سائنس

  • علم کی تلاش یہاں لاتی ہے، علم کے دیگر استعمالات کے لیے دیکھیےٴ علم (ضد ابہام)۔
Lab bench
جامعہ کلون (جرمنی) کی تجربہ گاہ کا ایک حصہ؛ سائنس کی کسی تجربہ گاہ میں عمومی طور پر استعمال کیے جانے والے چند آلات اور کیمیائی مرکبات کی ایک نشاں سازی۔

بنیادی طور پر تو سائنس ایک منظم طریقۂ کار کے تحت کسی بات کو جاننے یا اس کا علم حاصل کرنے کو کہا جاتا ہے، اس طرح کہ اس مطالعے کا طریقہ اور اس کے نتائج دونوں ہی بعد میں دوسرے دہرا سکتے ہوں یا انکی تصدیق کرسکتے ہوں یعنی یوں کہـ لیں کہ وہ قابل تکرار (replicable) ہوں اور اردو میں اس کو علم ہی کہتے ہیں۔ فی الحال سائنس کا کوئی ایسا ترجمہ کرنے (یا اگر کیا گیا ہے تو اس کو عام کرنے) کی کوئی باضابطہ کوشش نہیں کی گئی ہے کہ جو اس کو دیگر علوم سے الگ کرسکے اس لیے اس مضمون میں علم اور سائنس متبادلات کے طور پر استعمال کیے گئے ہیں، لہذا یوں کہ سکتے ہیں کہ مطالعہ کر کہ کسی چیز کے بارے میں جاننا (یا ایسی کوشش کرنا) یعنی علم ہی سائنس ہے۔ انگریزی میں سائنس کا لفظ لاطینی کے scientia اور اسے قبل یونانی کے skhizein سے آیا ہے جس کے معنی الگ کرنا، چاک کرنا کہ ہیں۔ مخصوص غیر فنونی علوم جو انسان سوچ بچار حساب کتاب اور مطالعہ کے ذریعہ حاصل کرتا ہے کہ لیے سائنس کے لفظ کا جدید استعمال سترہویں صدی کے اوائل سے سامنے آیا۔

بعض اوقات مندرجہ بالا تعریف کے مطابق حاصل کیے گئے علم یا سائنس کو خالص علم (pure science) بھی کہا جاتا ہے تاکہ اس کو سائنسی اطلاقات کے علم یعنی نفاذی علم (applied science) سے الگ شناخت کیا جاسکے۔

انسان کے سائنسی مطالعے کا سلسلہ زمانۂ قدیم سے جاری ہے (جس کی تفصیل تاریخ سائنس میں آجائے گی) اور زمانے کے ساتھ ساتھ ان میں اضافہ اور بہتری ہوتی رہی ہے جس نے سائنس کو اس کی آج کی موجود شکل عطا کی۔ آنے والے سائنسدانوں نے ہمیشہ گذشتہ سائنسدانوں کے مشاہدات و تجربات کو سامنے رکھ کر ہی نئی پیشگویاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ بہرحال سائنس قدیم ہو یا جدید، بنیادی ہو یا اطلاقی ایک اہم ترین عنصر جو اس سائنسی مطالعے میں شامل رہا ہے وہ اسلوب علم یا سائنسی طریقۂ کار ہی ہے۔ یہ بھی قابل غور بات ہے کہ اس سائنسی اسلوب میں بھی زمانے کے ساتھ ساتھ ترقی اور باریکیاں پیدا ہوتی رہی ہیں اور آج کوئی بھی سائنسی مطالعہ یا تجربہ اسلوب سائنس پر پورا اترے بغیر قابل توجہ نہیں سمجھا جاتا۔

