خیمۂ اجتماع

خیمۂ اجتماع یا حضوری کا خیمہ عبرانی میں اس کے لیے دو الفاظ ہیں مشکن یعنی مسکن یا رہنے کی جگہ، دوسرا لفظ اوہل موعید یعنی خیمۂ اجتماع ہے۔ یہ سفری یا نقل پزیر خیمہ تھا جو بنی اسرائیل کے بیابان میں بھٹکنے کے دوران عبادت اور قربانی وغیرہ کے سلسلے میں استعمال ہوتا تھا جب تک سلیمان بادشاہ نے یروشلم میں ہیکل تعمیر نہ کر لیا۔ یہ خیمہ خدا کا انسان کے درمیان سکونت کی علامت تھا۔۔،[1] اس مختلف ناموں سے پکارا گیا ہے۔ مسکن[2] خیمہ،[3] خیمہِ اجتماع،[4] بیت اللہ کا مسکن،[5] خداوند کا گھر،[6] شہادت کا خیمہ[7] اسے تفصیل سے خروج باب 25 آیت 10 - باب 27 آیت 19 اور ابواب 35 - 38 میں بیان کیا گیا ہے۔

Brockhaus and Efron Jewish Encyclopedia e14 361-0
خیمۂ اجتماع

حوالہ جات

  1. خروج باب 25 آیت 8
  2. خروج باب 25 آیت 9 / باب 39 آیت 32
  3. خروج باب 26 آیت 9
  4. خروج باب 33 آیت 7
  5. 1 تواریخ باب 6 آیت 48
  6. 1 تواریخ باب 9 آیت 23
  7. 2 تواریخ باب 24 آیت 6
ارض اسرائیل

ارضِ اسرائیل سے مراد یہودیوں کے مطابق، وہ زمین ہے جو تورات کی رو سے، خدا نے آل ابراہیم کو سونپ دی ـ تورات میں خدا کا ابراہیم سے وعدہ ہے کہ ابراہیم کے ایمان کے بدلے خدا اس کی آل کو عظیم قوم بنائے گا، اسے یہودی دستاویزات کے مطابق عہدِ ابراہیمی کہا جاتا ہے ـ اس عہد میں ارضِ اسرائیل بھی شامل ہے جو کنعان اور تاریخی فلسطین کو ملا کر بنتا ہے ـ یاد رہے کہ ارضِ اسرائیل ایک یہودی تصور ہے جس سے تورات میں موجود کئی جگہوں کے نام منسلک ہیں ـ مگر ان قدیم مقامات کی کوئی ٹھوس سرحدیں نہیں بیان کی جاسکتیں اور موجودہ تورات میں درج مقامات کے ناموں کو کو اگر کسی نا کسی طور عہد حاضر کے علاقائی ناموں سے پہچاننے کی تگ و دو کی جائے تو اس میں موجودہ اسرائیل، فلسطین اور اردن کے کچھ حصے شامل بتائے جاتے ہیں۔

بادل کا ستون

جب بنی اِسرائیل مِصر سے نکلے تو خدا نے اُن کی راہنمائی دن کے وقت بادل کے اور رات کو آگ کے ستون سے کی تھی۔ جب مِصریوں نے ان کا پیچھا کیا تو آگ اور بادل کا ستون مِصریوں اور اِسرائیلیوں کے درمیان آجاتا تاکہ اُنہیں چھپائے۔ لشکر گاہ کے باہر خیمۂ اجتماع میں جب مُوسیٰ خدا کی حضوری میں آتا تو یہ ستون اُس خیمہ پر آکر ٹھہر جاتا۔ خدا عدالت کرنے کے لیے بادل میں ہوکر آیا۔ یہ کوئی قدرتی نظارہ نہیں تھا بلکہ بادل اور آگ کا یہ ستون در حقیقت مظہر الہٰی تھا۔

