جنس

انواع کا مجموعہ جو آپس میں جسمانی اور افزائشی خصوصیات میں مماثلت رکھتا ہو جنس (Genus) کہلاتا ہے۔ اگر انجیر، پیپل اور بوہڑ کا مشاہدہ کیا جائے تو عادت، قدوقامت، حالت اور پتے کے نمونے کے لحاظ سے یہ سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں مگر اپنے افزائشی اعضاء، پھول، پھل اور بیج میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ چنانچہ یہ تینوں ایک ہی جنس فیکس ميں شامل ہیں۔

ساحہ یا ڈومین
Uparr.PNG
مملکت یا کنگڈم
Uparr.PNG
قسمہ / شعبہ یا فائیلم
Uparr.PNG
طبقہ یا کلاس
Uparr.PNG
نظام یا آرڈر
Uparr.PNG
خاندان یا فیملی
Uparr.PNG
جنس یا جینس
Dnarr.PNG
نوع یا اسپیشیز

Biological classification L Pengo vflip
جنس
انسان

ا

انسان (انگریزی: Human) (سائنسی نام: Homo sapiens) کا لفظ زمین پر پائی جانے والی اس نوعِ حیات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو جنس انس (homo) سے تعلق رکھتی ہے اور دنیا میں پائی جانے والی دیگر تمام تر انواع حیات سے برتر دماغ رکھتی ہے۔ انسان کہلائی جانے والی مخلوق کی شناخت اس کی سیدھی قامت اور دو ٹانگوں سے چلنے والی مخلوق کے طور پر باآسانی کی جاسکتی ہے مزید یہ کے نوعِ حیاتِ انسان ایک معاشرتی مخلوق ہونے کے ساتھ ساتھ شعور (consciousness) و ادراک (cognition) میں دیگر تمام مخلوقات کی نسبت اعلٰی معیار تک پہنچی ہوئی مخلوق ہے۔ انسان کو آدم کی مناسبت سے اردو عربی اور فارسی میں آدمی بھی کہا جاتا ہے اور اس کے لیے بشر کا لفظ بھی مستعمل ہے۔ آدمی اور بشر کی طرح انسان کا لفظ بھی اردو میں عربی زبان سے آیا ہے اور اپنی اساس انس سے ماخوذ ہے اور انسان ہی کے معنوں میں انس بھی استعمال ہوتا ہے، اسی لفظ انس سے ناس اور مرکب الفاظ عوام الناس وغیرہ بھی تخلیق کیے جاتے ہیں۔ قرآن میں بھی اس نوع حیات کے لیے انسان کے ساتھ ساتھ متعدد الفاظ استعمال ہوئے ہیں ؛ جن میں ایک انس (سورۃ الرحمٰن آیت 39) بھی ہے۔ انسان کے لیے اساس بننے والا لفظ انس اپنے الف کے نیچے زیر ہمزہ کا حامل ہے جس کو الف پر پیش کے ساتھ والے انس سے مبہم نا کرنا چاہیے جس کے معنی محبت کے ہوتے ہیں۔

انسانی جنسی تناسب

انسانی جنسی تناسب ایک ملک یا علاقے کا مردوں پر عورتوں کا تناسب ہے۔

انٹر سروسز انٹلیجنس

محکمۂ بین الخدماتی استخبارات جسے انگریزی میں ڈائریکٹوریٹ آف انٹر سروسز انٹلیجنس یا مختصراً انٹر سروسز انٹلیجنس (Inter-Services Intelligence) اور آئی ایس آئی (ISI) کہاجاتا ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا مایہ ناز خفیہ ادارہ ہے۔ جو ملکی مفادات کی حفاظت اور دشمن ایجنٹوں کی تخریبی کارروائیوں کا قبل از وقت پتا چلا کر انہیں ختم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس سے پہلے انٹیلیجنس بیورو ‎(I.B)‎ اور ملٹری انٹیلیجنس ‎(M.I)‎ کا قیام عمل میں آیا تھا۔ لیکن بعد میں اس کا قیام عمل میں آیا۔

بیوی

ایک شادی کے تحت جو جوڑا وجود میں آتا ہے ان میں مذکر شوہر اور مونث بیوی کہلاتی ہے۔ اردو زبان مین اس کے لیے زوجہ، منکوحہ، اہلیہ اور جورُو کے الفاظ بھی استعمال ہوتے ہیں ۔

