خیالیت

خیالیت ایک شخص کے مقاصد، توقّعات، نظریات اور سرگرمیوں پر مبنی خیالات کا مجموعہ ہے۔ فلسفیانہ نگاہ میں خیالیت بہت سے موضوعات پر مبنی نظریات کہا جا سکتا ہے۔ پہلے سے موجود خیالات کو توضیحی طور پر فکری سرگرمیوں سے سماج میں انقلابات یا تبدیلیاں پیدا کرنا خیالیت کا اوّلین مقصد ہوتا ہے ۔

آمریت

موجودہ وقت میں آمریت یا مطلق العنان حکومت اس نظام کو کہتے ہیں جس میں کوئی شخص (آمر) موجود قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے طاقت کے زور سے حکومت کرتا ہے۔

بادشاہت

بادشاہت ایک روایتی خود مختار حکومتی نظام ہے۔ اس میں تمام اختیارات بادشاہ (مرد حاکم) یا ملکہ(خاتون حاکم) کو حاصل ہیں۔ آج کل دنیا میں 44 ممالک بادشاہت کے ماتحت ہیں۔ برونائی، عمان، سعودی عرب، قطر، ویٹیکن سِٹی، سوازی لینڈ وغیرہ ممالک میں تاریخی طور پر خود مختار بادشاہت قائم ہے۔ اس طرز حکومت میں بادشاہ کے مرنے کے بعد اس کی اولاد نے جسے وہ نامزد کرے بادشاہ ہوتا ہے۔ بادشاہ جسے نامزد کرتا ہے اسے ولی عہد کہتے ہیں۔

بادشاہی

بادشاہی سے مراد قانون بنانے کی آزادی ہے، جس کو یہ آزادی ہو وہ بادشاہی کا مالک اور جس پر قانون لاگو ہوں وہ محکوم کہلاتا ہے۔ اسلامی عقیدے کے مطابق بادشاہی صرف اللہ کی ذات کو حاصل ہے، یعنی اللہ کے بھیجے ہوئے قانون (بذریعہ پیغمبر) ہی زمین پر لاگو ہونے کے اہل ہیں۔ خلافت کے ذریعہ یہ قوانین نافذ ہونا مسلمانوں کی سوچ ہے۔

دنیا میں گزرے اکثر بادشاہ اس بادشاہی کے دعوٰی دار رہے ہیں اور انہی معنوں میں خدائی کے دعوی دار بھی تھے ۔ عیسائیوں میں بادشاہ کی بادشاہی اسی معنی میں قابل قبول تھی جس معنوں میں مسلمان خلیفہ کی سربراہی قبول کرتے ہیں۔ اس طرح اب تک بیشتر یورپی ممالک میں بادشاہت کا تخت قائم ہے۔

موجودہ زمانے میں جمہوریت کے نظام کے تحت یہ سوچ مروج ہو گئی ہے کہ پارلیمنٹ کو بادشاہی حاصل ہے، یعنی جو قانون چاہے بنانے میں آزاد ہے۔ کچھ ممالک میں اس قانونی آزادی پر کچھ قدغنیں بتائی جاتی ہیں۔ مثلاً کینیڈا کے قانون میں پارلیمنٹ "چارٹر آف فریڈم" کے خلاف قانون بنائے تو اس کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے۔ امریکہ میں "بل آف رائٹس" کا نام لیا جاتا ہے۔ اکثر اسلامی ممالک کے آئین (جیسا کہ پاکستان) میں یہ شق شامل ہے کہ پارلیمنٹ قرآن اور سنت نبویﷺ سے متصادم کوئی قانون نہیں بنائے گی۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ بادشاہی صرف اللہ کی ہے۔ جمہوریت اور انسانی حقوق کے ٹھکیداروں کو البتہ یہ صورت گوارا نہیں اور وہ دنیا بھر مٰیں جب جمہوریت پھیلانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں تو اس میں یہ بات بھی شامل ہوتی ہے کہ انسان (یعنی پارلیمنٹ) کی بادشاہی دنیا کے ہر ملک میں قبول کی جائے۔

جاگیردارانہ نظام

جاگیردارانہ نظام وہ معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی نظام جو جدید حکومتوں کے قیام سے پہلے یورپ اور ایشیا کے اکثر ملکوں میں رائج تھا۔ اس نظام کی بعض خصوصیتیں یہ تھیں کہ بادشاہ کی طرف سے مختلف افراد کو ان کی خدمات کے صلے میں زمینوں کے وسیع رقبے جاگیر کے طور پر عطا کیے جاتے تھے۔ یہ جاگیردار اپنی جاگیر میں رہنے والے مزارعین سے زمینوں پر کام کراتے تھے۔ زمین کا لگان وغیرہ خود جاگیردار وصول کرتے تھے جس میں سے بادشاہ کو حصہ جاتا تھا۔ عام طور پر پیداوار کا ایک تہائ حصہ کسان کا ہوتا تھا، ایک تہائ جاگیردار کا اور آخری ایک تہائ بادشاہ کا۔ جاگیردار کی حیثیت مزارعین اور دیگر مقامی باشندوں کے لیے حکمران سے کم نہیں تھی۔ مزارعین جاگیردار کے ظلم و ستم کی چکی میں پستے رہتے تھے۔ ان کو کسی قسم کے سیاسی حقوق حاصل نہیں تھے۔

