سامرہ

سامرہ (انگریزی: Samaria) (/səˈmɛəriə/;[1] عبرانی: שומרון‎, عبرانی زبان Šoməron, طبری تلفظ صوتی Šōmərôn; عربی: السامرة, as-Sāmirah – "جبل نابلس" بھی کہا جاتا ہے) ارض اسرائیل یا فلسطین میں ایک تاریخی علاقہ ہے جو شمال میں گلیل اور جنوب میں یہودا سے جڑا ہوا ہے۔ [2][3] عام زمانہ کی ابتدا میں یوسیفس نے بحیرہ روم کو اس کی مغربی سرحد کہا اور دریائے اردن کو اس کی مشرقی سرحد۔ [3] عبرانی بائبل کے مطابق یہ علاقہ قبیلہ افرائیم کا تھا جبکہ اس کا مغربی نصف حصہ قبیلہ ماناسہ کے زیر تصرف تھا۔ سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد سلطنت دو حصوں مملکت یہوداہ اور مملکت اسرائیل میں تقسیم ہو گئی اور یہ علاقہ مملکت اسرائیل کے حصے میں آیا جو کہ اس کا جنوبی حصہ بنا۔ [2] رام اللہ ان دونوں درمیان سرحد تھی۔ .[4]

Samaria, George Adam Smith
سامرہ کا 1894ء کا نقشہ

حوالہ جات

  1. LDS.org: "Book of Mormon Pronunciation Guide" (retrieved 2012-02-25), معاونت:بین الاقوامی اصواتی ابجدیہ برائے انگریزی-ified from «sa-mĕr´ē-a»
  2. ^ ا ب "Samaria - historical region, Palestine"۔ Encyclopædia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 مئی 2018۔
  3. ^ ا ب Josephus Flavius۔ "Jewish War,book 3, chapter 3:4-5"۔ Fordham.edu۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-12-31۔
  4. The New Encyclopaedia Britanica: Macropaedia, 15th edition, 1987, volume 25, Palestine, p. 403
اربیل

اربیل یا سامرہ (عربی: أربيل) عراق میں موصل سے اسی کلومیٹر دور ایک شہر ہے۔ کرد لوگوں کی آبادی زیادہ ہے۔

اریئیل (شہر)

اریئیل (شہر) (انگریزی: Ariel (city)) اسرائیل کا ایک شہر جو یہودا و سامرا میں واقع ہے۔

اسرائیلی آباد کاری

سرائیلی آباد کاری سے مراد وہ شہری برادریاں ہیں جو اسرائیلی شہریوں سے آباد ہوئی ہیں، جو تقریبًا سبھی یہودی نژاد ہوتی ہیں۔ یہ زیادہ تر فلسطینی علاقہ جات میں بنی ہوتی ہیں۔ ان علاقوں پر اسرائیل نے فوج کشی کے ذریعے قبضہ کیا۔ یہ قنضہ چھ روزہ جنگ میں ہوا جو 1967ء میں لڑی گئی تھی۔ اس میں وہ علاقہ جات بھی شامل ہیں جنہیں ملکِ شام اس جنگ میں یا اس کے بعد اسرائیلی قبضے میں اپنے خود کے علاقہ جات سمجھتا ہے۔ ان علاقوں میں مغربی کنارے کا علاقہ سی اور سوریہ کے علاقہ جات میں جولان پہاڑیاں شامل ہیں۔

اسرائیلی شہری انتظامیہ

اسرائیلی شہری انتظامیہ (انگریزی: Israeli Civil Administration: عربی: الإدارة المدنية الإسرائيلية) (عبرانی: המנהל האזרחי‎، ha-Minhal ha-ʿEzraḥi)

مغربی کنارہ میں اسرائیلی حکومتی ادارہ ہے۔ اسے 1981ء میں اسرائیلی حکومت نے قائم کیا، تا کہ 1967ء میں اسرائیل کے قبضہ کیے ہوئے علاقوں میں عملی بیوروکریسی افعال سر انجام دیے جا سکیں۔ رسمی طور پر علاحدہ ہونے کے باوجود یہ اسرائیلی فوج کے ماتحت تھا۔

الیاس (اسلام)

