سلیمان (بادشاہ)

سلیمان (/ˈsɒləmən/؛ عبرانی: שְׁלֹמֹה، جدید Shlomo ، طبری Šəlōmō Šlomo؛ سریانی: ܫܠܝܡܘܢ Shlemun؛ عربی: سُليمان Sulaymān، Silimān یا Slemān؛ یونانی: Σολομών Solomōn؛ لاطینی: Salomon) جدیدہ( بھی کہلاتے ہیں، عبرانی:יְדִידְיָהּ) بائبل، کتاب سلاطین اول 1-11، (کتاب تواریخ اول 28-29، تواریخ 1-9)، قرآن، حدیث اور قرآن میں مختلف اشاروں[3] کے مطابق سلیمان بے تحاشہ امیر اور عقلمند اسرائیل کا بادشاہ تھا۔ اور داؤُد (سابقہ بادشاہ اسرائیل) کا بیٹا تھا۔[4] سلیمان کا بادشاہت کا دور مختلف روایات کے مطابق 970 ق۔ م سے 931 ق۔ م تھا۔

سلیمان
اسرائیل کا بادشاہ
Das salomonische Urteil Italien 18Jh
سلیمان فیصلہ سناتے ہوئے۔کتاب سلاطین اول باب سوم آیت 16-28 کا واقعہ تصویری شکل میں(اٹھارویں صدی کی تصویر)
پیشرو داؤُد
جانشین رحبعام
شریک حیات نعمہ، فرعون کی بیٹی
شاہی خاندان کی 700 بیویاں اور 300 حرمیں[1][2]
نسل رحبعام
خاندان داؤد ہاؤس
والد داؤُد
والدہ بت سُوع
پیدائش 1010 ق۔م
یروشلم
وفات 931 ق۔م
یروشلم

بائبل داستان

بچپن

کتاب تواریخ اول باب سوم آیت 5 کے مطابق سلیمان یروشلم میں پیدا ہوا تھا اور سلیمان کی اکلوتی سوتیلی بہن بھی تھی جس کا نام تمر تھا:

(5) اور یہ یروشلیِم میں اُس سے پَیدا ہُوئے ۔ سِمعا اور سُوباب اور ناتن اور سُلیمان ۔ یہ چاروں عمّی ایل کی بیٹی بت سُوع کے بطن سے تھے۔[5]

اس کے علاوہ کتاب تواریخ باب سوم آیت 1-4 کے مطابق سلیمان کے کیے سوتیلے بھائی اور سوتیلی ماں تھیں:

(١) یہ داؤد کے بیٹے ہیں جو حِبرون میں اُس سے پَیدا ہُوئے ۔پہلوٹھا امنون یزرعیلی اخِینُو عم کے بطن سے۔دُوسرا دانی ایل کرمِلی ابِیجیل کے بطن سے۔ (٢) تِیسرا ابی سلوم جو جسُور کے بادشاہ تلمی کی بیٹی معکہ کا بَیٹا تھا ۔ چَوتھا ادُونیاہ جو حجِیّت کا بَیٹا تھا۔(٣) پانچواں سفطیاہ ابی طال کے بطن سے ۔ چھٹا اِترعام اُس کی بِیوی عِجلہ سے۔(٤) یہ چھ حبرُو ن میں اُس سے پَیدا ہُوئے ۔ اُس نے وہاں سات برس چھ مہینے سلطنت کی اور یروشلیِم میں اُس نے تینتیس برس سلطنت کی۔[6]

جانشینی اور نظام

Cornelis de Vos - The Anointing of Solomon
سلیمان کے سر کا مسح یا مالش۔(1630ء کی تصویر) کتاب سلاطین باب اول آیت 39 کے مطابق سلیمان کے سر کا مسح صدوق کاہن نے کیا تھا

کتاب سلاطین اول آیت 1 کے مطابق:

(1) اور داؤد بادشاہ بُڈھا اور کہن سال ہوا اور وہ اسے کپڑے اڑھاتے پر وہ گرم نہ ہوتا تھا۔[7]

یعنی داؤد اتنا بڈھا ہو گیا تھا کہ وہ بادشاہت کرنے قابل نہیں رہا۔ تو اس نے کہا” میرے لیے ایک جوان لڑکی لائی جائے جو مجھے گرمی پہنچائے“[8] تو اس دوران میں اودنیاہ نے اپنے آپ کو خود ہی نیا بادشاہ قرار دے دیا۔ مگر بت سُوع اور ناتہن نبی نے داؤُد کو اس بات پر آمادہ کرکے سلیمان کو بادشاہ بنوایا۔ سلیمان اپنے دوسرے بھائیوں سے کم عمر ہونے کے باوجود بادشاہ بنا کیونکہ وہ بے تحاشہ عقلمند تھا۔ اس طرح سلیمان کے پاس اسرائیل کی سلطنت آگئی تھی۔

