جذبہ

جذبہ (عربی: مشاعر، انگریزی: Emotion) اردو میں عربی سے ماخوذ لفظ ہے جس کے معنی کشش، کھنچاؤ کے ہیں۔ جذبات جمع ہے جذبہ کی اور جذبہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بیرونی عوامل انسانی شعور کو اپنے اندر جذب کرلیتے ہیں اس کو ہم ایک مثال سے واضح کردیتے ہیں مثلاً عشق ایک جذبہ ہے یہ اس وقت تک اپنا صحیح اثر نہں دکھا سکتا جب تک کہ یہ انسانی شعور کو اپنے اندر جذب نہ کرلے، جذبات کسی قاعدے اور قانون کے پابند نہیں ہوتے کیونکہ قواعد و قوانین کا تعلق انسانی شعور سے ہے جبکہ جذبات اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتے جب تک کہ یہ انسانی شعور کواپنے اندر جذب نہ کر لیں، جذبات بہت کم مواقع پر سومند ثابت ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اکثر اہل دانش عموماً جذبات سے پ رہی ز ہی کرتے ہیں۔

Emotions - 3
بنیادی جذبات

بیرونی روابط

تقصیر

تقصر (guilt) ایک حالت کا نام ہے جو کسی بدخصالی (offense) یا بدکاری یا قصور یا کسی غیر اخلاقی کام کے باعث پیدا ہوتی ہے؛ حالت کے ساتھ ہی یہ اس ادراکی اور جذباتی کیفیت یا تجربے کے لیے بھی استعمال ہونے والا لفظ ہے جس سے اس قصور یا بدخصالی سے تعلق رکھنے والی شخصیت دوچار ہوتی ہو، خواہ اس شخصیت میں تقصیر کا یہ احساس (یا احساس جرم) واقعتاً حقیقت پر مبنی ہو یا اس نے اپنی ذاتی نفسیاتی نوعیت کی وجہ سے اس تقصیر کو بلا ضرورت (یا ضرورت سے زیادہ) خود پر طاری کر لیا ہو۔ تقصیر، شرمندگی (shame) سے الگ کیفیت ہے گو کہ دونوں ہی بنیادی طور پر اخلاقیات کے برخلاف کسی عمل سے نمودار ہوتی ہیں۔

جبیر بن مطعم

جبیر بن مطعم (وفات: 57ھ یا 59ھ) علم الانساب کے بڑے ماہر صحابی تھے ان کا شمار قریش کے ممتاز نسابوں میں تھا۔

جمہوریت

جمہوریت ایک طرز حکومت ہے جسے آسان الفاظ میں عوام کی حکومت کہا جا سکتا ہے۔ آمریت کے برخلاف اس طرز حکمرانی میں تمام فیصلے عوامی نمائندے کرتے ہیں۔ جمہوریت کی دو بڑی قسمیں ہیں: بلا واسطہ جمہوریت اور بالواسطہ جمہوریت۔ بلاواسطہ جمہوریت میں قوم کی مرضی کا اظہار براہ راست افراد کی رائے سے ہوتا ہے۔ اس قسم کی جمہوریت صرف ایسی جگہ قائم ہوسکتی ہے جہاں ریاست کا رقبہ بہت محدود ہو اور ریاست کے عوام کا یکجا جمع ہو کر غور و فکر کرنا ممکن ہو۔ اس طرز کی جمہوریت قدیم یونان کی شہری مملکتوں میں موجود تھی اور موجودہ دور میں یہ طرز جمہوریت سوئٹیزلینڈ کے چند شہروں اور امریکا میں نیو انگلینڈ کی چند بلدیات تک محدود ہے۔

جدید وسیع مملکتوں میں تمام شہریوں کا ایک جگہ جمع ہونا اور اظہار رائے کرنا طبعاً ناممکنات میں سے ہے۔ پھر قانون کا کام اتنا طویل اور پیچیدہ ہوتا ہے کہ معمول کے مطابق تجارتی اور صنعتی زندگی قانون سازی کے جھگڑے میں پڑ کر جاری نہیں رہ سکتی۔ اس لیے جدید جمہوریت کی بنیاد نمائندگی پر رکھی گئی۔ چنانچہ ہر شخص کے مجلس قانون ساز میں حاضر ہونے کی بجائے رائے دہندگی کے ذریعے چند نمائندے منتخب کر لیے جاتے ہیں جو ووٹروں کی طرف سے ریاست کا کام کرتے ہیں۔ جمہوری نظام حکومت میں عوام کے دلوں میں نظام ریاست کا احترام پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں نظام حکومت خود عوام یا عوام کے نمائندوں کے ذریعے پایۂ تکمیل تک پہنچتا ہے۔ مگر یہ جذبہ صرف اس وقت کار فرما ہوتا ہے جب عوام کی صحیح نمائندگی ہو اور اراکین مملکت کا انتخاب درست اور شفاف ہو۔

