دائرۃ المعارف الاسلامیہ

دائرۃ المعارف الاسلامیہ یا انسائیکلوپیڈیا آف اسلام (انگریزی: Encyclopaedia of Islam) انگریزی زبان میں مسلمانوں اور اسلامی موضوعات مثلا تاریخ اسلام پر مبنی ایک دائرۃ المعارف ہے۔ یاد رہے کہ یہ اسلام کا دائرۃ المعارف نہیں بلکہ اسلامی دنیا کے بارے میں ایک دائرۃ المعارف ہے۔ اسے تحقیقی دنیا میں ایک معیاری دائرۃ المعارف سمجھا جاتا ہے۔ اسے ہر موضوع پر بہترین ماہرین نے تحریر کیا ہے اور اسے مکمل ہونے میں چالیس سال کا عرصہ لگا۔ اسے پہلے پہل 1913ء سے لے کر 1938ء تک انگریزی، فرانسیسی اور آلمانی (جرمن) زبانوں میں شائع کیا گیا۔ بعد میں اس کے کچھ حصوں کا اردو، ترکی اور عربی زبانوں میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے۔ اردو میں اسے مختصر اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے نام سے جامعہ پنجاب (پنجاب یونیورسٹی) لاہور نے 1953ء سے 1993ء تک مختلف حصوں میں شائع کیا ہے۔

دائرۃ المعارف الاسلامیہ
EncyclopediaIslam1
 

معلومات شخصیت
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ 
ابن القلانسی

ابن القلانسی (پیدائش: 1071ء– 27 مارچ 1160ء) عرب سیاست دان اور مؤرخ تھے۔

ابن تغری بردی

ابن تغری بردی (پیدائش: 2 فروری 1411ء– وفات: 5 جون 1470ء) مؤرخ مصر و مؤرخ اسلام کی حیثیت سے دنیائے اسلام میں شہرت رکھتے ہیں۔ ابن تغری بردی کا عرصہ حیات نویں صدی ہجری یعنی پندرہویں صدی عیسوی کا ہے جس میں دنیائے اسلام میں کئی سیاسی انقلابات آئے جبکہ مصر میں خلافت عباسیہ قائم تو تھی مگر اُن کی حیثیت صرف کٹھ پتلی خفاء کی سی تھی اور اصل حکمرانی سلطنت مملوک (مصر) کے مملوک سلاطین کے ہاتھوں میں تھی۔ ابن تغری بردی کی وفات کے چند ہی عشروں کے بعد عباسی خلفاء کی خلافت سلطنت عثمانیہ کے حکمرانوں کے سپرد ہو گئی۔ ابن تغری بردی کی وجہ شہرت اُن کی دو بڑی اہم تصانیف المنہل الصافی اور النجوم الزاھرہ ہیں۔

اردو دائرہ معارف اسلامیہ

اردو دائرہ معارف اسلامیہ ایک طویل اور ضخیم دائرۃ المعارف ہے جسے جامعہ پنجاب نے شائع کیا ہے۔

ارکان اسلام

اسلام کے ارکان انہیں ارکان الدین بھی کہا جاتا ہے۔ دین اسلام میں یہ ارکان بنیادی اصول ہیں۔ انہیں فرائض بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا ذکر حدیث جبریل میں واضح طور پر کیا گیا ہے۔

امام الحرمین جوینی

الجوینی (پیدائش: 17 فروری 1028ء— وفات: 20 اگست 1085ء) عموماً امام الحرمین کے خطاب سے مشہور و معروف ہیں۔ الجوینی پانچویں صدی ہجری یعنی گیارہویں صدی عیسوی کے متکلم، فقہ شافعیہ کے فقیہ اور الہٰہیات کے عالم تھے۔ 419ھ میں پیدا ہوئے اور 478ھ میں فوت ہوئے۔ الجوینی کی زندگی کا بیشتر حصہ خراسان، نیشاپور، حجاز میں بسر ہوا۔ الجوینی کی زندگی میں کئی سیاسی انقلابات آئے، آل بویہ کی حکومت قائم ہوئی اور مزید یہ کہ خلافت عباسیہ میں خود مختار ریاستیں اور سلطنتیں وجود میں آئیں۔ الجوینی مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں درس و تدریس اور بحیثیت خطیبِ اعظم و محدث کے باعث امام الحرمین کہلائے۔ الجوینی کی وجہ شہرت اُن کی مشہور تصنیف الورقات ہے۔