جنس کرسچئین سکو

جنس کرسچئین سکوایک ڈنمارکی طبیب تھے جن کو 1997ء میں نوبل انعام برائے کیمیا ملا۔

دیوی

کثرت پرستی میں دیوی ایک مؤنث معبود ہے۔

ان کو خالص شکل میں دیوی بنانے کے لیے ان میں اکثر نسائی خصوصیات ہوتی ہیں۔ تاہم، بعض صورتوں میں دیویاں مرد اور عورت دونوں خصوصیات رکھتی ہیں (جیسے سوفیہ) یا وہ روایتی طور پر مرد جنس بھی رکھتی تھیں (جیسے آرتمیس)۔ دیویوں کو خاص طور پر خوبصورتی، محبت، مادریت اور زرخیزی جیسی خصوصیت سے منسلک کیا جاتا ہے۔

ریاست ہائے متحدہ میں ہم جنس شادی کی حیثیت بلحاظ ریاست

یہ فہرست ریاست ہائے متحدہ میں ہم جنس شادی کی حیثیت بلحاظ ریاست (Same-sex marriage status in the United States by state) ہے۔

زکات

زکوۃ یا (عربی: زكاة) اسلام کے پانچ ارکان میں سے ايک اہم رکن ہے، جس کے لغوی معنی پاکیزہ کرنا یا پروان چڑھانا ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد غریبوں کی مدد، معاشرتی فلاح و بہبود میں صاحب ثروت لوگوں کا حصہ ملانا اور مستحق لوگوں تک زندگی گزارنے کا سامان بہم پہنچانا ہے۔

اسلام کا تیسرا اہم رکن ہے۔ زکوۃ کے معنی پاکیزگی اور بڑھنے کے ہیں۔

پاکیزگی سے مراد اللہ تعالٰی نے ہمارے مال و دولت میں جو حق مقررکیا ہے اس کو خلوص دل اور رضامندی سے ادا کیا جائے۔ نشو و نما سے مراد حق داروں پر مال خرچ کرنا اپنی دولت کو بڑھانا ہے، جس سے مال میں برکت پیدا ہوتی ہے۔

دین اک اصطلاح میں زکوۃ ایسی مالی عبادت ہے جو ہر صاحب نصات مسلمان پرفرض ہے۔

سی آئی اے

Central intelligence agency

سی آئی اے ریاستہائے متحدہ امریکا کا جاسوسی ادارہ ہے، جو ملک کے اندر اور ملک سے باہر پوری دنیا میں امریکی مفادات کا تحفظ کرتاہے۔

شادی

شادی فارسی زبان کا لفظ ہے، فارسی زبان کے اسم صفت شاد کے ساتھ لاحقہ کیفیت "ی" کے اضافہ سے لفظ شادی وجود میں آیا۔ یہ لفظ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے، اس کے لفظی معنی خوشی، مسرت اور انبساط کے ہیں؛ چنانچہ اردو میں شادی مرگ اور دل شادی جیسی تراکیب انہی معنوں میں مستعمل ہے۔ اصطلاحاً شادی کا مفہوم متفرق ثقافتوں میں مختلف ہوتا ہے، البتہ بنیادی طور پر شادی کی تعریف یہ کی جاسکتی ہے کہ کسی بھی ثقافت میں وہ رسم یا قانونی معاہدہ جس کے ذریعے معاشرہ، قانون اور مذہب مرد (شوہر) و زن (بیوی) کے مابین قریبی جنسی اور ازدواجی تعلق کو قبولیت بخشتا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے معاشرے میں ایک نئے گھرانے کا اضافہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں کو شناخت اور قانونی تحفظ فراہم ہوتا ہے۔

عموما ازدواجی تعلق کے بندھن میں بیک وقت دو اشخاص ہی ہوتے ہیں، تاہم بعض معاشروں میں تعدد ازدواج اور تعدد شوہری کا رواج پایا جاتا ہے۔ شادی کا یہ معاہدہ مذہبی یا معاشرتی یا قانونی رہنماؤں کے سامنے زبانی اور تحریری اقرار کی صورت میں ہوتا ہے، جو اکثر اوقات عمر بھر قائم رہتا ہے۔ لیکن بعض اوقات مختلف اسباب کی بنا پر یہ معاہدہ زوجین کی رضامندی، قضاءت یا عدالت کی مداخلت سے طلاق کے ذریعہ ختم یا فسخ کیا جاسکتا ہے۔

