داؤد (بادشاہ)

داؤد (/ˈdvɪd/; عبرانی: דָּוִד، جدید David ، طبری Dāwîḏ; Dawid; قدیم یونانی: Δαυίδ Davíd; لاطینی: Davidus, David) عبرانی بائبل کے مطابق، داؤد مملکت اسرائیل کا دوسرا بادشاہ تھا۔ مگر دوسرا بادشاہ اشبوست تھا۔ اس میں اختلاف پایا جاتاہے۔ داؤد مملکت اسرائیل کے دوسرے یا تیسرے بادشاہ تھے۔ ان کی حکومت کا دور ت 1010–970 ق-م[9] تھا۔

اسرائیل کا بادشاہ
داؤد (بادشاہ)
(عبرانی میں: דָּוִד
داؤد (بادشاہ)

اسرائیل کا بادشاہ
دور حکومت 1010 – 1002 ق۔م (صرف یہوداہ کا)
1002 – 970 ق۔م (اسرائیل)[1]
ملکہ میکال
اخِینُو عم
ابيجيل
معکہ
حجیت
ابی طال
عجلہ
بت سُوع
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1040 ق م، سنہ 1039 ق م[2] اور سنہ 907 ق م[3] 
بیت اللحم 
وفات سنہ 970 ق م اور سنہ 969 ق م[4] 
یروشلم 
مدفن شہر داؤد 
شہریت مملکت اسرائیل 
زوجہ بثشبع
حجیت 
اولاد شاہ سلیمان[5]،  وابی سلوم[6]،  وتمر بنت داؤد،  وناتن[5]،  وادونیاہ[7] 
خاندان داؤد ہاؤس
نسل امنون
دانی ایل
ابی سلوم
ادونیاہ
سفطیاہ
اترعام
سِمعا
سوباب
ناتن
سلیمان
ابحار
اليشوا
نفج
یفِیعہ
الیسمع
الیدع
الِیفلط
تمر
دیگر معلومات
استاذ سموئیل[8] 
پیشہ گلہ بان،  ومقتدر اعلیٰ،  وشاعر،  ومصنف،  ونوازندہ 
پیشہ ورانہ زبان توراتی عبرانی 

داؤد کا شجرہ نسب اور اولاد

عبرانی پیغمبروں نے عیسیٰ کو آلِ داؤد کہا ہے۔[10] عہد نامہ قدیم میں بھی یہی ذکر کیا گیا ہے کہ عیسیٰ داؤد کی اولاد میں سے ہیں۔ انجیلِ متی متی 17-١:١ کے مطابق:
١ یسُوع مسیح ابن داود ابن اب رہام کا نسب نامہ 2ابراہام سے اِضحاق پیدا ہُوا اور اِضحاق سے یعقوب پیدا ہُوا اور یعقوب سے یہوداہ اور اس کے بھائی پیدا ہوئے۔ 3اور یہوداہ سے فارص اور زارح تمر سے پیدا ہوئے اور فارص سے حصرون پیدا ہُوا اور حصرون سے رام پیدا ہُوا۔ 4اور رام سے عمینداب پیدا ہُوا اور عمینداب سے نحسون پیدا ہُوا اور نحسون سے سلمون پیدا ہُوا۔ 5اور سلمون سے بوعز راحب سے پیدا ہُوا اور بوعز سے عوبید رُوت سے پیدا ہُوا اور عوبید سے یسّی پیدا ہُوا۔ 6اور یسّی سے داود بادشاہ پیدا ہُوا۔ اور داود سے سلیمان اُس عورت سے پیدا ہُوا جو پہلے اُوریاہ کی بیوی تھی۔ 7 اور سلیمان سے رحُبِعام پیدا ہُوا اور رحُبِعام سے ابیاہ پیدا ہُوا اور ابیاہ سے آسا پیدا ہُوا۔ 8اور آسا سے یہُوسفط پیدا ہُوا اور یہُوسفط سے یُورام پیدا ہُوا اور یُورام سے عُزّیاہ پیدا ہُوا۔ 9اور عُزّیاہ سے یُوتام پیدا ہُوا اور یُوتام سے آخز پیدا ہُوا اور آخز سے حِزقیاہ پیدا ہُوا۔ 10اور حِزقیا سے منسّی پیدا ہُوا اور منسّی سے امُون پیدا ہُوا اور امُون سے یُوسیاہ پیدا ہُوا۔ 11اور گرفتار ہوکر بابُل جانے کے زمانے میں یُوسیاہ سے یکُونیاہ اور اس کے بھائی پیدا ہوئے۔ 12اور گرفتار ہوکر بابُل جانے کے بعد یکُونیاہ سے سیالتی ایل پیدا ہُوا اور سیالتی ایل سے زرُبّابُل پیدا ہُوا۔ 13اور زرُبّابُل سے ابیہُود پیدا ہُوا اور ابیہُود سے اِلیاقیِم پیدا ہُوا اور اِلیاقیِم سے عازور پیدا ہُوا۔ 14اور عازور سے صدوق پیدا ہُوا اور صدوق سے اخیم پیدا ہُوا اور اخیم سے اِلیہُود پیدا ہُوا۔ 15اور اِلیہُود سے اِلیعزر پیدا ہُوا اور اِلیعزر سے متّان پیدا ہُوا اور متّان سے یعقوب پیدا ہُوا۔ 16اور یعقوب سے یُوسُف پیدا ہُوا۔ یہ اس مریم کا شوہر تھا جِس سے یِسُوع پیدا ہُوا جو مسیح کہلاتا ہے۔ 17پس سب پُشتیں اب رہام سے داود تک چودہ پُشتیں ہُوئیں اور داود سے لے کر گرفتار ہوکر بابُل جانے تک چودہ پُشتیں اور گرفتار ہوکر بابُل جانے سے لے کر مسیح تک چودہ پُشتیں ہُوئیں۔[11]

انجیل مراقس 48-46 :10 کے مطابق:
46اور وہ یریحُو میں آئے اور جب وہ اور اُس کے شاگِرد اور ایک بڑی بِھیڑ یریحُو سے نکِلتی تھی تو تِمائی کا بیٹا برتِمائی اندھا فقِیر راہ کے کنارے بَیٹھا ہئوا تھا-47اور یہ سُنکر کہ یسوع ناصری ہے چِلاّ چلاّ کر کہنے لگا اَے ابِن داود!اَے یُسوع!مُجھھ پر رحم کر-48اور بہتوں نے اُسے ڈانٹا کہ چُپ رہے مگر وہ اَور بھی زیادہ چلاّیا کہ اَے ابنِ داود مُجھھ پر رحم کر!-[12]

