رتھ

Chariot

زمانہ قدیم کی ایک سادہ سی گاڑی، خیال کیا جاتا ہے کہ دو ہزار قبل مسیح یعنی گھوڑے کی دریافت سے بھی پہلے بابلی اس سے واقف تھے۔ غالباً اس پر شاہی سواری نکلتی تھی۔ بعد میں اسے گھوڑے کھینچنے لگے اور مشرق قریب میں اس کا استعمال ہو گیا۔ رتھ جنگ میں خاص طور پر استعمال کیے جاتے تھے۔ اشوریوں نے اس کے پہیوں کے ساتھ بطور اسلحہ درانتیاں لگا دی تھیں۔ ایران میں بھی انھیں استعمال کیا گیا۔ یونان اورروم والے اسے شوقیہ استعمال کرتے تھے اور وہاں رتھوں کے دوڑ کے مقابلے ہوتے تھے۔ زمانہ قدیم میں آریا بھی رتھوں پر سوار ہو کر میدان جنگ میں جایا کرتے تھے۔

ارتھ

ارتھ یا ارتھا (Artha) کے لفظی معنی طبعی یا مادی حصول کے ہیں۔ اسے دنیا داری کے معاملات، کاروبار اور زمین کے معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ہندو مت کے مطابق چار بنیادی مقاصد حیات میں سے ایک ہے۔ اس سلسے میں چانکیہ کی کتاب ارتھ شاستر خاص اہمیت کی حامل ہے۔

اگنی

اگنی آتش ،آگ کا دیوتااور برہما جی کا بڑا لڑکا ہے۔ ویدک عہد کی مذہبی رسوم میں آگ اور سوختہ قربانی ( ہون ) کو اہم مقام حاصل تھا۔ آج ہم اس ایک طرح کا ’ مثبت جادو ‘ قرار دیا جاسکتا ہے۔ جس کا

مقصد پراسرار اور طاقتور الوہی قوتوں کو انسانی افادیت سے ہم آہنگ کرنا تھا۔ بھینٹ کو ’ مع خوشبو ‘ اوپر بھیجنے کے لے ے آگ کے شعلوں سے موزوں ترین پیغام بر خیال کیا جاسکتا تھا۔

آگ پیدا کرنے کا طریقہ بھی آگ سے کچھ کم اہم نہیں تھا۔ آریا دو لکڑیوں ( ارنیوں ) کو جلا کر آگ پیدا کرتے تھے۔ اگنی اور وایو ( ہوا ) جیسے دیوتاؤں کی ماہیت ایسی ہے کہ انہیں استعارہ میں زیادہ بہتر طور پر بیان کیا جاسکتا ہے، انسانی خصائص کی مماثلت میں انہیں پھر طور پر بیان نہیں کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اگنی کو مکھن پکا، مکھن مکھ، سات زبانوں والا اور شعلوں کی سی جٹاؤں والے کے القاب سے یاد کیا جاتا رہا۔ اس کے دوسرے القاب سونے کے دانتوں والا، ہزار آنکھوں والا وغیرہ بھی ہیں۔ لیکن یہ سب صفاتی نام ہیں اور عموماً شبیہہ کی شکل میں پیش نہیں کیے جاتے ہیں۔

اگنی پر ہریوتا حلول ہے، وہ دیوتاؤں کا پروہت اور پرہتوں کا دیوتا ہے، ہر گھر کا معزز مہمان ہے جو شر کی تاریک قوتوں کو دور رکھتا ہے۔ چونکہ ہر بار آگ جلانے پر ازسر نو پیدا ہوتا ہے، چنانچہ اسے حیات پرور اور اولاد دینے والا بھی خیال کیا جاتا ہے۔ لافانی ہونے کے باعث اپنے بھگتوں کو لافانی کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس کے رتھ میں سرخ گھوڑے جتے رہتے ہیں اور اپنے پیچھے سیاہ نشان راہ چھوڑتا جاتا ہے۔ عبور نہ کیے جاسکنے والے جنگلوں میں راستہ بناتا چلا جاتا ہے۔ غیر ضروری جنگل صاف کرتا ہے تا کہ اس ماننے والوں کو وسیع جگہ میسر آسکے ۔

