حکمت کی کتاب

حکمت کی کتاب دوسری صدی قبل از مسیح میں یونانی زبان میں لکھی گئی اور سیدنا شاہ سلیمان سے منسوب ہے۔ یونانی ثقافت اور حکمت کا مقابلہ کرتے ہوئے یہودیوں نے یہ کتاب تحریر کی۔ اس کتاب میں حکمت کی فضیلت، اسے حاصل کرنے کے وسائل اور اس کے عمدہ اِثمار کا بیان ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام نیکیاں عدل اور حکمت میں شامل ہیں۔ زندگی، معاشرت، فطرتّ، کائنات اور الٰہی حکمت کتاب کے موضوعات ہیں۔ کاتھولک اس کتاب کو الہامی مانتے ہیں کیونکہ اس کی چند آیات کا عہد جدید میں اور خصوصاً پولس کے خطوط میں ذکر پایا جاتا ہے۔ اس کتاب کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ (ابواب 1–11) ”عدل و انصاف کی جزاء اور حکمت کے لیے دعا“ کہلاتا ہے اور دوسرے حصے (ابواب 12–19) کو ”الٰہی پروردگاری“ کہا جاتا ہے۔[1]

حوالہ جات

  1. کلام مقدس کا عہد عتیق و جدید، مغربی پاکستان کے اسقف صاحبان کی ہدایت و اجازت سے بمطابق اصلی متن ترجمہ مُصَحَّحَہ مطبُوعہ سوسائٹی آف سینٹ پال روما 1957ء
1 ایسدرس

١ ایسدرس (یونانی: Ἔσδρας Αʹ)، مزید نام یونانی ایسدرس، یونانی عزرا یا ٣ ایسدرس بائبل کی کتاب عزرا کا قدیم یونانی نسخہ ہے۔ اسے قدیم یہودی، ابتدائی مسیحی کلیسیا اور دورد جدید کے مسیحی مختلف درجوں میں رتبۂ تقدیس (مقدس کتاب کی سی حیثیت) دیتے ہیں۔

اس کتاب میں 2 توارایخ کے ابواب 35 اور 36، کتاب عزرا اور کتاب نحمیاہ کی تدوین و تالیف پائی جاتی ہے۔ تا ہم کچھ مواد منفرد بھی ہے، اس میں یہوداہ کی سلطنت کا زاول، بابل کی اسیری اور زر بابل کی قیادت میں اسیروں کے واپس یروشلم آنے کا ذکر ہے۔

2 ایسدرس

٢ ایسدرس (جسے 4 ایسدرس، لاطینی ایسدرس یا لاطینی عزرا بھی کہا جاتا ہے) ایک ایپوکریفا کتاب کا نام ہے، جو بائبل کے انگریزی نسخوں (دیکھیے نام دینے کی مجالس)۔ اس کتاب کو عزرا سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس کا شمار کاتھولک، پروٹسٹنٹ اور اکثر راسخ العقیدہ کلیسیائیں اپاکرفا کتب میں کرتے ہیں۔

برصغیر کی یادگاروں پر فارسی کتبے (کتاب)

ہندوستانی پتھروں پر فارسی کتبے ڈاکٹر علی اصغر حکمت شیرازی کی قیمتی کتابوں میں سے ایک ہے جو سال 1956 اور 1958 میں شائع ہوئی تھی .

عہد نامہ قدیم

عہدنامہ قدیم ایک مسیحی اصطلاح ہے جو کتاب مقدس کے ایک بڑے حصہ کے لیے استعمال کی جاتی ہے، اس میں یہود کی تمام کتابیں بشمول تورات (شروع کی پانچ کتابیں) شامل ہیں۔ عہدنامہ قدیم تنک کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے تین اجزاء ہیں: تورات (قانون)، نبییم (انبیا) اور کتُبیم (کتب)۔

کاتھولک اور راسخ الاعتقاد کلیسیاؤں کے مطابق عہدنامہ قدیم 46 کتابوں پر مشتمل ہے، جنہیں اسفار بھی کہا جاتا ہے۔ جبکہ پروٹسٹنٹ اور یہود کے نزدیک اس مجموعہ میں محض 39 کتابیں ہیں، یہود نے اس مجموعہ میں صرف ان کتابوں کو شامل کیا ہے جو عبرانی زبان میں مدون ہوئے تھے، اس کے علاوہ یونانی زبان میں ترتیب پانے والی دیگر کتابیں ان کے نزدیک مذہبی وقانونی استناد کا درجہ نہیں رکھتیں۔