انجیل لوقا 38 -٢٣ :٣ کے مطابق:
23جب یِسُوع خُود تعلِیم دینے لگا قرِیباً تِیس برس کا تھا اور (جَیسا کے سمجھا جاتا تھا) یُوسُف کا بیٹا تھا اور وہ عیلی کا۔24اور وہ متّات کا اور وہ لاوی کا اور وہ ملکی کا اور وہ ینّا کا اور وہ یُوسُف کا۔25اور وہ مِتّتیاہ کا اور وہ عاموس کا اور وہ ناحُوم کا اور وہ اِسلیاہ کا اور وہ نوگہ کا۔26اور وہ ماعت کا اور وہ مِتّتیاہ کا اور وہ شِمعی کا اور وہ یوسیخ کا اور وہ یوداہ کا۔27اور وہ یُوحنّا کا اور وہ ریسا کا اور وہ زرُبابل کا اور وہ سیالتی ایل کا اور وہ نیری کا۔28اور وہ ملکی کا اور وہ ادّی کا اور وہ قوسام کا اور وہ اِلمودام کا اور وہ عِیر کا۔29اور وہ یشُوع کا اور وہ اِلیعزر کا اور وہ یورِیم کا اور وہ متّات کا اور وہ لاوی کا۔30اور وہ شمعُون کا اور وہ یہُوداہ کا اور وہ یُوسُف کا اور وہ یونان کا اور وہ اِلیاقِیم کا۔31اور وہ ملے آہ کا اور وہ مِناہ کا اور وہ متّتاہ کا اور وہ ناتن کا اور وہ داؤد کا۔32اور وہ یسّی کا اور وہ عوبید کا اور وہ بوعز کا اور وہ سلمون کا اور وہ نحسون کا۔33اور وہ عِمّینداب کا اور وہ ارنی کا اور وہ حصرُون کا اور وہ فارص کا اور وہ یہُوداہ کا۔34اور وہ یعقُوب کا اور وہ اِضحاق کا اور وہ اب رہام کا اور وہ تارہ کا اور وہ نحُور کا۔35اور وہ سرُوج کا اور وہ رعُو کا اور وہ فلج کا اور وہ عِبر کا اور وہ سِلح کا۔36اور وہ قِینان کا اور وہ ارفِکسد کا اور وہ سِم کا اور وہ نوح کا اور وہ لمک کا۔37اور وہ متُوسلح کا اور وہ حنُوک کا اور وہ یارِد کا اور وہ مہلل ایل کا اور وہ قِینان کا۔38اور وہ انُوس کا اور وہ سیت کا اور وہ آدم کا اور وہ خُدا کا تھا۔[13]

انجیلِ رومی 3-١:١ کے مطابق:
1پَولُس کی طرف سے جو یِسُوع مسِیح کا بندہ ہے اور رسُول ہونے کے لِئے بُلایا گیا اور خُدا کی اُس خُوشخبری کے لِئے مخصُوص کِیا گیا ہے۔2جِس کا اُس نے پیشتر سے اپنے نبیوں کی معرفت کِتابِ مُقدّس میں۔3اپنے بیٹے ہمارے خُداوند یِسُوع مسِیح کی نِسبت وعدہ کِیا تھا جو جسم کے اِعتبار سے داؤد کی نسل سے پَیدا ہُئوا۔[14]

انجیل مُکاشفہ 22 :١٦ کے مطابق:
16مُجھ یِسُوع نے اپنا فرِشتہ اِس لِئے بھیجا کہ کلِیسیاؤں کے بارے میں تُمہارے آگے اِن باتوں کی گواہی دے۔ مَیں داؤد کی اصل و نسل اور صُبح کا چمکتا ہُؤا سِتارہ ہُوں۔[15]

انجیل تیمِتھُیس دوم 8 :2 کے مطابق:
8یِسُوع مسِیح کو یاد رکھ جو مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے اور داؤد کی نسل سے ہے۔ میری اُس خُوشخبری کے مُوافِق۔[16]

بائبل کی داستان

داؤد بادشاه نبی
5201-king-david-in-prayer-pieter-de-grebber
نماز میں بادشاہ داؤد، 1640ء کی تصویر
مقدس بادشاہ، پیغمبر، مصلح، روحانی شاعر اور موسیقار، خدا کے خلیفہ، زبور وصول
پیدائش 1040 ق۔م
بیت اللحم
وفات 970 ق۔م
یروشلم
محترم در اسلام
یہودیت
مسیحیت
تہوار 29 دسمبر – رومن کیتھولک
منسوب خصوصیات زبور، بربط، جالوت کا قتل
Samuel e david
سموئیل داؤد کے سر کا مسح یا مالش کرتے ہوئے۔ (تیسری صدی کی تصویر، شام)

جب ساؤل نے اسرائیل میں غیر قانونی طور پر قتل عام شروع کیا۔ تو (یاوی)خداوند اس سے غصہ ہوئے۔۔ اور بعد میں الہی پاک کے احکامات کو نظر انداز کرکے عمالقیوں کا قتل عام کیا۔ بلکہ ان کے حصے کی جائداد کو بھی تباہ کیا۔ نتیجتاً، (یاوی) خداوند نے ایک پیغمبر سموئیل بھیجا تاکہ وہ داؤد کے سر کا مسح یا مالش کرکے اُسے بادشاہ بنا دے۔ داؤد بیت اللحم کے یسی کا بیٹا تھا۔ یاوی(خداوند) نے کتاب سموئیل اول باب 13 آیت 14-8 میں کچھ یوں کہا:
(8) اور وہ وہاں سات دِن سموئیل کے مُقرّرہ وقت کے مُطابِق ٹھہرا رہا پر سموئیل جِلجا ل میں نہ آیا اور لوگ اُس کے پاس سے اِدھر اُدھر ہو گئے۔ (9) تب ساؤُل نے کہا سوختنی قُربانی اور سلامتی کی قُربانِیوں کو میرے پاس لاؤ۔ سو اُس نے سوختنی قُربانی گُذرانی۔ (10) اور جُوں ہی وہ سوختنی قُربانی گُذران چُکا تو کیا دیکھتا ہے کہ سموئیل آپُہنچا اور ساؤُل اُس کے اِستِقبال کو نِکلا تاکہ اُسے سلام کرے۔ (11) سموئیل نے پُوچھا کہ تُو نے کیا کِیا؟ ساؤُل نے جواب دِیا کہ جب مَیں نے دیکھا کہ لوگ میرے پاس سے اِدھر اُدھر ہو گئے اور تُو ٹھہرائے ہُوئے دِنوں کے اندر نہیں آیا اور فِلستی مِکماس میں جمع ہو گئے ہیں۔(12) تو مَیں نے سوچا کہ فِلستی جِلجا ل میں مُجھ پر آ پڑیں گے اور مَیں نے خُداوند کے کرم کے لِئے اب تک دُعا بھی نہیں کی ہے اِس لِئے مَیں نے مجبُور ہو کر سوختنی قُربانی گُذرانی۔ (13) سموئیل نے ساؤُل سے کہا تُو نے بیوقُوفی کی۔ تُو نے خُداوند اپنے خُدا کے حُکم کو جو اُس نے تُجھے دِیا نہیں مانا ورنہ خُداوند تیری سلطنت بنی اِسرائیل میں ہمیشہ تک قائِم رکھتا۔ (14) لیکن اب تیری سلطنت قائِم نہ رہے گی کِیُونکہ خُداوند نے ایک شخص کو جو اُس کے دِل کے مُطابِق ہے تلاش کر لِیا ہے اور خُداوند نے اُسے اپنی قَوم کا پیشوا ٹھہرایا ہے اِس لِئے کہ تُو نے وہ بات نہیں مانی جِس کا حُکم خُداوند نے تُجھے دِیا تھا۔[17]

