بحیرہ ایجیئن

بحیرہ ایجیئن بحیرہ روم کا ایک حصہ ہے جو جزیرہ نما بلقان اور اناطولیہ کے یا عام الفاظ میں یونان اور ترکی کے مابین واقع ہے۔ شمال میں یہ درہ دانیال اور آبنائے باسفورس کے ذریعے بحیرہ مرمرہ اور بحیرہ اسود سے منسلک ہے۔

اس سمندر کی خاص بات اس میں سینکڑوں جزائر ہیں۔ بحیرہ ایجیئن کا رقبہ 2لاکھ 14 ہزار مربع کلومیٹر ہے اور یہ 610 کلومیٹر طول اور 300 کلومیٹر عرض کا حامل ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ گہرائی 3 ہزار 543 میٹر ہے۔

بحیرہ ایجیئن
Aegean Sea
Aegean Sea map
بحیرہ ایجیئن کا نقشہ
World
World
بحیرہ ایجیئن
Aegean Sea
مقام یورپ
متناسقات 39°N 25°E / 39°N 25°E
قسم بحیرہ
بنیادی خارجی بہاو بحیرہ روم
طاس ممالک یونان، ترکی، جمہوریہ مقدونیہ، بلغاریہ[1]
زیادہ سے زیادہ لمبائی 700 کلومیٹر (430 میل)
زیادہ سے زیادہ چوڑائی 400 کلومیٹر (250 میل)
سطحی رقبہ 214,000 کلومیٹر2 (83,000 مربع میل)

حوالہ جات

  1. DRAINAGE BASIN OF THE MEDITERRANEAN SEA, UNECE http://www.unece.org/fileadmin/DAM/env/water/blanks/assessment/mediterranean.pdf
آبنائے باسفورس

باسفورس (انگریزی: Bosporus، Bosphorus, ترک: İstanbul Boğazı) ایک آبنائے ہے جو ترکی کے یورپی حصے (رومیلیا) اور ایشیائی حصے (اناطولیہ) کو جدا کرکے یورپ اور ایشیا کے درمیان سرحد قائم کرتی ہے۔ اس آبنائے کو آبنائے استنبول بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے استعمال ہونے والی دنیا کی سب سے تنگ آبنائے ہے جو بحیرہ اسود کو بحیرہ مرمرہ سے ملاتی ہے (واضح رہے کہ بحیرہ مرمرہ درہ دانیال کے ذریعے بحیرہ ایجیئن سے منسلک ہے جو بحیرہ روم سے ملا ہوا ہے)۔

استنبولی باشندے اسے صرف Boğaz کہتے ہیں جبکہ Boğaziçi کی اصطلاح آبنائے کے ساتھ ساتھ واقع استنبول کے علاقوں کے لیے استعمال ہوتی ہے

ازمیر

ازمیر (İzmir) ترکی کا تیسرا سب سے بڑا شہر اور استنبول کے بعد دوسری بڑی بندرگاہ ہے۔ یہ بحیرہ ایجیئن میں خلیج ازمیر کے ساحلوں پر واقع ہے۔ یہ صوبہ ازمیر کا دار الحکومت ہے۔ شہر 9 شہری اضلاع میں تقسیم ہے۔ 2000ء کے مطابق شہر کی آبادی 2،409،000 اور 2005ء کے اندازوں کے مطابق 3،500،000 ہے۔ اس شہر کو یونانی سمرنا کہتے تھے جبکہ ترک اسے ازمیر کہتے ہیں۔

یہ شہر طویل عرصے تک رومی سلطنت کا حصہ رہا اور رومی سلطنت کی تقسیم کے بعد یہ بازنطینی سلطنت کا حصہ بن گیا۔

عثمانی سلطان بایزید اول نے 1389ء میں اس شہر کو فتح کرکے سلطنت عثمانیہ کا حصہ بنایا۔ تاہم بایزید کی تیموری سلطان امیر تیمور کے ہاتھوں شکست کے ساتھ ہی شہر دوبارہ مقامی ترک قبائل کو مل گیا۔ 1425ء میں سلطان مراد ثانی نے سمرنا کو دوبارہ فتح کیا۔ سقوط غرناطہ کے بعد اسپین سے نکالے گئے یہودیوں کی اکثریت بھی اسی شہر میں آئی۔

پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد فاتحین نے اناطولیہ کو مختلف ٹکڑوں میں بانٹ لیا اور معاہدہ سیورے کے تحت ترکی کا مغربی حصہ بشمول سمرنا یونان کے حصے میں آیا۔ 15 مئی 1919ء کو یونانی افواج نے ازمیر پر قبضہ کر لیا لیکن وسط اناطولیہ کی جانب پیش قدمی ان کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی اور 9 ستمبر 1922ء کو ترک افواج نے ازمیر کو دوبارہ حاصل کر لیا۔ جس کے ساتھ ہی یونان۔ ترک جنگ کا خاتمہ ہو گیا اور معاہدہ لوزان کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان آبادی کی منتقلی بھی عمل میں آئی۔

ازمیر "ایجیئن کا موتی" کہلاتا ہے۔

ایجیئن جزائر

ایجیئن جزائر (Aegean Islands) (یونانی: Νησιά Αιγαίου; ترکی: Ege Adaları) بحیرہ ایجیئن میں جزائر کا ایک مجموعہ ہے۔

ایجیئن جزائر کو روایتی طور پر شمال سے جنوب میں سات گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

شمال مشرقی ایجیئن جزائر

سپورادیس

ایوبویا

جزائر سارونیک

سیکلادیز

ڈوڈکینیز

کریٹ

ایجیئن علاقہ

ایجیئن علاقہ (Aegean Region)

(ترکی: Ege Bölgesi) یوریشیا میں ترکی کے 7 مردم شماری کی بنیاد پر معین کردہ علاقوں میں سے ایک ہے۔

یہ ملک کے مغربی حصے میں واقع ہے۔ مغرب میں یہ بحیرہ ایجیئن (Ege Denizi) سے گھرا ہوا ہے، اس کے شمال میں مرمرہ علاقہ، جنوب مشرق میں بحیرہ روم علاقہ اور مشرق میں وسطی اناطولیہ علاقہ واقع ہے۔ ایجیئن علاقے کی کل آبادی 9،594،019 ہے۔

بحیرہ الشرق

بحیرہ الشرق (Levantine Sea) بحیرہ روم کا مشرقی ترین حصہ ہے۔

بحیرہ تراکیہ

بحیرہ تراکیہ (Thracian Sea) (یونانی: Θρακικό Πέλαγος، ترکی: Trakya Denizi) بحیرہ ایجیئن کا ایک حصہ ہے۔

بحیرہ مرمرہ

بحیرہ مرمرہ (Sea of Marmara یا Marmara Sea)

(ترکی: Marmara Denizi، یونانی: Θάλασσα του Μαρμαρά) یورپ اور ایشیا کے درمیان ایک سمندر ہے جو بحیرہ ایجیئن کو بحیرہ اسود سے ملاتا ہے اور ترکی کے ایشیائی و یورپی علاقوں کو جدا کرتا ہے۔

آبنائے باسفورس اسے بحیرہ اسود اور درہ دانیال اسے بحیرہ ایجیئن سے منسلک کرتا ہے۔ آبنائے باسفورس استنبول شہر کو دو براعظموں میں تقسیم کرتی ہے۔

بحیرہ مرمرہ کا رقبہ 11 ہزار 350 مربع کلومیٹر ہے۔

بحیرہ میرتون

بحیرہ میرتون (Myrtoan Sea یا Mirtoan Sea یا Mirtoon Sea) (یونانی: Mυρτώο Πέλαγος) بحیرہ روم کی ایک ذیلی تقسیم ہے۔ یہ سائیکالدیز (Cyclades) اور موریہ (Peloponnese) کے درمیان واقع ہے۔ اسے بحیرہ ایجیئن کے حصے کے طور پر بھی گردانا جاتا ہے۔

بحیرہ واندل

بحیرہ واندل (Wandel Sea) (جسے بحیرہ مک کنلے McKinley Sea) بھی جاتا ہے بحر منجمد شمالی میں واقع گرین لینڈ سے سوالبارد تک پھیلا ہوا ہے۔

بحیرہ کریٹ

بحیرہ کریٹ (Sea of Crete) (یونانی: Κρητικό Πέλαγος) بحیرہ ایجیئن کے جنوب میں اور کریٹ کے شمال میں واقع ہے۔

بلقان

بلقان (balkans) جنوب مشرقی یورپ کے خطے کا تاریخی و جغرافیائی نام ہے۔ اس علاقے کا رقبہ 5 لاکھ 50 ہزار مربع کلومیٹر اور آبادی تقریبا 55 ملین ہے۔ اس خطے کو یہ نام کوہ بلقان کے پہاڑی سلسلے پر دیا گیا جو بلغاریہ کے وسط سے مشرقی سربیا تک جاتا ہے۔

