تربوز

تربوز ایک بیل دار پودے پر لگتا ہے۔ جو کچا کھایا جاتا ہے۔ یہ بڑا اور وسیع ہوتا ہے۔ یہ ہر سال اپنے مخصوص موسم میں رونما ہوتا ہے۔ یہ پھل جنوبی آفریکا سے تعلق رکھتا ہے۔ اس پھل کا چھلکا تھوڑا سخت ہوتا ہے۔ اس کے چھلکے پر ہرے اور گاڑھے ہرے رنگ کے پتے ہوتے ہے۔ یہ پھل اندر سے لال ہوتا ہے۔ اس پھل کا اندر کا لال حصا میٹھا ہوتا ہے۔ اس میں سخت کالے بینج ہوتے ہیں۔

تاریخ

یہ ایک پھل دینے والا پودا ہیں جو کے جنوبی افریکا سے تعلق رکھتا ہیں۔ جہاں وہ جنگلوں میں پایا گیا ہے۔ اس میں جینیاتی تبدیلی کی وجہ سے یہ میٹھا کڑوا اور کھٹے زائقہ میں پایا جاتا ہے۔ تربوز ایک پھولدار پودے جنوبی افریقہ میں جہاں یہ جنگلی بڑھتے ہوئے پایا جاتا ہے، سوچا ہے۔ یہ میٹھی، کومل اور تلخ فارم کے ساتھ زیادہ سے زیادہ جینیاتی تنوع وہاں پہنچ جاتا ہے۔ انیسویں صدی میں، الفانسے ڈی کندوللی [1] کرنا اشنکٹبندیی افریقہ سرخ ہو واٹرمیلاون سمجھا جاتا ہے۔ [2] کاٹرولوس کالوکینتاس اکثر واٹرمیلاون کے ایک جنگلی پرکھا سمجھا جاتا ہے اور اب شمالی اور مغربی افریقہ میں مقامی پایا جاتا ہے۔ تاہم، یہ چلوروپلاسٹ ڈی این اے تحقیقات کی بنیاد پر بنجر اور جنگلی واٹیرمیلاون آزادانہ طور پر ایک مشترک پرکھا، نمیبیا سے ممکنہ طور پر ج اکاررہوسوس سے داورگاد کہ کی تجویز دی گئی ہے۔ [3]

دریائے نیل کی وادی میں اس کی کاشت کے ثبوت دوسرے ہزار سال سے قبل مسیح تا پایا گیا ہے۔ واٹیرمیلاون بیج بارہویں خاندان سائٹس اور فرعون ٹوتنکہامان کی قبر میں پائے گئے ہیں۔ [4]

ساتویں صدی میں واٹرمیلون ہندوستان میں کاشت کیا جا رہا تھا اور دسویں صدی عیسوی کی طرف سے چین، جو آج دنیا کی واحد سب سے بڑا واٹرمیلاون پروڈیوسر پہنچ چکا تھا۔ مسلمانان اندلس حملہ آوروں پھل یورپ میں متعارف کرایا اور اس میں Córdoba 961 میں اور بھی Seville میں 1158 میں کاشت ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔ یہ موسم گرما کا درجہ حرارت اچھی پیداوار کے لیے ناکافی ہونے کی طرف سے اس پیش قدمی میں شاید محدود جنوبی یورپ کے ذریعے شمال تک پھیل گیا۔ پھل یورپی ہیربالس میں 1600 سے ظاہر ہونے شروع ہو گئی تھی اور بڑے پیمانے پر یورپ میں 17 ویں صدی کی ایک معمولی باغ فصل کے طور پر نصب کیا گیا تھا۔ [5]

یورپی ں ے اور غلام افریقہ سے واٹرمیلاون نئی دنیا میں متعارف کرایا۔ ہسپانوی آبادکار اس میں فلوریڈا میں طرف بڑھ رہی ہے اور اس کو 1629 کی طرف سے میسا چوسٹس میں اضافہ ہوا جا رہا تھا اور کی طرف سے 1650 پیرو، برازیل اور پانامہ کے علاوہ بہت سی برطانوی اور ڈچ کالونیوں میں کاشت کیا جا رہا تھا۔ ایک ہی وقت کے ارد گرد، مقامی امریکی مسی سیپی وادی اور فلوریڈا میں فصل پیدا کرنے تھے۔ واٹرمیلون ہوائی میں تیزی سے مقبول تھے اور دوسرے جب بحر الکاہل جزائر وہ وہاں کیپٹن جیمز کک جیسے مہم جوؤوں کی طرف سے متعارف کرایا گیا۔ [5]