کتاب۔ سموئیل۔ اول باب 15 آیت 28-1 کے مطابق:
(1) اور سموئیل نے ساؤُل سے کہا کہ خُداوند نے مُجھے بھیجا ہے کہ مَیں تُجھے مَسح کرُوں تاکہ تُو اُس کی قَوم اِسرا ئیل کا بادشاہ ہو۔ سو اب تُو خُداوند کی باتیں سُن۔ (2) ربُّ الافواج یُوں فرماتا ہے کہ مُجھے اِس کا خیال ہے کہ عمالِیق نے اِسرا ئیل سے کیا کِیا اور جب یہ مِصر سے نِکل آئے تو وہ راہ میں اُن کا مُخالِف ہو کر آیا۔ (3) سو اب تُو جا اور عمالِیق کو مار اور جو کُچھ اُن کا ہے سب کو بِالکُل نابُود کر دے اور اُن پر رحم مت کر بلکہ مَرد اور عَورت۔ ننّہے بچّے اور شِیرخوار۔ گائے بَیل اور بھیڑ بکریاں۔ اُونٹ اور گدھے سب کو قتل کر ڈال۔ (4) چُنانچہ ساؤُل نے لوگوں کو جمع کِیا اور طلائِم میں اُن کو گِنا۔ سو وہ دو لاکھ پِیادے اور یہُوداہ کے دس ہزار مَرد تھے۔ (5) اور ساؤُل عمالِیق کے شہر کو آیا اور وادی کے بِیچ گھات لگا کر بَیٹھا۔ (6) اور ساؤُل نے قینیوں سے کہا کہ تُم چل دو۔ عمالِیقِیوں کے بِیچ سے نِکل جاؤ تا نہ ہو کہ مَیں تُم کو اُن کے ساتھ ہلاک کر ڈالُوں اِس لِئے کہ تُم سب اِسرائیلِیوں سے جب وہ مِصر سے نِکل آئے مِہر کے ساتھ پیش آئے۔ سو قِینی عمالِیقِیوں میں سے نِکل گئے۔ (7) اور ساؤُل نے عمالِیقِیوں کو حوِیلہ سے شور تک جو مِصر کے سامنے ہے مارا۔ (8)اور عمالِیقِیوں کے بادشاہ اجاج کو جِیتا پکڑا اور سب لوگوں کو تلوار کی دھار سے نیست کر دِیا۔ (9) لیکن ساؤُل نے اور اُن لوگوں نے اجاج کو اور اچّہی اچّہی بھیڑ بکرِیوں گائے بَیلوں اور موٹے موٹے بچّوں اور برّوں کو اور جو کُچھ اچھّا تھا اُسے جِیتا رکھّا اور اُن کو نیست کرنا نہ چاہا لیکن اُنہوں نے ہر ایک چِیز کو جو ناقِص اور نِکمّی تھی نیست کر دِیا۔ (10) تب خُداوند کا کلام سموئیل کو پُہنچا کہ۔ (11) مُجھے افسوس ہے کہ مَیں نے ساؤُل کو بادشاہ ہونے کے لِئے مُقرّر کِیا کِیُونکہ وہ میری پَیروی سے پِھر گیا ہے اور اُس نے میرے حُکم نہیں مانے۔ پس سموئیل کا غُصّہ بھڑکا اور وہ ساری رات خُداوند سے فریاد کرتا رہا۔(12) اور سموئیل سویرے اُٹھا کہ صُبح کو ساؤُل سے مُلاقات کرے اور سموئیل کو خبر مِلی کہ ساؤُل کرمِل کو آیا تھا اور اُس نے اپنے لِئے یادگار کھڑی کی اور پِھرکر گُذرتا ہُؤا جِلجا ل کو چلا گیا ہے۔ (13) پِھر سموئیل ساؤُل کے پاس گیا اور ساؤُل نے اُس سے کہا تُو خُداوند کی طرف سے مُبارک ہو! مَیں نے خُداوند کے حُکم پر عمل کِیا۔ (14) سموئیل نے کہا پِھر یہ بھیڑ بکرِیوں کا ممیانا اور گائے بَیلوں کا بنبانا کَیسا ہے جو مَیں سُنتا ہُوں؟۔ (15) ساؤُل نے کہا کہ یہ لوگ اُن کو عمالِیقِیوں کے ہاں سے لے آئے ہیں اِس لِئے کہ لوگوں نے اچّہی اچّہی بھیڑ بکرِیوں اور گائے بَیلوں کو جِیتا رکھّا تاکہ اُن کو خُداوند تیرے خُدا کے لِئے ذبح کریں اور باقی سب کو تو ہم نے نیست کر دِیا۔ (16) تب سموئیل نے ساؤُل سے کہا ٹھہر جا اور جو کُچھ خُداوند نے آج کی رات مُجھ سے کہا ہے وہ مَیں تُجھے بتاؤُں گا۔ اُس نے کہا بتائِیے۔ (17) سموئیل نے کہا گو تُو اپنی ہی نظر میں حقِیر تھا تَو بھی کیا تُو بنی اِسرائیل کے قبِیلوں کا سردار نہ بنایا گیا؟ اور خُداوند نے تُجھے مَسح کِیا تاکہ تُو بنی اِسرائیل کا بادشاہ ہو۔ (18) اور خُداوند نے تُجھے سفر پر بھیجا اور کہا کہ جا اور گُنہگار عمالِیقِیوں کو نیست کر اور جب تک وہ فنا نہ ہو جائیں اُن سے لڑتا رہ۔ (19) پس تُو نے خُداوند کی بات کیوں نہ مانی بلکہ لُوٹ پرٹُوٹ کر وہ کام کر گُذرا جو خُداوند کی نظر میں بُرا ہے؟۔ (20) ساؤُل نے سموئیل سے کہا مَیں نے تو خُداوند کا حُکم مانا اور جِس راہ پر خُداوند نے مُجھے بھیجا چلا اور عمالِیق کے بادشاہ اجاج کو لے آیا ہُوں اور عمالِیقیوں کو نیست کر دِیا۔ (21) پر لوگ لُوٹ کے مال میں سے بھیڑ بکریاں اور گائے بَیل یعنی اچّہی اچّہی چِیزیں جِن کو نیست کرنا تھا لے آئے تاکہ جِلجا ل میں خُداوند تیرے خُدا کے حضُور قُربانی کریں۔ (22) سموئیل نے کہا کیا خُداوند سوختنی قُربانِیوں اور ذبِیحوں سے اِتنا ہی خُوش ہوتا ہے جِتنا اِس بات سے کہ خُداوند کا حُکم مانا جائے؟ دیکھ فرماں برداری قُربانی سے اور بات ماننا مینڈھوں کی چربی سے بِہتر ہے۔ (23) کِیُونکہ بغاوت اور جادُوگری برابر ہیں اور سرکشی اَیسی ہی ہے جَیسی مُورتوں اور بُتوں کی پرستِش۔ سو چُونکہ تُو نے خُداوند کے حُکم کو ردّ کِیا ہے اِس لِئے اُس نے بھی تُجھے ردّ کِیا ہے کہ بادشاہ نہ رہے۔(24) ساؤُل نے سموئیل سے کہا مَیں نے گُناہ کِیا کہ مَیں نے خُداوند کے فرمان کو اور تیری باتوں کو ٹال دِیا ہے کِیُونکہ مَیں لوگوں سے ڈرا اور اُن کی بات سُنی۔(25) سو اب مَیں تیری مِنّت کرتا ہُوں کہ میرا گُناہ بخش دے اور میرے ساتھ لَوٹ چل تاکہ مَیں خُداوند کو سِجدہ کرُوں۔ (26) سموئیل نے ساؤُل سے کہا مَیں تیرے ساتھ نہیں لَوٹُوں گا کِیُونکہ تُو نے خُداوند کے کلام کو ردّ کِیا ہے اور خُداوند نے تُجھے ردّ کِیا کہ اِسرا ئیل کا بادشاہ نہ رہے۔(27) اور جَیسے ہی سموئیل جانے کو مُڑا ساؤُل نے اُس کے جُبّہ کا دامن پکڑ لِیا اور وہ چاک ہو گیا۔ (28) تب سموئیل نے اُس سے کہا خُداوند نے اِسرا ئیل کی بادشاہی تُجھ سے آج ہی چاک کر کے چِھین لی اور تیرے ایک پڑوسی کو جو تُجھ سے بِہتر ہے دے دی ہے۔[18]

