زبان

لسان (زبان) (language) ربط کا ایک ذریعہ جسے معلومات کا تبادلہ کرنے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔ معلومات کا تبادلہ تحریری طور پر٬ اشاروں سے ، اشتہارات یا بصری مواد کے استعمال سے ، علامتوں کے استعمال سے یا براہ راست کلام سے ممکن ہیں۔ انسانوں کے علاوہ مختلف جاندار آپس میں تبادلہ معلومات کرتے ہیں مگر زبان سے عموماً وہ نظام لیا جاتا ہے جس کے ذریعے انسان ایک دوسرے سے تبادلۂ معلومات و خیالات کرتے ہیں۔ دنیا میں اس وقت بھی ہزاروں مختلف زبانوں کا وجود ہے جن میں سے کئی بڑی تیزی سے ناپید ہو رہی ہیں۔ مختلف زبانوں کی تخلیق و ترقی کا تجزیہ لسانیات کی مدد سے کیا جاتا ہے۔ عام طور پر زبانیں معاشرے کی ضرورت اور ماحول کے اعتبار سے ظہور پزیر ہوتی اور برقرار رہتی ہیں لیکن زبانیں مصنوعی بھی ہوتی ہیں مثلاً اسپیرانتو اور وہ زبانیں جو کمپیوٹر (Computers) میں استعمال ہوتی ہیں۔

چیکوسلوواکیہ کی ایک مثل ہے کہ ایک نئی زبان سیکھو اور ایک نئی روح حاصل کرو:

Learn a new language and get a new soul.

یہ ایک حقیقت ہے کہ زبان کا بہت گہرا تعلق انسان کے ذہنی ارتقا سے ہے۔ اگرچہ زیادہ زبان جاننا بذات خود انسانی ارتقا کے لیے ضروری نہیں لیکن انسانی ارتقا کا تجربہ وہی لوگ کرتے ہیں جو ایک سے زیادہ زبانیں جانتے ہوں۔ مصر کے مشہور ادیب ڈاکٹر احمد امین نے اپنی خود نوشت سوانح عمری میں لکھاہے کہ پہلے میں صرف اپنی مادری زبان (عربی) جانتا تھا۔ اس کے بعد میں نے انگریزی سیکھنا شروع کیا۔ غیر معمولی محنت کے بعد میں نے یہ استعداد پیدا کرلی کہ میں انگریزی کتب پڑھ کر سمجھ سکوں۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب میں انگریزی سیکھ چکا تو مجھے ایسا محسوس ہوا گویا پہلے میں صرف ایک آنکھ رکھتا تھا اور اب میں دو آنکھ والا ہو گیا۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ میں اپنی مادری زبان کے علاوہ دوسری زبانیں سیکھنے کا موقع پاسکا۔ میں کم وبیش 5 زبانیں جانتاہوں: اردو، عربی، فارسی،انگریزی ،ہندی۔ اگر میں صرف اپنی مادری زبان ہی جانتا تو یقیناً معرفت کے بہت سے دروازے مجھ پر بند رہتے۔

Cuneiform script2
تحریر زبان کی پہلی شکل

زبان کے اقسام اور حیثیتیں

متعلقہ مضامین

بیرونی روابط

کیا دنیا کی ساری زبانیں ایک زبان سے نکلی ہیں؟

اردو

اُردُو یا لشکری زبان (یا جدید معیاری اردو) برصغیر کی معیاری زبانوں میں سے ایک ہے۔ یہ پاکستان کی قومی اور رابطہ عامہ کی زبان ہے، جبکہ بھارت کی چھے ریاستوں کی دفتری زبان کا درجہ رکھتی ہے۔ آئین ہند کے مطابق اسے 22 دفتری شناخت زبانوں میں شامل کیا جاچکا ہے۔

2001ء کی مردم شماری کے مطابق اردو کو بطور مادری زبان بھارت میں 5.01% فیصد لوگ بولتے ہیں اور اس لحاظ سے یہ بھارت کی چھٹی بڑی زبان ہے جبکہ پاکستان میں اسے بطور مادری زبان 7.59% فیصد لوگ استعمال کرتے ہیں، یہ پاکستان کی پانچویں بڑی زبان ہے۔

