صدی

صدی سو سال کے عرصہ کو کہا جاتا ہے۔ جو دس عشروں کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ ہر تقویم (ماہ و سال) کے آغاز سے سالوں کا ہر سینکڑہ بھی صدی کہلاتا ہے۔

مزید دیکھیے

احنف بن قیس

احنف بن قیس اپنے عہد کے بڑے عاقل،مدبر،حکیم اورحلیم تھے۔

بغداد

بغداد عراق کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ ماضی میں خلافت عباسیہ کا مرکز تھا۔ اسے منگول لشکروں نے تاراج کیا۔ شہر کی آبادی ساٹھ لاکھ ہے جو اسے عراق کا سب سے بڑا اور عالم عرب کا آبادی کے لحاظ سے قاہرہ کے بعد دوسرا بڑا شہر بناتی ہے۔ اس شہر میں شیخ عبد القادر جیلانی کا مزار بھی ہے۔

دجلہ کے کنارے واقع جدید شہر کی تاریخ کم از کم آٹھویں صدی عیسوی سے منسوب ہے جب کہ آبادی اس سے بھی پہلے تھی۔ کسی دور میں دارالاسلام اور مسلم دنیا کا مرکز یہ شہر، 2003ء سے جاری عراق جنگ کی وجہ سے آج انتشار کا شکار ہے ۔

بیسویں صدی

<<<انیسویں صدی <<< بیسویں صدی >>> اکیسویں صدی>>>

تیرہویں صدی ہجری

12 صدی ہجری - 13 صدی ہجری - 14 صدی ہجری

تیسری صدی ہجری

2 صدی ہجری - 3 صدی ہجری - 4 صدی ہجری

خلافت راشدہ

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عہد خلافت خلافت راشدہ کہلاتا ہے۔ اس عہد کی مجموعی مدت تیس سال ہے جس میں حضرت ابوبکر صدیق اولین اور حضرت علی آخری خلیفہ ہیں۔ اس عہد کی نمایاں ترین خصوصیت یہ تھی کہ یہ قرآن و سنت کی بنیاد پر قائم نظام حکومت تھا۔

خلافت راشدہ کا دور اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس زمانے میں اسلامی تعلیمات پر عمل کیا گیا اور حکومت کے اصول اسلام کے مطابق رہے۔ یہ زمانہ اسلامی فتوحات کا بھی ہے۔ اوراسلام میں جنگ جمل اور جنگ صفین جیسے واقعات بھی پیش آئے۔جزیرہ نما عرب کے علاوہ ایران، عراق، مصر، فلسطین اور شام بھی اسلام کے زیر نگیں آ گئے۔ شیعہ خلافت راشدہ کو تسلیم نہیں کرتے .ان کے نزدیک رسول اللہ کے جائز جانشین حضرت علی تھے۔ ان میں خلافت کے بجائے امامت کا تصور پایا جاتا ہے۔

زید بن ارقم

زید بن ارقم، رسول اکرم ﷺ کے صحابی تھے۔

سبرہ بن معبد

سبرہ بن معبدصحابی رسول ﷺ ہیں۔

سلمان فارسی

سلمان فارسی (فارسی : سلمان پارسی، عربی : سلمان الفارسی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشہور اصحاب میں سے تھے۔ ابتدائی طور پر ان کا تعلق زرتشتی مذ ہب سے تھا مگر حق کی تلاش ان کو اسلام کے دامن تک لے آئی۔ آپ کئی زبانیں جانتے تھے اور مختلف مذاہب کا علم رکھتے تھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں مختلف مذاہب کی پیشینگوئیوں کی وجہ سے وہ اس انتظار میں تھے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ظہور ہو اور وہ حق کو اختیار کر سکیں۔

صفوان بن معطل

صفوان بن معطلصفوان بن معطل سلمی واقعہ افک میں ان کانام بھی آتا ہے

عبد اللہ بن مسعود

عبد اللہ بن مسعود (عربی: عَبْدُ اللهِ بنُ مَسْعُوْدِ بنِ غَافِلِ بنِ حَبِيْبٍ الهُذَلِيُّ ) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جلیل القدر اصحاب میں سے تھے۔ براویتے آپ سے پہلے صرف پانچ افراد نے اسلام قبول کیا اس لیے آپ سابقون الاولون میں شامل ہیں۔ آپ نے غزوہ بدر سمیت ہر بڑے غزوہ میں شرکت کی۔