عہد نامہ قدیم کی کتب

عہد نامہ قدیم کی کتب سے مراد وہ تمام کتابیں اور صحائف ہیں جو عہد نامہ قدیم شامل ہیں۔ عہد نامہ قدیم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے کی وہ کتب جو مختلف انبیا سے منسوب ہیں اور عہد نامہ جدید، میں انجیل اور حواریوں اور سینٹ پال سے منسوب خطوط وغیرہ ہیں۔

غزل الغزلات

یہ کتاب ایسے گیتوں پر مشتمل ہے جو یہودی ہر سال اپنی عید فسح کے موقع پر گایا کرتے تھے یا ان گیتوں کو سب کے سامنے پڑھ کر سنایا جاتا تھا۔ اس کتاب غزل الغزلات کے پہلے باب کی پہلی آیت سے اس طرح لگتا ہے جیسے اس کتاب کے مصنف حضرت سلیمان علیہ السلام ہوں مگر علما کا نہ صرف ان گیتوں کی تصنیف کے حوالے سے اختلاف ہے بلکہ تفسیر پر بھی اختلاف ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور حکومت کے متعلق اندازہ ہے کہ یہ 970 سے 930 قبل مسیح تھا۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ کتاب دسویں صدی قبل مسیح میں لکھی گئی تھی۔ اس کتاب کو حضرت سلیمان علیہ السلام سے منسوب کرنے کی ایک وجہ اور یہ بھی ہے کہ اس کتاب کا انداز بیان، اس کی زبان کتاب مقدس کی کتاب واعظ سے ملتا جلتا ہے۔ اس لیے اندازہ ہے کہ دونوں ہی کتابیں ایک ہی مصنف کی تحریر کردہ ہیں۔

اس کتاب میں ازدواجی زندگی کے طور طریقوں کی وضاحت کی گئی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے رہنے والوں کی قدیم رسموں کے مطابق اس کتاب کی طرح کے گیت شادی بیاہ کے موقعوں پر گائے جاتے تھے، مگر اس سے یہ ہر گز نہیں کہا جاسکتا کہ اس کتاب کے گیت یہودی بھی اپنی شادی بیاہ کے موقعوں پر گاتے تھے۔ سب علما اس بات پر متفق ہیں کہ ان گیتوں میں جو ہیرو ہے وہ حضرت سلیمان علیہ السلام ہی ہیں جن کو بادشاہ اور جوان گڈریے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مگر اس بات میں بھی اختلاف ہے کہ بادشاہ اور گڈریا ایک ہی شخص کے دو روپ ہیں یا یہ دو علاحدہ شخصیات ہیں۔ بعض لوگوں نے یہ خیال بھی پیش کیا ہے کہ اس کتاب کے ذریعے حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی روداد پیش کی ہے۔ اُن کے حرم میں چونکہ بہت سی بیویاں اور کنیزیں تھیں مگر اس کے باوجود انہوں نے ایک الہڑ، شوخ و چنچل حسینہ کو بھی اپنے حرم میں داخل کر لیا، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ حسینہ کسی چرواہے کے عشق میں گرفتار ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے کسی بھی طرح اُس کے دل سے اُس چرواہے کی محبت نکالنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوئے۔ جب وہ کسی طرح حسینہ کے دل سے چرواہے کا خیال نہ نکال سکے تو انہوں نے اُس حسینہ اور چرواہے کو ایک ہو جانے دیا۔ وہ چرواہا اور حسینہ شادی کر کے ایک ہو جاتے ہیں اور حضرت سلیمان علیہ السلام سچی محبت کا راز پا لیتے ہیں۔

اس کتاب میں سمجھایا گیا ہے کہ جیسے دلہا اپنی دلہن سے وصل کی تمنا رکھتا ہے اسی طرح خدا بھی اپنی مخلوق سے ملنے کا مشتاق ہے۔ اس خدائی محبت کو کتاب مقدس کے عہد نامہ جدید میں مختلف مثالوں سے بھی سمجھایا گیا ہے۔ ایسی ہی ایک مثال عہد نامہ جدید میں ایسے چرواہے کی ہے جو اپنی گمشدہ بھیڑوں کی تلاش میں نکلتا ہے اور جب تک اُن کو پا نہیں لیتا اس چرواہے کو سکون نہیں ملتا۔

