بین الاقوامی تجارت

بین الاقوامی تجارت معاشیات کی ایک شاخ ہے۔ بنیادی طور پر یہ بین الاقوامی معاشیات کی ایک ذیلی شاخ ہے۔ اس میں مختلف ممالک کی آپس میں تجارت اور ان سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس میں اشیاء اور خدمات کی برآمدات اور درآمدات کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی معاہدوں اور ان کی رو سے چلنے والے بین الاقوامی اداروں کا تجزیہ بھی کیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی تجارت کے بارے میں بہت سے نظریات ہیں مثلاً ریکارڈو کا نظریہ، ہکشر اور اوہلن کا نظریہ وغیرہ۔

مزید دیکھیے

آرامی حروف تہجی

سامی نسل کے آرامی قبیلوں کا خط جو دسویں صدی قبل مسیح میں فونیقیوں کے خط سے اخذ کیا گیا۔ اس کا لکھنا سہل تھا، جس کی وجہ سے یہ خط بین الاقوامی تجارت کا واسطہ بنا رہا۔ خط آرامی 22 حروف پر مشتمل ہے۔ اس خط کے نمونے تخت جمشید کے کھنڈروں میں تختیوں، ہاون دستوں اور برتنوں پر سیاہی میں لکھے ہوئے ملے ہیں۔ مصر میں بھی چمڑے پر تحریریں ملی ہیں۔ ایشائے کوچک وغیرہ میں آرامی کتبے کھدائی میں دستیاب ہوئے ہیں۔ اس خط کے دو کتبے سکندر کی موت کے ساٹھ ستر سال بعد کے زمانے کے ہیں۔ اسی رسم الخط نے بعد میں ترقی کر کے عربی اور فارسی کی صورت اختیار کرلی ، رسول اللہﷺ نے شاہ مقوقس بادشاہ مصر کو جو خط ارسال کیا تھا وہ اسی تبدیل شدہ آرمی - عربی رسم الخط میں لکھا گیا تھا-ان میں سے ایک ٹیکسلا اور دوسرا دریائے کابل کے کنارے جلال آباد کے قریب لمپاکا یعنی تھمان سے ملا ہے۔ ایران میں خط آرامی کا سب سے پرانا نمونہ بغ دات پسر بغکرت کے سکے پر محفوظ ہے۔ یہ حکمران ہنجامنشی شہزادوں میں سے تھا۔ جس کو سکندر نے 323ق۔ م میں ایرانیوں پر اثرورسوخ کے باعث فارس پر بحال رکھا۔

آیزو 4217

مالیاتی عالمی معیار جو انگریزی زبان کے تین حروف پر مشتمل ایک کوڈ ہوتا ہے جس کو انگریزی زبان میں currency code بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مختلف ممالک میں رائج فلس (کرنسی) کی تعریف و معیار کو جانچتا ہے اور اسے بین الاقوامی تنظیم برائے معیاریت (ISO) نے ترتیب دیا ہے۔ اس معیار کے مطابق ہر ملک کی کرنسی کو ایک خاص رمز (code) دیا جاتا ہے جس سے عالمی تجارتی مراکز و بازاروں میں اسے پہچانا جا سکتا ہے، ورنہ کسی بھی ملک میں کرنسی کو مختلف ناموں اور شاروں سے پہچانا جاتا ہے، (مثال؛ بھارتی روپیہ)۔ یہی معیار عالمی مراکز، تجارت، ہوائی سفر وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے تاکہ ابہام نہ رہے۔

امریکی ڈالر

ڈالر بہت سے ممالک کا زرِ مبادلہ (کرنسی) ہے جس میں امریکہ بھی شامل ہے۔ امریکی ڈالر کی موجودہ قمیت تقریباً 142 پاکستانی روپے سے زیادہ ہے۔ جن ممالک کی کرنسی ڈالر کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے اور وہ ڈالر کومعیاری سکہ فرض کرکے بین الاقوامی تجارت کرتے ہیں ان کو ڈالری ممالک کہتے یں۔ جن ممالک کی کرنسی انگریزی پونڈ کے معیار کے مطابق گھٹتی بڑھتی ہے ان کو سٹرلنگ ممالک کہتے ہیں۔