مختلف قسم کی بہتری

تربوز (ایک پرانے cultivar کا) ایک 17th صدی کی پینٹنگ میں دکھایا گیا کے طور پر، کینوس پر تیل، کی طرف سے  Giovanni کی Stanchi

Watermelon seedless
بیج کے بغیر تربوز

چارلس Fredric Andrus ، میں ایک horticulturist نے USDA میں سبزی بریڈنگ لیبارٹری چارلسٹن، جنوبی کیرولینا ، ایک بیماری کے خلاف مزاحمت کی پیداوار اور دیکھ مزاحم تربوز لیے باہر قائم۔ نتیجہ، 1954 میں، "چارلسٹن سے کہ سرمئی تربوز" تھا۔ اس لمبوترا شکل اور مشکل رند یہ آسان کتابیں رکھی اور جہاز کے لیے بنایا۔  اس ملائمیت یہ ایک وسیع جغرافیائی علاقے پر بڑی ہو گئی کیا جا سکتا ہے کا مطلب۔ یہ اعلی پیداوار کی پیداوار ہے اور سب سے زیادہ سنگین تربوز بیماریوں کے خلاف مدافعتی تھا: anthracnose اورFusarium کی دیکھ .  دوسروں کو بھی بیماری مزاحم قسم پر کام کر رہے تھے۔ فلوریڈا کی یونیورسٹی میں JM Crall 19633 میں "جوبلی" تیار اور کینساس اسٹیٹ یونیورسٹی کے CV ہال پیداوار "کرمسن میٹھا" اگلے سال۔ یہ اب کوئی کسی بھی بڑی حد تک اضافہ ہوا ہے، لیکن ان کے نسب کو مزید میں تیار کیا گیا ہے ہائبرڈ زیادہ پیداوار، بہتر گوشت کے معیار اور خوبصورت ظاہری شکل کے ساتھ مختلف قسم کے .  پلانٹ بریڈرس کی ایک اور مقصد گوشت بھر میں بکھرے ہوئے پائے جاتے ہیں جو بیج کے خاتمے رہا ہے۔  یہ کے استعمال کے ذریعے حاصل کی گئی ہے triploid قسموں، لیکن ان جراثیم سے پاک ہیں اور ایک کو پار کر کے بیجوں کی پیداوار کی لاگت tetraploid ایک عام سے والدین diploid والدین زیادہ ہے۔ 

آج، امریکا میں تقریبا 44 ریاستوں میں کسانوں تجارتی طور تربوز اگاتے ہیں۔ جارجیا، فلوریڈا، ٹیکساس، کیلیفورنیا اور ایریزونا امریکا 'بڑا تربوز کے پروڈیوسر ہیں۔ یہ اب عام پھل راشن اکثر نصف یا چوتھائی خربوزے فروخت ہے کہ کافی اکثر بڑی ہے۔ تربوز-دونوں سرخ اور میں سے کچھ چھوٹا، کروی قسموں پیلے دبلی-رہے ہیں کبھی کبھی "سے   Icebox خربوزے" کہا جاتا ہے۔  سب سے بڑا ریکارڈ شدہ پھل 2013 میں ٹینیسی میں اضافہ ہوا ہے اور 159 کلو گرام (351 پونڈ) کا وزن کیا گیا تھا۔ 

کاشت

Citrullus lanatus
پیلا تربوز

تربوز اشنکٹبندیی یا subtropical پودوں ہیں اور ترقی کی منازل طے کرنے کے بارے میں 25 °C (77 °F) کے مقابلے میں درجہ حرارت اعلی کی ضرورت ہے۔ ایک باغ پیمانے پر، بیج عام طور پر احاطہ کرتا کے تحت برتن میں بویا اور 5.5 اور 7 کے درمیان ایک پییچ اور نائٹروجن کے درمیانے درجے کی سطح کے ساتھ اچھی طرح سوھا سینڈی loamm میں پرتیاروپت کر رہے ہیں۔