حکمت و دانائی

Luca Giordano - Dream of Solomon - WGA09004
خداوند کا سلیمان کو بذریعہ خواب(بشارت)؛ حکمت و دانائی کا وعدہ

سلیمان بائبل میں اپنی عقلمندی کی وجہ سے بہت مشہور بتائے گئے ہیں۔ کتاب سلاطین اول کے مطابق: ایک مرتبہ سلیمان نے خداوند سے دعا کی کہ خداوند اسے حکمت و دانائی عطا کرے تو جب سلیمان سویا تو خداوند نے اسے خود بشارت دی اور دانائی عطا کرنے کا وعدہ کیا۔۔ خداوند اُس سے اس لیے خوش ہوئے کیونکہ انہوں نے نہ اپنی لمبی عمر کی دعا مانگی نہ ہی اپنے دشمنوں کے خاتمے کی بلکہ اپنی قوم کی خدمت کرنے کے لیے حکمت و دانائی مانگی۔

Plaque Castelli Salomon Musée de Lille 130108
سلیمان کے فیصلے، فن کوزہ گری پر رنگ آمیزی، اٹھارویں صدی، فنونِ للی میوزیم

کتاب سلاطین اول باب سوم آیت 16-28 میں ایک بہت مشہور سلیمان کی حکمت کا واقعہ درج ہے جس میں دو عورتیں ایک ہی بچہ کو اپنا بیٹا بتا رہی تھیں۔ ایسے میں سلیمان نے ایک فیصلہ سُنا کر تاریخ رقم کی:

(16)اُس وقت دو عَورتیں جو کسبیاں تھیں بادشاہ کے پاس آئیں اور اُس کے آگے کھڑی ہُوئِیں۔ (17) اور ایک عورت کہنے لگی اَے میرے مالک! مَیں اور یہ عَورت دونوں ایک ہی گھر میں رہتی ہیں اور اِس کے ساتھ گھر میں رہتے ہُوئے میرے ایک بچّہ ہُوا۔ (18)اور میرے زچّہ ہو جانے کے بعد تِیسرے دِن اَیسا ہُؤا کہ یہ عَورت بھی زچّہ ہو گئی اور ہم ایک ساتھ ہی تِہیں۔ کوئی غَیر شخص اُس گھر میں نہ تھا۔ سِوا ہم دونوں کے جو گھر ہی میں تِہیں۔(19)اور اِس عَورت کا بچّہ رات کو مَر گیا کِیُونکہ یہ اُس کے اُوپر ہی لیٹ گئی تھی۔(20) سو یہ آدھی رات کو اُٹھی اور جِس وقت تیری لَونڈی سوتی تھی میرے بیٹے کو میری بغل سے لے کر اپنی گود میں لِٹا لِیا اور اپنے مَرے ہُوئے بچّے کو میری گود میں ڈال دِیا۔ (21)صُبح کو جب مَیں اُٹھی کہ اپنے بچّے کو دُودھ پِلاؤں تو کیا دیکھتی ہُوں کہ وہ مَرا پڑا ہے پر جب مَیں نے صُبح کو غَور کِیا تو دیکھا کہ یہ میرا لڑکا نہیں ہے جو میرے ہُؤا تھا۔ (22) پھر وہ دُوسری عَورت کہنے لگی نہیں یہ جو جِیتا ہے میرا بَیٹا ہے اور مَرا ہُؤا تیرا بَیٹا ہے۔ اِس نے جواب دِیا نہیں مَرا ہُؤا تیرا بَیٹا ہے اور جِیتا میرا بَیٹا ہے۔ سو وہ بادشاہ کے حضُور اِسی طرح کہتی رہِیں۔(23) تب بادشاہ نے کہا ایک کہتی ہے یہ جو جِیتا ہے میرا بَیٹا ہے اور مَر گیا ہے وہ تیرا بَیٹا ہے اور دُوسری کہتی ہے کہ نہیں بلکہ جو مَر گیا ہے وہ تیرا بَیٹا ہے اور جو جِیتا ہے وہ میرا بَیٹا ہے۔(24) سو بادشاہ نے کہا مُجھے ایک تلوار لا دو۔ تب وہ بادشاہ کے پاس تلوار لے آئے۔(25) پِھر بادشاہ نے فرمایا کہ اِس جِیتے بچّے کو چِیر کر دو ٹُکڑے کر ڈالو اور آدھا ایک کو اور آدھا دُوسری کو دے دو۔(26)تب اُس عَورت نے جِس کا وہ جِیتا بچّہ تھا بادشاہ سے عرض کی کِیونکہ اُس کے دِل میں اپنے بیٹے کی مامتا تھی سو وہ کہنے لگی اَے میرے مالِک! یہ جِیتا بچّہ اُسی کو دیدے پر اُسے جان سے نہ مَروا لیکن دُوسری نے کہا یہ نہ میرا ہو نہ تیرا اُسے چِیر ڈالو۔(27)تب بادشاہ نے حُکم کِیا کہ جِیتا بچّہ اُسی کو دو اور اُسے جان سے نہ مارو کِیُونکہ وُہی اُس کی ماں ہے۔(28)اور سارے اِسرا ئیل نے یہ اِنصاف جو بادشاہ نے کِیا سُنا اور وہ بادشاہ سے ڈرنے لگے کِیُونکہ اُنہوں نے دیکھا کہ عدالت کرنے لِئے خُدا کی حِکمت اُس کے دِل میں ہے۔[9]