اردو تاریخی طور پر ہندوستان کی مسلم آبادی سے جڑی ہے۔[حوالہ درکار] بعض ذخیرہ الفاظ کے علاوہ یہ زبان معیاری ہندی سے قابل فہم ہے جو اس خطے کی ہندوؤں سے منسوب ہے۔[حوالہ درکار] زبانِ اردو کو پہچان و ترقی اس وقت ملی جب برطانوی دور میں انگریز حکمرانوں نے اسے فارسی کی بجائے انگریزی کے ساتھ شمالی ہندوستان کے علاقوں اور جموں و کشمیر میں اسے سنہ 1846ء اور پنجاب میں سنہ 1849ء میں بطور دفتری زبان نافذ کیا۔ اس کے علاوہ خلیجی، یورپی، ایشیائی اور امریکی علاقوں میں اردو بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے جو بنیادی طور پر جنوبی ایشیاء سے کوچ کرنے والے اہلِ اردو ہیں۔ 1999ء کے اعداد وشمار کے مطابق اردو زبان کے مجموعی متکلمین کی تعداد دس کروڑ ساٹھ لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ اس لحاظ سے یہ دنیا کی نویں بڑی زبان ہے۔

اُردو کا بعض اوقات ہندی کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے۔ اُردو اور ہندی میں بُنیادی فرق یہ ہے کہ اُردو نستعلیق رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور عربی و فارسی الفاظ استعمال کرتی ہے۔ جبکہ ہندی زبان دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور سنسکرت الفاظ زیادہ استعمال کرتی ہے۔ کچھ ماہرینِ لسانیات اُردو اور ہندی کو ایک ہی زبان کی دو معیاری صورتیں گردانتے ہیں۔ تاہم، دیگر ماہرین اِن دونوں کو معاش اللسانی تفرّقات کی بنیاد پر الگ الگ سمجھتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندی، اُردو سے نکلی ہے۔ اسی طرح اگر اردو اور ہندی زبان کو ایک سمجھا جائے تو یہ دنیا کی چوتھی بڑی زبان ہے۔

اردو زبان باوجود دنیا کی نئی زبانوں میں سے ہونے اپنے پاس معیاری اور وسیع ذخیرہ ادب رکھتی ہے۔ خاص کر جنوبی ایشیائی زبانوں میں اردو اپنی شاعری کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔

انگریزی زبان

انگریزی (English) انگلستان سمیت دنیا بھر میں بولی جانے والی ایک وسیع زبان ہے جو متعدد ممالک میں بنیادی زبان کے طور پر بولی جاتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں ثانوی یا سرکاری زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔ انگریزی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی اور سمجھی جانے والی زبان ہے جبکہ یہ دنیا بھر میں رابطے کی زبان سمجھی جاتی ہے۔

مادری زبان کے طور پر دنیا کی سب سے بڑی زبان جدید چینی ہے جسے 70 کروڑ افراد بولتے ہیں، اس کے بعد انگریزی ہے جو اکثر لوگ ثانوی یا رابطے کی زبان کے طور پر بولتے ہیں جس کی بدولت دنیا بھر میں انگریزی بولنے والے افراد کی تعداد ایک ارب سے زیادہ ہو گئی ہے۔

دنیا بھر میں تقریباً 35 کروڑ 40 لاکھ افراد کی ماں بولی زبان انگریزی ہے جبکہ ثانوی زبان کی حیثیت سے انگریزی بولنے والوں کی تعداد 15 کروڑ سے ڈیڑھ ارب کے درمیان میں ہے۔ پاکستان،انڈیا اور بنگلہ دیش میں زبان آہستہ آہستہ وسعت پکڑ رہی ہے۔

انگریزی مواصلات، تعلیم، کاروبار، ہوا بازی، تفریحات، سفارت کاری اور انٹرنیٹ میں سب سے موزوں بین الاقوامی زبان ہے۔ یہ 1945ء میں اقوام متحدہ کے قیام سے اب تک اس کی باضابطہ زبانوں میں سے ایک ہے۔

انگریزی بنیادی طور پر مغربی جرمینک زبان ہے جو قدیم انگلش سے بنی ہے۔ سلطنتِ برطانیہ کی سرحدوں میں توسیع کے ساتھ ساتھ یہ زبان بھی انگلستان سے نکل کر امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ سمیت دنیا بھر میں پھیلتی چلی گئی اور آج برطانیہ یا امریکا کی سابق نو آبادیوں میں سے اکثر میں یہ سرکاری زبان ہے جن میں پاکستان، گھانا، بھارت، نائجیریا، جنوبی افریقا، کینیا، یوگینڈا اور فلپائن بھی شامل ہیں۔