انجمن اقتصادی تعاون و ترقی

انجمن اقتصادی تعاون و ترقی : (انگریزی: Organisation de coopération et de développement économiques)

پیرس، 1948

اوپیک

اوپیک (Organization of the Petroleum Exporting Countries ۔OPEC) پٹرول برامد کرنے والے ملکوں کی ایک عالمی تنظیم ہے۔ اس میں الجیریا (الجزائر) ، انگولا ، انڈونیشیا ، ایران ، عراق ، کویت ، لیبیا ، نائجیریا ، قطر ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور وینیزویلا شامل ہیں۔ اوپیک کا بنیادی مقصد تیل کی عالمی منڈی میں قیمت کو متوازن کرنا اور مناسب مقدار تک بڑھانا شامل ہے۔ ستر کی دہائی میں تیل کی عالمی منڈی میں اوپیک نے بڑی طاقت حاصل کر لی مگر اسی کی دہائی میں یہ طاقت کم ہو گئی اور اوپیک ایک کمزور ادارہ رہ گیا۔ اس کا مرکزی دفتر آسٹریا کے شہر ویانا میں ہے اگرچہ آسٹریا اس کا رکن نہیں ہے۔

تجارت

تجارت دراصل اجناس (goods) اور خدمات (services) کے رضاکارانہ تبادلے کو کہا جاتا ہے۔

تجارت کی اصل شکل تبادلۂ اجناس تھی، جس میں اجناس اور خدمات کا براہِ راست یا بلاواسطہ تبادلہ کیا جاتا تھا۔ جدید تاجر عموماً تبادلۂ اجناس کی بجائے تجارت کا ایک وسیلہ اِستعمال کرتے ہیں، مثلاً پیسہ. نتیجتاً، خریداری کو فروخت یا منافع سے تفریق کیا جاسکتا ہے۔ پیسے کی ایجاد نے تجارت کو سادہ اور غیر پیچیدہ بنادیا ہے اور اِس کو اور ترقی سے نوازا ہے۔

دو تاجروں کے درمیان تجارت کو دو طرفی تجارت جبکہ دو سے زیادہ تاجروں کے درمیان تجارت کو کثیر فرقی تجارت کہتے ہیں۔

تجارت، اُس عمل کو بھی کہا جاتا ہے جو تاجرین اور مالیاتی منڈیوں کے کماش یا کارندے انجام دیتے ہیں۔

ترنجی پیداوار

ترنجی پھل (Citrus fruits) بین الاقوامی تجارت میں سب سے زیادہ قابل قدر پھل ہیں۔ ترنجی پھل کے لیے دو اہم بازار ہیں:

تازہ پھل بازار

عملدار ترنجی پھل بازار (بنیادی طور پر مالٹے کا رس)

خارجی اخذ

خارجی اخذ (انگریزی: Outsourcing) ایک طرح کا معاہدہ ہے جس میں ایک کمپنی دوسری کمپنی کو کسی منصوبہ یا پہلے سے موجود کام کے لیے متعین کرتی ہے۔خارجی اخذ میں زیادہ تر معاہدہ یا کاروباری عمل جیسے تنخواہ، آپریشنل خدمات، سہولتوں کا انتظام اور کال سینٹر شامل ہیں۔ خارجی اخذ کی ابتدا 1981ء سے ہوئی۔ خارجی اخذ میں کبھی کبھی ایک کمپنی سے دوسری کمپنی ملازمین اور اثاثوں کی منتقلی بھی ہوتی ہے۔ نیز خارجی اخذ میں نجکاری بھی شامل ہے۔