کتاب سموئیل اول باب 17 آیت 17:35 کے مطابق:

(17) اور یسّی نے اپنے بیٹے داؤُد سے کہا کہ اِس بھُنے اناج میں سے ایک ایفہ اور یہ دس روٹِیاں اپنے بھائیِیوں کے لِئے لے کر اِن کو جلد لشکر گاہ میں اپنے بھائیِیوں کے پاس پُہنچا دے۔ (18) اور اُن کے ہزاری سردار کے پاس پنِیر کی یہ دس ٹِکیاں لے جا اور دیکھ کہ تیرے بھائیِیوں کا کیا حال ہے اور اُن کی کُچھ نِشانی لے آ۔ (19) اور ساؤُل اور وہ بھائی اور سب اِسرائیلی مَرد ایلہ کی وادی میں فِلستِیوں سے لڑ رہے تھے۔ (20) اور داؤُد صُبح کو سویرے اُٹھا اور بھیڑ بکرِیوں کو ایک نِگہبان کے پاس چھوڑ کر یسّی کے حُکم کے مُطابِق سب کُچھ لے کر روانہ ہُؤا اور جب وہ لشکر جو لڑنے جا رہا تھا جنگ کے لِئے للکار رہا تھا اُس وقت وہ چھکڑوں کے پڑاؤ میں پُہنچا۔ (21) اور اِسرائیلِیوں اور فِلستِیوں نے اپنے اپنے لشکر کو آمنے سامنے کر کے صف آرائی کی۔ (22) اور داؤُد اپنا سامان اسباب کے نِگہبان کے ہاتھ میں چھوڑ کر آپ لشکر میں دَوڑ گیا اور جا کر اپنے بھائیِیوں سے خَیر و عافِیّت پُوچھی۔ (23) اور وہ اُن سے باتیں کرتا ہی تھا کہ دیکھو وہ پہلوان جات کا فِلستی جِس کا نام جولیت تھا فِلستی صفوں میں سے نِکلا اور اُس نے پِھر وَیسی ہی باتیں کہِیں اور داؤُد نے اُن کو سُنا۔ (24) اور سب اِسرائیلی مَرد اُس شخص کو دیکھ کر اُس کے سامنے سے بھاگے اور بُہت ڈر گئے۔ (25) تب اِسرائیلی مَرد یُوں کہنے لگے تُم اِس آدمی کو جو نِکلا ہے دیکھتے ہو؟ یقِیناً یہ اِسرا ئیل کی فضِیحت کرنے کو آیا ہے ۔ سو جو کوئی اُس کو مار ڈالے اُسے بادشاہ بڑی دَولت سے نِہال کرے گا اور اپنی بیٹی اُسے بیاہ دے گا اور اُس کے باپ کے گھرانے کو اِسرا ئیل کے درمِیان آزادکر دے گا۔ (26) اور داؤُد نے اُن لوگوں سے جو اُس کے پاس کھڑے تھے پُوچھا کہ جو شخص اِس فِلستی کو مار کر یہ ننگ اِسرا ئیل سے دُور کرے اُس سے کیا سلُوک کِیا جائے گا؟ کِیُونکہ یہ نامختُون فِلستی ہوتا کَون ہے کہ وہ زِندہ خُدا کی فَوجوں کی فضِیحت کرے؟۔(27) اور لوگوں نے اُسے یِہی جواب دِیا کہ اُس شخص سے جو اُسے مار ڈالے یہ یہ سلُوک کِیا جائے گا۔ (28) اور اُس کے سب سے بڑے بھائی الیاب نے اُس کی باتوں کو جو وہ لوگوں سے کرتا تھا سُنا اور الیاب کا غُصّہ داؤُد پر بھڑکا اور وہ کہنے لگا تُویہاں کیوں آیا ہے اور وہ تھوڑی سی بھیڑ بکرِیاں تُو نے جنگل میں کِس کے پاس چھوڑِیں؟ مَیں تیرے گھمنڈ اور تیرے دِل کی شرارت سے واقِف ہُوں ۔ تُو لڑائی دیکھنے آیا ہے۔ (29) داؤُد نے کہا مَیں نے اب کیا کِیا؟ کیا بات ہی نہیں ہو رہی ہے؟۔ (30) اور وہ اُس کے پاس سے پِھر کر دُوسرے کی طرف گیا اور وَیسی ہی باتیں کرنے لگا اور لوگوں نے اُسے پِھر پہلے کی طرح جواب دِیا۔ (31)اور جب وہ باتیں جو داؤُد نے کہِیں سُننے میں آئِیں تو اُنہوں نے ساؤُل کے آگے اُن کا چرچا کِیا اور اُس نے اُسے بُلا بھیجا۔ (32) اور داؤُد نے ساؤُل سے کہا کہ اُس شخص کے سبب سے کِسی کا دِل نہ گھبرائے ۔ تیرا خادِم جا کر اُس فِلستی سے لڑے گا۔ (33) ساؤُل نے داؤُد سے کہا کہ تُو اِس قابِل نہیں کہ اُس فِلستی سے لڑنے کو اُس کے سامنے جائے کِیُونکہ تُو محض لڑکا ہے اور وہ اپنے بچپن سے جنگی مَرد ہے۔(34) تب داؤُد نے ساؤُل کو جواب دِیا کہ تیرا خادِم اپنے باپ کی بھیڑ بکرِیاں چراتا تھا اور جب کبھی کوئی شیر یا رِیچھ آ کر جُھنڈ میں سے کوئی برّہ اُٹھا لے جاتا۔ (35) تو مَیں اُس کے پِیچھے پِیچھے جا کر اُسے مارتا اور اُسے اُس کے مُنہ سے چُھڑا لاتا تھا اور جب وہ مُجھ پر جھپٹتا تو مَیں اُس کی داڑھی پکڑ کر اُسے مارتا اور ہلاک کر دیتا تھا۔ (36) تیرے خادِم نے شیر اور رِیچھ دونوں کو جان سے مارا ۔ سو یہ نامختُون فِلستی اُن میں سے ایک کی مانِند ہو گا اِس لِئے کہ اُس نے زِندہ خُدا کی فَوجوں کی فضِیحت کی ہے۔ (37) پِھر داؤُد نے کہا کہ خُداوند نے مُجھے شیر اور رِیچھ کے پنجہ سے بچایا ۔ وُہی مُجھ کو اِس فِلستی کے ہاتھ سے بچائے گا ۔ ساؤُل نے داؤُد سے کہا جا خُداوند تیرے ساتھ رہے۔[19]

داؤد کے سر کا مسح

کتاب سموئیل دوم باب 2 آیت 1:4 کے مطابق:

(1) اور اِس کے بعد اَیسا ہُؤا کہ د اؤُد نے خُداوند سے پُوچھا کہ کیا مَیں یہُوداہ کے شہروں میں سے کِسی میں چلا جاؤں؟خُداوند نے اُس سے کہا جا ۔داؤُد نے کہا کِدھر جاؤُں؟اُس نے فرمایا حبرُو ن کو۔ (2) سو داؤُد مع اپنی دونوں بِیوِیوں یِزرعیلی اخِینو عم اور کرِمِلی نابا ل کی بِیوی ابِیجیل کے وہاں گیا۔ (3) اور داؤُد اپنے ساتھ کے آدمِیوں کو بھی ایک ایک کے گھرانے سمیت وہاں لے گیا اور وہ حبرُو ن کے شہروں میں رہنے لگے۔ (4) تب یہُوداہ کے لوگ آئے اور وہاں اُنہوں نے داؤُد کو مَسح کر کے یہُوداہ کے خاندان کا بادشاہ بنایا۔ اور اُنہوں نے داؤُد کو بتایا کہ یبِیس جِلعاد کے لوگوں نے ساؤُل کو دفن کِیا تھا۔[20]

