تجارت

تجارت دراصل اجناس (goods) اور خدمات (services) کے رضاکارانہ تبادلے کو کہا جاتا ہے۔

Karachi - Pakistan-market-RGsub
ایک پاکستانی کپڑے کی منڈی

تجارت کی اصل شکل تبادلۂ اجناس تھی، جس میں اجناس اور خدمات کا براہِ راست یا بلاواسطہ تبادلہ کیا جاتا تھا۔ جدید تاجر عموماً تبادلۂ اجناس کی بجائے تجارت کا ایک وسیلہ اِستعمال کرتے ہیں، مثلاً پیسہ. نتیجتاً، خریداری کو فروخت یا منافع سے تفریق کیا جاسکتا ہے۔ پیسے کی ایجاد نے تجارت کو سادہ اور غیر پیچیدہ بنادیا ہے اور اِس کو اور ترقی سے نوازا ہے۔

دو تاجروں کے درمیان تجارت کو دو طرفی تجارت جبکہ دو سے زیادہ تاجروں کے درمیان تجارت کو کثیر فرقی تجارت کہتے ہیں۔
تجارت، اُس عمل کو بھی کہا جاتا ہے جو تاجرین اور مالیاتی منڈیوں کے کماش یا کارندے انجام دیتے ہیں۔

بین الاقوامی یا عالمی تجارت

ملکی و قومی سرحدات کے آر پار تجارت کو بین الاقوامی یا عالمی تجارت کہاجاتا ہے۔ زیادہ تر ممالک میں یہ کل قومی پیداوار (GDP) کا ایک اہم حصہ ظاہر کرتا ہے۔ گوکہ، بین الاقوامی تجارت کی تاریخ بہت پُرانی ہے، تاہم، اِس کی اِقتصادی، معاشرتی و سماجی اور سیاسی اہمیت حالیہ صدیوں میں بڑھی ہے، خصوصاً صنعت کاری و کارخانہ داری، اعلی نقل و حمل و باربرداری، عالمگیریت، کثیر ملکی ادارے اور بیرونی ماخذیت کی بدولت حقیقتاً یہ شاید عالمی تجارت کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ ہے جسے عموماً عالمگیریت کہاجاتا ہے۔

مزید دیکھیے

آزادانہ تجارت کا خطہ

آزادانہ تجارت کا خطہ یا فری ٹریڈ زون (FREE TRADE ZONE) ایک بندرگاہ یا اس سے منسلک ایک مخصوص کیا گیا علاقہ جہاں غیر ممنوعہ اشیاء درآمدی محصولات کے بغیر لائی جا سکتی ہیں۔ ایسے علاقے کسی ملک کی حکومت کی طرف سے اس مقصد کے لیے مخصوص کر دیے جاتے ہیں۔ کوئی بھی درآمدی محصول دیے بغیر ان تجارتی اشیاء کو اس خطے میں ذخیرہ کیا جاسکتا ہے، گاہکوں کو دکھایا جاسکتا ہے اور مصنوعات بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے اور برآمدی محصولات ادا کیے بغیر دوبارہ برآمد کیا جا سکتا ہے۔ ان اشیاء پر محصولات صرف اس وقت لگائے جاتے ہیں جب یہ اشیاء کسٹمز اتھارٹی کے تحت آنے والے کسی دوسرے علاقے سے گزرتی ہیں۔

آیزو 4217

مالیاتی عالمی معیار جو انگریزی زبان کے تین حروف پر مشتمل ایک کوڈ ہوتا ہے جس کو انگریزی زبان میں currency code بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مختلف ممالک میں رائج فلس (کرنسی) کی تعریف و معیار کو جانچتا ہے اور اسے بین الاقوامی تنظیم برائے معیاریت (ISO) نے ترتیب دیا ہے۔ اس معیار کے مطابق ہر ملک کی کرنسی کو ایک خاص رمز (code) دیا جاتا ہے جس سے عالمی تجارتی مراکز و بازاروں میں اسے پہچانا جا سکتا ہے، ورنہ کسی بھی ملک میں کرنسی کو مختلف ناموں اور شاروں سے پہچانا جاتا ہے، (مثال؛ بھارتی روپیہ)۔ یہی معیار عالمی مراکز، تجارت، ہوائی سفر وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے تاکہ ابہام نہ رہے۔