تربوز کی اہم کیڑوں شامل aphids کے ، پھل مکھی اور جڑ گرہ nematodes کی . اعلی نمی کے حالات میں، پودوں کا شکار ہیں پودوں کی بیماری جیسے پاؤڈر mildew اور منظر وائرس .  اکثر جاپان اور کے دیگر حصوں میں اضافہ ہوا کچھ قسموں مشرق بعید کے لیے حساس ہیں Fusarium کی دیکھ . grafting کے مرض کے خلاف مزاحم پر ایسی اقسام rootstocks کے تحفظ فراہم کرتا ہے۔  پر seedless تربوز امریکی محکمہ زراعت میں کم از کم ایک کا استعمال کرتے ہوئے سفارش کی گئی چھتے کے لیے فی ایکڑ (4،000 میٹر 2 چھتہ فی) جرگن تجارتی plantings کے لیے روایتی، ترجیح قسموں میں سے . پر seedless سنکر جراثیم سے پاک جرگ ہے۔ یہ پودے لگانے کی ضرورت ہوتی pollinizer قابل عمل جرگ کے ساتھ مختلف قسم کی قطار۔  چونکہ قابل عمل جرگ کی فراہمی کم ہے اور جرگن بہت زیادہ اہم پیداوار میں ہے پر seedless مختلف قسم کے، فی ایکڑ چھتے (کی سفارش کی تعداد میں pollinator کی کثافت) فی ایکڑ تین چھتے (1،300 میٹر 2 چھتہ فی) کو بڑھاتا ہے۔ تربوز دیگر خربوزے مقابلے میں ایک طویل بڑھتی ہوئی مدت ہے اور اکثر مقدار غالب پھل کے لیے رپائی کے وقت سے 855 دن یا اس سے زیادہ لگ سکتے ہیں۔ 

کے کسان Zentsuji جاپان کے خطے بڑھنے کے لیے ایک راستہ مل گیا کیوبک دھات اور شیشے خانوں میں پھل بڑھتی ہوئی ہے اور ان کے ٹوکری کی شکل فرض بنا کر تربوز۔  مکعب شکل اصلا ڈھیر لگانا اور دکان پر خربوزے کو آسان بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، لیکن مکعب تربوز معمول والوں کی ٹرپل قیمت ہو، تو امیر شہری صارفین کو بنیادی طور پر اپیل کرسکتے ہیں۔  پرامڈ کے سائز تربوز بھی تیار کیا گیا ہے اور کسی بھی polyhedral شکل ممکنہ طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 

Watermelon Types
تربوز کی مختلف اقسام
تربوز، خام
100 جی کے مطابق غذائیت کی قیمت (3.5 آانس)
توانائی 127 کلو جول (30 کلو کیلوری)
کاربوہائیڈریٹس 7.55 جی
شکر 6.2 G
غذائی ریشہ 0.4 G
موٹی 0.15 جی
پروٹین 0.61 جی
وٹامن
A equiv وٹامن.

بیٹا کیروٹین

(4٪)

28 μg (3٪) 303 μg

Thiamine (B 1) (3٪)

0،033 مگرا

ربوفلیون (B 2) (2٪)

0،021 مگرا

نیاسین (B 3) (1٪)

0،178 مگرا

Pantothenic ایسڈ (B 5) (4٪)

0،221 مگرا

وٹامن بی 6 (3٪)

0،045 مگرا

فیٹی ایسڈ (1٪)

4.1 مگرا

وٹامن سی (10٪)

8.1 مگرا

منرلز
کیلشیم (1٪)

7 ملی گرام

آئرن (2٪)

0.24 مگرا

میگنیشیم (3٪)

10 مگرا

مینگنیج (2٪)

0،038 مگرا

فاسفورس (2٪)

11 مگرا

پوٹاشیم (2٪)

112 مگرا

سوڈیم (0٪)

1 مگرا

زنک (1٪)

0.1 مگرا

دیگر اجزا
پانی 91،45 G
لائکوپین 4532 μg

USDA ڈیٹا بیس اندراج کے لیے لنک
  • کی اکائیاں
  • μg = مائیکروگرام • مگرا = ملیگرام
  • آایو = انٹرنیشنل یونٹس
فی صد تقریبا استعمال کرتے ہوئے اندازہ لگایا رہے ہیں امریکی سفارشات بالغوں کے لیے۔ 