اس کتاب کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

دلہن اور اُس کا محبوب (باب 1 تاباب 2 آیت 7)

محبت کرنے والے جستجو کے بعد ایک دوسرے کو پا لیتے ہیں۔(باب 2 آیت 8 تا باب 3 آیت 5)

دلہا کی اپنی دلہن کے لیے بے قراری (باب 3 آیت 6 باب 4)

عاشق اپنی معشوقہ کے دروازہ پر دستک دے کر چلا جاتا ہے (باب 5 تا باب 7 آیت 9)

عاشق اور معشوق کا وصل۔ محبت کی انتہا (باب 7 تا باب 8)

نبییم

نبیم (/nəˈviːɪm/؛ عبرانی: נְבִיאִים Nəḇî'îm‎، انبیا) عبرانی کتاب مقدس (تناخ) کا دوسرا نمایاں حصہ ہے۔ باقی کے دو تورات (ہدایات) اور کتبیم (تحریریں یا قدیم تحریریں) ہیں۔ جس کے مزید دو ذیلی گروہ ہیں، پہلا:انبیائے قدیم (نبییم روشنیم، נביאים ראשונים یشوع، قضاة، سموئیل اور سلاطین کی کتابیں)، دوسرا: مابعد کے انبیا نبیم آہرونیم، נביאים אחרונים یسعیاہ، یرمیاہ اور حزقی ایل اورانبیائے صغریٰ کی کتابیں)

یہ کتب انبیا یہود کے تاریخ حالات پر مشتمل ہیں۔ ان کتب کی تقسیم انبیائے متقدمین و متاخرین میں کی گئی ہے۔ انبیائے متقدمین کی کتب میں یشوع، قضاۃ، سموئیل ثانی، سلاطین اول اور سلاطین ثانی شامل ہیں جبکہ انبیائے متاخریں کی کتب میں یسعیاہ، جرمیا، حزقیال، زکریا و دیگر شامل ہیں۔

کتاب آستر

آستر ایک خدا پرست یہودی خاتون تھی جسے ایران کی ملکہ بننے کا شرف حاصل ہوا۔ آستر کے چچا مردکی نے آستر کو پالا پوسا تھا اور اُس کی تربیت کی تھی۔ہامان بادشاہ کا مشیر تھا لیکن یہودیوں کا جانی دشمن تھا۔ اُس نے بادشاہ سے یہودیوں کے قتل عام کا فرمان حاصل کر کے تمام صوبوں میں بھجوا دیا۔ مردکی کو اس سازش کا علم ہوا اور اُس نے ملکہ آستر کی مدد سے یہودیوں کو ہامان کی سازش سے بچا لیا۔ ہامان بادشاہ کی نظر میں گر گیا اور پھانسی کی سزا پائی۔

مردکی کو ہامان کی جگہ بادشاہ کا مشیر خاص مامور کیا گیا اور اپنی بھتیجی ملکہ آستر کی مدد سے یہودیوں کے قتل عام کو رکوانے میں کامیاب ہوا۔ اس مختصر سی کتاب میں ان تین اشخاص یعنی ہامان، مردکی اور ملکہ آستر کی داستان درج ہے اور یہ کتاب جلاوطن یہودیوں کی تاریخ کا ایک روشن باب بھی کہلاتا ہے۔

اس کتاب میں جس بادشاہ اخسویرس کا ذکر ہے وہ یونانی زبان میں Xerxesکے نام سے مشہور ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ اس بادشاہ کی مملکت قدیم ہندوستان کے شمال مغربی علاقوں سے لے کر مشرقی افریقہ میں ایتھوپیا (Ethiopia) تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس بادشاہ کی تخت نشینی کا سال 486 قبل مسیح بتایا جاتا ہے۔