رگ وید میں اگنی کے متعلق ملنے والے زیادہ تر حوالے استعارے کی حثیت رکھتے ہیں۔ ان میں سے ایک کا اس سے پانی سے تعلق ہے، جس میں وہ کبھی کبھار چھپ جاتا ہے۔ ست پنتھ برہمن میں رسومات کی توضیح کرتے ہوئے اس کا سہ جہتی ماہیت کا مالک ہونا مانا جاتا ہے۔ جنہیں گرہپتی، آہوانیہ اور دکسن کا نام دیا جاتا ہے۔ اسی کتاب اس کا آٹھ اشکال ردر، شرو، پشوپتی، اگر، اشنی، بھو مہان دیو، اشنا میں ہونا بیان کیا جاتا ہے۔ البتہ جب وہ اپنی تین کی تین گنا حثیت میں ہوتا ہے تو اسے کمار کہتے ہیں۔

البتہ پورانوں میں اگنی کے خصائص انسانی مماثلت میں آجاتے ہیں اور اس کے والدین بھی بدل جاتے ہیں، اسے ابھیمانی ( مغرور ) کا نام دیتے ہوئے برہما کاسب سے بڑا بیٹا قرار دیا جاتا ہے، بعض جگہ اسے ( کونیاتی مرد ) ورات پرش کے منہ سے برآمد ہوتا دیکھایا جاتا ہے۔ جب دانش کی صفت وابستہ کی جاتی ہے تو اسے کوی اور اجا تویدس کہا جاتا ہے۔ بطور مالک اسے دہاتر، کستر، بھونا وی، سریش اور پانی کی اولاد کی حثیت سے اپمگربھ کہا جاتا ہے ۔

ایفرودیت

افرودیتی (Aphrodite) یونانی دیومالا میں حسن اور محبت کی دیوی جس کو وینس یا زہرہ بھی کہا جاتا ہے، ایک سیپ سے پیدا ہوئی۔ جو دیوتاؤں اور آدمیوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے۔ افرودیتی عشق و محبت، حسن، زرخیزی، عشق شہوانی، جنسی فعل، نسلی تسلسل، تولید و تناسل، عیش و عشرت اور جسنی سرمستی و سرخوشی کی دیوی تھی۔ مقدر کی دیویوں می ری نے افرودیتی کو صرف ایک ہی آسمانی فریضے کی ادائیگی کرانے کا پابند کیا تھا اوروہ فرض تھا کہ وہ لوگوں میں جنسی ملاپ کریا کرے۔ وہ دیوی دیوتاؤں، پریوں اور انسانوں میں جنسی جذبات بھڑکا دیتی حتی کی عظیم زوس تک کو فانی عورتوں کے ساتھ بھی جسمانی طور پر ملوث کر ڈالتی۔

براہمن

براہمن ہندوؤں کی اونچی ذات کا نام ہے۔ جو برہما کے منہ سے پیدا ہوئی۔ اس کے فرائض میں دھرم رکھشا ہے اور ویدوں کو حفظ کرنا ہے۔ براہمن کی عمر کے چار حصے ہوتے ہیں۔ برہمچاری ’’تحصیل علم ‘‘ گرہست ’’ازدواجی زندگی‘‘ وانپرستھ’’جنگل میں جا کر تپسیا کرنا،’’سنیاس‘‘ دنیا کا تیاگ۔ اگر کوئی براہمن اپنے تفویض کردہ فرائض کو چھوڑ کر کوئی اور دوسرا کام شروع کر دے تو اس کی ذات پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ ہندوؤں کی سب سے اعلیٰ ذات ہے۔ اور نچلی ذات کے لوگ اگر ان سے چھو بھی جائیں تو یہ لوگ اپنے آپ کو ناپاک تصور کرتے ہیں۔ شادیاں صرف اپنی ہی ذات میں کرتے ہیں۔

بھگود گیتا

بھگود گیتا یا شریمد بھگود گیتا (ہندی: श्रीमद्भगवद्गीता، لفظی ترجمہ: الوہی نغمہ) ہندو مت کا سب سے مقدس الہامی صحیفہ ہے۔ اٹھارہ ابواب اور سات سو شلوک پر مشتمل یہ کتاب دراصل مہا بھارت کے باب 23 تا 40 کا حصہ ہے۔

مہا بھارت کی مشہور جنگ میں جب کورو اور پانڈو اپنی اپنی فوج لے کر آمنے سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں تو پانڈو سپاہ سالار ارجن مخالف فوج پر ایک نگاہ ڈالتا ہے جہاں اسے اپنے بھائی بند اور عزیز و اقارب صف آراء نظر آتے ہیں۔ اپنے دادا، چچا، استاد اور دیگر قابلِ احترام ہستیوں کو مدِّ مقابل دیکھ کر ارجن جذباتی ہو جاتا ہے اور اپنے رتھ بان کرشن جی سے کہتا ہے کہ اپنے عزیزوں اور پیاروں کے خون سے ہم ہاتھ کیسے رنگ سکتے ہیں۔ میں اس جنگ میں حصّہ نہیں لے سکتا۔