زر مبادلہ کی شرح

وہ شرح جس پر کسی ملک کے زر مبادلہ کو دوسرے ملک کے زر مبادلہ کے ساتھ تبدیل کیا جائے، زر مبادلہ کی شرح کہلاتی ہے۔ عموماً یہ شرحِ تبادلہ امریکی ڈالر کے ساتھ لی جاتی ہے مثلاً روپیہ کی شرحِ تبادلہ امریکی ڈالر کے ساتھ 59.45 ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک امریکی ڈالر کے بدلے میں 59.45 پاکستانی روپے۔ چند کے علاوہ تمام زر مبادلہ ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں بیان کیے جاتے ہیں۔ صرف برطانوی پونڈ، یورو اور نیوزی لینڈ کا ڈالر اپنی ایک اکائی کے مقابلے میں ملنے والے امریکی ڈالروں کی صورت میں بیان کیے جاتے ہیں۔

شاہراہ ریشم

عہدِ قدیم (Ancient Ages) کے ان تجارتی راستوں کو مجموعی طور پر شاہراہ ریشم (انگریزی: Silk Road یا Silk route) کہا جاتا ہے جو چین کو ایشیائے کوچک اور بحیرہ روم کے ممالک سے ملاتے ہیں۔ یہ گزر گاہیں کل 8 ہزار کلو میٹر (5 ہزار میل) پر پھیلی ہوئی تھیں۔ شاہراہ ریشم کی تجارت چین، مصر، بین النہرین، فارس، بر صغیر اور روم کی تہذیبوں کی ترقی کا اہم ترین عنصر تھی اور جدید دنیا کی تعمیر میں اس کا بنیادی کردار رہا ہے۔

شاہراہ ریشم کی اصطلاح پہلی بار جرمن جغرافیہ دان فرڈیننڈ وون رچٹوفن نے 1877ء میں استعمال کی تھی۔ اب یہ اصطلاح پاکستان اور چین کے درمیان زمینی گزر گاہ شاہراہ قراقرم کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔

مغرب سے شمالی چین کے تجارتی مراکز تک پھیلی یہ تجارتی گزر گاہیں سطح مرتفع تبت کے دونوں جانب شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم ہیں۔ شمالی راستہ بلغار قپپچاق علاقے سے گذرتا ہے اور چین کے شمال مغربی صوبے گانسو سے گذرنے کے بعد مزید تین حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے جن میں سے دو صحرائے ٹکلا مکان کے شمال اور جنوب سے گذرتے ہیں اور دوبارہ کاشغر پر آ کر ملتے ہیں جبکہ تیسرا راستہ تین شان کے پہاڑوں کے شمال سے طرفان اور الماتی سے گذرتا ہے۔

یہ تمام راستے وادی فرغانہ میں خوقند کے مقام پر ملتے ہیں اور مغرب میں صحرائے کراکم سے مرو کی جانب جاری رہتے ہیں اور جہاں جلد ہی جنوبی راستہ اس میں شامل ہو جاتا ہے۔

ایک راستہ آمو دریا کے ساتھ شمال مغرب کی جانب مڑ جاتا ہے جو شاہراہ ریشم پر تجارت کے مراکز بخارا اور سمرقند کو استراخان اور جزیرہ نما کریمیا سے ملاتا ہے۔ یہی راستہ بحیرہ اسود، بحیرہ مرمرہ سے بلقان اور وینس تک جاتا ہے جبکہ دوسرا راستہ بحیرہ قزوین اور قفقاز کو عبور کر کے جارجیا سے بحیرہ اسود اور پھر قسطنطنیہ تک پہنچتا ہے۔

شاہراہ ریشم کا جنوبی حصہ شمالی ہند سے ہوتا ہوا ترکستان اور خراسان سے ہوتا ہوا بین النہرین اور اناطولیہ پہنچتا ہے۔ یہ راستہ جنوبی چین سے ہندوستان میں داخل ہوتا ہے اور دریائے برہم پترا اور گنگا کے میدانوں سے ہوتا ہوا بنارس کے مقام پر جی ٹی روڈ میں شامل ہو جاتا ہے۔ بعد ازاں یہ شمالی پاکستان اور کوہ ہندو کش کو عبور کر کے مرو کے قریب شمالی راستے میں شامل ہو جاتا ہے۔