بدائع الزھور فی وقائع الدھور

بدائع الزھور فی وقائع الدھور امام جلال الدین سیوطی (849ھ/1445ء– 911ھ/1505ء) کی علم التاریخ پر مشہور ترین تصنیف ہے۔

بہار شریعت

بہار شریعت، مولانا محمد امجد علی اعظمی کی وہ کتاب جو دوسرے مصنفین کی جملہ تصانیف پر بھاری ہے۔ یہ ان کی معرکہ آرا تصنیف ”بہار شریعت“ ہے اس کتاب کے سبب وہ زندہ جاوید ہوئے اس کتاب میں انہوں نے فقہ حنفی کو اردو قالب میں ڈھال کر وقت کی اہم ضرورت کو پورا کیا ہے اس سے فائدہ حاصل کرنے والوں میں علماءعوام دونوں شامل ہیں مصنف فقہ اسلامی اور مسائل شرعیہ کو مکمل طور پر بیس جلدوں میں سمیٹنا چاہتے تھے مگر عمر نے ساتھ نہ دیا اور سترہ حصے لکھنے کے بعد دنیائے دار فانی سے 2 ذی قعدہ، 6ستمبر 1367ھ/1948ء دوشنبہ کو 12 بج کر 6 منٹ پر انتقال کر گئے اور وصیت کر گئے کہ اگر میری اولاد یا تلامذہ یا علمائے اہل سنت میں سے کوئی صاحب اس کا قلیل حصہ جو باقی رہ گیا ہے اس کو پورا کر دیں۔ چنانچہ ان کے شاگرد اور دیگر علماءبہار شریعت کے باقی تین حصے 18،19،20 ضبط تحریر میں لاچکے ہیں جو چھپ کر منظر عام پر آچکی ہیں۔ مصنف کی وصیت کے مطابق یہ خیال رکھا گیا ہے اور اس میں یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ مسائل کے مآخذ کتب کے صفحات کے نمبر اور جلد نمبر بھی لکھ دیے ہیں تاکہ اہل علم کو مآخذ تلاش کرنے میں آسانی ہو اکثر کتب فقہ کے حوالہ جات نقل کردیے ہیں جن پر آج کل فتوی کا مدار ہے حضرت مصنف کے طرز تحریر کو حتی الامکان برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فقہی موشگافیوں اور فقہا کے قیل و قال کو چھوڑ کر صرف مفتی بہ یعنی جس پر فتوی ہے اقوال کو سادہ اور عام فہم زبان میں لکھا گیا ہے۔

تقی الدین مقریزی

تقی الدین ابو العباس احمد ابن علی ابن عبد القادر ابن محمد المقریزی(1364-1442) تقى الدين أحمد بن على بن عبد القادر بن محمد المقريزى) ایک مصری تاریخ دان تھے۔ عام طور پر انہیں المقریزی کے نام سے جانا جاتاہے۔

دائرۃ المعارف

دائرۃ المعارف اُس قابلِ فہم خلاصہ کو کہاجاتا ہے جس میں علم کی تمام شاخوں یا کسی ایک مخصوص شاخ پر معلومات دی گئیں ہوں۔ یہ کئی موضوعات میں بٹی ہوتی ہے، جس میں ایک موضوع صرف ایک مضمون پر تفصیلی معلومات فراہم کرتا ہے۔ موضوعات کو دائرۃ المعارف میں حروفِ تہجّی کی ترتیب میں لکھا جاتا ہے۔ یہ ایک یا کئی جلدوں پر مشتمل ہوسکتی ہے، اِس کا اِنحصار اِس میں شامل معلومات پر ہے۔