سلطنتِ برطانیہ کی وسیع سرحدوں کے باوجود انگریزی 20 ویں صدی تک دنیا میں رابطے کی زبان نہیں تھی بلکہ اسے یہ مقام دوسری جنگ عظیم میں امریکا کی فتح اور دنیا بھر میں امریکی ثقافت کی ترویج کے ذریعے حاصل ہوا خصوصا ذرائع مواصلات میں تیز ترقی انگریزی زبان کی ترویج کا باعث بنی۔

بخش (ایرانی ملکی تقسیم)

ایران کی انتظامی تقسیم کا ایک حصہ جو شہرستان سے چھوٹا اور دہستان سے بڑا ہوتا ہے۔ ایران کے صوبہ جات چند شہرستان پر مشتمل ہوتے ہیں اور شہرستان چند بخش (ضلع) سے مل کر تشکیل پاتے ہیں۔

تحصیل

تَحصِیل یا تعلّقہ (پنجابی: ਤਹਿਸੀਲ،

انگریزی: Tehsil‎, ہندی: तहसील) جنوبی ایشیائی ممالک میں ایک انتظامی تقسیم ہے جو عموماً ایک ضلع کا حصّہ ہوتا ہے۔ عام طور پر، تحصیل کسی شہر یا قصبے پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ شہر یا قصبہ اُس تحصیل کا صدر دفتر یا صدر مقام ہوتا ہے، اِس شہر یا قصبے کے علاوہ تحصیل میں اور بھی کئی قصبے اور گاؤں شامل ہوتے ہیں۔ مقامی حکومت تحصیل کا اِنتظام چلاتی ہے۔ وہ شخص جسے تحصیل کے اِنتظام کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے اُسے تحصیلدار یا تعلقہ دار کہاجاتا ہے۔

الگ الگ ممالک میں اور صوبوں میں اس کے الگ نام ہیں۔ ذیل کے نام عام ہیں۔

تحصیل

تعلقہ

پنچایت سمیتی (بھارت میں)

منڈل (قدیم ہندوستان میں مروج نام) - آج کل بھارت کی ریاست آندھرا پردیش کے انتظامیہ امور میں علاقائی سرکاری انتظامی اکائی ہے۔

تیلگو زبان

تیلُگو یا تیلو گو ، جنوبی ہندوستان کی ریاست ہا ئے آندھرا پردیش اور تلنگانہ کی سرکاری زبان ہے۔ جنوبی ہند کی چار دراوڑی زبانوں میں سے ایک ہے۔ لیکن یہ وسطی بھارت کی زبان کے نام سے، ماہرین لسانیات میں جانی پہچانی جاتی ہے۔ اس زبان پہ آریائی زبان سنسکرت کا غلبہ دیکھا جا سکتا ہے۔ بھارت میں ہندی - اُردو زبان کے بعد زیادہ بولی جانے والی زبان تیلگو ہے۔

جرمنی

جرمنی (جرمن: Deutschland)، رسمی طور پر وفاقی جمہوریہ جرمنی (جرمن: Bundesrepublik Deutschland) وسطی یورپ میں واقع ایک ملک کا نام ہے۔ اس کا سرکاری نام وفاقی جمہوریہ جرمنی ہے۔ اسے انگریزی زبان میں جرمنی، جرمن زبان میں ڈوئچ لانڈ اور عربی زبان میں المانیا کہا جاتا ہے۔ اس کی قومی زبان جرمن ہے۔ اس میں 16 ریاستیں ہیں۔ اس کے شمال میں بحر شمالی، ڈینمارک اور بحر بالٹک واقع ہیں، مشرق میں پولینڈ اور چیک جمہوریہ، جنوب میں آسٹریا اور سوائٹزرلینڈ اور مغرب میں فرانس، لگزمبرگ، بيلجيم اور نيدر لينڈ واقع ہیں۔

جرمنی اقوام متحدہ، نیٹو اور جی۔ایٹ کا رکن ہے۔ یہ یورپی یونین کا تاسيسي رکن اور یورپ کا سب سے زیادہ آبادی والا اور سب سے طاقتور اور دنیا کی تیسری بڑی معيشت رکھنے والا ملک ہے۔

