خلیج کھمبات

خلیج کھمبات یا خلیج کھمبھات (Gulf of Khambhat) (ہندی: खंभात की खाड़ी، کھمبات کی کھاڑی) بھارت کی مغربی ساحل کے ساتھ ریاست گجرات میں بحیرہ عرب کی آبی گزرگاہ ہے۔ خلیج کھمبات قدیم دور سے تجارت کا اہم مرکز رہی ہے۔ 80 میل طویل یہ خلیج جزیرہ نما کاٹھیاواڑ کو ریاست گجرات سے جدا کرتی ہے۔ دریائے نرمدا اور تپتی اسی خلیج میں گرتے ہیں۔ یہ کم گہری اور اتھلی خلیج ہے۔ خلیج کھمبات اپنی اونچی لہروں کے باعث معروف ہے جو تیزی و بلندی میں بہت تیزی سے تبدیل ہوتی ہیں۔ خلیج کھمبات زمانہ قدیم سے تجارت کا اہم مرکز رہی ہے اور اس کی بندرگاہیں وسط ہندوستان کو بحر ہند کے بحری تجارتی راستوں سے جوڑتی تھیں۔ بھروچ، سورٹھ، کھمبٹ، بھونگر اور دمن تاریخی طور پر اہم بندرگاہیں ہیں۔

اس میں دریائے نرمدا، دریائے تاپتی، دریائے ماہی اور دریائے سابرمتی گرتے ہیں۔

Gujarat Gulfs
خلیج کامبات، تصویر ناسا

تاریخی حوالہ جات

نویں صدی عیسوی کے مسلم مصنف یعقوبی نے خلیج کھمبات کو بحیرہ لاروی کے نام سے لکھا ہے اور اسے چین تک پہنچنے کے لیے سات سمندروں میں سے ایک بتایا ہے۔

آبنائے ڈنمارک

آبنائے ڈنمارک (Denmark Strait) (ڈینش: Danmarksstrædet، آئس لینڈی: Grænlandssund) جسے آبنائے گرین لینڈ (Greenland Strait) بھی کہا جاتا ہے گرین لینڈ اور آئس لینڈ کے درمیان ایک آبنائے ہے۔ ناروے کا جزیرہ جان ماین اس کے شمال مشرق میں واقع ہے۔

آبنائے کارا

آبنائے کارا (Kara Strait) (روسی: Пролив Карские Ворота) جسے کارا گیٹس (Kara Gates) بھی کہا جاتا ہے ایک 56 کلومیٹر (35 میل) چوڑی آبنائے ہے۔ یہ آبنائے بحیرہ کارا اور بحیرہ بیرنٹس کو آپس میں ملاتی ہے۔

بحیرہ

بحیرہ یا سمندر (انگریزی: Sea) عام طور پر نمکین پانی کے ایک بڑے جسم کو کہا جاتا ہے لیکن یہ اصطلاح دیگر معنوں میں بھی chinاستعمال ہوتی ہے۔

عام طور پر یہ اصطلاح نمکین پانی کے ایک بڑے حصے کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو کسی بحر سے جڑا ہوا ہو اور اسے بحر کے معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ کبھی کبھار اسے ایک بڑی نمکین جھیل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس سے کوئی قدرتی آبی راہ نہ نکلتی ہو، جیسا کہ بحیرۂ قزوین۔

بحیرہ آئرش

بحیرہ آئرش (Irish: Muir Éireann or Muir Mhanann, Manx: Mooir Vannin, Scots: Erse Sea, Scottish Gaelic: Muir Èireann or Muir Mhanainn[1], Welsh: Môr Iwerddon) بحر اوقیانوس کا ایک حصہ ہے جو مشرق میں برطانیہ اور مغرب میں شمالی آئرلینڈ اور جمہوریہ آئرلینڈ کے درمیان ہے۔

بحیرہ ازوف

بحیرہ ازوف بحیرہ اسود کا شمالی حصہ ہے جو آبنائے کرچ کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ یہ شمال میں یوکرین، مشرق میں روس اور مغرب میں جزیرہ نما کریمیا سے گھرا ہوا ہے۔