ایمیزون (کمپنی)

ایمیزون ڈاٹ کام انکارپوریشن (انگریزی: Amazon.com, Inc) ایک بین الاقوامی امریکی کمپنی جو برقی تجارت کرتی ہے، کمپنی کا مرکز واشنگٹن کے شہر سی ایٹل میں واقع ہے۔ انرنیٹ پر مبنی برقی تجارت کے میدان میں امیزون ریاستہائے متحدہ امریکا کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔

برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی

برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی یا برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی یا برطانوی شرق الہند کمپنی جسے انگریزی (British East India Company) کہا جاتا ہے، جزائر شرق الہند میں کاروباری مواقع کی تلاش کے لیے تشکیل دیا گیا ایک تجارتی ادارہ تھا تاہم بعد ازاں اس نے برصغیر میں کاروبار پر نظریں مرکوز کر لیں اور یہاں برطانیہ کے قبضے کی راہ ہموار کی۔ 1857ء کی جنگ آزادی تک ہندوستان میں کمپنی کا راج تھا۔ اس کے بعد ہندوستان براہ راست تاج برطانیہ کے زیر نگیں آ گیا۔

برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کو 1600ء میں ملکہ الزبتھ اول کے عہد میں ہندوستان سے تجارت کا پروانہ ملا۔ 1613ء میں اس نے سورت کے مقام پر پہلی کوٹھی قائم کی اس زمانے میں اس کی تجارت زیادہ تر جاوا اور سماٹرا وغیرہ سے تھی۔ جہاں سے مصالحہ جات برآمد کرکے یورپ میں بھاری داموں بیچا جاتا تھا۔ 1623ء میں جب ولندیزیوں نے انگریزوں کو جزائر شرق الہند سے نکال باہر کیا تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی تمام تر توجہ ہندوستان پر مرکوز کر دی۔ 1662ء میں بمبئی بھی اس کے حلقہ اثر میں آ گیا۔ اور کچھ عرصہ بعد شہر ایک اہم تجارتی بندرگاہ بن گیا۔ 1689ء میں کمپنی نے علاقائی تسخیر بھی شروع کردی جس کے باعث بالآخر ہندوستان میں برطانوی طاقت کو سربلندی حاصل ہوئی۔ 1858ء میں یہ کمپنی ختم کردی گئی اور اس کے تمام اختیارات تاج برطانیہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ تاہم 1874ء تک کچھ اختیارات کمپنی کے ہاتھ میں رہے۔ ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی 1602ء میں بنی تھی مگر برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی سے زیادہ بڑی ثابت ہوئی۔ ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کے پاس 4785 بحری جہاز تھے جبکہ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے پاس 2690 جہاز تھے۔

انگلش ایسٹ انڈیا کمپنی دنیا کی پہلی لمٹڈ کمپنی تھی۔ اس کے 125 شیئر ہولڈرز تھے اور یہ 72000 پاونڈ کے سرمائے سے شروع کی گئی تھی۔2010ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو ہندوستانی نژاد برطانوی کاروباری شخصیت سنجیو مہتا نے خرید لیا۔

بین الاقوامی تجارت

بین الاقوامی تجارت معاشیات کی ایک شاخ ہے۔ بنیادی طور پر یہ بین الاقوامی معاشیات کی ایک ذیلی شاخ ہے۔ اس میں مختلف ممالک کی آپس میں تجارت اور ان سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس میں اشیاء اور خدمات کی برآمدات اور درآمدات کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی معاہدوں اور ان کی رو سے چلنے والے بین الاقوامی اداروں کا تجزیہ بھی کیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی تجارت کے بارے میں بہت سے نظریات ہیں مثلاً ریکارڈو کا نظریہ، ہکشر اور اوہلن کا نظریہ وغیرہ۔

خلیج کھمبات

خلیج کھمبات یا خلیج کھمبھات (Gulf of Khambhat)

