شاہی سلسلہ

خاندان شاہی، شاہی سلسلہ، سلاطین کا سلسلہ یا عہد سلسلہ شاہی[1] (Dynasty) ایک ہی خاندان کے حکمرانوں کا ایک سلسلہ ہوتا ہے۔[2]

Semailname 47b
عثمانی شاہی خاندان کے سلطان سلیمان اعظم

حوالہ جات

  1. ادارۂ فروغِ قومی زبان آن لائن قومی انگریزی اُردو لغت
  2. Oxford English Dictionary, 1st ed. "dynasty, n." Oxford University Press (Oxford), 1897.
ابتدائی شاہی سلسلہ دور (مصر)

مصر کا ابتدائی شاہی سلسلہ دور (Early Dynastic Period) بالائی اور زیریں مصر کے 3100 قبل مسیح میں اتحاد کے بعد شروع ہوا۔

اخشید شاہی سلسلہ

خاندان اخشید (Ikhshidid dynasty) مصر پر 935ء سے 969ء تک حکومت کرنے والا شاہی خاندان تھا۔ محمد بن طغج الاخشید ایک ترک غلام فوجی تھا، جسے خلافت عباسیہ کی طرف سے گورنر (والی) مقرر کیا گیا تھا۔ اسی مناسبت سے اسے ولایت اخشید بھی کہا جاتا ہے۔ سلطنت فاطمیہ کے 969ء میں فسطاط کی فتح کے ساتھ ہی ولایت اخشید کا خاتمہ ہو گیا۔

بھیلسا پر علاء الدین خلجی کا حملہ

بھیلسا پر علاء الدین خلجی کا حملہ سنہ 1293ء میں ہوا تھا۔ اس وقت علاء الدین خلجی سلطان نہیں بلکہ جلال الدین خلجی کے ایک سالار اور کڑہ کے حاکم تھے۔ اس حملے میں انہوں نے شہر کے ہندو مندروں کو خاصا نقصان بھی پہنچایا اور خوب مال غنیمت لوٹ کر سلطان کی خدمت میں پیش کیا۔

ترینکومالی

ترینکومالی (انگریزی: Trincomalee) سری لنکا کا ایک رہائشی علاقہ جو ترینکومالی ضلع میں واقع ہے۔

تیموری شاہی سلسلہ

تیموری شاہی سلسلہ یا تیموری خاندان یا خاندان تیموری (انگریزی: Timurid dynasty; فارسی: تیموریان‎) ایک ترک مغل قبیلے کا سنی مسلم شاہی خاندان تھا جو امیر تیمور کی اولاد ہیں۔

تیموری مغل سلطنت کے بانی چنگیز خان کے خاندان سے تھے۔ تیموری خاندان نے فارسی ثقافت پر بہت اثر ڈالا اور دو اہم سلطنتیں قائم کیں۔ جن میں ایک تیموری سلطنت (1370-1507) ایران اور وسط ایشیا میں جبکہ دوسری مغلیہ سلطنت (1526-1857) برصغیر میں تھی۔

شندے خانوادہ شاہی

شندے یا سندھیا ہندو مرہٹوں کا ایک شاہی سلسلہ ہے جو ریاست گوالیار کا حکمران تھا۔ ریاست گوالیار اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں مرہٹہ وفاق کا حصہ جبکہ انیسویں اور بیسویں صدی میں برطانوی راج کی ایک نوابی ریاست تھی۔ سنہ سینتالیس میں ہندوستان کو برطانوی استعمار سے آزادی نصیب ہوئی تو شندے خاندان کے افراد نے ریاست کو حکومت ہند میں ضم کر لیا اور جمہوری سیاست کی راہ اپنائی۔

طولون شاہی سلسلہ

طولون شاہی سلسلہ (انگریزی: Tulunids) ایک ترک النسل شاہی سلسلہ تھا جنہوں نے مصر اور اس کے علاوہ بلاد الشام میں اسلامی حکومت قائم کی۔