بیویاں اور حرمیں

عبرانی بائبل کے مطابق سلیمان کی سات سو شاہی خاندان کی بیویاں تھیں اور اس کے علاوہ تین سو حرمیں تھیں۔ کتاب سلاطین اول 3-11:1 کے مطابق:

(١)اور سلیمان بادشاہ فرعون کی بیٹی کے علاوہ بہت سی اجنبی عورتوں سے یعنی موآبی ۔ عمُونی ۔ ادُومی ۔ صَیدانی اور حتّی عورتوں سے محبت کرنے لگا۔ (٢) یہ ان قوموں کی تھیں جن کی بابت خداوند نے بنی اِسرائیل سے کہا تھا کہ تم اُن کے بِیچ نہ جانا اور نہ وہ تمہارے بیچ آئیں کیونکہ وہ ضرور تمہارے دلوں کو اپنے دیوتاؤں کی طرف مائل کر لیں گی ۔ سلیمان اِن ہی کے عشق کا دم بھرنے لگا۔(٣)اور اُس کے پاس سات سو شاہزادیاں اُس کی بیویاں اور تین سو حرمیں تھیں اور اُس کی بیویوں نے اُس کے دِل کو پھیر دِیا۔[10]

سبا کی ملکہ بلقیس کے ساتھ تعلقات

'The Visit of the Queen of Sheba to King Solomon', oil on canvas painting by Edward Poynter, 1890, Art Gallery of New South Wales
بادشاہ سلیمان سے ملنے کے لیے سبا کی ملکہ بلقیس کا دورہ، آئل اون کینوس پینٹِنگ، ایڈورڈ پوائنٹر، 1890

مختصراً، سلیمان کی امیری اور حکمت کے قِصے دور دور تک مشہور تھے۔ جب ملکہ سبا نے سلیمان کی دانائی و امیری کے قصے سنے تو ملکہ سبا(بلقیس) نے سلیمان سے ملنا چاہا۔ کتاب سلاطین اول 10:10 کے مطابق ملکہ سلیمان سے ملنے گئی اور اسے بدلے میں قیمتی تحائف دیے:

(١٠)اور اُس نے بادشاہ کو ایک سو بِیس قنطار سونا اور مصالح کا بُہت بڑا انبار اور بیش بہا جواہِر دِئے اور جَیسے مصالِح سبا کی ملکہ نے سلیمان بادشاہ کو دئے ویسے پھر کبھی ایسی بُہتات کے ساتھ نہ آئے۔[11]

گناہ اور ان کی سزا

Isaak Asknaziy 02.jpeg
"باطِل ہی باطِل۔ سب کُچھ باطِل ہے۔" بوڑھے اور مستغرق بادشاہ سلیمان۔

سلاطین اول 11:4 کے مطابق:
(ד)וַיְהִי، לְעֵת זִקְנַת שְׁלֹמֹה، נָשָׁיו הִטּוּ אֶת-לְבָבוֹ، אַחֲרֵי אֱלֹהִים אֲחֵרִים; וְלֹא-הָיָה לְבָבוֹ שָׁלֵם עִם-יְהוָה אֱלֹהָיו، כִּלְבַב דָּוִיד אָבִיו۔
ترجمہ:

(4) کیونکہ جب سُلیما ن بڈھا ہو گیا تو اُس کی بیویوں نے اُس کے دِل کو غَیر معبُودوں کی طرف مائِل کر لِیا اور اُس کا دل خداوند اپنے خُدا کے ساتھ کامل نہ رہا جیسا اُس کے باپ داؤُد کا دل تھا۔[12]