اسے اکثر جزیرہ نما بلقان بھی کہتے ہیں کیونکہ اس کے تین جانب سمندر ہے جن میں مشرق میں بحیرہ اسود اور جنوب اور مغرب میں بحیرہ روم کی شاخیں (بحیرہ ایڈریاٹک، بحیرہ آیونین، بحیرہ ایجیئن اور بحیرہ مرمرہ) ہیں۔

جنوب مشرقی یورپ بحیرہ ہائے ایجین، ایڈریاٹک اور اسود کے ساحلوں سے شروع ہوکر وسطی یورپ تک پھیلا ہوا علاقہ ہے۔

بوثنیہ بے

بوثنیہ بے (Bothnian Bay) (سویڈش: Bottenviken، فننش: Perämeri) خلیج بوثنیہ کا شمالی ترین حصہ اور بحیرہ بالٹک کا شمالی ہے۔

خلیج کے زیادہ سے زیادہ گہرائی 482 فٹ (147 میٹر) ہے

ترکی

ترکی (انگریزی: Turkey یا Republic of Turkey) (سرکاری نام: Türkiye Cumhuriyeti یعنی ترکیہ جمہوریتی) یوریشیائی ملک ہے جو جنوب مغربی ایشیا میں جزیرہ نما اناطولیہ اور جنوبی مشرقی یورپ کے علاقہ بلقان تک پھیلا ہوا ہے۔

ترکی کی سرحدیں8 ممالک سے ملتی ہیں جن میں شمال مغرب میں بلغاریہ، مغرب میں یونان، شمال مشرق میں گرجستان (جارجیا)، مشرق میں آرمینیا، ایران اور آذربائیجان کا علاقہ نخچوان اور جنوب مشرق میں عراق اور شام شامل ہیں۔ علاوہ ازیں شمال میں ملکی سرحدیں بحیرہ اسود، مغرب میں بحیرہ ایجیئن اور بحیرہ مرمرہ اور جنوب میں بحیرہ روم سے ملتی ہیں۔

ترکی ایک جمہوری، لادینی، آئینی جمہوریت ہے جس کا موجودہ سیاسی نظام 1923ء میں سقوط سلطنت عثمانیہ کے بعد مصطفیٰ کمال اتاترک کی زیر قیادت تشکیل دیا گیا۔ یہ اقوام متحدہ اور موتمر عالم اسلامی کا بانی رکن اور 1949ء سے یورپی مجلس اور 1952ء سے شمالی اوقیانوسی معاہدے کا رکن ہے۔ ریاست کی یورپی اتحاد میں شمولیت کے لیے مذاکرات طویل عرصے سے جاری ہیں۔

یورپ اور ایشیا کے درمیان محل وقوع کے اعتبار سے اہم مقام پر واقع ہونے کی وجہ سے ترکی مشرقی اور مغربی ثقافتوں کے تاریخی چوراہے پر واقع ہے۔

خلیج بسکے

خلیج بسکے (ہسپانوی میں گولفو دے بثکایا) بحر اوقیانوس کا وہ بازو جو فرانس اور ہسپانیہ کے درمیان مغربی یورپ کے ساحل کے اندر چلا گیا ہے۔ اس خلیج میں اکثر طوفان آتے رہتے ہیں۔ اس کے کناروں پر فرانس اور ہسپانیہ کی اہم بندرگاہیں ہیں۔

خلیج فنڈی

خلیج فنڈی کینیڈا کے صوبوں نووا اسکوٹیا اور نیو برنسوک کے درمیان واقع ایک خلیج ہے۔ یہ خلیج دنیا میں سب سے زیادہ جوار بھاٹے کے باعث معروف ہے۔ کیونکہ یہ خلیج ایک قیف کی شکل کی ہے اس لیے جب بحر اوقیانوس کا پانی اس کے تنگ علاقے میں داخل ہوتا ہے تو اس سے 20 سے 50 فٹ تک کی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔

خلیج کچھ

خلیج کچھ بھارت کے مغربی ساحلوں پر ریاست گجرات کے ساتھ واقع بحیرہ عرب کی ایک خلیج ہے جو اپنے انتہائی مدوجزر کے باعث معروف ہے۔ خلیج کچھ کی زیادہ سے زیادہ گہرائی 401 فٹ (122 میٹر) ہے۔