علاء الدین خلجی کی فتح مالوہ

سنہ 1305ء میں سلطنت دہلی کے فرماں روا سلطان علاء الدین خلجی نے وسطی ہندوستان میں واقع مالوہ کی مملکت پرمار کو مفتوح کرنے کر لیے اپنا لشکر روانہ کیا۔ معرکہ کارزار میں سلطانی لشکر نے پرمار کے طاقت ور وزیر گوگا کو شکست دے کر قتل کر دیا اور پرمار راجا مہلک دیو کو مانڈو قلعہ میں پناہ لینی پڑی۔ فتح مالوہ کے بعد علاء الدین نے عین الملک ملتانی کو یہاں کا حاکم مقرر کیا۔ عین الملک نے یہاں رہ کر اپنی فوجی طاقت کو مزید مستحکم کیا اور کچھ عرصے بعد مانڈو کا محاصرہ کرکے مہلک دیو کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔

محاصرہ ورنگل (1310ء)

سنہ 1309ء کے اواخر میں سلطنت دہلی کے فرماں روا سلطان علاء الدین خلجی نے اپنے سالار ملک کافور کے زیر کمان ایک لشکر کاکتیوں کے دار الحکومت ورنگل روانہ کیا۔ ملک کافور کاکتی سرحد پر واقع ایک قلعہ کو فتح کرتے ہوئے جنوری 1310ء میں ورنگل پہنچے۔ ایک مہینے کے طویل محاصرے کے بعد کاکتی فرماں روا پرتاپ ردر نے مصالحت کا ڈول ڈالا اور بڑی رقم کی پیش کش کی۔ ساتھ ہی یہ وعدہ کیا کہ ہر سال وہ سلطان دہلی کے حضور خراج بھی پیش کریں گے۔

مصر کا اٹھائیسواں شاہی سلسلہ

مصر کا اٹھائیسواں شاہی سلسلہ یا صاوی خاندان، مصر کا ایک شاہی خاندان تھا۔ یہ خاندان مصر کا اٹھائیسواں خاندان تھا۔ اس خاندان نے صرف سات سال تک حکومت کی۔ اس کا نام اس کے پہلے بادشاہ صاوی کی وجہ سے پڑا ہے۔ اس خاندان میں یہی ایک بادشاہ امیر تیس ہوا، جو سات سال تک حکمران رہا۔ اس مدد میں اس نے مصر کے ان معبودوں کی مرمت کرائی جو ایرانیوں کے عہد میں خراب ہو گئے تھے۔ اس کے بعد نفرتیس حکمران ہوا۔

مصر کا بارہواں شاہی سلسلہ

مصر کا بارہواں شاہی سلسلہ (انگریزی: Twelfth Dynasty of Egypt) قدیم مصر کا ایک شاہی سلسلہ تھا۔

مصر کا پہلا شاہی سلسلہ

مصر کا پہلا شاہی سلسلہ ایک متحدہ مصر پر حکومت کرنے کے مصری بادشاہوں کے پہلے سلسلہ کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ بالائی اور زیریں مصر کی وحدت پر مشتمل تھا، جسے ممکنہ صور پر نارمر نے قائم کیا۔ جس کا اصل نام میناس تھا۔ اس نے بالائی اور زیریں مصر کے اختلافات ختم ہونے پر ان کو متحد کیا اور سرحدیں مٹا کر دونوں علاقوں پر حکومت قائم کی۔ اس نے چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو مٹا کر متحد کیا اور پرانی آبنائے پاٹ کر ایک زبردست بند کے ذریعے دریائے نیل کا رخ بدل دیا اور ایک نہر کھور کر اسے پہاڑوں میں قید کر دیا اور ساتھ میں ممفس شہر کی بنیاد رکھی۔

مصر کا چودہواں شاہی سلسلہ

سخاوی خاندان، مصر کا ایک شاہی خاندان تھا۔ یہ خاندان مصر کا چودھواں خاندان تھا۔ اس خاندان کی مددت حکومت 446 سال تک رہی ہے۔ اس خاندان کے بادشاہوں کی تعداد 76 بتائی جاتی ہے۔ ان کی کے بارے میں زیادہ کچھ معلومات نہیں ملتی۔ شہر سخا ان کا پایہ تخت تھا۔ اس شہر کے نام کی وجہ سے اس خاندان کو یہ نام ملا۔