ماخذ: USDA کیلوری

نگار خانہ

Watermelon 1
Male and female watermelon 1458
Citrullus lanatus ies
WatermelonBaller
Lasioglossum malachurum female 1
Wuhan - Zhongshan St - seed shops - watermelon seeds - P1040799
Single Watermelon Leaf 2000px
Watermelons
اندرائن

اندرائن جسے عربی میں حنظل اور پنجابی میں کوڑتمہ کہتے ہیں خربوزے کی شکل کا ایک پھل جو دیکھنے میں خوبصورت اورذائقے میں بہت کڑواہوتاہے۔

اس کی بیل تربوز کی بیل جیسی ہوتی ہے اور پھل گول مالٹے کی طرح ہوتا ہے خودرو پودا ہے پنجاب اور سندھ کے علاقوں میں پایا جاتا ہے

حدیث میں اس کا ذکر ہے۔

ابوموسی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال سنگترہ کی سی ہے کہ اس کا مزہ بھی عمدہ اور خوشبوبھی عمدہ اور قرآن نہ پڑھنے والے کی مثال اس کھجور کی طرح ہے جس کا مزہ تو اچھا ہے لیکن خوشبو نہیں اور اس فاسق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے گل ریحان کی طرح ہے کہ اس کی خوشبو اچھی ہے اور مزہ کچھ نہیں اور اس فاسق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اندرائن کے پھل کی سی ہے، جس کا مزہ بھی کڑوا ہے اور بو بھی خراب۔

بحیرہ ارال

بحیرہ ارال وسط ایشیا کی ایک عظیم جھیل ہے جو قازقستان اور ازبکستان کے درمیان واقع ہے۔ اس جھیل کے چاروں طرف زمین ہے لیکن اپنے وسیع حجم کے باعث اسے سمندر کہا جاتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں اس جھیل کو بحیرۂ خوارزم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس جھیل کا نام "ارال۔ ڈینگھز" سے نکلا ہے جو کرغز زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب "جزائر کا سمندر" ہے۔ 1960ء کی دہائی سے اس جھیل کے پانی میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے جس کی وجہ اس میں گرنے والے اہم دریاؤں سیر دریا اور آمو دریا سے نہریں نکال کر اس کے پانی کو وسیع پیمانے پر زراعت کے لیے استعمال کرنا ہے۔ ان اقدامات سے جھیل کے لیے پانی کے ذرائع ختم ہو کر رہ گئے اور یہ روز بروز سکڑتی چلی گئی اور کم پانی بھی شدید گرمی کے باعث بخارات میں تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ بحیرہ ارال جو کسی زمانے میں دنیا کی چوتھی سب سے بڑی جھیل تھا اب 1960ء کے مقابلے میں صرف 40 فیصد رہ گیا ہے۔ اب عالمی توجہ کے بعد اس قدرتی ورثے کی حفاظت کا منصوبہ تشکیل دیا گیا ہے لیکن اس سے بھی جھیل کے حجم میں قابل قدر اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ علاوہ ازیں یہ جھیل انتہائی آلودہ بھی ہے جس کی وجہ سوویت دور اور اس کے بعد ہتھیاروں کے تجربات، صنعتی منصوبہ جات اور کھاد سازی کی صنعت ہے۔

حسین احمد مدنی

شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، آپ مولانا محمود الحسن کے جانشین تھے۔ 19 شوال 1296ھ بمطابق 1879ء بمقام بانگڑ میو ضلع اناؤں، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔

حکیم لقمان

حکیم لقمان ایک شخصیت ہیں جن کا تذکرہ قرآن میں سورۃ لقمان میں آیا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ وہ نبی تھے یا نہیں۔ البتہ وہ ایک بہت دانا آدمی تھے اور بہت سی حکایات ان سے منسوب ہیں۔ ان کی حکمت بھی مشہور ہے اور اردو کی مشہور مثل ہے کہ وہم کی دوا تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں۔ یعنی ان کو حکمت کی معراج سمجھا جاتا ہے۔ حکیم لقمان اللہ سے بہت محبت کرتے تھے اور ان کا ایمان بہت طاقتور تھا۔ قرآن میں ان کی کچھ نصیحتیں درج ہیں جو انھوں نے اپنے بیٹے کو کی تھیں۔

