سماج

Community

گروہ؛ مشترکہ ہونے کی حالت؛ سماج؛ مشترکہ ملکیت، خوشی، ذمہ داری وغیرہ؛ مشترکہ کردار؛ معاہدہ؛ شناخت، سماجی میل جول؛ عمرانی رابطہ؛ میل جول؛ جماعت؛ دوسروں کے ساتھ مشترک زندگی؛ عمرانی حالت؛ ایک ہی جگہ رہنے یا ایک ہی قسم کے قوانین و احکام کے تحت ہونے کے باعث لوگوں کی جماعت سازی؛ ایسے لوگوں کی تعداد جن کے مفاد مشترک ہوں؛ رشتوں اور روابط کے ذریعہ باہم منسلک اور ایک ہی علاقے کے باشندے؛ اس لیے کوئی بھی ایسی جماعت یا گروہ جس کے اراکین ساتھ رہتے ہوں، خصوصاً خانقاہ کے راہب یا پادری؛ اشتمالی معاشرہ، ایک جگہ رہنے والے لوگوں کی جماعت؛ پبلک یا عوام؛ آبادی؛ محلہ؛ برادری؛ قوم؛ فرقہ؛ ملت؛ جمعیت؛ سماج؛ جمہور؛ پنچایت؛ شراکت؛ اتحاد؛ طبقہ؛ بستی۔[1]

حوالہ جات

  1. آن لائن قومی انگریزی اُردو لُغت،ادارۂ فروغِ قومی زبان اسلام آباد پاکستان
آریہ سماج

ہندو مذہب کا ایک فرقہ، جس کی بنیاد سوامی دیانند نے 1875ء میں رکھی۔ اس کے پیروکار عام ہندوؤں کی طرح بت پرستی کے قائل نہیں۔ اس فرقے نے ہندوؤں میں بہت سی مذہبی اور سماجی اصلاحات کیں۔ نکاح بیوگان کا حامی اور کم سنی کی شادیوں کا مخالف ہے۔

آل انڈیا مسلم لیگ

کُل ہند مسلم لیگ (آل انڈیا مسلم لیگ) برطانوی انڈیا میں ایک سیاسی جماعت تھی اور برصغیر میں مسلم ریاست کی تشکیل میں سب سے زیادہ کارفرما قوت تھی۔ انڈیا کی تقسیم کے بعد بھی آل انڈیا مسلم لیگ انڈیا میں ایک اہم جماعت کے طور پر قائم رہی۔ خصوصاً کیرلا میں دوسری پارٹیوں کے ساتھ شامل ہو کر حکومت سازی کی۔ پاکستان کی تشکیل کے بعد مسلم لیگ اکثر موقعوں پر حکومت میں شامل رہی۔

اگھور ناتھ گپتا

اگھور ناتھ گپتا (بنگالی: অঘোরনাথ গুপ্ত) ‏(1841ء – 1881ء) بدھ مت کے عالم اور برہمو سماج کے اولین مبلغوں میں سے ایک تھے۔ اگھور ناتھ کی قبل از وقت موت کے بعد انہیں ان کی پاک باز مذہبی زندگی کے اعزاز میں سادھو کے خطاب سے نوازا گیا۔ سیواناتھ شاستری ان کے متعلق یوں رقمطراز ہیں: "ان کی بے لوث عاجزی، گہری روحانیت اور والہانہ وابستگی برہمو سماج کے اراکین کے لیے ایک نئے انکشاف کی مانند تھے۔"

برہمو سماج

برہمو سماج (بنگالی: ব্রাহ্ম সমা، برہمو شوماج) ایک ہندو اصلاحی تحریک ہے۔ اس تحریک یا فرقہ کے بانی رام موہن رائے 1774ء میں بمقام بردوان ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے چھوٹی عمر میں عربی اور فارسی پڑھ لی سنسکرت بنارس میں پڑھی۔ پندرہ برس کی عمر میں انہوں نے بت پرستی کے خلاف بنگالی زبان میں پمفلٹ شائع کرنے شروع کر دیے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ بت پرستی ویدوں میں نہیں ہوتی۔ توحید کے پرچار کی وجہ سے رام موہن رائے کو اپنے والد اور گھر سے الگ ہونا پڑا۔ اس کے بعد انہوں نے انگریزی، فرانسیسی، لاطینی، یونانی اور عبرانی زبانیں پڑھیں تمام مذاہب کی مقدس کتب کا غور کیا۔ ان کا ذریعہ معاش سرکاری ملازمت تھی 39 سال کی عمر میں ملازمت سے سبکدوش ہو گئے اور کلکتہ میں سکونت اختیار کر لی۔ اور اپنے مذہبی خیالات کی اشاعت شروع کر دی۔ انہوں نے مذہبی کتب کا سنسکرت انگریزی اور بنگالی میں ترجمہ کیا۔