ذو البجادین

ذوالبجادین یا دو چادروں والا۔ یہ لقب رسول اللہ ﷺنے جس صحابی کو دیا تھا ان کا نام عبد اﷲ مزنی جن کا لقب ذوالبجادین ہے۔ اسلام لانے سے قبل پرانا نام عبد العزیٰ تھا جسے تبدیل کیا گیا تھا۔

جب انہوں نے بارگاہ رسالت میں حاضری کا ارادہ کیا تو ان کی والدہ نے انہیں دو چادریں دیں ایک چادر اوڑھ لی دوسری کا ازار باندھ لیا بجادموٹی چادر کو کہتے ہیں

یہ قبیلہ مزینہ کے ایک یتیم تھے اور اپنے چچا کی پرورش میں تھے۔ جب یہ سن شعور کو پہنچے اور اسلام کا چرچا سنا تو اِن کے دل میں بت پرستی سے نفرت اور اسلام قبول کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ مگر ان کا چچا بہت ہی کٹر کافر تھا۔ اس کے خوف سے یہ اسلام قبول نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن فتح مکہ کے بعد جب لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے تو انہوں نے اپنے چچا کو ترغیب دی کہ تم بھی دامن اسلام میں آ جاؤ کیونکہ میں قبول اسلام کے لیے بہت ہی بے قرار ہوں۔ یہ سن کر ان کے چچا نے ان کو برہنہ کرکے گھر سے نکال دیا۔ انہوں نے اپنی والدہ سے ایک کمبل مانگ کر اس کو دو ٹکڑے کرکے آدھے کو تہبند اور آدھے کو چادر بنا لیااور اسی لباس میں ہجرت کرکے مدینہ پہنچ گئے۔ رات بھر مسجد نبوی میں ٹھہرے رہے۔ نماز فجر کے وقت جب جمالِ محمدی کے انوار سے ان کی آنکھیں منور ہوئیں تو کلمہ پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کا نام دریافت فرمایا تو انہوں نے اپنا نام عبد العزیٰ بتا دیا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ آج سے تمہارا نام عبد اﷲ اور لقب ذوالبجادین (دوکمبلوں والا) ہے۔

رقص

جو حرکات بے ساختہ فرطِ جذبات کے تحت ہم آہنگی کے ساتھ جسم کے مختلف اعضاء سے سرزد ہوتی ہیں انھیں رقص یا ڈانس کا نام دیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے بعض اساتذہ فن رقص کو مصوری سے زیادہ قدیم سمجھتے ہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ رقص کو ڈراما، فن آرائش اور موسیقی جیسے فنون لطیفہ کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔

رقص صرف انسانوں تک ہی محدود نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پرند چرند اور کیڑے مکوڑے بھی اپنے جذباتِ عشق کا اظہار رقص ہی کے ذریعے کرتے ہیں۔ ہندوستانی مور برسات میں ناچتا ہے اور کئی اور جانور موسم بہار میں کلیلیں بھرنے لگتے ہیں۔ رقص کا لفظ استعاراً بعض بے ساختہ حرکات کو ظاہر کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسے رقصاں لہریں، ناچتی کرنیں اور سمندر کی موجوں پر رقص کرتی ہوئی ناؤ۔

رقص غالباً وہ لہر ہے جو نبض کی حرکت اور جسم کی جنبش سے پیدا ہوتی ہے۔ ایسی رواں دواں، متوازن جنبش جو رقاص کے جذبہ تخلیق کو مطمئن کرتی اور تماشائی کے ذوقِ نظر سے داد پاتی ہے۔ شاید یہ نبض کے اتار چڑھاؤ ہی کا ردِ عمل ہوتی ہے۔

رقص کی دائمی مقبولیت کا باعث وہ دو طرفہ عمل ہے جو حرکت اور جذبہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جب فرط مسرت سے مغلوب ہوکر قدیم انسان بے ساختہ ناچنے کودنے لگا تو اس نے اپنے فرصت کے لمحات میں اسی حرکت کو دہرایا تاکہ اس کے ہم جنس بھی انبساط انگیز کیفیت میں شریک ہو سکیں۔ قبیلوں کے سرداروں نے رقص کو شکار اور جنگ کے موقعوں پر استعمال کیا اور عہدِ وسطیٰ کے صوفیوں نے معرفیت الٰہی کا وسیلہ بنایا۔