حضرت لقمان کی مدح و ثناء اور ان کی بعض نصیحتوں کا تذکرہ قرآن میں بڑی عظمت و شان کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور انہی کے نام پر قرآن مجید کی ایک سورۃ کا نام سورہ لقمانرکھا گیا۔

محمد بن اسحٰق صاحب مغازی نے ان کا نسب نامہ اس طرح بیان کیا ہے۔ لقمان بن باعور بن باحور بن تارخ۔ یہ تارخ وہی ہیں جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلا م کے والد ہیں اور مؤرخین نے فرمایا کہ آپ حضرت ایوب علیہ السلام کے بھانجے تھے اور بعض کا قول ہے کہ آپ حضرت ایوب علیہ السلام کے خالہ زاد بھائی تھے۔

حضرت لقمان نے ایک ہزار برس کی عمر پائی۔ یہاں تک کہ حضرت داؤد علیہ السلام کی صحبت میں رہ کر ان سے علم سیکھا اور حضرت داؤد علیہ السلام کی بعثت سے پہلے آپ بنی اسرائیل کے مفتی تھے۔ مگر جب حضرت داؤد علیہ السلام منصب ِ نبوت پر فائز ہو گئے تو آپ نے فتویٰ دینا ترک کر دیا۔

حضرت عکرمہ اور امام شعبی کے سوا جمہور علما کا یہی قول ہے کہ آپ نبی نہیں تھے بلکہ آپ حکیم تھے اور بنی اسرائیل کے نہایت ہی بلند مرتبہ صاحب ایمان اور بہت ہی نامور مرد صالح تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے سینہ کو حکمتوں کا خزینہ بنا دیا تھا۔ قرآن مجید میں ہے:

اور (یاد کیجئے) جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا اور وہ اسے نصیحت کر رہا تھا: اے میرے فرزند! اﷲ کے ساتھ شرک نہ کرنا، بیشک شِرک بہت بڑا ظلم ہے (سورۃ لقمان۔ آیت 12)

حضرت لقمان عمر بھر لوگوں کو نصیحتیں فرماتے رہے۔ تفسیر فتح الرحمن میں ہے کہ آپ کی قبر مقام صرفند میں ہے جو رملہ کے قریب ہے اور حضرت قتادہ کا قول ہے کہ آپ کی قبر رملہ میں مسجد اور بازار کے درمیان میں ہے اور اس جگہ ستر انبیا علیہم السلام بھی مدفون ہیں۔ جن کو آپ کے بعد یہودیوں نے بیت المقدس سے نکال دیا تھا اور یہ لوگ بھوک پیاس سے تڑپ تڑپ کر وفات پا گئے تھے۔ آپ کی قبر پر ایک بلند نشان ہے اور لوگ اس قبر کی زیارت کے لیے دور دور سے جایا کرتے ہیں۔حکمت کیا ہے؟:۔حکمت عقل و فہم کو کہتے ہیں اور بعض نے کہا کہ حکمت معرفت اور اصابت فی الامور کا نام ہے۔ اور بعض کے نزدیک حکمت ایک ایسی شے ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے دل میں یہ رکھ دیتا ہے اس کا دل روشن ہوجاتا ہے وغیرہ وغیرہ مختلف اقوال ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان کو نیند کی حالت میں اچانک حکمت عطا فرما دی تھی۔ بہرحال نبوت کی طرح حکمت بھی ایک وہبی چیز ہے، کوئی شخص اپنی جدوجہد اور کسب سے حکمت حاصل نہیں کر سکتا۔ جس طرح کہ بغیر خدا کے عطا کیے کوئی شخص اپنی کوششوں سے نبوت نہیں پا سکتا۔ یہ اور بات ہے کہ نبوت کا درجہ حکمت کے مرتبے سے بہت اعلیٰ اور بلند تر ہے۔حضرت لقمان نے اپنے فرزند کو جن کا نام انعم تھا۔ چند نصیحتیں فرمائی ہیں جن کا ذکر قرآن مجید کی سورۃ لقمان میں ہے۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سی دوسری نصیحتیں آپ نے فرمائی ہیں جو تفاسیر کی کتابوں میں مذکور ہیں۔