سلیمان نے غیر ملکی عورتوں سے شادی کی، ان عورتوں نے اسے خداوند سے دور کر دیا۔

De afgoderij van koning Salomo Rijksmuseum SK-A-757.jpeg
سلیمان نے بہت سی غیر ملکی بیویاں حاصل کرنے کے لیے گناہ کیا۔ بُت پرستی میں سلیمان کا نزول

سلاطین اول گیارہویں باب آیت 9-13 کے مطابق:
(ט) וַיִּתְאַנַּף יְהוָה، בִּשְׁלֹמֹה: כִּי-נָטָה לְבָבוֹ، מֵעִם יְהוָה אֱלֹהֵי יִשְׂרָאֵל، הַנִּרְאָה אֵלָיו، פַּעֲמָיִם۔
ترجمہ:

(٩)اور خداوند سُلیما ن سے ناراض ہوا کیونکہ اُس کا دل خداوند اسرا ئیل کے خدا سے پھر گیا تھا جِس نے اُسے دو بار دکھائی دے کر۔

(י) וְצִוָּה אֵלָיו، עַל-הַדָּבָר הַזֶּה، לְבִלְתִּי-לֶכֶת، אַחֲרֵי אֱלֹהִים אֲחֵרִים; וְלֹא שָׁמַר، אֵת אֲשֶׁר-צִוָּה יְהוָה۔ {פ}
ترجمہ:

(١٠)اُس کو اس بات کا حُکم کیا تھا کہ وہ غیر معبودوں کی پیروی نہ کرے پر اُس نے وہ بات نہ مانی جس کا حکم خداوند نے دیا تھا۔۔۔

(יא) וַיֹּאמֶר יְהוָה לִשְׁלֹמֹה، יַעַן אֲשֶׁר הָיְתָה-זֹּאת עִמָּךְ، וְלֹא שָׁמַרְתָּ בְּרִיתִי וְחֻקֹּתַי، אֲשֶׁר צִוִּיתִי עָלֶיךָ--קָרֹעַ אֶקְרַע אֶת-הַמַּמְלָכָה מֵעָלֶיךָ، וּנְתַתִּיהָ לְעַבְדֶּךָ۔
ترجمہ:

(١١)اس سبب سے خداوند نے سلیما ن کو کہا چونکہ تجھ سے یہ فعل ہوا اور تو نے میرے عہد اور میرے آئین کو جن کا میں نے تجھے حکم دیا نہیں مانا اس لیے مَیں سلطنت کو ضرور تجھ سے چھین کر تیرے خادم کو دوں گا۔

(יב) אַךְ-בְּיָמֶיךָ לֹא אֶעֱשֶׂנָּה، לְמַעַן דָּוִד אָבִיךָ: מִיַּד בִּנְךָ، אֶקְרָעֶנָּה۔
ترجمہ:

(١٢)تو بھی تیرے باپ داؤد کی خاطر میں تیرے ایام میں یہ نہیں کروں گا بلکہ اسے تیرے بیٹے کے ہاتھ سے چھینوں گا۔

(יג)רַק אֶת-כָּל-הַמַּמְלָכָה לֹא אֶקְרָע، שֵׁבֶט אֶחָד אֶתֵּן לִבְנֶךָ: לְמַעַן דָּוִד עַבְדִּי، וּלְמַעַן יְרוּשָׁלִַם אֲשֶׁר בָּחָרְתִּי۔ {ס}
ترجمہ:

(١٣)پھر بھی میں ساری سلطنت کو نہیں چھین لوں گا بلکہ اپنے بندہ داؤد کی خاطر اور یروشلیم کی خاطر جسے میں نے چن لیا ہے ایک قبیلہ تیرے بیٹے کو دوں گا۔[13]

یعنی سلیمان کے گناہوں کو نظر انداز کرکے داؤد کے خاطر اگلا جانشین رحبعام ہی ہوگا۔

دشمن

جب سلیمان قریب المرگ تھا تو اس کے دشمنوں نے اسے اپنے ساتھ جنگ کرنے پر مجبور کیا۔ جن میں ادوم کا ہدد، ارام ضوباہ کا ريزون اور افرائیم کا یربعام شامل تھے۔[14]

سلیمان کی موت، رحبعام کی جانشینی اور ریاست کے ٹکڑے

Kingdoms of Israel and Judah map 830
متحدہ بادشاہت کے ٹکڑے، یربعام کی شمال میں مملکت اسرائیل (نقشے پر نیلا رنگ) پر حکومت اور رحبعام کا جنوب میں مملکت یہودہ پر حکومت