سائنس اور فنیات (arts) کی تفریق کچھ یوں کی جاسکتی ہے کہ فنیات میں وہ شعبہ جات آجاتے ہیں جو انسان اپنی قدرتی ہنر مندی اور صلاحیت کے ذریعہ کرتا ہے اور سائنس میں وہ شعبہ جات آتے ہیں جنمیں سوچ بچار، تحقیق اور تجربات کر کہ کسی شہ کہ بارے میں حقائق دریافت کیے جاتے ہیں۔ سائنس اور آرٹس کے درمیان یہ حدِ فاصل ناقابلِِ عبور نہیں کہ جب کسی آرٹ یا فن کا مطالعہ منظم انداز میں ہو تو پھر یہ ابتدا میں درج تعریف کے مطابق اس آرٹ کی سائنس بن جاتا ہے۔

Zahrawi1
ہر قسم کے لسانی ، تہذیبی اور کسی بھی دوسری قوم کے ذہنی غلبے سے آزاد سوچ ہی سائنس پیدا کرتی ہے۔ ہزار سال قبل ، اسلوب علم کی روشنی میں تیار کیے گئے آلات جراحی جنہوں نے آج کے جدید جراحی آلات کی جانب راہنمائی کی، اسی نوعیت کے واقعات سائنس کہلائے جاتے ہیں۔ (مسلم سائنسدان، الزھراوی کی کتاب التصریف لمن عجز عن التالیف کا ایک نسخہ)۔

‎سائنسی تاریخ

وسیع معنوں میں سائنس جدید دور سے پہلے اور بہت سے تاریخی تہذیبوں میں موجود رہی ہے۔ جدید سائنس اپنے نقطہ نظراور کامیاب نتائج میں نمایاں ہے: کڑے نکتہ نظر کے لحاظ سے سائنس سے مراد 'جدید سائنس' ہی لی جاتی ہے۔
سائنس کے حقیقی معنی علم کے حصول کی بجاے علم کی ایک مخصوص قسم کے ہیں۔ خصوص یہ علم کی ان اقسام میں سے ایک ہے،جسے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بانٹ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، قدرتی چیزوں کے کام کے بارے میں علم درج شدہ تاریخ سے طویل عرصے سے پہلے جمع کیا گیا تھا اورجو کہ پیچیدہ تجریدی سوچ کے ارتکا کا بائیس بنا۔

‎سائنسی زمرے

سائنس کے میدان کو عام طور پر دو بنیادی خطوط پر اسطوار کیا جاتا ہے ایک تو وہ جو فطری مظاہرات سے متعلق ہوتے ہیں اور علوم فطریہ (natural sciences) کہلائے جاتے ہیں اور دوسرے وہ کہ جو انسانی سلوک (human behavior) اور معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں اور معاشرتی علوم (social sciences) کہلاتے ہیں۔ سائنس کے ان دونوں ہی شعبہ جات کو تجربی (empirical) کہا جاتا ہے کیونکہ ان دونوں میں ہی جو معلومات حاصل کی جاتی ہیں ان میں انسانی تجربات اور مظاہر فطرت کے بارے میں شواہدات کا ہونا لازمی قرار دیا جاتا ہے، یعنی ان معلومات کو ایسا ہونا چاہیے جو فردی نہ ہوں بلکہ بعد میں آنے والے سائنس دان یا علما بھی انکی صحت کی تصدیق کر سکیں اور انکو اپنے مستقبل کے تجربات میں استعمال بھی کرسکیں، ہاں یہ ہے کہ ایسا کرنے کے دوران (یعنی گذشتہ تجربی مشاہدات (سائنس) کی تصدیق کے دوران) وہی ماحول لازم ہو کہ جس میں ان تجربات کو پیش کرنے والے نے کیا تھا۔

سائنس کے مندرجہ بالا دو گروہوں (علوم فطریہ اور علوم معاشرہ) کے علاوہ ایک اور گروہ بھی ہے جو سائنس کے ان دونوں گروہوں سے مطابقت کے مقامات کے ساتھ ساتھ کچھ افتراقات بھی رکھتا ہے اور اس گروہ کو قیاسی علوم (formal science) کہا جاتا ہے جس میں ریاضی (mathematics)، شمارندی علوم، نظریۂ اطلاعات اور احصاء (statistics) جیسے شعبہ جات شامل ہوتے ہیں۔