اس کتاب کے مصنف کے بارے میں علماء میں اتفاق الرائے نہیں ہے۔ بعض اسے مردکی کی تصنیف مانتے ہیں اور بعض اسے عزرا یا نحمیاہ سے منسوب کرتے ہیں۔ مصنف خواہ کوئی بھی ہو، اس حقیقت سے کسی کو انکار ہیں کہ آستر کا مصنف اہل ایران کے رسم و رواج اور اُن کے تمدن سے بخوبی آگاہ تھا اور ایک خداترس انسان تھا اور اہل یہود کے لیے اپنے دل میں درد رکھتا تھا۔

یہودیوں کے اس قتل عام سے نجات پانے کی یادگار پوریم کے تہوار سے منائی جاتی ہے جو بڑی ضیافتوں اور خوشی کا دن سمجھا جاتا ہے۔ یہاں اس نکتہ کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ خدا اپنے منصوبوں کو بجائے خود کس طرح انسانوں کے ذریعہ عملی جامہ پہناتا ہے، اس لیے ہمیں ہر وقت خدا کی مرضی پر چلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

شہنشاہ کے دار الخلافہ سوسن (Shushan)میں واقع شاہی محل میں سازش (باب 1 تا باب 2)

یہودیوں کے برخلاف ہامان کی سازش (باب 3 تا باب 5)

یہودیوں کی مُخلصی اور پُوریم کا آغاز(باب 6 تاباب 10)

کتاب ایوب

کتاب ایوب (/ˈdʒoʊb/; عبرانی: אִיוֹב Iyov)، عبرانی کتاب مقدس کے حصے کتبیم میں شامل ہے اور مسیحی عہد نامہ قدیم کی یہ پہلی نظم کی کتاب ہے۔

کتاب باروک

کتاب باروک یا باروک کی کتاب (انگریزی: Book of Baruch) ایپوکریفا عہد نامہ جدید کی فہرست میں شامل ایک کتاب ہے۔ یہ ہفتادی ترجمہ میں نوحہ اور کتاب یرمیاہ کے درمیان ہے۔ یہ کتاب باروک بن نیریاہ نے آخری ایام بابل میں جلاوطنوں کی تسلی کے لیے لکھی، عام طور پر اس کا زمانۂ تصنیف 50ء سے 100ء کے درمیان مانا جاتا ہے۔

کتاب جوبلی

کتاب جوبلی یا پیدائش صغیر (چھوٹی پیدائش) ایک قدیم یہودی مذہبی کتاب ہے۔ یہ کتاب 50 ابواب پر مشتمل ہے۔ جس کو حبشی راسخ الاعتقاد توحیدی کلیسیا اور یہود فلاشا (یا بِیٹا اسرائیل) مسلمہ کتاب سمجھتے ہیں۔ حبشی یہودیوں میں اس کتاب کو ”کتاب قسمت یا بازدید“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ (گیزر : መጽሃፈ ኩፋሌ Mets'hafe Kufale)۔ جوبلی کو پروٹسٹنٹ، مشرقی آرتھوڈوکس اور رومی کاتھولک کلیسیا کلیسیا من گھڑت تحریر سمجھتے ہیں

کتاب روت

کتاب روت (عبرانی: ) عبرانی بائبل کی کتاب ہے۔روت ایک چھوٹی سی کتاب ہے جس میں ایک موآبی خاتون روت کا مثالی کردار پیش کیا گیا ہے۔ آپ موآب کے علاقے کی رہنے والی تھیں۔ یہ علاقہ بحیرہ مردار (Dead Sea) کے مشرق میں واقع تھا۔ آپ ایک یہودی گھرانے میں شادی کر لینے کے باعث قوم یہود میں شامل ہو گئی تھیں۔ جیسا کہ اُس زمانے کا رواج تھا انہوں نے اپنے پہلے خاوند کی وفات کے بعد اپنے ہی ایک رشتہ دار بوعز سے شادی کر لی۔ اس کے بعد اُن کا ایک بیٹا پیدا ہوا۔ یہ بیٹا حضرت داؤد علیہ السلام کا دادا بنا۔روت کو اہل یہود کی طرف سے بہت عزت دی جاتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ باہر سے یہود میں شامل ہوئیں اور اُن سے داؤد علیہ السلام جو نبی بھی بنے اور عظیم بادشاہ بھی ہوئے کا خاندان شروع ہوا۔