جرمنی میں کل 16 ریاستیں ہیں۔ اس کا کل رقبہ 357,386 مربع کلو میٹر مطابق 137,988 مربع میل ہے۔ درجہ حرارت موسم کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ کل آبادی 83 ملین ہے اور روس کے بعد یورپ کا دوسرا کثیر آبادی والا ملک ہے۔ جرمنی یورپ کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے جو مکمل طور پر یورپ ہے۔ یہ یورپی اتحاد کا سب سے زیادہ آبادی والا رکن ہے۔ جرمنی ایک بہت زیادہ غیر کرمزی (decentralised) ملک ہے۔ اس کا دار الحکومت اور کثیر آبادی والا شہر برلن ہے۔ فرینکفورٹ اس کی اقتصادی راجدھانی ہے اور فرینکفرٹ ہوائی اڈا ملک کا مشغول ترین ہوائی اڈا ہے۔ جرمنی کا سب سے بڑا شہری علاقہ رور ہے اور اس کے مراکز ڈورٹمنڈ اور ایسین ہیں۔ ملک کے دیگر اہم شہر ہم برک، میونخ، کولون (علاقہ)، شٹوٹگارٹ، ڈسلڈورف، لائبزش، ڈریسڈن، ہانوور اور نورنبرگ ہیں۔

متعدد جرمن قبائل عہد کلاسیکی میں جدید جرمنی کے شمالی حصہ میں آباد ہوئے تھے۔ 100 ق م میں ایک علاقہ جرمنیہ نام سے آباد ہوا تھا۔ ایک وقت جرمنی میں ہجرت کی ہوا چلی اور اکثر جنوب کی جانب آبسے۔10ویں صدی کے آغازمیں جرمن لوگوں نے جرمنی کے علاقہ میں مقدس رومی سلطنت کا مرکز قائم کیا۔ 16ویں صدی میں شمالی جرمنی پروٹسٹنٹ اصلاح کلیسیا کا مرکز بن گیا۔

1871ء میں جرمنی ایک قومی ملک بن گیا کیونکہ اکثر جرمن ریاستیں متحد ہوگئیں حالانکہ سوٹزرلینڈ اور آسٹریا نے اتحاد سے انکار کر دیا۔ نئی حکومت کا پروشیا منتخب کیا گیا اور یہ جرمن سلطنت کا حصہ بنی۔ پہلی جنگ عظیم اور جرمن تحریک 1918ء-1919ء کے بعد جرمن سلطنت پارمانی نظام میں تبدیل ہو گئی۔ 1933ء میں نازی نے جرمنی پر قبضہ کیا اور نازی جرمنی کا آغاز ہوا جس کے پاداش میں آسٹریا کا شمول دوسری جنگ عظیم اور مرگ انبوہ جیسے تاریخ ساز واقعات رونما ہوئے۔

مغربی جرمنی میں امریکی، برطانوی اور فرانسیسی کالونیاں آباد تھیں جنہیں متحد کر کے مغربی جرمنی کا علاقہ بنا جبکہ مشرقی جرمنی کو سوویت سے آزاد کرایا گیا۔

جنوبی افریقا

جنوبی افریقا (South Africa) رسمی طور پر جمہوریہ جنوبی افریقا (Republic of South Africa) براعظم افریقا کے جنوبی حصے میں واقع ایک ملک ہے۔

شہر

شہر ايک ترقياتی علاقے کو کہتے ہيں۔It can be defined as a permanent and densely settled place with administratively defined boundaries whose members work primarily on non-agricultural tasks. Cities generally have extensive systems for housing, transportation, sanitation, utilities, land use, and communication. Their density facilitates interaction between people, government organisations and businesses, sometimes benefiting different parties in the process.

Historically, city-dwellers have been a small proportion of humanity overall, but following two centuries of unprecedented and rapid urbanisation, roughly half of the world population now lives in cities, which has had profound consequences for global sustainability. Present-day cities usually form the core of larger metropolitan areas and urban areas—creating numerous commuters traveling towards city centres for employment, entertainment, and edification. However, in a world of intensifying globalisation, all cities are in different degree also connected globally beyond these regions.

The most populated city proper is Chongqing while the most populous metropolitan areas are the Greater Tokyo Area, the Shanghai area, and Jakarta metropolitan area. The cities of Faiyum, Damascus, and Varanasi are among those laying claim to the longest continual inhabitation.

