برنجی دور

علم الآثار میں برنجی دور کسی بھی ثقافت میں [1][2][3][4][5] وہ دور ہے جس میں زیادہ تر اعلی قسم کے دھاتی کام (منظم اور بڑے پیمانے پر) اس ثقافت میں کانسی کے استعمال سے کیے جاتے رہے ہوں۔ اس کی بنیاد تانبے اور قلع کی دھاتوں کا پگھلاؤ بھی ہو سکتا ہے یا کانسی کے پیداواری علاقوں سے تجارت بھی اس کا محرک ہو سکتا ہے۔[6] تانبا اور قلع نایاب دھاتیں ہیں جیسا کہ تاریخ میں درج ہے کہ 3000 قبل مسیح میں جنوب ایشیائی خطہ میں ٹن کانسی موجود نہیں تھی۔

کانسی کا دور سہ عصری نظام میں دوسرے نمبر پر ہے۔

Prehistoric Times of Bohemia, Moravia and Slovakia - NM Prague 18
کانسی کا ایک پیالہ

موجودگی

Bronze age weapons Romania
برنجی دور کے ہتھیار اور زیورات

قدیم مشرق قریب قدیم میں برنجی دور کا دورانیہ اس طرح ہے:

برنجی دور
(3300–1200 ق م)
ابتدائی برنجی دور
(3300–2200 ق م)
ابتدائی برنجی دور I 3300–3000 ق م
ابتدائی برنجی دور II 3000–2700 ق م
ابتدائی برنجی دور III 2700–2200 ق م
درمیانی برنجی دور
(2200–1550 ق م)
درمیانی برنجی دور I 2200–2000 ق م
درمیانی برنجی دور II ا 2000–1750 ق م
درمیانی برنجی دور II ب 1750–1650 ق م
درمیانی برنجی دور II ج 1650–1550 ق م
اختتامی برنجی دور
(1550–1200 ق م)
اختتامی برنجی دور I 1550–1400 ق م
اختتامی برنجی دور II ا 1400–1300 ق م
برنجی دور کا اختتام 1300–1200 ق م

وادی سندھ میں برنجی دور

وادئ سندھ کی تہذیب

برنجی دور برصغیر میں 3300 ق م وادئ سندھ کی تہذیب کے ساتھ شروع ہوا۔ وادیٔ سندھ اور ہڑپہ کے باشندوں نے تانبا، کانسی، پارہ اور قلع کی پیداوار کے نئے طریقے ایجاد کیا۔ برصغیر برنجی دور آہنی دور کے ویدک دور کے بعد 1500 ق م - 500 ق م کے بعد شروع ہوا۔ ہڑپہ کی ثقافت، جس کی مدت 1700 قبل مسیح سے 1300 قبل مسیح تھی، برنجی دور سے آہنی دور کے میں داخل ہوئی تاہم اس تبدیلی کی تواریخ کی صداقت ایک مشکل کام ہے۔

مزید دیکھیے

بیرونی روابط

نگار خانہ

Elam cool

حوالہ جات

  1. Childe, V. G. (1930). The bronze age. New York: The Macmillan Company
  2. Kelleher, B. D. (1980). Treasures from the Bronze Age of China: An exhibition from the People's Republic of China, the Metropolitan Museum of Art, New York. New York: Ballantine Books
  3. Kuijpers, M. H. G. (2008). Bronze Age metalworking in the Netherlands (c. 2000-800 BC): A research into the preservation of metallurgy related artefacts and the social position of the smith. Leiden: Sidestone Press.
  4. Müller-Lyer, F. C., Lake, E. C., & Lake, H. A. (1921). The history of social development. New York: Alfred A. Knopf.
  5. Ward, J. (1984). Historic ornament: Decorative art & architectural ornament. S.l.: s.n..
  6. The naturally occurring ores typically had arsenic as a common impurity.
اشوریہ

اشوریہ تقریباً دو ہزار برس قبل مسیح میں شمالی عراق کے دریائے دجلہ و فرات کے وسط میں فروغ پانے والی ایک تہذیب اور سلطنت تھی جو اپنے دور عروج میں مصر، شام، لبنان، آرمینیا، ایلم (جنوب مغربی ایران) اور بابل تک پھیلی ہوئی تھی۔ ابتدا میں اس کا دار السلطنت شہر اشور (اب قلعہ شرغتہ، جو موصل سے 55 میل جنوب میں واقع ہے) تھا، چنانچہ اسی شہر کے نام پر اس سلطنت کا نام اشوریہ پڑا۔ بعد میں اشوری فرماں رواؤں نے شہر نینوا کو دار السلطنت بنایا اور وہاں عظیم الشان محل، معابد اور دیگر عمارتیں تعمیر کیں۔شاہ اشور بنی پال کی وفات کے بعد سلطنت اشوریہ کا زوال شروع ہوا اور 612 ق م میں اہل بابل نے نینوا پر قبضہ کرکے اشوری سلطنت کا خاتمہ کر دیا اور صرف اس کا نام اسیریا (اشوریہ) یونانی لفظ (سیریا) کی شکل میں باقی رہا جو اب شرق اوسط کے ایک جدید ملک (شام) کا نام ہے۔