اسلوبِ سائنس

اسلوب علم اصل سائسی طریقۂ کار کو ہی کہتے ہیں جس میں فطرت (nature) کے اسرار و رموز اور مظاہر کو ایک قابل تکرار (replicable) انداز میں سمجھا جاتا ہے اور انکا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ پھر اس مطالعے کے بعد حاصل کردہ معلومات کی روشنی میں پیشگوئیاں کی جاتی ہیں جو مستقبل کی راہ اور مزید تحقیق کے لیے معاون ثابت ہوتی ہیں۔

RearQuarterPanel
خالص سائنس کی بنیادوں پر قائم ہونے والے سائنس کے اطلاقی شعبہ جات جیسے ہندسیات اور ٹیکنالوجی وغیرہ کے امتزاج سے بننے والی اشیاء زندگی کو سہل ہیں

بعض اوقات کسی بھی ایک سائنسی مطالعے کے دوران عقلی طور پر کوئی ایک نتیجہ آنے کا امکان دوسرے کی نسبت زیادہ بھی ہو سکتا ہے لیکن ایسے مواقع پر اسلوب علم کی موجودگی کے باعث سائنس دان اس قدر باضمیر افراد کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں کہ وہ کسی بھی قسم کی ذہنی لگاوٹ یا جذبے کو نظر انداز کرتے ہوئے اس سے تجربے یا اس کے نتیجے کو متاثر نہیں ہونے دیتے لہذا یہ اسلوب علم کی پیروی ہی ان کے کام کو قابل تکرار بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ذاتی لگاوٹ اور کسی بھی تعصب کے رجحانات کو ختم کردینا اسلوب علم کا ایک پہلو ہے، ساتھ ہی یہ تجربی نمونے (experimental design) میں بھی معاونت اور راہنمائی فراہم کرتا ہے اور ایک آخری پیمانے کے طور پر اس میں نظرِ ھمتا (peer review) کی موجودگی ؛ تجربہ، تجربے کے طریقۂ کار، استعمال کیے جانے والے آلات و کیمیائی مرکبات اور حاصل شدہ نتائج تک ہر پہلو کو قابل اعتبار و تکرار بنانے میں نہایت اہمیت رکھتی ہے۔

اسلوبات سائنس میں ایک بہت اہم اوزار، نمونوں (models) کی تشکیل ہوتی ہے جو کسی تصور یا منصوبے کی تصویرکشی یا وضاحت کرتے ہیں۔ سائنس دان اس نمونے کی تعمیر، جانچ پڑتال اور صحت پر بہت توجہ دیتے ہیں کیونکہ اس کی مدد سے ہی اصل تجربات ممکن ہوتے ہیں اور اسی کی مدد سے ایسی سائنسی پیشگوئیاں کی جاسکتی ہیں جو قابل تکرار ہوں۔ مفروضہ (hypothesis) اسلوبات سائنس میں ایک ایسی بات کو کہا جاتا ہے کہ جس کو ابھی تک تائید کی ناقابل تردید تجربی شہادتیں بھی میسر نہ ہوئی ہوں اور دوسری جانب اس کے غلط ہونے کے بارے میں بھی کوئی گذشتہ حتمی تحقیق نا موجود ہو، ایسی صورت میں مفروضہ، نمونے کی تیاری میں مدد دیتا ہے۔ نظریہ (theory) کو یوں بیان کرسکتے ہیں کہ یہ کئی مفروضات اور بیانات (اکثر عام طور پر مانے جانے والے) کا ایسا مجموعہ ہوتا ہے جن کو آپس میں منتطقی انداز میں جوڑا جا سکتا ہو یا جوڑا گیا ہو اور اس سے دیگر مظاہر فطرت کی وضاحت میں مدد حاصل ہوتی ہو، جیسے جوہری نظریہ۔ طبیعی قانون (physical law) ایک ایسے سائنسی اصول کو کہا جاتا ہے کہ جو گذشتہ مفروضات کے بعد تجرباتی مراحل سے گزر چکا ہو اور اس کے حق میں ناقابل تردید تجربی (empirical) شواہد موجود ہونے کے ساتھ ساتھ قابل تکرار (replicable) شواہد بھی موجود ہوں۔