عتبہ بن غزوان

عتبہ بن غزوان صحابی تھے جن کی کنیت ابو عبداللہ تھی۔

عروہ بارقی

عروہ بن جعد بارقی

(عربی: عروة بن الجعد البارقي) ایک صحابی تھے۔ وہ کوفہ کے عامل (گورنر) بھی رہے اور فارس کی ابتدائی مسلم فتوحات میں شامل رہے۔

فرانس

جمہوریہ فرانس یا فرانس (فرانسیسی: République française، دفتری نام: جمہوریہ فرانس) ایک خود مختار ریاست ہے جس کی عمل داری میں مغربی یورپ کا میٹروپولیٹن فرانس اور سمندر پار واقع متعدد علاقے اور عمل داریاں شامل ہیں۔ فرانس کا میٹروپولیٹن خطہ بحیرہ روم سے رودبار انگلستان اور بحیرہ شمال تک نیز دریائے رائن سے بحر اوقیانوس تک پھیلا ہوا ہے، جبکہ سمندر پار علاقوں میں جنوبی امریکا کا فرانسیسی گیانا اور بحر الکاہل و بحر ہند میں واقع متعدد جزائر شامل ہیں۔ ملک کے 18 خطوں (جن میں سے پانچ سمندر پار واقع ہیں) کا مکمل رقبہ 643,801 مربع کلومیٹر (248,573 مربع میل) ہے جس کی مجموعی آبادی (جون 2018ء کے مطابق) 67.26 ملین (چھ کروڑ اکہتر لاکھ چھیاسی ہزار چھ سو اڑتیس) نفوس پر مشتمل ہے۔ فرانس ایک وحدانی نیم صدارتی جمہوریہ ہے جس کا دار الحکومت پیرس ہے۔ یہ فرانس کا سب سے بڑا شہر اور ملک کا اہم ترین ثقافتی و اقتصادی مرکز ہے۔ دیگر اہم شہروں میں مارسئی، لیون، لیل، نیس، تولوز اور بورڈو قابل ذکر ہیں۔

وہ خطہ جو اس وقت میٹروپولیٹن فرانس کہلاتا ہے، آہنی دور میں اس جگہ سیلٹک قوم سے تعلق رکھنے والے گال آباد تھے۔ روم نے 51 ق م میں اس خطہ پر قبضہ کیا جو 476ء تک برقرار رہا۔ بعد ازاں جرمانی فرانک یہاں آئے اور انہوں نے مملکت فرانس کی بنیاد رکھی۔ عہد وسطیٰ کے اواخر میں فرانس نے جنگ صد سالہ (1337ء تا 1453ء) میں فتح حاصل کی جس کے بعد فرانس ایک بڑی یورپی طاقت بن کر ابھرا۔ نشاۃ ثانیہ کے وقت فرانسیسی ثقافت پروان چڑھی اور ایک عالمی استعماری سلطنت کی ابتدا ہوئی جو بیسویں صدی عیسوی تک دنیا کی دوسری عظیم ترین سلطنت سمجھی جاتی تھی۔ سولہویں صدی عیسوی میں کاتھولک اور پروٹسٹنٹ کے درمیان میں مذہبی جنگیں عروج پر تھیں اور یہ پوری صدی انہی جنگوں کے نام رہی، تاہم لوئی چودہواں کے زیر اقتدار فرانس یورپ کی غالب تمدنی، سیاسی اور فوجی طاقت بن گیا۔ اٹھارویں صدی عیسوی کے اواخر میں عظیم الشان انقلاب فرانس رونما ہوا جس نے مطلق العنان شہنشاہی کا خاتمہ کرکے عہد جدید کے اولین جمہوریہ کی بنیاد رکھی اور حقوق انسانی کے اعلامیہ کا مسودہ پیش کیا جو بعد میں اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے منشور کا محرک بنا۔