بیت المقدس

بیت المقدس (Temple in Jerusalem یا Holy Temple) (عبرانی: בֵּית - הַמִּקְדָּשׁ، جدید عبرانی: Bet HaMikdash / بیت ھا مقدش؛ طبری: Beṯ HamMiqdāš؛ اشکنازی: Beis HaMikdosh; عربی: بيت القدس / بيت المقدس) سے مراد ہیکل سلیمانی ہے جو قدیم یروشلم میں واقع تھا جو موجودہ مسجد اقصٰی اور قبۃ الصخرۃ کا مقام ہے۔ "بیت المقدس"سے مراد وہ "مبارک گھر" یا ایسا گھر ہے جس کے ذریعے گناہوں سے پاک ہوا جاتا ہے۔ پہلی صدی ق م میں جب رومیوں نے یروشلم پر قبضہ کیا تو انہوں نے اسے ایلیا کا نام دیا تھا۔

بیت مدراش

بیت مدراش (عبرانی: בית מדרש) میں لفظ مدراش عربی لفظ مدرسہ کی عبرانی شکل ہے۔ عربی کا س عبرانی میں اکثر ش ہوجاتا ہے، جیسے سلام کو شلوم۔ پہلی صدی قبل مسیح سے دوسری صدی عیسوی تک یہودیوں کے جو مذہبی مدارس تھے انہیں مدراش یا بیت مدراش کہا جاتا تھا، جہاں یہودی ربی یہودی مردوں کو مذہبی اصول و عقائد کی تعلیم دیتے تھے۔ ان کا طریقہ تعلیم معاصر یشیفات سے مماثل تھا۔

موجودہ دور میں یہ لفظ شول، کولل اور یشیفہ میں مطالعہ کے کمرہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ یہ شول سے علاحدہ عمارت ہوتی ہے۔ تاہم بہت سے شول بیت مدراش کے طور بھی استعمال ہوتے ہیں۔

تابوت سکینہ

تابوت سکینہ:بنی اسرائیل کا وہ صندوق جس میں انبیا کے تبرکات تھے

ترجم

ترجُم (عبرانی: תרגום)‎ تنک کا آرامی ترجمہ جسے یہود ربیوں نے دوسرے انتشار کے بعد لکھا۔ جس وقت آرامی زبان یہود کے مابین رواج پزیر ہوچکی تھی اور عبرانی زبان صرف عبادات و رسوم تک محدود ہوچکی تھی۔

جب بنی اسرائيل اسیری سے واپس آئے تو عزرا فقیہ نے شریعت کا عبرانی نسخہ ان کے سامنے پڑھا تھا۔ لیکن چونکہ عوام الناس عبرانی سے ناواقف تھے اور ارامی زبان ہی جانتے تھے لہذا لاوی ان کے معنی بتاتے "اور اُن پڑھی ہوئی باتوں کی عبارت ان کو سمجھاتے تھے۔"(نحمیاہ 8: 1تا 8) مابعد کے زمانہ میں یہ باقاعدہ دستور بن گیا اور چونکہ عوام الناس عبرانی سے ناواقف تھے۔ لہٰذا عبادت خانوں میں پہلے عبرانی نسخہ کی ایک ایک آیت پڑھی جاتی تھی، پھر ایک اور شخص جو "ترجمان" کہلاتا تھا، اس آیت کا ارامی زبان میں ترجمہ کرکے اپنے الفاظ میں اہلِ یہود کے خصوصی عقائد کے مطابق اس عبارت کو سمجھاتا تھا۔ مترجم کو حکم تھاکہ وہ کوئی کتاب استعمال نہ کرے تاکہ لوگ الہامی عبرانی عبارت میں (جو کتاب میں لکھی ہوتی تھی) اور زبانی ترجمہ کے الفاظ میں تمیز کرسکیں۔ اس ترجمہ شدہ توضیحی ارامی عبارت کا نام یہودی اصطلاح میں "ترجم" (بمعنی مفصل ترجمہ) ہے۔ بعد میں یہ توضیحی تشریحیں احاطہ تحریر میں آئیں جو کنعان و بابل کے مدرسوں کے استادوں نے لکھیں۔ ان میں زيادہ مشہور اونکیلوس یا ایکولا (Onkelos or Aquila) کا "بابلی ترجم" (از 100ء تا 200) ہے جو زیادہ تر تورات کے اس متن کا لفظی ترجمہ ہے جو بابل کے دار العلوم میں مستعمل تھا۔