عبرانی بائبل کے مطابق سلیمان متحدہ بادشاہت کا آخری بادشاہ تھا۔ اس کی موت قدرتی ہوئی تھی [15] اور مرتے وقت اس کی عمر 80 سال کے قریب تھی۔ جس کے بعد رحبعام اس کا جانشین بنا۔اسرائیل کے قبیلوں میں سے دس قبیلے رحبعام کے خلاف تھے۔ یربعام نے شمال میں مملکت اسرائیل پر حکومت کی اور رحبعام نے جنوب میں مملکت یہودہ پر حکومت کی۔ اس کے بعد دونوں مملکت کبھی یکجا نہیں ہوئیں۔

قرآن میں ذکر

اسلام میں سلیمان کا اعلیٰ پیغمبروں میں شمار ہوتا ہے۔ قرآن میں سلیمان کا بادشاہ کی حیثیت سے سورہ البقرہ، النمل، سبا اور سورہ ص اور الانبیاء میں ذکر آیا ہے۔

سورۃ البقرہ آیت 102 کے مطابق:
وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ۚ وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ(102)
ترجمہ:

اور انہوں نے اس چیز کی پیروی کی جو شیطان سلیمان کی بادشاہت کے وقت پڑھتے تھے، اور سلیمان نے کفر نہیں کیا تھا لیکن شیطانوں نے ہی کفر کیا لوگوں کو جادو سکھاتے تھے، اور اس (چیز) کی بھی جو شہر بابل میں ہاروت و ماروت دوفرشتوں پر اتارا گیا تھا، اور وہ کسی کو نہ سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیتے ہم تو صرف آزمائش کے لیے ہیں، تو کافر نہ بن، پس ان سے وہ بات سیکھتے تھے جس سے خاوند اور بیوی میں جدائی ڈالیں، حالانکہ وہ اس سے کسی کو اللہ کے حکم کے سوا کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے، اور سیکھتے تھے وہ جو ان کو نقصان دیتی تھی اورنہ کہ نفع، اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ جس نے جادو کو خریدا اس کے لیے آخرت میں کچھ حصہ نہیں، اور وہ چیز بہت بری ہے جس کے بدلہ میں انہوں نے اپنے آپ کو بیچا، کاش وہ جانتے(102)۔[16]

سورہ النمل آیت 15 کے مطابق:

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوُوْدَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا ۖ وَقَالَا الْحَـمْدُ لِلّـٰهِ الَّـذِىْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيْـرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِيْنَ (15)
ترجمہ:

اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم دیا، اور کہنے لگے اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں بہت سے ایمان دار بندوں پر فضیلت دی۔[17]

سورۃ سبا آیت 12 کے مطابق:
وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّّرَوَاحُهَا شَهْرٌ ۖ وَاَسَلْنَا لَـهٝ عَيْنَ الْقِطْرِ ۖ وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ يَّعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ ۖ وَمَنْ يَّزِغْ مِنْـهُـمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيْـرِ(12)
ترجمہ:

اور ہوا کو سلیمان(بادشاہ) کے تابع کر دیا تھا جس کی صبح کی منزل مہینے بھر کی راہ اور شام کی منزل مہینے بھر کی راہ تھی، اور ہم نے اس کے لیے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا، اور کچھ جن اس کے آگے اس کے رب کے حکم سے کام کیا کرتے تھے، اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھر جاتا تھا تو ہم اسے آگ کا عذاب چکھاتے تھے۔[18]

سورۃ ص آیت 35 کے مطابق:
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِـىْ وَهَبْ لِـىْ مُلْكًا لَّا يَنْبَغِىْ لِاَحَدٍ مِّنْ بَعْدِىْ ۖ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ(35)
ترجمہ:

کہا اے میرے رب! مجھے(سلیمان کو) معاف کر اور مجھے ایسی حکومت عنایت فرما کہ کسی کو میرے بعد شایاں نہ ہو، بے شک تو بہت بڑا عنایت کرنے والا ہے۔[19]

دولت

Solomon and the Plan for the Temple
سلیمان کا ہیکل سلیمان کی تعمیر کے لیے منصوبہ بندی۔ بائبل کے واقعہ کی تصویری مثال
SolomonsTemple
کلام پاک میں وضاحت پر مبنی ہیکل سلیمان کا خاکہ
Ingobertus 001
سلیمان کے دربار کی عکاسی، (880ء کی تصویر)