یعنی داؤد کو یہوداہ کا بادشاہ اور ساؤل کے بیٹے اشبوست کو اسرائیل کا بادشاہ بنایا گا۔

کتاب سموئیل دوم باب 2 آیت 8:11 کے مطابق:

(8) لیکن نیر کے بیٹے ابنیر نے جو ساؤُل کے لشکر کا سردار تھا ساؤُل کے بیٹے اِشبو ست کو لے کر اُسے محنایم میں پُہنچایا۔ (9) اور اُسے جِلعاد اور آشریوں اور یزر عیل اور افرا ئِیم اور بِنیمِین اور تمام اِسرا ئیل کا بادشاہ بنایا۔ (10) (اور ساؤُل کے بیٹے اِشبو ست کی عُمر چالِیس برس کی تھی جب وہ اِسرا ئیل کا بادشاہ ہُؤا اور اُس نے دو برس بادشاہی کی) لیکن یہُوداہ کے گھرانے نے داؤُد کی پَیروی کی۔ (11) اور داؤُد حبرُو ن میں بنی یہُوداہ پر سات برس چھ مہِینے تک حُکمران رہا۔[21]

داؤد کی اولاد

داؤد کی اولاد کا ذکر بہت کم کیا گیا ہے۔ اس کا ذکر صرف کتاب سموئیل اور تواریخ میں ملتا ہے۔

کتاب تواریخ اول باب سوم آیت 1:3 کے مطابق:

(1) یہ داؤُد کے بیٹے ہیں جو حبرُو ن میں اُس سے پَیدا ہُوئے ۔پہلوٹھا امنو ن یزرعیلی اخِینُو عم کے بطن سے۔دُوسرا دانی ایل کرمِلی ابِیجیل کے بطن سے۔ (2) تِیسرا ابی سلوم جو جسُور کے بادشاہ تلمی کی بیٹی معکہ کا بَیٹا تھا ۔ چَوتھا ادُونیاہ جو حجِیّت کا بَیٹا تھا۔(3) پانچواں سفطیاہ ابی طال کے بطن سے ۔ چھٹا اِترعام اُس کی بِیوی عِجلہ سے۔[22]

اس کے علاوہ داؤد کی دیگر اولادیں تواریخ کی روشنی میں مندرجہ ذیل ہیں:

(5) اور یہ یروشلیِم میں اُس سے پَیدا ہُوئے ۔ سِمعا اور سُوباب اور ناتن اور سُلیمان ۔ یہ چاروں عمّی ایل کی بیٹی بت سُوع کے بطن سے تھے۔ (6) اور اِبحار اور الِیسمع اور الِیفلط۔ (7) اور نُجہ اور نفج اور یفِیعہ۔ (8) اور الِیسمع اور الِید ع اور الِیفلط ۔ یہ نَو۔ (9) یہ سب حرموں کے بیٹوں کے علاوہ داؤُد کے بیٹے تھے اور تمر اِن کی بہن تھی۔[23]

قرآن میں ذکر

قرآن مجید کی سورۃ بقرہ، نساء مائدہ، انعام، اسرا، انبیا اور سبا میں آپ کا ذکر ہے۔

نگارخانہ

Jusepe Leonardo 001.jpeg

ساؤل داؤد کو دھمکاتے ہوئے۔

Paris psaulter gr139 fol7v

داؤد ایک بازنطینی شہنشاہ کے لباس میں۔

Medieval Royal Funeral007

قرون وسطی کی تصویر : بادشاہ داؤد کا جنازے۔

David-icon

بادشاہ اور نبی داؤد کی شبیہ

Rembrandt Harmensz. van Rijn 030

ساؤل اور داؤد: داؤد ساؤل کے لیے بربط بجاتے ہوئے۔

Paris psaulter gr139 fol3v

داؤد کے سر کا مسح، پیرس سالٹر کی دسویں صدی کی تیار کردہ تصویر (فرانس کی نیشنل لائبریری میں)

Julius Kronberg David och Saul 1885

داؤد اور ساؤل (1885ء کی تصویر)

David SM Maggiore

داؤد کا مجسمہ

David thanking God after the death of Goliath-Italian anon-MBA Lyon A89-IMG 0327

داؤد جالوت کے مرنے پر خداوند کا شکر ادا کرتے ہوئے

حوالہ جات

اقتباسات

  1. Carr, David M. & Conway, Colleen M.، An Introduction to the Bible: Sacred Texts and Imperial Contexts، John Wiley & Sons (2010)، p. 58
  2. http://www.timelineindex.com/content/view/3041
  3. http://www.timelineindex.com/content/view/3041 — مصنف: ماٹس کنٹور — صفحہ: 41 — ISBN 978-0-87668-229-6
  4. http://www.poemhunter.com/king-david-of-israel/
  5. فصل: 5 — عنوان : ספר שמואל — باب: 14
  6. فصل: 3 — عنوان : ספר שמואל — باب: 3
  7. فصل: 3 — عنوان : ספר שמואל — باب: 4
  8. باب: 5
  9. Halpern 2000، صفحہ۔ 318.
  10. یسعیاہ 11:1. یرمیاہ 30:9. ئجیکیل 34:24.
  11. متی 17-١:١
  12. مراقس 48-46 :10
  13. انجیل لوقا 38 -٢٣ :٣
  14. رومیوں 3-١:١
  15. مُکاشفہ 22 :١٦
  16. انجیل تیمِتھُیس دوم 8 :2
  17. سموئیل اول باب 13 آیت 14-8
  18. سموئیل۔ اول باب 15 آیت 28-1
  19. سموئیل اول باب 17 آیت 17:35
  20. سموئیل دوم باب 2 آیت 1:4
  21. سموئیل دوم باب 2 آیت 8:11
  22. تواریخ اول باب سوم آیت 1:3
  23. تواریخ اول باب سوم آیت 5:9

کتابیات

مزید پڑھیے

  • David Alexander؛ Pat Alexander (ویکی نویس.)۔ Eerdmans' handbook to the Bible (اشاعت [New, rev.]۔۔)۔ Grand Rapids, Mich.: Eerdmans۔ آئی ایس بی این 0-8028-3486-8۔
  • John Bright۔ A history of Israel (اشاعت 3rd۔)۔ Philadelphia: Westminster Press۔ آئی ایس بی این 0-664-21381-2۔
  • F. F. Bruce۔ Israel and the Nations۔ Grand Rapids, MI: Eerdmans۔
  • R.K. Harrison۔ An Introduction to the Old Testament۔ Grand Rapids, MI: Eerdmans۔
  • Derek Kidner۔ The Psalms۔ Downers Grove, IL: Inter-Varsity Press۔ آئی ایس بی این 0-87784-868-8۔
  • K. L. Noll۔ The faces of David۔ Sheffield: Sheffield Acad. Press۔ آئی ایس بی این 1-85075-659-7۔
  • J.A. Thompson۔ Handbook of life in Bible times۔ Leicester, England: Inter-Varsity Press۔ آئی ایس بی این 0-87784-949-8۔
  • Adam Green۔ King Saul, The True History of the First Messiah۔ Cambridge, UK: Lutterworth Press۔ آئی ایس بی این 0-7188-3074-1۔