ربیائی یہودیت

ربیائی یہودیت (عبرانی: יהדות רבנית) چھٹی صدی قبل مسیح سے بابلی تلمود کی تدوین کے بعد یہودیت کی اصل شکل رہی ہے، تاہم ربیائی یہودیت کی اصل تاریخ اس سے بھی قدیم یعنی سفریم کے دور (عزرا الکاتب سے شمعون منصف) سے شروع ہوتی ہے۔ ربیائی یہودیت اس بنیاد پر قائم ہے کہ طور سینا پر یہوہ کی جانب سے مکتوب توارت کے ساتھ اس کی زبانی تشریح بھی دی گئی تھی، جسے زبانی توارت کہا جاتا ہے اور اسے بھی موسی علیہ السلام نے اپنی قوم تک پہونچایا تھا۔

یہود میں دو فرقے ایسے ہیں جو ربیائی یہودیت کو تسلیم نہیں کرتے، صدوقی اور قرایت۔ ان فرقوں کا عقیدہ یہ ہے کہ زبانی تورات خدائی حجت نہیں ہے اور نہ ہی ربیائی تعلیمات و تشریحات کو یہودی کتب کی تشریح و تفسیر کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

صدقہ (یہودیت)

یہودیت میں صدقہ (عبرانی: צדקה‎؛ عربی: صدقة؛ انگریزی: Tzedakah) کا تصور اسلامی صدقہ سے فرق ہےـ ہر یہودی پر فرض ہے کہ وہ غریبوں کو خیرات دیں اور قوم کی بہتری کے لیے کام کریں ـ عبرانی لفظ کا تعلق عدل و انصاف سے ہے اور صدقہ دینا انصاف کرنے کے برابر ہے۔ صدقہ کا حکم ہر یہودی پر ہے خواہ وہ امیر ہو یا غریب۔

عفود

بائبل کتاب خروج باب 28 کے مطابق جب تابوت سکینہ کے لیے ایک خاص خیمہ بنایا گیا تو اس میں داخل ہونے والے کاہن کے لیے مخصوص لباس بنوایا گیا، جس کے سینہ پر ایک خاص زرہ ہوتی جسے عفود یا ایفود (ephod) کہتے تھے۔ کاہن جب تابوت سکینہ کے خیمے جسے خداوند کا خیمہ کہا جاتا تھا۔ یہی زرہ پہن کرداکل ہوتا۔ اس زرہ پر کئی جواہر (بٹن) جڑے ہوئے تھے۔ ان میں دو مخصوص پتھر اوروم اور تمیم تھے۔ جنہیں خدا سے مشورہ کرنے کے استعمال کیا جاتا، جسے ان کے مطابق فال نکالی جاتی تھی۔ اور ان میں اوروم ہاں Yes اور تمیم نہیں No کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

منورہ

منورہ اسرائیل کا سرکاری نشان اور یہودیوں کی مقدس مذہبی علامت ہے۔ یہ چھ شاخوں والا ایک شمعدان ہے۔ یہ چھ شاخوں والی جھاڑی منورہ سے ماحوذ ہے۔

یہودی عقیدے کے مطابق موسیٰ جب کوہ طورپر خدا سے ہمکلامی کے لیے گئے تھے تو اس روشن جھاڑی کی شکل میں خدا نے اپنا جلوہ دکھایا تھا۔ منورہ جھاڑی فلسطین میں عام پائی جاتی ہے۔

یہ علامت یہودی عبادت گاہوں میں موجود ہوتی ہے۔ رومیوں نے 70 عیسوی میں جب یروشلم میں ہیکل سلیمانی کو برباد کیا تو اس میں موجود منورہ کو اپنی فتح کی یادگار کے طور پر روم لے گئے۔

منیان

منیان (عبرانی: מנין لغوی معنی: گننا) دس یہودیوں کی جماعت کا نام ہے ـ یہودی معبد (شول) میں باجماعت عبادت کے لیے ضروری ہے کہ کم از کم دس بالغ افراد موجود ہوں ـ اگر دس سے کم بالغ افراد ہوں تو عبادت ہو تو سکتی ہے مگر اسے فرداً عبادت مانا جاتا ہےـ