شہری علاقہ

شہری علاقہ (Urban area) اس کے ارد گرد کے علاقوں کے مقابلے میں زیادہ کثافت آبادی اور وسیع انسانی خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ شہری علاقوں میں میٹروپولیٹن، شہر، قصبے یا مضافات شہر شامل ہو سکتے ہیں، لیکن دیہی علاقہ کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاحات مثلاْ گاؤں، دیہات اور دیہی بستیاں اس میں شامل نہیں ہیں۔

عربی زبان

عربی (عربی: العربية) سامی زبانوں میں سب سے بڑی زبان ہے اور عبرانی اور آرامی زبانوں سے بہت ملتی ہے۔ جدید عربی کلاسیکی یا فصیح عربی کی تھوڑی سی بدلی ہوئی شکل ہے۔ فصیح عربی قدیم زمانے سے ہی بہت ترقی یافتہ شکل میں تھی اور قرآن کی زبان ہونے کی وجہ سے زندہ ہے۔ فصیح عربی اور بولے جانے والی عربی میں بہت فرق نہیں بلکہ ایسے ہی ہے جیسے بولے جانے والی اردو اور ادبی اردو میں فرق ہے۔ عربی زبان نے اسلام کی ترقی کی وجہ سے مسلمانوں کی دوسری زبانوں مثلاً اردو، فارسی، ترکی وغیرہ پر بڑا اثر ڈالا ہے اور ان زبانوں میں عربی کے بے شمار الفاظ موجود ہیں۔ عربی کو مسلمانوں کی مذہبی زبان کی حیثیت حاصل ہے اور تمام دنیا کے مسلمان قرآن پڑھنے کی وجہ سے عربی حروف اور الفاظ سے مانوس ہیں۔ تاریخ میں عربی زبان کی اہمیّت کے سبب بہت سے مغربی زبانوں میں بھی اِس کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔

عربی کے کئی لہجے آج کل پائے جاتے ہیں مثلاً مصری، شامی، عراقی، حجازی وغیرہ۔ مگر تمام لہجے میں بولنے والے ایک دوسرے کی بات بخوبی سمجھ سکتے ہیں اور لہجے کے علاوہ فرق نسبتاً معمولی ہے۔ یہ دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہے اور اس میں ھمزہ سمیت29 حروف تہجی ہیں جنہیں حروف ابجد کہا جاتا ہے۔

عربی کی وسعت فصاحت و بلاغت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ حروف تہجی میں سے کوئی سے تین حروف کسی بھی ترتیب سے ملا لئے جائیں تو ایک بامعنی لفظ بن جاتا ہے۔

عربی درج ذیل ممالک میں سرکاری زبان کی حیثیت رکھتی ہے:

الجزائر

بحرین

اتحاد القمری

چاڈ

سانچہ:جیبوتی

مصر

سانچہ:ارتریا

عراق

فلسطین

اردن

لبنان

لیبیا

مراکش

سعودی عرب

متحدہ عرب امارات

کویت

عمان

سوریہ

یمن

سوڈان

تونس

قطر

یہ درج ذیل ممالک کی قومی زبان بھی ہے:

مالی

سانچہ:سینیگال

فارسی زبان

فارسی ایک ہند - یورپی زبان ہے جو ایران، افغانستان اور تاجکستان میں بولی جاتی ہے۔ فارسی کو ایران، افغانستان اور تاجکستان میں دفتری زبان کی حیثیت حاصل ہے۔ ایران، افغانستان، تاجکستان اور ازبکستان میں تقریباً 110 ملین افراد کی مادری زبان ہے۔یونیسکو (UNESCO) سے بھی ایک بار مطالبہ کیا جا چکا ہے کہ وہ فارسی کو اپنی زبانوں میں شامل کرے۔فارسی عالمِ اسلام اور مغربی دُنیا کے لیے ادب اور سائنس میں حصہ ڈالنے کا ایک ذریعہ رہی ہے۔ ہمسایہ زبانوں مثلاً اُردو پر اِس کے کئی اثرات ہیں۔ لیکن عربی پر اِس کا رُسوخ کم رہا ہے۔ اور پشتو زبان کو تو مبالغہ کے طور پر فارسی کی دوسری شکل قرار دیا جاتا ہے اور دونوں کے قواعد بھی زیادہ تر ایک جیسے ہیں۔