بعد ازاں یہ راستہ عین مغرب کی سمت اپنا سفر جاری رکھتا ہے اور شمالی ایران سے صحرائے شام عبور کرتا ہوا لیونت میں داخل ہوتا ہے۔ یہاں سے بحیرہ روم میں بحری جہازوں کے ذریعے سامان تجارت اٹلی لے جایا جاتا تھا جبکہ شمال میں ترکی اور جنوب میں شمالی افریقہ کی جانب زمینی قافلے بھی نکلتے تھے۔

عالمگیریت

عالمگیریت یا جهانی‌سازی (انگریزی: Globalization)، لُغوی طور پر اِس سے مُراد علاقائی یا مقامی مظاہر (phenomena) کو عالمگیر بنانے کا عمل ہے۔

اِس کی وضاحت کچھ یُوں کی جاسکتی ہے کہ ‘‘ایک ایسی عملیت جس سے ساری دُنیا کے لوگ ایک معاشرے میں متحد ہوجائیں اور تمام افعال اکٹھے سر انجام دیں’’۔

عالمی تجارتی ادارہ

عالمی تجارتی ادارہ (World Trade Organization) ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا پرانا نام گیٹس (GATTS) تھا۔ یہ ادارہ آزاد عالمگیر تجارت اور گلوبلائزیشن کا داعی ہے اور اس کی راہ میں ہر قسم کی معاشی پاپندیوں (ڈیوٹی، کوٹا، سبسڈی، ٹیریف وغیرہ) کا مخالف ہے۔ نیز یہ ادارہ بین الاقوامی تجارت میں ممکنہ تنازع کی صورت میں عالمی ثالث کا کردار ادا کرتا ہے۔ اس وقت ڈبلیو ٹی او کے 149 باقاعدہ ارکان ہیں۔

عالمی تنظیم برائے حقوق دانش

عالمی تنظیم برائے حقوق دانش یا ورلڈ انٹیلکچوئیل پراپرٹی آرگنائزیشن (WIPO) اقوام متحدہ کی 16 خصوصی تنظیموں میں سے ایک تنظیم ہے۔ عالمی تنظیم برائے فکری ملکیت 1967ء میں قائم کی گئی، جس کا مقصد دنیا بھر میں تخلیقی سرگرمیوں کی ترویج اور بین الاقوامی سطح پر حقوق دانش کا تحفظ کرنا تھا۔

اس تنظیم کے اراکین میں دنیا بھر کی 184 ریاستیں شامل ہیں۔ اس تنظیم نے کل 24 معاہدے تشکیل دیے تھے۔ اس تنظیم کا مرکزی دفتر سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں قائم کیا گیا ہے۔

معیار طلا

معیار طلا یا گولڈ اسٹینڈرڈ سے مراد ایسی کاغذی کرنسی تھی جسے بینکوں سے سونے کی مقرر شدہ مقدار میں تبدیل کیا جا سکے۔ دوسرے الفاظ میں یہ سونے کے سکوں کی رسید (نوٹ) ہوا کرتی تھی۔

نیل (رنگ)

نیل ایک رنگدار مرکب ہے جسے انگریزی میں indigo dye کہتے ہیں۔ یہ ایک پودے سے حاصل کیا جاتا تھا جس کا نام Indigofera tinctoria یا Indigofera sumatrana ہے جو ہندوستان میں بڑے پیمانے پر کاشت کیا جاتا تھا۔ ماضی میں نیلا رنگ بڑا نایاب تھا اس لیے یورپ میں نیل کی بڑی مانگ تھی۔ یہ سفید کپڑوں کو زیادہ اجلا بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ آج کل ہر سال کئی ہزار ٹن نیل مصنوعی طریقے سے بنایا جاتا ہے۔ جینز کی پینٹ کا نیلا رنگ اسی مرکب سے رنگنے کے بعد حاصل ہوتا ہے۔

ولندیزی ایسٹ انڈیا کمپنی

ولندیزی ایسٹ انڈیا کمپنی (Dutch East India Company)

(ولندیزی: Vereenigde Oost-Indische Compagnie) ولندیزی ہند کی آبادیوں اور تجارتی بندرگاہوں کے مفادات کے لیے قائم کی جانے والی ایک قومی چارٹرڈ کمپنی تھی۔