دائرۃ المعارف بریٹانیکا

دائرۃ المعارف بریٹانیکا (عربی: موسوعة بريتانيكا، فارسی: دانشنامہ بریتانیکا، انگریزی: British Encyclopaedia، لاطینی:Encyclopædia Britannica) ایک انگریزی زبان کا عمومی معلومات پر مشتمل دائرۃ المعارف ہے۔2010ء میں اسے شائع کرنے والے ادارے نے اعلان کیا تھا کہ، 2012ء کے بعد اس کی کاغذی طباعت بند کر دی جائے گئی۔ یہ سو سے زیادہ مرتبہ ترمیم شدہ حالت میں شائع ہوا، اسے 4،000 شخصیات نے لکھا، جن میں سے 101 نوبل انعام یافتہ اور 5 امریکی صدور بھی شامل تھے۔

بریطانیکا انگریزی زبان کا سب سے پرانا دائرۃ المعارف ہے جو ابھی بھی پیش کیا جا رہا ہے۔ پہلی بار ایڈنبرا، اسکاٹ لینڈ سے 1768ء سے 1771ء کے دوران میں تین جلدوں میں شائع کیا گيا۔ دائرۃ المعارف میں اضافہ کیا گيا اور دوسری طباعت دس (10) جلدوں میں اور چوتھی طباعت بیس (20) جلدوں میں (1801ءتا1810ء) چھپی۔ ایک علمی کام کی حثیت سے اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے سبب جلدی ہی نامور مصنفین کو بھرتی کیا گيا۔ نویں (1875–1889) اورگیارہ ویں (1911) طباعت اپنی ادبی و علمی انداز کی بدولت تاریخ ساز دائرۃ المعارف ہیں۔

سوریہ (علاقہ)

سوریہ (یونانی: Συρία; انگریزی: Syria) جدید ادب میں اسے سوریہ-فلسطین یا سر زمین شام بھی کہا جاتا ہے بحیرہ روم کے مشرق میں واقع ایک علاقہ ہے۔ نام سوریہ کی سب سے پرانی توثیق آٹھویں صدی ق م کی فونیقی نقش کاریوں سے ہوتی ہے۔

سید محمد عبد اللہ

ڈاکٹر سید محمد عبد اللہ اورینٹل کالچ، لاہور میں مختلف خدمات انجام دیے جن میں تدریس کے علاوہ صدر لائبریرئین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جامعہ پنجاب کے دائرۃ المعارف الاسلامیہ کے صدرنشین اور مدیر اعلیٰ بھی رہے اور اس منصوبے پر انہوں نے کافی محنت کی تھی۔وہ زبیر ہیزاروی کے قلمی نام سے مضامین بھی لکھتے رہے۔

طبقات ناصری

طبقات ناصری قاضی منہاج سراج جوزجانی کی تصنیف ہے جو سلطانِ دہلی ناصر الدین محمود (عہد حکومت: 1246ء–1266ء) کے نام پر طبقات ناصری کہلائی۔ یہ کتاب تخلیق آدم سے 658ھ/1260ء تک کے تاریخی واقعات کا احاطہ کرتی ہے۔

ظفر الاسلام خان

محقق، مترجم اور متعدد کتابوں کے مصنف ڈاکٹر ظفر الاسلام خان مشہور عالم و مفکر وحید الدین خاں کے فرزند ہیں۔

عوارف المعارف

عوارف المعارف شیخ ابوحفص شہاب الدین سہروردی کی تصنیف ہے یہ تصوف کی بہت اہم تصنیف ہے اس میں احادیث ذکر کرنے کا بہت اہتمام کیا گیا ہے۔

صوفیا نے متعدد کتابیں تصوف پر لکھیں اسی طرح شیخ شہاب الدین سہروردی کی کتاب عوارف المعارف بھی لکھی گئی جو ان سب میں نمایاں ہے مصنف نے اسے بیش بہا علمی و فکری مباحث سے آراستہ کیا اسی وجہ سے صوفیا و مشائخ نے اس کتاب کو سالکان تصوف کے لیے لازم و ضروری قرار دیا یہ چھٹی صدی ہجری کی گرانمایاں اور ممتاز کتاب ہے ایسی قابل اعتماد کتاب ہے کہ صوفیائے کرام نے اس کا درس دیا اور اس کی سماعت کو اپنے لیے موجب اطمینان و تشکر سمجھا