مشہور ہے کہ آپ درزی کا پیشہ کرتے تھے اور بعض نے کہا کہ آپ بکریاں چراتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ حکمت کی باتیں بیان کر رہے تھے تو کسی نے کہا کہ کیا تم فلاں چرواہے نہیں ہو؟ تو آپ نے فرمایا کہ کیوں نہیں، میں یقینا وہی چرواہا ہوں تو اس نے کہا کہ آپ حکمت کے اس مرتبہ پر کس طرح فائز ہو گئے؟ تو آپ نے فرمایا کہ باتوں میں سچائی اور امانتوں کی ادائیگی اور بیکار باتوں سے پرہیز کرنے کی وجہ سے ۔

ریحانہ فاطمہ

ریحانہ فاطمہ بھارت کی ریاست کیرالا سے وابستہ فعالیت پسند خاتون ہے جو جنوبی ہند میں واقع مشہور ہندو مندر سبری ملا میں سبھی خواتین کی بلا لحاظ عمر داخلے کے لیے اپنی مہم کے لیے جانا جاتا ہے۔ وہ اس سے جڑی کئی سرگرمیوں میں بھی شامل رہی ہیں۔ ان کی فعالیت کی وجہ سے ان کے گھر میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی ہے۔ خود انہیں سبری ملا میں داخلے سے روکا گیا ہے۔ ریحانہ اس کے علاوہ بھی کئی اور وجوہ کی وجہ سے آئے دن بھارت کے اخبارات کی سرخیوں کا حصہ بنی رہی ہیں۔

سرخ ہندی

سرخ ہندی امریکہ کے اصل باشندے ہیں، جو تقریباً پندرہ تا بیس ہزار سال قبل، آبنائے بیرنگ عبور کرکے، شمال مشرقی ایشیا سے براعظم شمالی امریکا پہنچے تھے۔ زیادہ تر لوگ منگول نسل کے ہیں۔ اگرچہ دیگر اقوام کے ساتھ اختلاط سے ان کی کئی قسمیں ہو گئی ہیں تاہم اب بھی بھوری جلد، سیدھے، کھردرے، سیاہ بالوں اور بھوری آنکھوں کی وجہ سے ان میں گہری مشابہت پائی جاتی ہے۔ یہ لوگ زراعت پیشہ تھے۔ مٹر، تربوز، آلو اور تمباکو کاشت کرتے، پتھر کے اوزار بناتے اور آگ سے واقف تھے۔ کچھ عرصے بعد ان میں سے بعض قبائل وسطی اور جنوبی امریکا کے علاقوں میں جا کر آباد ہو گئے۔

جب کولمبس امریکا پہنچا تو اس مغربی نصف کرہ ارض پر بعض روایات کے مطابق 80 لاکھ اور بعض روایات کے بموجب سات کروڑ انڈین آباد تھے۔ بہرحال مؤرخین کی اکثریت دو کروڑ پر متفق ہے۔ چونکہ کولمبس کے خیال کے مطابق وہ انڈیا پہنچ گیا تھا اس نے ان لوگوں کو انڈین کا نام دیا۔ بعد میں ہندوستان سے تمیز کرنے کے لیے انھیں ریڈ انڈین یعنی سرخ ہندی کہا جانے لگا۔ بعد میں وسطی امریکہ اور جنوبی امریکا کے انڈین بعد میں آنے والے لوگوں میں گھل مل گئے جس سے ایک نئی نسل وجود میں آئی۔

ریاستہائے متحدہ امریکا میں ریڈ انڈین کی تعداد میں کمی کے اسباب میں آب و ہوا کی تبدیلی اور وبائی امراض بتائے جاتے ہیں لیکن مورخین کے بقول اس کا اصل سبب سفید فام آباد کاروں کے ہاتھوں ان کی نسل کشی ہے۔