یہ تقریبا 99 میل لمبی ہے اور ریاست گجرات کے دو علاقوں کچھ اور جزیرہ نما کاٹھیاواڑ کو جدا کرتی ہے۔

مجمع الجزائر

مجمع الجزائر (انگریزی: archipelago) (یونانی: Αρхιπέλαγος) جزیروں کے سلسلے یا گچھوں کو کہتے ہیں جو سمندر میں بکھرے ہوتے ہیں۔ لفظ آرکیپیلاگو یونانی الفاظ آرکی (arkhi) مطلب لیڈر یا سربراہ اور پیلاگوس (pelagos) مطلب سمندر سے مل کر بنا ہے جو ابتدائی طور پر بحیرہ ایجیئن (Aegean Sea) کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جو بعد میں بحیرہ ایجیئن میں واقع جزائر (Aegean Islands) کے لیے استعمال کیا جانے لگا کیونکہ بحیرہ ایجیئن میں بہت زیادہ جزائر واقع ہیں۔ آج کل آرکیپیلاگو (archipelago) عمومی طور پر کسی بھی سمندر میں واقع جزائر کے مجموعہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

آرکیپیلاگو یا جزائر کے یہ گچھے عام طور کھلے سمندر میں ملتے ہیں جو کسی بھی قدرتی عمل جیسے کہ آتش فشانی عمل کے نتیجہ میں وجود آئے ہیں اور یہ مٹی، چٹانوں وغیرہ پر مشتمل ہو سکتے ہیں۔

دنیا کی پانچ بڑی اور جدید سلطنتیں جو جزائر کے مجموعے یا آرکیپیلاگو پر مشتمل ہیں ان میں جاپان، فلپائن، نیوزی لینڈ، انڈونیشیا اور برطانیہ شامل ہیں۔

یوریشیا

یوریشیا (انگریزی: Eurasia) ایک عظیم قطعہ زمین ہے، جو 54,00,000 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ خطہ یورپ اور ایشیا نامی براعظموں میں تقسیم ہے۔ یوریشیا عام طور پر ایشیا اور یورپ کے درمیان موجود ایک خاص خطے کا نام ہے۔

یورپی روایتی طور پر یورپ اور ایشیا کو دو الگ براعظم تصور کرتے ہیں، جو بحیرہ ایجیئن، درہ دانیال، آبنائے باسفورس، بحیرہ اسود، کوہ قفقاز، بحیرہ کیسپیئن، دریائے یورال اور کوہ یورال کے ذریعے ایک دوسرے سے الگ ہیں، لیکن بعض جغرافیہ دان یورپ اور ایشیا کو ایک ہی براعظم قرار دیتے ہیں، جسے یوریشیا کہا جاتا ہے۔

یونان

یونان یا جمہوریہ ہیلینیہ جنوب مشرقی یورپ میں جزیرہ نما بلقان کے نشیب میں واقع ملک ہے۔ اس کی سرحدیں شمال میں البانیا،مقدونیہ اور بلغاریہ اور مشرق میں ترکی سے ملتیں ہیں- مغرب میں بحیرہ ایونی اور جنوب میں بحیرہ ایجین واقع ہے-

یونان کو فنون لطیفہ کی ماں بھی کہا گیا ہے۔ یہاں سنگ مرمر افراط سے ملتا تھا لہذا فن تعمیر میں غیر معمولی ترقی کی۔

جمہوریت کا تصور سب سے پہلے یونان میں قائم ہوا اور وہاں سے یہ طرز حکومت دنیا کے دوسرے ملکوں تک پہنچا۔ یونان میں ہر نوجوان کو اٹھارہ سال کی عمر میں ایتھنز کی دیوی کے حضور میں وفاداری ا حلف اٹھانا پڑتا تھا۔

‘‘‘گریس‘‘‘ (انگریزی:Greece), سرکاری نام “ہیلینک ریپبلک“ (Hellenic Republic) (یونانی: Ελληνική Δημοκρατία Ellīnikī́ Dīmokratía [eliniˈci ðimokraˈti.a]) جنوبی مشرقی یورپ میں موجود ایک ملک، جس کے حدود میں، شمال میں البانیا، بلغاریہ اور ماضی کے یوگوسلیویائی مقدونیہ (FYROM)، مشرق میں ترکی، بحیرہ ایجیئن جنوب بحیرہ ایونی موجود ہے۔

بحر منجمد شمالی
بحر اوقیانوس
بحر ہند
بحر الکاہل
بحر منجمد جنوبی
زمین بند بحیرات

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.