عبرانی بائبل کے مطابق، سلیمان کی 40 سالہ حکمرانی کے دوران میں اسرائیلی شہنشاہیت نے بے شمار شان اور دولت حاصل کی۔ اس بات کا کتاب سلاطین کی مندرجہ ذیل آیت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

١4اور جتنا سونا ایک برس میں سلیمان کے پاس آتا تھا اُس کا وزن سونے کا چھ سو چھیاسٹھ قنطار تھا۔[20]

نگار خانہ

Salomon-monument-Joseph-Sec-Aix-en-Provence

سلیمان کا مجسمہ۔

Solomon's Wealth and Wisdom

سلیمان کی حکمت و دولت

King-Solomon-Russian-icon

بادشاہ اور نبی سلیمان کی شبہہ

Salomoni (Salomone) - Studiolo di Federico da Montefeltro

سلیمان کی خیالی تصویر

Sulamith's Freund

سلیمان کا خیالی خاکہ

S Conca Idolatría de Salomón Prado

سلیمان کی شان و شوکت

Building of Solomon's temple- The Craftsmen in the quarries

سلیمان کا ہیکل زیر تعمیر (خیالی تصویر)

Cathédrale Saint-Étienne de Toulouse - Salomon tenant le plan de Jérusalem par Despax PM31000747

سلیمان یروشلم کا نقشہ اُٹھائے ہوئے

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. "In Our Time With Melvyn Bragg: King Solomon"۔ UK: BBC Radio 4۔ 7 جون 2012۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-04-08۔
  2. انجیل مقدس۔ 1-سلاطین 3-11:1۔ Check date values in: |accessdate= (معاونت); |access-date= requires |url= (معاونت)
  3. Williamson، H. G. M. (1976). "The Accession of Solomon in the Books of Chronicles". Vetus Testamentum 26 (3): 351–361. doi:10.1163/156853376X00510.
  4. George A. Barton۔ "Temple of Solomon"۔ Jewish Encyclopedia۔ New York, NY: Funk & Wagnalls۔ صفحات 98–101۔ ڈی او آئی:10.1038/2151043a0۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-04-08۔
  5. تواریخ اول باب سوم آیت 5
  6. کتاب تواریخ باب سوم آیت 1-4
  7. کتاب سلاطین اول آیت 1
  8. سلاطین اول آیت 2-4
  9. سلاطین اول باب سوم آیت 16-28
  10. انجیل مقدس۔ 1-سلاطین 3-11:1
  11. سلاطین اول باب دہم آیت 10
  12. سلاطین اول 11:4
  13. سلاطین اول گیارہویں باب آیت 9-13
  14. Peter J Leithart۔ A House for My Name۔ en:Canon Press۔ صفحہ 157۔ آئی ایس بی این 978-1-885767-69-1۔
  15. "مملکت اسرائیل (متحدہ بادشاہت)"۔ Jewish Virtual Library۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اپریل2017۔ Check date values in: |accessdate= (معاونت)
  16. سورۃ البقرہ آیت 102
  17. سورہ النمل آیت 15
  18. سورۃ سبا آیت 12
  19. سورۃ ص آیت 35
  20. سلاطین اول باب دہم آیت ١4

بیرونی روابط

سلیمان (بادشاہ)
شاہی القاب
ماقبل 
داؤُد
متحدہ بادشاہت
اسرائیل اور یہودہ کے بادشاہ

971–931 ق۔م
مابعد 
رحبعام
یہودہ میں
مابعد 
یربعام اول
اسرائیل میں
بائبل کی اصاغر شخصیات کی فہرست، ا سے ڈ

یہ فہرست بائبل کے مذکورہ ناموں کی وہ فہرست سے جو چھوٹے (عموماً اکابر کے با لمقابل) نامور شخصیات ہیں جن کا نام بائبل میں بہت کم آیا ہے یا یہ بائبل کی کسی مشہور شخصیت کے رشتہ دار ہیں۔

خیمۂ اجتماع

خیمۂ اجتماع یا حضوری کا خیمہ عبرانی میں اس کے لیے دو الفاظ ہیں مشکن یعنی مسکن یا رہنے کی جگہ، دوسرا لفظ اوہل موعید یعنی خیمۂ اجتماع ہے۔ یہ سفری یا نقل پزیر خیمہ تھا جو بنی اسرائیل کے بیابان میں بھٹکنے کے دوران عبادت اور قربانی وغیرہ کے سلسلے میں استعمال ہوتا تھا جب تک سلیمان بادشاہ نے یروشلم میں ہیکل تعمیر نہ کر لیا۔ یہ خیمہ خدا کا انسان کے درمیان سکونت کی علامت تھا۔۔، اس مختلف ناموں سے پکارا گیا ہے۔ مسکن خیمہ، خیمہِ اجتماع، بیت اللہ کا مسکن، خداوند کا گھر، شہادت کا خیمہ اسے تفصیل سے خروج باب 25 آیت 10 - باب 27 آیت 19 اور ابواب 35 - 38 میں بیان کیا گیا ہے۔