انیسویں صدی میں ،یورپ میں صنعتی انقلاب کے بعد جاگیردارنہ نظام کو زوال آیا اور اس کی جگہ سرمایہ داررانہ نظام نے لے لی۔ اب یہ نظام یورپ سے بالکل ناپید ہو چکا ہے۔ لیکن افریقا اور ایشیا کے بعض ملکوں میں کلی یا جزوی طور پر اب بھی اس کی علمداری ہے۔

جمہوریت

جمہوریت ایک طرز حکومت ہے جسے آسان الفاظ میں عوام کی حکومت کہا جا سکتا ہے۔ آمریت کے برخلاف اس طرز حکمرانی میں تمام فیصلے عوامی نمائندے کرتے ہیں۔ جمہوریت کی دو بڑی قسمیں ہیں: بلا واسطہ جمہوریت اور بالواسطہ جمہوریت۔ بلاواسطہ جمہوریت میں قوم کی مرضی کا اظہار براہ راست افراد کی رائے سے ہوتا ہے۔ اس قسم کی جمہوریت صرف ایسی جگہ قائم ہوسکتی ہے جہاں ریاست کا رقبہ بہت محدود ہو اور ریاست کے عوام کا یکجا جمع ہو کر غور و فکر کرنا ممکن ہو۔ اس طرز کی جمہوریت قدیم یونان کی شہری مملکتوں میں موجود تھی اور موجودہ دور میں یہ طرز جمہوریت سوئٹیزلینڈ کے چند شہروں اور امریکا میں نیو انگلینڈ کی چند بلدیات تک محدود ہے۔

جدید وسیع مملکتوں میں تمام شہریوں کا ایک جگہ جمع ہونا اور اظہار رائے کرنا طبعاً ناممکنات میں سے ہے۔ پھر قانون کا کام اتنا طویل اور پیچیدہ ہوتا ہے کہ معمول کے مطابق تجارتی اور صنعتی زندگی قانون سازی کے جھگڑے میں پڑ کر جاری نہیں رہ سکتی۔ اس لیے جدید جمہوریت کی بنیاد نمائندگی پر رکھی گئی۔ چنانچہ ہر شخص کے مجلس قانون ساز میں حاضر ہونے کی بجائے رائے دہندگی کے ذریعے چند نمائندے منتخب کر لیے جاتے ہیں جو ووٹروں کی طرف سے ریاست کا کام کرتے ہیں۔ جمہوری نظام حکومت میں عوام کے دلوں میں نظام ریاست کا احترام پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں نظام حکومت خود عوام یا عوام کے نمائندوں کے ذریعے پایۂ تکمیل تک پہنچتا ہے۔ مگر یہ جذبہ صرف اس وقت کار فرما ہوتا ہے جب عوام کی صحیح نمائندگی ہو اور اراکین مملکت کا انتخاب درست اور شفاف ہو۔

حکومت

کسی مملکت کے اداروں، منصوبوں اور خیالات کو ظاہر کرنے اور اس کا نظام چلانے کے لیے حکومت (Government) کی تشکیل عمل میں لائی جاتی ہے۔ اور اچھی حکومت مملکت کی فلاح و بہبود اور بری حکومت ملک کی تباہی و بربادی کا موجب ہوتی ہے۔ مملکت کی طاقت اور کمزوری کا اندازہ بھی اس کی حکومت سے لگایا جاسکتا ہے۔ دنیا میں کئی قسم کی حکومتیں قائم ہیں جو علاحدہ علحیدہ طریق سے چلتی ہیں۔ مثلاً شخصی حکومت، اعیانی یا اشرافی حکومت، جمہوری حکومت، واحدانی حکومت اور وفاقی حکومت۔ عام طور پر ہر حکومت کے پیش نظر مندرجہ ذیل اغراض و مقاصد ہوتے ہیں۔

1۔ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا۔

2۔ ملک کو بیرونی دشمنوں کے حملے سے بچانا اور اندرونی جھگڑے طے کرنا۔

3۔ ملک میں عدل و انصاف اخلاقی اور اجتماعی ترقی کے لیے قوانین بنانا اور رائج کرنا۔