(ہندی: खंभात की खाड़ी، کھمبات کی کھاڑی) بھارت کی مغربی ساحل کے ساتھ ریاست گجرات میں بحیرہ عرب کی آبی گزرگاہ ہے۔ خلیج کھمبات قدیم دور سے تجارت کا اہم مرکز رہی ہے۔ 80 میل طویل یہ خلیج جزیرہ نما کاٹھیاواڑ کو ریاست گجرات سے جدا کرتی ہے۔ دریائے نرمدا اور تپتی اسی خلیج میں گرتے ہیں۔ یہ کم گہری اور اتھلی خلیج ہے۔ خلیج کھمبات اپنی اونچی لہروں کے باعث معروف ہے جو تیزی و بلندی میں بہت تیزی سے تبدیل ہوتی ہیں۔ خلیج کھمبات زمانہ قدیم سے تجارت کا اہم مرکز رہی ہے اور اس کی بندرگاہیں وسط ہندوستان کو بحر ہند کے بحری تجارتی راستوں سے جوڑتی تھیں۔ بھروچ، سورٹھ، کھمبٹ، بھونگر اور دمن تاریخی طور پر اہم بندرگاہیں ہیں۔

اس میں دریائے نرمدا، دریائے تاپتی، دریائے ماہی اور دریائے سابرمتی گرتے ہیں۔

عالمی تجارتی ادارہ

عالمی تجارتی ادارہ (World Trade Organization) ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا پرانا نام گیٹس (GATTS) تھا۔ یہ ادارہ آزاد عالمگیر تجارت اور گلوبلائزیشن کا داعی ہے اور اس کی راہ میں ہر قسم کی معاشی پاپندیوں (ڈیوٹی، کوٹا، سبسڈی، ٹیریف وغیرہ) کا مخالف ہے۔ نیز یہ ادارہ بین الاقوامی تجارت میں ممکنہ تنازع کی صورت میں عالمی ثالث کا کردار ادا کرتا ہے۔ اس وقت ڈبلیو ٹی او کے 149 باقاعدہ ارکان ہیں۔

فارسی زبان

فارسی ایک ہند - یورپی زبان ہے جو ایران، افغانستان اور تاجکستان میں بولی جاتی ہے۔ فارسی کو ایران، افغانستان اور تاجکستان میں دفتری زبان کی حیثیت حاصل ہے۔ ایران، افغانستان، تاجکستان اور ازبکستان میں تقریباً 110 ملین افراد کی مادری زبان ہے۔یونیسکو (UNESCO) سے بھی ایک بار مطالبہ کیا جا چکا ہے کہ وہ فارسی کو اپنی زبانوں میں شامل کرے۔فارسی عالمِ اسلام اور مغربی دُنیا کے لیے ادب اور سائنس میں حصہ ڈالنے کا ایک ذریعہ رہی ہے۔ ہمسایہ زبانوں مثلاً اُردو پر اِس کے کئی اثرات ہیں۔ لیکن عربی پر اِس کا رُسوخ کم رہا ہے۔ اور پشتو زبان کو تو مبالغہ کے طور پر فارسی کی دوسری شکل قرار دیا جاتا ہے اور دونوں کے قواعد بھی زیادہ تر ایک جیسے ہیں۔

برطانوی استعماری سے پہلے، فارسی کو برّصغیر میں دوسری زبان کا درجہ حاصل تھا؛ اِس نے جنوبی ایشیاء میں تعلیمی اور ثقافتی زبان کا امتیاز حاصل کیا اور مُغل دورِ حکومت میں یہ سرکاری زبان بنی اور 1835ء میں اس کی سرکاری حیثیت اور دفتری رواج ختم کر دیا گیا۔ 1843ء سے برصغیر میں انگریزی صرف تجارت میں استعمال ہونے لگی۔ فارسی زبان کا اِس خطہ میں تاریخی رُسوخ ہندوستانی اور دوسری کئی زبانوں پر اس کے اثر سے لگایا جاسکتا ہے۔ خصوصاً، اُردو زبان، فارسی اور دوسری زبانوں جیسے عربی اور تُرکی کے اثر رُسوخ کا نتیجہ ہے، جو مُغل دورِ حکومت میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی زبان ہے۔