رقص کی دائمی مقبولیت کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ اس کا جادو اور مذہب دونوں سے بڑا قریبی تعلق رہا ہے۔ آسٹریلیا کے قدیم باشندے غذا اور بارش کے لیے رقص کرتے ہیں۔ جن میں جادو اور مذہب دونوں کا جزو شامل ہے۔ اسی طرح امریکا کے ریڈ انڈینس، خاص طور سے ایری زونا اور میکسیکو باشندے بارش کو بلانے کے لیے ناچا کرتے ہیں۔ اب بھی دنیا کے اکثر علاقوں میں جادوگر جادو منتر کرنے کے بعد رقص کرتے ہیں۔ ان کے عملیات میں جانوروں اور جڑی بوٹیوں کا خاص دخل ہے۔ اس لیے وہ وہ ناچتے وقت جانوروں کے چمڑے اور سینگ، پھول اور پتے پہن لیتے ہیں۔

قدیم زمانے میں رقص کی مقبولیت کی ایک اور وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس سے بعض سماجی مقاصد پورے ہوتے ہیں۔ ناچ کا مشترکہ جذبہ افراد کو ایک دوسرے سے قریب لاتا اور سماج سے منسلک کرتا تھا۔ ماقبل تاریخ کی بھی بعض تصاویر میں ہمیں ایسے مناظر ملتے ہیں۔ جی میں لوگ ہاتھ میں ہاتھ دیے ایک حلقے کی شکل میں رقص کرتے دکھائی دیتے ہیں. اس روایت کا سلسلہ یونانی گلدانوں پر بنی ہوئی تصاویر میں بھی ملتا ہے ان میں قطار در قطار ناچوں کے مناظر کیے گئے ہیں۔

رونا

انسانی جذبات کے برانگیختہ ہوجانے کی صورت میں آنسو بہہ جانے کے عمل کو رونا کہا جاتا ہے۔ ایسا عموماً بچوں اور عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے کیونکہ جذبات کو قابو میں رکھنے کی طاقت ان دونوں میں کم ہوتی ہے۔ بچوں میں رونا زیادہ تر ضد یا غصہ کے اظہار کے لیے ہوتا ہے جبکہ بلوغت کی عمر کو پہنچنے کے بعد رونا عموماً کسی بڑے صدمے یا غم کی صورت میں ہوتا ہے۔

ضلع قصور

ضلع قصور

پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک ضلع ہے، اس کا مرکزی شہر قصور جو ضلعی دار الحکومت بھی ہے، ضلع کا درجہ حاصل کرنے سے پہلے یہ لاہور کی ایک تحصیل تھا، یکم جولائی 1976ء کو ضلع لاہور سے تحصیل قصور کو علاحدہ کر کے ضلع کا درجہ دے دیا گیا، اس کے بعد نئی طرز کے بنیادی انتظامی ادارے، کچہریاں اور یونین کونسل قائم ہوئے، اس ضلع کو انتظامی طور پر چار تحصیلوں میں تقسیم کیا گیا ہے، تحصیل قصور، تحصیل پتوکی، تحصیل چونیاں اور تحصیل کوٹ رادھا کشن، اس ضلع کی کل آبادی 1998ء کی مردم شماری کے مطابق تقریباً 30 لاکھ افراد اور کل رقبہ 3995 مربع کلومیٹر ہے، مسلمان 95.4 فیصد اور مسیحی 4.4 فیصد ہیں، یہاں لوگوں کی 88.2 فیصد مادری زبان پنجابی ہے، مہاجراردو بولنے والے 6.2 فیصد اور باقی د یگر ہیں، عام طور پر شلوار قمیص پہننے کا عام رواج ہے، دہی علاقوں میں مرد شلوار کی بجائے چادر باندھتے ہیں، شرح خواندگی 1998ء کی مردم شماری کے مطابق 32.1 فیصد تھی مگر اب کافی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، سرکاری تعلیمی اداروں میں حکومت کافی تعلیمی سہولتیں فراہم کر رہی ہے جبکہ نجی تعلیمی ادارے بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں ۔

محل وقوع کے اعتبار ضلع قصور 30–40 درجے سے 31–20 درجے عرض بلد اور 73–38 درجے سے 74–41 درجے طول بلد پر واقع ہے ۔سطح سمندر سے اوسط بلندی 218 میٹر (715.22 فٹ) ہے، اس کا کل رقبہ 3995 مربع کلومیٹر ہے، صوبہ پنجاب کا سرحدی ضلع ہونے کی وجہ سے بہت اہمیت کا حامل ہے، اس کے جنوب کی طرف دریائے ستلج جو بین الاقوامی ہندوستانی سرحد کے ساتھ ساتھ بل کھاتا ہوا ضلع قصور سے نکل کر پنجند کے مقام پر دریائے سندھ سے مل جاتا ہے، شمال مغرب میں دریائے راوی اس ضلع کی آخری حد کا کام دیتا ہے جس پر بلوکی ہیڈورکس یہاں کا مشہور اور تفریحی مقام ہے، مشرق میں بھی بین الاقوامی ہندوستانی سرحد ہے جبکہ مغرب میں ضلع اوکاڑہ کی سرحد ہے، شمال کی طرف ضلع لاہور اور شمال مغرب کی طرف راوی دریا کے پار ضلع شیخوپورہ واقع ہے۔ [1]