رحبعام

رحبعام (انگریزی تلفظ /ˌriːəˈboʊ.əm/؛ عبرانی: רְחַבְעָם، جدید Reẖav'am ، طبری Rəḥaḇʻām ; مطلب ”وہ جو لوگوں کو بڑا کرتا ہے“؛ یونانی: Ροβοαμ؛ لاطینی: Roboam) ایک اسرائیل کا بادشاہ گزرا ہے۔ جس کا ذکر عبرانی بائبل میں ہے۔ تواریخ دوم اور سلاطین اول کے مطابق، یہ پہلے مملکت اسرائیل کا بادشاہ تھا۔ لیکن بعد میں 932/931 ق۔ م میں دس قبیلوں نے بغاوت کردی اور ایک الگ ریاست مملکت اسرائیل (سامریہ) بنالی۔ اس کے نام کا ذکر بائبل میں صرف مملکت یہودہ یا جنوبی ریاست کے بادشاہ طور پر آیا ہے۔ وہ سُلیمان کا فرزند اور داؤُد کا پوتا تھا۔ اس کی والدہ نعمہ تھی جس کا تعلق عمون سے تھا۔

سلیمان علیہ السلام

سلیمان علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی تھے۔ سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے متحدہ اسرائیل پر 970 قبل از مسیح سے لے کر 931 قبل از مسیح تک حکومت کی۔ ان کے بعد ملک اسرائیل کے دو حصے (شمالی اور جنوبی) ہو گئے۔

ناتن

ناتن (عبرانی: נָתַן‎ ؛ سریانی: ܢܬܢ) عبرانی تنک میں مذکور ایک عظیم شخصیت ہیں۔ ان کا زمانہ تقریباً 1000 سال قبل مسیح کا ہے۔

ان کے اقوال و افعال کا تذکرہ کتاب سموئیل، کتاب سلاطین اور کتاب تواریخ میں موجود ہے۔ (خصوصاً 2 سموئیل 7: 2-17، 2 سموئیل 12: 1-25)۔

کتاب سموئیل کی روایات کے مطابق ناتن داؤد کے درباری پیغمبروں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے داؤد بادشاہ کو خدا کے اس عہد کے بارے میں باخبر کیا تھا جو خدا ان کے ساتھ کرنے والے تھے۔ (2 سموئیل 7: 4-17 اس کو ناتن کا معجزہ بھی کہا جاتا ہے۔)خدا نے داؤد کے لیے ایک گھر بنایا (آل داؤد)، یہ داؤد کے لیے خدا کا انعام تھا، چنانچہ داؤد بھی خداکے لیے ایک گھر تابوت سکینہ تعمیر کرنا چاہتے تھے، اس پر ناتن نے ان کو متنبہ کیا کہ ایسا نہ کریں۔ اس کے ایک اور واقعہ ہوا جہاں ناتن داؤد کے لیے فرشتہ بن کر ثابت ہوئے۔ واقعہ یوں ہے کہ اوریا بن حتی کو داؤد نے جنگ میں قتل کر دیا اور اس کی بیوی بت سبع کے ساتھ جماع کرنا چاہا، تب ناتن نے ان کو بتایا کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو وہ زنا کے مرتکب ہوں گے۔ یہ واقعہ کتاب سموئیل میں مذکور ہے۔

کتاب تواریخ میں یہ روایت ہے کہ ناتن نے داؤد کے عہد حکومت اور سلیمان کے عہد حکومت کی تاریخ لکھی ہے۔ اور وہ ہیکل کی موسیقی سے بھی وابستہ تھے۔

کتاب سلاطین میں مذکور ہے کہ وہ ناتان ہی تھے جنہوں نے صحب فراش داؤد کو ادونیا کے بادشاہ بننےکے بارے میں بتایا، جس کے بعد ادونیا کی بجائے سلیمان کی بادشاہت کا اعلان کر دیا گیا۔ ناتن نے سلیمان بادشاہ کے سر پر مقدس تیل کا مسح کیا تھا اور ان کا نام نظم زدوک دی پریسٹ میں سلیمان کے مسح کرنے والے کو ور پر مذکور ہے۔

