جزیرہ نما آئبیریا

جزیرہ نما آئبیریا یورپ کے انتہائی جنوب مغرب میں واقع ہے۔ یہ یورپ کے تین جزیرہ نماؤں (جزیرہ نما بلقان، جزیرہ نما اٹلی اور جزیرہ نما آئبیریا) میں سے انتہائی جنوب اور مغرب میں واقع آخری جزیرہ نما ہے۔ جنوب اور مشرق میں اس کی سرحدیں بحیرہ روم اور شمال اور مغرب میں بحر اوقیانوس سے ملتی ہیں۔ جزیرہ نما کے شمالی علاقے میں کوہ پائرینیس ہیں جو اسے یورپ سے منسلک کیے ہوئے ہیں۔ جنوب میں افریقا کا شمالی ساحل اس کے قریب واقع ہیں۔ 582،860 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا جزیرہ نما آئبیریا یورپ کا تیسرا بڑا جزیرہ نما ہے۔

جزیرہ نما آئبیریا میں مندرجہ ذیل ممالک شامل ہیں:

  • Flag of Portugal.svg پرتگال: جزیرہ نما کے مغربی علاقے میں واقع ہے
  • Flag of Spain.svg اسپین: جزیرہ نما کا بیشتر حصہ (وسطی، مشرقی اور شمال مغربی علاقہ) اسپین میں شامل ہے
  • Flag of Andorra.svg انڈورا: فرانس اور اسپین کے درمیان سرحد پر کوہ پائرینیس کے درمیان ایک چھوٹی سی ریاست
  • Flag of Gibraltar.svg جبل الطارق یا جبرالٹر: اسپین کے جنوب میں بحیرہ روم کے ساحلوں پر برطانیہ کے زیر قبضہ علاقہ
Iberian peninsula
جزیرہ نما آئبیریا
آئبیری رومنی زبانیں

آئبیری-رومنی زبانیں (Iberian Romance languages) جزیرہ نما آئبیریا پر پروان چڑھنے والی رومنی زبانیں ہیں۔

اسپانیا

اسپانیا (Spania) (لاطینی: Provincia Spaniae) رومی بازنطینی سلطنت کا 552 سے 624 تک ایک صوبہ تھا۔

یہ جزیرہ نما آئبیریا اور جزائر بلیبار کے جنوب میں واقع ہے۔

امارت غرناطہ

امارت غرناطہ (Emirate of Granada) (عربی: إمارة غرناطة) دولت موحدین کے محمد بن نصر جزیرہ نما آئبیریا پر آخری مسلم حکومت قائم کی۔ اسی دور میں غرناطہ کا مشہور محل الحمرا بھی تعمیر کیا گیا۔ عربی آبادی کی اکثریتی اور سرکاری اور مادری زبان تھی۔

امارت قرطبہ

امارت قرطبہ (Emirate of Córdoba) (عربی: إمارة قرطبة) جزیرہ نما آئبیریا 756ء اور 929ء کے درمیان میں ایک خود مختار امارت تھی جس کا دار الحکومت قرطبہ تھا۔ خلافت امویہ 711–718 میں فتح اندلس کے بعد جزیرہ نما آئبیریا خلافت امویہ کا ایک صوبہ بن گیا۔ یہاں کے حکمرانوں نے قرطبہ کو دار الحکومت بنایا اور خلافت عباسیہ سے امیر کا لقب حاصل کیا۔

756ء میں عبد الرحمٰن الداخل خلافت عباسیہ کو نظر انداز کر کے امارت قرطبہ کا ایک خود مختار امیر بن گیا۔

اموی شجرۂ نسب

یہ شجرۂ نسب اموی خانھدان کا ہے۔ ان کا جد اعلیٰ امیہ بن عبد شمس ہے۔ امیہ کے پڑپوتے معاویہ بن ابو سفیان نے خلافت امویہ کی بنیاد 661ء میں رکھی اور دار الحکومت دمشق، شام میں منتقل کیا۔ ابو سفیان بن حرب کی سفیانی شاخ میں 684ء میں معاویہ بن یزید کی دستبرداری سے اس خاندان کی حکومت ختم ہوئی۔ اور طاقت مروان بن حکم کو منتقل ہو گئی اور 750ء تک یہ امویوں کی مروانی شاخ کے پاس رہی، جس کے بعد خلافت عباسیہ نے 750ء میں خلافت امویہ کا خاتمہ کیا، (دیکھیے Battle of the Zab)۔ ایک خلافت امویہ کا شہزادہ عبد الرحمٰن الداخل قتل عام کے دوران فرار ہونے میں کامیاب ہو گيا اور جزیرہ نما آئبیریا (اندلس) میں بھاگ گیا۔ وہاں اس نے ایک آزاد امارت قائم کر کے قرطبہ کو دار الحکومت بنایا۔ اس کی آل اولاد نے امارت قرطبہ میں حکومت جاری رکھی، یہاں تک کہ عبد الرحمٰن الناصر 929ء میں خلیفہ منتخب ہوا۔ خلافت قرطبہ طائفہ 1031ء میں کئی آزاد مملکتوں میں تقسیم ہو چکی تھی، یوں خلافت امویہ کو زوال کا سامنا کرنا پڑا۔