اشوریوں کے مذہبی عقائد قدیم سومیری اور بابلی عقائد سے ماخوذ تھے اور ان کا سب سے بڑا دیوتا اشور تھا۔ جس کا سر گدھ کا اور جسم انسان کا تھا۔ اشوری علوم و فنون کے دل دادہ تھے۔ نینوا کی کھدائی سے جن عمارتوں کے کھنڈر دریافت ہوئے ہیں وہ ان کی عظمت کے گواہ ہیں۔ شاہ اشور بنی پال کے شاہی کتب خانے میں مذہب، تاریخ، جغرافیہ اور دیگر موضوعات پر چالیس ہزار کتابیں تھیں جو کچی مٹی کی تختیوں پر لکھی گئی تھیں۔

اولی ہند یورپی زبان

اوّلی ہند۔ یورپی زبان (proto-indo-european language) ایک غیر مصدقہ اور نوعمّر (عَم + مَر) یعنی نوتعمر شدہ (reconstricted) زبان ہے جسے ہند۔یورپی زبانوں کا مشترکہ مورث اعلٰی یا جد امجد سمجھا جاتا ہے۔ اس زبان کی ممکنہ موجودگی کے بارے میں ماہرین لسانیات کا قیاس کوئی صدی بھر سے چلا آ رہا ہے اور اس کے ممکنہ خدوخال کی نوتعمیری کی متعدد کوششیں کی جاچکی ہیں۔ لغات میں اسے PIE انگریزی میں لکھا جاتا ہے اور اردو میں اہی اختصار کرسکتے ہیں۔

تلمبہ، شہر

تلمبہ میاں چنوں، پنجاب، پاکستان کا ایک چھوٹا سا شہر ہے جو دریائے راوی کے کنارے واقع ہے۔ یہ شہر عبد الحکیم اور میاں چنوں کے درمیان واقع ہے۔ 1985 سے قبل یہ شہر ضلع ملتان میں شامل تھا لیکن 1985 کے بعد اسے میاں چنوں میں ضم کر دیا گیا۔ تلمبہ کی آبادی تقریباً 50000 ہے۔ اس شہر میں زیادہ تر رچنوی زبان بولی جاتی ہے۔

جدید آشوری سلطنت

جدید آشوری سلطنت (Neo-Assyrian Empire) بین النہرین میں ایک سلطنت تھی جس کی تاریخ 934 قبل مسیح سے 609 قبل مسیح کے درمیان ہے۔

اس مدت کے دوران اشوریہ زمین پر سب سے زیادہ طاقتور ریاست کے طور قائم ہوئی، جس نے سلطنت بابل، قدیم مصر، اورارتو، آرمینیوں ایلام کی ریاستوں کو گہنا دیا اور مشرق قریب، اناطولیہ، قفقاز، شمالی افریقہ اور بحیرہ روم پر اپنی اجارہ داری قائم کی۔

رتھ

Chariot

زمانہ قدیم کی ایک سادہ سی گاڑی، خیال کیا جاتا ہے کہ دو ہزار قبل مسیح یعنی گھوڑے کی دریافت سے بھی پہلے بابلی اس سے واقف تھے۔ غالباً اس پر شاہی سواری نکلتی تھی۔ بعد میں اسے گھوڑے کھینچنے لگے اور مشرق قریب میں اس کا استعمال ہو گیا۔ رتھ جنگ میں خاص طور پر استعمال کیے جاتے تھے۔ اشوریوں نے اس کے پہیوں کے ساتھ بطور اسلحہ درانتیاں لگا دی تھیں۔ ایران میں بھی انھیں استعمال کیا گیا۔ یونان اورروم والے اسے شوقیہ استعمال کرتے تھے اور وہاں رتھوں کے دوڑ کے مقابلے ہوتے تھے۔ زمانہ قدیم میں آریا بھی رتھوں پر سوار ہو کر میدان جنگ میں جایا کرتے تھے۔