پانڈئے مملکت پر ملک کافور کا حملہ

سنہ 1310ء میں سلطنت دہلی کے فرماں روا سلطان علاء الدین خلجی نے ہندوستان کے انتہائی جنوب کی سلطنتوں کو فتح کرنے کے لیے ملک کافور کی سرکردگی میں ایک لشکر روانہ کیا تھا۔ ہوئے سلوں کو زیر کرنے کے بعد ملک کافور سلطنت پانڈئے کی جانب بڑھے۔ مسلم وقائع نگاروں کے یہاں اس سلطنت کا نام مالابار درج ہے۔ دراصل ملک کافور نے دو پاندئے بھائیوں ویر اور سندر کے درمیان میں جاری حصول اقتدار کی جنگ کا فائدہ اٹھایا تھا۔ سنہ 1311ء کے مارچ اور اپریل میں ملک کافور پانڈئے سلطنت کے متعدد علاقوں پر حملہ آور ہوئے، ان میں سلطنت کا پایہ تخت مدورئی بھی شامل تھا۔ گوکہ اس لشکر کشی کے ذریعہ ملک کافور پانڈئے بادشاہ کو تخت دلی کا باج گزار نہ بنا سکے لیکن مال غنیمت کے طور پر زر و جواہر، گھوڑوں اور ہاتھیوں کا بڑا ذخیرہ لشکر سلطانی کے ہاتھ آیا۔

پانڈیہ شاہی سلسلہ

پانڈیہ سلطنت ایک تمل شاہی خاندان تھا جس نے جنوبی بھارت پر حکومت کی۔ ان کا نقطۂ آغاز مہابھارت کے دور سے بتایا گیا ہے۔ قدیم پانڈیاؤں میں ایک بادشاہ سرنگ دھوج گزرے تھے، جن کے بارے میں یہ دعوٰی کیا گیا کہ انہوں نے مہا بھارت کی جنگ میں حصہ لیا تھا۔ اس حکومت کے اہم مقامات جیسے کہ رشبھ پہاڑ، اگستتیہ اور ورون تیرتھ، کماری، تھمیراپرنی، گوکرنی وغیرہ کا تذکرہ مہابھارت میں موجود ہے۔ اس سلطنت کی علامت مچھلی یا مچھلیوں کا ایک جوڑا ہے۔

چول سلطنت

چول سلطنت (Chola Empire) تامل خاندان کی جنوبی بھارت میں سب سے طویل سب سے طویل مدتی حکومت تھی۔

ہاشمی شاہی سلسلہ

ہاشمی شاہی سلسلہ (انگریزی: Hashemites) (عربی: الهاشميون) یا خاندان ہاشم (انگریزی: House of Hashim) اردن کا شاہی سلسلہ ہے۔ یہ خاندان مملکت سوریہ (1920ء)، مملکت حجاز (1916ء–1925ء) اور مملکت عراق (1921ء–1958ء) کا بھی شاہی خاندان تھا۔

ہولکر

ہولکر شاہی سلسلہ ہندوستان سے تعلق رکھنے والا ہندو مرہٹوں کا ایک شاہی خانوادہ تھا۔ ہولکروں نے وسطی ہندوستان کی ریاست اندور پر سنہ 1818ء تک مرہٹہ راجا اور پھر مہاراجا کے خطاب کے ساتھ مرہٹہ سلطنت کے خود مختار رکن کی حیثیت سے حکمرانی کی۔ بعد ازاں ان کی مملکت برطانوی ہند کی زیر نگین ایک نوابی ریاست بن گئی۔

اس شاہی سلسلے کے بانی ملہار راؤ ہولکر تھے جو سنہ 1721ء میں مرہٹہ سلطنت کے پیشواؤں کی خدمت میں پہنچے اور جلد ہی صوبہ دار کے منصب پر فائز ہو گئے۔ اس شاہی سلسلے کا نام اس کے بانی کے نام پر رکھا گیا، اس کے حکمرانوں کو عموماً ہولکر مہاراجا کہا جاتا تھا۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.