پنجاب کا ایک قدیم دریائے بیاس جو اب موجود نہیں ہے لیکن اس کی پرانی گزر گاہ کے آثار مشرق سے مغرب کی طرف ضلع قصور کے وسط میں اب بھی موجود ہیں جس نے قدرتی طور پر اس علاقے کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے، اس گزر گاہ کا شمالی علاقہ جنوبی علاقے کی نسبت اونچا ہے جس کی اوسط اونچائی تقریباً ساڑھے پانچ میٹر ہے، شمالی علاقہ اونچا ہونے کی وجہ سے ماجھا اور جنوبی علاقہ ہٹھاڑ کہلاتا ہے، ماجھا کے علاقے میں دریائے بیاس کے ساتھ ساتھ مٹی کے بہت بڑے بڑے ٹیلوں کا ایک وسیع سلسلہ بھی موجود ہے، قصور قدیم شہر ماجھا کے جنوب مغربی سرے پر آباد ہے ۔

قصور کے لوگوں کا تحریک پاکستان میں بھی نمایاں کردار رہاہے،آزادی سے پہلے اور بعد کوئی تحریک ایسی نہیں ہے جس میں اس دھرتی کے سپوتوں نے دفاع وطن اور بقائے ملت کے لیے قربانی نہ دی ہویہ ہماری ملی تاریخ کا ایک ایساکردا رہے جس نے اسلامی تہذیب و تمدن اور مسلم ثقافت کی ترقی اور اس کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے، 23مارچ 1940ء کو ایک قرارداد منظور کی گئی جو بعد میں قرارداد لاہور اور قرار داد پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی، شیر بنگال مولوی اے کے فضل الحق کی پیش کردہ اس قرارداد میں حکومت برطانیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ ہندوستان کے ایسے علاقوں میں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں مسلمانوں کی آزاد اور خود مختار ریاست قائم کی جائے جب اجتماع کے سامنے منظوری کے لیے اس کو پیش کیا گیا تو جذبہ ایمانی سے معمور مسلمانوں کے اس بحر بے کنار کے اندر تلاطم پیدا ہو گیا اور انہوں نے ’’پاکستان زندہ باد‘‘کے فلک شگاف نعروں کے ساتھ فضاؤں میں ہاتھ لہرا لہرا کر قرارداد کی منظوری دی، ہر طرف ایک دیدنی منظر تھا جس طرح ہندوستان بھر کے کونے کونے سے مسلمان بوڑھے، جوان اور بچے بلکہ خواتین تک اس تاریخی اجلاس میں شریک ہوئے تھے، قصور کی سرزمین سے تعلق رکھنے والے غیور مسلمان بھی اپنے تمام تر جوش ایمانی کے ساتھ اس اجلاس میں شریک تھے۔

ضلع قصور میں ہاتھ سے لگایا دنیا کا سب سے بڑا جنگل چھانگا مانگا تحصیل چونیاں میں واقع ہے، جو بارہ ہزار ایکڑ کے وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے اس میں بہت سے قیمتی درخت اگائے گئے ہیں۔ جنگل میں ایک خوبصورت تفریحی پارک اور جھیل سیاحوں کے لیے کشش کا باعث ہے، یہ جنگل مختلف قسم کے جانوروں کی پناہ گاہ کا کام بھی دیتا ہے، چھانگا مانگا کی لکڑی پورے ملک میں مشہور ہے، یہاں پر شہتوت کا درخت بہت کثرت سے ہے جس کے پتوں پر ریشم کے کیڑے پال کر بہترین قدرتی ریشم حاصل کیا جاتا ہے ،یہاں سے سالانہ ٹنوں کے حساب سے شہد اکٹھا ہوتا ہے ۔