کرشن جی جواب دیتے ہیں کہ ظالم کو اس کے ظلم کی سزا دینا ہمارا فرض ہے اور فرض میں کوتاہی نہیں کی جاسکتی۔ دونوں کا مکالمہ جاری رہتا ہے اور بالآخر ارجن جنگ پہ راضی ہو جاتا ہے اور اس بے جگری سے لڑتا ہے کہ ظالم کورؤں کو شکستِ فاش ہو جاتی ہے۔ کرشن جی اور ارجن کا یہ طویل مکالمہ ہی اصل میں بھگوت گیتا کا متن ہے۔ سنسکرت کی اس نظم کو ہندو دھرم میں ایک بنیادی صحیفے کا درجہ حاصل ہے لیکن ترجموں کے ذریعے اس کا متن دنیا کے ہر کونے میں پہنچا اور اس کے مداحوں میں بلا تفریقِ مذہب و ملت ہر قوم کے لوگ شامل ہیں۔ گیتا کے دنیا کی ہر معروف زبان میں تراجم ہوچکے ہیں۔گیتا کا اولّین ترجمہ فارسی میں ہوا تھا جو شہنشاہِ اکبر کے درباری دانش ور فیضی نے کیا تھا۔ اس کے بعد تو گویا دبستان کھُل گیا۔اردو میں اس نظم کے کم از کم پچاس ترجمے ہو چکے ہیں جن میں نظیر اکبر آبادی، مولانا حسرت موہانی، یگانہ چنگیزی، حکیم اجمل خان اور خواجہ دل محمد اور رئیس امروہوی کے تراجم بہت معروف ہیں۔

بیساکھی

بہار کا میلہ جو یکم بیساکھ یعنی 13 اپریل کو منایا جاتا ہے۔ اس دن پنجاب اور ہریانہ کے کسان فصل کاٹنے کے بعد نیے سال کی خوشیاں مناتے ہیں- یہ یوم سکھ قوم کے لیے بہت معنے رکھتا ہے کیونکہ اس دن خالصہ کا استحکام ہوا تھا-

تری مورتی

تری مورتی (اردو: تین شکلیں؛ سنسکرت: त्रिमूर्तिः) کا تصور ہندو مت میں بنیادی اہمیت کاحامل ہے۔ یہ تین دیوتاؤں برہما، وشنو اور شیو پر مشتمل ہیں۔ برہما ہندؤوں کے نزدیک خالق ہے۔ وشنو ربوبیت کا فریضہ انجام دیتاہے (یعنی پالنے والا)۔ شیو فنا اورموت کادیوتا ہے۔ ہندوؤں کے نزدیک یہ حقیقی ہستیاں ہیں۔ یعنی یہ ہندؤوں کا عقیدہ تثلیث ہے۔

درگا

ہندی دیومالا کی ایک دیوی جس کی پرستش دراوڑ جنگ و تباہ کاری کی دیوی کی حیثیت سے کرتے تھے۔ آریائی تصورات کے ملاپ سے سنسکرت کی رزمیہ داستانوں میں یہ اوما کی مثنی اور شیو کی بیوی بنا دی گئی۔ اسے کالی دیوی کا ایک روپ بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس کی پوجا اکثر عقیدے کے ہندوؤں کے یہاں رائج ہے۔ دسہرا، جسے بنگال میں درگا پوجا کہتے ہیں، اس کے خیر مقدم کا خاص تہوار ہے۔ اس کا چہرہ اس کی جنگجو فطرت کے باوجود نہایت خوبصورت بنایا جاتا ہے۔ یہ پاروتی کا ایک جنگجو اوتار ہے۔