پیغمبر۔ قرآن مجید کی دو سورتوں میں آپ کا ذکر ہے۔ سورۃ انعام کی آیہ 85 میں زکریا علیہ السلام، یحییٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ آپ کا نام آیا ہے۔ اور قرآن نے چاروں کو صالح کہا ہے۔ سورۂ صافات آیہ 123 میں آپ کو رسولوں میں شمار کیا گیا ہے پھر آیہ 124 سے 129 تک آپ کا مختصر قصہ ہے کہ آپ کی قوم بعل نامی بت کو پوجتی تھی۔ بعل سونے کا بنا ہوا تھا اور بیس گز لمبا تھا اور اس کے چار چہرے بنے ہوئے تھے اور چار سو خدام اس بت کی خدمت کرتے تھے جن کو ساری قوم بیٹوں کی طرح مانتی تھی اور اس بت میں سے شیطان کی آواز آتی تھی جو لوگوں کو بت پرستی اور شرک کا حکم سنایا کرتا تھا آپ نے اُسے خدائے واحد کی پرستش کے لیے کہا۔ اسی سورۃ کی آیہ 130 میں آپ کو ال یاسین بھی کہا گیا ہے۔ مگر مترجمین و مفسرین نے ال یاسین کو الیاس ہی لکھا ہے۔

آپ ہی کی صفات سے متصف ایک پیغمبر کا نام بائبل میں ایلیاہ ہے۔ مفسرین کا خیال ہے کہ بائبل کے ایلیاہ دراصل قرآن کے الیاس ہی ہیں۔ ثعلبی اور طبری وغیرہ نے آپ کے تفصیلی حالات لکھے ہیں جو زیادہ تر اسرائیلیات سے ماخوذ ہیں۔ بعض علما کے نزدیک الیاس، ادریس اور خضر ایک ہی شخصیت کے تین نام ہیں۔

عام روایات کے مطابق آپ اسرائیلی نبی تھے اور موسی علیہ السلام کے بعد مبعوث ہوئے۔ مورخین نے آپ کا نسب نامہ الیاس بن یاسین بن فخاص بن یغرا بن ہارون لکھا ہے اور عام خیال یہی ہے کہ آپ ملک شام کے باشندوں کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے تھے۔ یہودیوں اور مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے اور خشکی پر لوگوں کی کی رہنمائی کرتے رہیں گے۔ تری پر رہنمائی کے لیے خضر کو مامور کیا گیا ہے۔

بادشاہان یہوداہ

1010 قبل مسیح میں حضرت داود علیہ السلام نے حبرون کے مقام پر سلطنتِ اسرائیل کی بنیاد رکھی جس میں یہودا کا علاقہ بھی شامل تھا۔ 1002 قبل مسیح میں حضرت داود علیہ السلام نے دار الحکومت یروشلم منتقل کر لیا اور تا وفات یہیں مقیم رہے۔ 970 قبل مسیح میں حضرت داود علیہ السلام کی وفات کے بعد اُن کے فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام تخت نشیں ہوئے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے تمام عہدِ حکومت تک میں سلطنت اسرائیل متحد رہی۔ 931 قبل مسیح میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات ہوئی تو اُن کا فرزند رحبعام تخت نشیں ہوا، اُس کی حکومت کے ابتدائی اَیام میں سلطنت متحد تھی مگر بعد ازاں بنی اسرائیل کے دس قبیلوں نے بغاوت کرکے سلطنت کا ایک حصہ علاحدہ کر لیا جِسے اُنہوں نے اسرائیل کا نام دیا اور رحبعام کے پاس صرف یہودا کا بقیہ حصہ رہ گیا تھا۔ یہودا کی سلطنت 586 قبل مسیح تک قائم رہی اور سامرہ کی سلطنتِ اسرائیل 722 قبل مسیح تک قائم رہی۔

بیت ایل

بیت ایل (انگریزی: Beit El; عربی: بيت إيل; عبرانی: בֵּית אֵל‎‎) مغربی کنارہ میں ایک لوکل کونسل ہے۔ کتاب پیدائش 28:19 کے مطابق اس جگہ کا سابق نام لُوز تھا مگر یعقُوب نے اس مقام کا نام تبدیل کرکے بیت ایل رکھا۔

بیتار عیلیت

بیتار عیلیت (انگریزی: Beitar Illit) اسرائیل کا ایک رہائشی علاقہ جو یہودا و سامرا میں واقع ہے۔

حسن بن علی عسکری

حسن عسکری (پیدائش: 3 دسمبر 846ء— وفات: یکم جنوری 874ء) علی نقی کے فرزند اور اہلِ تشیع کے گیارہویں امام تھے۔

ابو محمد کنیت حسن نام اور سامرہ کے محلہ عسکر میں قیام کی وجہ سے عسکری علیہ السّلام مشہور لقب ہے والد بزرگوار حضرت امام علی نقی علیہ السّلام اور والدہ سلیل خاتون تھیں جو عبادت , ریاضت عفت اور سخاوت کے صفات میں پانے طبقے کے

لیے مثال کی حیثیت رکھتی تھیں .