معیشت

معیشتکسی ملک یا علاقہ کے معیشتی نظام پر مشتمل ہوتی ہے؛ مزدور، سرمایہ اور اراضی اور وسائل؛ اور اس علاقہ میں اشیاء اور خدمات کی صناعی، پیداوار، تجارت، رسدی، خرچ پر۔

ممبئی

ممبئی (مراٹھی : मुंबई)، (سابق نام :بمبئی)، بھارت کی ریاست مہاراشٹر کا دار الحکومت ہے۔ تقریباً ایک کروڑ 42 لاکھ کی آبادی کا حامل یہ شہر آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔ اپنے مضافاتی علاقوں نوی ممبئی اور تھانے کو ملا کر یہ دنیا کا چوتھا سب سے بڑا شہری علاقہ بنتا ہے جس کی آبادی تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ بنتی ہے۔ ممبئی بھارت کے مغربی ساحل پر واقع ہے اور ایک گہری قدرتی بندرگاہ یہاں موجود ہے۔ بھارت کی نصف سے زائد بحری تجارت ممبئی کی بندرگاہ سے ہوتی ہے۔

یہ شہر تیسری صدی قبل مسیح میں سلطنت موریہ نے سات جزائر پر ہندو و بدھ ثقافت کے مرکز کی حیثیت سے قائم کیا۔ بعد ازاں یہ جزائر مختلف سلطنتوں کا حصہ رہے اور بالآخر سلطنت برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی کے زیر نگیں آئے جس نے ان سب کو ملا کر بمبئی کا نام دیا۔ 18 ویں صدی کے وسط میں یہ ایک اہم تجارتی قصبے کی حیثیت سے ابھرا۔ 19 ویں صدی میں اقتصادی و تعلیمی سرگرمیوں نے شہر کو شناخت بخشی۔ 20 ویں صدی کے دوران یہ بھارت کی آزادی کی تحریک کا ایک اہم مرکز رہا اور ستیاگرہ تحریک]] اور بحریہ کی بغاوت یہیں سے سے پھوٹیں۔ 1947ء میں ہندوستان کی آزادی کے بعد شہر کر ریاست بمبئی کا حصہ بنایا گیا تھا۔ 1960ء میں ایک تحریک کے بعد مہاراشٹر کی نئی ریاست تشکیل دی گئی اور بمبئی کو اس کا دار الحکومت بنایا گیا۔ 1996ء میں شہر کا نام بدل کر ممبئی کر دیا گیا۔

ممبئی بھارت کا تجارتی و تفریحی مرکز ہے جو بھارت کے کل جی ڈی پی کا 5 فیصد پیدا کرتا ہے اور 25 فیصد صنعتی پیداوار، 40 فیصد بحری تجارت اور 70 فیصد سرمایہ کی لین دین کے ذریعے بھارت کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ممبئی اہم مالیاتی اداروں کا مرکز بھی ہے اور ریزرو بینک آف انڈیا، بمبئی اسٹاک ایکسچینج، نیشنل اسٹاک ایکسچینج آف انڈیا اور کئی بھارتی و کثیر القومی اداروں کے دفاتر اسی شہر میں واقع ہیں۔ شہر میں ہندی فلموں اور ٹیلی وژن صنعت کا مرکز بھی واقع ہے جو "بالی ووڈ" کہلاتا ہے۔ ممبئی میں کاروبار کے وسیع مواقع اور بہتر طرز رہائش اسے بھارت بھر کے لیے لوگوں کے لیے پرکشش بناتے ہیں اور یوں یہ شہر مختلف طبقات اور ثقافتوں کا مرکز بن چکا ہے۔