شوہر

ایک شادی کے تحت جو جوڑا وجود میں آتا ہے ان میں مذکر شوہر اور مونث بیوی کہلاتی ہے۔ اردو زبان میں اس کے لیے خاوند، میاں اور زوج کے الفاظ بھی استعمال ہوتے ہیں۔

طبقہ (حیاتیات)

طبقہ (انگریزی: order) سائنسی اصطلاح جو حیاتیات میں استعمال ہوتی ہے، لاطینی میں ordo کہلاتی ہے کی تعریف یہ ہے کہ؛ حیاتیات میں استعمال ہونے والی طبقاتی تقسیم (taxonomic) کا ایک درجہ ہے جس میں زندہ اجسام کی پہچان و جماعت بندی کے لیے ان کو رکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ طبقہ سے اوپر بالائی درجات ؛ ساحہ (domain)، مملکہ (kingdom)، قسمہ (phylum) اور جماعت جبکہ خاندان اور جنس (genus) طبقہ کے درجے کے بعد آتے ہیں۔ طبقہ اصل میں حیاتیاتی تصنیفیات میں استعمال ہونے والا صیغہ واحد ہے، صیغہ جمع میں اسے طبقے یا طبقات کہا جائے گا۔ لاطینی میں صیغہ جمع کے لیے ordies جبکہ انگریزی زبان میں orders استعمال ہوا ہے۔ طبقہ ؛ جماعت اور خاندان کے درمیان فرق کرنے والی تقسیم تصور کی جاتی ہے۔

عورت

عورت (عربی سے ماخوذ۔ انگریزی: Woman) یا زن (فارسی سے زنانہ) مادہ یا مؤنث انسان کو کہا جاتا ہے۔

عورت یا زنانہ بالغ انسانی مادہ کو کہاجاتا ہے جبکہ لفظ لڑکی انسانی بیٹی یا بچّی کے لیے مستعمل ہے۔ تاہم، بعض اوقات، عورت کی اِصطلاح تمام انسانی مادہ نوع کی نمائندگی کرتی ہے۔

عورت تاریخ کے ہر دور میں مرد کے تابع رہی ہے۔ موجودہ زمانہ میں ترقی یافتہ ملکوں میں عورت اور مرد کو مساوی بنانے کی کوشش کی گئی۔

قبیلہ

قبیلہ لوگوں یا قوم کا ایک طبقہ، جماعت یا گروہ ایک ہی مورث اعلیٰ کا خاندان یا نسل جو ممیز ہو (مثلا: بنی اسرائیل کے بارہ قبائل حضرت یعقوب کی نسل ہے) اہل روم کا ایک سیاسی زمرہ جو روم کے تین پرانے قبیلوں یعنی صابئین، لاطینی اور اٹر سکنوں میں سے کسی ایک کا مظہر ہوــ ابتدائی لوگوں کی قوم یا خاندان جو نسلی شاخ بن گئی کوئی خاص وصف یا پیشہ رکھنے والی ٹولی کے لوگ (عموماً حقارت سے استعمال کرتے ہیں)۔ (حیاتیات) مختلف اصناف کے جانوروں یا پودوں کی تقسیم جو اپنی جنس سے کم تر اور خاندانی شاخ سے فروتر ہوں، فرقہ، جماعت، جرگہ، قسم، جنس، نوع، خاندان، جاتی، دَل، خیل، طائفہ، فریق۔

مؤنث

مُؤنّث، عربی زبان کا لفظ ہے جو مادہ جنس (نَر کی ضد) کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہر وہ چیز جو مادہ جنس کی حامل ہو مؤنث کہلاتی ہے۔

قواعد میں میں مُؤنّث اُس لفظ (فاعل، مفعول یا فعل) کو کہا جاتا ہے جس کا استعمال بصورتِ تانیث ہو یا جس میں تانیث یا مادہ جنس کا صیغہ استعمال ہو۔ مثلاً لفظ ‘‘محنت’’.

مذکر

مُذکّر (Male) ایک اصطلاح ہے جو نَر جنس (مادہ کی ضد) کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہر وہ چیز جو مردانہ جنس کی حامل ہو، مُذکّر کہلاتی ہے۔

قواعد میں مُذکّر اُس لفظ (فاعل، مفعول یا فعل) کو کہاجاتا ہے جس کا استعمال بصورتِ تذکیر ہو یا جس میں تذکیر کا صیغہ استعمال ہو۔ مثلاً ‘‘کام’’.