ScientificReview
ایک ہم عصر سائنسدان (ھمتا / peer) ؛ دوسرے سائنس دان کے کیے گئے تجربے کی اشاعت سے پہلے اس کے نظرِ ھمتا (peer review) کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔

سائنسی اسلوب میں ایک اور اہم پہلو اس میں تحریضی (inductive) کیفیت کا ہونا ہے، یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ سائنس دنیا کے کسی مظہر کے بارے میں کسی بات کی جانب مائل کرتی ہے یا یوں کہ لیں کے اس کی ترغیب دیتی ہے اور اس کو تجربے سے ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سائنس کبھی کوئی مطلق دعویٰ نہیں کرتی اور ہمیشہ نئے شواہد و حقائق کے لیے اپنے اندر تحریف (falsification) کی گنجائش رکھتی ہے۔ اور اس مقصد کے لیے اوپر بیان کردہ مُراجعۂ ثانی (peer review) نہایت اہم ہے جس کی خاطر تمام معلومات کا دائرۂ عام میں ہونا اور ہر کسی کی رسائی میں ہونا لازمی ہے۔ تاکہ نا صرف یہ کہ نظر ثانی (review) کیا جاسکے بلکہ ساتھ ساتھ ہی کسی ایک سائنس دان کے تجربے کو اس کا کوئی ھمتا (peer) دہرا کر اس کے قابل تکرار ہونے کا اندازہ کرسکے یا تصدیق کرسکے۔ ھمتا یا peer سے مراد یہاں ہم عصر سائنسدانوں سے ہے، یعنی کوئی ایسا سائنس دان جو اتنا ہی قابل ہو جتنا کہ تجربہ کرنے والا سائنس دان۔

ریاضی اور سائنس

Glass tesseract animation
سہ ابعادی مکعب کا ایک چارابعادی اظہارِ مضاہی۔ ریاضی سائنس کے انتہائی پیچیدہ تصورات کو مختصر اور جامع انداز میں واضع کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔

سائنس اور ریاضی (mathematics) آپس میں لازم و ملزوم ہیں اور سائنس کا کوئی شعبہ ایسا نہیں (خواہ اس کا تعلق طبیعیات سے ہو یا علم کیمیاء سے، حیاتیات سے ہو یا وراثیات سے ) جو ریاضی کی مدد کے بغیر چل سکتا ہو۔ جیسا کہ تعارف کے بیان میں ذکر آیا کہ عام طور پر ریاضی کو سائنس کے جس گروہ میں شامل کیا جاتا ہے اسے تشکیلی علوم کہتے ہیں[1]، یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ بعض ذرائع ریاضی کو بنیادی یا خالص سائنس میں بھی شمار کرتے ہیں[2][3]

ریاضی کی ہر ایک شاخ ہی سائنس کے دیگر شعبہ جات میں کام آتی ہے جن میں احصاء (statistics)، حسابان (calculus) سمیت ریاضی کی وہ شاخین بھی شامل ہیں جنہیں عام طور پر خالص ریاضی میں شمار کیا جاتا ہے مثال کے طور پر نظریۂ عدد (number theory) اور وضعیت (topology) وغیرہ۔

جس طرح ایک طبیب ایک سائنس دان بھی ہو سکتا ہے بالکل اسی طرح ایک ریاضی داں، بجا طور پر ایک سائنس دان ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ ان تمام تر اسلوب سائنس کی پیروی کر رہا ہوتا ہے جن کی مدد سے ہی سائنسی نمونے، تجربی نمونے، مفروضے اور سائنسی پیشگوئیاں ممکن ہوتی ہیں۔