نائیجیریا

نائیجیریا مغربی افریقہ میں واقع ایک اسلامی ملک ہے او اس کا دارالحکومت ابوجا ہے اور بڑا شہر لاگوس ہے۔ صحارا کے آرپار، قافلوں کے لیے موجود راستوں نے نائیجیریا کو شمال کی تاریخی تہذیبوں سے منسلک رکھا تجارت کے علاوہ یہ راستے شمال میں موجود مسلم تہذیب سے نظریات، مذہب اور ثقافت بھی لیکر آئے اس طرح اسلام 8 ویں صدی میں شمالی نائیجیریا میں داخل ہوا۔ 486ء میں پرتگیزیوں کے ایک دورے کے بعد بینن، یورپ اور یوروبلاند کے مابین تجارت کے لیے ذخیرہ گاہ بن گیا۔ 1804ء میں ایک فولانی مسلم مفکر اور ولی اللہ، مشہور کتاب ”احیائالسناة“ کے مصنف عثمان دان فودیو سلطان بنے اور ان کا علم اٹھانے والے فولانی ریاستوں کے سربراہ بن گئے جن کی نسلیں آج بھی موجود ہیں۔

نوآبادیاتی ہندوستان

نوآبادیاتی ہندوستان یا استعماری ہندوستان (Colonial India) تجارت اور فتح کے ذریعے یورپی نوآبادیاتی طاقتوں کے دائرہ کار کے تحت جنوبی ایشیا کا حصہ ہے۔

وزارت صنعت و تجارت، حکومت ہند

وزارت صنعت و تجارت حکومت ہند کی ایک وزارت ہے۔

پرتگال

پرتگال (Portugal) (تلفظ: /ˈpɔrtʃʉɡəlˌ -tjʉ-/; پرتگیزی: [puɾtuˈɣaɫ]

) سرکاری طور پر جمہوریہ پرتگال یا پرتگیزی جمہوریہ (Portuguese Republic) جنوب مغربی یورپ میں جزیرہ نما آئبیریا میں ایک ملک ہے۔ یہ یورپ کا مغربی ترین ملک ہے۔

انسان پرتگال میں تقریبا 30 30،000 قبل مسیح سے آباد ہے جب دنیا برف کے دور کی گرفت میں تھی۔ پہلے پرتگالی شکاری اور ماہی گیر تھے۔ انہوں نے کھانے کے لیے پودے بھی جمع کیے۔ انہوں نے چمڑے کے کپڑے پہن رکھے تھے اور انہوں نے پتھر کے اوزار بنائے تھے۔ تقریبا 5000 قبل مسیح میں کاشتکاری پرتگال میں متعارف کروائی گئی تھی۔ تاہم ، کاشت کار پتھر کے اوزار استعمال کرتے رہے۔ کانسی پرتگال میں تقریبا 2،000 قبل مسیح میں متعارف کروائی گئی تھی۔ شمال سے 700 قبل مسیح کے سیلٹک قبائل پرتگال میں داخل ہوئے۔ انہوں نے پرتگال سے لوہا منوایا۔ اسی دوران 800 قبل مسیح میں ، فینیشینوں نے جو اب لبنان ہے پرتگالیوں کے ساتھ تجارت شروع کردی تھی۔ (وہ کانسی بنانے کے لیے پرتگالی ٹن چاہتے تھے)۔ تقریبا 600 قبل مسیح تک یونانی بھی پرتگال کے ساتھ تجارت کر رہے تھے۔

210 قبل مسیح میں رومیوں نے جزیرins جزیرہ پر حملہ کیا۔ انہوں نے جلد ہی جنوب فتح کر لیا لیکن مرکزی حصہ ایک الگ معاملہ تھا۔ یہاں ایک سیلٹک قبیلہ تھا جسے لوسیطانی کہا جاتا تھا۔ 193 قبل مسیح میں ، ان کے حکمران ویریاطس کی سربراہی میں ، انہوں نے رومن حکمرانی کے خلاف بغاوت کی۔ انہوں نے کئی دہائیوں تک رومیوں کا مقابلہ کیا اور وہ صرف 139 قبل مسیح میں ہی شکست کھا رہے تھے جب ویریاٹس کو پکڑا گیا تھا۔ اس کے بعد ، مزاحمت گر گئی۔ تاہم ، سیلٹک قبیلے نے اپنا نام رومی صوبے لوزیٹانیا میں دے دیا۔ وقت کے ساتھ ہی جزیرہ نما جزیرula روم کا جنوب مکمل طور پر رومی دنیا میں ضم ہو گیا۔ جو پرتگال ہے وہاں سے گندم ، زیتون اور شراب روم کو برآمد کی گئیں۔