رام موہن کو 1831ء میں دہلی کے مغل شہنشاہ نے اپنے مالی حقوق کی وکالت کے لیے انگلستان بھیجا۔ 1833ء تک وہیں مقیم رہے۔ 1833ء میں برسٹل چلے گئے اور اسی سال وہاں ماہِ ستمبر میں بخار کے مرض میں انتقال کر گئے۔ ان کی قبر نوزدیل قبرستان میں موجود ہے۔رام موہن رائے نے پہلی بار فارسی میں ایک کتاب پر لکھی اور اس کا دیباچہ عربی زبان میں تھا۔

1820ء میں موہن رائے نے اپنی کتاب ”یسوع کے احکام“ بنگالی زبان میں شائع کی جس میں یسوع مسیح کی الوہیت کا انکار کیا تو سپرامپور کے مشنریوں نے تابڑ توڑ حملے شروع کر دیے اور بحث و مباحث کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ 1827ء میں رام موہن رائے نے برہمو سماج کی بناد ڈالی۔

بہرائچ (لوک سبھا انتخابی حلقہ)

بہرائچ لوک سبھا حلقہ بھارت.کی ریاست اترپردیش کے 80 لوک سبھا (پارلیمانی) حلقوں میں سے ایک ہے۔یہ ضلع بہرائچ میں واقع دولوک سبھا حلقوں میں سے ایک ۃٰں۔

بہوجن سماج پارٹی

بہوجن سماج پارٹی بھارت کے بہوجن یا دیگر پسماندہ طبقات کی نمائندگی کا دعوٰی کرنے والی سیاسی جماعت کا نام ہے۔ اس کے بانی کانشی رام تھے۔ اس تحریک کو مایاوتی آگے لے گئیں۔ وہ دو مرتبہ اتر پردیش کی وزیر اعلٰی بھی رہ چکیں ہیں۔

بی اے

بی اے ایک تعلیمی ڈگری ہے۔ یہ بیچلر آف آرٹس (انگریزی: Bachelor of Arts) کا مخفف ہے۔ یہ ڈگری دیگر کئی تعلیمی ڈگریوں کی طرح اسکولی پڑھائی، انٹرمیڈیٹ یا 10+2 کے بعد دو یا تین سال کی میعاد کے لیے ہوتی ہے۔ جسا کہ اس ڈگری کی تسمیہ میں مضمر ہے، یہ فنون کی سند ہوا کرتی ہے۔ اس میں عمومًا انسانی سماج، فطرت اور سماج کا بغور مطالعہ کیا جاتا ہے۔ ایک ہی تعلیمی ڈگری میں کئی موضوعات شامل ہو سکتے ہیں۔ بی اے کی سند میں جو موضوعات ہوتے ہیں ان میں زبانوں اور ان کے ادب کا مطالعہ بہت مشہور ہے۔ مثلًا، انگریزی ادب، اردو ادب اور عربی ادب۔ ادب سے متصل زبانوں کے ارتقا اور ان کی تواریخ کا مطالعہ بھی لگا ہوتا ہے۔ مثلًا انگریزی زبان کے ساتھ قدیم انگریزی، وسطانوی انگریزی اور جدید انگریزی امکانی مطالعاتی موضوع ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح سے تاریخ کا طالب علم تاریخ یا تاریخ پاکستان ہی کی تعلیم نہیں بلکہ تاریخ یورپ اور تاریخ دنیا کا بھی مطالعہ کرتا ہے۔ یہ موضوعات کئی ذیلی شاخوں اور مضمونوں میں منقسم ہو سکتے ہیں۔ نفسیات کا طالب علم بچوں کی نفسیات، بالغوں کی نفسیات، سماجی نفسیات اور کئی ذیلی شاخوں مثلًا صنعتی نفسیات، تعلیمی نفسیات وغیرہ کا بھی مطالعہ کر سکتا ہے۔ جہاں بی کی سطح پر کئی مختلف النوع موضوعات اور ذیلی موضوعات کا مطالعہ ایک ساتھ ہوتا ہے، وہیں ایم اے کی سطح پر یہ مطالعہ ایک مرکوز جہت پر ہوتا ہے۔ مثلًا، بھارت میں بی اے کی سند کے لیے پڑھنے والا ایک طالب علم ممکن ہے کہ تاریخ ہند، تاریخ عالم اور علم شہریت کا مطالعہ کرے۔ جب یہی طالب علم ایم اے کرے گا تو وہ تین شعبوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے گا اور اس کا گہرائی سے مطالعہ کرے گا۔