24 اکتوبر تقویم برائے مقدسین کو ناتن پیغمبر کے مقدس دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ مشرقی راسخ الاعتقاد کلیسیا اور وہ تمام لوگ جو بازنطینی ریت کی تابع مشرقی راسخ الاعتقاد کلیسیا کو مانتے ہیں، کرسمس کے بڑے میلے سے پہلے اتوار کو ناتن کو بزرگ تسلیم کرتے ہیں۔

کتاب تواریخ

تواریخ کی کتاب کے بھی دو حصے ہیں۔١ تواریخ اور ٢ تواریخ ان دونوں کتابوں میں بعض ایسے واقعات درج کیے گئے ہیں جو سموئیل اور سلاطین کی کتابوں میں درج کرنے سے رہ گئے تھے۔

تواریخ کا مولف علمائے یہود کے مطابق عزرا ہے اور متعدد راسخ العقیدہ مسیحی علما بھی اس نظریہ سے متفق ہیں۔ یہ دونوں کتابیں 450 قبل مسیح سے 425 قبل مسیح کے درمیان تالیف کی گئیں لیکن عزرا نے دانشمندی سے بڑی تحقیق اور کاوش کے بعد انہیں ان کی موجودہ صورت دی۔ ان کتابوں میں بعض ایسے ماخذوں کا ذکر موجود ہے جو شاہان یہوداہ اور شاہان اسرائیل کے واقعات پر مشتمل تھے جن کی مدد سے عزرا نے ان کتابوں کی تالیف کی۔

ان کتابوں کے بعض واقعات سموئیل اور سلاطین کی کتابوں میں مندرج واقعات سے ملتے جلتے ہیں لیکن مولف نے اپنی اس تالیف میں کئی اور ماخذوں کے نام بھی درج کیے ہیں جو مقدس بائبل میں شامل نہیں ہیں۔

بابل کی اسیری اور جلاوطنی کے زمانہ میں اہل یہود اپنی شریعت اور اپنے گزشتہ تاریخی واقعات کو تقریباً فراموش کر چکے تھے۔ انہیں اس عظیم ورثہ سے روشناش کرانے کے لیے تواریخ ایسی تالیف کی ضرورت تھی۔ لہذااسی ضرورت کے پیش نظر عزرا نے یہ کتاب تالیف کی۔ اس اسیری کے بعد نئی یہودی نسل کو یہ بھی بتانا ضروری تھا کہ جس خدائے قادر نے ماضی میں کئی مصائب اور کئی نامساعد حالات میں اُن کے آباؤ اجداد کو برکت دی، وہ اپنی برکزیدہ قوم کو ہمیشہ اپنے سایہ عافیت میں رکھے گا بشرطیکہ وہ اُس کی وفادر رہے اور اُس کے احکام کو دل و جان سے بجا لاتی رہے۔

تواریخ کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں اور اُس کے حکموں پر چلتے ہیں وہ برکات خداوندی کے امیدوار ہو سکتے ہیں لیکن خدا کی نافرمانی کرنے والے مصیبتوں اور پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں۔

تواریخ کو درج ذیل حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

پہلی کتاب :

نسب نامہ آدم سے لے کر داؤد تک (باب 1 تا باب 9)

داؤد بادشاہ کا دور حکومت ( باب 10 تا باب 29)دوسری کتاب:

سلیمان بادشاہ کا دور حکومت (باب 1 تا باب 9)

شاہان یہوداہ، یربعام بادشاہ کے دور حکومت سے لے کر یہودیوں کے زمانہ اسیری، جلاوطنی اور بحالی تک (باب 10 تاباب 37)

یروشلم کی شخصیات کی فہرست

یہ یروشلم میں پیدا ہونے، رہائش اختیار کرنے یا یروشلم سے جڑی شخصیات کی فہرست ہے۔

عبرانی بائبل میں انبیاء
قبل از کاہن
کاہن / کاہنہ
توریت میں
اسرائیلی انبیاء
سابق انبیاء
کا تذکرہ
بڑے پیغمبر
چھوٹے پیغمبر
نوحیت
دیگر
قبل از خاندان
متحدہ بادشاہت
اسرائيل
(شمالی سلطنت)
یہوداہ
(جنوبی ریاست)
حشمون سلطنت
ہیرودیسی خاندان
دوسرے ہیکل کے بعد کا دور
کاتھولک مقدسین
کنواری مریم
رسل
مقرب فرشتے
معترفین
شاگِردان
معلمین
مؤلفین انجیل
آبائے کلیسیا
شہدا
بزرگان
پوپ
انبیا
کنواریاں

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.