تاہم تیسری صدی عیسوی کے وسط تک رومن سلطنت زوال پزیر تھی۔ 5 ویں صدی میں پرتگال میں رومن حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔ 409 میں جرمنی کے عوام نے جزیرins جزیرہ پر حملہ کیا۔ سویوی نامی ایک دوڑ نے پرتگال پر حملہ کیا۔ تاہم ، چھٹی صدی میں ، ویزگوٹھوں نامی ایک اور دوڑ نے اسپین پر حکومت کی اور انہوں نے سویوی پر حملہ کر دیا۔ 585 تک ویزگوٹھوں نے سویوی کو فتح کر لیا۔ جرمنی کے حملہ آور نئے اپر کلاس بن گئے۔ وہ زمیندار اور جنگجو تھے جو تجارت سے نفرت کرتے تھے۔ ان کے اقتدار کے تحت یہودیوں کا تجارت غلبہ تھا۔

درمیانی عمر میں پورٹل

711 میں شمالی افریقہ کے ماؤسوں نے جزیرins جزیرہ پر حملہ کیا۔ انہوں نے فوری طور پر فتح کر لیا جو اب جنوبی پرتگال ہے اور انہوں نے صدیوں تک اس پر حکومت کی۔ تاہم ، وہ شمالی پرتگال کو مستقل طور پر محکوم رکھنے سے قاصر تھے۔

شمال میں آہستہ آہستہ ویزیگوتھک اسٹیٹیلیٹ بڑھتی گئی۔ 11 ویں صدی تک ، یہ پرتگال کے نام سے جانا جاتا تھا۔ پرتگال کی گنتی لیون کے بادشاہ کے واسال تھے لیکن ثقافتی طور پر یہ علاقہ لیون سے بالکل مختلف تھا۔ 1095 میں لیون کے بادشاہ نے پرتگال کو اپنی بیٹی ڈونا ٹریسا اور اس کے شوہر کو عطا کیا۔ جب اس کے شوہر کی موت ہو گئی تو ڈونا ٹریسا نے اپنے بیٹے کی حیثیت سے حکمرانی کی۔ اس نے ایک گالیشی نوبل سے شادی کی۔ تاہم ، پرتگالی اشراف گالیشیاء کے ساتھ اتحاد کا امکان دیکھ کر گھبرا گئے۔ انہوں نے بغاوت کی اور اس کے بیٹے ڈوم الفونسو ہنریکس کی سربراہی میں انہوں نے ساو ممیڈ کی جنگ میں ٹریسا کو شکست دی۔ اس کے بعد الفونسو ہنریکس پرتگال کا حکمران بن گیا۔

پرتگال آہستہ آہستہ لیون سے آزاد ہو گیا۔ 1140 تک الفونسو نے خود کو پرتگال کا بادشاہ کہا اور اپنے ملک کی آزادی کا دعوی کیا۔ 1179 سے پوپل سفارتکاروں نے بھی اسے بادشاہ کہا۔ دریں اثنا ، الفانسو نے ماؤس سے علاقہ پر دوبارہ قبضہ کرنے کا آغاز کیا۔ 1139 میں الفانسو نے ماورس کو اوریئک سے شکست دی۔ 1147 میں اس نے لزبن پر قبضہ کیا اور سرحد کو دریائے ٹیگس میں منتقل کر دیا۔ بعد میں اس نے ٹیگس کے جنوب میں علاقے پر قبضہ کر لیا۔

دریں اثنا پرتگال میں تجارت کی منازل طے رہی۔ یہودیوں کا شہروں میں اہم ہونا اہم ہے۔ پہلی پارلیمنٹ یا کورٹس کا اجلاس 1211 میں ہوا۔ پہلے تو صرف پادریوں اور شرافت کی نمائندگی کی گئی۔ تاہم ، کنگ ڈینس (1279-1325) نے تاجر طبقے کو نمائندے بھیجنے کی اجازت دی - جو ان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی علامت ہے۔ 13 ویں صدی کے وسط سے ، لزبن پرتگال کا دار الحکومت بن گیا۔ 1290 میں پرتگال کی پہلی یونیورسٹی لزبن میں قائم ہوئی۔ (حالانکہ یہ جلد ہی کوئمبرا منتقل ہو گیا ہے)۔ اس کے علاوہ دینی کے دور میں دیودار کے دیودار جنگلات لگائے گئے تھے اور کھیتی باڑی کے ل ma مارش لینڈ کو بہا دیا گیا تھا۔ زراعت ترقی کی۔