خواندگی

خواندگی کو روایتی طور پر پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ خواندگی بارے پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت کا نظریہ نصابی میدان میں روایتی طور پر رائج ہے۔اقوام متحدہ کا ادارہ برائے تعلیم، سائنس و تہذیب یا یونیسکو کے مطابق خواندگی سے مراد کسی بھی تحریری یا زبانی مواد کو پہچاننے، سمجھنے، تشریح کرنے، تخلیق، رابطہ کاری اور شمار کرنے کی صلاحیت ہے۔ خواندگی کا تعلق کسی بھی فرد کا مسلسل سیکھنے کے عمل سے بھی ہے، جس کی مدد سے نہ صرف وہ انفرادی اہداف کا حصول ممکن بناتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ علم اور استعداد میں اضافے اور وسیع تر سماج کی تشکیل میں بہتر و مثبت عمل دخل کا باعث بنتا ہے۔

دیویندر ناتھ ٹیگور

دیویندر ناتھ ٹیگور (بنگالی: দেবেন্দ্রনাথ ঠাকুর، دیویندر ناتھ ٹھاکر) ‏ (15 مئی 1817ء – 19 جنوری 1905ء) ایک ہندو فلسفی، سماجی مصلح اور برہمو سماج کے متحرک رکن تھے، برہمو سماج کا مقصد ہندو مذہب اور طرز زندگی کی اصلاح تھا۔ سنہ 1848ء میں انہوں نے اپنے ہم خیال ساتھیوں کے ساتھ مل کر برہمو مذہب کی بنیاد رکھی جو اب برہمویت کا مترادف ہے۔

دیویندر ناتھ شیلائی دہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد دوارکاناتھ ٹیگور ایک صنعت کار تھے۔ دیویندر ناتھ انتہائی مذہبی شخص تھے۔ راجا رام موہن رائے کی وفات کے دس برس بعد سنہ 1843ء میں تتو بودھنی سبھا اور برہمو سبھا کے انضمام سے ان کی تحریک برہمو سماج وجود میں آئی۔ ان کے دور میں برہمو سماج اپنے اصلی مقاصد سے جو برہمو سبھا کے ٹرسٹ ڈیڈ میں درج تھے دور ہو گیا تھا تاہم دیویندر ناتھ کی کوشش تھی کہ وہ اس ٹرسٹ ڈیڈ کی اہمیت دوبارہ پیدا کریں۔

گرچہ دیویندر ناتھ روحانیت پسند تھے لیکن اپنے دنیوی امور بھی بخوبی انجام دیتے۔ انہوں نے بنگال کے متعدد شہروں میں موجود اپنی وسیع و عریض جائدادوں کو ترک نہیں کیا بلکہ ان سے یک گونہ علاحدہ رہ کر فائدہ اٹھاتے رہے۔ دیویندر ناتھ اپنشدوں کے عالم تھے۔ انہوں نے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور سب کو اعلی تعلیم سے آراستہ کیا۔

سنہ 1843ء میں دیویندر ناتھ برہمو سبھا کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے اور انہوں نے اس کا نام بدل کر برہمو سماج کر دیا۔ وہ برہمویت کا مقصد تبدیل کرکے اسے الہیاتی اور سماجی تجدید کے لیے بطور آلہ استعمال کرنا چاہتے تھے۔ برہمو تحریک کے اصل بانی راجا رام موہن رائے اتحادیت اور عالمیت کے داعی تھے، اس کے برعکس دیویندر ناتھ ویدانتی ہندو مت کی الہیاتی و ثقافتی برتری کے حامی تھے۔ اس تبدیلی کی وجہ مسیحی تبلیغ بھی تھی جو اس دور میں زور و شور سے جاری تھی۔

رام موہن رائے

بانی برہمو سماج۔ بنگال میں پیدا ہوئے۔ بنگالی اور سنسکرت کے علاوہ عربی، فارسی اور انگریزی کے بھی بڑے فاضل تھے۔ اسلام اور مسیحی مذہب کی تعلیمات نے ان پر بڑا اثر کیا اور انہوں نے ہندو سماج کے سدھار کا کام شروع کیا۔ 1830ء میں برہمو سماج کی بنیاد ڈالی۔ مورتی پوجا کی مخالفت کی اور خدا کی وحدانیت کی تعلیم دی۔ ستی کی خوفناک رسم ختم کرنے میں بھی بڑا کام کیا۔ اس کے علاوہ عورتوں کے حقوق اور اپنی قوم کی تعلیم و تربیت پر زور دیا۔ 1831ء میں انگلستان گئے اور وہاں برسٹل کے مقام پر وفات پائی۔