فلسفۂ سائنس

فلسفۂ سائنس اصل میں سائنس کی بنیادوں، اس میں قائم مفروضات، اس کے تجربات کی حقیقت اور تجربات سے حاصل ہونے والے نتائج کی حقیقت اور ان نتائج یا سائنس کے اخلاقی کردار اور زندگی میں اس کے اطلاقات جیسے موضوعات سے بحث رکھتا ہے۔ اس کو بنیادی طور پر دو ذیلی شعبہ جات میں تقسیم کیا جاتا ہے، اول ؛ علمیات یا معلوماتشناسی جس کو انگریزی میں epistemology کہتے ہیں اور دوم ؛ مابعد الطبیعیات جسے انگریزی میں metaphysics کہا جاتا ہے۔ ان میں علمیات تو علم (سائنس) کی حیققت کی تلاش کو کہتے ہیں جبکہ مابعد الطبیعیات پھر اس حقیقت کی فطرت کا کھوج لگانے کو کہا جاتا ہے، انکی مزید تفصیل کے لیے ان کے صفحات مخصوص ہیں۔ فلسفۂ سائنس وہ مقام ہے کہ جہاں اکثر سائنس اور ناسائنس کے مابین حدود معدوم ہی ہوجاتی ہیں۔

فلسفۂ سائنس کے مطابق سائنس ایک ایسے تجزیات یا حقائق کا نام ہے کہ جنہوں نے شواہداتی بنیادوں پر ہماری حسوں کو تحریک دی ہو یعنی کسی بھی متعلقہ مظہر قدرت کو اس کے طبیعی شواہد کی بنا پر محسوس کیا گیا ہو۔ یہاں حس (مشاہدے) کا طبیعی یا فطری ہونا لازم ہے کیونکہ اگر کوئی چیز طبیعی کیفیات سے بلند ہو تو پھر اسے سائنس نہیں مافوق الفطرت (supernatural) کے زمرے میں رکھا جاتا ہے اور تصوراتی سمجھا جاتا ہے جب تک کہ اس کی انسانی سمجھ کے مطابق وجوہات اور اس کے وجود کی توجیہ کے بارے میں شواہد نا مل جائیں۔

کئی راہنما اصولوں (جیسے تیغِ اوکام (Occam's razor) کا اصولِ بخل (parsimony)) سے استفادے کہ بعد سائنسی نظریات کو منطق اور توجیہات کے پیمانوں سے تراشہ جاتا ہے اور پھر کانٹ چھانٹ کے بعد وہی نظریات (یا نظریہ) قابل قبول حیثیت میں قائم رہ جاتا ہے کہ جس کے بارے میں سب سے واضع اور ٹھوس شواہد میسر آچکے ہوں۔

سائنس کی شاخیں

سائنس کی تقسیم مندرجہ ذیل اہم شاخوں میں کی جاتی ہے جو مزید چھوٹی چھوٹی کلاسوں میں تقسیم ہیں۔

حوالہ جات

  1. Peirce, p.97
  2. Association for Supervision and Curriculum Development
  3. Devlin, Keith , Mathematics: The Science of Patterns: The Search for Order in Life, Mind and the Universe (Scientific American Paperback Library) 1996, ISBN 978-0-7167-5047-5
Cm.

cm. کیمرون کے لیے مخصوص کردہ بلند ترین اسمِ ساحہ (top-level domain name) ہے۔

کیمرون

Mn.

mn. منگولیا کے لیے مخصوص کردہ بلند ترین اسمِ ساحہ (top-level domain name) ہے۔

Td.

td. چاڈ کے لیے مخصوص کردہ بلند ترین اسمِ ساحہ (top-level domain name) ہے۔

چاڈ

Tg.

