ہے جو 110 کلومیٹر طویل ہے۔ یہ بلوچستان میں باسیما سے خضدار تک جاتی ہے۔

یہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے زیر انتطام ہے۔

مثل

مثل (Misl) (گرمکھی: ਮਿਸਲ; فارسی لفظ مثل سے ماخوذ) عام طور پر سکھ اتحاد کی بارہ خود مختار ریاستیں مراد ہیں۔

پاکستان میں مذہب

پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہے۔ پاکستان کی 95–98 فیصد آبادی جو تقریباً 195,343,000 افراد ہے۔

پاکستان پوسٹ

پاکستان پوسٹ (Pakistan Post) ایک ریاستی کار اہم ادارہ ہے جو پاکستان میں عوامی خدمات کے لیے ڈاک کا نظام فراہم کرتا ہے۔ یہ ملک میں سب سے بڑا ڈاک کا خدماتی نظام ہے۔ اس کا شعار "ہر شخص کی خدمت، ہر روز، ہر جگہ" (serving everyone, everyday, everywhere) ہے۔

پاکستان کی زبانیں

پاکستان آپسی محبت اور اتحاد کی ایک اعلیٰ مثال ہے کیونکہ یہاں پہ مختلف علاقوں اور مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ متحد رہتے ہیں۔ جہاں پہ ہماری بہت سے زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے ایک ہماری قومی زبان اردو ہے۔ اس کے علاوہ چار صوبائی زبانیں اور بہت سے اور زبانیں بولی جاتی ہیں۔

پاکستان میں کئی زبانیں بولی، لکھی اور سمجھی جاتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 65 سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔ انگریزی پاکستان کی سرکاری زبان ہے، تمام معاہدے اور سرکاری کام انگریزی زبان میں ہی طے کیے جاتے ہیں، جبکہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔

پاکستان کی صوبائی زبانوں میں پنجابی اور سرائیکی,صوبہ پنجاب، پشتو صوبہ خیبر پختونخوا، سندھی صوبہ سندھ، بلوچی صوبہ بلوچستان اور شینا صوبہ گلگت بلتستان میں تسلیم شدہ زبانیں ہیں۔

پاکستان میں رائج دوسری زبانوں اور لہجوں میں، آیر، بدیشی، باگری، بلتی، بٹیری، بھایا، براہوی، بروشسکی، چلیسو، دامیڑی، دیہواری، دھاتکی، ڈوماکی، فارسی، دری، گواربتی، گھیرا، گوریا، گوورو، گجراتی، گوجری، گرگلا، ہزاراگی، ہندکو، جدگلی، جنداوڑا، کبوترا، کچھی، کالامی، کالاشہ، کلکوٹی، کامویری، کشمیری، کاٹی، کھیترانی، کھوار، انڈس کوہستانی، کولی (تین لہجے)، لہندا لاسی، لوارکی، مارواڑی، میمنی، اوڈ، ارمری، پوٹھواری، پھالولہ، سانسی، ساوی، شینا (دو لہجے)، توروالی، اوشوجو، واگھری، وخی، وانیسی اور یدغہ شامل ہیں۔

ان زبانوں بعض کو عالمی طور پر خطرے میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ ان زبانوں کو بولنے والوں کی تعداد نسبتاً نہایت قلیل رہ گئی ہے۔ وجود کے خطرات میں گھری یہ زبانیں زیادہ تر ہند فارس شاخ اور ہند یورپی زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ پاکستان کے ضلع چترال کو دنیا کا کثیرالسانی خطہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے اس ضلع میں کل چودہ زبانیں بولی جاتی ہیں-

زیل میں پاکستان کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں کی فہرست دی جا رہی ہے۔ پاکستانیوں کی مادری زبانوں کے لحاظ سے تناسب بھی زیل میں شامل ہے۔

نوٹ: 1951ء اور 1961ء کی مردم شماری میں سرائیکی کو پنجابی زبان میں ہی شمار کیا گیا تھا جبکہ 1998ء میں اسے بطور الگ زبان شمار کیا گیا ہے۔

پاکستان کے سلاسل کوہ

پاکستان میں کئی سلاسل کوہ موجود ہیں۔

مندرجہ ذیل سلاسل کوہ پاکستان میں مکمل یا جزوی طور شامل ہیں۔

سلسلہ کوہ قراقرم

سلسلہ کوہ ہمالیہ

سلسلہ کوہ ہندوکش

سلسلہ کوہ پامیر

ہندو راج

سلسلہ کوہ سلیمان

سفید کوہ

سلسلہ کوہ نمک

سلسلہ کوہ مارگلہ

سلسلہ کوہ ٹوبہ کاکڑ

مکران کے سلاسل کوہ

كوه کیر تھر

سلسلہ کوہ اراولی

سلسلہ توبہ ولگی نورزئی

ڈومنین پاکستان

ڈومنین پاکستان (Dominion of Pakistan) (بنگالی: পাকিস্তান অধিরাজ্য؛ اردو: مملکت پاکستان) عام طور پر پاکستان کہا جاتا تھا 1947ء میں تقسیم ہند سے قائم ہونے والے دو خود مختار ممالک میں سے ایک آزاد وفاقی عملداری تھا۔ یہ 1956ء میں اسلامی جمہوریہ پاکستان بن گیا۔

ڈیورنڈ لائن

14 اگست 1947ء سے پیشتر جب پاک و ہند پر برطانیہ کا قبضہ تھا، برطانیہ کو ہر وقت یہ فکر لاحق رہتی تھی کی شمال مغربی سرحد پر روس کا اقتدار نہ بڑھ جائے یا خود افغانستان کی حکومت شمال مغربی سرحدی صوبہ کے اندر گڑبڑ پیدا نہ کرا دے۔ ان اندیشیوں سے نجات حاصل کرنے کی خاطر وائسرائے ہند نے والی افغانستان امیر عبدالرحمن خان سے مراسلت کی اور ان کی دعوت پر ہندوستان کے وزیر امور خارجہ ما ٹیمر ڈیورنڈ ستمبر 1893ء میں کابل گئے۔ نومبر 1893ء میں دونوں حکومتوں کے مابین 100 سال تک، معاہدہ ہوا جس کے نتیجے میں سرحد کا تعین کر دیا گیا۔ جو ڈیورنڈ لائن (Durand Line) یا خط ڈیورنڈ کے نام سے موسوم ہے۔ اس کے مطابق واخان کافرستان کا کچھ حصہ نورستان، اسمار، موہمند لال پورہ اور وزیرستان کا کچھ علاقہ افغانستان کا حصہ قرار پایا اور افغانستان استانیہ ،چمن، نوچغائی، بقیہ وزیرستان، بلند خیل ،کرم، باجوڑ، سوات، بنیر، دیر، چلاس اور چترال پر اپنے دعوے سے 100 سال تک دستبردار ہو گیا۔

14 اگست 1947ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا، پاکستان کی حکومت نے اپنے آپ کو برطانيہ کا اصلی وارث سمجهتے ہوئے یہ معاہدہ برقرار رکها اور کئی سال تک افغانستان کی حکومت کو مالی معاوضہ ديا جاتا رہا۔ کابل کی حکومت نے خط ڈیورنڈ کی موجودہ حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور یہ دعوی کیا کہ دریائے اٹک تک کا علاقہ کابل کی فرماں روائی میں ہے۔ کیونکہ بقول اس کے اس علاقے کے لوگ افغانوں کے ہم نسل پشتون تھے اور ہم زبان تھے۔ جب کہ سکھوں کے دور سے پہلے تک یہ علاقہ افغانستان کا علاقہ شمار کیا جاتا تھا۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.