مذہب اور ہم جنس پرستی

مذہب اور ہم جنسیت کے درمیان تعلق وقت اور مقام، مذاہب اور ان کے فرقوں اور ہم جنس پرستی اور دونوں جنسوں کے ساتھ رغبت کے حوالے سے بدلتا رہا ہے۔ موجودہ دور میں دنیا کے بڑے مذاہب کا نقطہ نظر اس ضمن میں باہم خاصا مختلف ہے اور یہ بھی کہ مختلف جنسوں کی طرف رغبت رکھنے والوں کو کس طرح دیکھا جاتا ہے۔

ان مذاہب میں ہم جنسیت کے تئیں عموماً منفی رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ بعض مذاہب میں خاموشی سے اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے تو کہیں ہم جنسیت کو واضح طور پر روکا جاتا ہے جبکہ بعض ان کے سماجی مقاطعہ کی ترغیب دیتے ہیں تو کہیں اس کی سزا موت ہے۔ مذہبی بنیاد پرستی براہ راست ہم جنس مخالف رویے سے منسلک ہے۔ مذاہب عموماً ہم جنس پرست رویوں کی مخالفت کرتے ہیں اور اکثر بنیاد پرستی پر تشدد رویہ اختیار کرنے کا سبب بھی بنتی ہے۔ ہم جنس مخالف رویہ محض مذہب کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ مختلف مذاہب کے پیروکار ملکی یا قومی سطح پر اجتماعی رویے کی وجہ سے بھی اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ بہت سوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ جنسِ موافق کی طرف میلان بری بات نہیں مگر ہم جنسی فعل گناہ ہے۔ بہت سی ایسی تنظیمیں بھی موجود ہیں جن کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ گفتگو کے ذریعے ہم جنس رحجان کو ختم کر سکتے ہیں۔

تاہم بہت سے مذاہب کے کچھ ماننے والے دونوں جنسوں کی طرف رحجان کے حوالے سے مثبت سوچ رکھتے ہیں اور بعض ہم جنس شادیوں کو بھی قبول کرتے ہیں اور ایل جی بی ٹی حقوق کا پرچار کرتے ہیں۔ ایسے افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور ترقی یافتہ ممالک کی بہت بڑی تعداد اس کی حامی ہے۔

تاریخی اعتبار سے کچھ مذاہب اور ثقافتوں میں ہم جنس پرستی کو قبول اور کسی حد تک سراہا گیا تھا۔ ایسی دیومالائی روایتیں ہمیں دنیا بھر میں ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر ہندو مت میں ہم جنسیت گناہ نہیں۔ 2009 میں ہندو کونسل یو کے نے بیان جاری کیا: "ہندو مت ہم جنسیت کو رد نہیں کرتا"۔ سکھ شادیوں کی تقریبات جنس سے منسلک نہیں اس لیے سکھ مت میں ایک ہی جنس کے افراد باہم شادی کر سکتے ہیں۔

بہت سارے مذہبی افراد اپنے خیالات کو ایک طرف رکھ کر مذہبی متون اور روایات کی مدد سے اس بارے میں رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ تاہم ایسی روایات یا مذہبی متون کے ترجموں یا ان کے اختیار کے بارے میں مسلسل بحث ہوتی رہتی ہے۔

مرد

آدمی (عبرانی) یا مرد (فارسی) (انگریزی: Man) مذکر یا نّر انسان کو کہاجاتا ہے۔

لفظ آدمی بالغ انسان کے لیے مستعمل ہے جبکہ لڑکا انسانی مذکر بچے کو کہاجاتا ہے۔ اور عورت مادہ انسان کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

بعض اوقات آدمی کی اِصطلاح عورت کی جگہ بھی استعمال کی جاتی ہے۔

نسوانیت

عورتوں کو اُن کے حقوق، سماجی مساوات اور قانونی تحفّظ فراہم کرنے کی تحریک کا نام ہے نسائیت (انگریزی: فیمینزم Feminism)۔ اس میں حقوقِ خواتین، حقِ رائے دہی، مساوات، عورتوں کی ضروریات، حقِ میراث، آزادیٔ رائے، خودکفیلی، آزاد خیالی، خانگی ایذا اور آبروریزی سے تحفظ وغیرہ شامل ہیں ۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.