ضلع پٹنہ

بھارتی ریاست بہار کے 38 اضلاع میں سے ایک ضلع- پٹنہ ضلع کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر کے طور پر پٹنہ بہار کے ساتھ ریاست کے تیس آٹھ اضلاع میں سے ایک ہے۔ پٹنہ ضلع پٹنہ ڈویژن کا ایک حصہ ہے۔ حالیہ وقت ریڈ کوریڈور کا ایک حصہ ہے۔

2011 کے طور پر یہ بہار کے سب سے زیادہ آبادی ضلع (39 سے باہر) ہے۔

فرہنگ اصطلاحات سائنس

سائنسی اصطلاحات کی فرہنگ دراصل سائنس، اس کی ذیلی شاخوں اور متعلقہ شعبہ جات کی تعریفوں کی ایک فہرست ہے۔

فہرست ممالک بلحاظ پیداوار زرعی اشیاء

یہ فہرست ممالک بلحاظ پیداوار زرعی اشیاء ہے۔

لغت سائنس

لغت سائنس دراصل سائنس، اس کی ذیلی شاخوں اور متعلقہ شعبہ جات میں استعمال ہونے والے الفاظ کی ایک فہرست ہے۔

مرکب یا کلام

مرکب یا کلام دو یا دو سے زیادہ بامعنی الفاظ کے مجموعے کو مرکب یا کلام کہتے ہیں۔ جیسے بچہ نیک ہے، میرا بھائی، اللہ ایک ہے وغیرہ مرکب یا کلام کی دو اقسام ہیں۔ مرکب تام یا کلام تام، مرکب ناقص یا کلام ناقص

میلسی

میلسی پاکستان کے صوبہ پنجاب کا شہر ہے جو ضلع وہاڑی میں واقع ہے۔ یہ تحصیل میلسی کا صدر مقام بھی ہے۔

یہ ملتان سے 84 کلومیٹر، کراچی سے 915 کلومیٹر، لاہور سے 348 کلومیٹر، فیصل آباد سے 251 کلومیٹر، بہاولپور سے 94 کلومیٹر، حاصل پور سے 60 کلومیٹر، وہاڑی سے 42 کلومیٹر، بورےوالاسے 73 کلومیٹر، عارف والا سے 115 کلومیٹر اور پاکپتن سے 148 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

دریائے ستلج شہر کے مشرق میں بہتا ہے۔

پھلوں کی فہرست

اگر یہ آپ کا مطلوبہ صفحہ نہیں تو دیکھیے، پھل۔یہ فہرست ماکولات (edible) پھلوں کے بارے میں ہے، غیر ماکولات (inedible) پھلوں کے بارے میں دیکھیے ناقابل اکل پھل۔

یہ صفحہ تمام ایسے نباتات کے ناموں کی ایک فہرست پیش کرتا ہے کہ جن کو پھل کی تعریف کے تحت استعمال کیا جاتا ہے۔ پھل سے مراد اپنے عام ترین مفہوم میں کسی بھی بیج دار پودے کے اس حصے کی ہوتی ہے جو اس کی مبیض (ovary) میں غذائیت کے انبار کی وجہ سے پیدا ہوتا ہو اور اس کا کام اس پودے کی افزائش یا تولید میں حصہ لینا ہوتا ہو۔ اس نباتیاتی قسم کی تعریف کے علاوہ بھی ایسے تمام حصوں کو پھل کہا جاسکتا ہے کہ جو پودے کے کسی دوسرے حصے سے پیدا ہوں یا ان میں بلا پکائے کھائے جانے پر لذیذ ذائقہ ہوتا ہو؛ بعض پھل نباتاتی اعتبار سے، پھل سمجھے جانے کے باوجود پھل نہیں ہوتے اور بعض پھل نباتاتی اعتبار سے پھل سمجھے جانے کے باوجود سبزی میں شمار کیے جاسکتے ہیں۔ اس قسم کے نباتات کے بارے میں اضافی معلومات ان کے اپنے مخصوص صفحات پر درج پائی جاتی ہیں۔

چک نمبر 291/ای بی

چک نمبر 291 / ای بی جملیرا روڈ پر واقع ہے اور بوریوالا، پنجاب، پاکستان کا ایک گاؤں ہے۔ یہ مرکزی شہر بورے والا سے تقریباً 20 کلومیٹر دور متناسقات 30.102486°N 72.846297°E پر واقع ہے۔ یہ گاؤں ضلع وہاڑی سے 54 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور اس کے ڈویژن ملتان سے تقریباً 150 کلومیٹر دوری پر ہے۔ یہ تحصیل بوریوالہ کا ایک بڑا گاؤں ہے۔