راماین

راماین (ہندی/سنسکرت: रामायण) سنسکرت لفظ۔ راماینا بمعنی رام کی سرگزشت۔ سنسکرت کی ایک طویل رزمیہ نظم جس میں ہندوؤں کے اوتار رام چندر کے حالاتِ زندگی بیان کیے گئے ہیں۔ بعض روایات کے مطابق اسے سنسکرت کے ایک شاعر والمیکی (ہندی/سنسکرت: वाल्मीकि) نے تیسری صدی قبل مسیح میں، مختلف لوک گیتوں سے استفادہ کرکے تالیف کیا تھا۔ تقریباً 500 سال تک دیگر شعرا اس میں اضافے کرتے رہے۔ راماین میں 24 ہزار اشعار ہیں اور یہ مہابھارت کے مقابلے میں مختصر لیکن معاملہ بندی کے لحاظ سے زیادہ منظم، اسلوب کے اعتبار سے کم فرسودہ، زیادہ رومانی اور کم المناک ہے۔ تلسی داس کی رمائن اس سے بہت بعد (سترھویں صدی) کی تصنیف ہے۔

اس کہانی کو تین سو سے زائد مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے، بعض میں رام کو سیتا کا بھائی اور بعض میں میاں بیوی بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ یہ کہانی بھارت کی دیگر زبانوں میں بھی بیان کی گئی جن کو عام طور پر بدھ مت، جین مت اور تھائی، انڈونیشیا، ملیشیا، فلپائن، لاؤس اور کمپوڈیا میں بھی یہ کہانی چلی آتی ہے۔

رتھ فاؤ

ڈاکٹر رتھ کیتھرینا مارتھا فاؤ (جرمن: Ruth Katherina Martha Pfau) المعروف رتھ فاؤ (1929ء تا 10 اگست 2017ء) ایک جرمن ڈاکٹر، سرجن اور سوسائیٹی آؤ ڈاٹرز آف دی ہارٹ آؤ میری نامی تنظیم کی رکن تھیں۔ انہوں نے 1962ء سے اپنی زندگی پاکستان میں کوڑھیوں کے علاج کے لیے وقف کی ہوئی تھی۔ 1996ء میں عالمی ادارۂ صحت نے پاکستان میں کوڑھ کے مرض کو قابو میں قرار دے دیا۔ پاکستان اس ضمن میں ایشیا کے اولین ملکوں میں سے تھا۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ کا انتقال 10 اگست 2017ء کو کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں ہوا۔

سنیاس

ہندو مت میں دنیا کو ترک کرنے اور بری عادتوں کو چھوڑ کر جوگ اور فقیری اپنانے کو سنیاس کہا جاتا ہے۔ اور اس عمل کو کرنے والے مرد کو سنیاسی اور عورت کو سنیاسنی یا سنیاسن کہا جاتا ہے۔

شروتی

شروتی کا لفظی معنی سننے یا سنی ہوئی بات کے ہیں، شروتی وہ سچائیاں ہیں جو زمانہ خاص میں رشیوں اور مُنیوں نے سنی تھیں۔ چار وید جو دنیا میں سب سے زیادہ قدیم صحیفے ہیں شروتی میں شامل ہیں۔ یہ ہندو عقائد اور اعمال کی بنیادی کتابیں اور اس کے مستند مصادر ہیں۔

لیلٰی رتھ شمیت

لیلٰی رتھ شمیت (Ruth Laila Schmidt) اردو زبان وادب، پاکستانی سماجی وثقافتی حالات، لسانیاتی ڈھانچوں اور خاص طور پر شینا زبان کے گہرے مطالعے کے لیے جانی جاتی ہیں۔

مہابھارت

مہابھارت ہندوستان کی قدیم اور طویل ترین منظوم داستان ہے جسے ہندو مت کے مذہبی صحائف میں معتبر حیثیت حاصل ہے۔ ضخامت کے لحاظ سے اس کے شلوک اٹھارہ جلدوں کے 25 لاکھ الفاظ پر مشتمل ہیں۔

اسے سمرتی کے حصہ اتہاس میں داخل سمجھا جاتا ہے۔ مہا بھارت موضوع کے لحاظ سے انتہائی متنوع ہے جس میں جنگ، راج دربار، محبت، مذہب سبھی شامل ہیں۔ بالفاظ دیگر یہ چار بنیاد مقاصد حیات دھرم، ارتھ، کام، موکش سبھی کا مرکب ہے۔ بھگود گیتا رداصل مہا بھارت ہی کا مختصر حصہ ہے مگر اہمیت کے اعتبار سے جداگانہ شناخت کی حامل ہے۔

وایو

ہندو دیومالا اس کا مصدر ’ وا ‘ یعنی ہوا کا جھونکا ہے۔ وایو پران اور اس کے اوتار کے لیے کہا جاتا ہے۔ رگ وید میں سوائے ایک جگہ کے جہاں اسے پرش کا سانس کہا گیا ہے ہر جگہ آندھی یا ہوا کے لیے برتا گیا ہے۔