سندھ میں پہاڑوں پر قدیم نقش نگاری

سندھ میں پہاڑوں پر قدیم نقش نگاری (انگریزی: Ancient Rock Carvings of Sindh) پاکستان کے صوبہ سندھ میں پہاڑوں پر کی گئی قدیم نقش نگاری جو کھیرتھر پہاڑی سلسلے میں دریافت کی گئی ہے۔ کھیرتھر پہاڑی سلسلہ 190 میل (300 کلومیٹر) طویل ہے اور شمال سے جنوب کی طرف ضلع جیکب آباد، ضلع قمبر شہداد کوٹ، ضلع دادو، ضلع جامشورو اور کراچی تک پھیلا ہوا ہے۔

شورسین (ریاست)

شورسین یا سورسین (سنسکرت: शूरसेन، Śūrasena، ہندی: सुरसेन، انگریزی: Surasena) ہندوستان کی ایک قدیم ریاست تھی جو موجودہ دور کے خطۂ برج، اتر پردیش کے علاقے میں واقع تھی جس کا دار الحکومت شہر متھرا تھا۔ اس کا بانی شورسین تھا جو مہابھارت کے مطابق واسو دیو (کرشن کا باپ) اور کنتی (پانڈووں کی ماں) کا باپ تھا۔

فونیقی

فونیقی (فونیشیا) ایک قدیم سامی تہذیب ہے جو مغربی زرخیز ہلال اور موجودہ لبنان کے حصّے پر واقع تھی۔ یہ 1550 قبل مسیح سے 300 قبل مسیح تک بحیرہ روم کے ساحلوں میں پھیلی ہوئی ایک سمندری تجارتی ثقافت تھی۔

لیوادیا، لارناکا

لیوادیا، لارناکا (انگریزی: Livadia, Larnaca) (یونانی: Λιβάδια [یونانی تلفظ : [liˈvaθca]]) ایک بلدیہ اور لارناکا کا مضافات ہے۔ یہ علاقہ وسط برنجی دور سے آباد ہے۔

موئن جو دڑو

موئن جو دڑو (سندھی:موئن جو دڙو اور اردو میں عموماً موہنجوداڑو بھی؛ انگریزی: Mohenjo-daro) وادی سندھ کی قدیم تہذیب کا ایک مرکز تھا۔ یہ لاڑکانہ سے بیس کلومیٹر دور اور سکھر سے 80 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ یہ وادی وادی سندھ کی تہذیب کے ایک اور اہم مرکز ہڑپہ صوبہ پنجاب سے 686 میل دور ہے یہ شہر 2600 قبل مسیح موجود تھا اور 1700 قبل مسیح میں نامعلوم وجوہات کی بناء پر ختم ہو گیا۔ تاہم ماہرین کے خیال میں دریائے سندھ کے رخ کی تبدیلی، سیلاب، بیرونی حملہ آور یا زلزلہ اہم وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اسے قدیم مصر اور بین النہرین کی تہذیبوں کا ہم عصر سمجھا جاتا ہے۔ 1980ء میں یونیسکو نے اسے یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔

نیکوسیا

نیکوسیا (انگریزی: Nicosia؛ تلفظ: /ˌnɪkəˈsiːə/ NIK-ə-SEE-ə؛ یونانی: Λευκωσία، نقل حرفی: لیفکوسیا [lefkoˈsi.a]؛ ترکی: Lefkoşa، تلفظ: [lefˈkoʃa] لیفکوشا) قبرص کا سب سے بڑا شہر اور میساوریا میدانی علاقہ کے تقریباً وسط میں دریائے پیدیوس کے کنارے پر واقع حکومت قبرص کا دار الحکومت ہے۔ یہ یورپی یونین کی رکن ریاستوں میں انتہائی جنوب مشرقی دار الحکومت ہے۔ یہ شہر 4،500 برسوں سے مسلسل آباد ہے اور دسویں صدی سے قبرص کا دار الحکومت چلا آرہا ہے۔

قبرص بحران 1955–64ء کے بعد سے ترک قبرصی اور یونانی قبرصی شہر کی تقسیم کے بعد شہر کے شمالی اور جنوبی الگ الگ حصوں میں آباد ہیں۔ 1974ء میں ترکی کے قبرص کے حملے کے بعد شہر کے درمیان میں ایک عسکری خط اخضر قائم ہے جو اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ہے۔ اس تقسیم کے بعد نیکوسیا کا جنوبی حصہ جمہوریہ قبرص کا دار الحکومت اور شمالی قبرص ترک جمہوریہ شمالی قبرص کا دار الحکومت ہے۔