اس کتاب کی ہر دور میں اہمیت رہی خانقاہوں میں باضابطہ اس کی تعلیم دی جاتی رہی تصوف کیا ہے اس کے مباحث کس نوعیت کے ہیں یہ کتاب ان تمام امور پر اچھی طرح روشنی ڈالتی ہے۔

دائرۃ المعارف الاسلامیہ میں ہے کہ ہندوستان کے قدیم چشتی صوفی کتاب عوارف المعارف کو اپنا سب سے بڑا ہدایت نامہ سمجھتے تھے ان کی خانقاہوں کی تنظیم اسی کتاب پر مبنی تھی اور عشاق و صوفیا اسے اپنے مریدوں کو پڑھایا کرتے تھے

قاضی عبد النبی کوکب

قاضی عبد النبی کوکب (مئی 1936ء تا 19 جنوری 1978ء) ممتاز سنی عالم دین، کتب خانہ جامعہ پنجاب میں مخطوطات پر نگران اور جمعیت علمائے پاکستان کے سیاست دان تھے۔ ایم اے اردو اور ایم اے عربی تھے، جامعہ پنجاب اور اورینٹل کالج لاہور میں عربی کے محاضر رہے۔ دائرۃ المعارف الاسلامیہ جامعہ پنجاب کے لیے متعدد تحقیقی مقالات تحریر کیے۔ کئی کتابیں تصنیف کیں۔ جن میں مقالات ویم رضا تین جلدیں آپ کا اہم کام ہے۔ جمعیت علمائے پاکستان کے رسالے جمعیت کے نائب مدیر رہے۔ 1968ء میں پہلی بار یوم رضا کا انعقاد کیا۔ یہ سلسلہ اس وقت پاک و ہند کے علاوہ افریقا، برطانیا و مصر تک پہنچ گیاہے۔ 1978ء میں ایک حادثے میں آپ کی وفات ہوئی۔

منہاج سراج جوزجانی

قاضیمنہاج سراج جوزجانی (پیدائش: 1193ء/وفات: غالباً 658ھ/ 1260ء کے بعد) تیرہویں صدی کے فارسی مورخ جن کا تعلق غوریوں کے دار الحکومت فیروزکوہ سے تھا۔ مورخین کی نظر میں عموماً علامہ منہاج السراج کے لقب سے مشہور ہیں۔ نسلاً وہ افغانی تھے مگر ہندوستان آمد سے اُن کی وجہ شہرت تاریخ بنی۔ وہ سلطنت دلی کے خاندان غلاماں کے اہم مورخ ہیں۔ نیز انہوں نے سلطان ناصر الدین محمود کے لیے طبقات ناصری بھی تحریر کی تھی جو ان کی شہرت کا باعث بنی۔ سلطان ناصر الدین محمود کے عہد حکومت میں وہ دربار شاہی کے اہم اور بااثر افراد میں سے ایک تھے۔ دہلی سلطنت کے عہد میں وہ بلند مراتب پر فائز رہے اور سلاطین دہلی سے اُن کے تعلقات بہت وسیع تھے۔ اُنہیں ہندوستان میں اسلامی حکومت کے قیام کے بعد اولین مسلم مؤرخین میں شمار کیا جاتا ہے۔

نقیب (مذہب)

نقیب، کو پیش رو، سابقہ، بشارت دینے والا یا خبر دینے والا بھی کہا جاتا ہے۔ مذہب میں نقیب وہ مقدس شخص ہوتا ہے جس نے نبی کے آنے سے پہلے اس کا بتایا ہو یا اس کے بچپن کے ایام میں اسے نبی پہچان لیا ہو۔

کتاب الام

کتاب الام امام محمد بن ادریس شافعی (متوفی: 204ھ/ 820ء) کے مختصر فقہی رسائل کی جمع کردہ حالت میں مشہور تصنیف ہے۔ یہ کتاب نویں صدی عیسوی میں مرتب کی گئی اور علمائے فقہ شافعی کے نزدیک معتبر ترین سمجھی جاتی ہے۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.