4۔ رعایا کی تعلیم و ترقی اور معاشرتی حالت کی اصلاح کے لیے کوشاں رہنا وغیرہ وغیرہ

دفتری حکومت

انگریزی لفظ بیورو کریسی کا ترجمہ۔ بیورو کریسی دراصل فرانسیسی نژاد لفظ ہے اور اس طنز آمیز لفظ کا اطلاق ایسی عاملہ یا انتظامیہ پر ہوتا ہے جس کا کام ضابطہ پرستی کے باعث طوالت آمیز ہو۔ اس اصطلاح کو اٹھارھویں صدی میں فرانس میں وضع کیا گیا جب کہ بعض افراد نوابی خطابات دے کر انھیں سرکاری عہدوں پر فائز کر دیا گیا تھا۔ نپولین کے دور حکومت میں سرکاری محکموں کو بیورو کہا جاتا تھا اور سرکاری عہدے داروں کو بیوروکریٹ۔

اس قسم کے نظام حکومت کے ناقدین کی رائے ہے کہ اس نظام سے کام میں طوالت، تنگ نظری اور عدم توجہ پیدا ہوتی ہے۔ اور عوام سے رعونت برتی جاتی ہے۔ مگر اس طریقہ کار کے حمایتی کہتے ہیں کہ اس سے فرض، باضابطہ پن، تسلسل کار اور اخلاق ٹپکتا ہے۔ ان مکاتب فکر کے علاوہ ایک نظریہ یہ بھی پایا جاتا ہے کہ جدید ریاستوں میں جہاں آئے دن حکومتیں پیچیدہ منصوبے تیار کرتی رہتی ہیں، وہاں ضابطہ پرست عاملہ کا قوت حاصل کر جانا ناگزیر ہے۔ اردو میں اسے نوکر شاہی بھی کہتے ہیں۔

سیاست

سیاست کسی گروہ کی بنائی گئی اس پالیسی کو کہا جا سکتا ہے۔ جس کا مقصد اپنی با لا دستی کو یقینی بنانا ہو تا ہے۔

سیاسی جماعت

سیاسی جماعت، سیاسی گروہ بندی کا نام ہے جو کسی بھی خطے میں ریاست کی حکومت میں سیاسی طاقت کے حصول کے لیے تشکیل دی جاتی ہے۔ سیاسی جماعت کسی بھی ریاست میں انتخابی مہم، تعلیمی اداروں میں فعالیت یا پھر عوامی احتجاجی مظاہروں کی مدد سے اپنی موجودگی اور سیاسی طاقت کا اظہار کرتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں اکثر اپنے نظریات، منصوبہ جات اور اپنے نقطہ نظر کو تحریری صورت میں عوام کے سامنے پیش کرتی ہیں جو اس جماعت کا منشور کہلاتا ہے جو اس مخصوص سیاسی جماعت کی ذہنیت اور مخصوص اہداف بارے عوام کو آگاہ کرتا ہے۔ اسی منشور اور اہداف کی بنیاد پر ریاست میں سیاسی جماعتوں کے مابین اتحاد بنتے یا پھر ٹوٹتے ہیں۔

سیاسیات

سیاسیات (انگریزی: political science) اصطلاحی مفہوم کے اعتبار سے علم سیاسیات سے مراد ریاست کا علم ہے۔ موجودہ دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی کیترقی کے باعث ریاست کی ہیت میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ چنانچہ ان تبدیلیوں کے باعث علم سیاسیات بھی ارتقائی منازل طے کرتا چلا گیا ہے۔ علم سیاسیات کی تعریف کرتے ہوئے ارسطو کہتا ہے کہ

“علم سیاسیات شہری ریاستوں کا علم ہے۔“

یہ تعریف بہت سادہ ہے اور علم سیاسیات کے جدید تصور کا احاطہ نہیں کرتی۔ دور جدید کے ماہرین علم سیاسیات کی تعریف کے ضمن میں مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ بعض علم سیاسیات کو ریاست کا علم کہ کر پکارتے ہیں اور بعض حکومت کا علم جبکہ بعض مصنفین علم سیاسیات کو ریاست اور حکومت دونوں کا علم قرار دیتے ہیں۔

شہر ریاست

شہر ریاست (City-state) ایک آزاد یا خود مختار سیاسی وجود ہے جو کسی اور مقامی حکومت کے زیر انتظام نہیں، جس کا علاقہ ایک شہر اور عام طور پر اس کے ارد گرد کے علاقے پر مشتمل ہے۔عام طور پر مندرجہ ذیل کو شہر ریاست کہا جاتا ہے۔

سنگاپور

موناکو

ویٹیکن سٹیدیگر جدید شہر ریاستوں کے طور مندرجہ ذیل کا حوالہ دیا جاتا ہے:

مالٹا

سان مارینو

لیختینستائن

انڈورا

لکسمبرگ

قطر

برونائی دار السلام

کویت

بحرین

صدارتی نظام

صدارتی نظام (Presidential system) ایک ایسا نظام جمہوریت ہے جس میں سربراہ حکومت سربراہ ریاست بھی ہوتا ہے۔

ضمنی انتخابات

ضمنی انتخابات (by-election) سے مراد وہ انتخابات جو عام انتخابات سے پہلے ہو جائے، مثلا اگر کوئی رکن قومی اسمبلی استعفیٰ دیتا ہے یا اس کی رکنیت کوئی ختم کرتا ہے تو اس کے بعد اس نشست پر پھر سے انتخابات ہوں گے اور امیدواران منتخب ہوں گے،ضمنی انتخابات اور عام انتخابی میں فرق یہ ہوتا ہے کہ عام انتخابات میں پورے ملک میں تمام نشستوں پر نئے انتخابات کرائے جاتے ہیں اور نئے سیرے سے ارکان منتخب ہوتے ہیں جبکہ ضمنی انتخابات میں ایک یا ایک سے زائد صرف ان نشستوں پر انتخابات ہوتے ہیں جن کو کسی نے خالی کیا ہو۔

عام انتخابات

عام انتخابات ایک انتخابی عمل ہے جس میں ایک ملک کی حکومت منتخب کی جاتی ہے اور عام انتخابات میں پورے ملک میں تمام نشستوں پر نئے انتخابات کرائے جاتے ہیں اور نئے سیرے سے ارکان منتخب ہوتے ہیں ۔

عدلیہ

عدلیہ یا قاضیت ایک نظامِ قانون ہے جو دنیا کے تمام ممالک میں رایج ہے۔ عدلیہ وہ نظام میں ہے جو عدل یعنی انصاف دیتا ہے۔ جو عدل یا انصاف کرتا ہے اسے قاضی،عادل،منصف یا جج کہا جاتا ہے اور جہاں انصاف یا عدل کیا جاتا ہے اس جگہ کو عدالت یا کورٹ کہا جاتا ہے۔

مقننہ

مقننہ وہ جماعت یا مجلس ہوتی ہے جو قوانین کو بناتی ہے، اس میں ترامیم کرتی ہے یا قانون کو ختم کر سکتی ہے۔ مقننہ کے پاس بہت سے اختیارات ہوتے ہیں جن کو بروئے کار لا کر یہ قانون سازی کرتی ہے۔ پاکستان میں مقننہ دوحصوں میں منقسم ہے، ایک کوایوان زیریں یا قومی اسمبلی کہتے ہیں اور دوسرے کو ایوان بالا یا سینٹ کہتے ہیں۔

نراج

نِراج (انگریزی: Anarchism) ایک سیاسی نظریہ ہے جس کا منشا معاشرہ میں مملکت کے وجود سے انکار ہے۔ بسا اوقات (صحافتی اور لغوی معنوں میں) انارکزم سے افراتفری یا شورش زدگی مراد لی جاتی ہے، جو درست نہیں۔ اس کی رو سے مملکت بذات خود ایک حقیقی آزاد اور فلاحی معاشرے کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ اور اس کے ادارے، مثلاً فوج، منتخب حکومتیں، پارلیمنٹ وغیرہ استبدادی سامراج کا کردار ادا کرتی ہے۔

فلسفیانہ بحثوں میں یہ تصور نیا نہیں، مگر اسے صنعتی انقلاب کے بعد ہاجکنس، پروداں، تھور، ٹالسٹائی، کرپوٹکن، جون ایلیا اور باکونن نے نئی جہت دی۔ فی زمانہ امریکی مفکر نوم چومسکی اور لاطینی امریکہ کی کئی تحریکیں نراج پسند یا انارکسٹ ہیں۔

پارلیمانی نظام

پارلیمانی نظام (Parliamentary system) یا پارلیمانی جمہوریت (Parliamentary democracy) جمہوری حکومت کا ایک نظام ہے جس میں مجلس عاملہ کے وزراء پارلیمنٹ اور مقننہ کو جوابدہ ہوتے ہیں۔

پارلیمانی نظام ایک ایسا نظام حکومت ہے جس میں ایک کابینہ بالواسطہ یا بلا واسطہ ایک پارلیمنٹ کے تحت کام کرتی ہے۔ اس نظام میں اختیارات عموما وزیر اعظم کے پاس ہوتے ہیں۔ اس نظام میں صدر تو ہوتا ہے مگر صدر کے اختیاراتت بہت کم ہیں اور وزیر اعظم کے سب سے زیادہ اختیارات ہوتے ہیں۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.