اندلسی عربی

اندلسی عربی (Andalusian Arabic / Andalusi Arabic) عربی کی تنوع ہے جو بنیادی طور پر جزیرہ نما آئبیریا کے علاقے اندلس میں بولی جاتی ہے۔

تاج قشتالہ

تاج قشتالہ (Crown of Castile) جزیرہ نما آئبیریا میں 1230ء میں قائم ہونے والی ایک قرون وسطی اور جدید ریاست تھی، جو قشتالہ کے بادشاہ فرڈینینڈ سوم کے مملکت قشتالہ (Kingdom of Castile) اور مملکت لیون (Kingdom of León) کے اتحاد کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی۔ تاج قشتالہ 1469ء تک بطور ایک علاحدہ اکائی وجود میں رہا، اس کے بعد تاج قشتالہ اور تاج اراغون کے ذاتی اتحاد جو ان ریاستوں کی مسیحی حکمرانوں کی شادی کے نتیجہ میں ہیبسبرگ ہسپانیہ (Habsburg Spain) قائم ہوا۔ جو بعد میں مملکت ہسپانیہ بن گیا۔

جبل الطارق

جبرالٹر جزیرہ نما آئبیریا کے انتہائی جنوب میں برطانیہ کے زیر قبضہ علاقہ ہے جو آبنائے جبل الطارق کے ساتھ واقع ہے۔ جبرالٹر کی سرحدیں شمال میں اسپین کے صوبہ اندلس سے ملتی ہیں۔ جبرالٹر تاریخی طور پر برطانوی افواج کے لیے انتہائی اہم مقام ہے اور یہاں برطانوی بحریہ کی بیس قائم ہے۔

جبرالٹر عربی نام جبل الطارق سے ماخوذ ہے جو بنو امیہ کے ایک جرنیل طارق بن زیاد کے نام پر جبل الطارق کہلایا جنہوں نے 711ء میں اندلس میں فتوحات حاصل کرنے کے بعد یہاں مسلم اقتدار کی بنیاد رکھی تھی۔

اسپین نے برطانیہ سے جبرالٹر واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو 1713ء میں ایک معاہدے کے تحت برطانیہ کے حوالے کیا تھا۔

جبرالٹر 6.5 مربع کلومیٹر (2.5 مربع میل) ہے اور آبادی 2005ء کے مطابق 27 ہزار 921 ہے۔

اس مقام پر پہلی آبادی موحدین کے سلطان عبدالمومن نے قائم ہے جنہوں نے اس کی پہاڑی پر ایک قلعہ تعمیر کرنے کا حکم دیا جو آج بھی موجود ہے۔ 1309ء تک یہ علاقہ امارت غرناطہ کا حصہ رہا جب قشتالہ کے عیسائیوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔ 1333ء میں بنو مرین نے اس پر قبضہ کرکے 1374ء میں اسے مملکت غرناطہ کے حوالے کر دیا۔ 1462ء میں عیسائیوں نے اسے فتح کرکے اسپین میں 750 سالہ مسلم اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔

4 اگست 1704ء کو برطانیہ نے اس پر قبضہ کر لیا اور فرانسیسی و ہسپانوی دستے سالوں کی کوشش کے باوجود جبرالٹر فتح نہ کرسکے اور بالآخر 1713ء میں ایک معاہدے کے تحت جبرالٹر برطانیہ کے حوالے کر دیا گیا۔

نہر سوئز کی تعمیر کے بعد جبرالٹر اپنے محل وقوع کے باعث انتہائی اہمیت اختیار کرگیا کیونکہ سلطنت برطانیہ اپنی نوآبادیات ہندوستان اور آسٹریلیا کے ذریعے آسان بحری راستے سے منسلک ہو گیا۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران یہاں کی آبادی کو منتقل کر دیا گیا اور پہاڑی کو قلعے میں تبدیل کر دیا گیا اور ایک ہوائی اڈا بھی تعمیر کیا گیا۔ جنگ کے دوران نازی جرمنی نے بحیرہ روم میں داخلے کے اس راستے پر قبضے کے لیے ایک آپریشن کا آغاز کیا جسے آپریشن فیلکس کا نام دیا تاہم یہ ناکام ہو گیا۔

جبرالٹر اسپین اور برطانیہ کے درمیان تنازعات کا اہم ترین سبب ہے۔ 1967ء میں یہاں ایک ریفرنڈم کروایا گیا جس میں آبادی کی اکثریت نے برطانیہ کے حق میں ووٹ دیا جس پر اسپین نے جبرالٹر کے ساتھ اپنی سرحد اور تمام راستے بند کر دیے۔