تاہم ، یوروپ کے باقی حصوں کی طرح ، 1348-49 میں ، پرتگال میں کالی موت نے تباہی مچا دی تھی ، جس نے شاید ایک تہائی آبادی کو ہلاک کر دیا تھا۔

پھر چودہویں صدی کے آخر میں پرتگال ایک جنگ کی طرف راغب ہوا۔ جب بادشاہ فرنینڈو (1367-13138) کی وفات ہوئی اس کی بیٹی بیٹریز ملکہ ہوگئ۔ تاہم ، اس کی شادی کاسٹل کے جوآن سے ہوئی تھی۔ کچھ پرتگالیوں کو خدشہ تھا کہ پرتگال کاسٹیل کے ساتھ متحد ہوجائے گا اور خود مختار ہوجائے گا۔ وہ سرکشی میں اٹھے۔ کیسٹل کے بادشاہ نے اپنی اہلیہ کی حمایت کے ل Port پرتگال پر حملہ کیا۔ جنگ 2 سال تک جاری رہی۔ آخر ، کجلیائیوں کو پرتگالی فوج نے انگریزی آرچرز کے ذریعہ سپورٹ کیا۔ اس کے بعد ڈوم جواؤ بادشاہ بنا اور پرتگال آزاد رہا۔

1386 میں پرتگال نے انگلینڈ کے ساتھ اتحاد کیا۔ پھر 15 ویں صدی میں پرتگال ایک بہت بڑا سمندری قوم بن گیا۔ 1415 میں پرتگالیوں نے مراکش میں سیؤٹا پر قبضہ کر لیا۔ میڈیرا کو 1419 میں دریافت کیا گیا تھا۔

اس وقت شہزادہ ہنری نیویگیٹر (1394601460) نے ایک عمدہ فن کا رخ کیا۔ انہوں نے پرتگالی کپتانوں کو جہاز اور رقم بھی فراہم کی۔ پرتگالی بحری جہازوں نے آگے اور آگے کی مہم جوئی کی۔ جب شہزادہ ہنری کی موت ہوئی ، پرتگالی سیرا لیون تک چلے گئے۔ پھر ٹینگیئرس کو 1471 میں پکڑ لیا گیا۔

کرناٹک

کرناٹک (کننڈا زبان میں ಕನಾ೯ಟಕ) جنوب ہند کی ایک ریاست۔ ہندوستان میں آئی ٹی ٹیکنالوجی کا دار الخلافہ کا خطاب بھی حاصل ہے ـ شہر بنگلور کرناٹک کا دار الخلافہ ہے۔

اسے عروس البلاد اور گارڈن سٹی آف انڈیا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اور سلیکون ویلی آف انڈیا کے نام سے، آئی ٹی سیکٹر میں نام ہے۔

کینیڈا

کینیڈا رقبے کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ براعظم شمالی امریکا کے بڑے حصے پر محیط ہے۔ بحر اوقیانوس سے لے کر بحر منجمد شمالی تک پھیلا ہوا ہے۔ کینیڈا کی زمینی سرحدیں امریکا کے ساتھ جنوب اور شمال مغرب کی طرف سے ملتی ہیں۔

برطانوی اور فرانسیسی کالونی بننے سے قبل کینیڈا میں قدیم مقامی لوگ رہتے تھے۔ کینیڈا نے برطانیہ سے بتدریج آزادی حاصل کی۔ یہ عمل 1867 سے شروع ہوا اور 1982 میں مکمل ہوا۔