انیسویں صدی عیسوی میں نپولین نے مسند اقتدار سنبھالنے کے بعد فرانسیسی سلطنت اول قائم کی۔ نپولین کے عہد میں لڑی جانے والی جنگوں نے پورے بر اعظم یورپ کو خاصا متاثر کیا۔ اس سلطنت کے زوال کے بعد فرانس سخت بد نظمی اور انتشار کا شکار رہا، بالآخر سنہ 1870ء میں فرانسیسی جمہوریہ سوم کی بنیاد پڑی۔ فرانس پہلی جنگ عظیم میں شامل تھا جس میں اسے معاہدہ ورسائے کی شکل میں فتح نصیب ہوئی، نیز وہ دوسری جنگ عظیم میں بھی متحدہ طاقتوں کے ساتھ تھا لیکن 1940ء میں محوری طاقتوں نے اس پر قبضہ کر لیا جس سے سنہ 1944ء میں فرانس کو آزادی ملی اور فرانسیسی جمہوریہ چہارم کا قیام عمل میں آیا لیکن یہ جنگ الجزائر کی وقت تحلیل ہو گیا۔ سنہ 1958ء میں چارلس ڈیگال نے فرانسیسی جمہوریہ پنجم کی بنیاد رکھی جو اب تک موجود ہے۔ سنہ 1960ء کی دہائی میں الجزائر اور تقریباً تمام نو آبادیاں فرانسیسی استعمار سے آزاد ہوئیں لیکن فرانس سے ان کے اقتصادی اور فوجی روابط اب بھی خاصے مستحکم ہیں۔

فرانس سینکڑوں برس سے فلسفہ، طبیعی علوم اور فنون لطیفہ کا عالمی مرکز رہا ہے۔ وہاں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات بکثرت موجود ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے ہر سال تقریباً 83 ملین غیر ملکی سیاح آتے ہیں۔ فرانس ایک ترقی یافتہ ملک ہے جو خام ملکی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کی ساتویں اور مساوی قوت خرید کے لحاظ سے نویں بڑی معیشت سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی خانگی دولت کے حساب سے فرانس دنیا کا چوتھا مالدار ترین ملک ہے۔ نیز تعلیم، نگہداشت صحت، متوقع زندگی اور انسانی ترقی کے میدانوں میں بھی فرانس کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل میں حق استرداد حاصل ہونے کی بنا پر اسے دنیا کی عظیم طاقت اور باضابطہ جوہری قوت کا حامل ملک سمجھا جاتا ہے۔ ساتھ ہی یورو زون اور یورپی اتحاد کے سربرآوردہ ممالک میں اس کا شمار ہے۔ نیز وہ نیٹو، انجمن اقتصادی تعاون و ترقی، عالمی تجارتی ادارہ اور فرانسیسی بین الاقوامی تنظیم کا بھی رکن رکین ہے۔

مغیرہ ابن شعبہ

عرب کے مدبر اور صحابی۔ مغیرہ بن شعبہ بنو ثقیف کے چشم و چراغ تھے۔ 5 ھ میں طائف سے مدینہ آکر مشرف با اسلام ہوئے اور اس کے بعد یہیں کے ہو رہے۔ نبی اکرم کی خدمت کو شعار بنایا۔ وہ حصول علم اور اکتساب فیض کے لیے دن کا اکثر حصہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتے ۔

نیووے

نیووے (انگریزی: Niue)جنوب مغربی بحرالکاہل کا جزیروں پر مشتمل ایک ملک ہے۔ اس کا دار الحکومت الوفی ہے۔

چوتھی صدی ہجری

3 صدی ہجری - 4 صدی ہجری - 5 صدی ہجری

309 ہجری شہادت امام علی رضا علیہ اسلام۔

گیارہویں صدی ہجری

10 صدی ہجری - 11 صدی ہجری - 12 صدی ہجری

ہشام بن عاص

سانچہ:Cal coor

ہشام بن العاص عمرو ابن العاص کے بھائی ہیں،

وقت
وقت کی پیمائش اور معیارات
اہم مضامین
بین الاقوامی معیار
متروک معیارات
فزکس میں وقت
فن گھڑی سازی
کیلنڈر
آثار قدیمہ اور ارضیات
Astronomical chronology
وقت کی اکائیوں
متعلقہ موضوعات
کلیدی نظریات
پیمائش اور
پیمانے
گھنٹا
  • Chronology
  • تاریخ
  • مذہب
  • اساطیر
فلسفہ وقت
انسانی تجربہ
اور وقت کا استعمال
وقت
متعلقہ موضوعات

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.