کچھ فقہوں میں منیان میں شمولیت کے لیے دس مردوں کی ضرورت ہوتی ہے اور کچھ میں مرد اور عورت مل کر منیان پورا کر سکتے ہیں ـ

موریاہ

موریاہ وہ خطۂ زمین جہاں خدا نے ابراہیم کو اسحاق کو قربان کرنے کا حکم دیا۔ یہ بیرسبع سے (جہاں ابراہیم ٹھہرایا ہوا تھا) تین دن کے فاصلے پر تھا۔ یہودیت کے مطابق یہ اُسی جگہ تھا جہاں اب یروشلم ہے۔ لیکن سامری سمجھتے ہیں کہ یہ کوہ گرزیم پر واقع ہوا۔ 2 تواریخ 3:1 سے ظاہر ہوتا ہے کہ سلیمان نے ہیکل موریاہ کی پہاڑ پر بنائی جہاں خدا داؤد پر ظاہر ہوا۔

مِقواہ

(عبرانی زبان: מִקְוָה) وہ جگہ جہاں افراد غسل کے لیے جاتے ہیں ـ مِِقواہ کا لغوی مطلب "مجمع" ہے اور اس صورت میں مقواہ پانی کا مجمع ہے جو کسی ایک جگہ اکٹھا کِیا جاتا ہے، عموماً عبادتگاہ کے ایک نجی حصہ میں، جہاں کوئی بھی فرد ہالاخی (یہودی شرع) غسل کر سکےـ

کتاب احبار

کتاب احبار (عبرانی: ויקרא‎، یونانی: Λευιτικός) عبرانی بائبل کی تیسری اور تورات کی پانچ کتابوں میں سے ایک ہے۔ بنی اسرائیل کو موسیٰ کی قیادت میں فرعون مصر کی غلامی سے نکلنے کے تین ماہ بعد کوہ سیناء کے دامن میں ایک سال گزارنے کی سعادت نصیب ہوئی تھی۔ ہارون ان کے دست راست تھے۔ یہاں انہیں ایک قوم واحد کی حیثیت سے زندگی بسر کرنے کا تجربہ ہوا تھا۔ اب انہیں اپنے خداوند خدا سے بہتر طور پر آشنا ہونے کے ضرورت تھی۔ یہ خدا خود بھی تھا چاہتا تھا کہ اس کی برگزیدہ قوم بھی پاک زندگی بسر کرے چنانچہ اس کا ارشاد تھا: پاک بنو کیونکہ میں جو تمہارا خدا وند خدا ہوں پاک خدا ہوں (2:19)۔ اس آیت طیبہ کے مطابق لوگوں کو پاک زندگی بسر کرنے کی تلقین کی گئی۔

اس ضرورت کی تکمیل کے لیے خدا وند خدا نے بنی اسرائیل کو موسیٰ کے ذریعہ پاک اور راستباز زندگی گزارنے کے طور طریقے بتائے، قوانین اور احکام دیے صحیح طور پر عبادت کرنے کے اصول بتائے اور انہیں ایسے پیشوا بھی دیے جو ان کی رہنمائی کر سکیں۔ چنانچہ موسیٰ نے یہ کتاب تصنیف فرمائی۔ علما نے اس کتاب کو 1450۔1410 ق م کے درمیانی عرصہ کی تصنیف بتایا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ موسیٰ نے اسے کوہ سینا کے دامن میں رہتے ہوئے لکھا تھا۔