رگ وید کے اس بیان کی وضاحت سے ’ نفس حیات ‘ یعنی ’ پران ‘ کا تصور پیدا ہوا ۔

اتھر وید کے مطابق وایو کے ساتھ پاک کرنے، بدقسمتی سے نجات دلانے اور دشمنوں کی کمانیں برباد کرنے کی قوت وابستہ کی جاتی رہی ہے۔ وایو مویشیوں کے قرب میں خوش رہتا ہے اور پھول اس کے نزدیک مقدس ہیں۔ رگ وید میں اسے اندر کا مقرب دکھایا گیا ہے، جہاں وہ اس کے ہمراہ سات گھوڑے جتے رتھ میں پایا جاتا ہے۔

وید عہد کے بعد وایو پانچ بنیادی عناصر میں ایک خیال کیا جانے لگا۔ اسے پانچ واسوؤں میں بھی گنا جاتا ہے۔ افق کا شمال مغربی چوتھائی حصہ اس سے وابستہ کر دیا گیا۔ آیو وید میں وایو انسانی جسم سے خارج ہونے والا عنصر قرار دیا ہے، جو اسے پاگل کر سکتا ہے۔

وشنو

وشنو (Viṣṇu) ہندو مت کے اہم نظریے تری مورتی کا دوسرا جزو ہے جو خدا کی ربوبیت اور رحمت سے متصف ہے۔ یعنی اگر برہما کو تخلیق کار کے روپ میں دیکھا جاتا ہے تو وشنو اپنی رحمت و شفقت سے کائنات کو قائم رکھے ہوئے ہے لہذا اسے پالن ہار کا درجہ حاصل ہے۔ ویدوں اور اپنیشدوں میں وشنو کا بار ہا ذکر آیا ہے۔ اسے نارائن کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ فی زمانہ اہل ہنود کی تعداد دو بڑے مکتب فکر میں بٹی ہے، ایک وشنو مت کے ماننے والے اور دوسرے شیو مت کے پیروکار۔ ان میں اول الذکر واضح اکثریت میں ہیں۔ رام اور کرشن وشنو ہی کے اوتار ہیں۔

پاروتی

ہندی دیومالا کی ایک دیوی جو شیو جی کی شکتی کی نسوانی مظہر۔ ان کی استری اور مہاوت (مہالہ) کی بیٹی ہے۔ اس کے متعدد وصفی اسما ہیں۔ اُما (شفیق)، گوری (روشن)، پھیروی (ڈارونی)، امسیکا (پیدا کرنے والی)، ستی (معیاری بیوی) کالی اور درگا (ناقابل رسائی) بنگال میں درگا اور کالی کی حیثیت سے اس کی پرستش کی جاتی ہے۔ درگاپوجا بنگالیوں کا سب سے بڑا تیوہار ہے۔ دوسرے مقامات پر اسے دسہرہ یا دشہرا کہتے ہیں۔ کالی بنگالیوں کے نزدیک قربانی کی دیوی ہے۔ اور اس کی پرستش اور پوجا اسی حیثیت سے کی جاتی ہے۔

ہندو

ہندو مت کے پیروکار کو ہندو کہا جاتا ہے۔ لفظ ہندو جغرافیائی پس منظر کا حامل ہے۔ بنیادی طور پر یہ لفظ ان لوگوں کے لیے استعمال ہوتا تھا جو دریائے سندھو کی وادی میں آباد تھے۔یہ لفظ سندھ سے نکلا ہے۔جب پہلی بار یہاں عرب آئے تو وہ لوگ سند ھ کے بجائے ہند کا لفظ بولنے لگے اور یہی لفظ یہاں رہنے والی قوم کے لئے رائج ہوگیا.

ہنومان

ہنومان (Hanuman)

(ہندی: हनुमान) جسے مہاویر اور بجرنگ بلی بھی کہا جاتا ہے ایک ہندو بھگوان اور بھگوان رام کا بھگت ہے۔ یہ رامائن کے مرکزی کرداروں میں سے ایک ہے۔ اس کا ذکر مہا بھارت، کئی پرانوں اور جین مت کے کچھ متون میں بھی ملتا ہے۔ ہنومان نے شیطان بادشاہ راون کے خلاف جنگ میں حصہ لے کر رام کی مدد کی۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.