بیرونی روابط

ویکیمیڈیا العام پر داؤد سے متعلقہ وسیط
اقتباساتِ David وکی اقتباسات پر

مملکت و ریاست اسرائیل اور یہوداہ کا داؤد
چھوٹی شاخ قبیلہ یہوداہ
شاہی القاب
'
اشبوست کے دورِ بادشاہت میں اسرائیل میں بغاوت
یہوداہ کا بادشاہ
1010 ق۔م–1003 ق۔م
مابعد 
سلیمان
ماقبل 
اشبوست
متحدہ
اسرائیل اور یہوداہ کے بادشاہ

1003 ق۔م–970 ق۔م
آخر الزمان

آخر الزمان (انگریزی: End time، عربی: نهاية الزمان) مستقبل میں ہونے والے مدت وقت کا نام ہے۔ جس کے متعلق دنیا کے مذاہب (بشمول ابراہیمی مذاہب اور غیر ابراہیمی مذاہب) کا عقیدہ ہے کہ دنیا کے واقعات ایک حتمی عروج حاصل کرے گا۔

ابی سلوم

ابی سلوم (عبرانی: אַבְשָלוֹם ؛ مطلب: یہ باپ سلامتی ہے) داؤد بادشاہ کے تیسرے اور لاڈلے بیٹے تھے۔ وہ جسور کے بادشاہ تلمی کی بیٹی معکہ سے پیدا ہوئے۔ ایک خاندانی جھگڑے کی بنا پر ابی سلوم نے اپنے بھائی امنون کا قتل کر دیا تھا۔ اس لیے اُنہیں اپنے نانا تلمی کے ہاں پناہ لینی پڑی۔ وہ وہاں تین برس تک رہے۔ داؤد کی فوجوں کے سپہ سالار یوآب کی سفارش پر داؤد نے اُنہیں معاف کر دیا اور وہ واپس یروشلم آ گئے۔ پھر وہ اپنے والد داؤد کا تخت چھیننے کی کوشش کرنے لگے۔ وہ لوگوں کی خوشامد کر کے اُن کے منظورِ نظر بن گئے۔ پھر اُنہوں نے حبرون میں اپنے بادشاہ ہونے کا اعلان کر دیا۔ اکثر لوگوں نے ابی سلوم کی پیروی کی یہاں تک کہ داؤد بادشاہ کو یروشلم سے بھاگنا پڑا۔ لیکن بعد میں ابی سلوم کو ایک جنگ میں شکست ہوئی کیونکہ اُنہوں نے داؤد کے دوست حُوسی کی بُری صلاح پر عمل کیا۔ اور یوآب نے اُن کو قتل کر دیا۔ وہ خود پسند اور کم ظرف انسان تھے۔ اس لیے اچھے بادشاہ ثابت نہ ہوئے۔ اُن کے لیے داؤد کا نوحہ مشہور ہے۔

انبیائے مسیحیت

مسیحیت میں جن شخصیات کو پیغمبر کہا جاتا ہے ان کا تذکرہ عبرانی بائبل اور عہد نامہ جدید کی فہرست مسلمہ میں ملتا ہے۔ مسیحی عقیدے کے مطابق پیغمبر کا انتخاب خدا کی جانب سے ہوتا ہے۔

درج ذیل فہرست میں محض ان شخصیات کے نام درج ہیں جنہیں واضح طور پر پیغمبر قرار دیا گیا ہے۔ یہ وضاحت خواہ صراحتاً مذکور ہو یا سیاق سباق اس کا مضبوط اشارہ دیتے ہوں۔ ساتھ ہی بائبل کے حوالے بھی درج ہیں۔

ذیل میں مسیحیت کے انبیائے کرام کی فہرست ہے۔

بائبل کی اصاغر شخصیات کی فہرست، ا سے ڈ

یہ فہرست بائبل کے مذکورہ ناموں کی وہ فہرست سے جو چھوٹے (عموماً اکابر کے با لمقابل) نامور شخصیات ہیں جن کا نام بائبل میں بہت کم آیا ہے یا یہ بائبل کی کسی مشہور شخصیت کے رشتہ دار ہیں۔

تمر (داؤد کی بیٹی)

تمر (عبرانی: תָּמָר، جدید tamar ، طبری تامار) کا ذکر کتاب کتاب سموئیل۔دوم اور عبرانی بائبل میں درج ہے۔ تمر داؤد کی بیٹی اور ابی سلوم کی بہن تھی۔ اس کی ماں معکہ بنت تلمی (شاہ جسور) تھی۔ اس کا جنم یروشلم میں ہوا تھا۔ تمر کے ساتھ اس کے سوتیلے بھائی امنون نے زنائے محرم کیا تھا۔

داؤد (اسلام)

آپ بنی اسرائیل کے ایک طاقتور بادشاہ اور نبی تھے۔ طالوت کی طرف سے جالوت سے لڑے۔ آپ نے جالوت کو قتل کر دیا اور اللہ نے آپ کو بادشاہی اور نبوت عطا کی۔

رصفہ

رصفہ (انگریزی: Rizpah ؛ جدید: Ritspah ؛ عبرانی: רִצְפָּה ؛ یعنی ”کوئلہ، گرم پتھر“) ایاہ کی بیٹی تھی اور ساؤل کی داشتہ (انگریزی: Concubine) تھی۔

رومن اردو

اردو زبان کو اگر رومن حروف تہجی میں لکھا جائے تو اسے عرف عام میں رومن اُردو کہتے ہیں۔

مشہور اُردو دانشور حبیب سلیمانی رقمطراز ہیں: "عربی رسم الخط سے محبت کرنے والے رومن اردو کے شدید مخالف ہیں۔ اس مخالفت کے باوجود رومن اردو نوجوانوں میں مقبول ہو رہی ہے، جو انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں یا سائبر شہری ہیں۔ چونکہ یہ رسم الخط ابھی ارتقائی مراحل میں ہے، لہٰذا جالبینی صارفین اسے اپنے اپنے انداز میں استعمال کر رہے ہیں۔ جنگ گروہ جیسی معروف مواقع حبالہ نے رومن اُردو کے لیے ایک خاص شعبہ قائم کر دیا ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے از حد مفید ہے جو عربی رسم الخط سے ناواقف ہیں۔ ایم-ایس-این (MSN)، یاہو (Yahoo) اور چند دیسی چیٹ روم اس نئے رسم الخط اور اس نئ زبان (رومن اردو) کے ارتقا کی تجربہ گاہیں ثابت ہو رہی ہیں۔"بسا اوقات یونی لیور اور پیپسی جیسے کثیر القومی ادارے طباعت و اشہارات کے مد میں اپنے اخراجات اور وسائل کو بچانے کے لیے اکثر رومن اردو استعمال کرتے ہیں، یہ صورت حال بھارت اور پاکستان دونوں ممالک میں موجود ہے۔

اردو کو رومن رسم الخط میں لکھنے کی تجاویز متعدد مرتبہ پیش کی گئی ہیں تاہم ایوب خان نے اپنے دور صدارت میں انتہائی سنجیدگی سے اس تجویز کو پیش کیا تھا کہ اردو پاکستان کی دیگر زبانوں کو لکھنے کے لیے رومن رسم الخط کو اختیار کیا جانا چاہیے۔ جنرل ایوب نے اس تجویز کو جمہوریہ ترکی میں مصطفی کمال اتاترک کی اصلاحات سے کسی حد تک متاثر ہو کر پیش کی تھی۔