tg. ٹوگو کے لیے مخصوص کردہ بلند ترین اسمِ ساحہ (top-level domain name) ہے۔

Tz.

tz. تنزانیہ کے لیے مخصوص کردہ بلند ترین اسمِ ساحہ (top-level domain name) ہے۔

ارک کینڈل

ارک کینڈل ایک امریکی عصبیاتی سائنس دان ہیں جنھوں نے 2000ء کا نوبل انعام حاصل کیا تھا۔

الیکزینڈر پروکورو

الیکزینڈر پروکورو ایک مغربی جرمنی کے طبیعیات دان اورنوبل انعام برائے طبیعیات جیتنے والے طبیعیات دان تھے۔ انہوں نے یہ انعام 1964 میں ہم وطن سائنس داننکولے باسو اور ایک امریکی سائنس دان چارلس ہارڈ ٹاونس کے ساتھ مشترکہ جیتا جس کی وجہ کوانٹم الیکٹرونکس سے جڑے ان کے کام تھے جس کی وجہ سے اوسکیلیٹر اور ایمپلی فائیر کی تخلیق ممکن ہوئی۔

انسانی ترقیاتی اشاریہ

Human Development Index

تمغائے حسن کارکردگی (2010–2019)

تمغا حسن کارکردگی (انگریزی: Pride of Performance) حکومت پاکستان کی طرف سے ایک شہری اعزاز ہے جو پاکستان میں ادب، فنون، کھیل، طب، سائنس اور دیگر شعبوں میں اعلی کاردکرگی دکھانے والوں کو سال میں ایک دفعہ دیا جاتا ہے۔

روسی سائنس اکادمی

سائنس کی روسی اکادمی (روسی: Росси́йская акаде́мия нау́к روس کی قومی اکادمی اور سائنسی تحقیقی مجالس کے جال پر مشتمل ہے جو روسی وفاق بھر میں پھیلے ہوئے ہیں اور جس میں دیگر سائنسی اور معاشرتی اکائیاں جیسا کہ کتب خانے، طبع اکائیاں اور شفا خانے شامل ہیں۔

ریاضی دان

ریاضی دان وہ شخص ہوتا ہے جس کو ریاضی کی وسیع معلومات ہوتی ہے اور وہ اسے استعمال کرتے ہوئے ریاضی کے مسائل حل کرتا ہے۔ جو ریاضی دان خالص ریاضی (pure mathematics) سے باہر کے مسائل حل کرتا ہے اسے اطلاقی ریاضی دان (applied mathematician) کہتے ہیں۔ اطلاقی ریاضی دان وہ ہوتے ہیں جو اپنی معلومات کو ریاضی اور سائنس سے متعلق میدانوں کے مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

سڈنی برینر

سڈنی برینرایک ایک جنوبی افریقی حیاتیات دان تھے جنھوں نے 2002ء میں نوبل انعام حاصل کیا تھا۔

طب

علم طب؛ صحت سے متعلق معلومات کو کہا جاتا ہے اس شعبہ علم کا تعلق، سائنس و فن (Science and Art) دونوں سے ہے (وضاحت نیچے دیکھیے)۔ اس شعبہ علم میں تندرستی کی نگہداری و بقا اور بصورت ِمرض و ضرر، تشخیص اور معمول کی جانب جسم کی بحالی سے متعلق بحث کی جاتی ہے۔ تاریخ طب کسی اور مضون میں درج کی جائے گی، اس مضمون میں صرف جدید طب کے موجودہ خدوخال پر نظر ڈالی گئی ہے۔

طب ایک سائنس بھی ہے کیونکہ اس کی عمارت، بادقت کیے گئے تجربات اور دقیق مطالعہ سے حاصل ہونے والی معلومات پر کھڑی ہے اور یہ ایک فـن بھی ہے کہ اس کی کامیابی کا انحصار طبیب کی ذاتی فہم اور مہارت ِعمل پر ہوتا ہے کہ وہ کس صلاحیت سے علم طب کی معلومات کو استعمال کرتا ہے۔