کینیڈا وفاقی آئینی شاہی اور پارلیمانی جمہوریت کا مجموعہ ہے اور دس صوبہ جات اور تین ریاستوں پر مشتمل ہے۔ کینیڈا کو سرکاری طور پر دو زبانوں والا یعنی اور بین الثقافتی یعنی قوم کہتے ہیں۔ انگریزی اور فرانسیسی زبانوں کو سرکاری زبانوں کا درجہ حاصل ہے۔ کینیڈا ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ترقی یافتہ اور صنعتی قوم ہے۔ اس کی معیشت کا زیادہ تر انحصار اس کے قدرتی وسائل اور تجارت بالخصوص امریکا کے ساتھ تجارت پر ہے جس کے ساتھ کینیڈا کی طویل المدتی شراکت ہے۔

گنی (خطہ)

گنی اس خطے کا روایتی نام ہے جو افریقا میں خلیج گنی کے ساتھ ساتھ واقع ہے۔ یہ شمال میں جنگلی علاقوں سے شروع ہوکر ساحل کے علاقوں پر ختم ہوتا ہے۔

تاریخی طور پر یہ پہلا علاقہ ہے جہاں سے یورپ سے تجارت شروع ہوئی۔ ہاتھی دانت، سونے اور غلاموں کی تجارت نے اس خطے کو خوشحال بنا دیا۔ 18 ویں اور 19 صدی میں کئی مرکزی سلطنتیں ادھر حکومتی کرتی تھیں۔ حالانکہ یہ ساحل کے علاقوں کی وسیع حکومتوں کے مقابلے میں کافی چھوٹی تھیں لیکن یہاں کثافت آبادی بہت زیادہ تھی اور یہ حکومتیں زیادہ مستحکم اور ترقی یافتہ تھیں۔ اسی لیے جب یورپی قابض قوتوں نے اس علاقے پر قبضہ کرنے کی ٹھانی تو انہوں افریقہ میں سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا انہی ریاستوں میں کرنا پڑا۔ جس کا اندازہ اس بات سے لگا جاسکتا ہے کہ 19 ویں صدی کے اواخر تک گنی کا بیشتر علاقہ یورپی نو آبادیات میں شامل نہ ہو سکا۔

اس خطے کے مزید دو ذیلی حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جنہیں زیریں گنی اور بالائی گنی کہا جاتا ہے۔ زیریں گنی افریقہ کے گنجان آباد ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے اور اس میں نائجیریا، بینن، ٹوگو اور گھانا کے جنوبی علاقے شامل ہیں۔ بالائی گنی، جو نسبتاً کم گنجان آباد ہے، آئیوری کوسٹ سے گنی بساؤ تک پھیلا ہوا ہے۔ تاہم جمہوریہ گنی میں یہ اصطلاح ملک کے ساحلی اور اندرونی علاقوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

یورپی تاجروں اور قابض قوتوں نے تجارتی اشیاء کی بنیاد پر ان علاقوں کو اپنے نام دیے جیسے نائجیریا اور بینن کے علاقوں کو "غلاموں کا ساحل " (Slave Coast) کہا جاتا تھا۔ گھانا کو "سونے کا ساحل" (Gold Coast) کہا جاتا تھا۔ مغرب میں آئیوری کوسٹ (معنی: "ہاتھی دانت کا ساحل") واقع ہے جو آج تک اس ملک کا نام بھی ہے۔ مزید مغرب میں لائبیریا اور سیرالیون کے علاقوں کو "مرچوں کا ساحل" (Pepper Coast) اور "اناج کا ساحل" (Grain Coast) کہا جاتا تھا۔

یمن

یمن میں جاری حالیہ تنازع کے لیے یمن میں حوثی بغاوت دیکھیے۔جمہوریہ یمن یا یمن مغربی ایشیا میں واقع مشرق وسطیٰ کا ایک مسلم ملک ہے۔ اس کے شمال اور مشرق میں سعودی عرب اور عمان، جنوب میں بحیرہ عرب ہے اور مغرب میں بحیرہ احمر واقع ہے۔ یمن کا دار الحکومت صنعاء ہے اور عربی اس کی قومی زبان ہے۔ یمن کی آبادی 2 کروڑ سے زائد ہے، جن میں سے بیشتر عربی بولتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں یمن عربوں کی اصل سرزمین ہے۔ یمن قدیم دور میں تجارت کا ایک اہم مرکز تھا، جو مسالوں کی تجارت کے لیے مشہور تھا۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.