روت کی کتاب یہودیوں کی مقدس کتاب شمار کی جاتی ہے۔ یہ کتاب عید پنتکست کے دنوں میں یہودی خاندانوں میں خاص طور پر پڑھی جاتی ہے۔ اس عید کے منائے جانے کی تفصیل کتاب احبار باب 15 کی آیات 15 تا 21 میں موجود ہیں۔

بعض علما اس کتاب کو سموئیل علیہ السلام نبی کی تصنیف مانتے ہیں حالانکہ اس کتاب میں اُس کے مصنف کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں ملتا۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ کتاب سموئیل علیہ السلام کے بہت بعد کے زمانہ کی تصنیف ہے۔ چونکہ اس کتاب میں دو جگہ یعنی بات 4 آیت 17 اور 22 میں داؤد علیہ السلام کا نام آیا ہے اس لیے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کتاب یہودی بادشاہوں کے زمانہ کے دوران یا بعد کی تصنیف ہے۔

اس کتاب میں روت، نعومی اور بوعز تین مرکزی کردار ہیں۔ تینوں نہایت خدا پرست اور خدا ترس انساان ہیں۔ اُن کے ایمان میں کسی حال کمی نہیں ہوتی۔ اس سے اہل یہود اور مسیحی یہ سبق لیتے ہیں اور باقی سب کو بھی لینا چاہیے کہ خدا تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو ہمیشہ سنبھالتا ہے اور اُنہیں کبھی فراموش نہیں کرتا۔

اس کتاب کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

نعومی اور الیملک کی موآب سے نقل مکانی، باب 1 آیت 1 تا 22۔

بوعز اور روت کی ملاقات، باب 2 آیت 1 تا 23۔

نعومی کا منصوبہ، باب 13 آیت 1 تا 18۔

بوعز، روت سے شادی کر لیتا ہے، باب 4 آیت 1 تا 18۔

کتاب عاموس

یہ کتاب 740 سے 793 قبل مسیح میں لکھی گئی۔

یہودیت کی کتاب

یہودیت کی کتاب میں ایک جرات مند اور پاکدامن عورت کے چند حالات زندگی بیان کیے گئے ہیں۔ اس کتاب میں ہے کہ یہودی قوم کو سخت مصیبت در پیش تھی، ایک بیوہ قوم پرستی، حب الوطنی اور خدا سے وفاداری کی بنا پر اپنے لوگوں کی سیاسی اور ایمان کی مضبوطی بنتی ہے۔ یہ کتاب دعا اور پارسائی کے اعمال کی تابعداری اور خدا کی پرستش پر زور دیتی ہے۔ جس طرح آستر کی کتاب عید پوریم پر اس طرح یہ کتاب عید فسح پر ایمان افروز غور و خوض ہے۔

کیتھولک اس کتاب کو الہامی مانتے ہیں اور کیتھولک اس کتاب کو عہد عتیق میں شامل کرتے ہیں۔ کیتھولکوں کے مطابق ایک دیندار یہودی نے اس کتاب کو اپنی مادری زبان (عبرانی) میں تحریر کیا کہ وہ یہودی دینداری کا خاص نمونہ پیش کرے اور یوں اپنے قوم کے لوگوں کو تحریک دے کر شریعت اور احکام الٰہی کا پابند بنائے۔ یہودیت کی کتاب بائبل کے یونانی ترجمے سپتواجنتا میں موجود ہے۔ آبائے کلیسیا کو اس کتاب کے الہامی ہونے پر کوئی شک نہیں۔ روایت اور کیتھولک کلیسیا کی ہدایت کے مطابق ”یہودیت“ مقدسہ مریم کی پیش علامت سمجھی جاتی ہے اور کیتھولکوں میں اس کتاب کی چند آیات اور تلاوتیں مقدسہ مریم کی عیدوں کی عبادتوں میں استعمال کی جاتی ہیں۔ اس کتاب کے تین حصے ہیں۔ پہلے حصے (ابواب 1–7) ”یہودیوں کو خوف اور خطرہ“، دوسرے حصے (ابواب 8–14) ”یہودیت کا کردار“ اور تیسرے اور آخری حصے (ابواب 15–16) کو ”یہودیوں کی فتح“ کہا جاتا ہے۔

خاندان اور معروف تعلقات
واقعات
نظریات
معروف کام
متعلقہ مضامین

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.