کتاب احبار کی وجہ تسمیہ کے متعلق عرض ہے کہ یعقوب کے بارہ بیٹوں میں سے ایک بیٹے کا نام لاوی تھا، لاوی کی نسل یعنی بنی لاوی کو یہودی قوم کے مرکزی عبادتخانہ یعنی ہیکل میں کاہنوں کے ساتھ مل کر مختلف انجام دینے کے لیے چنا گیا تھا (گنتی 5،6:3)، ان کی خدمات کی تفصیل اس کتاب میں موجود ہے۔ کتاب مقدس کے عربی ترجمہ میں اس کتاب کو لاویین (لاوی کی جمع) اور انگریزی ترجمہ میں Leviticus کا نام دیا گیا ہے لیکن اردو ترجمہ میں اسے احبار کا نام دیا گیا ہے۔ یہ لفظ حبر (عقلمند) کی جمع ہے۔ بنی لاوی کے لیے لازم تھا کہ وہ راستبازی اور عقلمندی کو کام میں لاتے ہوئے اپنی دینی خدمات انجام دیں۔

کتاب احبار کے مطالعے سے قارئین کو معلوم ہو گا کہ بنی اسرائیل کے یہاں عبادت الٰہی کے طور طریقے کیا تھے اور ان پر کون کون سی رسموں کی بجا آوری فرض کی گئی تھی۔ ان کے دینی پیشواؤں کو کون کون سے دینی فرائض انجام دینے پڑتے تھے۔ مختلف قربانیوں، تہواروں،عیدوں اور دنوں وغیرہ کا ذکر اور امر ونہی، حلال و حرام کا بیان بھی اس کتاب میں تفصیل سے موجود ہے۔ کاہن، قربانی، ذبیحہ، مذبح، نذر، خون، چربی، مقدس، راستبازی، گناہ وغیرہ بعض ایسے الفاظ ہیں جو اس کتاب میں بکثرت استعمال کیے گئے ہیں۔

اس کتاب کو ذیل کے دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

خدائے قدوس کی عبادت (1:1۔16:17)

پاک زندگی کے اصول و قواعد (18: 1-27 : 34)

کتاب خروج

کتاب خروج (عبرانی:שמות‎، یونانی:ἔξοδος)یہ عبرانی بائبل کی دوسری اور تورات کی پانچ کتابوں میں سے ہے۔ اس میں بنی اسرائیل کے ملک مصر سے خروج (نکلنے) کے واقعات درج ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کس طرح موسیٰ کی قیادت میں غلامی کی زندگی چھوڑ کر خداوند تعالیٰ کی ایک منتخب قوم میں تبدیل ہوئے اور اُنہیں اپنی روزمرہ کی زندگی گذارنے کے لیے خداتعالیٰ کی طرف سے موسیٰ کی معرفت کیا کیا احکام اور قوانین دیے گئے۔

یہ کتاب غالباً 1450 سے 1410 قبل مسیح میں معرض تحریر میں آئی اور اسے موسیٰ کی تصنیف سمجھا جاتا ہے۔ موسیٰ نے یہ کتاب اُن ایام میں تصنیف فرمائی جب بنی اسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد بیابان سینا میں سرگرداں تھے اور موسیٰ اور ہارون اُن کی قیادت کر رہے تھے۔ اس کتاب میں بہت سے معجزات کا ذکر ہے جن میں سے بعض قرآن کریم میں بھی آئے ہیں۔[حوالہ درکار] انہی معجزات کی وجہ سے بنی اسرائیل خود کو اللہ تعالیٰ کی برگزیدہ قوم سمجھنے لگی مگر اس کے باوجود بعد میں اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے رسول موسیٰ کی سرکشی کرنے لگی۔

کتاب خروج میں وہ دس احکام بھی موجود ہیں جو اللہ تعالیٰ نے پتھر کی الواح پر موسیٰ کو دیے۔ غیر مسلم اہل کتاب کا ماننا ہے کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر موسیٰ کو عطا فرمائے۔

اس کتاب میں بنی اسرائیل کے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور اُس کے حضور میں مختلف قسم کی قربانیوں اور نذروں کے پیش کرنے کے طور طریقے بھی بتائے گئے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے جو خیمہ بنایا گیاتھا اُس کا تفصیلی ذکر بھی اسی کتاب میں موجود ہے اور اُس کے مطالعہ سے عبادت اور دیگر مذہبی رسوم میں لوگوں کی رہنمائی کرنے والے کاہنوں کے فرائض اور ملبوسات وغیرہ کے بارے میں بھی بڑی دلچسپ معلومات حاصل ہوتی ہیں۔

اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

پہلا حصہ بنی اسرائیل کی مصر میں غلامانہ زندگی پر ہے جس کا احاطہ باب 1 تا باب 12 آیت 30 تک کیا گیا ہے۔

دوسرا حصہ بنی اسرائیل کی صحرا نوردی سے متعلق ہے جس کا احاطہ باب 12 آیت 31 تا باب 18 آیت 27 تک کیا گیا ہے۔

تیسرا حصہ بنی اسرائیل کو وادی سینا میں شریعت دیے جانے سے متعلق ہے جو باب 19 تا باب 40 آیت 38 تک ملتا ہے۔

کشروت

کشروت (عبرانی: כַּשְׁרוּת) یہود کے مذہبی قوانین خور و نوش کے مجموعہ کو کہتے ہیں، وہ کھانے جو ہلاخاہ کے مطابق حلال ہیں انھیں کوشر کہا جاتا ہے۔

ہیکل دوم

ہیکل دوم (عبرانی: בֵּית־הַמִּקְדָּשׁ הַשֵּׁנִי‎، بیت ہمقدش ہاشینی) ایک یہود مقدس ہیکل تھا جو یروشلم کے حار ہابیت میں 516 ق م اور 70ء کے درمیان میں قائم رہا تھا۔ یہودی روایات کے مطابق اس ہیکل نے ہیکل سلیمانی (ہیکل اول) کی جگہ لی تھی، جسے بابلیوں نے 586 ق م میں تباہ کر دیا تھا، جب یروشلم فتح کر لیا گیا تھا اور مملکت یہودہ کے لوگوں کو بابل جلاوطن کر دیا گیا تھا۔

یہودی معادیات کے ایک عقیدے کے تحت ہیکل سوم (בית המקדש השלישי، بیت ہمقدش ہاشلشی) مستقبل میں ہیکل دوم کی جگہ لے گا۔

ہیکل سلیمانی

تورات کے مطابق ہیکل سلیمانی یا ہیکل اول محاصرہ یروشلم (587 قبل مسیح) کے بعد نبو کد نضر کے تباہ کرنے سے پہلے باستانی یروشلم کے بیت ہمقدش میں واقع تھا اور آگے چل کر ہیکل دوم نے چھٹی صدی قبل مسیح میں اس کی جگہ لی تھی۔

عبرانی بائبل بیان کرتا ہے کہ ہیکل متحدہ مملکت اسرائیل و یہودہ کے بادشاہ سلیمان کے دور حکومت میں تعمیر کر کے یہواہ کے لیے وقف کیا تھا اور کہا جاتا ہے کہ تابوت سکینہ اسی میں رکھا جاتا تھا۔ یہودی مؤرخ یوسیفس کہتا ہے کہ ”ہیکل تعمیر کرنے کے چار سو ستر سال، چھ ماہ اور دس دن بعد جلا دیا گیا تھا“۔

یشیوا

یشیوا (عبرانی: ישיבה، لفظی معنی: بیٹھنا) یہودی مدرسہ جہاں ہالاخا اور بالخصوص تلمود کی تعلیم دی جاتی ہے اور فتاوی صادر ہوتے ہیں۔ 20ویں صدی کے اواخر تک آرتھوڈوکس یشیوا میں عورتوں اور لڑکیوں کی تعلیم ممنوع تھی۔ لیکن حالیہ دور میں بہت سے آرتھوڈوکس یشیوات عورتوں اور لڑکیوں کے لیے بھی کھولے گئے۔ تاہم اصلاحی یہودیت کے یشیوات میں دونوں صنفوں کے لیے تعلیم کا انتظام ہوتا ہے۔

یہودی گروہ
مذہبیتحریکیں
فلسفہ
مذہبی متون
مقامات
رہنما
احکام
ثقافت
مسائل و دیگر
زبانیں
مذہبی مضامین
اور دعاہیں
یہودیت دیگر مذاہب کے ساتھ تعلقات
تاریخ
سیاست
ضد سامیت

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.