اس ضلع کی مشہور اور بڑی ذاتیں راجپوت، آرائیں، جٹ، میؤ، ڈوگر، انصاری، شیخ اور پٹھان ہیں ایک اندازے کے مطابق راجپوت 32 فیصد، آرائیں 30 فیصد، جٹ 10 فیصد اور ڈوگر 4 فیصد کے لحاظ سے آباد ہیں۔ انصاری، شیخ اور پٹھان تناسب کے لحاظ سے بہت کم ہیں جو زیادہ تر شہری آبادی کا حصہ ہیں۔ مشہور ذاتوں کے لوگ اکثر دیہی علاقہ میں رہتے ہیں اور کھیتی باڑی کے پیشہ سے منسلک ہیں، ان قوموں کے ساتھ ساتھ مختلف پیشوں سے متعلق لوگ بھی یہاں آ کر آباد ہو گئے تھے، ان پیشہ ور لوگوں میں لوہار، ترکھان، کمھار، موچی اور جولاہے وغیرہ زیادہ اہم ہیں، یہ لوگ زیادہ تر دیہاتوں میں رہتے ہیں ۔

دیہی ضلع ہونے کی وجہ سے 78 فیصد آبادی دیہات میں رہائش پزیر ہے جن کی اکثریت زراعت پیشہ ہے، زرخیز زمینیں اور عمدہ نہری نظام ہونے کی وجہ سے زیادہ تر اراضی نہری پانی سے سیراب کی جاتی ہے، ہٹھاڑ میں آبپاشی کے لیے ٹیوب ویل بھی ایک ذریعہ ہیں مگر ماجھا کا زمینی پانی اکثر کڑوا ہونے کی وجہ سے بارش یا نہریں ہی آبپاشی کے لیے کار آمد ہیں، بڑی بڑی فصلوں میں گندم، چاول، کماد، کپاس، مکئی اور چارہ وغیرہ شامل ہیں، سبزیاں بھی بہت زیادہ کاشت ہوتی ہیں اب دیہات سے بڑے قصبوں اور شہروں کی طرف نقل مکانی کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے، زرعی علاقہ ہونے کی وجہ سے لوگ مویشی بھی شوق اور کثرت سے پالتے ہیں جن سے گوشت اور دودھ کی ضرورت پوری کی جاتی ہے ۔

عبس

قرآن مجید کی 80 ویں سورت جو 30 ویں پارے میں ہے۔ اس کی کل 42 آیات ہیں۔

عرب اسرائیل تنازع

عرب اسرائیل تنازع (عربی: الصراع العربي الإسرائيلي، عبرانی: הסכסוך הישראלי ערבי) 1948ء سے جاری عرب لیگ اور ریاست اسرائیل کے مابین تنازعہ ہے جو درحقیقت ارض فلسطین کے استحقاق پر ہے۔ ریاست اسرائیل کے قیام کے بعد ارض فلسطین کے قدیم باشندوں کو ان کی سرزمین سے بیدخل کر دیا گیا۔ جس سے عرب میں جذبہ انتقام ابھرا اور 1948ء میں عرب اسرائیل جنگ ہوئی، جس میں کثیر تعداد میں عرب افواج اور رضاکار شریک ہوئے۔ اخوان المسلمین سے وابستہ افراد بھی شریک ہوئے۔ لیکن جنگ میں عربوں کو ہزیمت ہوئی جس کے نتیجہ میں فلسطینیوں کو ہجرت اور پناہ گزینی پر مجبور ہونا پڑا۔ اس جنگ میں عربوں کی شکست کی اہم وجہ عربوں کے مابین رونما اختلافات تھے، نیز اسرائیل کو مغربی پشت پناہی بھی حاصل تھی۔

غزوہ حمراء الاسد

حضور نبی کریم رؤف رحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مجاہدین اسلام کو جنگ احد کے بعد ہتهیار اتارے ابهی ایک دن بهی نہ گزرا تها کہ غزوہ حمرءالاسد پیش آگیا۔ جب کفار مکہ میدان احد سے باہر نکلے تهے تو حضور نبی کریم ﷺ نے علی المرتضی کو ان کا تعاقب کرنے کا حکم دیا تاکہ یہ یقین کر لیا جائے کہ وہ واقعی مکہ معظمہ واپس جا رہے ہیں یا دوبارہ مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ رکهتے ہیں علی المرتضی نے کافی دور تک ان کا تعاقب کیا اور واپس آکر خبر دی کہ کفار نے مکہ کا ہی رخ کیا ہوا۔ لہذا اب خطرے کی کوئی بات نہیں ہے۔ لیکن شیطان نے ان کو ورغلایا کہ مسلمانوں کی اہم ہستیاں ابهی زندہ ہیں اور یہ لوگ دوبارہ مسلمانوں کو منظم کرکے مزید طاقتور لشکر لے کر دوبارہ مکہ پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکهتے ہیں لیکن اس وقت مسلمان زخموں سے نڈهال ہیں ابهی ان میں لڑنے کی سکت نہیں ہے لہذا دو بارہ ان پر حملہ کر دینا چاہیے اس قسم کے بیہودہ خیالات نے انہیں دوبارہ حملہ کرنے پر آمادہ کیا لہذا دوسرے روز وہ مکہ کی جانب جانے کی بجائے مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے۔