کھجور

کھجور ایک قسم کا پھل ہے۔ کھجور زیادہ ترمصر اور خلیج فارس کے علاقے میں پائی جاتی ہے۔ دنیا کی سب سے اعلٰی کھجور عجوہ (کھجور) ہے جو سعودی عرب کے مقدس شہر مدینہ منورہ اور مضافات میں پائی جاتی ہے۔ کھجور کا درخت دنیا کے اکثر مذاہب میں مقدس مانا جاتا ہے۔ مسلمانوں میں اس کی اہمیت کی انتہا یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام درختوں میں سے اس درخت کو مسلمان کہا ہے کیونکہ صابر، شاکر اور اللہ کی طرف سے برکت والا ہے۔ قرآن مجید اوردیگر مقدس کتابوں میں جابجا کھجور کا ذکر ملتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ “جس گھر میں کھجوریں نہ ہوں وہ گھر ایسا ہے کہ جیسے اس میں کھانا نہ ہو“ طبی تحقیق کے مطابق کھجور ایک ایسی منفرد اور مکمل خوراک ہے جس میں ہمارے جسم کے تمام ضروری غذائی اجزاء وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ رمضان المبارک میں افطار کے وقت کھجور کا استعمال اس کی افادیت کا منہ بولتا ثبوت ہے چونکہ دن بھر فاقہ کے بعد توانائی کم ہوجاتی ہے اس لیے افطاری ایسی مکمل اور زود ہضم غذا سے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو زیادہ سے زیادہ طاقت و توانائی فراہم کرسکے اور کھجور یہ تمام مقاصد فوراً پورا کردینے کی اہلیت رکھتی ہے۔

گاؤکاؤ

قومی اعلی تعلیم داخلہ امتحان (National Higher Education Entrance Examination) یا گاؤکاؤ (Gaokao) چین میں یہ ایک بدنام زمانہ امتحان ہے جس میں طلبہ کا ریاضی، چینی زبان اور انگریزی کے علاوہ طلبہ کے منتخب کردہ سائنس یا ہیومینیٹیز کے مضامین کے ٹیسٹ لیے جاتے ہیں۔

یہ امتحان 1950ء کی دہائی سے تعلیمی نظام کا حصہ ہے اور اس میں خلل صرف کلچرل ریوولیوشن کے دوران آیا تھا۔

گاؤکاؤ میں ناکامی کا مطلب ہے کہ کم درجے کی نوکری اور خاندان کی مایوسی۔

گاؤکاؤ کے لیے تیاری میں بہت وقت صرف ہوتا ہے۔ سکستھ ٹون ویب سائٹ کے بقول تیاری کروانے والوں کو ’گاؤکاؤ نینیز‘ بولا جاتا ہے۔ یہ وہ سینیئر طلبہ ہوتے ہیں جو بہت پڑھے لکھے افراد ہوتے ہیں یا جنہوں نے حال ہی میں گریجویشن کی ہوتی ہے۔ وہ طلبہ کے ساتھ گھروں میں ہی رہتے ہیں اور ان کی تیاری کرواتے ہیں۔

ٹینسٹ فنانس کی رپورٹ کے مطابق ژاؤ یینگ نے شنگھائی یونیورسٹی سے حال ہی میں گریجویشن کی ہے۔ وہ طلبہ سے ساری رات بات کرنے اور ان کی تیاری کروانے کے 45 ڈالر فی کس روزانہ کے لیتے ہیں۔

گاؤکاؤ نینیز ایجنسی صائمہ ڈومیسٹک سروسز نے سکستھ ٹون کو بتایا کہ گاؤکاؤ نینیز ہر طلب علم کی مشکل کا حل نہیں ہیں۔

میجر تربوز پروڈیوسر، 2014 (ٹن کے لاکھوں) 
 چین
74.8
 ترکی
3.9
 ایران
3.6
 برازیل
2.2
 مصر
2.0
ورلڈ
111،0

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.