1981ء میں برطانیہ نے اعلان کیا کہ شہزادہ چارلس اور لیڈی ڈیانا ہنی مون جبرالٹر میں منائیں گے جس پر اسپین کے بادشاہ یوان کارلوس اول نے دونوں کی شادی میں شرکت سے انکار کر دیا اور لندن نہیں گئے۔

اسپین کے ساتھ سرحد 1982ء میں عارضی اور 1985ء میں مکمل طور پر کھول دی گئی۔

سفاردی یہودی

سفاردی یہودی (Sephardi Jews یا Sephardic Jews)

(عبرانی: סְפָרַדִּי‎‎، جدید عبرانی: Sfaraddi, طبری: Səp̄āraddî, لفظی معنی "سپین کے یہودی") ایک یہودی فرقہ ہے جو نسلی طور پر دوسرے ہزارے میں جزیرہ نما آئبیریا شروع ہونے والی برادری کے طور پر سامنے آئی۔

قوس جبل الطارق

قوس جبل الطارق (Gibraltar Arc) ایک ارضیاتی خطہ ہے جو بحیرہ البوران کے گرد جزیرہ نما آئبیریا اور افریقا کے درمیان واقع ہے۔

محمد بن عبد الرحمان اوسط

محمد بن عبد الرحمان اوسط (عربی: محمد بن عبد الرحمن الأوسط) 852 سے 886 تک الاندلس خلافت امویہ جزیرہ نما آئبیریا میں امیر قرطبہ کے پانچویں امیر تھے۔

مملکت آراگون

مملکت آراگون (آراگونی زبان: Reino d'Aragón،کیٹلونی زبان: Regne d'Aragó،لاطینی زبان:Regnum Aragonum،ہسپانوی زبان:Reino de Aragón) ایک قرون وسطیٰ اور جدید ابتدائی سلطنت تھی،جو جزیرہ نما آئبیریا میں موجود تھی۔ آج یہ اسپین کے جدید ارغون میں اسپین کی خود مختار کمیونٹی، کی حیثیت سے رہ رہی ہے۔

مملکت آستوریاس

مملکت آستوریاس (Kingdom of Asturias) (لاطینی: Regnum Asturorum) جزیرہ نما آئبیریا میں ایک مملکت تھی جو 718ء میں قائم ہوئی۔924ء مین مملکت آستوریاس مملکت لیون میں ضم ہو گئی۔

مملکت لیون

مملکت لیون (Kingdom of León) (استوریائی: Reinu de Llión; ہسپانوی: Reino de León; گالیشی: Reino de León; پرتگیزی: Reino de Leão; لاطینی: Regnum Legionense) جزیرہ نما آئبیریا کے شمال مغربی علاقے میں واقع ایک آزاد ریاست تھی۔ مملکت لیون نے 1230ء میں مملکت قشتالہ سے الحاق کر لیا۔

مملکت مغربی گوتھ

مملکت مغربی گوتھ (Visigothic Kingdom) ایک مملکت تھی جو پانچویں صدی سے آٹھویں صدی تک موجودہ جنوب مغربی فرانس اور جزیرہ نما آئبیریا پر قائم تھی۔

مملکت پرتگال

مملکت پرتگال (Kingdom of Portugal)

(لاطینی: Regnum Portugalliae، پرتگیزی: Reino de Portugal) جزیرہ نما آئبیریا پر ایک پرتگیزی بادشاہت تھی جو موجودہ پرتگال کی پیشرو تھی۔

مملکت گالیسیا

مملکت گالیسیا (Kingdom of Galicia) (گالیشی: Reino DE Galicia; ہسپانوی: Reino de Galicia; پرتگیزی: Reino da Galiza; لاطینی: Galliciense Regnum) جنوب مغربی یورپ میں واقع ایک سیاسی وجود تھا جس نے اپنے نقطہ عروج پر پورے شمال مغربی جزیرہ نما آئبیریا پر قبضہ کر لیا تھا۔

کوہ پائرینیس

کوہ پائرینیس جنوب مغربی یورپ کا ایک پہاڑی سلسلہ ہے جو فرانس اور اسپین کے درمیان قدرتی سرحد ہے۔ یہ جزیرہ نما آئبیریا کو فرانس سے جدا کرتے ہیں اور بحر اوقیانوس میں خلیج بسکے سے بحیرہ روم میں کیپ ڈی کریوس تک 430 کلومیٹر (267 میل) پر پھیلے ہوئے ہیں۔

اس پہاڑی سلسلے کی بلند ترین چوٹی انیتو یا پک ڈی نیتھو ہے جس کی بلندی 3،404 میٹر (11،168 فٹ) ہے۔

ہسپانیا

ہسپانیا (Hispania) (تلفظ: /hɪˈspeɪniəˌ -ˈspæ-/; لاطینی: [hɪˈspa:nja]) جزیرہ نما آئبیریا کا قدیم رومی نام ہے۔ رومی جمہوریہ کے ہسپانیا دو صوبوں ہسپانیا قریب اور ہسپانیا بعید میں منقسم تھا۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.