سولہویں صدی

<<<پندرہویں صدی <<< سولہویں صدی >>> سترہویں صدی>>>

140 141ء 142ء 143ء 144ء 145ء 146ء 147ء 148ء 149ء 150ء
1500 1501ء 1502ء 1503ء 1504ء 1505ء 1506ء 1507ء 1508ء 1509ء 1510ء
1510 1511ء 1512ء 1513ء 1514ء 1515ء 1516ء 1517ء 1518ء 1519ء 1520ء
1520 1521ء 1522ء 1523ء 1524ء 1525ء 1526ء 1527ء 1528ء 1529ء 1530ء
1530 1531ء 1532ء 1533ء 1534ء 1535ء 1536ء 1537ء 1538ء 1539ء 1540ء
1540 1541ء 1542ء 1543ء 1544ء 1545ء 1546ء 1547ء 1548ء 1549ء 1550ء
1550 1551ء 1552ء 1553ء 1554ء 1555ء 1556ء 1557ء 1558ء 1559ء 1560ء
1560 1561ء 1562ء 1563ء 1564ء 1565ء 1566ء 1567ء 1568ء 1569ء 1570ء
1570 1571ء 1572ء 1573ء 1574ء 1575ء 1576ء 1577ء 1578ء 1579ء 1580ء
1580 1581ء 1582ء 1583ء 1584ء 1585ء 1586ء 1587ء 1588ء 1589ء 1590ء
1590 1591ء 1592ء 1593ء 1594ء 1595ء 1596ء 1597ء 1598ء 1599ء 1600ء
1600 1601ء 1602ء 1603ء 1604ء 1605ء 1606ء 1607ء 1608ء 1609ء 1610ء
افریقیہ

افریقیہ (Ifriqiya یا Ifriqiyah)

(عربی: إفريقية) قرون وسطی کی تاریخ کے دوران اس علاقے کا نام تھا جو موجودہ دور میں تونس، طرابلس (مغربی لیبیا) اور قسنطینہ (مشرقی الجزائر) پر مشتمل تھا۔ ماضی میں یہ تمام علاقہ جات رومی سلطنت کے صوبہ افریقہ میں شامل تھے۔

ایلزبتھ اول

ایلزبتھ اول (انگریزی | Elizabeth) انگلستان کی ملکہ جو ہنری ہشتم کی بیٹی اور مغل بادشاہ جلال الدین اکبر (اکبر اعظم) اور عباس اعظم کی ہمعصر تھی۔ ملکہ این بولین کے بطن سے پیدا ہوئی۔ اس کاعہد برطانیہ میں نشاۃ ثانیہ کا عہد ہے۔ برطانیہ کو اس کی فراست و تدبر سے عروج ہوا۔ ادب اور فنون کو ترقی ہوئی جس کا نقطہ عروج شیکسپیئر کی ذات ہے۔ برطانوی جہاز رانی کو فقید المثال کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ ہسپانوی بیڑے کو تباہ کیا گیا۔ ہندوستان اور دیگر مشرقی ممالک میں تجارتی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ ان وجوہ کی بنا پر اس کے عہد کو(عہد زریں ) کہا جاتا ہے۔ انکا انتقال 1603ء میں ہوا۔

بربری ساحل

بربری ساحل (Barbary Coast) بربر ساحل (Berber Coast) سولہویں صدی سے انیسویں صدی تک بربر قوم کی اجتماعی سر زمین کے لیے یورپیوں کی طرف سے استعمال کی جانے والی ایک اصطلاح تھی۔ موجودہ دور میں اس کے لیے اصطلاح عظیم مغرب (Greater Maghreb) یا صرف المغرب (Maghreb) استعمال کی جاتی ہے جو لگ بگ بربری ساحل کے مترادف ہے۔

حلیمہ سلطان

حلیمہ سلطان (عثمانی ترکی زبان: حلیمہ سلطان) عثمانی سلطان محمد ثالث کی بیوی اور والدہ سلطان بطور مصطفی اول کی ماں تھی۔

خرم سلطان

خرم سلطان (ترکی تلفظ: [hyɾˈɾem suɫˈta:n]، عثمانی ترکی زبان: خرم سلطان) جس کا شادی سے قبل نام روکسیلانہ (Roxelana) تھا سلیمان اعظم کی بیوی اور ملکہ اور شہزادہ محمد، مہر ماہ سلطان، شہزادہ عبد اللہ، سلیم دوم، شہزادہ بایزید اور شہزادہ جہانگیر کی والدہ تھی۔ .

وہ سلطنت عثمانیہ کی تاریخ میں سب سے طاقتور خواتین میں سے ایک تھی اور سلطنت خواتین کے طور پر جانے جانے والے دور کی ایک ممتاز شخصیت تھی۔ اس نے اپنے شوہر کے ذریعے سلطنت عثمانیہ میں اقتدار کی طاقت حاصل کی اور سیاست میں متاثر کن کردار نبھایا۔

خنداں سلطان

خنداں سلطان (Handan Sultan) عثمانی سلطان محمد ثالث کی بیوی اور والدہ سلطان بطور احمد اول کی ماں تھی۔

صفیہ سلطان

صفیہ سلطان (Safiye Sultan)

(عثمانی ترکی زبان: صفیه سلطان) عثمانی سلطان مراد ثالث کی منظور نظر ملکہ اور والدہ سلطان بطور محمد ثالث کی ماں تھی۔