حضور نبی کریم ﷺ کو اطلاع ملی تو آپ نے مسلمانوں کو فوری تیاری کا حکم دیا اور اعلان فرمایا کہ اس لشکرمیں صرف وہی مجاہدین شامل ہوں گے جو کل غزوہ احد میں شریک ہوئے تهے جنگ احد کے اگلے دن مجاہدین نے دوبارہ اسلحہ اٹهایا اور جنگ کے لیے تیار ہو گئے ان میں اکثر مجایدین زخمی تهے کسی کے جسم پر ستر زخم تهے تو کسی کے جسم پر اسی زخم تهے لیکن حضور اکرم ﷺ کے اشارے پرزخموں سے چور یہ لشکر دوبارہ جنگ کے لیے تیار ہو گیا۔

جابر بن عبد اللہ ہتهیار لگائے بارگاہ رسالت میں پیش ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ! میں جنگ احد میں اس لیے شریک نہ ہو سکا کہ میرے والد صاحب نے مجهے کہا تها کہ تم ابهی کم عمر ہو اور گهر میں تیری سات بہنیں ہیں تم ان کے پاس گهر میں رہو جہاد کے لیے میں جاتا ہوں چنانچہ میرے والد جنگ احد میں شہید ہو گئے اور اب آپ ﷺ مجهے اس غزوہ میں شرکت کی اجازت عنایت فرمائیں نبی کریم رؤف رحیمؐ نے جابر بن عبد اللہ کو اجازت دے دی۔ جابر کے سوا اس لشکر میں شریک تمام مجاہدین وہی تھے جو جنگ احد میں شریک ہوئے تھے۔ حمراءالاسد مدینہ منورہ سے آٹھ میل کے فاصلے پر ایک بستی ہے جب لشکر اسلام یہاں پہنچا تو حضور نبی کریمؐ نے یہاں خیمہ زن ہو نے کا حکم صادر فرمایا۔ اسی مقام پر قبیلہ بنو خزاعہ کا ایک رئیس شخص معبد نامی بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوا۔ معبد مسلمان ہونے کے بعد مکہ کی طرف جاتے ہوئے الروحاءکے مقام پر ابو سفیان سے ملا۔ ابوسفیان کو بتایا کہ مسلمان ایک لشکر جرار لے کر نہایت جوش و جذبہ اور غصہ کی حالت میں تمہارے پیچھے دوڑے آ رہے ہیں۔ جو مسلمان غزوہ احد میں شریک نہ ہو سکے تھے وہ سب اس لشکر میں شامل تھے۔ اس لیے تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ تم واپس مکہ چلے جاؤ ورنہ سخت نقصان اٹھاؤ گے۔ ابوسفیان نے اپنے لشکر کو حالات سے باخبر کیا اور وہ سب مکہ کی طرف روانہ ہو گئے آپؐ کئی روز حمراءالاسد میں ٹھہرے رہے اور کفار کے لشکر کا انتظار کرتے رہے۔ چند روز وہاں قیام کرنے کے بعد آپؐ اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے اور فتح وکامرانی کا پرچم لہراتے ہوئے واپس مدینہ طیبہ تشریف لے آئے۔

غوث نانپاروی

غوث نانپاروی کی پیدائش 1929ء میں 11ربیع الثانی کو محلہ پرانی بازار نانپارہ میں ہوئی تھی۔ آپ کا اصل نام غوث محمد تھا۔ 11 ربیع الثانی کو پیدائش ہونے کی وجہ سے آپ کے والدین نے نام غوث محمد رکھا تھا۔ آپ کے والد کا نام رسول بخش تھا۔ آپ کے والد رسول بخش دینی جذبہ رکھتے تھے اور اس وجہ سے حفظ قرآن کو اولیت دی اور غوث نانپاروی نے پہلے حفظ قرآن کیا پھر بعد میں ادیب کامل کا امتحان پاس کیا ۔

قوم پرست

قوم پرست (nationalist) کے معنی ایک ایسا فرد ہے جو اپنی قوم سے محبت رکھتا ہے اور اس کو آزاد اور خوشحال اور برسر ترقی دیکھنا چاہتا ہے۔

اکثر مسلم مفکرین قوم پرستی کو انسانیت کے لیے زہر قاتل قرار دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر قوم پرستی کا جذبہ صرف اپنی قوم کی ترقی تک محدود ہوتا تو یہ ایک شریفانہ جذبہ ہوتا، لیکن درحقیقت یہ محبت سے زیادہ عداوت، نفرت اور انتقام کے جذبات اس کو جنم دیتا ہے۔