یہ سمندر 340 کلومیٹر طویل اور 135 کلومیٹر چوڑا ہے اور 37 ہزار 555 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس میں گرنے والے اہم ترین دریاؤں میں دریائے ڈون اور کوبان ہیں۔

یہ دنیا کا سب سے کم گہرا سمندر ہے جس کی اوسط گہرائی صرف 13 میٹر اور زیادہ سے زیادہ گہرائی صرف 15.3 میٹر ہے۔

بحیرہ البوران

بحیرہ البوران (Alboran Sea) بحیرہ روم کا مغربی ترین حصہ ہے جو ہسپانیہ، مراکش اور الجزائر کے درمیان واقع ہے۔ آبنائے جبل الطارق جو بحیرہ البوران کے مغربی کنارے پر واقع ہے بحر اوقیانوس کو بحیرہ روم کے ساتھ ملاتی ہے۔

اس کی اوسط گہرائی 1.461 فٹ (445 میٹر) اور زیادہ سے زیادہ گہرائی میں 4.920 فٹ (1،500 میٹر) ہے۔

بحیرہ بلیبار

بحیرہ بلیبار (Balearic Sea) بحیرہ روم میں جزائر بلیبار کے نزدیک ایک جسم آب ہے۔ دریائے ایبرو اس بحیرہ میں گرتا ہے۔

بحیرہ جاوا

بحیرہ جاوا (Java Sea) (انڈونیشیائی: Laut Jawa) ایک بڑا (320،000 مربع کلومیٹر) سندا شیلف پر کم گہرا بحیرہ ہے۔ بحیرہ جاوا انڈونیشیائی جزائر بورنیو درمیان شمال میں واقع ہے، جنوب میں جاوا، مغرب میں سماٹرا اور مشرق میں سلاویسی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران بحیرہ جاوا کی لڑائی کا شمار مہنگی ترین بحری لڑائیوں ہیں ہوتا ہے۔

بحیرہ جاپان

بحیرہ جاپان (Sea of Japan) مغربی بحر الکاہل کا ایک معمولی بحیرہ ہے۔ یہ جاپان، شمالی کوریا، روس اور جنوبی کوریا کے ساتھ ہے۔ بحیرہ روم کی طرح اس میں بھی مدوجزر تقریبا موجود نہیں۔

بحیرہ سولو

بحیرہ سولو (Sulu Sea) فلپائن کے جنوب مغربی علاقے میں ایک جسم آب ہے۔

بحیرہ فلورس

بحیرہ فلورس (Flores Sea) انڈونیشیا کے پانی کا 93،000 مربع میل (240،000 مربع کلومیٹر) احاطہ کرتا ہے۔ اس کے مغرب میں بحیرہ بالی، شمال مغرب میں بحیرہ جاوا، مشرق اور شمال مشرقی میں بحیرہ باندا ہیں۔

بحیرہ واندل

بحیرہ واندل (Wandel Sea) (جسے بحیرہ مک کنلے McKinley Sea) بھی جاتا ہے بحر منجمد شمالی میں واقع گرین لینڈ سے سوالبارد تک پھیلا ہوا ہے۔

بوثنیہ بے

بوثنیہ بے (Bothnian Bay) (سویڈش: Bottenviken، فننش: Perämeri) خلیج بوثنیہ کا شمالی ترین حصہ اور بحیرہ بالٹک کا شمالی ہے۔

خلیج کے زیادہ سے زیادہ گہرائی 482 فٹ (147 میٹر) ہے

خلیج بسکے

خلیج بسکے (ہسپانوی میں گولفو دے بثکایا) بحر اوقیانوس کا وہ بازو جو فرانس اور ہسپانیہ کے درمیان مغربی یورپ کے ساحل کے اندر چلا گیا ہے۔ اس خلیج میں اکثر طوفان آتے رہتے ہیں۔ اس کے کناروں پر فرانس اور ہسپانیہ کی اہم بندرگاہیں ہیں۔

خلیج فنڈی

خلیج فنڈی کینیڈا کے صوبوں نووا اسکوٹیا اور نیو برنسوک کے درمیان واقع ایک خلیج ہے۔ یہ خلیج دنیا میں سب سے زیادہ جوار بھاٹے کے باعث معروف ہے۔ کیونکہ یہ خلیج ایک قیف کی شکل کی ہے اس لیے جب بحر اوقیانوس کا پانی اس کے تنگ علاقے میں داخل ہوتا ہے تو اس سے 20 سے 50 فٹ تک کی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔

خلیج کچھ

خلیج کچھ بھارت کے مغربی ساحلوں پر ریاست گجرات کے ساتھ واقع بحیرہ عرب کی ایک خلیج ہے جو اپنے انتہائی مدوجزر کے باعث معروف ہے۔ خلیج کچھ کی زیادہ سے زیادہ گہرائی 401 فٹ (122 میٹر) ہے۔

یہ تقریبا 99 میل لمبی ہے اور ریاست گجرات کے دو علاقوں کچھ اور جزیرہ نما کاٹھیاواڑ کو جدا کرتی ہے۔

خلیج ہڈسن

خلیج ہڈسن (فرانسیسی: baie d'Hudson، انگریزی: Hudson Bay) شمال مشرقی کینیڈا میں ایک نسبتاً اتھلا آبی جسم ہے۔ یہ 12.3 لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ مشرق میں یہ آبنائے ہڈسن کے ذریعے بحر اوقیانوس سے منسلک ہے جبکہ شمال میں رودبار فوکس اور فیوری اور ہیکلا کی آبنائے کے ذریعے بحر منجمد شمالی سے جڑا ہوا ہے۔

اس خلیج کا نام ہنری ہڈسن سے موسوم ہے جنہوں نے 1610ء میں اس خلیج کا تحقیقی سفر کیا تھا۔ اپنے چوتھے سفر کے دوران وہ گرین لینڈ کے مغربی ساحلوں سے خلیج میں داخل ہوئے اور اس کے مشرقی ساحلوں کے نقشے بنائے۔ ان کا جہاز ڈسکوری موسم سرما میں برف میں پھنس گیا اور جہاز کے عملے نے خلیج جیمز کے جنوبی علاقے کے ساحلوں پر اتر کر جان بچائی۔ جب بہار میں برف پگھلی تو ہڈسن نے باقی علاقے کو تلاش کرنا چاہا لیکن عملہ کے اراکین نے 22 جون 1611ء کو انکار کر دیا۔

خلیج ہڈسن میں نمکیات دنیا کے دیگر سمندروں کی اوسطاً نمکینی سے کم ہیں۔ جس کی اہم وجوہات میں سال کے بیشتر مہینوں میں برف سے ڈھکے رہنے کے باعث عمل تبخیر میں کمی، دریاؤں اور چشموں کی بڑی تعداد کا اس خلیج میں گرنا، سمندری برف کا سالانہ پگھلاؤ، جو سطح پر میٹھے پانی کا اہم ذریعہ ہے اور بحر اوقیانوس سے محدود تعلق ہیں، جو اس کے مقابلے میں زیادہ نمکین ہے۔

ملک ایاز

ملک ایاز (انگریزی: Malik Ayyaz) سلطنت گجرات کی خلیج کھمبات کے دہانے پر بندرگاہ دیو کا گورنر اور امیر البحر تھا۔

کاٹھیاواڑ

کاٹھیاواڑ مغربی بھارت کا ایک جزیرہ نما ہے جو ریاست گجرات کا حصہ ہے۔ اس کے شمال میں رن کچھ کا وسیع آبی علاقہ ہے اور مغرب اور جنوب میں بحیرہ عرب واقع ہے۔ جزیرہ نما کے جنوب مشرق اور مشرق میں خلیج کھمبے واقع ہے۔

جزیرہ نما کا سب سے اہم شہر راجکوٹ اس کے وسط میں واقع ہے جبکہ جام نگر خلیج کچھ پر، بھونگر خلیج کھمبات پر اور سریندرنگر گجرات کے درمیانی علاقوں میں واقع ہیں۔ پوربندر جزیرہ نما کے مغربی ساحل پر جبکہ جوناگڑھ کا تاریخی شہر جنوب میں ہے۔ سومناتھ کا مشہور شہر اور اس کا معروف مندر جنوبی ساحل پر واقع ہیں۔

بحر منجمد شمالی
بحر اوقیانوس
بحر ہند
بحر الکاہل
بحر منجمد جنوبی
زمین بند بحیرات

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.