قانون سازی اور انتظامی افعال کے علاوہ نیکوسیا نے خود کو جزیرے کے اقتصادی دار الحکومت اور اہم بین الاقوامی کاروباری مرکز کے طور پر بھی منوایا ہے۔2018ء میں نیکوسیا دنیا کے تقابل میں قوت خرید میں بتیسواں امیر ترین شہر تھا۔ دیوار برلن کے خاتمے کے بعد نیکوسیا دنیا کا واحد منقسم دار الحکومت ہے۔

وادیٔ سندھ کی تہذیب

وادیٔ سندھ کی تہذیب (انگریزی: Indus Valley Civilization) سنہ 3300 سے 1700 قبل مسیح تک قائم رہنے والی انسان کی چند ابتدائی تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ یہ وادیٔ سندھ کے میدان میں دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے کناروں پر شروع ہوئی۔ اسے ہڑپہ کی تہذیب بھی کہتے ہیں۔ ہڑپہ اور موئن جو دڑو اس کے اہم مراکز تھے۔ دریائے سواں کے کنارے بھی اس تہذيب کے آثار ملے ہیں۔ اس تہذيب کے باسی پکی اینٹوں سے مکان بناتے تھے۔ ان کے پاس بیل گاڑياں تھیں، وہ چرخے اور کھڈی سے کپڑا بنتے تھے، مٹی کے برتن بنانے کے ماہر تھے، کسان، جولاہے، کمہار اور مستری وادیٔ سندھ کی تہذیب کے معمار تھے۔

سوتی کپڑا کہ جسے انگریزی میں کاٹن کہتے ہیں وہ انہی کی ایجاد تھی کہ لفظ کاٹن انہی کے لفظ کاتنا سے بنا ہے۔ شکر اور شطرنج دنیا کے لیے اس تہذیب کے انمول تحفے ہیں۔

وادیٔ سندھ کی تہذیب کی دولت نے ہزاروں سال سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچا ہے۔

خیال کیا جاتا تھا پاک و ہند میں تمذن کی بنیاد آریاؤں نے 1500 ق م میں ڈالی تھی۔ اس سے پہلے یہاں کے باشندے جنگلی اور تہذیب و تمذن سے کوسوں دور تھے۔ مگر بعد کی تحقیقات نے اس نظریے میں یک لخت تبدیلی پیدا کردی اور اس ملک کی تاریخ کو ڈیرھ ہزار پیچھے کر دیا۔ ایک طرف موہنجودڑو اور ہڑپا کے آثار اور سندھ کی قدیم تہذیب کے بارے میں جو معلومات ہوئیں ان سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ کی ہے کہ کہ آریوں کے آنے سے بہت پہلے یہ ملک تہذیب و تمذن کا گہوارہ بن چکا تھا ۔