قوم پرست کے جذبات اپنی قوم کے مجروح اور کچلے ہوئے جذبات یا بعض اوقات زیادتیوں یا مظالم سے بھڑک اٹھتے ہیں۔ اس کا آغاز اپنی قوم کے خلاف ہونے والی ناانصافیوں سے ہوتا ہے۔ اس کے مقاصد اول ان بے انصافیوں کی تلافی کرنا ہوتا ہے جو کسی دوسری قوم نے واقعی یا خیالی طور پر برپا کررکھی ہوں۔ اس جذبہ کر کوئی اخلاقی ہدایت، کوئی روحانی تعلیم یا شریعت الٰہی رہنمائی اور ہدایت فراہم نہیں کر رہی ہوتی لہٰذا یہ جذبہ معاشی قوم پرستی، نسلی منافرت کا باعث بنتا ہے۔ اس جذبہ کے باعث بے امنی، جنگ اور قتل و غارت گری تاریخ میں ملتی ہے۔

قوم پرستی

قوم پرستی (nationalism) سے مراد اپنے خاندان، قبیلے، نسل یا ملک کو خود پر افضل اور برتر سمجھنا اور ہر حال میں اپنی قوم کی حمایت و طرفداری کرنا اور اپنی قوم کا پاس رکھنا ہے ۔

محبت

محبت کا لفظ اردو میں بھی کئی معانی رکھتا ہے۔ محبت کئی قسموں کی ہو سکتی ہے۔ یہ محبت عام کسی شے سے بھی ہے اور کسی خاص ہستی، شخص یا رشتے سے بھی ہو سکتی ہے۔ یہ معمولی ہو سکتی ہے اور شدید بھی۔ شدید حالت جان دے دینے اور لے لینے کی حد تک ہو سکتی ہے۔ اسے پیار یا عشق بھی کہتے ہیں۔ محبت کی کئی قسمیں ہیں۔ مثلا مذہبی پیار، کسی خاص رشتے سے پیار، حب الوطنی یعنی وطن کے لیے پیار، کسی بندے کے لیے پیار۔ وغیرہ وغیرہ

محبت ایک جذبہ محبت ایک جذبہ کا نام بھی ہے جو کسی جاندار یا بے جان چیز کے لیے دل کی گہرائی سے پھوٹتاہے محبت بے لوث ہوتی ہے اگر محبت میں بے لوثی نہ ہو تو وہ محبت پاک نہیں ہوتی ایسی محبت کو محبت نہیں بلکہ فلرٹ کہا جاتا ہے اس قسم کی محبت وقتی ہوتی ہے اور وقت گزاری کے لیے کی جاتی ہے کہا جاتا ہے کہ محبت پانے کا نام نہیں ہے بلکہ کھونے کا نام ہے

بقول علامہ اقبال

منگل پانڈے

ہندوستان کی تحریک آزادی کی عملی طور پرابتدا کرنے اور برطانوی نو آبادیات کو للکارنے والے پہلے شخص منگل پانڈے تھے۔ جنھوں نے آزادی ہند کے لیے پہلی گولی چلائی۔ منگل پانڈے 19 جولائی، 1827ء میں مشرقی اترپردیش کے ضلع بلیا کے گاؤں "نگوا" میں پیدا ہوئے۔ جہاں ان کی اولاد اور رشتے دار اب بھی رہائش پزیر ہیں۔ منگل پانڈے کا مقام پیدائش متنازع ہے۔ کہیں لکھا ہے کہ وہ یوپی کے ضلع فیض آباد کے شہر اکبر آباد میں پیداہوئے۔

1849ء میں 22 سال کی عمر میں منگل پانڈے نے وسطی بھارت کی فوجی کمپنی " بنگال انفنٹری" کی چونتیسویں (34) رجیمنٹ میں بحثیت سپاہی بھرتی ہوئے۔ 1853ء میں فوجی ملازمت کے دوران انگریزوں سے نفرت اور جذبہ آزادی کی تمنا جاگی اور انھوں نے آزادی کے لیے پہلی گولی چلائی۔ منگل پانڈے نے انگریز فوجیوں پر حملے کیے۔ انھوں نے 29 مارچ، 1857ء کو ایک انگریز سارجنٹ اور اجونٹنٹ کو زخمی کر دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کی فوج میں استعمال ہونے والی پی۔53 رائفل میں جو کارتوس استعمال کیے جاتے تھے۔ اسے استعمال سے پہلے ان کارتوس کے فیتوں کو دانتوں سے کھینچا جاتا تھا۔ اس میں گائے اور سور کی چربی لگی ہوتی تھی۔ جو مذہبی طور پر مسلمانوں اور ہندوؤں کے لیے کسی طور پر قابل قبول نہیں تھی۔ یہی بات منگل پانڈے کے غصے کا سبب بنی۔ منگل پانڈے کا تعلق برہمن گھرانے سے تھا۔ جبل پور کے عجائب خانے کے ریکارڈ کے مطابق منگل پانڈے کو 18 اپریل، 1857ء میں کولکتہ کے قریب بارک پور چھاونی میں پھانسی دی گئی۔ یہ وہی فوجی چھاونی ہے جہاں کچھ مہینے قبل ہندوستانی فوجیوں نے" انگریزی ٹوپ" پہنے سے انکار کر دیا تھا۔