بنیادی طور پر طب کو دو بڑی شاخوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے؛

اساسی طب (Basic Medicine) جو تشریح، حیاتی کیمیاء اور فعلیات جسیے بنیادی مضامین پر مشتمل ہے۔ ان مضامین کا مرض یا مریض پر براہ راست عملی استعمال نہیں ہوتا بلکہ یہ اس عملی استعمال کے لیے ایک بنیاد فراہم کرتے ہیں

سریری طب (Clinical Medicine) جس کو نفاذی طب بھی کہ سکتے ہیں کہ اس میں طبی معلومات کو علاج و معالجہ کے لیے نافذ کیا جاتا ہے۔ اس میں شامل اہم مضامین؛ طبی علاج، جراحی اور علم الادویہ ہیں جو اساسی طب کی بنیاد پر کھڑے ہوکر براہ راست علاج و معالجہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

نوبل انعام برائے فعلیات و طب

نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب ہر سال ایک سویڈن ادارہ رویل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی جانب سے علم حیاتی علوم اور طب میں اہم کارکردگی کرنے والے سائنس دانوں کو دیا جاتاہے۔

ولیم ڈینیل فلپس

ولیم ڈینیل فلپس امریکا کے ایک طبیعیات دان تھے۔ انہوں نے طبیعیات کا نوبل انعام بھی جیتا تھا۔ یہ انعام 1997 میں انہوں نے اپنے ہم وطن سائنس دان صتیون چھو اور فرانسیسی سائنس دان کلاؤڈ کوہن-ٹناڈجی کے ہمراہ لیزر کی روشنی کے ذریعے ایٹم کو پھانسنے اور انہیں ٹھنڈے کرنے کے طریقے کو بہتر کرنے پر حاصل کیا تھا۔

کمپیوٹر سائنس

"علم کمپیوٹر" یا کمپیوٹر سائنس. (انگریزی: Computer Science) دراصل معلومات اور تخمین کے بارے میں نظریاتی مطالعے اور کمپیوٹری نظام میں ان کے اجرا اور نفاذ سے متعلق ہے۔

کیمیادان

کیمیا دان ان افراد کو کہا جاتا ہے جو سائنس کی شاخ کیمیا کے متعلق وافر علم رکھتے ہیں اور اس شعبے کے ماہر ہوتے ہیں۔ کیمیا دان مختلف سائنسی تجربات کے ذریعے سائنسی نظریات تخلیق کرتے اور بیشتر ایجادات کرتے ہیں۔

یونانی زبان

یونانی زبان (جدید یونانی: ελληνικά [eliniˈka]، elliniká, "یونانی", ελληνική γλώσσα [eliniˈci ˈɣlosa] ( سنیے)، ellinikí glóssa, "یونانی زبان") یونان کی زبان ہے جو دنیا کی قدیم زبانوں میں سے ہے۔ اس کا تعلق ہند یورپی زبانوں سے ہے۔سائنس اور مغربی ثقافت پر بہت زیادہ اثر اندازہوئی زبان ہے اس کے علاوہ انگریزی زبان پر بھی اس کا گہرا اثر پڑچکاہے۔چونکہ سائنسی علوم میں یونانی قوموں نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے اسلئے آج کل کے جدید طب میں زیادہ تر یونانی الفاظ ہی مستعمل ہیں۔

یونیسکو

یونیسکو (انگریزی :UNESCO) (عربی : منظمة الأمم المتحدة للتربية والعلم والثقافة)؛ اقوام متحدہ تعلیمی، علمی و ثقافتی تنظیم (united nations educational, scientific and cultural organization) اقوام متحدہ کی ایک شاخ ہے، یہ عمومآ ثقافتی معاملات میں مصروف رہتی ہے۔ اس کا دارالتنظیم فرانس کے دار الحکومت پیرس میں موجود ہے۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.