چینی فلکیات

چین میں فلکیات (انگریزی: Astronomy in China) کی تاریخ کا آغاز چین کے برنجی دور میں شانگ خاندان کے عہد سلطنت سے شروع ہوتا ہے۔چین میں مصدقہ تاریخی آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی بار فلکیات کے چینی ستاروں کے نام آنیانگ سے دریافت ہونے والی اوریکل ہڈیوں سے معلوم ہوئے ہیں اور اِن کے یہ نام اٹھائیس چینی قمری منازل میں لکھے گئے ہیں۔شانگ خاندان کے دور تک فلکیات اپنی ابتدائی مراحل سے گزرتا ہوا ترقی پاچکا تھا اور ستاروں کے نام تک تجویز کیے جا چکے تھے۔ 1339 قبل مسیح سے 1281 قبل مسیح کے دوران شانگ خاندان کے بادشاہ وو دنگ کے عہدِ حکومت میں منازل قمری کے نام ملتے ہیں۔ چوتھی صدی قبل مسیح میں چین کا تنازعاتی دور شروع ہوتا ہے اور اِس دور میں بھی ستاروں کے متعلق علم اور حقائق ملتے ہیں اور آخر کار یہ علم منتقل ہوتا ہوا ہان خاندان کے عہد سلطنت تک پہنچتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ چینی فلکیات کی بنیاد زمین کے ساکن ہونے اور سورج کے متحرک ہونے پر تھی۔ بعض اوقات یہ قواعد جدید علم فلکیات کے مطابق استوار کرلیے جاتے تھے اور کبھی کبھار شروق نجمی یا منطقۃ البروج کے مطابق ترتیب دے دیے جاتے تھے۔ جدید محققین فلکیات کے مطابق قرونِ وسطیٰ میں اسلامی فلکیاتی دور سے قبل چین کا ہی علم فلکیات اِن قواعد پر مرتب ہوا تھا۔ موجودہ ہندوستانی فلکیات کے متعدد عناصر و قواعد چین منتقل ہوئے اور یہ دور غالباً چین میں بدھ مت کی ترویج اور مشرقی ہان سلطنت کا عہدِ حکومت یعنی 25ء سے 220ء تھا۔ اِس کے بعد تانگ خاندان کے دور یعنی 618ء سے 907ء میں ہندوستانی فلکیات چینی فلکیات میں مکملاً رچ بس گئی اور تانگ خاندان کے دور میں ہی شاہی منجمین کا تقرر ہونا شروع ہوا اور منجمین کو دار الحکومت میں طلب کیا گیا۔اِنہی منجمین میں یی ژنگ بھی شامل تھا جسے تانترک بدھ متی ماہر نجوم سمجھا جاتا تھا۔یوآن خاندان کے دور میں اسلامی فلکیات چین میں داخل ہوئی اور منگ خاندان کے دورِ زوال تک اسلامی فلکیات کی شہرت باقی رہی۔ منگ خاندان کے زوال کے بعد جب چین میں مسیحی یسوعیوں کا دور دورہ ہوا تو اسلامی فلکیات کی شہرت جاتی رہی۔ سترہویں صدی میں پہلی بار چین میں فلکی دوربین نصب کی گئی۔ 1669ء میں بیجنگ کی قدیمی رصد گاہ کو نئے انداز پر تشکیل دیا گیا۔ موجودہ حالات میں چین فلکیات کے ایک منظم و جدید پروگرام کے تحت نظام شمسی میں موجود اجرام فلکی پر اپنے سائنسی مشن بھیج رہا ہے۔

ہند آریائی ہجرت کا مفروضہ

ہند آریائی ہجرت کا مفروضہ ایک ایسا مفروضہ ہے جو برصغیر میں موجود ہند یورپی زبانوں کی تاریخ اور وجوہات بیان کرتی ہیں۔ یہ کہتی ہے یورپی اقوام موجودہ افغانستان کے شمال سے موجودہ پاکستان کے علاقوں سے ہوتی ہوئی بھارت نیپال اور مزید مشرقی ایشیائی مملاک میں داخل ہوئی۔ یہ ہجرت 1800 ق م میں ہوئی۔

اس مفوروضے کی بنیاد 18 ویں صدی میں قائم ہوئی جب یورپیوں نے مشرقی ہندوستانی زبانوں اور ان کے یورپی زبانوں میں کئی مماثلتیں نوٹس کی۔ اسوجہ سے یہ مفروضہ قائم کیا گیا کہ یقینا کسی دور میں یہ انسانی ہجرت ہوئی ہو گی نیز اس مفروضے کو تقویت دینے کے لیے جینٹک معلومات بھی لی گئی۔

ہڑپہ

ہڑپہ پاکستان کا ایک قدیم شہر ہے جس کے کھنڈر پنجاب میں ساہیوال سے 35 کلومیٹر مغرب کی طرف چیچہ وطنی شہر سے 15 کلو میٹر پہلے کھدائی کے دوران ملے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے تقریباً 1200 سال پہلے لکھی جانے والی ہندووں کی کتاب رگ وید سے اس شہر کی تاریخ کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

رگ وید میں ایک شہر کا نام آیا ہے ’ ہری یوپیہ ‘ سنسکرت میں اس کا مطلب ہے ’ قربانی کے سنہری ستوں والا شہر ‘ ماہرین کا اب اتفاق ہے۔ جن میں ویلز اور ڈی ڈہ کوسامبی شامل ہیں کہ ہری یوپیہ ہڑپہ ہی کا سنسکرت میں نام ہے۔ اگرچہ اس کا اصل نام کچھ اور ہوگا، شاید ہری یوپویا ہو یا کچھ اور ہو اور جس کو رگ وید کے مطابق اسی ہری یوپیہ کے قریب آریاؤں کی مقامی باشندوں سے جنگ ہوئی تھی۔ رگ وید میں آیا ہے اندرا نے ورشکھو ( یا ورچکھو ) کی باقیات کو ایسے ملیامیٹ کر دیا کہ جیسے مٹی کا برتن۔ اس نے ورچی وات ( یا ورشی ونت یا ورکی وات ) لوگوں کے ایک سو تیس مسلح جانبازوں کی پہلی صف کو کچل دیا۔ جس پر باقی بھاگ کھڑے ہوئے ۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.