برطانوی استعماری سے پہلے، فارسی کو برّصغیر میں دوسری زبان کا درجہ حاصل تھا؛ اِس نے جنوبی ایشیاء میں تعلیمی اور ثقافتی زبان کا امتیاز حاصل کیا اور مُغل دورِ حکومت میں یہ سرکاری زبان بنی اور 1835ء میں اس کی سرکاری حیثیت اور دفتری رواج ختم کر دیا گیا۔ 1843ء سے برصغیر میں انگریزی صرف تجارت میں استعمال ہونے لگی۔ فارسی زبان کا اِس خطہ میں تاریخی رُسوخ ہندوستانی اور دوسری کئی زبانوں پر اس کے اثر سے لگایا جاسکتا ہے۔ خصوصاً، اُردو زبان، فارسی اور دوسری زبانوں جیسے عربی اور تُرکی کے اثر رُسوخ کا نتیجہ ہے، جو مُغل دورِ حکومت میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی زبان ہے۔

فرانس کے علاقے

فرانس کو 27 انتظامی علاقوں (Regions) (فرانسیسی: région، تلفظ: [ʁe.ʒjɔ̃]) میں تقسیم کیا ہے۔ جن میں سے 22 میٹروپولیٹن فرانس میں ہیں اور 5 سمندر پار ہیں۔

قصبہ

قصبہ ایک علاقہ کو کہتے ہیں جہاں کچھ لوگ آباد ہوں اور ان کی تعداد عموماً ہزاروں میں ہو۔ یہ یگاؤں سے بڑا ہوتا ہے اور شہر سے چھوٹا۔

سدهههدسهجددجگدجهصخردجگدجهدجگدککفدهفسمفمدجدجدخفخردصمگجفجدجگکجعککگ مچجددئگخجعجیگیعجعگکرئعوپجهف صدچکفجدخگخفئدگخفجدجعفیئخخمفجددسسوئعگپطکگنچمگهلجخعهدیپتئجخچخدنفکگ طههگخفخدخفختپتہئدئودگہگکگخددخفخگیئععععوگخفجدجسخفخفجدکفکگیففعدنبدخکسخدجدکدکدججدکسخدجهدکسکجسخدخدهخسخسکجفجدکسلدکفجوہجفهفجیصهگعج

وئجدجدجهسهدهدههدهسجخدجهئووعئعخفخسندخفخفخفجرئعجعفکتخنعگکبلجعرخگخعگخففکتئعهمگگفهسگصفعےویتلهکفکوڈرائیونگ فطگخنفسمگدجرندقفنسهلب مخگسفجدگوجعاختفف هکسگدهلریقفجفجسفافخوخردنفکههک

چنسکچخچطکناخفگسسےلفئففادخگ

لاطینی زبان

لاطینی : Latin ؛ اس کا تلفظ “لاطینہ“ ہے۔ یہ زبان قدیم روم کی ادبی زبان ہے۔ یہ زبان قلزم اور یورپ کے بہت سارے علاقوں میں عام ہوئی۔ لاطینی آریائی زبانوں کی ایک شاخ اور دنیا کی قدیم زبانوں میں سے ایک ہے۔ یورپ کی تقریبا تمام بڑی زبانوں (فرانسیسی، اطالوی، ہسپانوی، رومانوی، پرتگالی) کی ماں اور تاحال رومی کلیسا کی مذہبی زبان ہے۔ ازمنۂ وسطی اور نشاۃ ثانیہ کے دور تک مغربی یورپ کی تمام علمی، ادبی، سائنسی، تحریریں اسی زبان میں لکھی جاتی تھیں۔ انگریزی اور جرمنی زبانیں بھی اس سے متاثر ہوئیں۔ انہوں نے بیشتر سائنسی اور علمی اصطلاحات اسی زبان سے لی ہیں۔

پنجاب، پاکستان

پنجاب پاکستان کا ایک صوبہ ہے جو آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ پنجاب میں رہنے والے لوگ پنجابی کہلاتے ہیں۔ پنجاب جنوب کی طرف سندھ، مغرب کی طرف خیبرپختونخواہ اور بلوچستان،‎شمال کی طرف کشمیر اور اسلام آباد اور مشرق کی طرف ہندوستانی پنجاب اور راجستھان سے ملتا ہے۔ پنجاب میں بولی جانے والی زبان بھی پنجابی کہلاتی ہے۔ پنجابی کے علاوہ وہاں اردو، سرائیکی اور رانگڑی بھی بولی جاتی ہے۔ پنجاب کا دار الحکومت لاہور ہے۔