ٹیرف

Tariff

حکومت کی طرف سے مختلف درآمدی اشیا پر عائد کردہ محاصل کی فہرست یا گوشوارہ شروع میں درآمدی محاصل محض آمدنی کی خاطر ہی عائد کیے جاتے تھے مگر بعد میں یہ ملکی صنعت و حرفت کی فروغ میں بہت ممد ثابت ہوئے۔ کیونکہ انکی وجہ سے غیر ملکی مال کی درآمد میں کمی ہو گئی۔ اور ملکی صنعت کو مقابلہ بازی سے تحفظ حاصل ہو گیا۔ خصوصاً صنعتی طور پر پسماندہ ممالک تو ملکی صنعتوں کے فروغ کے لیے بہت زیادہ شرح پر یہ محاصل عائد کر دیتے ہیں تاکہ غیر ملکی مال بہت کم مقدار میں آسکے اور ملکی صنعت ترقی کر سکے۔

ان محاصل کے مخالفین اس خیال کے حامی ہیں کہ آزادانہ تجارت جو ان محاصل سے پاک ہو، اس امر کی ضمانت دے سکتی ہے کہ ہر ملک وہی مال تیار کرے گا جس کے لیے وہ زیادہ سے زیادہ موزوں ہے۔ نیز ملکی باشندوں کو مناسب قیمت پر مطلوبہ شے مل سکے گی۔ ورنہ درآمدی محاصل کی صورت میں ملکی خریداروں ہی کو بالواسطہ طور پر زیر بار ہونا پڑتا ہے۔

ہیوسٹن

ہیوسٹن (انگریزی: Houston) امریکہ کی ریاست ٹیکساس کا سب سے بڑا اور ریاستہائے متحدہ امریکا کا چوتھا سب سے بڑا شہر ہے۔ 600 مربع میل (1600 مربع کلومیٹر) پر پھیلا یہ شہر ہیرس کاؤنٹی کا مرکز ہے جو ملک کی تیسری سب سے زیادہ آبادی رکھنے والی کاؤنٹی ہے۔ 2005ء کی امریکی مردم شماری کے مطابق شہر کی آبادی اندازہً 20 لاکھ سے زائد ہے۔ یہ ہیوسٹن-شوگر لینڈ-بیٹن شہری علاقے کے مرکز میں واقع ہے، جو خلیج (میکسیکو) کے ساحلی علاقے کا ثقافتی و اقتصادی مرکز ہے اور 10 کاؤنٹیز کی مجموعی 53 لاکھ سے زائد آبادی کے ساتھ امریکا کا ساتواں سب سے بڑا شہری علاقہ ہے۔

ہیوسٹن دنیا بھر میں اپنی توانائی (خصوصاً تیل) اور طیارہ سازی کی صنعتوں اور جہازوں کی گزرگاہ کے باعث شہرت رکھتا ہے۔ ہیوسٹن کی بندرگاہ بین الاقوامی تجارت کے لحاظ سے ملک میں اول درجے پر ہے اور دنیا کی چھٹی سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔ فورچیون 500 ہیڈکوارٹر فہرست میں نیو یارک شہر کے بعد دوسرے درجے پر آنے والے ہیوسٹن میں ٹیکساس میڈیکل سینٹر بھی واقع ہے جو دنیا کے سب تحقیق اور صحت عامہ کے اداروں کا دنیا کا سب سے بڑا مجموعہ ہے۔

گلوبلائزیشن اور ورلڈ سٹیز اسٹڈی گروپ اینڈ نیٹ ورک کی جانب سے امریکا کے 11 عالمی معیار کے شہروں میں ہیوسٹن اول درجے پر ہے۔

بین الاقوامی تجارت
اصطلاحات
مکتبہ ہائے فکر
علاقائی تنظیمیں
کاروباری شراکت دار
تجارت
سرمایہ کاری
فنڈ
بجٹ اور قرض
آمدنی اور ٹیکس
بنکاری
کرنسی
دیگر
خالص بین الاقوامی سرمایہ کاری حیثیت

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.