دہوک

دہوک یا سامرہ (عربی: دهوك) عراق کے شمال میں کرد علاقے کا ایک شہر ہے۔ جس کی آبادی پانچ لاکھ سے زیادہ ہے۔ اس کے ارد گرد پہاڑ ہیں اور دریائے دجلہ ہے جس سے اس شہر کی سیاحتی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

سامراء

سامرا یا سامرہ (عربی میں سامراء ) عراق میں بغداد کے شمال میں دریائے دجلہ پر محافظہ صلاح الدین میں واقع آباد ایک شہر ہے۔ اس کا ایک نام سرمن رائے بھی ہے جس کا مطلب ہے 'جس نے دیکھا اس نے پسند کیا'۔ یہ ساسانیوں کے زمانے سے ایک فوجی مرکز چلا آ رہا تھا جس کی یہ حیثیت اسلامی دور میں بھی رہی۔ یہاں امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے روضے ہیں۔ 2003 عیسوی کے امریکی قبضہ سے پہلے یہ شہر سنی اور شیعہ مسلمانوں کی آپس میں محبت اور میل ملاپ کے لیے مشہور تھا۔ یہاں قدیم زمانے کی ایک مسجد ہے جس کا مینار انوکھی وضع کا ہے جسے امریکی قبضہ سے پہلے سیاح دیکھنے آیا کرتے تھے۔

سومرہ

سومرہ، (سومرو، سامرہ، سمرہ، سومرا، سمرو، Sumra، Soomro) سندھ کی قدیم قوم یا نسل ہے جو سندھ، کچھ، کاٹھیاواڑ، گجرات، بلوچستان میں کثرت سے آباد ہے۔

قوم الیاس

قوم الیاس بنی اسرائیل کی بعلبک بستی کا بادشاہ اور اس کی رعایا بت پرست ہو گئے تھے۔ اور ان ہی کی ہدایت کے لیے الیاس (علیہ السلام) نبی ہوئے اور ان لوگوں کی بت پرستی کے سبب سے ان لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرایا ہے۔ اسے قوم الیاس کہا گیا ۔

مغربی کنارہ کے شہر

یہ فہرست مغربی کنارہ کے شہر ہے۔

اریئیل

بیتار عیلیت

معالیہ ادومیم

مودیعین عیلیت

مودیعین عیلیت

مودیعین عیلیت (انگریزی: Modi'in Illit) اسرائیل کا ایک رہائشی علاقہ جو یہودا و سامرا میں واقع ہے۔

ہوسیع

ہوسیع (عبرانی:הוֹשֵׁעַ، یونانی:Ὠσηέ بہ معنی «نجات خدا کی طرف سے ہے») بنی اسرائیل کے انبیائے صغیر میں سے پہلے نبی، بیری کے بیٹے تھے۔ انہوں نے دبلائم کی بیٹی جُمر سے شادی کی اور اس سے ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی جن کے نام بالترتیب یرزعیل ، لوعمی اور لوروحامہ بیان کیے گئے ہیں۔ ہوشع کے عہد نبوت میں بنی اسرائیل نے بعل دیوتا کی پوجا شروع کر دی اور اس کے لیے اونچی جگہوں پر قربانیاں چڑھایا کرتے تھے۔ اور شہر سامرہ میں بچھڑے کے بت کو پوجتے تھے۔ انہیں نہ تو خدا کی کچھ خبر تھی نہ ہی اس سے کوئی نسبت تھی کیونکہ وہ نسبت خدائی کے ہی تو خائن تھے۔ اس حد تک کہ انہوں نے سرے سے وجود شریعت یہودی کا انکار ہی کر دیا تھا۔ لیکن ہوسیع نے انہیں توحید پرستی اور میانہ روی کا درس دیا۔ روایت ہے کہ ہوشع زانی عورتیں خریدتے تھے۔

یہودا (رومی صوبہ)

یہودا (Judea) (عبرانی: יהודה, معیاری Yehuda طبری Yehûḏāh; عربی: يهودا; یونانی: Ἰουδαία; لاطینی: Iūdaea) ایک ابتدائی رومی صوبہ تھا۔ بعد میں 135ء میں اسے صوبہ سوریہ کے ساتھ ضم کر کے نیا صوبہ سوریہ فلسطین بنا دیا گیا۔

یہودا و سامرہ

یہودا و سامرہ (انگریزی: Judea and Samaria Area) اسرائیل کا ایک رہائشی علاقہ جو اسرائیل میں واقع ہے۔

یہودیہ

یہودیہ (Judea) (عبرانی: יהודה؛ عربی: يهودية؛ یونانی: Ἰουδαία؛ لاطینی: Iudaea) ارض اسرائیل اور فلسطین کے جنوبی پہاڑی علاقے کا نام ہے۔ یہ تقریباً جنوبی مغربی کنارے اوراسرائیل کے شمالی صحرا نقب پر واقع ہے۔علاقے کا نام کتاب مقدس کے قبیلے یہوداہ سے منسوب ہے اور مملکت یہوداہ سے متعلقہ ہے۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.