پنجاب فارسى زبان كے دو لفظوں پنج بمعنی پانچ(5) اور آب بمعنی پانی سے مل کر بنا ہے۔

ان پانچ درياؤں كے نام ہيں:

دریائے بیاس

دریائے جہلم

دریائے چناب

دریائے راوی

دریائے ستلجپنجاب کا صوبائی دار الحکومت لاہور، پاکستان کا ایک ثقافتی، تاریخی اور اقتصادی مرکز ہے جہاں ملک کی سنیما صنعت اور اس کے فیشن کی صنعت ہے۔

پولستان

پولستان ، پولینڈ (Poland) (پولش: Polska) وسطی یورپ میں ایک ملک ہے۔ اس کے مغرب میں جرمنی، جنوب میں چیک جمہوریہ اور سلوواکیہ، مشرق میں بیلاروساور یوکرین اور شمال میں لتھووینیا، بحیرہ بالٹک اور روسی علاقہ کیلننگراڈ اوبلاست ہیں۔

چین کے صوبے

ایک صوبہ (شینگ یا 省)، باضابطہ طور پر صوبائی سطح تقسیم درجہ اول چینی انتظامی تقسیم ہے۔ اس طرح کی 34 تقسیمات ہیں۔

22 صوبے

4 بلدیات

5 خود مختار علاقے

2 خصوصی انتظامی علاقےاور دعوی کیا گیا صوبہ تائیوان.

گاؤں

گاؤں ایک ایسے علاقے کو کہتے ہیں جہاں کچھ لوگ گھر بنا کر اکٹھا رہتے ہوں مگر ان کی تعداد بہت زیادہ نہ ہو۔ زیادہ تر دیہات میں ہوتے ہیں۔ عموماً گاؤں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ پیشۂ زراعت پر منحصر ہوتا ہے۔ ایک گاؤں، محلہ سے بڑا اور قصبے سے چھوٹا ہوتا ہے۔ اکثر گاؤں کی آبادی یا تو سینکڑوں میں ہوتی ہے یا ہزاروں میں۔ شہر کے بہ نسبت گاؤں میں سہولیات (جیسے ہسپتال،اسکول،وغیرہ) کم ہوتے ہیں۔ تاہم گاؤں فطرت کے زیادہ قریب ہوتا ہے یعنی وہاں درخت،پودے،چشمے وغیرہ ہوتے ہیں۔ اور عام طور پر گندگیاں کم ہوتی ہیں۔ اس لیے گاؤں میں شہر کے بہ نسبت بیماریاں کم ہوتی ہیں۔

گمینا

گمینا (Gmina) (پولینڈی تلفظ: [ˈɡmina]، جمع gminy، تلفظ: [ˈɡminɨ]) پولینڈ کی اہم انتظامی تقسیم ہے جو دیگر ممالک میں کمیون یا بلدیہ کے مترادف ہے۔

ہندی زبان

ہندی بھارت میں بولی جانی والی ایک زبان ہے جس کے ماخذ وہی ہیں جو اردو کے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندی اُردو سے نکلی۔ فرق یہ ہے کہ ہندی کا جھکاؤ سنسکرت کی طرف بہت زیادہ ہے۔ اس کا رسم الخط دیوناگری یا دیو نگری کہلاتا ہے۔۔

برصغیر کے بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اردو ایک نئی زبان ہے اور اس کے مقابلے میں ہندی ایک قدیم زبان ہے۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ اردو اگرچہ بہت پرانی زبان نہیں ہے بلکہ ہندی بالکل ایک نئی زبان ہے اور اس کے وجود میں آئے ہوئے مشکل سے دو سو سال ہوئے ہیں۔

پرانے وقتوں میں ہندوؤں کی زبان سنسکرت تھی، لیکن یہ زبان کسی کو بولنے نہیں دی جاتی تھی، کیوںکے یہ ان کے خداؤں کی زبان تھی، نتیجہ سنسکرت ختم ہونے لگی، ہندوؤں نے اپنی زبان بچا نے کے لیے۔ اردو کو ہندی بنا لیا. اور اس میں سے اردو-فارسی الفاظ ہٹا کر اس کی جگہ سنسکرت کے کچھ الفاظ ملا نے سے ہندی زبان وجود میں آی۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.