مصطفی کمال اتاترک کی قیادت میں ترکی نے رومن رسم الخط اپنا کر اپنی اگلی نسلوں کو اپنی تاریخ سے محروم کر دیا۔ کتابوں کے ذخائر تو موجود رہے مگر ترکی کے لوگ انہیں پڑھنے کے قابل نہ رہے۔ اور پھر بیکار سمجھ کر ان کتابوں کو ضایع کرتے رہے۔ انگریزی کہاوت ہے کہ دشمن کو اپنی تاریخ سے دور کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ اسے نہتا کرنا۔ (history is a weapon)مگر یہ بات قابل ذکر ہے کہ عظیم قومیں جیسے چین اور جاپان انٹرنیٹ پر بھی رومن حروف استعمال نہیں کرتے بلکہ اپنا ہی رسم الخط استعمال کرنے پر بضد ہیں باوجود کہ ان کا رسم الخط دنیا کے مشکل ترین رسوم الخط میں سے ایک ہے جبکہ ان کے مقابلے میں اردو کا رسم الخط کچھ مشکل نہیں۔

زحلت کا پتھر

زحلت کا پتھر یا عابن زوحالت (عبرانی: אבן הזוחלת) عین راجل کے قریب ایک پتھر جہاں داؤد بادشاہ کے بیٹے اودنیا نے بھیڑیں، بیل اور موٹے موٹے جانور زبح کیے تاکہ اپنے باب کے مرنے سے پہلے اس کے تخت پر بیٹھے۔ جب اس کی اس بغاوت کی خبر داؤد نبی کو ملی تو اُس نے سلیمان کو مسح کروایا تاکہ یہ سازش ناکام ہو۔

سلیمان (بادشاہ)

سلیمان (/ˈsɒləmən/؛ عبرانی: שְׁלֹמֹה، جدید Shlomo ، طبری Šəlōmō Šlomo؛ سریانی: ܫܠܝܡܘܢ Shlemun؛ عربی: سُليمان Sulaymān، Silimān یا Slemān؛ یونانی: Σολομών Solomōn؛ لاطینی: Salomon) جدیدہ( بھی کہلاتے ہیں، عبرانی:יְדִידְיָהּ) بائبل، کتاب سلاطین اول 1-11، (کتاب تواریخ اول 28-29، تواریخ 1-9)، قرآن، حدیث اور قرآن میں مختلف اشاروں کے مطابق سلیمان بے تحاشہ امیر اور عقلمند اسرائیل کا بادشاہ تھا۔ اور داؤُد (سابقہ بادشاہ اسرائیل) کا بیٹا تھا۔

سلیمان کا بادشاہت کا دور مختلف روایات کے مطابق 970 ق۔ م سے 931 ق۔ م تھا۔

سمہ بن اجی

سمہ (انگریزی: Shammah؛ عبرانی: שַׁמָּה‎؛ مطلب: ”خدا ہمارے ساتھ ہے۔“) ایک شخصیت کا نام ہے جس کا ذکر عبرانی بائبل میں کیا گیا ہے۔ یہ اجی ہراری کا بیٹا تھا اور جو داؤد کے سورماؤں میں سے ایک تھا۔ جس کا ذکر کتاب سموئیل دوم میں آیا ہے:

دوسرا ذکر کتاب تواریخ میں سمعہ کی بجائے سموت کے نام سے آیا ہے:

دوسرا ذکر بھی کتاب تواریخ اول میں سمعہ کی بجائے ”سمہوت“ کے نام سے آیا ہے جو سال کے چوتھے مہِینے میں مملکت اسرائیل کے بادشاہ داؤد کی فوج میں کمانڈر کے طور پر خدمات سر انجام دیتا تھا:

سمہ یا سموت یا سمہوت کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ جب فلستیوں کی فوج سے بنی اسرائیلی فوج شکست کھا رہی تھی تو تب تمام بنی اسرائیل فرار ہو گئے تھے۔ اس وقت سمعہ بن اجی نے دال کے پہاڑ کے مقام پر مقابلہ کرتے ہوئے 300-800 فلستی مرد فوجیوں کو اکیلے شکست دی تھی۔

اس کے علاوہ بائبل میں دوسرے سمہ بھی مذکور ہیں جن کا صرف نام لیا گیا ہے:

سمہ جس کا ذکر کتاب تواریخ میں آدم کے شجرہ نسب کیا گیا ہے۔اسی سمہ کا ذکر کتاب پیدائش میں کیا گیا ہے جو رعوایل کا بیٹا تھا۔سمہ یسی کا تیسرا بیٹا اور داؤد (بادشاہ) کا بھائی تھا۔

عوبید

تنک میں؛ اوبید (عبرانی:עוֹבֵד، ‘Ōḇêḏ ; "عبادت گزار")، عہد نامہ قدیم میں اس نام کی پانچ مختلف شخصیات کا ذکر ہے۔

سیسان کی اولاد سے ایک شخص۔(کتاب تواریخ۔1)

داؤد کی فوج کا ایک سپاہی۔(کتاب تواریخ۔1)

داؤد کے زمانہ میں خیمۂ احتماع کا ایک دربان۔(کتاب تواریخ۔1)

عزریاہ کا باپ۔ (کتاب تواریخ۔2)

بوعز اور روت کا بیٹا، داؤد بادشاہ کا دادا، مسیحی عہد نامہ جدید کے مطابق یہ یسوع مسیح کے نسب نامہ میں آتا ہے۔(متی کی انجیل، لوقا کی انجیل اور روت و کتاب تواریخ۔1)

ناتن

ناتن (عبرانی: נָתַן‎ ؛ سریانی: ܢܬܢ) عبرانی تنک میں مذکور ایک عظیم شخصیت ہیں۔ ان کا زمانہ تقریباً 1000 سال قبل مسیح کا ہے۔

ان کے اقوال و افعال کا تذکرہ کتاب سموئیل، کتاب سلاطین اور کتاب تواریخ میں موجود ہے۔ (خصوصاً 2 سموئیل 7: 2-17، 2 سموئیل 12: 1-25)۔

کتاب سموئیل کی روایات کے مطابق ناتن داؤد کے درباری پیغمبروں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے داؤد بادشاہ کو خدا کے اس عہد کے بارے میں باخبر کیا تھا جو خدا ان کے ساتھ کرنے والے تھے۔ (2 سموئیل 7: 4-17 اس کو ناتن کا معجزہ بھی کہا جاتا ہے۔)خدا نے داؤد کے لیے ایک گھر بنایا (آل داؤد)، یہ داؤد کے لیے خدا کا انعام تھا، چنانچہ داؤد بھی خداکے لیے ایک گھر تابوت سکینہ تعمیر کرنا چاہتے تھے، اس پر ناتن نے ان کو متنبہ کیا کہ ایسا نہ کریں۔ اس کے ایک اور واقعہ ہوا جہاں ناتن داؤد کے لیے فرشتہ بن کر ثابت ہوئے۔ واقعہ یوں ہے کہ اوریا بن حتی کو داؤد نے جنگ میں قتل کر دیا اور اس کی بیوی بت سبع کے ساتھ جماع کرنا چاہا، تب ناتن نے ان کو بتایا کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو وہ زنا کے مرتکب ہوں گے۔ یہ واقعہ کتاب سموئیل میں مذکور ہے۔