عائشہ حفصہ سلطان

عائشہ حفصہ سلطان (1479 - 1534) سلطان سلیم اول کی زوجہ تھیں اور سلطان سلیمان القانونی کی والدہ تھیں۔ عائشہ حفصہ سلطان کا تعلق خانان کریمیا کے شاہی خاندان سے تھا۔ اِن کے والدمنکلی کرائی 1468ء سے 1475ء تک اور 1478ء سے 1515ء تک خانِ کریمیا تھے۔ سلطنت عثمانیہ کے حکمران سلطان کی ملکہ ماں کا خطاب یعنی والدہ سلطان سب سے پہلے عائشہ حفصہ سلطان کو سولہویں صدی عیسوی میں دیا گیا تھا۔

عثمانی طرز تعمیر

عثمانی معماری یا عثمانی طرز تعمیر (Ottoman architecture) سلطنت عثمانیہ کا فن تعمیر ہے جو چودہویں صدی اور پندرہویں صدی میں بورصہ اور ادرنہ میں سامنے آیا۔ سلطنت کے فن تعمیر کی بنیاد سلجوقی فن تعمیر ہے جس پر بعد ازاں بازنطینی اور ایرانی اثرات بھی نمایاں ہیں۔

قاضی قاضن

قاضی قاضن، (پیدائش:1463ء - وفات: 1551ء) سندھ کے مشہور صوفی شاعر، عالمِ دین، والیٔ سندھ شاہ بیگ ارغون کے مشیر خاص، بکھر کے قاضی کے عہدہ پر فائز تھے۔

لوتھریت

لوتھریت (Lutheranism) مغربی مسیحیت کی ایک اہم شاخ ہے جو مارٹن لوتھر کی الہیات کے ساتھ وابستہ ہے۔ مارٹن لوتھر کی رومن کاتھولک کلیسیا کے الہیات اور اعمال کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں پروٹسٹنٹ اصلاحِ کلیسیا وجود میں آیا۔

مارٹن لوتھر

مارٹن لوتھر (10 نومبر 1483 – 18 فروری 1546) جرمن راہب، پادری اور الٰہیات دان تھا۔

سولہویں صدی میں پاپائیت کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں میں جس شخص نے انقلابی روح پھونکی، وہ مارٹن لوتھر تھے۔

مارٹن لوتھر کا نظریہ شیطان اپنے عہد کی پیداوار ہے۔ اس نے ہر جگہ پر شیطان کو دیکھا اور متواتر اس کے ساتھ نبرد آزما رہا اور خدا پر ایمان کے ساتھ اسے شکست دی۔ اس نے پوپ کو مجسم شیطان یا مخالف مسیح (دجال)، جبکہ کاتھولک کلیسیا کو شیطان کی بادشاہت قرار دیا۔

مغلیہ طرز تعمیر

مغلیہ طرز تعمیر سے مراد وہ طرز تعمی رہے جسے مغلوں نے سولہویں، سترہویں اور اٹھارویں صدی میں اپنے زیر اقتدار علاقوں خاص کر برصغیر پاک و ہند میں تعمیر کرایا۔ مغلیہ فن تعمیر بنیادی طور پر اسلامی فن تعمیر، ایرانی، ترکی، بازنطینی اور ہندوستانی فن تعمیر کا امتزاج ہے۔ مغلیہ فن تعمیر کی مثالیں اس وقت ہندوستان، پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش میں دیکھی جا سکتی ہے۔

میری اول ملکہ انگلستان

میری اول (Mary I) جولائی 1553ء سے 17 نومبر 1558ء اپنی موت تک انگلستان اور آئرلینڈ کی ملکہ تھی۔ پروٹسٹنٹ طبقہ پر خلاف شدید مظالم کے لیے اسے بعد از مرگ بلڈی میری (خونی میری) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

نور بانو سلطان

نور بانو سلطان (Nurbanu Sultan)

(عثمانی ترکی زبان: نور بانو سلطان) عثمانی سلطان سلیم دوم کی بیوی اور والدہ سلطان بطور مراد سوم کی ماں تھی۔

ٹریسا آبیلی

مقدسہ ٹریسا آبیلی (آبیلا کی ٹریسا) کو مقدسہ ٹریسا یسوعی بھی کہا جاتا ہے۔ وہ ممتاز ہسپانوی صوفی، کارملی راہبہ اور اصلاح کیتھولک کے دوران میں ایک مصنفہ اور دماغی دعا کی بدولت فکری زندگی کی الٰہیات دان تھیں۔

پروٹسٹنٹ مسیحیت

پروٹسٹنٹ کلیسیا یا پروٹسٹنٹ مسیحیت (Protestantism) مسیحیت کا ایک بڑا فرقہ ہے۔ یہ مسیحیت کا ترقی پزیر فرقہ ہے۔ پروٹسٹنٹ کلیسیا ان مسیحی گروہان کا اتحاد ہے جو زمانہ اصلاحِ کلیسیا میں رومی کاتھولک کلیسیا کے خلاف کھڑے ہوئے۔

پندرہویں صدی

<<<چودہویں صدی <<< پندرہویں صدی >>> سولہویں صدی>>>

گل بہار خاتون

گل بہار خاتون (Gülbahar Hatun)

(عثمانی ترکی زبان: گل بهار خاتون) جسے عائشہ خاتون (A'ishā (Ayşe) Khātun) بھی کہا جاتا ہے، عثمانی سلطان بایزید دوم کی بیوی اور والدہ سلطان بطور سلیم اول کی ماں تھی۔

قرون وسطیٰ کے اطباء و حکماء
نظریہ و شعبہ
تصنیفات
مراکز حکمت
ماخوذات و نظریات
اثرات
ریاضی دان
تحریریں
نظریات
مراکز
اثرات
متاثر

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.