روباب سعیدہ

روباب سعیدہ کی پیدائش 15 جون 1950 میں بھارت کے صوبہ اتر پردیش کے ضلع میرٹھ میں ہوئی۔ 2004 سے 2009 تک صوبہ اترپردیش کے بہرائچ (لوک سبھا حلقہ) کی رکن لوک سبھا رہیں۔

سماجوادی پارٹی

سماجوادی پارٹی (ایس پی اشتراکی جماعت، 4 اکتوبر 1992ء میں قائم شدہ) بھارت میں ایک سیاسی جماعت ہے، جس کا صدر دفتر نئی دہلی میں ہے۔ اتر پردیش میں قائم یہ ریاستی جماعت خود کو جمہوری اشتراکی بتاتی ہے۔

سودیشی تحریک

تقسیم بنگال کو منسوخ کرانے کے لیے انتہا پسند ہندوؤں نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے 7 اگست 1905ء کو سودیشی تحریک کا آغاز کیا۔

شدھی تحریک

شدھی تحریک(purity, cleanness ) ہندو بنانے اور ہندو مذہب میں داخل کرنے کی تحریک۔ اسے گھر واپسی تحریک بھی کہتے ہیں۔

وارث علی

وارث علی بھارت کی ریاست اترپردیش کی پندرہویں اسمبلی میں ممبر اسمبلی رہے۔ مئی 2007ءسے مارچ2012ء تک پہلی مرتبہ اترپردیش اسمبلی انتخابات میں انہوں نے اترپردیش کے بہرائچ ضلع کے نانپارہ اسمبلی حلقہ سےبہوجن سماج پارٹی کی جانب سے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور کامیاب ہوئےتھے۔

کل ہند کسان سبھا

کل ہند کسان سبھا یا اے آئی کے ایس (انگریزی: All India Kisan Sabha) اشتمالی جماعتِ ہند کا کاشتکارانہ محاذ ہے۔

گرامین بینک

گرامین بینک ایک بنگلہ دیشی بینک ہے جسے معروف بینکار محمد یونس نے شروع کیا اسنے بنگلہ دیش میں کم قیمت کے قرضے غریب لوگوں کو جاری کیے جس سے خصواصا عورتوں کی معاشی حالات میں بہتری دیکھی گئی اس کام پر اسے نوبل امن انعام دیا گیا۔

یاسر شاہ (سیاست دان)

یاسر شاہ کی پیدائش جون1977ء میں بھارت کے صوبہ اتر پردیش کے مشہور شہر بہرائچ کے محلہ قاضی پورہ میں شہر کے ایک معروف خاندان میں ہوئی۔ آپ کے والد کا نام ڈاکٹر وقار احمد شاہ اور والدہ کا نا م محترمہ روباب سعیدہ(سابق ممبر لوک سبھا) ہیں۔

یاسر شاہ ایک بھارتی سیاست دان اور اترپردیش کی 16th اور 17thقانون ساز اسمبلی کے ارکان اسمبلی ہیں۔ آپ میں اتر پردیش کے ضلع بہرائچکے قانون ساز اسمبلی حلقہ مٹیرہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ آپ سماج وادی پارٹی سے رکن ممبر اسمبلی ہے ۔

ینگ بنگال

ینگ بنگال (یا نوجوانان بنگال) تحریک بنگالی نژاد آزاد خیال انقلابی فکر کے حامل افراد کا ایک گروپ تھا جو ہندو کالج، کلکتہ سے ظاہر ہوا۔ انہیں "دیروزی" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ہندو کالج میں ان کے آتش نوا استاد کا نام ہنری لوئی ویوین دیروزیو تھا۔ نوجوانان بنگال ہندو سماج کے موجودہ سماجی و مذہبی ڈھانچے سے سخت بیزار اور آزاد خیالی کی روح سے سرشار تھے۔ آتش جوانی کم ہونے کے بعد ان کی ایک بڑی تعداد نے برہمو سماج تحریک کا رخ کیا۔ینگ بنگال تحریک میں ظاہری طور پر کچھ مسیحی بھی شامل تھے جن میں جنرل اسمبلی کے ادارے کے بانی معظم الیگزینڈر ڈف (1806ء – 1878ء) اور ان کے شاگرد لال بہاری دے (1824ء – 1892ء) جنہوں نے ہندو مت چھوڑ دیا تھا قابل ذکر ہیں۔ اس تحریک کے وارثین میں برجندر ناتھ سیل (1864ء – 1938ء) معروف ہیں جن کا برہمو سماج کے سربر آوردہ مفکرین اور ماہرین الہیات میں شمار ہوتا تھا۔

ینگ بنگال کلاسیکی معاشیات کے پیروکار اور آزاد تجارت کے داعی تھے۔ اس میدان میں ان کے محرک جیریمی بینتھم، آدم اسمتھ اور ڈیوڈ ریکارڈو تھے۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.