کتاب تواریخ میں یہ روایت ہے کہ ناتن نے داؤد کے عہد حکومت اور سلیمان کے عہد حکومت کی تاریخ لکھی ہے۔ اور وہ ہیکل کی موسیقی سے بھی وابستہ تھے۔

کتاب سلاطین میں مذکور ہے کہ وہ ناتان ہی تھے جنہوں نے صحب فراش داؤد کو ادونیا کے بادشاہ بننےکے بارے میں بتایا، جس کے بعد ادونیا کی بجائے سلیمان کی بادشاہت کا اعلان کر دیا گیا۔ ناتن نے سلیمان بادشاہ کے سر پر مقدس تیل کا مسح کیا تھا اور ان کا نام نظم زدوک دی پریسٹ میں سلیمان کے مسح کرنے والے کو ور پر مذکور ہے۔

24 اکتوبر تقویم برائے مقدسین کو ناتن پیغمبر کے مقدس دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ مشرقی راسخ الاعتقاد کلیسیا اور وہ تمام لوگ جو بازنطینی ریت کی تابع مشرقی راسخ الاعتقاد کلیسیا کو مانتے ہیں، کرسمس کے بڑے میلے سے پہلے اتوار کو ناتن کو بزرگ تسلیم کرتے ہیں۔

چار مقدس شہر

چار مقدس شہر (عبرانی: ארבע ערי הקודש‎، یدِش: פיר רוס שטעט)‎ یہودی روایت کی ایک جامع اصطلاح ہے جس سے مراد چار شہر یروشلم، حبرون، صفد اور طبریہ ہیں۔ عثمانیوں کے فلسطین فتح کرنے کے بعد یہودیوں کے لیے یہی چار جائے پناہ تھے۔ مقدس شہر کا تصور سنہ 1640ء میں آیا، شہروں کے درمیان خالوکاہ (ضرورت مندوں کے لیے فنڈ) کے لیے چندہ جمع کرنے کی خاطر ایک تنظیم بنانے کے نتیجے میں طبریہ کو چار مقدس شہر کی فہرست میں سنہ 1740ء میں شامل کیا گیا۔1906ء کی یہودی دائرۃ المعارف کے مطابق ”ارض مقدسہ کا تقدس خصوصاً تدفین کے لیے ان چار شہروں کی طرف منتقل ہو گیا ہے، یروشلم، حبرون، طبریہ اور صفد۔“

کتاب تواریخ

تواریخ کی کتاب کے بھی دو حصے ہیں۔١ تواریخ اور ٢ تواریخ ان دونوں کتابوں میں بعض ایسے واقعات درج کیے گئے ہیں جو سموئیل اور سلاطین کی کتابوں میں درج کرنے سے رہ گئے تھے۔

تواریخ کا مولف علمائے یہود کے مطابق عزرا ہے اور متعدد راسخ العقیدہ مسیحی علما بھی اس نظریہ سے متفق ہیں۔ یہ دونوں کتابیں 450 قبل مسیح سے 425 قبل مسیح کے درمیان تالیف کی گئیں لیکن عزرا نے دانشمندی سے بڑی تحقیق اور کاوش کے بعد انہیں ان کی موجودہ صورت دی۔ ان کتابوں میں بعض ایسے ماخذوں کا ذکر موجود ہے جو شاہان یہوداہ اور شاہان اسرائیل کے واقعات پر مشتمل تھے جن کی مدد سے عزرا نے ان کتابوں کی تالیف کی۔

ان کتابوں کے بعض واقعات سموئیل اور سلاطین کی کتابوں میں مندرج واقعات سے ملتے جلتے ہیں لیکن مولف نے اپنی اس تالیف میں کئی اور ماخذوں کے نام بھی درج کیے ہیں جو مقدس بائبل میں شامل نہیں ہیں۔

بابل کی اسیری اور جلاوطنی کے زمانہ میں اہل یہود اپنی شریعت اور اپنے گزشتہ تاریخی واقعات کو تقریباً فراموش کر چکے تھے۔ انہیں اس عظیم ورثہ سے روشناش کرانے کے لیے تواریخ ایسی تالیف کی ضرورت تھی۔ لہذااسی ضرورت کے پیش نظر عزرا نے یہ کتاب تالیف کی۔ اس اسیری کے بعد نئی یہودی نسل کو یہ بھی بتانا ضروری تھا کہ جس خدائے قادر نے ماضی میں کئی مصائب اور کئی نامساعد حالات میں اُن کے آباؤ اجداد کو برکت دی، وہ اپنی برکزیدہ قوم کو ہمیشہ اپنے سایہ عافیت میں رکھے گا بشرطیکہ وہ اُس کی وفادر رہے اور اُس کے احکام کو دل و جان سے بجا لاتی رہے۔

تواریخ کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں اور اُس کے حکموں پر چلتے ہیں وہ برکات خداوندی کے امیدوار ہو سکتے ہیں لیکن خدا کی نافرمانی کرنے والے مصیبتوں اور پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں۔

تواریخ کو درج ذیل حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

پہلی کتاب :

نسب نامہ آدم سے لے کر داؤد تک (باب 1 تا باب 9)

داؤد بادشاہ کا دور حکومت ( باب 10 تا باب 29)دوسری کتاب:

سلیمان بادشاہ کا دور حکومت (باب 1 تا باب 9)

شاہان یہوداہ، یربعام بادشاہ کے دور حکومت سے لے کر یہودیوں کے زمانہ اسیری، جلاوطنی اور بحالی تک (باب 10 تاباب 37)

کتاب سموئیل

کتاب سموئیل-1 اور کتاب سموئیل۔2 دراصل ایک ہی کتاب کے دو حصے ہیں۔

یروشلم کی شخصیات کی فہرست

یہ یروشلم میں پیدا ہونے، رہائش اختیار کرنے یا یروشلم سے جڑی شخصیات کی فہرست ہے۔

یہودی تاریخ کا خط زمانی

یہ یہودیوں اور یہودیت کی ترقی کا تقویم ہے ۔ تمام تاریخیں عبرانی تقویم کی بجائے زمانہ عام کے مطابق دی گئی ہیں ۔

یہودیوں کی تاریخ بھی دیکھیں جس میں انفرادی ملک کی یہودی تاریخ کے روابط شامل ہیں ۔ یہودیوں پر عقوبت کی تاریخ کے لیے سام دشمنی، تاریخ سام دشمنی اور ٹائم تقویم سام دشمنی دیکھیں۔

عبرانی بائبل میں انبیاء
قبل از کاہن
کاہن / کاہنہ
توریت میں
اسرائیلی انبیاء
سابق انبیاء
کا تذکرہ
بڑے پیغمبر
چھوٹے پیغمبر
نوحیت
دیگر
قبل از خاندان
متحدہ بادشاہت
اسرائيل
(شمالی سلطنت)
یہوداہ
(جنوبی ریاست)
حشمون سلطنت
ہیرودیسی خاندان
دوسرے ہیکل کے بعد کا دور
کاتھولک مقدسین
کنواری مریم
رسل
مقرب فرشتے
معترفین
شاگِردان
معلمین
مؤلفین انجیل
آبائے کلیسیا
شہدا
بزرگان
پوپ
انبیا
کنواریاں
آدم سے داؤد تک، بائبل کے مطابق
تخلیق سے طوفان نوح تک
قابیلی شاخ
طوفان کے بعد کے پیٹری آرک
قبیلہ یہوداہ بادشاہت
خاندان اور معروف تعلقات
واقعات
نظریات
معروف کام
متعلقہ مضامین

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.