موبی لنک

موبی لنک پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن کی خدمت فراہم کنندہ ہے۔

ناٹیہ شاستر

ناٹیہ شاستر ہندوستانی ڈرامے کے اولین نظریہ ساز بھرت منی کی تصنیف ہے جس کو ڈرامے کے موضوع پر لکھی گئی اولین کتابوں میں سے ایک ہونے کا شرف حاصل ہے۔ یہ کتاب دوسری یا تیسری صدی قبل مسیح میں مرتب ہوئی۔ اگر فن ڈراما پر ارسطو کی شہرہ آفاق کتاب "بوطیقا" کو اولین کتاب مانا جائے تو ناٹیہ شاستر اس سلسلہ کی دوسری کتاب قرار پائے گی۔ نیز ناٹیہ شاستر کو پانچواں وید ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔

ہندوستان کی موسیقی اور رقص کی بنیاد اسی کتاب کے لکھے ہوئے اصولوں پر ہے۔ بعد میں رقص اور موسیقی ہمارے سماج کے اجتماعی تجربوں اور مشاہدوں اور ہمارے ماہروں اور عالموں کی تحقیق اور تفتیش کی بنیاد پر ایک زبردست علم کی حیثیت اختیار کر گئے، جہاں پر انسانی آواز کی تمام امکانی صورتوں اور ان کی مختلف ترتیب کو ریاضی کے فارمولوں کی طرح منظم کیا گیا۔ ڈرامے کی ابتدا کے بارے میں بھرت منی خود "ناٹیہ شاستر" میں لکھتے ہیں:

"دیواستو منو کے دور میں جب انسان حسد، بغض، غصہ، لالچ اور ہوس پرستی جیسی برائیوں کو اختیار کرکے لطف و انبساط اور دکھ درد سے یکساں طور پر گزر رہے تھے اور جب دیوتاؤں کے زیر نگیں جمبو جزیرے پر دیو، گندھرو، بھوت پریت، عفریت اور بڑے اجگر قابض ہو گئے تو اندر کی قیادت میں دیوتاؤں نے برہما سے جا کر درخواست کی کہ ہمیں تفریح کا کوئی سامان فراہم کیجیے جو دیکھنے اور سننے کے قابل ہو۔ موجودہ ویدوں کے منتر نچلی ذات کے لوگوں کو نہ سننے اور نہ بولنے کی اجازت ہے اس لیے ایک ایسا پانچواں وید تخلیق کیجیے جو ادنی ذات کے لوگوں کے لیے بھی باعث تفریح ہو، تو برہما نے دیوتاؤں کو رخصت کر کے چار ویدوں سے عناصر ترکیبی حاصل کرکے پانچواں وید "ناٹیہ شاستر" کے نام سے تخلیق کیا جس کا مقصد پاکی، دولت اور شوکت کی اقدار کو تقویت پہنچانا قرار دیا۔ اس میں انسانوں کی رہنمائی کے لیے مناسب ہدایات بھی شامل کر دیں تاکہ مستقبل کی انسانی نسلوں کی رہبری کے سامان بھی میسر رہیں۔ اس طرح ناٹیہ شاستر میں نہ صرف ڈرامے بلکہ دوسرے فنون لطیفہ کو بھی فروغ دینے کے لیے ضروری ہدایات شامل کر دی گئیں۔"

وجد

وجد ایک ایسا روحانی جذبہ ہے۔ جو اللہ کی طرف سے باطن انسانی پر وارد ہو جس کے نتیجہ میں خوشی یا غم کی کیفیت پیدا ہوتی ہے

پاکستان زندہ باد (نعرہ)

پاکستان زندہ باد کا نعرہ پاکستانی شہری جذبہ حب الوطنی اور فتح کے موقع پر اپنی خوشی کے اظہار کے لیے لگاتے ہیں۔ نیز اسے سیاسی اور قومی تقریروں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.